بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ يوسف — Surah Yusuf
آیت نمبر 66
کل آیات: 111
قرآن کریم يوسف آیت 66
آیت نمبر: 66 — سورۃ يوسف islamicurdubooks.com ↗
قَالَ لَنۡ اُرۡسِلَہٗ مَعَکُمۡ حَتّٰی تُؤۡتُوۡنِ مَوۡثِقًا مِّنَ اللّٰہِ لَتَاۡتُنَّنِیۡ بِہٖۤ اِلَّاۤ اَنۡ یُّحَاطَ بِکُمۡ ۚ فَلَمَّاۤ اٰتَوۡہُ مَوۡثِقَہُمۡ قَالَ اللّٰہُ عَلٰی مَا نَقُوۡلُ وَکِیۡلٌ ﴿۶۶﴾
ان کے باپ نے کہا "میں اس کو ہرگز تمہارے ساتھ نہ بھیجوں گا جب تک کہ تم اللہ کے نام سے مجھ کو پیمان نہ دے دو کہ اِسے میرے پا س ضرور واپس لے کر آؤ گے الا یہ کہ کہیں تم گھیر ہی لیے جاؤ" جب انہوں نے اس کو اپنے اپنے پیمان دے دیے تو اس نے کہا "دیکھو، ہمارے اس قول پر اللہ نگہبان ہے"
یعقوب (علیہ السلام) نے کہا! میں تو اسے ہرگز ہرگز تمہارے ساتھ نہ بھیجوں گا جب تک کہ تم اللہ کو بیچ میں رکھ کر مجھے قول وقرار نہ دو کہ تم اسے میرے پاس پہنچا دو گے، سوائے اس ایک صورت کے کہ تم سب گرفتار کر لئے جاؤ۔ جب انہوں نے پکا قول قرار دے دیا تو انہوں نے کہا کہ ہم جو کچھ کہتے ہیں اللہ اس پر نگہبان ہے
کہا میں ہرگز اسے تمہارے ساتھ نہ بھیجوں گا جب تک تم مجھے کا اللہ کا یہ عہد نہ دے دو کہ ضرور اسے لے کر آ ؤ گے مگر یہ کہ تم گھِر جاؤ پھر انہوں نے یعقوب کو عہد دے دیا کہا اللہ کا ذمہ ہے ان باتوں پر جو کہہ رہے ہیں،
آپ (ع) نے کہا میں اسے کبھی تمہارے ساتھ نہیں بھیجوں گا جب تک اللہ کی قسم کھا کر مجھ سے عہد و پیمان نہ کرو کہ تم اسے ضرور اپنے ساتھ لاؤگے سوا اس کے کہ تم سب ہی گھیر لئے جاؤ (اور بے بس ہو جاؤ) پھر جب انہوں نے قسم کھا کر اپنا قول و قرار دے دیا تو آپ نے کہا اللہ ہمارے قول قرار پر نگہبان ہے۔
اس نے کہا میں اسے تمھارے ساتھ ہرگز نہ بھیجوں گا، یہاں تک کہ تم مجھے اللہ کا پختہ عہد دوگے کہ تم ہر صورت اسے میرے پاس لائو گے، مگر یہ کہ تمھیں گھیر لیا جائے۔ پھر جب انھوں نے اسے اپنا پختہ عہد دے دیا تو اس نے کہا اللہ اس پر جو ہم کہہ رہے ہیں، ضامن ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

یہ پہلے بیان ہو چکا ہے کہ بھائیوں کی واپسی کے وقت اللہ کے نبی علیہ السلام نے ان کا مال ومتاع ان کے اسباب کے ساتھ پوشیدہ طور پر واپس کر دیا تھا۔ یہاں گھر پہنچ کر جب انہوں نے کجاوے کھولے اور اسباب علیحدہ علیحدہ کیا تو اپنی چیزیں جوں کی توں واپس شدہ پائیں تو اپنے والد سے کہنے لگے لیجئے اب آپ کو اور کیا چاہیئے۔ اصل تک تو عزیز مصر نے ہمیں واپس کر دی ہے اور بدلے کا غلہ پورا پورا دے دیا ہے۔ اب تو آپ بھائی صاحب کو ضرور ہمارے ساتھ کر دیجئیے تو ہم خاندان کے لیے غلہ بھی لائیں گے اور بھائی کی وجہ سے ایک اونٹ کا بوجھ اور بھی مل جائے گا کیونکہ عزیز مصر ہر شخص کو ایک اونٹ کا بوجھ ہی دیتے ہیں۔ اور آپ کو انہیں ہمارے ساتھ کرنے میں تامل کیوں ہے؟ ہم اس کی دیکھ بھال اور نگہداشت پوری طرح کریں گے۔ یہ ناپ بہت ہی آسان ہے یہ تھا اللہ کا کلام کا تتمّہ اور کلام کو اچھا کرنا۔ یعقوب علیہ السلام ان تمام باتوں کے جواب میں فرماتے ہیں کہ جب تک تم حلفیہ اقرار نہ کرو کہ اپنے اس بھائی کو اپنے ہمراہ مجھ تک واپس پہنچاؤ گے میں اسے تمہارے ساتھ بھیجنے کا نہیں۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ اللہ نہ کرے تم سب ہی گیر لیے جاؤ اور چھوٹ نہ سکو۔ چنانچہ بیٹوں نے اللہ کو بیچ میں رکھ کر مضبوط عہدو پیمان کیا۔ اب یعقوب علیہ السلام نے یہ فرما کر کہ ہماری اس گفتگو کا اللہ وکیل ہے۔ اپنے پیارے بچے کو ان کے ساتھ کر دیا۔ اس لیے کہ قحط کے مارے غلے کی ضرورت تھی اور بغیر بھیجے چارہ نہ تھا۔

📖 احسن البیان

66۔ 1 یعنی تمہیں اجتماعی مصیبت پیش آجائے یا تم سب ہلاک یا گرفتار ہوجاؤ، جس سے خلاصی پر تم قادر نہ ہو، تو اور بات ہے۔ اس صورت میں تم معذور ہو گے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت66){قَالَ اللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوْلُ وَكِيْلٌ:وَكِيْلٌ “} بروزن{ ”فَعِيْلٌ“} بمعنی مفعول ہے، یعنی{ ”مَوْكُوْلٌ اِلَيْهِ“ } جس کے سپرد اپنا کام کر دیا جائے۔ یعقوب علیہ السلام نے ایک طرف بیٹوں سے پختہ عہد، یعنی قسمیں لے لیں اور ظاہری اسباب سے پورا وثوق حاصل کر لیا اور دوسری طرف معاملہ اللہ کے سپرد کر کے بھروسا اسی پر رکھا کہ جو کچھ ہم کہہ رہے ہیں اسے پورا کرنا اسی کے اختیار میں ہے اور جو جان بوجھ کر بدعہدی یا خیانت کرے گا وہ خود اسے سزا دے گا، اللہ پر توکل کا صحیح مطلب بھی یہی ہے۔
← پچھلی آیت (65) پوری سورۃ اگلی آیت (67) →