بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ يوسف — Surah Yusuf
آیت نمبر 86
کل آیات: 111
قرآن کریم يوسف آیت 86
آیت نمبر: 86 — سورۃ يوسف islamicurdubooks.com ↗
قَالَ اِنَّمَاۤ اَشۡکُوۡا بَثِّیۡ وَ حُزۡنِیۡۤ اِلَی اللّٰہِ وَ اَعۡلَمُ مِنَ اللّٰہِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۸۶﴾
اُس نے کہا "میں اپنی پریشانی اور اپنے غم کی فریاد اللہ کے سوا کسی سے نہیں کرتا، اور اللہ سے جیسا میں واقف ہوں تم نہیں ہو
انہوں نے کہا کہ میں تو اپنی پریشانیوں اور رنج کی فریاد اللہ ہی سے کر رہا ہوں، مجھے اللہ کی طرف سے وه باتیں معلوم ہیں جو تم نہیں جانتے
کہا میں تو اپنی پریشانی اور غم کی فریاد اللہ ہی سے کرتا ہوں اور مجھے اللہ کی وہ شانیں معلوم ہیں جو تم نہیں جانتے
آپ (ع) نے کہا کہ میں اپنے رنج و غم کی شکایت بس اللہ ہی سے کر رہا ہوں اور میں اللہ کی طرف سے وہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔
اس نے کہا میں تو اپنی ظاہر ہوجانے والی بے قراری اور اپنے غم کی شکایت صرف اللہ کی جناب میں کرتا ہوں اور میں اللہ کی طرف سے جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

بچوں نے باپ کا یہ حال دیکھ کر انہیں سمجھانا شروع کیا کہ ابا جی آپ تو اسی کی یاد میں اپنے آپ کو گھلا دیں گے بلکہ ہمیں تو ڈر ہے کہ اگر آپ کا یہی حال کچھ دنوں اور رہا تو کہیں زندگی سے ہاتھ نہ دھو بیٹھیں۔ یعقوب علیہ السلام نے انہیں جواب دیا کہ میں تم سے تو کچھ نہیں کہہ رہا میں تو اپنے رب کے پاس اپنا دکھ رو رہا ہوں۔ اور اس کی ذات سے بہت امید رکھتا ہوں وہ بھلائیوں والا ہے۔ مجھے یوسف کا خواب یاد ہے، جس کی تعبیر ظاہر ہو کر رہے گی۔

ابن ابی حاتم میں ہے کہ یعقوب علیہ السلام کے ایک مخلص دوست نے ایک مرتبہ آپ علیہ السلام سے پوچھا کہ آپ کی بینائی کیسے جاتی رہی؟ اور آپ کی کمر کیسے کبڑی ہو گئی؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا یوسف علیہ السلام کو رو رو کر آنکھیں کھو بیٹھا اور بنیامین کے صدمے نے کمر توڑ دی۔ اسی وقت جبرائیل علیہ السلام آئے اور فرمایا اللہ تعالیٰ آپ کو سلام کے بعد کہتا ہے کہ میری شکایتیں دوسروں کے سامنے کرنے سے آپ شرماتے نہیں؟ یعقوب علیہ السلام نے اسی وقت فرمایا کہ میری پریشانی اور غم کی شکایت اللہ ہی کے سامنے ہے۔ جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا آپ کی شکایت کا اللہ کو خوب علم ہے۔ [بیهقی فی شعب الایمان:3403/3:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ حدیث بھی غریب ہے اور اس میں بھی نکارت ہے۔

📖 احسن البیان

86۔ 1 اس سے مراد یا تو خواب ہے جس کی بابت انھیں یقین تھا کہ اس کی تعبیر ضرور سامنے آئے گی اور وہ یوسف ؑ کو سجدہ کریں گے یا ان کا یقین تھا کہ یوسف ؑ زندہ موجود ہیں، اور اس سے زندگی میں ضرور ملاقات ہوگی۔

📖 القرآن الکریم

(آیت86) ➊ { قَالَ اِنَّمَاۤ اَشْكُوْا بَثِّيْ …:” بَثَّ يَبُثُّ“} کا لفظی معنی پھیلانا ہے، فرمایا: «{ وَ بَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيْرًا وَّ نِسَآءً }» [النساء: ۱ ] ”اور ان دونوں میں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیں۔“ {”بَثَّ الرِّيْحُ التُّرَابَ“} ”ہوا نے مٹی اڑائی۔“ آدمی پر جب مصائب آئیں تو ان سے پیدا ہونے والے جس غم کو وہ چھپا سکے وہ حزن کہلاتا ہے اور جو چھپا نہ سکے {”بَثٌّ“} کہلاتا ہے۔ اس آیت پر شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”یعنی تم کیا مجھے صبر سکھاؤ گے، بے صبر وہ ہے جو خلق کے آگے شکایت کرے خالق کی، میں تو اسی سے کہتا ہوں جس نے درد دیا اور یہ بھی جانتا ہوں کہ مجھ پر آزمائش ہے، دیکھوں کس حد کو پہنچ کر بس ہو۔“ (موضح) حقیقت یہ ہے کہ یعقوب علیہ السلام کے غم کا جو حال اللہ تعالیٰ نے بیان کیا ہے وہ پڑھ اور سن کر ہی دل سخت غم زدہ ہو جاتا ہے، پھر خود ان کا کیا حال ہو گا۔ عبد اللہ بن شداد کہتے ہیں کہ میں نے عمر رضی اللہ عنہ کے روتے ہوئے دھاڑیں مارنے کی آواز سنی، حالانکہ میں صفوں کے آخر میں تھا، وہ یہ پڑھ رہے تھے: «{ اِنَّمَاۤ اَشْكُوْا بَثِّيْ وَ حُزْنِيْۤ اِلَى اللّٰهِ }» [ بخاري، الأذان، باب إذا بکی الإمام فی الصلاۃ، قبل ح: ۷۱۶ ] ➋ { وَ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ:} یعنی یوسف زندہ ہیں اور ایک دن ایسا آئے گا کہ میرے اور تمھارے سجدہ کرنے کا خواب جو انھوں نے دیکھا تھا، سچا ہو گا، مجھے اس کا پورا یقین ہے اور اللہ تعالیٰ میری یہ امید بر لائے گا۔ اتنی مدت گزرنے اور اتنے غم کے باوجود جس میں یوسف علیہ السلام کی زندگی کی امید باقی رہنا بھی ممکن نظر نہیں آتا، ان کی ملاقات کی امید رکھنا یعقوب علیہ السلام کے کمال ایمان کا نتیجہ ہے۔
← پچھلی آیت (85) پوری سورۃ اگلی آیت (87) →