بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ يوسف — Surah Yusuf
آیت نمبر 64
کل آیات: 111
قرآن کریم يوسف آیت 64
آیت نمبر: 64 — سورۃ يوسف islamicurdubooks.com ↗
قَالَ ہَلۡ اٰمَنُکُمۡ عَلَیۡہِ اِلَّا کَمَاۤ اَمِنۡتُکُمۡ عَلٰۤی اَخِیۡہِ مِنۡ قَبۡلُ ؕ فَاللّٰہُ خَیۡرٌ حٰفِظًا ۪ وَّ ہُوَ اَرۡحَمُ الرّٰحِمِیۡنَ ﴿۶۴﴾
باپ نے جواب دیا "کیا میں اُس کے معاملہ میں تم پر ویسا ہی بھروسہ کروں جیسا اِس سے پہلے اُس کے بھائی کے معاملہ میں کر چکا ہوں؟ اللہ ہی بہتر محافظ ہے اور وہ سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والا ہے"
(یعقوب علیہ السلام نے) کہا کہ مجھے تو اس کی بابت تمہارا بس ویسا ہی اعتبار ہے جیسا اس سے پہلے اس کے بھائی کے بارے میں تھا، بس اللہ ہی بہترین حافﻆ ہے اور وه سب مہربانوں سے بڑا مہربان ہے
کہا کیا اس کے بارے میں تم پر ویسا ہی اعتبار کرلوں جیسا پہلے اس کے بھائی کے بارے میں کیا تھا تو اللہ سب سے بہتر نگہبان اور وہ ہر مہربان سے بڑھ کر مہربان،
آپ (ع) نے کہا کیا میں اس کے بارے میں تم پر اسی طرح اعتماد کروں جس طرح اس سے پہلے اس کے بھائی کے بارے میں کیا تھا؟ بہرحال اللہ سب سے بہتر حفاظت کرنے والا ہے اور وہی سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔
اس نے کہا میں اس پر اس کے سوا تمھارا کیا اعتبار کروں جس طرح میں نے اس کے بھائی پر اس سے پہلے تمھارا اعتبار کیا، سو اللہ بہتر حفاظت کرنے والا ہے اور وہ سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

بیان ہو رہا ہے کہ باپ کے پاس پہنچ کر انہوں کہا کہ اب ہمیں تو غلہ مل نہیں سکتا تاوقتیکہ آپ ہمارے ساتھ ہمارے بھائی کو نہ بھیجیں اگر انہیں ساتھ کر دیں تو البتہ مل سکتا ہے آپ بے فکر رہیے ہم اس کی نگہبانی کر لیں گے «‏‏‏‏نَكْتَلْ» ‏‏‏‏کی دوسری قرأت «‏‏‏‏یُکْتَلْ» بھی ہے۔ یعقوب علیہ السلام نے فرمایا کہ بس وہی تم ان کے ساتھ کرو گے جو اس سے پہلے ان کے بھائی یوسف علیہ السلام کے ساتھ کر چکے ہو کہ یہاں سے لے گئے اور یہاں پہنچ کر کوئی بات بنا دی۔ «حَافِظًا» ‏‏‏‏کی دوسری قرأت «حِفْظاً» بھی ہے آپ علیہ السلام فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی بہترین حافظ اور نگہبان ہے اور ہے بھی وہ «أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ» میرے بڑھاپے پر میری کمزوری پر رحم فرمائے گا اور جو غم و رنج مجھے اپنے بچے کا ہے وہ دور کر دے گا۔ مجھے اس کی پاک ذات سے امید ہے کہ وہ میرے یوسف علیہ السلام کو مجھ سے پھر ملا دے گا اور میری پراگندگی کو دور کر دے گا۔ اس پر کوئی کام مشکل نہیں وہ اپنے بندوں سے اپنے رحم و کرم کو نہیں روکتا۔

📖 احسن البیان

64۔ 1 یعنی تم نے یوسف ؑ کو بھی ساتھ لے جاتے وقت اسی طرح حفاظت کا وعدہ کیا تھا لیکن جو کچھ ہوا وہ سامنے ہے، اب میں تمہارا کس طرح اعتبار کروں۔ 64۔ 2 تاہم چونکہ غلے کی شدید ضرورت تھی۔ اس لئے اندیشے کے باوجود بنیامین کو ساتھ بھیجنے سے انکار مناسب نہیں سمجھا اور اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے اسے بھیجنے پر آمادگی ظاہر کردی۔

📖 القرآن الکریم

(آیت64) ➊ { قَالَ هَلْ اٰمَنُكُمْ عَلَيْهِ …:} فرمایا، تم جب یوسف علیہ السلام کو لے گئے تھے تب بھی تم نے یہی کہا تھا کہ {”اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ “} پھر تم نے اس کی اچھی حفاظت کی کہ آج تک اس بے چارے کی کوئی خیر خبر نہیں، تو کیا اس کے متعلق بھی تمھاری حفاظت کا ایسا ہی اعتماد کروں، جیسا اس سے پہلے اس کے بھائی کے متعلق تم پر اعتبار کیا تھا۔ ➋ { فَاللّٰهُ خَيْرٌ حٰفِظًا…: } یعنی میں اسے بحالتِ مجبوری غلہ کی ضرورت کے پیش نظر تمھارے ساتھ بھیج رہا ہوں، سو میں اسے تمھاری حفاظت میں نہیں بلکہ اللہ کی حفاظت میں دیتا ہوں، وہ ارحم الراحمین ہی اپنی مہربانی سے اس کی حفاظت فرمائے گا۔ ابن کثیر کہتے ہیں کہ یعقوب علیہ السلام نے یوسف علیہ السلام کو بھائیوں کے ساتھ بھیجتے وقت صرف یہ کہا تھا: «{ وَ اَخَافُ اَنْ يَّاْكُلَهُ الذِّئْبُ }» ‏‏‏‏ [ یوسف: ۱۳ ] (اور میں ڈرتا ہوں کہ اسے کوئی بھیڑیا کھا جائے) اب جو اس کے بھائی کو {” فَاللّٰهُ خَيْرٌ حٰفِظًا وَّ هُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِيْنَ “} کہتے ہوئے اللہ کی حفاظت میں دیا تو نہ صرف یوسف کا بھائی بلکہ یوسف علیہ السلام بھی مل گئے۔
← پچھلی آیت (63) پوری سورۃ اگلی آیت (65) →