بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ يوسف — Surah Yusuf
آیت نمبر 96
کل آیات: 111
قرآن کریم يوسف آیت 96
آیت نمبر: 96 — سورۃ يوسف islamicurdubooks.com ↗
فَلَمَّاۤ اَنۡ جَآءَ الۡبَشِیۡرُ اَلۡقٰىہُ عَلٰی وَجۡہِہٖ فَارۡتَدَّ بَصِیۡرًا ۚ قَالَ اَلَمۡ اَقُلۡ لَّکُمۡ ۚۙ اِنِّیۡۤ اَعۡلَمُ مِنَ اللّٰہِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۹۶﴾
پھر جب خو ش خبری لانے والا آیا تو اس نے یوسفؑ کا قمیص یعقوبؑ کے منہ پر ڈال دیا اور یکا یک اس کی بینائی عود کر آئی تب اس نے کہا "میں تم سے کہتا نہ تھا؟ میں اللہ کی طرف سے وہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے"
جب خوشخبری دینے والے نے پہنچ کر ان کے منھ پر وه کرتا ڈاﻻ اسی وقت وه پھر سے بینا ہوگئے۔ کہا! کیا میں تم سے نہ کہا کرتا تھا کہ میں اللہ کی طرف سے وه باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے
پھر جب خوشی سنانے والا آیا اس نے وہ کرتا یعقوب کے منہ پر ڈالا اسی وقت اس کی آنکھیں پھر آئیں (دیکھنے لگیں) کہ میں نہ کہتا تھا کہ مجھے اللہ کی وہ شانیں معلوم ہیں جو تم نہیں جانتے
پھر جب خوشخبری دینے والا آیا (اور) وہ قمیص ان کے چہرہ پر ڈالی تو وہ فوراً بینا ہوگئے اور کہا کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ میں اللہ کی طرف سے وہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔
پھر جیسے ہی خوش خبری دینے والا آیا اس نے اسے اس کے چہرے پر ڈالا تو وہ پھر بینا ہوگیا۔ کہنے لگا کیا میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ بے شک میں اللہ کی طرف سے جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

کہتے ہیں کہ پیراہن یوسف علیہ السلام یعقوب علیہ السلام کے بڑے صاحبزادے یہودا لائے تھے۔ اس لیے کہ انہوں نے ہی پہلے جھوٹ موٹ وہ کرتا پیش کیا تھا۔ جسے خون آلود کر کے لائے تھے اور باپ کو یہ سمجھایا تھا کہ یوسف علیہ السلام کا خون ہے، اب بدلے کے لیے یہ کرتہ بھی یہی لائے کہ برائی کے بدلے بھلائی ہو جائے بری خبر کے بدلے خوشخبری ہو جائے۔ آتے ہی باپ کے منہ پر ڈالا۔ اسی وقت یعقوب علیہ السلام کی آنکھیں کھل گئیں اور بچوں سے کہنے لگے دیکھو میں تو ہمیشہ تم سے کہا کرتا تھا کہ اللہ کی بعض وہ باتیں میں جانتا ہوں جن سے تم محض بے خبر ہو۔ میں تم سے کہا کرتا تھا کہ اللہ تعالیٰ میرے یوسف علیہ السلام کو ضرور مجھ سے ملائے گا، ابھی تھوڑے دنوں کا ذکر ہے کہ میں نے تم سے کہا تھا کہ مجھے آج میرے یوسف کی خوشبو آ رہی ہے۔

باپ جواب میں فرماتے ہیں کہ مجھے اس سے انکار نہیں اور مجھے اپنے رب سے یہ بھی امید ہے کہ وہ تمہاری خطائیں معاف فرما دے گا اس لیے کہ وہ بخششوں اور مہربانیوں والا ہے توبہ کرنے والوں کی توبہ قبول فرما لیا کرتا ہے میں صبح سحری کے وقت تمہارے لیے استغفار کروں گا۔ ابن جریر میں ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ مسجد میں آتے تو سنتے کہ کوئی کہہ رہا ہے کہ اللہ تو نے پکارا، میں نے مان لیا تو نے حکم دیا میں بجا لایا، یہ سحر کا وقت ہے، پس تو مجھے بخش دے، آپ نے کان لگا کر غور کیا تو معلوم ہوا کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے گھر سے یہ آواز آ رہی ہے۔ آپ نے ان سے پوچھا انہوں نے کہا یہی وہ وقت ہے جس کے لیے یعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹوں سے کہا تھا کہ میں تمہارے لیے تھوڑی دیر بعد استغفار کروں گا۔ حدیث میں ہے کہ یہ رات جمعہ کی رات تھی۔ ابن جریر میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ مراد اس سے یہ ہے کہ جب جمعہ کی رات آ جائے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:1981:ضعیف] ‏‏‏‏ لیکن یہ حدیث غریب ہے۔ بلکہ اس کے مرفوع ہونے میں بھی کلام ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

📖 احسن البیان

96۔ 1 یعنی جب وہ خوشخبری دینے والا آگیا اور آکر وہ قمیص حضرت یعقوب ؑ کے چہرے پر ڈال دی تو اس سے معجزانہ طور پر ان کی بینائی بحال ہوگئی۔ 96۔ 2 کیونکہ میرے پاس ایک ذریعہ علم وحی بھی ہے، جو تم میں سے کسی کے پاس نہیں ہے۔ اس وحی کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبروں کو حالات سے مشیت و مصلحت آگاہ کرتا رہتا ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت96) ➊ {” فَلَمَّاۤ اَنْ جَآءَ الْبَشِيْرُ “} اور {”فَلَمَّا جَاءَ الْبَشِيْرُ“} کے ترجمے کے فرق کی تفصیل کے لیے دیکھیے اسی مترجم قرآن کے عرض مترجم میں سے فائدہ (۸) خوش خبری لانے والے نے آتے ہی چہرے پر قمیص ڈالی اور یوسف علیہ السلام کے زندہ ہونے کی خوش خبری دی تو اسی وقت آنکھیں دوبارہ روشن ہو گئیں۔ ➋ { مَا لَا تَعْلَمُوْنَ:} یوسف علیہ السلام کی قمیص سے آنکھیں روشن ہونے اور ان کے زندہ ہونے کی خوش خبری آنے پر فرمایا کہ میں نے تمھیں کہا نہ تھا: «{ اِنِّيْۤ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ }» یعنی مجھے وحی الٰہی سے وہ باتیں معلوم ہوتی ہیں جو تم نہیں جانتے۔ مراد اپنے بچوں کو ملامت کرنا نہ تھا بلکہ تربیت کرنا تھا، تاکہ وہ نبوت کے مقام کو سمجھیں اور نبی کی بات کو محبت کے غلو پر یا عمر زیادہ ہونے کی وجہ سے خرابی عقل پر محمول نہ کریں، مثلاً یہ یقین کہ یوسف علیہ السلام زندہ ہے، اللہ تعالیٰ اسے ضرور ملائے گا، یا یہ بات کہ مجھے یوسف کی خوشبو آ رہی ہے۔
← پچھلی آیت (95) پوری سورۃ اگلی آیت (97) →