بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ يوسف — Surah Yusuf
آیت نمبر 81
کل آیات: 111
قرآن کریم يوسف آیت 81
آیت نمبر: 81 — سورۃ يوسف islamicurdubooks.com ↗
اِرۡجِعُوۡۤا اِلٰۤی اَبِیۡکُمۡ فَقُوۡلُوۡا یٰۤاَبَانَاۤ اِنَّ ابۡنَکَ سَرَقَ ۚ وَ مَا شَہِدۡنَاۤ اِلَّا بِمَا عَلِمۡنَا وَ مَا کُنَّا لِلۡغَیۡبِ حٰفِظِیۡنَ ﴿۸۱﴾
تم جا کر اپنے والد سے کہو کہ "ابا جان، آپ کے صاحبزادے نے چوری کی ہے ہم نے اسے چوری کرتے ہوئے نہیں دیکھا، جو کچھ ہمیں معلوم ہوا ہے بس وہی ہم بیان کر رہے ہیں، اور غیب کی نگہبانی تو ہم نہ کر سکتے تھے
تم سب والد صاحب کی خدمت میں واپس جاؤ اور کہو کہ اباجی! آپ کے صاحبزادے نے چوری کی اور ہم نے وہی گواہی دی تھی جو ہم جانتے تھے۔ ہم کچھ غیب کی حفاﻇت کرنے والے نہ تھے
اپنے باپ کے پاس لوٹ کر جاؤ پھر عرض کرو اے ہمارے باپ بیشک آپ کے بیٹے نے چوری کی اور ہم تو اتنی ہی بات کے گواہ ہوئے تھے جتنی ہمارے علم میں تھی اور ہم غیب کے نگہبان نہ تھے
لہٰذا تم لوگ اپنے باپ کے پاس واپس جاؤ۔ اور جاکر کہو اے ہمارے باپ! آپ کے بیٹے (بنیامین) نے چوری کی ہے اور ہم نے اسی بات کی گواہی دی ہے۔ جس کا ہمیں علم ہے اور ہم غیب کی نگہبانی کرنے والے نہیں ہیں (غیبی باتوں کی ہمیں خبر نہیں ہے)۔
اپنے باپ کی طرف واپس جائو، پس کہو اے ہمارے باپ! بے شک تیرے بیٹے نے چوری کر لی اور ہم نے شہادت نہیں دی مگر اس کے مطابق جو ہم نے جانا اور ہم غیب کی حفاظت کرنے والے نہ تھے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

اب یہ اپنے اور بھائیوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ تم ابا جی کے پاس جاؤ۔ انہیں حقیقت حال سے مطلع کرو۔ ان سے کہو کہ ہمیں کیا خبر تھی کہ یہ چوری کر لیں گے اور چوری کا مال ان کے پاس موجود ہے ہم سے تو مسئلے کی صورت پوچھی گئی ہم نے بیان کر دی۔ آپ کو ہماری بات کا یقین نہ ہو تو اہل مصر سے دریافت فرما لیجئے جس قافلے کے ساتھ ہم آئے ہیں اس سے پوچھ لیجئے۔ کہ ہم نے صداقت، امانت، حفاظت میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔ اور ہم جو کچھ عرض کر رہے ہیں، وہ بالکل راستی پر مبنی ہے۔

📖 احسن البیان

80۔ 1 یعنی ہم نے جو عہد کیا تھا کہ ہم بنیامین کو باحفاظت واپس لے آئیں گے، تو یہ ہم نے اپنے علم کے مطابق عہد کیا تھا، بعد میں جو واقعہ پیش آگیا اور جس کی وجہ سے بنیامین کو ہمیں چھوڑنا پڑا، یہ تو ہمارے وہم و گمان میں بھی نہ تھا۔ دوسرا مطلب یہ ہے ہم نے چوری کی جو سزا بیان کی تھی چور کو ہی چوری کے بدلے میں رکھ لیا جائے، تو یہ سزا ہم نے اپنے علم کے مطابق ہی تجویز کی تھی۔ اس میں کسی قسم کی بدنیتی شامل نہیں تھی۔ لیکن یہ اتفاق کی بات تھی کہ جب سامان کی تلاشی لی گئی تو مسروقہ کٹورا بنیامین کے سامان سے نکل آیا۔ 81۔ 2 یعنی مستقبل میں پیش آنے والے واقعات سے ہم بیخبر تھے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت81) ➊ {اِرْجِعُوْۤا اِلٰۤى اَبِيْكُمْ …:} البتہ تم واپس جا کر والد کو بتاؤ کہ آپ کے بیٹے نے چوری کی ہے، اگر تم بھی واپس نہ گئے تو والد اور زیادہ پریشان ہوں گے کہ شاید تمام بیٹے ہی گرفتار ہو گئے، یا ان کا کیا بنا، اس لیے واپس جا کر انھیں حقیقت حال سے آگاہ کرو۔ ➋ {وَ مَا شَهِدْنَاۤ اِلَّا بِمَا عَلِمْنَا: } اس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں، ایک تو یہ کہ ہم نے بھائی کے چور ہونے کی شہادت اپنے علم ہی کے مطابق دی ہے، کیونکہ ہم نے اپنی آنکھوں سے اس کے سامان سے پیمانہ نکلتا ہوا دیکھا ہے۔ دوسرا یہ کہ ہم نے عزیز مصر کو جو مسئلہ بتایا کہ چور کی یہ سزا ہے تو وہ ہم نے اپنے علم ہی کے مطابق بتایا کہ ہمارے باپ دادا کی شریعت کے مطابق اس کا یہ حکم ہے۔ ➌ { وَ مَا كُنَّا لِلْغَيْبِ حٰفِظِيْنَ:} یعنی جب ہم نے آپ کو قسم کھا کر عہد دیا تھا، ہمیں غیب کا علم تو نہیں تھا کہ بھائی مصر میں جا کر چوری کرے گا، ورنہ ہم اسے اپنے ساتھ کیوں لے جاتے، یا آپ کو یہ پختہ عہد کیوں دیتے کہ اسے اپنے ساتھ ضرور واپس لائیں گے۔
← پچھلی آیت (80) پوری سورۃ اگلی آیت (82) →