بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ يوسف — Surah Yusuf
آیت نمبر 98
کل آیات: 111
قرآن کریم يوسف آیت 98
آیت نمبر: 98 — سورۃ يوسف islamicurdubooks.com ↗
قَالَ سَوۡفَ اَسۡتَغۡفِرُ لَکُمۡ رَبِّیۡ ؕ اِنَّہٗ ہُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِیۡمُ ﴿۹۸﴾
اُس نے کہا "میں اپنے رب سے تمہارے لیے معافی کی درخواست کروں گا، وہ بڑا معاف کرنے والا اور رحیم ہے"
کہا اچھا میں جلد ہی تمہارے لئے اپنے پروردگار سے بخشش مانگوں گا، وه بہت بڑا بخشنے واﻻ اور نہایت مہربانی کرنے وﻻ ہے
کہا جلد میں تمہاری بخشش اپنے رب سے چاہو ں گا، بیشک وہی بخشنے والا مہربان ہے
آپ (ع) نے کہا میں عنقریب تمہارے لئے اپنے پروردگار سے مغفرت طلب کروں گا بے شک وہ بڑا بخشنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے۔
اس نے کہا میں عنقریب تمھارے لیے اپنے رب سے بخشش کی دعا کروں گا۔ بے شک وہی بے حد بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

کہتے ہیں کہ پیراہن یوسف علیہ السلام یعقوب علیہ السلام کے بڑے صاحبزادے یہودا لائے تھے۔ اس لیے کہ انہوں نے ہی پہلے جھوٹ موٹ وہ کرتا پیش کیا تھا۔ جسے خون آلود کر کے لائے تھے اور باپ کو یہ سمجھایا تھا کہ یوسف علیہ السلام کا خون ہے، اب بدلے کے لیے یہ کرتہ بھی یہی لائے کہ برائی کے بدلے بھلائی ہو جائے بری خبر کے بدلے خوشخبری ہو جائے۔ آتے ہی باپ کے منہ پر ڈالا۔ اسی وقت یعقوب علیہ السلام کی آنکھیں کھل گئیں اور بچوں سے کہنے لگے دیکھو میں تو ہمیشہ تم سے کہا کرتا تھا کہ اللہ کی بعض وہ باتیں میں جانتا ہوں جن سے تم محض بے خبر ہو۔ میں تم سے کہا کرتا تھا کہ اللہ تعالیٰ میرے یوسف علیہ السلام کو ضرور مجھ سے ملائے گا، ابھی تھوڑے دنوں کا ذکر ہے کہ میں نے تم سے کہا تھا کہ مجھے آج میرے یوسف کی خوشبو آ رہی ہے۔

باپ جواب میں فرماتے ہیں کہ مجھے اس سے انکار نہیں اور مجھے اپنے رب سے یہ بھی امید ہے کہ وہ تمہاری خطائیں معاف فرما دے گا اس لیے کہ وہ بخششوں اور مہربانیوں والا ہے توبہ کرنے والوں کی توبہ قبول فرما لیا کرتا ہے میں صبح سحری کے وقت تمہارے لیے استغفار کروں گا۔ ابن جریر میں ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ مسجد میں آتے تو سنتے کہ کوئی کہہ رہا ہے کہ اللہ تو نے پکارا، میں نے مان لیا تو نے حکم دیا میں بجا لایا، یہ سحر کا وقت ہے، پس تو مجھے بخش دے، آپ نے کان لگا کر غور کیا تو معلوم ہوا کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے گھر سے یہ آواز آ رہی ہے۔ آپ نے ان سے پوچھا انہوں نے کہا یہی وہ وقت ہے جس کے لیے یعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹوں سے کہا تھا کہ میں تمہارے لیے تھوڑی دیر بعد استغفار کروں گا۔ حدیث میں ہے کہ یہ رات جمعہ کی رات تھی۔ ابن جریر میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ مراد اس سے یہ ہے کہ جب جمعہ کی رات آ جائے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:1981:ضعیف] ‏‏‏‏ لیکن یہ حدیث غریب ہے۔ بلکہ اس کے مرفوع ہونے میں بھی کلام ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

📖 احسن البیان

98۔ 1 فی الفور مغفرت کی دعا کرنے کی بجائے دعا کرنے کا وعدہ فرمایا، مقصد یہ تھا کہ رات کے پچھلے پہر میں، جو اللہ کے خاص بندوں کا اللہ کی عبادت کرنے کا خاص وقت ہوتا ہے، اللہ سے ان کی مغفرت کی دعا کروں گا، دوسری بات یہ کہ بھائیوں کی زیادتی یوسف ؑ پر تھی، ان سے مشورہ لینا ضروری تھا اس لئے انہوں نے تاخیر کی اور فوراً مغفرت کی دعا نہیں کی۔

📖 القرآن الکریم

(آیت98){قَالَ سَوْفَ اَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّيْ…:} یعقوب علیہ السلام نے یوسف علیہ السلام کی طرح درخواست کے بغیر فوراً استغفار کے بجائے صرف وعدہ کیا کہ میں تمھارے لیے استغفار کروں گا جو یقینا انھوں نے پورا کیا ہو گا۔ اہلِ علم نے اس کی کئی وجہیں بیان فرمائی ہیں، ایک تو یہ کہ بھائی کا حق بھائی پر اتنا نہیں ہوتا جتنا باپ کا بیٹے پر ہوتا ہے، اس لیے والد کو ناراضگی زیادہ تھی۔ دوسری یہ کہ بے شک یوسف علیہ السلام پر بے پناہ آزمائشیں آئیں مگر غم اور صدمے کا اثر والد پر زیادہ تھا۔ تیسری یہ کہ والد معلوم کرنا چاہتے تھے کہ یوسف نے انھیں معاف کیا ہے یا نہیں، کیونکہ مظلوم کے معاف کرنے کے بعد ہی ظالم کے لیے استغفار ہو سکتا ہے۔ بعض مفسرین نے بعض تابعین وصحابہ کے اقوال نقل فرمائے ہیں کہ یعقوب علیہ السلام نے ان سے پچھلی رات دعا کرنے کا وعدہ کیا تھا، کیونکہ وہ قبولیت کا وقت ہے، مگر انھوں نے یہ بات قرآن مجید یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے بیان نہیں کی جب کہ ہزاروں سال پہلے کی بات کا کوئی پختہ ذریعہ ان دونوں کے علاوہ ہے ہی نہیں۔ مفسر ابن جریر اور ابن کثیر رحمھما اللہ نے ایک روایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کی ہے کہ یعقوب علیہ السلام نے ان سے جمعہ کی رات کو استغفار کا وعدہ کیا تھا، مگر اس کی سند میں تین خرابیاں ہیں، ایک ابن جریج کا اسے لفظ {”عَنْ “} سے روایت کرنا، جب کہ وہ مدلس ہیں، دوسری ولید بن مسلم قرشی حدیث مرفوع بیان کرنے کی غلطی کر جاتے ہیں اور تدلیس تسویہ کرتے ہیں، تیسری سلیمان بن عبد الرحمان میں حافظے کی بنا پر کلام ہے۔ قرآن مجید بھولنے والی حدیث بھی اسی سند کے ساتھ ہے۔ (سامی بن محمد بن عبد الرحمان محقق و محشی تفسیر ابن کثیر)
← پچھلی آیت (97) پوری سورۃ اگلی آیت (99) →