بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ يوسف — Surah Yusuf
آیت نمبر 93
کل آیات: 111
قرآن کریم يوسف آیت 93
آیت نمبر: 93 — سورۃ يوسف islamicurdubooks.com ↗
اِذۡہَبُوۡا بِقَمِیۡصِیۡ ہٰذَا فَاَلۡقُوۡہُ عَلٰی وَجۡہِ اَبِیۡ یَاۡتِ بَصِیۡرًا ۚ وَ اۡتُوۡنِیۡ بِاَہۡلِکُمۡ اَجۡمَعِیۡنَ ﴿٪۹۳﴾
جاؤ، میرا یہ قمیص لے جاؤ اور میرے والد کے منہ پر ڈال دو، اُن کی بینائی پلٹ آئے گی، اور اپنے سب اہل و عیال کو میرے پاس لے آؤ"
میرا یہ کرتا تم لے جاؤ اور اسے میرے والد کے منھ پر ڈال دو کہ وه دیکھنے لگیں، اور آجائیں اور اپنے تمام خاندان کو میرے پاس لےآؤ
میرا یہ کرتا لے جاؤ اسے میرے باپ کے منہ پر ڈالو ان کی آنکھیں کھل جائیں گی اور اپنے سب گھر بھر کو میرے پاس لے آ ؤ،
(بعد ازاں) کہا میری قمیص لے جاؤ اور اسے میرے والد کے چہرے پر ڈال دو ان کی بینائی پلٹ آئے گی (وہ بینا ہو جائیں گے) اور پھر اپنے سب اہل و عیال کو (یہاں) میرے پاس لے آؤ۔
میری یہ قمیص لے جائو اور اسے میرے باپ کے چہرے پر ڈال دو، وہ بینا ہو جائے گا اور اپنے گھر والوں کو، سب کو میرے پاس لے آؤ۔

📖 تفسیر ابن کثیر

چونکہ اللہ کے رسول یعقوب علیہ السلام اپنے رنج و غم میں روتے روتے نابینا ہو گئے تھے، اس لیے یوسف علیہ السلام اپنے بھائیوں سے کہتے ہیں کہ میرا یہ کرتہ لے کر تم ابا کے پاس جاؤ، اسے ان کے منہ پر ڈالتے ہی ان شاءاللہ ان کی نگاہ روشن ہو جائے گی۔ پھر انہیں اور اپنے گھرانے کے تمام اور لوگوں کو یہیں میرے پاس لے آؤ۔ ادھر یہ قافلہ مصر سے نکلا، ادھر اللہ تعالیٰ نے یعقوب علیہ السلام کو یوسف کی خوشبو پہنچا دی تو آپ علیہ السلام نے اپنے ان بچوں سے جو آپ کے پاس تھے فرمایا کہ مجھے تو میرے پیارے فرزند یوسف علیہ السلام کی خوشبو آ رہی ہے لیکن تم تو مجھے سترا بہترا کم عقل بڈھا کہہ کر میری اس بات کو باور نہیں کرنے کے۔ ابھی قافلہ کنعان سے آٹھ دن کے فاصلے پر تھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:294/7:] ‏‏‏‏ جو بحکم الٰہی ہوا نے یعقوب کو یوسف کے پیراہن کی خوشبو پہنچا دی۔ اس وقت یوسف علیہ السلام کی گمشدگی کی مدت اسی سال کی گزر چکی تھی اور قافلہ اسی فرسخ آپ سے دور تھا۔ لیکن بھائیوں نے کہا آپ تو یوسف علیہ السلام کی محبت میں غلطی میں پڑے ہوئے ہیں نہ غم آپ کے دل سے دور ہو نہ آپ کو تسلی ہو۔ ان کا یہ کلمہ بڑا سخت تھا کسی لائق اولاد کو لائق نہیں کہ اپنے باپ سے یہ کہے نہ کسی امتی کو لائق ہے کہ اپنی نبی علیہ السلام سے یہ کہے.

📖 احسن البیان

93۔ 1 قمیص کے چہرے پر پڑنے سے آنکھوں کی بینائی کا بحال ہونا، ایک اعجاز اور کرامت کے طور پر تھا۔ 93۔ 2 یہ یوسف ؑ نے اپنے پورے خاندان کو مصر آنے کی دعوت دی۔

📖 القرآن الکریم

(آیت93){اِذْهَبُوْا بِقَمِيْصِيْ …:} بھائیوں کو معاف کر دینے کے بعد گھر کے حالات کا تذکرہ ہوا، والد کے نابینا ہونے کی خبر پر ان کے علاج کے لیے اپنی قمیص بھیجی اور اپنے سارے گھر والوں کو اپنے پاس مصر میں لانے کا حکم دیا۔ یہ قمیص بھی عجیب تھی، کبھی یوسف علیہ السلام کو بھیڑیے کے کھا جانے کے ثبوت پر پیش کی گئی اور والد کو نابینا کر گئی اور کبھی یوسف علیہ السلام پر ارادۂ زنا کی تہمت لگی تو یہ ان کی صفائی بن گئی، اب اللہ کا حکم ہوا تو یعقوب علیہ السلام کی بینائی واپس ملنے کا ذریعہ بن گئی۔ یہ سب میرے مالک کی قدرت و مشیت ہے: «{ فَسُبْحٰنَ الَّذِيْ بِيَدِهٖ مَلَكُوْتُ كُلِّ شَيْءٍ وَّ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ }» [ یسٓ: ۸۳ ] ”سو پاک ہے وہ کہ اسی کے ہاتھ میں ہر چیز کی کامل بادشاہی ہے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔“ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”یعنی ہر مرض کی اللہ کے ہاں دوا ہے، ایک شخص کے فراق میں یعقوب علیہ السلام کی آنکھیں ضائع ہو گئیں، اس کے بدن کی چیز ملنے سے درست ہو گئیں، یہ یوسف علیہ السلام کی کرامت تھی۔“ (موضح) اور خوشی کی شدت سے بینائی میں قوت پیدا ہو جانا طبی طور پر ثابت ہے۔ (رازی) مگر طبی طور پر اس کی کوئی مثال ہمارے سامنے نہیں کہ خوشی سے نابینا بینا ہو جائے، اس لیے اسے معجزہ ہی کہا جائے گا۔
← پچھلی آیت (92) پوری سورۃ اگلی آیت (94) →