بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ يوسف — Surah Yusuf
آیت نمبر 69
کل آیات: 111
قرآن کریم يوسف آیت 69
آیت نمبر: 69 — سورۃ يوسف islamicurdubooks.com ↗
وَ لَمَّا دَخَلُوۡا عَلٰی یُوۡسُفَ اٰوٰۤی اِلَیۡہِ اَخَاہُ قَالَ اِنِّیۡۤ اَنَا اَخُوۡکَ فَلَا تَبۡتَئِسۡ بِمَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۶۹﴾
یہ لوگ یوسفؑ کے حضور پہنچے تو اس نے اپنے بھائی کو اپنے پاس الگ بلا لیا اور اسے بتا دیا کہ "میں تیرا وہی بھائی ہوں (جو کھویا گیا تھا) اب تو اُن باتوں کا غم نہ کر جو یہ لوگ کرتے رہے ہیں"
یہ سب جب یوسف کے پاس پہنچ گئے تو اس نے اپنے بھائی کو اپنے پاس بٹھا لیا اور کہا میں تیرا بھائی (یوسف) ہوں، پس یہ جو کچھ کرتے رہے اس کا کچھ رنج نہ کر
اور جب وہ یوسف کے پاس گئے اس نے اپنے بھائی کو اپنے پاس جگہ دی کہا یقین جان میں ہی تیرا بھائی ہوں تو یہ جو کچھ کرتے ہیں اس کا غم نہ کھا
اور جب یہ لوگ یوسف (ع) کے پاس پہنچے تو اس نے اپنے (حقیقی) بھائی (بنیامین) کو اپنے پاس جگہ دی (اور آہستگی سے) کہا میں تیرا بھائی (یوسف) ہوں بس تو اس پر غمگین نہ ہو جو کچھ یہ لوگ سلوک کرتے رہے ہیں۔
اور جب وہ یوسف کے پاس داخل ہوئے تو اس نے اپنے بھائی کو اپنے پاس جگہ دی، کہا بلاشبہ میں ہی تیرا بھائی ہوں، سو تو اس پر غم نہ کر جو وہ کرتے رہے ہیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

بنیامین علیہ السلام جو یوسف علیہ السلام کے سگے بھائی تھے انہیں لے کر آپ کے اور بھائی جب مصر پہنچے آپ نے اپنے سرکاری مہمان خانے میں ٹھہرایا، بڑی عزت تکریم کی اور صلہ اور انعام و اکرام دیا، اپنے بھائی سے تنہائی میں فرمایا کہ میں تیرا بھائی یوسف ہوں، اللہ نے مجھ پر یہ انعام و اکرام فرمایا ہے، اب تمہیں چاہیئے کہ بھائیوں نے جو سلوک میرے ساتھ کیا ہے، اس کا رنج نہ کرو اور اس حقیقت کو بھی ان پر نہ کھولو میں کوشش میں ہوں کہ کسی نہ کسی طرح تمہیں اپنے پاس روک لوں۔

📖 احسن البیان

69۔ 1 بعض مفسرین کہتے ہیں دو دو آدمیوں کو ایک ایک کمرے میں ٹھرایا گیا، یوں بنیامین جو اکیلے رہ گئے تو یوسف ؑ نے انھیں تنہا الگ ایک کمرے میں رکھا اور پھر خلوت میں ان سے باتیں کیں اور انھیں پچھلی باتیں بتلا کر کہا کہ ان بھائیوں نے میرے ساتھ جو کچھ کیا، اس پر رنج نہ کر اور بعض کہتے ہیں کہ بنیامین کو روکنے کے لئے جو حیلہ اختیار کرنا تھا، اس سے بھی انھیں آگاہ کردیا تھا تاکہ وہ پریشان نہ ہو۔ (ابن کثیر)

📖 القرآن الکریم

(آیت69) ➊ {وَ لَمَّا دَخَلُوْا عَلٰى يُوْسُفَ …:} اس سے معلوم یہ ہوتا ہے کہ یوسف علیہ السلام نے اپنی حسنِ تدبیر سے دوسرے بھائیوں کو اس طرح ٹھہرایا کہ چھوٹا بھائی اکیلا رہ گیا تو اسے اپنے پاس ٹھہرا لیا۔ مفسرین نے عام طور پر لکھا ہے کہ بھائیوں کو دو، دو کرکے ایک ایک جگہ ٹھہرایا، مگر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ انھیں پانچ پانچ کرکے ایک ایک جگہ ٹھہرا دیا ہو یا کوئی اور ترتیب بنائی ہو (واللہ اعلم) کیونکہ دو، دو والی ترتیب قرآن وحدیث میں نہیں آئی۔ ➋ {قَالَ اِنِّيْۤ اَنَا اَخُوْكَ …:} ظاہر ہے کہ جب یوسف علیہ السلام اپنے بھائی کے ساتھ علیحدہ ہوئے اور اسے بتایا کہ میں تمھارا سگا بھائی ہوں تو اس نے اپنے سوتیلے بھائیوں کی بدسلوکی کے قصے بیان کیے ہوں گے اور یقینا یوسف علیہ السلام کے فراق میں اپنا اور والد کا حال بھی بیان کیا ہو گا۔ اس پر یوسف علیہ السلام نے انھیں تسلی دی کہ اب تم اپنے بھائی کے پاس پہنچ گئے ہو، لہٰذا ان بھائیوں کی بدسلوکی کا رنج نہ کرو، اب وقت آگیا ہے کہ ہمارے تمام غم غلط ہوں اور اللہ تعالیٰ ہمیں راحت و عزت عطا فرمائے۔
← پچھلی آیت (68) پوری سورۃ اگلی آیت (70) →