بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ يوسف — Surah Yusuf
آیت نمبر 77
کل آیات: 111
قرآن کریم يوسف آیت 77
آیت نمبر: 77 — سورۃ يوسف islamicurdubooks.com ↗
قَالُوۡۤا اِنۡ یَّسۡرِقۡ فَقَدۡ سَرَقَ اَخٌ لَّہٗ مِنۡ قَبۡلُ ۚ فَاَسَرَّہَا یُوۡسُفُ فِیۡ نَفۡسِہٖ وَ لَمۡ یُبۡدِہَا لَہُمۡ ۚ قَالَ اَنۡتُمۡ شَرٌّ مَّکَانًا ۚ وَ اللّٰہُ اَعۡلَمُ بِمَا تَصِفُوۡنَ ﴿۷۷﴾
ان بھائیوں نے کہا "یہ چوری کرے تو کچھ تعجب کی بات بھی نہیں، اس سے پہلے اس کا بھائی (یوسفؑ) بھی چوری کر چکا ہے" یوسفؑ ان کی یہ بات سن کر پی گیا، حقیقت ان پر نہ کھولی بس (زیر لب) اتنا کہہ کر رہ گیا کہ "بڑے ہی برے ہو تم لوگ، (میرے منہ در منہ مجھ پر) جو الزام تم لگا رہے ہو اس کی حقیقت خدا خوب جانتا ہے"
انہوں نے کہا کہ اگر اس نے چوری کی (تو کوئی تعجب کی بات نہیں) اس کابھائی بھی پہلے چوری کر چکا ہے۔ یوسف (علیہ السلام) نے اس بات کو اپنے دل میں رکھ لیا اور ان کے سامنے بالکل ﻇاہر نہ کیا۔ کہا کہ تم بدتر جگہ میں ہو، اور جو تم بیان کرتے ہو اسے اللہ ہی خوب جانتا ہے
بھائی بولے اگر یہ چوری کرے تو بیشک اس سے پہلے اس کا بھائی چوری کرچکا ہے تو یوسف نے یہ بات اپنے دل میں رکھی اور ان پر ظاہر نہ کی، جی میں کہا تم بدتر جگہ ہو اور اللہ خوب جانتا ہے جو باتیں بناتے ہو،
ان لوگوں (برادرانِ یوسف(ع)) نے کہا اگر اس نے چوری کی ہے تو اس پر کیا تعجب اس سے پہلے اس کے ایک حقیقی بھائی نے بھی چوری کی تھی یوسف نے اس بات کو اپنے دل میں پوشیدہ رکھا اور ان پر ظاہر نہیں کیا (البتہ صرف اتنا) کہا تم بہت ہی برے لوگ ہو اور جو کچھ تم بیان کر رہے ہو اسے اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔
انھوں نے کہا اگر اس نے چوری کی ہے تو بے شک اس سے پہلے اس کے ایک بھائی نے بھی چوری کی تھی۔ تو یوسف نے اسے اپنے دل میں پوشیدہ رکھا اور اسے ان کے لیے ظاہر نہیں کیا، کہا تم مرتبے میں زیادہ برے ہو اور اللہ زیادہ جاننے والا ہے جو تم بیان کرتے ہو۔

📖 تفسیر ابن کثیر

بھائی کے تھیلے میں سے جام کا نکلنا دیکھ کر بات بنا دی کہ دیکھو اس نے چوری کی تھی اور یہی کیا اس کے بھائی یوسف نے ایک مرتبہ اس سے پہلے چوری کر لی تھی۔ وہ واقعہ یہ تھا کہ اپنے نانا کا بت چپکے سے اٹھا لائے تھے اور اسے توڑ دیا تھا۔ یہ بھی مروی ہے کہ یعقوب علیہ السلام کی ایک بڑی بہن تھیں، جن کے پاس اپنے والد اسحاق علیہ السلام کا ایک کمر پٹہ تھا جو خاندان کے بڑے آدمی کے پاس رہا کرتا تھا۔ یوسف علیہ السلام پیدا ہوتے ہی اپنی ان پھوپھی صاحبہ کی پرورش میں تھے۔ انہیں یوسف علیہ السلام سے کمال درجے کی محبت تھی۔ جب آپ کچھ بڑے ہو گئے تو یعقوب علیہ السلام نے آپ کو لے جانا چاہا۔ بہن صاحبہ سے درخواست کی۔ لیکن بہن نے جدائی و ناقابل برداشت بیان کر کے انکار کر دیا۔

ادھر آپ کے والد صاحب یعقوب علیہ السلام کے شوق کی بھی انتہا نہ تھی، سر ہو گئے۔ آخر بہن صاحبہ نے فرمایا اچھا کچھ دنوں رہنے دو پھر لے جانا۔ اسی اثنا میں ایک دن انہوں نے وہی کمر پٹہ یوسف علیہ السلام کے کپڑوں کے نیچے چھپا دیا، پھر تلاش شروع کی۔ گھر بھر چھان مارا، نہ ملا، شور مچا، آخر یہ ٹھہری کہ گھر میں جو ہیں، ان کی تلاشیاں لی جائیں۔ تلاشیاں لی گئیں۔ کسی کے پاس ہو تو نکلے آخر یوسف علیہ السلام کی تلاشی لی گئی، ان کے پاس سے برآمد ہوا۔ یعقوب علیہ السلام کو خبر دی گئی۔ اور ملت ابراہیمی کے قانون کے مطابق آپ اپنی پھوپھی کی تحویل میں کر دئیے گئے۔ اور پھوپھی نے اس طرح اپنے شوق کو پورا کیا۔ انتقال کے وقت تک یوسف علیہ السلام کو نہ چھوڑا۔ اسی بات کا طعنہ آج بھائی دے رہے ہیں۔ جس کے جواب میں یوسف علیہ السلام نے چپکے سے اپنے دل میں کہا کہ تم بڑے خانہ خراب لوگ ہو اس کے بھائی کی چوری کا حال اللہ خوب جانتا ہے۔

📖 احسن البیان

77۔ 1 یہ انہوں نے اپنی پاکیزگی و شرافت کے اظہار کے لئے کہا۔ کیونکہ حضرت یوسف ؑ اور بنیامین، ان کے سگے اور حقیقی بھائی نہیں تھے، علاتی بھائی تھے، بعض مفسرین نے یوسف ؑ کی چوری کے لئے دو راز کار باتیں نقل کی ہیں جو کسی مستند ماخذ پر مبنی نہیں ہیں۔ صحیح بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ انہوں نے اپنے کو تو نہایت با اخلاق اور باکردار باور کرایا اور یوسف ؑ اور بنیامین کو کمزور کردار کا اور دروغ گوئی سے کام لیتے ہوئے انھیں چور اور بےایمان ثابت کرنے کی کوشش کی۔ 77۔ 2 حضرت یوسف ؑ کے اس قول سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے حضرت یوسف ؑ کی طرف چوری کے انتساب میں صریح کذب بیانی کا ارتکاب کیا۔

📖 القرآن الکریم

(آیت77) ➊ { فَقَدْ سَرَقَ اَخٌ لَّهٗ مِنْ قَبْلُ:} ان کا یہ اشارہ یوسف علیہ السلام کی طرف تھا، پہلے کہہ چکے تھے: «{ مَا كُنَّا سٰرِقِيْنَ }» کہ ہم کبھی چور نہیں تھے، لیکن اب جو دیکھا کہ چھوٹے بھائی کے پاس سے چوری کا مال نکل آیا ہے تو اپنی خفت مٹانے اور اپنی پاک بازی ظاہر کرنے کے لیے فوراً اپنے آپ کو اس بھائی سے الگ کر لیا اور اس کے جرم کو بہانہ بنا کر اس کے بھائی پر بھی چوری کی جھوٹی تہمت لگا دی۔ اس سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ یوسف علیہ السلام کے گم ہو جانے کے بعد اس بھائی کے ساتھ یہ بھائی کیا سلوک کرتے رہے ہوں گے؟ یہاں مفسرین نے اسرائیلی روایات سے بچپن میں یوسف علیہ السلام کی چوری کے کچھ واقعات لکھے ہیں، جن کا قرآن و حدیث میں کوئی ذکر نہیں اور جن سے یوسف علیہ السلام بالکل پاک ہیں، پھر یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کے کہنے پر یوسف علیہ السلام کی چوری کے واقعات کی تلاش تو تب کی جائے جب برادران یوسف نے کبھی جھوٹ نہ بولا ہو، باپ کے پاس جھوٹ بولنے سے لے کر یہاں اپنے تمام بھائیوں کی قسم دے کر کہ ہم میں سے کبھی کوئی چور نہیں رہا، فوراً ہی مدت سے گم شدہ بھائی پر بھی چوری کا بہتان لگا دیا اور ہمارے بعض مفسرین کو فکر ہے کہ ان بھائیوں کے جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کے لیے یوسف علیہ السلام کی کوئی نہ کوئی چوری ضرور ڈھونڈ نکالی جائے۔ [ إِنَّا لِلّٰہِ وَ إِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ ] ➋ { فَاَسَرَّهَا يُوْسُفُ فِيْ نَفْسِهٖ وَ لَمْ يُبْدِهَا لَهُمْ:} کیونکہ اگر ظاہر کرتے تو وہ سمجھ لیتے کہ یہی یوسف ہے اور ابھی یہ راز کھولنے کا وقت نہ آیا تھا۔ اتنے اونچے مقام پر ہونے کے باوجود اتنی تلخ تہمت کو دل میں چھپا کر صبر کرنا یوسف علیہ السلام ہی کا حوصلہ ہے۔ ➌ { قَالَ اَنْتُمْ شَرٌّ مَّكَانًا:} یعنی یوسف نے چوری کی ہو یا نہ کی ہو مگر تمھارے چور ہونے میں کوئی شبہ نہیں، کیونکہ تم نے اسے باپ سے چرا کر کنویں میں پھینک دیا۔ مزید یہ غضب ڈھا رہے ہو کہ الٹا اپنے آپ کو پاک باز اور یوسف کو چور بتاتے ہو؟ ➍ { وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا تَصِفُوْنَ:} یعنی تم جو یوسف پر چوری کا الزام لگا رہے ہو اس کی حقیقت اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے، تم جھوٹ بول کر لوگوں کو دھوکا دے سکتے ہو مگر اللہ تعالیٰ کو دھوکا نہیں دے سکتے۔
← پچھلی آیت (76) پوری سورۃ اگلی آیت (78) →