بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ يوسف — Surah Yusuf
آیت نمبر 79
کل آیات: 111
قرآن کریم يوسف آیت 79
آیت نمبر: 79 — سورۃ يوسف islamicurdubooks.com ↗
قَالَ مَعَاذَ اللّٰہِ اَنۡ نَّاۡخُذَ اِلَّا مَنۡ وَّجَدۡنَا مَتَاعَنَا عِنۡدَہٗۤ ۙ اِنَّاۤ اِذًا لَّظٰلِمُوۡنَ ﴿٪۷۹﴾
یوسفؑ نے کہا "پناہ بخدا، دوسرے کسی شخص کو ہم کیسے رکھ سکتے ہیں جس کے پاس ہم نے اپنا مال پایا ہے اس کو چھوڑ کر دوسرے کو رکھیں گے تو ہم ظالم ہوں گے"
یوسف (علیہ السلام) نے کہا ہم نے جس کے پاس اپنی چیز پائی ہے اس کے سوا دوسرے کی گرفتاری کرنے سے اللہ کی پناه چاہتے ہیں، ایسا کرنے سے تو ہم یقیناً ناانصافی کرنے والے ہو جائیں گے
کہا خدا کی پناہ کہ ہم میں مگر اسی کو جس کے پاس ہمارا مال ملا جب تو ہم ظالم ہوں گے،
یوسف (ع) نے کہا معاذ اللہ (اللہ کی پناہ) کہ ہم اس آدمی کے سوا جس کے پاس ہم نے اپنا مال پایا ہے کسی اور شخص کو پکڑیں اس صورت میں تو ہم ظالم قرار پائیں گے۔
اس نے کہا اللہ کی پناہ کہ ہم اس کے سوا کسی کو پکڑیں جس کے پاس ہم نے اپنا سامان پایا ہے، یقینا ہم تو اس وقت ظالم ہوں گے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

جب بنیامین کے پاس سے شاہی مال برآمد ہوا اور ان کے اپنے اقرار کے مطابق وہ شاہی قیدی ٹھہر چکے تو اب انہیں رنج ہونے لگا۔ عزیز مصر کو پرچانے لگے اور اسے رحم دلانے کے لیے کہا کہ ان کے والد ان کے بڑے ہی دلدادہ ہیں۔ ضعیف اور بوڑھے شخض ہیں۔ ان کا ایک سگا بھائی پہلے ہی گم ہو چکا ہے۔ جس کے صدمے سے وہ پہلے ہی سے چور ہیں اب جو یہ سنیں گے تو ڈر ہے کہ زندہ نہ بچ سکیں۔ آپ ہم میں سے کسی کو ان کے قائم مقام اپنے پاس رکھ لیں اور اسے چھوڑ دیں آپ بڑے محسن ہیں، اتنی عرض ہماری قبول فرما لیں۔ یوسف علیہ السلام نے جواب دیا کہ بھلا یہ سنگدلی اور ظلم کیسے ہو سکتا ہے کہ کرے کوئی بھرے کوئی۔ چور کو روکا جائے گا نہ کہ شاہ کو نا کردہ گناہ کو سزا دینا اور گنہگار کو چھوڑ دینا یہ تو صریح ناانصافی اور بدسلوکی ہے۔

📖 احسن البیان

79۔ 1 یہ جواب اس لئے دیا کہ حضرت یوسف ؑ کا اصل مقصد تو بنیامین کو روکنا تھا۔

📖 القرآن الکریم

(آیت79) {قَالَ مَعَاذَ اللّٰهِ …:} یوسف علیہ السلام اپنے بھائی کو پاس رکھنا بھی چاہتے تھے اور چور بھی نہیں کہنا چاہتے تھے، ان کی کمال ذہانت اور کمال صدق دیکھیے کہ دونوں معنوں پر مشتمل الفاظ میں بھائی کو ساتھ بھیجنے سے انکار کر دیا۔ فرمایا کہ ہم اس بات سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں کہ اس شخص کے سوا کسی اور کو پکڑیں جس کے پاس ہم نے اپنا سامان پایا ہے، اس صورت میں تو یقینا ہم ظالم ہوں گے اور ہم ظلم نہیں کر سکتے۔
← پچھلی آیت (78) پوری سورۃ اگلی آیت (80) →