بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
يس
سورۃ يس — 83 آیات — صفحہ 2 از 2
قرآن کریم Surah 36
وَ نُفِخَ فِی الصُّوۡرِ فَاِذَا ہُمۡ مِّنَ الۡاَجۡدَاثِ اِلٰی رَبِّہِمۡ یَنۡسِلُوۡنَ ﴿۵۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پھر ایک صور پھونکا جائے گا اور یکایک یہ اپنے رب کے حضور پیش ہونے کے لیے اپنی قبروں سے نکل پڑیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
تو صور کے پھونکے جاتے ہی سب کے سب اپنی قبروں سے اپنے پروردگار کی طرف (تیز تیز) چلنے لگیں گے
احمد رضا خان بریلوی
اور پھونکا جائے گا صور جبھی وہ قبروں سے اپنے رب کی طرف دوڑتے چلیں گے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور جب (دوبارہ) صور پھونکا جائے گا تو وہ ایک دم اپنی قبروں سے (نکل کر) اپنے پروردگار کی طرف تیز تیز چلنے لگیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
اور صور میں پھونکا جائے گا تو اچانک وہ قبروں سے اپنے رب کی طرف تیزی سے دوڑ رہے ہوں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قیامت کے دوسرے نفخہ پر لوگوں کا حال ٭٭

ان آیتوں میں دوسرے نفخہ کا ذکر ہو رہا ہے۔ جس سے مردے جی اٹھیں گے۔ «یَنسِلُوْنَ» کا مصدر نسلان سے ہے اور اس کے معنی تیز چلنے کے ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے «يَوْمَ يَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ سِرَاعًا كَاَنَّهُمْ اِلٰى نُصُبٍ يُّوْفِضُوْنَ» [ 70- المعارج: 43 ] ‏‏‏‏، جس دن یہ قبروں سے نکل کر اس تیزی سے چلیں گے کہ گویا وہ کسی نشان منزل کی طرف لپکے جا رہے ہیں۔ چونکہ دنیا میں انہیں قبروں سے جی اٹھنے کا ہمیشہ انکار رہا تھا اس لیے آج یہ حالت دیکھ کر کہیں گے کہ ہائے افسوس ہمارے سونے کی جگہ سے ہمیں کس نے اٹھایا؟ اس سے قبر کے عذاب کا نہ ہونا ثابت نہیں ہوتا اس لیے کہ جس ہول و شدت کو جس تکلیف اور مصیبت کو یہ اب دیکھیں گے اس کی بہ نسبت تو قبر کے عذاب بیحد خفیف ہی تھے گویا کہ وہ وہاں آرام میں تھے، بعض بزرگوں نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اس سے پہلے ذرا سی دیر کے لیے فی الواقع انہیں نیند آ جائے گی، حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں پہلے نفخہ اور اس دوسرے نفخہ کے درمیان یہ سو جائیں گے، اس لیے اب اٹھ کر یوں کہیں گے، اس کا جواب ایماندار لوگ دیں گے کہ اسی کا وعدہ اللہ نے کیا تھا اور یہی اللہ کے سچے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ جواب فرشتے دیں گے۔ بہرحال دونوں قولوں میں اس طرح تطبیق بھی ہو سکتی ہے کہ مومن بھی کہیں اور فرشتے بھی کہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ»

حضرت عبدالرحمٰن بن زید رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ کل قول کافروں کا ہی ہے لیکن صحیح بات وہ ہے جسے ہم نے پہلے نقل کیا جیسے کہ سورۃ الصافات میں ہے کہ «وَقَالُوا يَا وَيْلَنَا هَـٰذَا يَوْمُ الدِّينِ هَـٰذَا يَوْمُ الْفَصْلِ الَّذِي كُنتُم بِهِ تُكَذِّبُونَ» [ 37-الصافات: 20، 21 ] ‏‏‏‏ یہ کہیں گے ہائے افسوس ہم پر یہ جزا کا دن ہے یہی فیصلہ کا دن ہے جسے ہم جھٹلاتے تھے اور آیت میں ہے «وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ يُقْسِمُ الْمُجْرِمُونَ مَا لَبِثُوا غَيْرَ سَاعَةٍ كَذَٰلِكَ كَانُوا يُؤْفَكُونَ وَقَالَ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ وَالْإِيمَانَ لَقَدْ لَبِثْتُمْ فِي كِتَابِ اللَّـهِ إِلَىٰ يَوْمِ الْبَعْثِ فَهَـٰذَا يَوْمُ الْبَعْثِ وَلَـٰكِنَّكُمْ كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ» [ 30-الروم: 55، 56 ] ‏‏‏‏، جس دن قیامت برپا ہو گی گنہگار قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ وہ صرف ایک ساعت ہی رہے ہیں اسی طرح وہ ہمیشہ حق سے پھرے رہے، اس وقت با ایمان اور علماء فرمائیں گے تم اللہ کے لکھے ہوئے کے مطابق قیامت کے دن تک رہے یہی قیامت کا دن ہے لیکن تم محض بےعلم ہو۔ تم تو اسے ان ہونی مانتے تھے حالانکہ وہ ہم پر بالکل سہل ہے ایک آواز کی دیر ہے کہ ساری مخلوق ہمارے سامنے موجود ہو جائے گی، جیسے اور آیت میں ہے کہ «فَإِنَّمَا هِيَ زَجْرَةٌ وَاحِدَةٌ فَإِذَا هُم بِالسَّاهِرَةِ» [ 79-النازعات: 13، 14 ] ‏‏‏‏ ایک ڈانٹ کے ساتھ ہی سب میدان میں مجتمع موجود ہوں گے۔ اور آیت میں فرمایا «وَمَا أَمْرُ السَّاعَةِ إِلَّا كَلَمْحِ الْبَصَرِ أَوْ هُوَ أَقْرَبُ» [ 16-النحل: 77 ] ‏‏‏‏ امر قیامت تو مثل آنکھ جھپکانے کے بلکہ اس سے بھی زیادہ قریب ہے، اور جیسے فرمایا «يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَتَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا» [ 17- الإسراء: 52 ] ‏‏‏‏ جس دن وہ تمہیں بلائے گا اور تم اس کی تعریف کرتے ہوئے اسے جواب دو گے اور یقین کر لو گے کہ تم بہت ہی کم مدت رہے۔ الغرض حکم کے ساتھ ہی سب حاضر سامنے موجود۔ اس دن کسی کا کوئی عمل مارا نہ جائے گا، ہر ایک کو اس کے کئے ہوئے اعمال کا ہی بدلہ دیا جائے گا۔
51۔ 1 پہلے قول کی بنا پر یہ نفخہ ثانیہ اور دوسرے قول کی بنا پر یہ نفخہ ثالثہ ہوگا، جسے نَفْخَۃُ الْبَعْثِ وَالنُّشُور کہتے ہیں، اس سے لوگ قبروں سے زندہ ہو کر اٹھ کھڑے ہونگے۔ (ابن کثیر)
(آیت 51) {وَ نُفِخَ فِي الصُّوْرِ فَاِذَا هُمْ مِّنَ الْاَجْدَاثِ:الْاَجْدَاثِ”جَدَثٌ“} کی جمع ہے، جیسے {”فَرَسٌ“} کی جمع {”أَفْرَاسٌ“} ہے۔{ ”يَنْسِلُوْنَ”نَسَلَ“} (ن، ض) {نَسْلاً، نَسَلًا وَ نَسَلَانًا فِيْ مَشْيِهِ“} دوڑنا۔ یعنی صور میں دوسری دفعہ پھونکا جائے گا تو اچانک سب لوگ اپنی قبروں سے نکل کر اپنے رب کی طرف دوڑ رہے ہوں گے۔ (دیکھیے قمر: ۶ تا ۸۔ معارج: ۴۳) صور میں کتنی دفعہ پھونکا جائے گا اور دو دفعہ پھوکنے کے درمیان کتنا عرصہ ہو گا، اس تفصیل کے لیے سورۂ نمل کی آیت (۸۷) کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔
قَالُوۡا یٰوَیۡلَنَا مَنۡۢ بَعَثَنَا مِنۡ مَّرۡقَدِنَا ٜۘؐ ہٰذَا مَا وَعَدَ الرَّحۡمٰنُ وَ صَدَقَ الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴿۵۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
گھبرا کر کہیں گے: "ارے، یہ کس نے ہمیں ہماری خواب گاہ سے اُٹھا کھڑا کیا؟" "یہ وہی چیز ہے جس کا خدائے رحمان نے وعدہ کیا تھا اور رسولوں کی بات سچی تھی"
مولانا محمد جوناگڑھی
کہیں گے ہائے ہائے! ہمیں ہماری خواب گاہوں سے کس نے اٹھا دیا۔ یہی ہے جس کا وعده رحمٰن نے دیا تھا اور رسولوں نے سچ سچ کہہ دیا تھا
احمد رضا خان بریلوی
کہیں گے ہائے ہماری خرابی کس نے ہمیں سوتے سے جگادیا یہ ہے وہ جس کا رحمٰن نے وعدہ دیا تھا اور رسولوں نے حق فرمایا
علامہ محمد حسین نجفی
(اس وقت گھبرا کر) کہیں گے ہائے افسوس! کس نے ہمیں ہماری خوابگاہ سے اٹھایا؟ (جواب دیا جائے گا) یہ وہی (قیامت) ہے جس کا خدائے رحمن نے وعدہ (وعید) کیا تھا اور پیغمبروں(ع) نے بھی سچ کہا تھا۔
عبدالسلام بن محمد
کہیں گے ہائے ہمار ی بربادی! کس نے ہمیں ہماری سونے کی جگہ سے اٹھا دیا؟ یہ وہ ہے جو رحمان نے وعدہ کیا اور رسولوں نے سچ کہا تھا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قیامت کے دوسرے نفخہ پر لوگوں کا حال ٭٭

ان آیتوں میں دوسرے نفخہ کا ذکر ہو رہا ہے۔ جس سے مردے جی اٹھیں گے۔ «یَنسِلُوْنَ» کا مصدر نسلان سے ہے اور اس کے معنی تیز چلنے کے ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے «يَوْمَ يَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ سِرَاعًا كَاَنَّهُمْ اِلٰى نُصُبٍ يُّوْفِضُوْنَ» [ 70- المعارج: 43 ] ‏‏‏‏، جس دن یہ قبروں سے نکل کر اس تیزی سے چلیں گے کہ گویا وہ کسی نشان منزل کی طرف لپکے جا رہے ہیں۔ چونکہ دنیا میں انہیں قبروں سے جی اٹھنے کا ہمیشہ انکار رہا تھا اس لیے آج یہ حالت دیکھ کر کہیں گے کہ ہائے افسوس ہمارے سونے کی جگہ سے ہمیں کس نے اٹھایا؟ اس سے قبر کے عذاب کا نہ ہونا ثابت نہیں ہوتا اس لیے کہ جس ہول و شدت کو جس تکلیف اور مصیبت کو یہ اب دیکھیں گے اس کی بہ نسبت تو قبر کے عذاب بیحد خفیف ہی تھے گویا کہ وہ وہاں آرام میں تھے، بعض بزرگوں نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اس سے پہلے ذرا سی دیر کے لیے فی الواقع انہیں نیند آ جائے گی، حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں پہلے نفخہ اور اس دوسرے نفخہ کے درمیان یہ سو جائیں گے، اس لیے اب اٹھ کر یوں کہیں گے، اس کا جواب ایماندار لوگ دیں گے کہ اسی کا وعدہ اللہ نے کیا تھا اور یہی اللہ کے سچے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ جواب فرشتے دیں گے۔ بہرحال دونوں قولوں میں اس طرح تطبیق بھی ہو سکتی ہے کہ مومن بھی کہیں اور فرشتے بھی کہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ»

حضرت عبدالرحمٰن بن زید رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ کل قول کافروں کا ہی ہے لیکن صحیح بات وہ ہے جسے ہم نے پہلے نقل کیا جیسے کہ سورۃ الصافات میں ہے کہ «وَقَالُوا يَا وَيْلَنَا هَـٰذَا يَوْمُ الدِّينِ هَـٰذَا يَوْمُ الْفَصْلِ الَّذِي كُنتُم بِهِ تُكَذِّبُونَ» [ 37-الصافات: 20، 21 ] ‏‏‏‏ یہ کہیں گے ہائے افسوس ہم پر یہ جزا کا دن ہے یہی فیصلہ کا دن ہے جسے ہم جھٹلاتے تھے اور آیت میں ہے «وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ يُقْسِمُ الْمُجْرِمُونَ مَا لَبِثُوا غَيْرَ سَاعَةٍ كَذَٰلِكَ كَانُوا يُؤْفَكُونَ وَقَالَ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ وَالْإِيمَانَ لَقَدْ لَبِثْتُمْ فِي كِتَابِ اللَّـهِ إِلَىٰ يَوْمِ الْبَعْثِ فَهَـٰذَا يَوْمُ الْبَعْثِ وَلَـٰكِنَّكُمْ كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ» [ 30-الروم: 55، 56 ] ‏‏‏‏، جس دن قیامت برپا ہو گی گنہگار قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ وہ صرف ایک ساعت ہی رہے ہیں اسی طرح وہ ہمیشہ حق سے پھرے رہے، اس وقت با ایمان اور علماء فرمائیں گے تم اللہ کے لکھے ہوئے کے مطابق قیامت کے دن تک رہے یہی قیامت کا دن ہے لیکن تم محض بےعلم ہو۔ تم تو اسے ان ہونی مانتے تھے حالانکہ وہ ہم پر بالکل سہل ہے ایک آواز کی دیر ہے کہ ساری مخلوق ہمارے سامنے موجود ہو جائے گی، جیسے اور آیت میں ہے کہ «فَإِنَّمَا هِيَ زَجْرَةٌ وَاحِدَةٌ فَإِذَا هُم بِالسَّاهِرَةِ» [ 79-النازعات: 13، 14 ] ‏‏‏‏ ایک ڈانٹ کے ساتھ ہی سب میدان میں مجتمع موجود ہوں گے۔ اور آیت میں فرمایا «وَمَا أَمْرُ السَّاعَةِ إِلَّا كَلَمْحِ الْبَصَرِ أَوْ هُوَ أَقْرَبُ» [ 16-النحل: 77 ] ‏‏‏‏ امر قیامت تو مثل آنکھ جھپکانے کے بلکہ اس سے بھی زیادہ قریب ہے، اور جیسے فرمایا «يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَتَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا» [ 17- الإسراء: 52 ] ‏‏‏‏ جس دن وہ تمہیں بلائے گا اور تم اس کی تعریف کرتے ہوئے اسے جواب دو گے اور یقین کر لو گے کہ تم بہت ہی کم مدت رہے۔ الغرض حکم کے ساتھ ہی سب حاضر سامنے موجود۔ اس دن کسی کا کوئی عمل مارا نہ جائے گا، ہر ایک کو اس کے کئے ہوئے اعمال کا ہی بدلہ دیا جائے گا۔
52۔ 1 قبر کو خواب گاہ سے تعبیر کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ قبروں میں ان کو عذاب نہیں ہوگا، بلکہ بعد میں جو ہولناک مناظر اور عذاب کی شدت دیکھیں گے، اس کے مقابلے میں انہیں قبر کی زندگی ایک خواب ہی محسوس ہوگی۔
(آیت 52) ➊ { قَالُوْا يٰوَيْلَنَا مَنْۢ بَعَثَنَا مِنْ مَّرْقَدِنَا:} یعنی اس وقت انھیں یہ احساس نہیں ہو گا کہ وہ مر چکے تھے اور اب زندہ کیے گئے ہیں، بلکہ سمجھیں گے کہ ہم سوئے ہوئے تھے اور کسی نے ہمیں جگا دیا ہے۔ گزری ہوئی لمبی مدت انھیں ایک لمحہ معلوم ہو گی۔ مزید دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل (۵۲) اور روم (۵۵)۔ ➋ { هٰذَا مَا وَعَدَ الرَّحْمٰنُ وَ صَدَقَ الْمُرْسَلُوْنَ:} یہاں یہ ذکر نہیں کہ یہ بات کون کہے گا، عین ممکن ہے کہ خود ہی ان کی سمجھ میں آ جائے کہ یہ تو وہی قیامت ہے جو رسول ہمیں بتایا کرتے تھے اور ہم اسے جھٹلاتے تھے، اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مومن یا فرشتے انھیں یہ بات کہیں۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ مستقبل کو حاضر قرار دے کر اب یہ جواب دے رہے ہوں۔ ➌ یہاں لفظ {” الرَّحْمٰنُ “} صرف اس کا وعدہ یاد دلانے کے لیے نہیں، بلکہ یہ بتانے کے لیے ہے کہ اس خوف ناک دن میں اللہ تعالیٰ کی رحمت کے ننانوے حصوں کے وہ جلوے نظر آئیں گے جو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں آ سکتے، جیسا کہ فرمایا: «اَلْمُلْكُ يَوْمَىِٕذٍ الْحَقُّ لِلرَّحْمٰنِ» ‏‏‏‏ [ الفرقان: ۲۶ ] ”اس دن حقیقی بادشاہی رحمان کی ہو گی۔“ اور فرمایا: «‏‏‏‏وَ خَشَعَتِ الْاَصْوَاتُ لِلرَّحْمٰنِ» ‏‏‏‏ [ طٰہٰ: ۱۰۸ ] ”اور سب آوازیں رحمان کے لیے پست ہو جائیں گی۔“
اِنۡ کَانَتۡ اِلَّا صَیۡحَۃً وَّاحِدَۃً فَاِذَا ہُمۡ جَمِیۡعٌ لَّدَیۡنَا مُحۡضَرُوۡنَ ﴿۵۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ایک ہی زور کی آواز ہو گی اور سب کے سب ہمارے سامنے حاضر کر دیے جائیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ نہیں ہے مگر ایک چیﺦ کہ یکایک سارے کے سارے ہمارے سامنے حاضر کر دیئے جائیں گے
احمد رضا خان بریلوی
وہ تو نہ ہوگی مگر ایک چنگھاڑ جبھی وہ سب کے سب ہمارے حضور حاضر ہوجائیں گے
علامہ محمد حسین نجفی
بس وہ ایک مہیب آواز (چنگھاڑ) ہوگی پھر سب کے سب ہمارے حضور حاضر کر دیئے جائیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
نہیں ہوگی مگر ایک ہی چیخ، تو اچانک وہ سب ہمارے پاس حاضر کیے ہوئے ہوں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قیامت کے دوسرے نفخہ پر لوگوں کا حال ٭٭

ان آیتوں میں دوسرے نفخہ کا ذکر ہو رہا ہے۔ جس سے مردے جی اٹھیں گے۔ «یَنسِلُوْنَ» کا مصدر نسلان سے ہے اور اس کے معنی تیز چلنے کے ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے «يَوْمَ يَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ سِرَاعًا كَاَنَّهُمْ اِلٰى نُصُبٍ يُّوْفِضُوْنَ» [ 70- المعارج: 43 ] ‏‏‏‏، جس دن یہ قبروں سے نکل کر اس تیزی سے چلیں گے کہ گویا وہ کسی نشان منزل کی طرف لپکے جا رہے ہیں۔ چونکہ دنیا میں انہیں قبروں سے جی اٹھنے کا ہمیشہ انکار رہا تھا اس لیے آج یہ حالت دیکھ کر کہیں گے کہ ہائے افسوس ہمارے سونے کی جگہ سے ہمیں کس نے اٹھایا؟ اس سے قبر کے عذاب کا نہ ہونا ثابت نہیں ہوتا اس لیے کہ جس ہول و شدت کو جس تکلیف اور مصیبت کو یہ اب دیکھیں گے اس کی بہ نسبت تو قبر کے عذاب بیحد خفیف ہی تھے گویا کہ وہ وہاں آرام میں تھے، بعض بزرگوں نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اس سے پہلے ذرا سی دیر کے لیے فی الواقع انہیں نیند آ جائے گی، حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں پہلے نفخہ اور اس دوسرے نفخہ کے درمیان یہ سو جائیں گے، اس لیے اب اٹھ کر یوں کہیں گے، اس کا جواب ایماندار لوگ دیں گے کہ اسی کا وعدہ اللہ نے کیا تھا اور یہی اللہ کے سچے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ جواب فرشتے دیں گے۔ بہرحال دونوں قولوں میں اس طرح تطبیق بھی ہو سکتی ہے کہ مومن بھی کہیں اور فرشتے بھی کہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ»

حضرت عبدالرحمٰن بن زید رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ کل قول کافروں کا ہی ہے لیکن صحیح بات وہ ہے جسے ہم نے پہلے نقل کیا جیسے کہ سورۃ الصافات میں ہے کہ «وَقَالُوا يَا وَيْلَنَا هَـٰذَا يَوْمُ الدِّينِ هَـٰذَا يَوْمُ الْفَصْلِ الَّذِي كُنتُم بِهِ تُكَذِّبُونَ» [ 37-الصافات: 20، 21 ] ‏‏‏‏ یہ کہیں گے ہائے افسوس ہم پر یہ جزا کا دن ہے یہی فیصلہ کا دن ہے جسے ہم جھٹلاتے تھے اور آیت میں ہے «وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ يُقْسِمُ الْمُجْرِمُونَ مَا لَبِثُوا غَيْرَ سَاعَةٍ كَذَٰلِكَ كَانُوا يُؤْفَكُونَ وَقَالَ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ وَالْإِيمَانَ لَقَدْ لَبِثْتُمْ فِي كِتَابِ اللَّـهِ إِلَىٰ يَوْمِ الْبَعْثِ فَهَـٰذَا يَوْمُ الْبَعْثِ وَلَـٰكِنَّكُمْ كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ» [ 30-الروم: 55، 56 ] ‏‏‏‏، جس دن قیامت برپا ہو گی گنہگار قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ وہ صرف ایک ساعت ہی رہے ہیں اسی طرح وہ ہمیشہ حق سے پھرے رہے، اس وقت با ایمان اور علماء فرمائیں گے تم اللہ کے لکھے ہوئے کے مطابق قیامت کے دن تک رہے یہی قیامت کا دن ہے لیکن تم محض بےعلم ہو۔ تم تو اسے ان ہونی مانتے تھے حالانکہ وہ ہم پر بالکل سہل ہے ایک آواز کی دیر ہے کہ ساری مخلوق ہمارے سامنے موجود ہو جائے گی، جیسے اور آیت میں ہے کہ «فَإِنَّمَا هِيَ زَجْرَةٌ وَاحِدَةٌ فَإِذَا هُم بِالسَّاهِرَةِ» [ 79-النازعات: 13، 14 ] ‏‏‏‏ ایک ڈانٹ کے ساتھ ہی سب میدان میں مجتمع موجود ہوں گے۔ اور آیت میں فرمایا «وَمَا أَمْرُ السَّاعَةِ إِلَّا كَلَمْحِ الْبَصَرِ أَوْ هُوَ أَقْرَبُ» [ 16-النحل: 77 ] ‏‏‏‏ امر قیامت تو مثل آنکھ جھپکانے کے بلکہ اس سے بھی زیادہ قریب ہے، اور جیسے فرمایا «يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَتَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا» [ 17- الإسراء: 52 ] ‏‏‏‏ جس دن وہ تمہیں بلائے گا اور تم اس کی تعریف کرتے ہوئے اسے جواب دو گے اور یقین کر لو گے کہ تم بہت ہی کم مدت رہے۔ الغرض حکم کے ساتھ ہی سب حاضر سامنے موجود۔ اس دن کسی کا کوئی عمل مارا نہ جائے گا، ہر ایک کو اس کے کئے ہوئے اعمال کا ہی بدلہ دیا جائے گا۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 53) {اِنْ كَانَتْ اِلَّا صَيْحَةً وَّاحِدَةً …:} مراد صور میں دوسری دفعہ کی پھونک ہے، جس سے لمحہ بھر میں قیامت برپا ہو جائے گی۔ دیکھیے سورۂ نحل (۷۷) اور نازعات (۱۳، ۱۴)۔
فَالۡیَوۡمَ لَا تُظۡلَمُ نَفۡسٌ شَیۡئًا وَّ لَا تُجۡزَوۡنَ اِلَّا مَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۵۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
آج کسی پر ذرہ برابر ظلم نہ کیا جائے گا اور تمہیں ویسا ہی بدلہ دیا جائے گا جیسے عمل تم کرتے رہے تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
پس آج کسی شخص پر کچھ بھی ﻇلم نہ کیا جائے گا اور تمہیں نہیں بدلہ دیا جائے گا، مگر صرف ان ہی کاموں کا جو تم کیا کرتے تھے
احمد رضا خان بریلوی
تو آج کسی جان پر کچھ ظلم نہ ہوگا اور تمہیں بدلا نہ ملے گا اپنے کیے کا،
علامہ محمد حسین نجفی
پس آج کے دن کسی پر کچھ بھی ظلم نہیں کیا جائے گا اور تمہیں بدلہ نہیں دیا جائے گا مگر انہی اعمال کا جو تم کیا کرتے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
پس آج کسی جان پر کچھ بھی ظلم نہ کیا جائے گا اور نہ تمھیں اس کے سوا کوئی بدلہ دیا جائے گا جو تم کیا کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قیامت کے دوسرے نفخہ پر لوگوں کا حال ٭٭

ان آیتوں میں دوسرے نفخہ کا ذکر ہو رہا ہے۔ جس سے مردے جی اٹھیں گے۔ «یَنسِلُوْنَ» کا مصدر نسلان سے ہے اور اس کے معنی تیز چلنے کے ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے «يَوْمَ يَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ سِرَاعًا كَاَنَّهُمْ اِلٰى نُصُبٍ يُّوْفِضُوْنَ» [ 70- المعارج: 43 ] ‏‏‏‏، جس دن یہ قبروں سے نکل کر اس تیزی سے چلیں گے کہ گویا وہ کسی نشان منزل کی طرف لپکے جا رہے ہیں۔ چونکہ دنیا میں انہیں قبروں سے جی اٹھنے کا ہمیشہ انکار رہا تھا اس لیے آج یہ حالت دیکھ کر کہیں گے کہ ہائے افسوس ہمارے سونے کی جگہ سے ہمیں کس نے اٹھایا؟ اس سے قبر کے عذاب کا نہ ہونا ثابت نہیں ہوتا اس لیے کہ جس ہول و شدت کو جس تکلیف اور مصیبت کو یہ اب دیکھیں گے اس کی بہ نسبت تو قبر کے عذاب بیحد خفیف ہی تھے گویا کہ وہ وہاں آرام میں تھے، بعض بزرگوں نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اس سے پہلے ذرا سی دیر کے لیے فی الواقع انہیں نیند آ جائے گی، حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں پہلے نفخہ اور اس دوسرے نفخہ کے درمیان یہ سو جائیں گے، اس لیے اب اٹھ کر یوں کہیں گے، اس کا جواب ایماندار لوگ دیں گے کہ اسی کا وعدہ اللہ نے کیا تھا اور یہی اللہ کے سچے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ جواب فرشتے دیں گے۔ بہرحال دونوں قولوں میں اس طرح تطبیق بھی ہو سکتی ہے کہ مومن بھی کہیں اور فرشتے بھی کہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ»

حضرت عبدالرحمٰن بن زید رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ کل قول کافروں کا ہی ہے لیکن صحیح بات وہ ہے جسے ہم نے پہلے نقل کیا جیسے کہ سورۃ الصافات میں ہے کہ «وَقَالُوا يَا وَيْلَنَا هَـٰذَا يَوْمُ الدِّينِ هَـٰذَا يَوْمُ الْفَصْلِ الَّذِي كُنتُم بِهِ تُكَذِّبُونَ» [ 37-الصافات: 20، 21 ] ‏‏‏‏ یہ کہیں گے ہائے افسوس ہم پر یہ جزا کا دن ہے یہی فیصلہ کا دن ہے جسے ہم جھٹلاتے تھے اور آیت میں ہے «وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ يُقْسِمُ الْمُجْرِمُونَ مَا لَبِثُوا غَيْرَ سَاعَةٍ كَذَٰلِكَ كَانُوا يُؤْفَكُونَ وَقَالَ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ وَالْإِيمَانَ لَقَدْ لَبِثْتُمْ فِي كِتَابِ اللَّـهِ إِلَىٰ يَوْمِ الْبَعْثِ فَهَـٰذَا يَوْمُ الْبَعْثِ وَلَـٰكِنَّكُمْ كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ» [ 30-الروم: 55، 56 ] ‏‏‏‏، جس دن قیامت برپا ہو گی گنہگار قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ وہ صرف ایک ساعت ہی رہے ہیں اسی طرح وہ ہمیشہ حق سے پھرے رہے، اس وقت با ایمان اور علماء فرمائیں گے تم اللہ کے لکھے ہوئے کے مطابق قیامت کے دن تک رہے یہی قیامت کا دن ہے لیکن تم محض بےعلم ہو۔ تم تو اسے ان ہونی مانتے تھے حالانکہ وہ ہم پر بالکل سہل ہے ایک آواز کی دیر ہے کہ ساری مخلوق ہمارے سامنے موجود ہو جائے گی، جیسے اور آیت میں ہے کہ «فَإِنَّمَا هِيَ زَجْرَةٌ وَاحِدَةٌ فَإِذَا هُم بِالسَّاهِرَةِ» [ 79-النازعات: 13، 14 ] ‏‏‏‏ ایک ڈانٹ کے ساتھ ہی سب میدان میں مجتمع موجود ہوں گے۔ اور آیت میں فرمایا «وَمَا أَمْرُ السَّاعَةِ إِلَّا كَلَمْحِ الْبَصَرِ أَوْ هُوَ أَقْرَبُ» [ 16-النحل: 77 ] ‏‏‏‏ امر قیامت تو مثل آنکھ جھپکانے کے بلکہ اس سے بھی زیادہ قریب ہے، اور جیسے فرمایا «يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَتَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا» [ 17- الإسراء: 52 ] ‏‏‏‏ جس دن وہ تمہیں بلائے گا اور تم اس کی تعریف کرتے ہوئے اسے جواب دو گے اور یقین کر لو گے کہ تم بہت ہی کم مدت رہے۔ الغرض حکم کے ساتھ ہی سب حاضر سامنے موجود۔ اس دن کسی کا کوئی عمل مارا نہ جائے گا، ہر ایک کو اس کے کئے ہوئے اعمال کا ہی بدلہ دیا جائے گا۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 54) {فَالْيَوْمَ لَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْـًٔا …:} یعنی اس وقت اعلان ہو گا کہ آج کسی جان پر کچھ بھی ظلم نہیں کیا جائے گا، نہ یہ کہ ان کی نیکیوں میں کوئی کمی کی جائے اور نہ یہ کہ وہ گناہ اس کے ذمے ڈال دیے جائیں جو اس نے نہیں کیے، بلکہ صرف انھی اعمال کی جزا ملے گی جو وہ کرتے رہے تھے۔
اِنَّ اَصۡحٰبَ الۡجَنَّۃِ الۡیَوۡمَ فِیۡ شُغُلٍ فٰکِہُوۡنَ ﴿ۚ۵۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
آج جنتی لوگ مزے کرنے میں مشغول ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
جنتی لوگ آج کے دن اپنے (دلچسﭗ) مشغلوں میں ہشاش بشاش ہیں
احمد رضا خان بریلوی
بیشک جنت والے آج دل کے بہلاووں میں چین کرتے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
بے شک آج بہشتی لوگ اپنے مشغلہ میں خوش ہوں گے۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک جنت کے رہنے والے آج ایک شغل میں خوش ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جنت کے مناظر ٭٭

جنتی لوگ میدان قیامت سے فارغ ہو کر جنتوں میں بہ صدا اکرام و بہ ہزار تعظیم پہنچائے جائیں گے اور وہاں کی گوناں گوں نعمتوں اور راحتوں میں اس طرح مشغول ہوں گے کہ کسی دوسری جانب نہ التفات ہو گا نہ کسی اور طرف کا خیال، یہ جہنم سے جہنم والوں سے بے فکر ہوں گے۔ اپنی لذتوں اور مزے میں منہمک ہوں گے۔ اس قدر مسرور ہوں گے کہ ہر ایک چیز سے بیخبر ہو جائیں گے نہایت ہشاش بشاش ہوں گے، کنواری حوریں انہیں ملی ہوئی ہوں گی، جن سے وہ لطف اندوز ہو رہے ہوں گے، طرح طرح کی راگ راگنیاں اور خوش کن آوازیں دلفریبی سے ان کے دلوں کو لبھا رہی ہوں گیں۔ ان کے ساتھ ہی اس لطف و سرور میں ان کی بیویاں اور ان کی حوریں بھی شامل ہوں گی۔ جنتی میوے دار درختوں کے ٹھنڈے اور گھنے سایوں میں بہ آرام تختوں پر تکیوں سے لگے بے غمی اور بیفکری کے ساتھ اللہ کی مہمانداری سے مزے اٹھا رہے ہوں گے۔ ہر قسم کے میوے بکثرت ان کے پاس موجود ہوں گے اور بھی جس چیز کو جی چاہے جو خواہش ہو پوری ہو جائے گی۔ سنن ابن ماجہ کی کتاب الزہد میں اور ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم میں سے کوئی اس جنت میں جانے کا خواہشمند اور اس کے لیے تیاریاں کرنے والا اور مستعدی ظاہر کرنے والا ہے؟ جس میں کوئی خوف و خطر نہیں، رب کعبہ کی قسم وہ سرا سر نور ہی نور ہے اس کی تازگیاں بے حد ہیں۔ اس کا سبزہ لہلہا رہا ہے اس کے بالاخانے مضبوط بلند اور پختہ ہیں اس کی نہریں بھری ہوئی اور بہ رہی ہیں۔ اس کے پھل ذائقے دار، پکے ہوئے اور بکثرت ہیں۔ اس میں خوبصورت نوجوان حوریں ہیں اور ان کے لباس ریشمی اور بیش قیمت ہیں، اس کی نعمتیں ابدی اور لازوال ہیں، وہ سلامتی کا گھر ہے، وہ سبز اور تازے پھلوں کا باغ ہے، اس کی نعمتیں بہ کثرت اور عمدہ ہیں اور اس کے محلات بلند و بالا اور مزین ہیں۔ یہ سن کر جتنے صحابہ رضی اللہ عنہم تھے سب نے کہا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم ہم اس کے لیے تیاری کرنے اور اس کے حاصل کرنے کی کوشش کرنے والے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «ان شاء اللہ» کہو چنانچہ انہوں نے کہا «ان شاء اللہ» ۔ [سنن ابن ماجہ:4332،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ اللہ کی طرف سے ان پر سلام ہی سلام ہے۔ خود اللہ کا اہل جنت کے لیے سلام ہے، جیسے فرمایا «تَحِيَّتُهُمْ يَوْمَ يَلْقَوْنَهٗ سَلٰمٌ ڻ وَاَعَدَّ لَهُمْ اَجْرًا كَرِيْمًا» [ 33- الأحزاب: 44 ] ‏‏‏‏ [ ترجمہ ] ‏‏‏‏ ان کا تحفہ جس روز وہ اللہ سے ملیں گے سلام ہو گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جنتی اپنی نعمتوں میں مشغول ہوں گے کہ اوپر کی جانب سے ایک نور چمکے گا یہ اپنا سر اٹھائیں گے تو اللہ تعالیٰ کے دیدار سے مشرف ہوں گے اور رب فرمائے گا «السلام علیکم یا اھل الجنۃ» یہی معنی ہیں اس آیت «سَلَامٌ قَوْلًا مِّن رَّبٍّ رَّحِيمٍ» [ 36-یس: 58 ] ‏‏‏‏، کے جنتی صاف طور سے اللہ کو دیکھیں گے اور اللہ انہیں دیکھے گا کسی نعمت کی طرف اس وقت وہ آنکھ بھی نہ اٹھائیں گے یہاں تک کہ حجاب حائل ہو جائے گا اور نور و برکت ان کے پاس باقی رہ جائے گی، [سنن ابن ماجہ:184،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ حدیث ابن ابی حاتم میں ہے لیکن سند کمزور ہے ابن ماجہ میں بھی کتاب السنہ میں یہ روایت موجود ہے۔ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ جب دوزخیوں اور جنتیوں سے فارغ ہو گا تو ابر کے سایہ میں متوجہ ہو گا فرشتے اس کے ساتھ ہوں گے جنتیوں کو سلام کرے گا اور جنتی جواب دیں گے۔

قرظی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ اللہ کے فرمان «سَلَامٌ قَوْلًا مِّن رَّبٍّ رَّحِيمٍ» [ 36-یس: 58 ] ‏‏‏‏ میں موجود ہے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ فرمائے گا مجھ سے مانگو جو چاہو، یہ کہیں گے پروردگار سب کچھ تو موجود ہے کیا مانگیں؟ اللہ فرمائے گا ہاں ٹھیک ہے پھر بھی جو جی میں آئے طلب کرو، وہ کہیں گے بس تیری رضا مندی مطلوب ہے، اللہ تعالیٰ فرمائے گا وہ تو میں تمہیں دے چکا اور اسی کی بنا پر تم میرے اس مہمان خانے میں آئے اور میں نے تمہیں اس کا مالک بنا دیا، جنتی کہیں گے پھر اللہ ہم تجھ سے کیا مانگیں؟ تو نے تو ہمیں اتنا دے رکھا ہے کہ اگر تو حکم دے تو ہم میں سے ایک شخص کل انسانوں اور جنوں کی دعوت کر سکتا ہے اور انہیں پیٹ بھر کر کھلا پلا اور پہنا اڑھا سکتا ہے۔ بلکہ ان کی سب ضروریات پوری کر سکتا ہے اور پھر بھی اس کی ملکیت میں کوئی کمی نہیں آ سکتی۔ اللہ فرمائے گا ابھی میرے پاس اور زیادتی ہے چنانچہ فرشتے ان کے پاس اللہ کی طرف سے نئے نئے تحفے لائیں گے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:29206-29207] ‏‏‏‏ امام ابن جریر رحمہ اللہ اس روایت کو بہت سی سندوں سے لائے ہیں لیکن یہ روایت غریب ہے، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
55۔ 1 فَاکِھُونَ کے معنی ہیں فَرِحُون خوش مسرت کے ساتھ۔
(آیت 55){ اِنَّ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ الْيَوْمَ …:} یہ ذکر کرنے کے بعد کہ ہر ایک کو اس کے عمل ہی کی جزا ملے گی، پہلے اہلِ جنت کی جزا ذکر فرمائی کہ آج کے دن وہ ایک عظیم مشغولیت میں خوش ہوں گے۔ {” شُغُلٍ “} کا معنی ایسا کام ہے جو انسان کو دوسرے کاموں سے روک دے۔ اس میں تنوین تعظیم کی ہے، مراد یہ ہے کہ وہ اپنی بیویوں سے اور جنت کی دوسری نعمتوں سے لذت اٹھانے میں ایسے مگن ہوں گے کہ انھیں کسی اور چیز کا خیال تک نہیں آئے گا، کیونکہ جنت کی وہ نعمتیں ایسی ہوں گی جو انسان کے وہم و گمان سے بھی بالا ہیں۔ دیکھیے سورۂ سجدہ (۱۷) {” الْيَوْمَ “} (آج) کے لفظ سے معلوم ہوا کہ اہلِ جنت جلد ہی جنت میں چلے جائیں گے۔
ہُمۡ وَ اَزۡوَاجُہُمۡ فِیۡ ظِلٰلٍ عَلَی الۡاَرَآئِکِ مُتَّکِـُٔوۡنَ ﴿۵۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
وہ اور ان کی بیویاں گھنے سایوں میں ہیں مسندوں پر تکیے لگائے ہوئے
مولانا محمد جوناگڑھی
وه اور ان کی بیویاں سایوں میں مسہریوں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے
احمد رضا خان بریلوی
وہ اور ان کی بیبیاں سایوں میں ہیں، تختوں پر تکیہ لگائے،
علامہ محمد حسین نجفی
وہ اور ان کی بیویاں (گھنے) سایوں میں مسندوں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے۔
عبدالسلام بن محمد
وہ اور ان کی بیویاں گھنے سایوں میں تختوں پر تکیہ لگائے ہوئے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جنت کے مناظر ٭٭

جنتی لوگ میدان قیامت سے فارغ ہو کر جنتوں میں بہ صدا اکرام و بہ ہزار تعظیم پہنچائے جائیں گے اور وہاں کی گوناں گوں نعمتوں اور راحتوں میں اس طرح مشغول ہوں گے کہ کسی دوسری جانب نہ التفات ہو گا نہ کسی اور طرف کا خیال، یہ جہنم سے جہنم والوں سے بے فکر ہوں گے۔ اپنی لذتوں اور مزے میں منہمک ہوں گے۔ اس قدر مسرور ہوں گے کہ ہر ایک چیز سے بیخبر ہو جائیں گے نہایت ہشاش بشاش ہوں گے، کنواری حوریں انہیں ملی ہوئی ہوں گی، جن سے وہ لطف اندوز ہو رہے ہوں گے، طرح طرح کی راگ راگنیاں اور خوش کن آوازیں دلفریبی سے ان کے دلوں کو لبھا رہی ہوں گیں۔ ان کے ساتھ ہی اس لطف و سرور میں ان کی بیویاں اور ان کی حوریں بھی شامل ہوں گی۔ جنتی میوے دار درختوں کے ٹھنڈے اور گھنے سایوں میں بہ آرام تختوں پر تکیوں سے لگے بے غمی اور بیفکری کے ساتھ اللہ کی مہمانداری سے مزے اٹھا رہے ہوں گے۔ ہر قسم کے میوے بکثرت ان کے پاس موجود ہوں گے اور بھی جس چیز کو جی چاہے جو خواہش ہو پوری ہو جائے گی۔ سنن ابن ماجہ کی کتاب الزہد میں اور ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم میں سے کوئی اس جنت میں جانے کا خواہشمند اور اس کے لیے تیاریاں کرنے والا اور مستعدی ظاہر کرنے والا ہے؟ جس میں کوئی خوف و خطر نہیں، رب کعبہ کی قسم وہ سرا سر نور ہی نور ہے اس کی تازگیاں بے حد ہیں۔ اس کا سبزہ لہلہا رہا ہے اس کے بالاخانے مضبوط بلند اور پختہ ہیں اس کی نہریں بھری ہوئی اور بہ رہی ہیں۔ اس کے پھل ذائقے دار، پکے ہوئے اور بکثرت ہیں۔ اس میں خوبصورت نوجوان حوریں ہیں اور ان کے لباس ریشمی اور بیش قیمت ہیں، اس کی نعمتیں ابدی اور لازوال ہیں، وہ سلامتی کا گھر ہے، وہ سبز اور تازے پھلوں کا باغ ہے، اس کی نعمتیں بہ کثرت اور عمدہ ہیں اور اس کے محلات بلند و بالا اور مزین ہیں۔ یہ سن کر جتنے صحابہ رضی اللہ عنہم تھے سب نے کہا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم ہم اس کے لیے تیاری کرنے اور اس کے حاصل کرنے کی کوشش کرنے والے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «ان شاء اللہ» کہو چنانچہ انہوں نے کہا «ان شاء اللہ» ۔ [سنن ابن ماجہ:4332،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ اللہ کی طرف سے ان پر سلام ہی سلام ہے۔ خود اللہ کا اہل جنت کے لیے سلام ہے، جیسے فرمایا «تَحِيَّتُهُمْ يَوْمَ يَلْقَوْنَهٗ سَلٰمٌ ڻ وَاَعَدَّ لَهُمْ اَجْرًا كَرِيْمًا» [ 33- الأحزاب: 44 ] ‏‏‏‏ [ ترجمہ ] ‏‏‏‏ ان کا تحفہ جس روز وہ اللہ سے ملیں گے سلام ہو گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جنتی اپنی نعمتوں میں مشغول ہوں گے کہ اوپر کی جانب سے ایک نور چمکے گا یہ اپنا سر اٹھائیں گے تو اللہ تعالیٰ کے دیدار سے مشرف ہوں گے اور رب فرمائے گا «السلام علیکم یا اھل الجنۃ» یہی معنی ہیں اس آیت «سَلَامٌ قَوْلًا مِّن رَّبٍّ رَّحِيمٍ» [ 36-یس: 58 ] ‏‏‏‏، کے جنتی صاف طور سے اللہ کو دیکھیں گے اور اللہ انہیں دیکھے گا کسی نعمت کی طرف اس وقت وہ آنکھ بھی نہ اٹھائیں گے یہاں تک کہ حجاب حائل ہو جائے گا اور نور و برکت ان کے پاس باقی رہ جائے گی، [سنن ابن ماجہ:184،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ حدیث ابن ابی حاتم میں ہے لیکن سند کمزور ہے ابن ماجہ میں بھی کتاب السنہ میں یہ روایت موجود ہے۔ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ جب دوزخیوں اور جنتیوں سے فارغ ہو گا تو ابر کے سایہ میں متوجہ ہو گا فرشتے اس کے ساتھ ہوں گے جنتیوں کو سلام کرے گا اور جنتی جواب دیں گے۔

قرظی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ اللہ کے فرمان «سَلَامٌ قَوْلًا مِّن رَّبٍّ رَّحِيمٍ» [ 36-یس: 58 ] ‏‏‏‏ میں موجود ہے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ فرمائے گا مجھ سے مانگو جو چاہو، یہ کہیں گے پروردگار سب کچھ تو موجود ہے کیا مانگیں؟ اللہ فرمائے گا ہاں ٹھیک ہے پھر بھی جو جی میں آئے طلب کرو، وہ کہیں گے بس تیری رضا مندی مطلوب ہے، اللہ تعالیٰ فرمائے گا وہ تو میں تمہیں دے چکا اور اسی کی بنا پر تم میرے اس مہمان خانے میں آئے اور میں نے تمہیں اس کا مالک بنا دیا، جنتی کہیں گے پھر اللہ ہم تجھ سے کیا مانگیں؟ تو نے تو ہمیں اتنا دے رکھا ہے کہ اگر تو حکم دے تو ہم میں سے ایک شخص کل انسانوں اور جنوں کی دعوت کر سکتا ہے اور انہیں پیٹ بھر کر کھلا پلا اور پہنا اڑھا سکتا ہے۔ بلکہ ان کی سب ضروریات پوری کر سکتا ہے اور پھر بھی اس کی ملکیت میں کوئی کمی نہیں آ سکتی۔ اللہ فرمائے گا ابھی میرے پاس اور زیادتی ہے چنانچہ فرشتے ان کے پاس اللہ کی طرف سے نئے نئے تحفے لائیں گے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:29206-29207] ‏‏‏‏ امام ابن جریر رحمہ اللہ اس روایت کو بہت سی سندوں سے لائے ہیں لیکن یہ روایت غریب ہے، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 56) {هُمْ وَ اَزْوَاجُهُمْ فِيْ ظِلٰلٍ …:} جنت کے سایوں کے لیے دیکھیے سورۂ نساء کی آیت (۵۷)۔
لَہُمۡ فِیۡہَا فَاکِہَۃٌ وَّ لَہُمۡ مَّا یَدَّعُوۡنَ ﴿ۚۖ۵۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ہر قسم کی لذیذ چیزیں کھانے پینے کو ان کے لیے وہاں موجود ہیں، جو کچھ وہ طلب کریں اُن کے لیے حاضر ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
ان کے لئے جنت میں ہر قسم کے میوے ہوں گے اور بھی جو کچھ وه طلب کریں
احمد رضا خان بریلوی
ان کے لیے اس میں میوہ ہے اور ان کے لیے ہے اس میں جو مانگیں،
علامہ محمد حسین نجفی
وہاں ان کے (کھانے پینے) کیلئے (ہر قسم کے) پھل ہوں گے اور وہ سب کچھ ہوگا جو وہ طلب کریں گے۔
عبدالسلام بن محمد
ان کے لیے اس میں بہت پھل ہے اور ان کے لیے اس میں وہ کچھ ہے جو وہ طلب کریں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جنت کے مناظر ٭٭

جنتی لوگ میدان قیامت سے فارغ ہو کر جنتوں میں بہ صدا اکرام و بہ ہزار تعظیم پہنچائے جائیں گے اور وہاں کی گوناں گوں نعمتوں اور راحتوں میں اس طرح مشغول ہوں گے کہ کسی دوسری جانب نہ التفات ہو گا نہ کسی اور طرف کا خیال، یہ جہنم سے جہنم والوں سے بے فکر ہوں گے۔ اپنی لذتوں اور مزے میں منہمک ہوں گے۔ اس قدر مسرور ہوں گے کہ ہر ایک چیز سے بیخبر ہو جائیں گے نہایت ہشاش بشاش ہوں گے، کنواری حوریں انہیں ملی ہوئی ہوں گی، جن سے وہ لطف اندوز ہو رہے ہوں گے، طرح طرح کی راگ راگنیاں اور خوش کن آوازیں دلفریبی سے ان کے دلوں کو لبھا رہی ہوں گیں۔ ان کے ساتھ ہی اس لطف و سرور میں ان کی بیویاں اور ان کی حوریں بھی شامل ہوں گی۔ جنتی میوے دار درختوں کے ٹھنڈے اور گھنے سایوں میں بہ آرام تختوں پر تکیوں سے لگے بے غمی اور بیفکری کے ساتھ اللہ کی مہمانداری سے مزے اٹھا رہے ہوں گے۔ ہر قسم کے میوے بکثرت ان کے پاس موجود ہوں گے اور بھی جس چیز کو جی چاہے جو خواہش ہو پوری ہو جائے گی۔ سنن ابن ماجہ کی کتاب الزہد میں اور ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم میں سے کوئی اس جنت میں جانے کا خواہشمند اور اس کے لیے تیاریاں کرنے والا اور مستعدی ظاہر کرنے والا ہے؟ جس میں کوئی خوف و خطر نہیں، رب کعبہ کی قسم وہ سرا سر نور ہی نور ہے اس کی تازگیاں بے حد ہیں۔ اس کا سبزہ لہلہا رہا ہے اس کے بالاخانے مضبوط بلند اور پختہ ہیں اس کی نہریں بھری ہوئی اور بہ رہی ہیں۔ اس کے پھل ذائقے دار، پکے ہوئے اور بکثرت ہیں۔ اس میں خوبصورت نوجوان حوریں ہیں اور ان کے لباس ریشمی اور بیش قیمت ہیں، اس کی نعمتیں ابدی اور لازوال ہیں، وہ سلامتی کا گھر ہے، وہ سبز اور تازے پھلوں کا باغ ہے، اس کی نعمتیں بہ کثرت اور عمدہ ہیں اور اس کے محلات بلند و بالا اور مزین ہیں۔ یہ سن کر جتنے صحابہ رضی اللہ عنہم تھے سب نے کہا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم ہم اس کے لیے تیاری کرنے اور اس کے حاصل کرنے کی کوشش کرنے والے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «ان شاء اللہ» کہو چنانچہ انہوں نے کہا «ان شاء اللہ» ۔ [سنن ابن ماجہ:4332،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ اللہ کی طرف سے ان پر سلام ہی سلام ہے۔ خود اللہ کا اہل جنت کے لیے سلام ہے، جیسے فرمایا «تَحِيَّتُهُمْ يَوْمَ يَلْقَوْنَهٗ سَلٰمٌ ڻ وَاَعَدَّ لَهُمْ اَجْرًا كَرِيْمًا» [ 33- الأحزاب: 44 ] ‏‏‏‏ [ ترجمہ ] ‏‏‏‏ ان کا تحفہ جس روز وہ اللہ سے ملیں گے سلام ہو گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جنتی اپنی نعمتوں میں مشغول ہوں گے کہ اوپر کی جانب سے ایک نور چمکے گا یہ اپنا سر اٹھائیں گے تو اللہ تعالیٰ کے دیدار سے مشرف ہوں گے اور رب فرمائے گا «السلام علیکم یا اھل الجنۃ» یہی معنی ہیں اس آیت «سَلَامٌ قَوْلًا مِّن رَّبٍّ رَّحِيمٍ» [ 36-یس: 58 ] ‏‏‏‏، کے جنتی صاف طور سے اللہ کو دیکھیں گے اور اللہ انہیں دیکھے گا کسی نعمت کی طرف اس وقت وہ آنکھ بھی نہ اٹھائیں گے یہاں تک کہ حجاب حائل ہو جائے گا اور نور و برکت ان کے پاس باقی رہ جائے گی، [سنن ابن ماجہ:184،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ حدیث ابن ابی حاتم میں ہے لیکن سند کمزور ہے ابن ماجہ میں بھی کتاب السنہ میں یہ روایت موجود ہے۔ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ جب دوزخیوں اور جنتیوں سے فارغ ہو گا تو ابر کے سایہ میں متوجہ ہو گا فرشتے اس کے ساتھ ہوں گے جنتیوں کو سلام کرے گا اور جنتی جواب دیں گے۔

قرظی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ اللہ کے فرمان «سَلَامٌ قَوْلًا مِّن رَّبٍّ رَّحِيمٍ» [ 36-یس: 58 ] ‏‏‏‏ میں موجود ہے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ فرمائے گا مجھ سے مانگو جو چاہو، یہ کہیں گے پروردگار سب کچھ تو موجود ہے کیا مانگیں؟ اللہ فرمائے گا ہاں ٹھیک ہے پھر بھی جو جی میں آئے طلب کرو، وہ کہیں گے بس تیری رضا مندی مطلوب ہے، اللہ تعالیٰ فرمائے گا وہ تو میں تمہیں دے چکا اور اسی کی بنا پر تم میرے اس مہمان خانے میں آئے اور میں نے تمہیں اس کا مالک بنا دیا، جنتی کہیں گے پھر اللہ ہم تجھ سے کیا مانگیں؟ تو نے تو ہمیں اتنا دے رکھا ہے کہ اگر تو حکم دے تو ہم میں سے ایک شخص کل انسانوں اور جنوں کی دعوت کر سکتا ہے اور انہیں پیٹ بھر کر کھلا پلا اور پہنا اڑھا سکتا ہے۔ بلکہ ان کی سب ضروریات پوری کر سکتا ہے اور پھر بھی اس کی ملکیت میں کوئی کمی نہیں آ سکتی۔ اللہ فرمائے گا ابھی میرے پاس اور زیادتی ہے چنانچہ فرشتے ان کے پاس اللہ کی طرف سے نئے نئے تحفے لائیں گے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:29206-29207] ‏‏‏‏ امام ابن جریر رحمہ اللہ اس روایت کو بہت سی سندوں سے لائے ہیں لیکن یہ روایت غریب ہے، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 57) {لَهُمْ فِيْهَا فَاكِهَةٌ وَّ لَهُمْ مَّا يَدَّعُوْنَ:فَاكِهَةٌ “} میں تنوین تکثیر کے لیے ہے، یعنی ان کے لیے جنت میں بہت سے پھل ہوں گے اور انھیں ہر وہ چیز ملے گی جس کی وہ تمنا کریں گے اور مانگیں گے۔ یہ تو جسمانی لذتوں کا حال ہو گا، روحانی لذتوں میں سب سے اونچی لذت کا ذکر اگلی آیت میں فرمایا۔
سَلٰمٌ ۟ قَوۡلًا مِّنۡ رَّبٍّ رَّحِیۡمٍ ﴿۵۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
رب رحیم کی طرف سے ان کو سلام کہا گیا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
مہربان پروردگار کی طرف سے انہیں سلام کہا جائے گا
احمد رضا خان بریلوی
ان پر سلام ہوگا، مہربان رب کا فرمایا ہوا
علامہ محمد حسین نجفی
(انہیں) مہربان (پروردگار) کی طرف سے سلام کہا جائے گا۔
عبدالسلام بن محمد
سلام ہو۔ اس رب کی طرف سے کہا جائے گا جو بے حد مہربان ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جنت کے مناظر ٭٭

جنتی لوگ میدان قیامت سے فارغ ہو کر جنتوں میں بہ صدا اکرام و بہ ہزار تعظیم پہنچائے جائیں گے اور وہاں کی گوناں گوں نعمتوں اور راحتوں میں اس طرح مشغول ہوں گے کہ کسی دوسری جانب نہ التفات ہو گا نہ کسی اور طرف کا خیال، یہ جہنم سے جہنم والوں سے بے فکر ہوں گے۔ اپنی لذتوں اور مزے میں منہمک ہوں گے۔ اس قدر مسرور ہوں گے کہ ہر ایک چیز سے بیخبر ہو جائیں گے نہایت ہشاش بشاش ہوں گے، کنواری حوریں انہیں ملی ہوئی ہوں گی، جن سے وہ لطف اندوز ہو رہے ہوں گے، طرح طرح کی راگ راگنیاں اور خوش کن آوازیں دلفریبی سے ان کے دلوں کو لبھا رہی ہوں گیں۔ ان کے ساتھ ہی اس لطف و سرور میں ان کی بیویاں اور ان کی حوریں بھی شامل ہوں گی۔ جنتی میوے دار درختوں کے ٹھنڈے اور گھنے سایوں میں بہ آرام تختوں پر تکیوں سے لگے بے غمی اور بیفکری کے ساتھ اللہ کی مہمانداری سے مزے اٹھا رہے ہوں گے۔ ہر قسم کے میوے بکثرت ان کے پاس موجود ہوں گے اور بھی جس چیز کو جی چاہے جو خواہش ہو پوری ہو جائے گی۔ سنن ابن ماجہ کی کتاب الزہد میں اور ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم میں سے کوئی اس جنت میں جانے کا خواہشمند اور اس کے لیے تیاریاں کرنے والا اور مستعدی ظاہر کرنے والا ہے؟ جس میں کوئی خوف و خطر نہیں، رب کعبہ کی قسم وہ سرا سر نور ہی نور ہے اس کی تازگیاں بے حد ہیں۔ اس کا سبزہ لہلہا رہا ہے اس کے بالاخانے مضبوط بلند اور پختہ ہیں اس کی نہریں بھری ہوئی اور بہ رہی ہیں۔ اس کے پھل ذائقے دار، پکے ہوئے اور بکثرت ہیں۔ اس میں خوبصورت نوجوان حوریں ہیں اور ان کے لباس ریشمی اور بیش قیمت ہیں، اس کی نعمتیں ابدی اور لازوال ہیں، وہ سلامتی کا گھر ہے، وہ سبز اور تازے پھلوں کا باغ ہے، اس کی نعمتیں بہ کثرت اور عمدہ ہیں اور اس کے محلات بلند و بالا اور مزین ہیں۔ یہ سن کر جتنے صحابہ رضی اللہ عنہم تھے سب نے کہا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم ہم اس کے لیے تیاری کرنے اور اس کے حاصل کرنے کی کوشش کرنے والے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «ان شاء اللہ» کہو چنانچہ انہوں نے کہا «ان شاء اللہ» ۔ [سنن ابن ماجہ:4332،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ اللہ کی طرف سے ان پر سلام ہی سلام ہے۔ خود اللہ کا اہل جنت کے لیے سلام ہے، جیسے فرمایا «تَحِيَّتُهُمْ يَوْمَ يَلْقَوْنَهٗ سَلٰمٌ ڻ وَاَعَدَّ لَهُمْ اَجْرًا كَرِيْمًا» [ 33- الأحزاب: 44 ] ‏‏‏‏ [ ترجمہ ] ‏‏‏‏ ان کا تحفہ جس روز وہ اللہ سے ملیں گے سلام ہو گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جنتی اپنی نعمتوں میں مشغول ہوں گے کہ اوپر کی جانب سے ایک نور چمکے گا یہ اپنا سر اٹھائیں گے تو اللہ تعالیٰ کے دیدار سے مشرف ہوں گے اور رب فرمائے گا «السلام علیکم یا اھل الجنۃ» یہی معنی ہیں اس آیت «سَلَامٌ قَوْلًا مِّن رَّبٍّ رَّحِيمٍ» [ 36-یس: 58 ] ‏‏‏‏، کے جنتی صاف طور سے اللہ کو دیکھیں گے اور اللہ انہیں دیکھے گا کسی نعمت کی طرف اس وقت وہ آنکھ بھی نہ اٹھائیں گے یہاں تک کہ حجاب حائل ہو جائے گا اور نور و برکت ان کے پاس باقی رہ جائے گی، [سنن ابن ماجہ:184،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ حدیث ابن ابی حاتم میں ہے لیکن سند کمزور ہے ابن ماجہ میں بھی کتاب السنہ میں یہ روایت موجود ہے۔ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ جب دوزخیوں اور جنتیوں سے فارغ ہو گا تو ابر کے سایہ میں متوجہ ہو گا فرشتے اس کے ساتھ ہوں گے جنتیوں کو سلام کرے گا اور جنتی جواب دیں گے۔

قرظی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ اللہ کے فرمان «سَلَامٌ قَوْلًا مِّن رَّبٍّ رَّحِيمٍ» [ 36-یس: 58 ] ‏‏‏‏ میں موجود ہے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ فرمائے گا مجھ سے مانگو جو چاہو، یہ کہیں گے پروردگار سب کچھ تو موجود ہے کیا مانگیں؟ اللہ فرمائے گا ہاں ٹھیک ہے پھر بھی جو جی میں آئے طلب کرو، وہ کہیں گے بس تیری رضا مندی مطلوب ہے، اللہ تعالیٰ فرمائے گا وہ تو میں تمہیں دے چکا اور اسی کی بنا پر تم میرے اس مہمان خانے میں آئے اور میں نے تمہیں اس کا مالک بنا دیا، جنتی کہیں گے پھر اللہ ہم تجھ سے کیا مانگیں؟ تو نے تو ہمیں اتنا دے رکھا ہے کہ اگر تو حکم دے تو ہم میں سے ایک شخص کل انسانوں اور جنوں کی دعوت کر سکتا ہے اور انہیں پیٹ بھر کر کھلا پلا اور پہنا اڑھا سکتا ہے۔ بلکہ ان کی سب ضروریات پوری کر سکتا ہے اور پھر بھی اس کی ملکیت میں کوئی کمی نہیں آ سکتی۔ اللہ فرمائے گا ابھی میرے پاس اور زیادتی ہے چنانچہ فرشتے ان کے پاس اللہ کی طرف سے نئے نئے تحفے لائیں گے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:29206-29207] ‏‏‏‏ امام ابن جریر رحمہ اللہ اس روایت کو بہت سی سندوں سے لائے ہیں لیکن یہ روایت غریب ہے، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
(1) اللہ کا سلام، فرشتے اہل جنت کو پہنچائیں گے۔ بعض کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ خود سلام سے نوازے گا۔
(آیت 58) {سَلٰمٌ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِيْمٍ:} یعنی اس بے حد مہربان رب کی طرف سے جنتیوں کو سلام کہا جائے گا۔ دوسری آیات میں ہے کہ انھیں اللہ تعالیٰ کا دیدار بھی ہو گا۔ رب رحیم کے دیدار اور اس کی طرف سے سلام کے بعد انھیں ہر لحاظ سے سلامتی حاصل ہو گی اور ایسا تحفہ اور ایسی نعمت ملے گی جس سے بڑا تحفہ اور بڑی نعمت کوئی نہیں، کیونکہ اس سے انھیں اس کی ابدی رضا حاصل ہو جائے گی، جس کے بعد وہ کبھی ان پر ناراض نہیں ہو گا۔ دیکھیے سورۂ توبہ (۷۲) اور سورۂ یونس (۲۶)۔
وَ امۡتَازُوا الۡیَوۡمَ اَیُّہَا الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴿۵۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور اے مجرمو، آج تم چھٹ کر الگ ہو جاؤ
مولانا محمد جوناگڑھی
اے گناهگارو! آج تم الگ ہو جاؤ
احمد رضا خان بریلوی
اور آج الگ پھٹ جاؤ، اے مجرمو!
علامہ محمد حسین نجفی
(ارشادِ قدرت ہوگا) اے مجرمو! الگ ہو جاؤ۔
عبدالسلام بن محمد
اور الگ ہو جاؤ آج اے مجرمو!
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نیک و بد علیحدہ علیحدہ کر دیئے جائیں گے ٭٭

فرماتا ہے کہ نیک کاروں سے بدکاروں کو چھانٹ دیا جائے گا، کافروں سے کہدیا جائے گا کہ مومنوں سے دور ہو جاؤ، پھر ہم ان میں امتیاز کر دیں گے انہیں الگ الگ کر دیں گے۔ اسی طرح سورۃ یونس میں ہے «وَيَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِيعًا ثُمَّ نَقُولُ لِلَّذِينَ أَشْرَكُوا مَكَانَكُمْ أَنتُمْ وَشُرَكَاؤُكُمْ» [ 10-یونس: 28 ] ‏‏‏‏ اور آیت «وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ يَوْمَئِذٍ يَتَفَرَّقُونَ» [ 30-الروم: 14 ] ‏‏‏‏ [ ترجمہ ] ‏‏‏‏ جس روز قیامت قائم ہو گی اس روز سب کے سب جدا جدا ہو جائیں گے۔ یعنی ان کے دو گروہ بن جائیں گے۔ سورۃ و الصافات میں فرمان ہے «اُحْشُرُوا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا وَاَزْوَاجَهُمْ وَمَا كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ مِن دُونِ اللَّـهِ فَاهْدُوهُمْ إِلَىٰ صِرَاطِ الْجَحِيمِ» [ 37- الصافات: 23، 22 ] ‏‏‏‏، یعنی ظالموں کو اور ان جیسوں کو اور ان کے جھوٹے معبودوں کو جنہیں وہ اللہ کے سوا پوجتے تھے جمع کرو اور انہیں جہنم کا راستہ دکھاؤ۔ جنتیوں پر جو طرح طرح کی نوازشیں ہو رہی ہوں گی اس طرح جہنمیوں پر طرح طرح کی سختیاں ہو رہی ہوں گی انہیں بطور ڈانٹ ڈپٹ کے کہا جائے گا کہ کیا میں نے تم سے عہد نہیں لیا تھا کہ شیطان کی نہ ماننا، وہ تمہارا دشمن ہے؟

لیکن اس پر بھی تم نے مجھ رحمان کی نافرمانی کی اور اس شیطان کی فرمانبرداری کی۔ خالق مالک رازق میں، اور فرمانبرداری کی جائے میرے راندہ درگاہ کی؟ میں تو کہہ چکا تھا کہ ایک میری ہی ماننا صرف مجھ ہی کو پوجنا مجھ تک پہنچنے کا سیدھا قریب کا اور سچا راستہ یہی ہے لیکن تم الٹے چلے، یہاں بھی الٹے ہی جاؤ، ان نیک بختوں کی اور تمہاری راہ الگ الگ ہے یہ جنتی ہیں تم جہنمی ہو۔ جبلا سے مراد خلق کثیر بہت ساری مخلوق ہے لغت میں «جُبَلْ» بھی کہا جاتا ہے اور «جبل» بھی کہا جاتا ہے، شیطان نے تم میں سے بکثرت لوگوں کو بہکا دیا اور صحیح راہ سے ہٹا دیا، تم میں اتنی بھی عقل نہ تھی کہ تم اس کا فیصلہ کر سکتے کہ رحمان کی مانیں یا شیطان کی؟ اللہ کو پوجیں یا مخلوق کو؟ ابن جریر میں ہے قیامت کے دن اللہ کے حکم سے جہنم اپنی گردن نکالے گی جس میں سخت اندھیرا ہو گا اور بالکل ظاہر ہو گی وہ بھی کہے گی کہ اے انسانو! کیا اللہ تعالیٰ نے تم سے وعدہ نہیں لیا تھا کہ تم شیطان کی عبادت نہ کرنا؟ وہ تمہارا ظاہری دشمن ہے اور میری عبادت کرنا یہ سیدھی راہ ہے، اس نے تم میں سے اکثروں کو گمراہ کر دیا کیا تم سمجھتے نہ تھے؟ اے گنہگارو! آج تم جدا ہو جاؤ۔ اس وقت نیک بد الگ الگ ہو جائیں گے۔ «وَتَرَىٰ كُلَّ أُمَّةٍ جَاثِيَةً كُلُّ أُمَّةٍ تُدْعَىٰ إِلَىٰ كِتَابِهَا الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ» [ 45-الجاثية: 28 ] ‏‏‏‏ ہر ایک گھنٹوں کے بل گر پڑے گا، ہر ایک کو اس کے نامہ اعمال کی طرف بلایا جائے گا، آج ہی بدلے دیئے جاؤ گے جو کر کے آئے ہو۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:29210:ضعیف] ‏‏‏‏
59۔ 1 یعنی اہل ایمان سے الگ ہو کر کھڑے ہو۔ یعنی میدان محشر میں اہل ایمان و اطاعت اور اہل کفر و معصیت الگ الگ کردیئے جائیں گے، دوسرا مطلب یہ ہے کہ مجرمین کو ہی مختلف گروہوں میں الگ الگ کردیا جائے گا۔ مثلًا یہودیوں کا گروہ، عیسائیوں کا گروہ، صائبین اور مجوسیوں کا گروہ، زانیوں کا گروہ، شرابیوں کا گروہ وغیرہ وغیرہ۔
(آیت 59) {وَ امْتَازُوا الْيَوْمَ اَيُّهَا الْمُجْرِمُوْنَ:} جنتیوں کی ہر لحاظ سے تکریم اور رب رحیم کی طرف سے سلام کے ذکر کے بعد بتایا کہ جہنمیوں سے کیا کہا جائے گا، یعنی ان سے کہا جائے گا کہ اے مجرمو! تم جنتیوں سے الگ ہو جاؤ۔ دنیا میں بے شک تم اکٹھے رہے، مگر آج تمھارا ان سے کوئی تعلق نہیں رہا۔ چنانچہ یہود و نصاریٰ، مجوس اور مشرکین سب الگ ہو جائیں گے (دیکھیے یونس: ۲۸۔ روم: ۱۴ تا ۱۶) اور جو جس کی پرستش کرتا تھا اس کے پیچھے چلا جائے گا، صرف موحد باقی رہ جائیں گے۔ دیکھیے سورۂ قلم کی آیت (۴۲) «‏‏‏‏يَوْمَ يُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ» ‏‏‏‏ کی تفسیر۔
اَلَمۡ اَعۡہَدۡ اِلَیۡکُمۡ یٰبَنِیۡۤ اٰدَمَ اَنۡ لَّا تَعۡبُدُوا الشَّیۡطٰنَ ۚ اِنَّہٗ لَکُمۡ عَدُوٌّ مُّبِیۡنٌ ﴿ۙ۶۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
آدمؑ کے بچو، کیا میں نے تم کو ہدایت نہ کی تھی کہ شیطان کی بندگی نہ کرو، وہ تمہارا کھلا دشمن ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اے اوﻻد آدم! کیا میں نے تم سے قول قرار نہیں لیا تھا کہ تم شیطان کی عبادت نہ کرنا، وه تو تمہارا کھلا دشمن ہے
احمد رضا خان بریلوی
اے اولاد آدم کیا میں نے تم سے عہد نہ لیا تھا کہ شیطان کو نہ پوجنا بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اے اولادِ آدم! کیا میں نے تمہیں حکم نہیں دیا تھا کہ شیطان کی پرستش نہ کرنا؟ کہ وہ تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے۔
عبدالسلام بن محمد
کیا میں نے تمھیں تاکیدنہ کی تھی اے اولاد آدم! کہ شیطان کی عبادت نہ کرنا، یقینا وہ تمھارا کھلا دشمن ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نیک و بد علیحدہ علیحدہ کر دیئے جائیں گے ٭٭

فرماتا ہے کہ نیک کاروں سے بدکاروں کو چھانٹ دیا جائے گا، کافروں سے کہدیا جائے گا کہ مومنوں سے دور ہو جاؤ، پھر ہم ان میں امتیاز کر دیں گے انہیں الگ الگ کر دیں گے۔ اسی طرح سورۃ یونس میں ہے «وَيَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِيعًا ثُمَّ نَقُولُ لِلَّذِينَ أَشْرَكُوا مَكَانَكُمْ أَنتُمْ وَشُرَكَاؤُكُمْ» [ 10-یونس: 28 ] ‏‏‏‏ اور آیت «وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ يَوْمَئِذٍ يَتَفَرَّقُونَ» [ 30-الروم: 14 ] ‏‏‏‏ [ ترجمہ ] ‏‏‏‏ جس روز قیامت قائم ہو گی اس روز سب کے سب جدا جدا ہو جائیں گے۔ یعنی ان کے دو گروہ بن جائیں گے۔ سورۃ و الصافات میں فرمان ہے «اُحْشُرُوا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا وَاَزْوَاجَهُمْ وَمَا كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ مِن دُونِ اللَّـهِ فَاهْدُوهُمْ إِلَىٰ صِرَاطِ الْجَحِيمِ» [ 37- الصافات: 23، 22 ] ‏‏‏‏، یعنی ظالموں کو اور ان جیسوں کو اور ان کے جھوٹے معبودوں کو جنہیں وہ اللہ کے سوا پوجتے تھے جمع کرو اور انہیں جہنم کا راستہ دکھاؤ۔ جنتیوں پر جو طرح طرح کی نوازشیں ہو رہی ہوں گی اس طرح جہنمیوں پر طرح طرح کی سختیاں ہو رہی ہوں گی انہیں بطور ڈانٹ ڈپٹ کے کہا جائے گا کہ کیا میں نے تم سے عہد نہیں لیا تھا کہ شیطان کی نہ ماننا، وہ تمہارا دشمن ہے؟

لیکن اس پر بھی تم نے مجھ رحمان کی نافرمانی کی اور اس شیطان کی فرمانبرداری کی۔ خالق مالک رازق میں، اور فرمانبرداری کی جائے میرے راندہ درگاہ کی؟ میں تو کہہ چکا تھا کہ ایک میری ہی ماننا صرف مجھ ہی کو پوجنا مجھ تک پہنچنے کا سیدھا قریب کا اور سچا راستہ یہی ہے لیکن تم الٹے چلے، یہاں بھی الٹے ہی جاؤ، ان نیک بختوں کی اور تمہاری راہ الگ الگ ہے یہ جنتی ہیں تم جہنمی ہو۔ جبلا سے مراد خلق کثیر بہت ساری مخلوق ہے لغت میں «جُبَلْ» بھی کہا جاتا ہے اور «جبل» بھی کہا جاتا ہے، شیطان نے تم میں سے بکثرت لوگوں کو بہکا دیا اور صحیح راہ سے ہٹا دیا، تم میں اتنی بھی عقل نہ تھی کہ تم اس کا فیصلہ کر سکتے کہ رحمان کی مانیں یا شیطان کی؟ اللہ کو پوجیں یا مخلوق کو؟ ابن جریر میں ہے قیامت کے دن اللہ کے حکم سے جہنم اپنی گردن نکالے گی جس میں سخت اندھیرا ہو گا اور بالکل ظاہر ہو گی وہ بھی کہے گی کہ اے انسانو! کیا اللہ تعالیٰ نے تم سے وعدہ نہیں لیا تھا کہ تم شیطان کی عبادت نہ کرنا؟ وہ تمہارا ظاہری دشمن ہے اور میری عبادت کرنا یہ سیدھی راہ ہے، اس نے تم میں سے اکثروں کو گمراہ کر دیا کیا تم سمجھتے نہ تھے؟ اے گنہگارو! آج تم جدا ہو جاؤ۔ اس وقت نیک بد الگ الگ ہو جائیں گے۔ «وَتَرَىٰ كُلَّ أُمَّةٍ جَاثِيَةً كُلُّ أُمَّةٍ تُدْعَىٰ إِلَىٰ كِتَابِهَا الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ» [ 45-الجاثية: 28 ] ‏‏‏‏ ہر ایک گھنٹوں کے بل گر پڑے گا، ہر ایک کو اس کے نامہ اعمال کی طرف بلایا جائے گا، آج ہی بدلے دیئے جاؤ گے جو کر کے آئے ہو۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:29210:ضعیف] ‏‏‏‏
60۔ 1 اس سے مراد عہد الست ہے جو حضرت آدم ؑ کی پشت سے نکالنے کے وقت لیا گیا تھا یا وہ وصیت ہے جو پیغمبروں کی زبانی لوگوں کو جاتی رہی۔ اور بعض کے نزدیک وہ دلائل عقلیہ ہیں جو آسمان و زمین میں اللہ نے قائم کئے ہیں۔ (فتح القدیر) (2) یہ اسکی علت ہے کہ تمہیں شیطان کی عبادت اور اس کے وسوسے قبول کرنے سے اس لیے روکا گیا تھا کہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے اور اس نے تمہیں ہر طرح گمراہ کرنے کی قسم کھا رکھی ہے۔
(آیت 60) {اَلَمْ اَعْهَدْ اِلَيْكُمْ يٰبَنِيْۤ اٰدَمَ …:”عَهِدَ إِلَيْهِ“} کا معنی ہے اس کو وصیت کی۔ آلوسی نے فرمایا، اس تاکیدی نصیحت سے مراد اللہ تعالیٰ کے وہ اوامر و نواہی ہیں جو اس نے اپنے رسولوں کی معرفت بنی آدم کے لیے بھیجے، جن میں سے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان بھی ہے: «‏‏‏‏يٰبَنِيْۤ اٰدَمَ لَا يَفْتِنَنَّكُمُ الشَّيْطٰنُ كَمَاۤ اَخْرَجَ اَبَوَيْكُمْ مِّنَ الْجَنَّةِ يَنْزِعُ عَنْهُمَا لِبَاسَهُمَا لِيُرِيَهُمَا سَوْاٰتِهِمَا اِنَّهٗ يَرٰىكُمْ هُوَ وَ قَبِيْلُهٗ مِنْ حَيْثُ لَا تَرَوْنَهُمْ اِنَّا جَعَلْنَا الشَّيٰطِيْنَ اَوْلِيَآءَ لِلَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ» ‏‏‏‏ [ الأعراف: ۲۷ ] ”اے آدم کی اولاد! کہیں شیطان تمھیں فتنے میں نہ ڈال دے، جس طرح اس نے تمھارے ماں باپ کو جنت سے نکال دیا، وہ دونوں سے ان کے لباس اتارتا تھا، تاکہ دونوں کو ان کی شرم گاہیں دکھائے، بے شک وہ اور اس کا قبیلہ تمھیں وہاں سے دیکھتے ہیں جہاں سے تم انھیں نہیں دیکھتے۔ بے شک ہم نے شیطانوں کو ان لوگوں کے دوست بنایا ہے جو ایمان نہیں رکھتے۔“ بعض نے کہا، مراد وہ عہد ہے جو {” اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ “} میں مذکور ہے، (دیکھیے سورۂ اعراف: ۱۷۲ کی تفسیر) یا وہ عقلی دلائل ہیں جو اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے کائنات میں رکھے ہیں۔
وَّ اَنِ اعۡبُدُوۡنِیۡ ؕؔ ہٰذَا صِرَاطٌ مُّسۡتَقِیۡمٌ ﴿۶۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور میری ہی بندگی کرو، یہ سیدھا راستہ ہے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
اور میری ہی عبادت کرنا۔ سیدھی راه یہی ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور میری بندگی کرنا یہ سیدھی راہ ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
ہاں البتہ میری عبادت کرو کہ یہی سیدھا راستہ ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور یہ کہ میری عبادت کرو، یہ سیدھا راستہ ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نیک و بد علیحدہ علیحدہ کر دیئے جائیں گے ٭٭

فرماتا ہے کہ نیک کاروں سے بدکاروں کو چھانٹ دیا جائے گا، کافروں سے کہدیا جائے گا کہ مومنوں سے دور ہو جاؤ، پھر ہم ان میں امتیاز کر دیں گے انہیں الگ الگ کر دیں گے۔ اسی طرح سورۃ یونس میں ہے «وَيَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِيعًا ثُمَّ نَقُولُ لِلَّذِينَ أَشْرَكُوا مَكَانَكُمْ أَنتُمْ وَشُرَكَاؤُكُمْ» [ 10-یونس: 28 ] ‏‏‏‏ اور آیت «وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ يَوْمَئِذٍ يَتَفَرَّقُونَ» [ 30-الروم: 14 ] ‏‏‏‏ [ ترجمہ ] ‏‏‏‏ جس روز قیامت قائم ہو گی اس روز سب کے سب جدا جدا ہو جائیں گے۔ یعنی ان کے دو گروہ بن جائیں گے۔ سورۃ و الصافات میں فرمان ہے «اُحْشُرُوا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا وَاَزْوَاجَهُمْ وَمَا كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ مِن دُونِ اللَّـهِ فَاهْدُوهُمْ إِلَىٰ صِرَاطِ الْجَحِيمِ» [ 37- الصافات: 23، 22 ] ‏‏‏‏، یعنی ظالموں کو اور ان جیسوں کو اور ان کے جھوٹے معبودوں کو جنہیں وہ اللہ کے سوا پوجتے تھے جمع کرو اور انہیں جہنم کا راستہ دکھاؤ۔ جنتیوں پر جو طرح طرح کی نوازشیں ہو رہی ہوں گی اس طرح جہنمیوں پر طرح طرح کی سختیاں ہو رہی ہوں گی انہیں بطور ڈانٹ ڈپٹ کے کہا جائے گا کہ کیا میں نے تم سے عہد نہیں لیا تھا کہ شیطان کی نہ ماننا، وہ تمہارا دشمن ہے؟

لیکن اس پر بھی تم نے مجھ رحمان کی نافرمانی کی اور اس شیطان کی فرمانبرداری کی۔ خالق مالک رازق میں، اور فرمانبرداری کی جائے میرے راندہ درگاہ کی؟ میں تو کہہ چکا تھا کہ ایک میری ہی ماننا صرف مجھ ہی کو پوجنا مجھ تک پہنچنے کا سیدھا قریب کا اور سچا راستہ یہی ہے لیکن تم الٹے چلے، یہاں بھی الٹے ہی جاؤ، ان نیک بختوں کی اور تمہاری راہ الگ الگ ہے یہ جنتی ہیں تم جہنمی ہو۔ جبلا سے مراد خلق کثیر بہت ساری مخلوق ہے لغت میں «جُبَلْ» بھی کہا جاتا ہے اور «جبل» بھی کہا جاتا ہے، شیطان نے تم میں سے بکثرت لوگوں کو بہکا دیا اور صحیح راہ سے ہٹا دیا، تم میں اتنی بھی عقل نہ تھی کہ تم اس کا فیصلہ کر سکتے کہ رحمان کی مانیں یا شیطان کی؟ اللہ کو پوجیں یا مخلوق کو؟ ابن جریر میں ہے قیامت کے دن اللہ کے حکم سے جہنم اپنی گردن نکالے گی جس میں سخت اندھیرا ہو گا اور بالکل ظاہر ہو گی وہ بھی کہے گی کہ اے انسانو! کیا اللہ تعالیٰ نے تم سے وعدہ نہیں لیا تھا کہ تم شیطان کی عبادت نہ کرنا؟ وہ تمہارا ظاہری دشمن ہے اور میری عبادت کرنا یہ سیدھی راہ ہے، اس نے تم میں سے اکثروں کو گمراہ کر دیا کیا تم سمجھتے نہ تھے؟ اے گنہگارو! آج تم جدا ہو جاؤ۔ اس وقت نیک بد الگ الگ ہو جائیں گے۔ «وَتَرَىٰ كُلَّ أُمَّةٍ جَاثِيَةً كُلُّ أُمَّةٍ تُدْعَىٰ إِلَىٰ كِتَابِهَا الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ» [ 45-الجاثية: 28 ] ‏‏‏‏ ہر ایک گھنٹوں کے بل گر پڑے گا، ہر ایک کو اس کے نامہ اعمال کی طرف بلایا جائے گا، آج ہی بدلے دیئے جاؤ گے جو کر کے آئے ہو۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:29210:ضعیف] ‏‏‏‏
61۔ 1 یعنی یہ بھی عہد لیا تھا کہ تمہیں صرف میری ہی عبادت کرنی ہے، میری عبادت میں کسی کو شریک نہیں کرنا۔ 61۔ 2 یعنی صرف ایک اللہ کی عبادت کرنا، یہی وہ سیدھا راستہ ہے، جس کی طرف تمام انبیاء لوگوں کو بلاتے رہے اور یہی منزل مقصود یعنی جنت تک پہنچانے والا۔
(آیت 61) {وَ اَنِ اعْبُدُوْنِيْ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيْمٌ:اَنْ لَّا تَعْبُدُوا الشَّيْطٰنَ “} میں اور{ ” اَنِ اعْبُدُوْنِيْ “} میں {” اِنْ “} تفسیر یہ ہے اور یہ سب اسی تاکیدی نصیحت کی تفسیر ہے۔
وَ لَقَدۡ اَضَلَّ مِنۡکُمۡ جِبِلًّا کَثِیۡرًا ؕ اَفَلَمۡ تَکُوۡنُوۡا تَعۡقِلُوۡنَ ﴿۶۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
مگر اس کے باوجود اس نے تم میں سے ایک گروہ کثیر کو گمراہ کر دیا کیا تم عقل نہیں رکھتے تھے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
شیطان نے تو تم میں سے بہت ساری مخلوق کو بہکا دیا۔ کیا تم عقل نہیں رکھتے
احمد رضا خان بریلوی
اور بیشک اس نے تم میں سے بہت سی خلقت کو بہکادیا، تو کیا تمہیں عقل نہ تھی
علامہ محمد حسین نجفی
(اس کے باوجود) اس نے تم میں سے ایک کثیر گروہ کو گمراہ کر دیا کیا تم اتنا بھی نہیں سمجھتے تھے؟
عبدالسلام بن محمد
اور بلاشبہ یقینا اس نے تم میں سے بہت سی مخلوق کو گمراہ کر دیا۔ تو کیا تم نہیں سمجھتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نیک و بد علیحدہ علیحدہ کر دیئے جائیں گے ٭٭

فرماتا ہے کہ نیک کاروں سے بدکاروں کو چھانٹ دیا جائے گا، کافروں سے کہدیا جائے گا کہ مومنوں سے دور ہو جاؤ، پھر ہم ان میں امتیاز کر دیں گے انہیں الگ الگ کر دیں گے۔ اسی طرح سورۃ یونس میں ہے «وَيَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِيعًا ثُمَّ نَقُولُ لِلَّذِينَ أَشْرَكُوا مَكَانَكُمْ أَنتُمْ وَشُرَكَاؤُكُمْ» [ 10-یونس: 28 ] ‏‏‏‏ اور آیت «وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ يَوْمَئِذٍ يَتَفَرَّقُونَ» [ 30-الروم: 14 ] ‏‏‏‏ [ ترجمہ ] ‏‏‏‏ جس روز قیامت قائم ہو گی اس روز سب کے سب جدا جدا ہو جائیں گے۔ یعنی ان کے دو گروہ بن جائیں گے۔ سورۃ و الصافات میں فرمان ہے «اُحْشُرُوا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا وَاَزْوَاجَهُمْ وَمَا كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ مِن دُونِ اللَّـهِ فَاهْدُوهُمْ إِلَىٰ صِرَاطِ الْجَحِيمِ» [ 37- الصافات: 23، 22 ] ‏‏‏‏، یعنی ظالموں کو اور ان جیسوں کو اور ان کے جھوٹے معبودوں کو جنہیں وہ اللہ کے سوا پوجتے تھے جمع کرو اور انہیں جہنم کا راستہ دکھاؤ۔ جنتیوں پر جو طرح طرح کی نوازشیں ہو رہی ہوں گی اس طرح جہنمیوں پر طرح طرح کی سختیاں ہو رہی ہوں گی انہیں بطور ڈانٹ ڈپٹ کے کہا جائے گا کہ کیا میں نے تم سے عہد نہیں لیا تھا کہ شیطان کی نہ ماننا، وہ تمہارا دشمن ہے؟

لیکن اس پر بھی تم نے مجھ رحمان کی نافرمانی کی اور اس شیطان کی فرمانبرداری کی۔ خالق مالک رازق میں، اور فرمانبرداری کی جائے میرے راندہ درگاہ کی؟ میں تو کہہ چکا تھا کہ ایک میری ہی ماننا صرف مجھ ہی کو پوجنا مجھ تک پہنچنے کا سیدھا قریب کا اور سچا راستہ یہی ہے لیکن تم الٹے چلے، یہاں بھی الٹے ہی جاؤ، ان نیک بختوں کی اور تمہاری راہ الگ الگ ہے یہ جنتی ہیں تم جہنمی ہو۔ جبلا سے مراد خلق کثیر بہت ساری مخلوق ہے لغت میں «جُبَلْ» بھی کہا جاتا ہے اور «جبل» بھی کہا جاتا ہے، شیطان نے تم میں سے بکثرت لوگوں کو بہکا دیا اور صحیح راہ سے ہٹا دیا، تم میں اتنی بھی عقل نہ تھی کہ تم اس کا فیصلہ کر سکتے کہ رحمان کی مانیں یا شیطان کی؟ اللہ کو پوجیں یا مخلوق کو؟ ابن جریر میں ہے قیامت کے دن اللہ کے حکم سے جہنم اپنی گردن نکالے گی جس میں سخت اندھیرا ہو گا اور بالکل ظاہر ہو گی وہ بھی کہے گی کہ اے انسانو! کیا اللہ تعالیٰ نے تم سے وعدہ نہیں لیا تھا کہ تم شیطان کی عبادت نہ کرنا؟ وہ تمہارا ظاہری دشمن ہے اور میری عبادت کرنا یہ سیدھی راہ ہے، اس نے تم میں سے اکثروں کو گمراہ کر دیا کیا تم سمجھتے نہ تھے؟ اے گنہگارو! آج تم جدا ہو جاؤ۔ اس وقت نیک بد الگ الگ ہو جائیں گے۔ «وَتَرَىٰ كُلَّ أُمَّةٍ جَاثِيَةً كُلُّ أُمَّةٍ تُدْعَىٰ إِلَىٰ كِتَابِهَا الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ» [ 45-الجاثية: 28 ] ‏‏‏‏ ہر ایک گھنٹوں کے بل گر پڑے گا، ہر ایک کو اس کے نامہ اعمال کی طرف بلایا جائے گا، آج ہی بدلے دیئے جاؤ گے جو کر کے آئے ہو۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:29210:ضعیف] ‏‏‏‏
62۔ 1 یعنی اتنی عقل بھی تمہارے اندر نہیں کہ شیطان تمہارا دشمن ہے، اس کی اطاعت نہیں کرنی چاہئے۔ اور میں تمہارا رب ہوں، میں ہی تمہیں روزی دیتا ہوں اور میں ہی تمہاری رات دن حفاظت کرتا ہوں لہذا تمہیں میری نافرمانی نہیں کرنی چاہیے۔ تم شیطان کی عداوت کو اور میرے حق عبادت کو نہ سمجھ کر نہایت بےعقلی اور نادانی کا مظاہرہ کر رہے ہو۔
(آیت 62) {اَفَلَمْ تَكُوْنُوْا تَعْقِلُوْنَ:} یعنی کیا تم اتنی عقل نہ رکھتے تھے کہ جب شیطان تمھارا دشمن تھا تو تم اس کے بتائے ہوئے راستے پر نہ چلتے؟
ہٰذِہٖ جَہَنَّمُ الَّتِیۡ کُنۡتُمۡ تُوۡعَدُوۡنَ ﴿۶۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یہ وہی جہنم ہے جس سے تم کو ڈرایا جاتا رہا تھا
مولانا محمد جوناگڑھی
یہی وه دوزخ ہے جس کا تمہیں وعده دیا جاتا تھا
احمد رضا خان بریلوی
یہ ہے وہ جہنم جس کا تم سے وعدہ تھا،
علامہ محمد حسین نجفی
یہ ہے وہ جہنم جس سے تمہیں ڈرایا جاتا تھا۔
عبدالسلام بن محمد
یہ ہے وہ جہنم جس کا تم وعدہ دیے جاتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اعضاء کی گواہی ٭٭

جہنم بھڑکتی ہوئی اور شعلے مارتی ہوئی چیختی ہوئی اور چلاتی ہوئی سامنے ہو گی اور کفار سے کہا جائے گا کہ یہی وہ جہنم ہے جس کا ذکر میرے رسول کیا کرتے تھے جس سے وہ ڈرایا کرتے تھے اور تم انہیں جھٹلاتے تھے۔ لو اب اپنے اس کفر کا مزہ چکھو اٹھو اس میں کود پڑو، چنانچہ اور آیت میں ہے «يَوْمَ يُدَعُّونَ إِلَىٰ نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا هَـٰذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنتُم بِهَا تُكَذِّبُونَ أَفَسِحْرٌ هَـٰذَا أَمْ أَنتُمْ لَا تُبْصِرُونَ» [ 52-الطور: 13 - 15 ] ‏‏‏‏، جس دن یہ جہنم کی طرف دھکیلے جائیں گے اور کہا جائے گا یہی وہ دوزخ ہے جس کا انکار کرتے رہے ہو۔ بتاؤ تو یہ جادو ہے؟ یا تم اندھے ہو گئے ہو؟ قیامت والے دن جب یہ کفار اور منافقین اپنے گناہوں کا انکار کریں گے اور اس پر قسمیں کھا لیں گے تو اللہ ان کی زبانوں کو بند کر دے گا اور ان کے بدن کے اعضاء سچی سچی گواہی دینا شروع کر دیں گے۔

سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے کہ آپ یکایک ہنسے اور اس قدر ہنسے کہ مسوڑھے کھل گئے پھر ہم سے دریافت کرنے لگے کہ جانتے ہو میں کیوں ہنسا؟ ہم نے کہا اللہ اور اس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی خوب جانتا ہے۔ فرمایا بندہ جو اپنے رب سے قیامت کے دن جھگڑا کرے گا اس پر۔ کہے گا کہ باری تعالیٰ کیا تو نے مجھے ظلم سے بچایا نہ تھا؟ اللہ فرمائے گا ہاں، تو یہ کہے گا بس پھر میں کسی گواہ کی گواہی اپنے خلاف منظور نہیں کروں گا۔ بس میرا اپنا بدن تو میرا ہے باقی سب میرے دشمن ہیں۔ اللہ فرمائے گا اچھا یونہی سہی تو ہی اپنا گواہ سہی اور میرے بزرگ فرشتے گواہ سہی۔ چنانچہ اسی وقت زبان پر مہر لگا دی جائے گی اور اعضائے بدن سے فرمایا جائے گا بولو تم خود گواہی دو کہ تم سے اس نے کیا کیا کام لیے؟ وہ صاف کھول کھول کر سچ سچ ایک ایک بات بتا دیں گے پھر اس کی زبان کھول دی جائے گی تو یہ اپنے بدن کے جوڑوں سے کہے گا تمہارا ستیاناس ہو جائے تم ہی میرے دشمن بن بیٹھے میں تو تمہارے ہی بچاؤ کی کوشش کر رہا تھا اور تمہارے ہی فائدے کے لیے حجت بازی کر رہا تھا۔ [صحیح مسلم:2969] ‏‏‏‏

نسائی کی ایک اور حدیث میں ہے تمہیں اللہ کے سامنے بلایا جائے گا جبکہ زبان بند ہو گی سب سے پہلے رانوں اور ہتھیلیوں سے سوال ہو گا۔ [نسائی فی السنن الکبرٰی:11469] ‏‏‏‏ قیامت کی ایک طویل حدیث میں ہے کہ پھر تیسرے موقعہ پر اس سے کہا جائے گا کہ تو کیا ہے؟ یہ کہے گا تیرا بندہ ہوں تجھ پر تیری نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر تیری کتاب پر ایمان لایا تھا روزے نماز زکوٰۃ وغیرہ کا پابند تھا اور بھی بہت سی اپنی نیکیاں بیان کر جائے گا اس وقت اس سے کہا جائے گا، اچھا ٹھہر جا ہم گواہ لاتے ہیں یہ سوچتا ہی ہو گا کہ گواہی میں کون پیش کیا جائے گا؟ یکایک اس کی زبان بند کر دی جائے گی اور اس کی ران سے کہا جائے گا کہ تو گواہی دے، اب ران اور ہڈیاں اور گوشت بول پڑے گا اور اس منافق کے سارے نفاق کو اور تمام پوشیدہ اعمال کو کھول کر رکھ دے گا۔ یہ سب اس لیے ہو گا کہ پھر اس کی حجت باقی نہ رہے اور اس کا عذر ٹوٹ جائے۔ چونکہ رب اس پر ناراض تھا اس لیے اس سے سختی سے بازپرس ہوئی۔ [صحیح مسلم:2968] ‏‏‏‏

ایک حدیث میں ہے منہ پر مہر لگنے کے بعد سب سے پہلے انسان کی بائیں ران بولے گی۔ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ مومن کو بلا کر اس کے گناہ اس کے سامنے پیش کر کے فرمائے گا، کہو یہ ٹھیک ہے؟ یہ کہے گا ہاں اللہ سب درست ہے بیشک مجھ سے یہ خطائیں سرزد ہوئی ہیں۔ اللہ فرمائے گا اچھا ہم نے سب بخش دیں، لیکن یہ گفتگو اس طرح ہو گی کہ کسی ایک کو بھی اس کا مطلق علم نہ ہو گا اس کا ایک گناہ بھی مخلوق میں سے کسی پر ظاہر نہ ہو گا۔ اب اس کی نیکیاں لائی جائیں گی اور انہیں کھول کھول کر ساری مخلوق کے سامنے جتا جتا کر رکھی جائیں گی۔

[ اے ستار العیوب اے غفار الذنوب تو ہم گناہ گاروں کی پردہ پوشی کر اور ہم مجرموں سے در گزر فرما۔ اللہ اس دن ہمیں رسوا اور ذلیل نہ کر اور اپنے دامن رحمت میں ڈھانپ لے۔ اے ذرہ نواز اللہ عزو جل! اپنی بےپایاں بخشش کی موسلا دھار بارش کا ایک قطرہ ادھر بھی برسا دے اور ہمارے تمام گناہوں کو دھو ڈال، پروردگار ایک نظر رحمت ادھر بھی، مالک الملک ہم بھی تیری چشم رحمت کے منتظر ہیں، اے غفور و رحیم اللہ کیا تیرے در سے بھی کوئی سوالی خالی جھولی لے کر ناامید ہو کر آج تک لوٹا ہے؟ رحم کر رحم کر رحم کر۔ اے مالک و خالق رحم کر اپنے انتقام سے بچا اپنے غصے سے نجات دے اپنی رحمتوں سے نواز دے اپنے عذابوں سے چھٹکارا دے اپنی جنت میں پہنچا دے، اپنے دیدار سے مشرف فرما۔ آمین آمین ] ‏‏‏‏۔ اور کافر و منافق کو بلایا جائے گا اس کے بد اعمال اس کے سامنے رکھے جائیں گے اور اس سے کہا جائے گا کہو یہ ٹھیک ہے؟ یہ صاف انکار کر جائے گا اور کڑکڑاتی ہوئی قسمیں کھانے لگے گا۔ کہ اللہ تعالیٰ تیرے ان فرشتوں نے جھوٹی تحریر لکھی ہے میں نے ہرگز یہ گناہ نہیں کئے، فرشتہ کہے گا ہائیں ہائیں کیا کہہ رہا ہے؟ کیا فلاں دن فلاں جگہ تو نے فلاں کام نہیں کیا؟ یہ کہے گا اللہ تیری عزت کی قسم محض جھوٹ ہے میں نے ہرگز نہیں کیا؟ اب اللہ تعالیٰ اس کی زبان بندی کر دے گا، غالباً سب سے پہلے اس کی دائیں ران اس کے خلاف شہادت دے گی، یہی مضمون اس آیت میں بیان ہو رہا ہے۔

پھر فرماتا ہے اگر ہم چاہتے تو انہیں گمراہ کر دیتے اور پھر یہ کبھی ہدایت نہ حاصل کر سکتے۔ اگر ہم چاہتے ان کی آنکھیں اندھی کر دیتے تو یہ یونہی بھٹکتے پھرتے۔ ادھر ادھر راستے ٹٹولتے۔ حق کو نہ دیکھ سکتے، نہ صحیح راستے پر پہنچ سکتے اور اگر ہم چاہتے تو انہیں ان کے مکانوں میں ہی مسخ کر دیتے ان کی صورتیں بدل دیتے انہیں ہلاک کر دیتے انہیں پتھر کے بنا دیتے، ان کی ٹانگیں توڑ دیتے۔ پھر تو نہ وہ چل سکتے یعنی آگے کو نہ وہ لوٹ سکتے یعنی پیچھے کو بلکہ بت کی طرح ایک ہی جگہ بیٹھے رہتے، آگے پیچھے نہ ہو سکتے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 64،63) {هٰذِهٖ جَهَنَّمُ الَّتِيْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ …: ” اِصْلَوْهَا”صَلِيَ يَصْلٰي } (ع) {النَّارَ“} کا اصل معنی آگ سینکنا ہے۔ انھیں یہ بات بطور طنز و استہزا کہی جائے گی۔ (التحریر) اور اس حکم کے ساتھ ہی انھیں دھکیل کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ سورۂ طور میں فرمایا: «يَوْمَ يُدَعُّوْنَ اِلٰى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا (13) هٰذِهِ النَّارُ الَّتِيْ كُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُوْنَ» ‏‏‏‏ [ الطور: ۱۳، ۱۴ ] ”جس دن انھیں جہنم کی آگ کی طرف دھکیلا جائے گا، سخت دھکیلا جانا۔ یہی ہے وہ آگ جسے تم جھٹلاتے تھے۔“
اِصۡلَوۡہَا الۡیَوۡمَ بِمَا کُنۡتُمۡ تَکۡفُرُوۡنَ ﴿۶۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جو کفر تم دنیا میں کرتے رہے ہو اُس کی پاداش میں اب اِس کا ایندھن بنو
مولانا محمد جوناگڑھی
اپنے کفر کا بدلہ پانے کے لئے آج اس میں داخل ہوجاؤ
احمد رضا خان بریلوی
آج اسی میں جاؤ بدلہ اپنے کفر کا،
علامہ محمد حسین نجفی
آج اپنے کفر کی پاداش میں اس میں داخل ہو جاؤ (اور اس کی آگ تاپو)۔
عبدالسلام بن محمد
آج اس میں داخل ہو جاؤ، اس کے بدلے جو تم کفر کیا کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اعضاء کی گواہی ٭٭

جہنم بھڑکتی ہوئی اور شعلے مارتی ہوئی چیختی ہوئی اور چلاتی ہوئی سامنے ہو گی اور کفار سے کہا جائے گا کہ یہی وہ جہنم ہے جس کا ذکر میرے رسول کیا کرتے تھے جس سے وہ ڈرایا کرتے تھے اور تم انہیں جھٹلاتے تھے۔ لو اب اپنے اس کفر کا مزہ چکھو اٹھو اس میں کود پڑو، چنانچہ اور آیت میں ہے «يَوْمَ يُدَعُّونَ إِلَىٰ نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا هَـٰذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنتُم بِهَا تُكَذِّبُونَ أَفَسِحْرٌ هَـٰذَا أَمْ أَنتُمْ لَا تُبْصِرُونَ» [ 52-الطور: 13 - 15 ] ‏‏‏‏، جس دن یہ جہنم کی طرف دھکیلے جائیں گے اور کہا جائے گا یہی وہ دوزخ ہے جس کا انکار کرتے رہے ہو۔ بتاؤ تو یہ جادو ہے؟ یا تم اندھے ہو گئے ہو؟ قیامت والے دن جب یہ کفار اور منافقین اپنے گناہوں کا انکار کریں گے اور اس پر قسمیں کھا لیں گے تو اللہ ان کی زبانوں کو بند کر دے گا اور ان کے بدن کے اعضاء سچی سچی گواہی دینا شروع کر دیں گے۔

سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے کہ آپ یکایک ہنسے اور اس قدر ہنسے کہ مسوڑھے کھل گئے پھر ہم سے دریافت کرنے لگے کہ جانتے ہو میں کیوں ہنسا؟ ہم نے کہا اللہ اور اس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی خوب جانتا ہے۔ فرمایا بندہ جو اپنے رب سے قیامت کے دن جھگڑا کرے گا اس پر۔ کہے گا کہ باری تعالیٰ کیا تو نے مجھے ظلم سے بچایا نہ تھا؟ اللہ فرمائے گا ہاں، تو یہ کہے گا بس پھر میں کسی گواہ کی گواہی اپنے خلاف منظور نہیں کروں گا۔ بس میرا اپنا بدن تو میرا ہے باقی سب میرے دشمن ہیں۔ اللہ فرمائے گا اچھا یونہی سہی تو ہی اپنا گواہ سہی اور میرے بزرگ فرشتے گواہ سہی۔ چنانچہ اسی وقت زبان پر مہر لگا دی جائے گی اور اعضائے بدن سے فرمایا جائے گا بولو تم خود گواہی دو کہ تم سے اس نے کیا کیا کام لیے؟ وہ صاف کھول کھول کر سچ سچ ایک ایک بات بتا دیں گے پھر اس کی زبان کھول دی جائے گی تو یہ اپنے بدن کے جوڑوں سے کہے گا تمہارا ستیاناس ہو جائے تم ہی میرے دشمن بن بیٹھے میں تو تمہارے ہی بچاؤ کی کوشش کر رہا تھا اور تمہارے ہی فائدے کے لیے حجت بازی کر رہا تھا۔ [صحیح مسلم:2969] ‏‏‏‏

نسائی کی ایک اور حدیث میں ہے تمہیں اللہ کے سامنے بلایا جائے گا جبکہ زبان بند ہو گی سب سے پہلے رانوں اور ہتھیلیوں سے سوال ہو گا۔ [نسائی فی السنن الکبرٰی:11469] ‏‏‏‏ قیامت کی ایک طویل حدیث میں ہے کہ پھر تیسرے موقعہ پر اس سے کہا جائے گا کہ تو کیا ہے؟ یہ کہے گا تیرا بندہ ہوں تجھ پر تیری نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر تیری کتاب پر ایمان لایا تھا روزے نماز زکوٰۃ وغیرہ کا پابند تھا اور بھی بہت سی اپنی نیکیاں بیان کر جائے گا اس وقت اس سے کہا جائے گا، اچھا ٹھہر جا ہم گواہ لاتے ہیں یہ سوچتا ہی ہو گا کہ گواہی میں کون پیش کیا جائے گا؟ یکایک اس کی زبان بند کر دی جائے گی اور اس کی ران سے کہا جائے گا کہ تو گواہی دے، اب ران اور ہڈیاں اور گوشت بول پڑے گا اور اس منافق کے سارے نفاق کو اور تمام پوشیدہ اعمال کو کھول کر رکھ دے گا۔ یہ سب اس لیے ہو گا کہ پھر اس کی حجت باقی نہ رہے اور اس کا عذر ٹوٹ جائے۔ چونکہ رب اس پر ناراض تھا اس لیے اس سے سختی سے بازپرس ہوئی۔ [صحیح مسلم:2968] ‏‏‏‏

ایک حدیث میں ہے منہ پر مہر لگنے کے بعد سب سے پہلے انسان کی بائیں ران بولے گی۔ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ مومن کو بلا کر اس کے گناہ اس کے سامنے پیش کر کے فرمائے گا، کہو یہ ٹھیک ہے؟ یہ کہے گا ہاں اللہ سب درست ہے بیشک مجھ سے یہ خطائیں سرزد ہوئی ہیں۔ اللہ فرمائے گا اچھا ہم نے سب بخش دیں، لیکن یہ گفتگو اس طرح ہو گی کہ کسی ایک کو بھی اس کا مطلق علم نہ ہو گا اس کا ایک گناہ بھی مخلوق میں سے کسی پر ظاہر نہ ہو گا۔ اب اس کی نیکیاں لائی جائیں گی اور انہیں کھول کھول کر ساری مخلوق کے سامنے جتا جتا کر رکھی جائیں گی۔

[ اے ستار العیوب اے غفار الذنوب تو ہم گناہ گاروں کی پردہ پوشی کر اور ہم مجرموں سے در گزر فرما۔ اللہ اس دن ہمیں رسوا اور ذلیل نہ کر اور اپنے دامن رحمت میں ڈھانپ لے۔ اے ذرہ نواز اللہ عزو جل! اپنی بےپایاں بخشش کی موسلا دھار بارش کا ایک قطرہ ادھر بھی برسا دے اور ہمارے تمام گناہوں کو دھو ڈال، پروردگار ایک نظر رحمت ادھر بھی، مالک الملک ہم بھی تیری چشم رحمت کے منتظر ہیں، اے غفور و رحیم اللہ کیا تیرے در سے بھی کوئی سوالی خالی جھولی لے کر ناامید ہو کر آج تک لوٹا ہے؟ رحم کر رحم کر رحم کر۔ اے مالک و خالق رحم کر اپنے انتقام سے بچا اپنے غصے سے نجات دے اپنی رحمتوں سے نواز دے اپنے عذابوں سے چھٹکارا دے اپنی جنت میں پہنچا دے، اپنے دیدار سے مشرف فرما۔ آمین آمین ] ‏‏‏‏۔ اور کافر و منافق کو بلایا جائے گا اس کے بد اعمال اس کے سامنے رکھے جائیں گے اور اس سے کہا جائے گا کہو یہ ٹھیک ہے؟ یہ صاف انکار کر جائے گا اور کڑکڑاتی ہوئی قسمیں کھانے لگے گا۔ کہ اللہ تعالیٰ تیرے ان فرشتوں نے جھوٹی تحریر لکھی ہے میں نے ہرگز یہ گناہ نہیں کئے، فرشتہ کہے گا ہائیں ہائیں کیا کہہ رہا ہے؟ کیا فلاں دن فلاں جگہ تو نے فلاں کام نہیں کیا؟ یہ کہے گا اللہ تیری عزت کی قسم محض جھوٹ ہے میں نے ہرگز نہیں کیا؟ اب اللہ تعالیٰ اس کی زبان بندی کر دے گا، غالباً سب سے پہلے اس کی دائیں ران اس کے خلاف شہادت دے گی، یہی مضمون اس آیت میں بیان ہو رہا ہے۔

پھر فرماتا ہے اگر ہم چاہتے تو انہیں گمراہ کر دیتے اور پھر یہ کبھی ہدایت نہ حاصل کر سکتے۔ اگر ہم چاہتے ان کی آنکھیں اندھی کر دیتے تو یہ یونہی بھٹکتے پھرتے۔ ادھر ادھر راستے ٹٹولتے۔ حق کو نہ دیکھ سکتے، نہ صحیح راستے پر پہنچ سکتے اور اگر ہم چاہتے تو انہیں ان کے مکانوں میں ہی مسخ کر دیتے ان کی صورتیں بدل دیتے انہیں ہلاک کر دیتے انہیں پتھر کے بنا دیتے، ان کی ٹانگیں توڑ دیتے۔ پھر تو نہ وہ چل سکتے یعنی آگے کو نہ وہ لوٹ سکتے یعنی پیچھے کو بلکہ بت کی طرح ایک ہی جگہ بیٹھے رہتے، آگے پیچھے نہ ہو سکتے۔
64۔ 1 یعنی اب اس بےعقلی کا نتیجہ بھگتو اور اپنے کفر کے سبب سے جہنم کی سختیوں کا مزہ چکھو۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اَلۡیَوۡمَ نَخۡتِمُ عَلٰۤی اَفۡوَاہِہِمۡ وَ تُکَلِّمُنَاۤ اَیۡدِیۡہِمۡ وَ تَشۡہَدُ اَرۡجُلُہُمۡ بِمَا کَانُوۡا یَکۡسِبُوۡنَ ﴿۶۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
آج ہم اِن کے منہ بند کیے دیتے ہیں، اِن کے ہاتھ ہم سے بولیں گے اور ان کے پاؤں گواہی دیں گے کہ یہ دنیا میں کیا کمائی کرتے رہے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
ہم آج کے دن ان کے منھ پر مہریں لگا دیں گے اور ان کے ہاتھ ہم سے باتیں کریں گے اور ان کے پاؤں گواہیاں دیں گے، ان کاموں کی جو وه کرتے تھے
احمد رضا خان بریلوی
آج ہم ان کے مونھوں پر مہر کردیں گے اور ان کے ہاتھ ہم سے بات کریں گے اور ان پاؤں ان کے کئے کی گواہی دیں گے
علامہ محمد حسین نجفی
آج ہم ان کے مونہوں پر مہر لگا دیں گے اور ہم سے ان کے ہاتھ کلام کریں گے اور ان کے پاؤں گواہی دیں گے اس کے بارے میں جو کچھ وہ کیا کرتے تھے؟
عبدالسلام بن محمد
آج ہم ان کے مونہوں پر مہر لگا دیں گے اوران کے ہاتھ ہم سے باتیں کریں گے اور ان کے پاؤں اس کی گواہی دیں گے جو وہ کمایا کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اعضاء کی گواہی ٭٭

جہنم بھڑکتی ہوئی اور شعلے مارتی ہوئی چیختی ہوئی اور چلاتی ہوئی سامنے ہو گی اور کفار سے کہا جائے گا کہ یہی وہ جہنم ہے جس کا ذکر میرے رسول کیا کرتے تھے جس سے وہ ڈرایا کرتے تھے اور تم انہیں جھٹلاتے تھے۔ لو اب اپنے اس کفر کا مزہ چکھو اٹھو اس میں کود پڑو، چنانچہ اور آیت میں ہے «يَوْمَ يُدَعُّونَ إِلَىٰ نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا هَـٰذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنتُم بِهَا تُكَذِّبُونَ أَفَسِحْرٌ هَـٰذَا أَمْ أَنتُمْ لَا تُبْصِرُونَ» [ 52-الطور: 13 - 15 ] ‏‏‏‏، جس دن یہ جہنم کی طرف دھکیلے جائیں گے اور کہا جائے گا یہی وہ دوزخ ہے جس کا انکار کرتے رہے ہو۔ بتاؤ تو یہ جادو ہے؟ یا تم اندھے ہو گئے ہو؟ قیامت والے دن جب یہ کفار اور منافقین اپنے گناہوں کا انکار کریں گے اور اس پر قسمیں کھا لیں گے تو اللہ ان کی زبانوں کو بند کر دے گا اور ان کے بدن کے اعضاء سچی سچی گواہی دینا شروع کر دیں گے۔

سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے کہ آپ یکایک ہنسے اور اس قدر ہنسے کہ مسوڑھے کھل گئے پھر ہم سے دریافت کرنے لگے کہ جانتے ہو میں کیوں ہنسا؟ ہم نے کہا اللہ اور اس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی خوب جانتا ہے۔ فرمایا بندہ جو اپنے رب سے قیامت کے دن جھگڑا کرے گا اس پر۔ کہے گا کہ باری تعالیٰ کیا تو نے مجھے ظلم سے بچایا نہ تھا؟ اللہ فرمائے گا ہاں، تو یہ کہے گا بس پھر میں کسی گواہ کی گواہی اپنے خلاف منظور نہیں کروں گا۔ بس میرا اپنا بدن تو میرا ہے باقی سب میرے دشمن ہیں۔ اللہ فرمائے گا اچھا یونہی سہی تو ہی اپنا گواہ سہی اور میرے بزرگ فرشتے گواہ سہی۔ چنانچہ اسی وقت زبان پر مہر لگا دی جائے گی اور اعضائے بدن سے فرمایا جائے گا بولو تم خود گواہی دو کہ تم سے اس نے کیا کیا کام لیے؟ وہ صاف کھول کھول کر سچ سچ ایک ایک بات بتا دیں گے پھر اس کی زبان کھول دی جائے گی تو یہ اپنے بدن کے جوڑوں سے کہے گا تمہارا ستیاناس ہو جائے تم ہی میرے دشمن بن بیٹھے میں تو تمہارے ہی بچاؤ کی کوشش کر رہا تھا اور تمہارے ہی فائدے کے لیے حجت بازی کر رہا تھا۔ [صحیح مسلم:2969] ‏‏‏‏

نسائی کی ایک اور حدیث میں ہے تمہیں اللہ کے سامنے بلایا جائے گا جبکہ زبان بند ہو گی سب سے پہلے رانوں اور ہتھیلیوں سے سوال ہو گا۔ [نسائی فی السنن الکبرٰی:11469] ‏‏‏‏ قیامت کی ایک طویل حدیث میں ہے کہ پھر تیسرے موقعہ پر اس سے کہا جائے گا کہ تو کیا ہے؟ یہ کہے گا تیرا بندہ ہوں تجھ پر تیری نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر تیری کتاب پر ایمان لایا تھا روزے نماز زکوٰۃ وغیرہ کا پابند تھا اور بھی بہت سی اپنی نیکیاں بیان کر جائے گا اس وقت اس سے کہا جائے گا، اچھا ٹھہر جا ہم گواہ لاتے ہیں یہ سوچتا ہی ہو گا کہ گواہی میں کون پیش کیا جائے گا؟ یکایک اس کی زبان بند کر دی جائے گی اور اس کی ران سے کہا جائے گا کہ تو گواہی دے، اب ران اور ہڈیاں اور گوشت بول پڑے گا اور اس منافق کے سارے نفاق کو اور تمام پوشیدہ اعمال کو کھول کر رکھ دے گا۔ یہ سب اس لیے ہو گا کہ پھر اس کی حجت باقی نہ رہے اور اس کا عذر ٹوٹ جائے۔ چونکہ رب اس پر ناراض تھا اس لیے اس سے سختی سے بازپرس ہوئی۔ [صحیح مسلم:2968] ‏‏‏‏

ایک حدیث میں ہے منہ پر مہر لگنے کے بعد سب سے پہلے انسان کی بائیں ران بولے گی۔ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ مومن کو بلا کر اس کے گناہ اس کے سامنے پیش کر کے فرمائے گا، کہو یہ ٹھیک ہے؟ یہ کہے گا ہاں اللہ سب درست ہے بیشک مجھ سے یہ خطائیں سرزد ہوئی ہیں۔ اللہ فرمائے گا اچھا ہم نے سب بخش دیں، لیکن یہ گفتگو اس طرح ہو گی کہ کسی ایک کو بھی اس کا مطلق علم نہ ہو گا اس کا ایک گناہ بھی مخلوق میں سے کسی پر ظاہر نہ ہو گا۔ اب اس کی نیکیاں لائی جائیں گی اور انہیں کھول کھول کر ساری مخلوق کے سامنے جتا جتا کر رکھی جائیں گی۔

[ اے ستار العیوب اے غفار الذنوب تو ہم گناہ گاروں کی پردہ پوشی کر اور ہم مجرموں سے در گزر فرما۔ اللہ اس دن ہمیں رسوا اور ذلیل نہ کر اور اپنے دامن رحمت میں ڈھانپ لے۔ اے ذرہ نواز اللہ عزو جل! اپنی بےپایاں بخشش کی موسلا دھار بارش کا ایک قطرہ ادھر بھی برسا دے اور ہمارے تمام گناہوں کو دھو ڈال، پروردگار ایک نظر رحمت ادھر بھی، مالک الملک ہم بھی تیری چشم رحمت کے منتظر ہیں، اے غفور و رحیم اللہ کیا تیرے در سے بھی کوئی سوالی خالی جھولی لے کر ناامید ہو کر آج تک لوٹا ہے؟ رحم کر رحم کر رحم کر۔ اے مالک و خالق رحم کر اپنے انتقام سے بچا اپنے غصے سے نجات دے اپنی رحمتوں سے نواز دے اپنے عذابوں سے چھٹکارا دے اپنی جنت میں پہنچا دے، اپنے دیدار سے مشرف فرما۔ آمین آمین ] ‏‏‏‏۔ اور کافر و منافق کو بلایا جائے گا اس کے بد اعمال اس کے سامنے رکھے جائیں گے اور اس سے کہا جائے گا کہو یہ ٹھیک ہے؟ یہ صاف انکار کر جائے گا اور کڑکڑاتی ہوئی قسمیں کھانے لگے گا۔ کہ اللہ تعالیٰ تیرے ان فرشتوں نے جھوٹی تحریر لکھی ہے میں نے ہرگز یہ گناہ نہیں کئے، فرشتہ کہے گا ہائیں ہائیں کیا کہہ رہا ہے؟ کیا فلاں دن فلاں جگہ تو نے فلاں کام نہیں کیا؟ یہ کہے گا اللہ تیری عزت کی قسم محض جھوٹ ہے میں نے ہرگز نہیں کیا؟ اب اللہ تعالیٰ اس کی زبان بندی کر دے گا، غالباً سب سے پہلے اس کی دائیں ران اس کے خلاف شہادت دے گی، یہی مضمون اس آیت میں بیان ہو رہا ہے۔

پھر فرماتا ہے اگر ہم چاہتے تو انہیں گمراہ کر دیتے اور پھر یہ کبھی ہدایت نہ حاصل کر سکتے۔ اگر ہم چاہتے ان کی آنکھیں اندھی کر دیتے تو یہ یونہی بھٹکتے پھرتے۔ ادھر ادھر راستے ٹٹولتے۔ حق کو نہ دیکھ سکتے، نہ صحیح راستے پر پہنچ سکتے اور اگر ہم چاہتے تو انہیں ان کے مکانوں میں ہی مسخ کر دیتے ان کی صورتیں بدل دیتے انہیں ہلاک کر دیتے انہیں پتھر کے بنا دیتے، ان کی ٹانگیں توڑ دیتے۔ پھر تو نہ وہ چل سکتے یعنی آگے کو نہ وہ لوٹ سکتے یعنی پیچھے کو بلکہ بت کی طرح ایک ہی جگہ بیٹھے رہتے، آگے پیچھے نہ ہو سکتے۔
65۔ 1 یہ مہر لگانے کی ضرورت اس لئے پیش آئیگی کہ ابتداءً مشرکین قیامت والے دن بھی جھوٹ بولیں گے اور کہیں گے (وَاللّٰهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِيْنَ) 6۔ الانعام:23) اللہ کی قسم، جو ہمارا رب ہے، ہم مشرک نہیں تھے چناچہ اللہ تعالیٰ ان کے مونہوں پر مہر لگا دے گا، جس سے وہ خود تو بولنے کی طاقت سے محروم ہوجائیں گے، البتہ اللہ تعالیٰ اعضائے انسانی کو قوت گویائی عطا فرما دے گا، ہاتھ بولیں گے کہ ہم سے اس نے فلاں فلاں کام کیا تھا اور پاؤں اس پر گواہی دیں گے۔ یوں گویا اقرار اور شہادت، دونوں مرحلے طے ہوجائیں گے۔ علاوہ ازیں ناطق کے مقابلے میں غیر ناطق چیزوں کا بول کر گواہی دینا، حجت واستدلال میں زیادہ بلیغ ہے کہ اس میں ایک اعجازی شان پائی جاتی ہے۔ (فتح القدیر) اس مضموں کو احادیث میں بھی بیان کیا گیا ہے۔ (ملاحظہ ہو صحیح مسلم، کتاب الزھد۔)
(آیت 65) ➊ {اَلْيَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰۤى اَفْوَاهِهِمْ …:} مونہوں پر مہر لگانے کی وجہ یہ ہو گی کہ بعض مجرم قیامت کے دن اپنے جرم کا اقرار کرنے سے انکار کر دیں گے اور کہیں گے کہ ہم نے کوئی جرم کیا ہی نہیں، وہ گواہوں کو جھٹلا دیں گے اور نامہ اعمال کو بھی درست نہیں مانیں گے، بلکہ اپنے بے گناہ ہونے کی قسمیں کھائیں گے، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏ثُمَّ لَمْ تَكُنْ فِتْنَتُهُمْ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْا وَ اللّٰهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِيْنَ» [ الأنعام: ۲۳ ] ”پھر ان کا فریب اس کے سوا کچھ نہ ہو گا کہ کہیں گے، اللہ کی قسم! جو ہمارا رب ہے، ہم شریک بنانے والے نہ تھے۔“ اور قسمیں کھا کر دل میں سمجھیں گے کہ جس طرح دنیا میں جھوٹ چل جاتا تھا، اب بھی چل جائے گا، فرمایا: «‏‏‏‏يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ جَمِيْعًا فَيَحْلِفُوْنَ لَهٗ كَمَا يَحْلِفُوْنَ لَكُمْ وَ يَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ عَلٰى شَيْءٍ اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ» [ المجادلۃ: ۱۸ ] ”جس دن اللہ ان سب کو اٹھائے گا تو وہ اس کے سامنے قسمیں کھائیں گے جس طرح تمھارے سامنے قسمیں کھاتے ہیں اور گمان کریں گے کہ وہ کسی چیز پر (قائم) ہیں، سن لو! یقینا وہی اصل جھوٹے ہیں۔“ اس وقت ان سے یہ معاملہ ہو گا جس کا اس آیت میں ذکر ہے۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے کہ آپ اچانک ہنس دیے اور فرمایا: ”جانتے ہو میں کس بات پر ہنسا ہوں؟“ ہم نے کہا: ”اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مِنْ مُخَاطَبَةِ الْعَبْدِ رَبَّهُ يَقُوْلُ يَا رَبِّ! أَلَمْ تُجِرْنِيْ مِنَ الظُّلْمِ؟ قَالَ يَقُوْلُ بَلٰی، قَالَ فَيَقُوْلُ فَإِنِّيْ لَا أُجِيْزُ عَلٰی نَفْسِيْ إِلَّا شَاهِدًا مِنِّيْ، قَالَ فَيَقُوْلُ كَفٰی بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ شَهِيْدًا وَبِالْكِرَامِ الْكَاتِبِيْنَ شُهُوْدًا قَالَ فَيُخْتَمُ عَلٰی فِيْهِ فَيُقَالُ لِأَرْكَانِهِ انْطِقِيْ قَالَ فَتَنْطِقُ بِأَعْمَالِهِ قَالَ ثُمَّ يُخَلّٰی بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْكَلَامِ قَالَ فَيَقُوْلُ بُعْدًا لَكُنَّ وَسُحْقًا فَعَنْكُنَّ كُنْتُ أُنَاضِلُ ] [مسلم، الزھد والرقائق، باب الدنیا سجن للمؤمن و جنۃ للکافر: ۲۹۶۹ ] ”میں بندے کی اپنے رب سے گفتگو پر ہنسا ہوں (جو وہ قیامت کے دن کرے گا)، وہ کہے گا: ”اے میرے رب! کیا تو مجھے ظلم سے پناہ نہیں دے چکا؟“ وہ فرمائے گا: ”کیوں نہیں؟“ کہے گا: ”میں اپنے سوا کسی گواہ کی گواہی اپنے خلاف منظور نہیں کروں گا (میرا بدن میرا اپنا ہے باقی سب میرے دشمن ہیں)۔“ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ”آج تیری ذات ہی تیرے خلاف بطور گواہ کافی ہے اور کراماً کاتبین گواہ کافی ہیں۔“ چنانچہ اس کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی اور اس کے جسم کے اعضا سے کہا جائے گا: ”بولو!“ تو وہ اس کے سارے اعمال بول کر بتائیں گے، پھر اسے بولنے کی اجازت دی جائے گی تو وہ اپنے اعضا سے کہے گا: ”تمھارا ستیاناس ہو اور تم (مجھ سے) دور ہو جاؤ، میں تو تمھارا ہی دفاع کر رہا تھا۔“ ➋ اس آیت میں ہاتھوں اور پاؤں کے بولنے اور شہادت دینے کا ذکر ہے، جبکہ دوسرے مقامات پر جسم کے دوسرے اعضا کے بولنے کا بھی ذکر ہے، چنانچہ فرمایا: «‏‏‏‏حَتّٰۤى اِذَا مَا جَآءُوْهَا شَهِدَ عَلَيْهِمْ سَمْعُهُمْ وَ اَبْصَارُهُمْ وَ جُلُوْدُهُمْ بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ» ‏‏‏‏ [ حٰمٓ السجدۃ: ۲۰ ] ”یہاں تک کہ جوں ہی اس (آگ) کے پاس پہنچیں گے ان کے کان اور ان کی آنکھیں اور ان کے چمڑے ان کے خلاف اس کی شہادت دیں گے جو وہ کیا کرتے تھے۔“ اور فرمایا: «‏‏‏‏يَوْمَ تَشْهَدُ عَلَيْهِمْ اَلْسِنَتُهُمْ وَ اَيْدِيْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ» [ النور: ۲۴ ] ”جس دن ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں ان کے خلاف اس کی شہادت دیں گے جو وہ کیا کرتے تھے۔“ اس آیت پر ایک سوال ہے کہ مونہوں پر مہر کے باوجود زبانیں کیسے شہادت دیں گی؟ جواب اس کا یہ ہے کہ مہر سے مراد یہ ہے کہ اس کی زبان پر سے اس کا اختیار ختم کر دیا جائے گا اور زبان کو اپنی مرضی سے صحیح بات کہنے کا اختیار ہو گا۔
وَ لَوۡ نَشَآءُ لَطَمَسۡنَا عَلٰۤی اَعۡیُنِہِمۡ فَاسۡتَبَقُوا الصِّرَاطَ فَاَنّٰی یُبۡصِرُوۡنَ ﴿۶۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ہم چاہیں تو اِن کی آنکھیں موند دیں، پھر یہ راستے کی طرف لپک کر دیکھیں، کہاں سے اِنہیں راستہ سجھائی دے گا؟
مولانا محمد جوناگڑھی
اگر ہم چاہتے تو ان کی آنکھیں بے نور کر دیتے پھر یہ رستے کی طرف دوڑتے پھرتے لیکن انہیں کیسے دکھائی دیتا؟
احمد رضا خان بریلوی
اور اگر ہم چاہتے تو ان کی آنکھیں مٹادیتے پھر لپک کر رستہ کی طرف جاتے تو انہیں کچھ نہ سوجھتا
علامہ محمد حسین نجفی
اور اگر ہم چاہتے تو ان کی آنکھوں کو مٹا دیتے پھر وہ راستہ کی طرف دوڑتے تو ان کو کہاں نظر آتا؟
عبدالسلام بن محمد
اور اگر ہم چاہیں تو یقینا ان کی آنکھیں مٹا دیں، پھر وہ راستے کی طرف بڑھیں تو کیسے دیکھیں گے؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اعضاء کی گواہی ٭٭

جہنم بھڑکتی ہوئی اور شعلے مارتی ہوئی چیختی ہوئی اور چلاتی ہوئی سامنے ہو گی اور کفار سے کہا جائے گا کہ یہی وہ جہنم ہے جس کا ذکر میرے رسول کیا کرتے تھے جس سے وہ ڈرایا کرتے تھے اور تم انہیں جھٹلاتے تھے۔ لو اب اپنے اس کفر کا مزہ چکھو اٹھو اس میں کود پڑو، چنانچہ اور آیت میں ہے «يَوْمَ يُدَعُّونَ إِلَىٰ نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا هَـٰذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنتُم بِهَا تُكَذِّبُونَ أَفَسِحْرٌ هَـٰذَا أَمْ أَنتُمْ لَا تُبْصِرُونَ» [ 52-الطور: 13 - 15 ] ‏‏‏‏، جس دن یہ جہنم کی طرف دھکیلے جائیں گے اور کہا جائے گا یہی وہ دوزخ ہے جس کا انکار کرتے رہے ہو۔ بتاؤ تو یہ جادو ہے؟ یا تم اندھے ہو گئے ہو؟ قیامت والے دن جب یہ کفار اور منافقین اپنے گناہوں کا انکار کریں گے اور اس پر قسمیں کھا لیں گے تو اللہ ان کی زبانوں کو بند کر دے گا اور ان کے بدن کے اعضاء سچی سچی گواہی دینا شروع کر دیں گے۔

سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے کہ آپ یکایک ہنسے اور اس قدر ہنسے کہ مسوڑھے کھل گئے پھر ہم سے دریافت کرنے لگے کہ جانتے ہو میں کیوں ہنسا؟ ہم نے کہا اللہ اور اس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی خوب جانتا ہے۔ فرمایا بندہ جو اپنے رب سے قیامت کے دن جھگڑا کرے گا اس پر۔ کہے گا کہ باری تعالیٰ کیا تو نے مجھے ظلم سے بچایا نہ تھا؟ اللہ فرمائے گا ہاں، تو یہ کہے گا بس پھر میں کسی گواہ کی گواہی اپنے خلاف منظور نہیں کروں گا۔ بس میرا اپنا بدن تو میرا ہے باقی سب میرے دشمن ہیں۔ اللہ فرمائے گا اچھا یونہی سہی تو ہی اپنا گواہ سہی اور میرے بزرگ فرشتے گواہ سہی۔ چنانچہ اسی وقت زبان پر مہر لگا دی جائے گی اور اعضائے بدن سے فرمایا جائے گا بولو تم خود گواہی دو کہ تم سے اس نے کیا کیا کام لیے؟ وہ صاف کھول کھول کر سچ سچ ایک ایک بات بتا دیں گے پھر اس کی زبان کھول دی جائے گی تو یہ اپنے بدن کے جوڑوں سے کہے گا تمہارا ستیاناس ہو جائے تم ہی میرے دشمن بن بیٹھے میں تو تمہارے ہی بچاؤ کی کوشش کر رہا تھا اور تمہارے ہی فائدے کے لیے حجت بازی کر رہا تھا۔ [صحیح مسلم:2969] ‏‏‏‏

نسائی کی ایک اور حدیث میں ہے تمہیں اللہ کے سامنے بلایا جائے گا جبکہ زبان بند ہو گی سب سے پہلے رانوں اور ہتھیلیوں سے سوال ہو گا۔ [نسائی فی السنن الکبرٰی:11469] ‏‏‏‏ قیامت کی ایک طویل حدیث میں ہے کہ پھر تیسرے موقعہ پر اس سے کہا جائے گا کہ تو کیا ہے؟ یہ کہے گا تیرا بندہ ہوں تجھ پر تیری نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر تیری کتاب پر ایمان لایا تھا روزے نماز زکوٰۃ وغیرہ کا پابند تھا اور بھی بہت سی اپنی نیکیاں بیان کر جائے گا اس وقت اس سے کہا جائے گا، اچھا ٹھہر جا ہم گواہ لاتے ہیں یہ سوچتا ہی ہو گا کہ گواہی میں کون پیش کیا جائے گا؟ یکایک اس کی زبان بند کر دی جائے گی اور اس کی ران سے کہا جائے گا کہ تو گواہی دے، اب ران اور ہڈیاں اور گوشت بول پڑے گا اور اس منافق کے سارے نفاق کو اور تمام پوشیدہ اعمال کو کھول کر رکھ دے گا۔ یہ سب اس لیے ہو گا کہ پھر اس کی حجت باقی نہ رہے اور اس کا عذر ٹوٹ جائے۔ چونکہ رب اس پر ناراض تھا اس لیے اس سے سختی سے بازپرس ہوئی۔ [صحیح مسلم:2968] ‏‏‏‏

ایک حدیث میں ہے منہ پر مہر لگنے کے بعد سب سے پہلے انسان کی بائیں ران بولے گی۔ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ مومن کو بلا کر اس کے گناہ اس کے سامنے پیش کر کے فرمائے گا، کہو یہ ٹھیک ہے؟ یہ کہے گا ہاں اللہ سب درست ہے بیشک مجھ سے یہ خطائیں سرزد ہوئی ہیں۔ اللہ فرمائے گا اچھا ہم نے سب بخش دیں، لیکن یہ گفتگو اس طرح ہو گی کہ کسی ایک کو بھی اس کا مطلق علم نہ ہو گا اس کا ایک گناہ بھی مخلوق میں سے کسی پر ظاہر نہ ہو گا۔ اب اس کی نیکیاں لائی جائیں گی اور انہیں کھول کھول کر ساری مخلوق کے سامنے جتا جتا کر رکھی جائیں گی۔

[ اے ستار العیوب اے غفار الذنوب تو ہم گناہ گاروں کی پردہ پوشی کر اور ہم مجرموں سے در گزر فرما۔ اللہ اس دن ہمیں رسوا اور ذلیل نہ کر اور اپنے دامن رحمت میں ڈھانپ لے۔ اے ذرہ نواز اللہ عزو جل! اپنی بےپایاں بخشش کی موسلا دھار بارش کا ایک قطرہ ادھر بھی برسا دے اور ہمارے تمام گناہوں کو دھو ڈال، پروردگار ایک نظر رحمت ادھر بھی، مالک الملک ہم بھی تیری چشم رحمت کے منتظر ہیں، اے غفور و رحیم اللہ کیا تیرے در سے بھی کوئی سوالی خالی جھولی لے کر ناامید ہو کر آج تک لوٹا ہے؟ رحم کر رحم کر رحم کر۔ اے مالک و خالق رحم کر اپنے انتقام سے بچا اپنے غصے سے نجات دے اپنی رحمتوں سے نواز دے اپنے عذابوں سے چھٹکارا دے اپنی جنت میں پہنچا دے، اپنے دیدار سے مشرف فرما۔ آمین آمین ] ‏‏‏‏۔ اور کافر و منافق کو بلایا جائے گا اس کے بد اعمال اس کے سامنے رکھے جائیں گے اور اس سے کہا جائے گا کہو یہ ٹھیک ہے؟ یہ صاف انکار کر جائے گا اور کڑکڑاتی ہوئی قسمیں کھانے لگے گا۔ کہ اللہ تعالیٰ تیرے ان فرشتوں نے جھوٹی تحریر لکھی ہے میں نے ہرگز یہ گناہ نہیں کئے، فرشتہ کہے گا ہائیں ہائیں کیا کہہ رہا ہے؟ کیا فلاں دن فلاں جگہ تو نے فلاں کام نہیں کیا؟ یہ کہے گا اللہ تیری عزت کی قسم محض جھوٹ ہے میں نے ہرگز نہیں کیا؟ اب اللہ تعالیٰ اس کی زبان بندی کر دے گا، غالباً سب سے پہلے اس کی دائیں ران اس کے خلاف شہادت دے گی، یہی مضمون اس آیت میں بیان ہو رہا ہے۔

پھر فرماتا ہے اگر ہم چاہتے تو انہیں گمراہ کر دیتے اور پھر یہ کبھی ہدایت نہ حاصل کر سکتے۔ اگر ہم چاہتے ان کی آنکھیں اندھی کر دیتے تو یہ یونہی بھٹکتے پھرتے۔ ادھر ادھر راستے ٹٹولتے۔ حق کو نہ دیکھ سکتے، نہ صحیح راستے پر پہنچ سکتے اور اگر ہم چاہتے تو انہیں ان کے مکانوں میں ہی مسخ کر دیتے ان کی صورتیں بدل دیتے انہیں ہلاک کر دیتے انہیں پتھر کے بنا دیتے، ان کی ٹانگیں توڑ دیتے۔ پھر تو نہ وہ چل سکتے یعنی آگے کو نہ وہ لوٹ سکتے یعنی پیچھے کو بلکہ بت کی طرح ایک ہی جگہ بیٹھے رہتے، آگے پیچھے نہ ہو سکتے۔
66۔ 1 یعنی بینائی سے محرومی کے بعد انہیں راستہ کس طرح دکھائی دیتا؟ لیکن یہ ہمارا حلم و کرم ہے کہ ہم نے ایسا نہیں کیا۔
(آیت 66) ➊ {وَ لَوْ نَشَآءُ لَطَمَسْنَا عَلٰۤى اَعْيُنِهِمْ …:} پچھلی دو آیتوں کے ساتھ ان دو آیات کا تعلق یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ وہ قیامت کے دن شرک سے انکار کے بعد اس کے اعتراف پر مجبور ہو جائیں گے، تو اس سے دل میں خیال گزرتا ہے کہ کاش! دنیا میں بھی انھیں اسی طرح اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کے رسولوں کی تصدیق پر مجبور کر دیا جاتا۔ تو اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ اگر ہمارا ارادہ یہ ہوتا تو ہم ایسا کر دیتے اور کفرو شرک کرنے والوں کو فوراً پکڑ لیتے، تاکہ وہ اپنے کفرو شرک سے باز آ جائیں، مگر ہم نے دنیا کو دارالامتحان بنایا ہے اور ہر ایک کو عمل کی مہلت دی ہے۔ (ابن عاشور) ➋ {”طَمَسَ يَطْمِسُ“} (ض) کا معنی ”مٹانا“ ہے، لفظ {” عَلٰۤى “} کے بغیر بھی اس کا معنی یہی ہے، {” عَلٰۤى “} کے لفظ سے مراد مٹانے میں مبالغہ ہے۔ یعنی اگر ہم چاہیں تو ان کی آنکھیں سرے ہی سے مٹا دیں، پھر وہ راستے کی طرف بڑھیں تو اسے کس طرح دیکھیں گے۔ {” لَوْ “} کا لفظ شرط کے نہ ہونے کی وجہ سے جزا کے نہ ہونے کے لیے ہوتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ”لیکن ہم نے یہ نہیں چاہا تو ایسا نہیں ہوا، بلکہ ہم نے انھیں ان کی تمام تر نافرمانیوں کے باوجود ایک وقت تک مہلت دی ہے۔“
وَ لَوۡ نَشَآءُ لَمَسَخۡنٰہُمۡ عَلٰی مَکَانَتِہِمۡ فَمَا اسۡتَطَاعُوۡا مُضِیًّا وَّ لَا یَرۡجِعُوۡنَ ﴿٪۶۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ہم چاہیں تو اِنہیں اِن کی جگہ ہی پر اس طرح مسخ کر کے رکھ دیں کہ یہ نہ آگے چل سکیں نہ پیچھے پلٹ سکیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اگر ہم چاہتے تو ان کی جگہ ہی پر ان کی صورتیں مسﺦ کر دیتے پھر نہ وه چل پھر سکتے اور نہ لوٹ سکتے
احمد رضا خان بریلوی
اور اگر ہم چاہتے تو ان کے گھر بیٹھے ان کی صورتیں بدل دیتے نہ آگے بڑھ سکتے نہ پیچھے لوٹتے
علامہ محمد حسین نجفی
اور اگر ہم چاہتے تو انہیں ان کی جگہ پر مسخ کرکے رکھ دیتے کہ نہ آگے بڑھ سکتے اور نہ پیچھے پلٹ سکتے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اگر ہم چاہیں تو یقینا ان کی جگہ ہی پر ان کی صورتیں بدل دیں، پھر نہ وہ (آگے) چل سکیں اور نہ واپس آئیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اعضاء کی گواہی ٭٭

جہنم بھڑکتی ہوئی اور شعلے مارتی ہوئی چیختی ہوئی اور چلاتی ہوئی سامنے ہو گی اور کفار سے کہا جائے گا کہ یہی وہ جہنم ہے جس کا ذکر میرے رسول کیا کرتے تھے جس سے وہ ڈرایا کرتے تھے اور تم انہیں جھٹلاتے تھے۔ لو اب اپنے اس کفر کا مزہ چکھو اٹھو اس میں کود پڑو، چنانچہ اور آیت میں ہے «يَوْمَ يُدَعُّونَ إِلَىٰ نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا هَـٰذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنتُم بِهَا تُكَذِّبُونَ أَفَسِحْرٌ هَـٰذَا أَمْ أَنتُمْ لَا تُبْصِرُونَ» [ 52-الطور: 13 - 15 ] ‏‏‏‏، جس دن یہ جہنم کی طرف دھکیلے جائیں گے اور کہا جائے گا یہی وہ دوزخ ہے جس کا انکار کرتے رہے ہو۔ بتاؤ تو یہ جادو ہے؟ یا تم اندھے ہو گئے ہو؟ قیامت والے دن جب یہ کفار اور منافقین اپنے گناہوں کا انکار کریں گے اور اس پر قسمیں کھا لیں گے تو اللہ ان کی زبانوں کو بند کر دے گا اور ان کے بدن کے اعضاء سچی سچی گواہی دینا شروع کر دیں گے۔

سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے کہ آپ یکایک ہنسے اور اس قدر ہنسے کہ مسوڑھے کھل گئے پھر ہم سے دریافت کرنے لگے کہ جانتے ہو میں کیوں ہنسا؟ ہم نے کہا اللہ اور اس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی خوب جانتا ہے۔ فرمایا بندہ جو اپنے رب سے قیامت کے دن جھگڑا کرے گا اس پر۔ کہے گا کہ باری تعالیٰ کیا تو نے مجھے ظلم سے بچایا نہ تھا؟ اللہ فرمائے گا ہاں، تو یہ کہے گا بس پھر میں کسی گواہ کی گواہی اپنے خلاف منظور نہیں کروں گا۔ بس میرا اپنا بدن تو میرا ہے باقی سب میرے دشمن ہیں۔ اللہ فرمائے گا اچھا یونہی سہی تو ہی اپنا گواہ سہی اور میرے بزرگ فرشتے گواہ سہی۔ چنانچہ اسی وقت زبان پر مہر لگا دی جائے گی اور اعضائے بدن سے فرمایا جائے گا بولو تم خود گواہی دو کہ تم سے اس نے کیا کیا کام لیے؟ وہ صاف کھول کھول کر سچ سچ ایک ایک بات بتا دیں گے پھر اس کی زبان کھول دی جائے گی تو یہ اپنے بدن کے جوڑوں سے کہے گا تمہارا ستیاناس ہو جائے تم ہی میرے دشمن بن بیٹھے میں تو تمہارے ہی بچاؤ کی کوشش کر رہا تھا اور تمہارے ہی فائدے کے لیے حجت بازی کر رہا تھا۔ [صحیح مسلم:2969] ‏‏‏‏

نسائی کی ایک اور حدیث میں ہے تمہیں اللہ کے سامنے بلایا جائے گا جبکہ زبان بند ہو گی سب سے پہلے رانوں اور ہتھیلیوں سے سوال ہو گا۔ [نسائی فی السنن الکبرٰی:11469] ‏‏‏‏ قیامت کی ایک طویل حدیث میں ہے کہ پھر تیسرے موقعہ پر اس سے کہا جائے گا کہ تو کیا ہے؟ یہ کہے گا تیرا بندہ ہوں تجھ پر تیری نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر تیری کتاب پر ایمان لایا تھا روزے نماز زکوٰۃ وغیرہ کا پابند تھا اور بھی بہت سی اپنی نیکیاں بیان کر جائے گا اس وقت اس سے کہا جائے گا، اچھا ٹھہر جا ہم گواہ لاتے ہیں یہ سوچتا ہی ہو گا کہ گواہی میں کون پیش کیا جائے گا؟ یکایک اس کی زبان بند کر دی جائے گی اور اس کی ران سے کہا جائے گا کہ تو گواہی دے، اب ران اور ہڈیاں اور گوشت بول پڑے گا اور اس منافق کے سارے نفاق کو اور تمام پوشیدہ اعمال کو کھول کر رکھ دے گا۔ یہ سب اس لیے ہو گا کہ پھر اس کی حجت باقی نہ رہے اور اس کا عذر ٹوٹ جائے۔ چونکہ رب اس پر ناراض تھا اس لیے اس سے سختی سے بازپرس ہوئی۔ [صحیح مسلم:2968] ‏‏‏‏

ایک حدیث میں ہے منہ پر مہر لگنے کے بعد سب سے پہلے انسان کی بائیں ران بولے گی۔ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ مومن کو بلا کر اس کے گناہ اس کے سامنے پیش کر کے فرمائے گا، کہو یہ ٹھیک ہے؟ یہ کہے گا ہاں اللہ سب درست ہے بیشک مجھ سے یہ خطائیں سرزد ہوئی ہیں۔ اللہ فرمائے گا اچھا ہم نے سب بخش دیں، لیکن یہ گفتگو اس طرح ہو گی کہ کسی ایک کو بھی اس کا مطلق علم نہ ہو گا اس کا ایک گناہ بھی مخلوق میں سے کسی پر ظاہر نہ ہو گا۔ اب اس کی نیکیاں لائی جائیں گی اور انہیں کھول کھول کر ساری مخلوق کے سامنے جتا جتا کر رکھی جائیں گی۔

[ اے ستار العیوب اے غفار الذنوب تو ہم گناہ گاروں کی پردہ پوشی کر اور ہم مجرموں سے در گزر فرما۔ اللہ اس دن ہمیں رسوا اور ذلیل نہ کر اور اپنے دامن رحمت میں ڈھانپ لے۔ اے ذرہ نواز اللہ عزو جل! اپنی بےپایاں بخشش کی موسلا دھار بارش کا ایک قطرہ ادھر بھی برسا دے اور ہمارے تمام گناہوں کو دھو ڈال، پروردگار ایک نظر رحمت ادھر بھی، مالک الملک ہم بھی تیری چشم رحمت کے منتظر ہیں، اے غفور و رحیم اللہ کیا تیرے در سے بھی کوئی سوالی خالی جھولی لے کر ناامید ہو کر آج تک لوٹا ہے؟ رحم کر رحم کر رحم کر۔ اے مالک و خالق رحم کر اپنے انتقام سے بچا اپنے غصے سے نجات دے اپنی رحمتوں سے نواز دے اپنے عذابوں سے چھٹکارا دے اپنی جنت میں پہنچا دے، اپنے دیدار سے مشرف فرما۔ آمین آمین ] ‏‏‏‏۔ اور کافر و منافق کو بلایا جائے گا اس کے بد اعمال اس کے سامنے رکھے جائیں گے اور اس سے کہا جائے گا کہو یہ ٹھیک ہے؟ یہ صاف انکار کر جائے گا اور کڑکڑاتی ہوئی قسمیں کھانے لگے گا۔ کہ اللہ تعالیٰ تیرے ان فرشتوں نے جھوٹی تحریر لکھی ہے میں نے ہرگز یہ گناہ نہیں کئے، فرشتہ کہے گا ہائیں ہائیں کیا کہہ رہا ہے؟ کیا فلاں دن فلاں جگہ تو نے فلاں کام نہیں کیا؟ یہ کہے گا اللہ تیری عزت کی قسم محض جھوٹ ہے میں نے ہرگز نہیں کیا؟ اب اللہ تعالیٰ اس کی زبان بندی کر دے گا، غالباً سب سے پہلے اس کی دائیں ران اس کے خلاف شہادت دے گی، یہی مضمون اس آیت میں بیان ہو رہا ہے۔

پھر فرماتا ہے اگر ہم چاہتے تو انہیں گمراہ کر دیتے اور پھر یہ کبھی ہدایت نہ حاصل کر سکتے۔ اگر ہم چاہتے ان کی آنکھیں اندھی کر دیتے تو یہ یونہی بھٹکتے پھرتے۔ ادھر ادھر راستے ٹٹولتے۔ حق کو نہ دیکھ سکتے، نہ صحیح راستے پر پہنچ سکتے اور اگر ہم چاہتے تو انہیں ان کے مکانوں میں ہی مسخ کر دیتے ان کی صورتیں بدل دیتے انہیں ہلاک کر دیتے انہیں پتھر کے بنا دیتے، ان کی ٹانگیں توڑ دیتے۔ پھر تو نہ وہ چل سکتے یعنی آگے کو نہ وہ لوٹ سکتے یعنی پیچھے کو بلکہ بت کی طرح ایک ہی جگہ بیٹھے رہتے، آگے پیچھے نہ ہو سکتے۔
67۔ 1 یعنی نہ آگے جاسکتے، نہ پیچھے لوٹ سکتے، بلکہ پتھر کی طرح ایک جگہ پڑے رہتے۔ مسخہ کے معنی پیدائش میں تبدیلی کے ہیں، یعنی انسان سے پتھر یا جانور کی شکل میں تبدیل کردینا۔
(آیت 67) {وَ لَوْ نَشَآءُ لَمَسَخْنٰهُمْ عَلٰى مَكَانَتِهِمْ …:} مسخ کا معنی ہے انسان کی شکل اس کے علاوہ کسی اور شکل میں بدل دینا، مثلاً اسے بندر یا خنزیر یا پتھر بنا دینا۔ {”مَكَانَةٌ“ ”مَكَانٌ“} (جگہ) کی مؤنث ہے ({بُقْعَةٌ} کی تاویل کے ساتھ)، یعنی اور اگر ہم چاہیں تو (جب وہ کفر و شرک کا ارتکاب کریں) انھیں زمین کے عین اسی ٹکڑے پر مسخ کر دیں، پھر نہ وہ آگے جا سکیں اور نہ گھر واپس جا سکیں (مگر ہم نے یہ نہیں چاہا …)۔
وَ مَنۡ نُّعَمِّرۡہُ نُنَکِّسۡہُ فِی الۡخَلۡقِ ؕ اَفَلَا یَعۡقِلُوۡنَ ﴿۶۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جس شخص کو ہم لمبی عمر دیتے ہیں اس کی ساخت کو ہم الٹ ہی دیتے ہیں، کیا (یہ حالات دیکھ کر) انہیں عقل نہیں آتی؟
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جسے ہم بوڑھا کرتے ہیں اسے پیدائشی حالت کی طرف پھر الٹ دیتے ہیں کیا پھر بھی وه نہیں سمجھتے
احمد رضا خان بریلوی
اور جسے ہم بڑی عمر کا کریں اسے پیدائش میں الٹا پھیریں تو کیا سمجھے نہیں
علامہ محمد حسین نجفی
اور جس کو ہم لمبی عمر دیتے ہیں اسے خلقت (ساخت) میں الٹ دیتے ہیں کیا وہ عقل سے کام نہیں لیتے؟
عبدالسلام بن محمد
اور جسے ہم زیادہ عمر دیتے ہیں اسے بناوٹ میں الٹا کر دیتے ہیں، تو کیا یہ نہیں سمجھتے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
شاعری پیغمبرانہ شان کے منافی ٭٭

انسان کی جوانی جوں جوں ڈھلتی ہے پیری، ضعیفی، کمزوری اور ناتوانی آتی جاتی ہے، جیسے سورۃ الروم کی آیت میں ہے۔ «اَللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ ﮨـعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ ﮨـعْفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ قُوَّةٍ ﮨـعْفًا وَّشَيْبَةً يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ وَهُوَ الْعَلِيْمُ الْقَدِيْرُ» [ 30- الروم: 54 ] ‏‏‏‏، اللہ وہ ہے جس نے تمہیں ناتوانی کی حالت میں پیدا کیا۔ پھر ناتوانی کے بعد طاقت عطا فرمائی پھر طاقت و قوت کے بعد ضعف اور بڑھاپا کر دیا، وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور وہ خوب جاننے والا پوری قدرت رکھنے والا ہے۔ اور آیت میں ہے «وَمِنكُم مَّن يُرَدُّ إِلَىٰ أَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَيْلَا يَعْلَمَ مِن بَعْدِ عِلْمٍ شَيْئًا» [ 22-الحج: 5 ] ‏‏‏‏ ہم تم میں سے بعض بہت بڑی عمر کی طرف لوٹائے جاتے ہیں تاکہ علم کے بعد وہ بےعلم ہو جائیں۔ پس مطلب آیت سے یہ ہے کہ دنیا زوال اور انتقال کی جگہ ہے یہ پائیدار اور قرار گاہ نہیں، پھر بھی کیا یہ لوگ عقل نہیں رکھتے کہ اپنے بچپن، پھر جوانی، پھر بڑھاپے پر غور کریں اور اس سے نتیجہ نکال لیں کہ اس دنیا کے بعد آخرت آنے والی ہے اور اس زندگی کے بعد میں دوبارہ پیدا ہونا ہے۔

پھر فرمایا نہ تو میں نے اپنے پیغمبر کو شاعری سکھائی نہ شاعری اس کے شایان شان نہ اسے شعر گوئی سے محبت نہ شعر اشعار کی طرف اس کی طبیعت کا میلان۔ اسی کا ثبوت آپ کی زندگی میں نمایاں طور پر ملتا ہے کہ کسی کاشعر پڑھتے تھے تو صحیح طور پر ادا نہیں ہوتا تھا یا پورا یاد نہیں ہوتا تھا۔ حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اولاد عبدالمطلب کا ہر مرد عورت شعر کہنا جانتا تھا مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے کوسوں دور تھے۔ [ ابن اعساکر ] ‏‏‏‏ ایک بار اللہ کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ شعر پڑھا كفى بالاسلام والشيب للمرء ناهيا اس پر سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح نہیں بلکہ یوں ہے كفى الشيب ولاسلام للمرء ناھیاًٍ پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ہی یا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا سچ مچ آپ اللہ کے رسول ہیں اللہ نے سچ فرمایا [وَمَا عَلَّمْنَاهُ الشِّعْرَ وَمَا يَنبَغِي لَهُ إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرٌ وَقُرْآنٌ مُّبِينٌ ] ‏‏‏‏۔ «‏‏‏‏الدار المنثور للسیوطی:505/5،ضعیف» دلائل بیہقی میں ہے کہ آپ نے ایک مرتبہ سیدنا عباس بن مرداس سلمی رضی اللہ عنہ سے فرمایا تم نے بھی تو یہ شعر کہا ہے؟ «تجعل نھبی و نھب العبید، بین الاقرع و عینیتہ» انہوں نے کہایا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم دراصل یوں ہے «بین عینیتہ» والا قرع آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چلو سب برابر ہے مطلب تو فوت نہیں ہوتا؟ صلوات اللہ و سلامہ علیہ۔ [دلائل النبوۃ للبیهقی:179/5:مرسل] ‏‏‏‏ سہیلی نے روض الانف میں اس تقدیم تاخیر کی ایک عجیب توجیہ کی ہے وہ کہتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اقرع کو پہلے اور عیینہ کو بعد میں اس لیے ذکر کیا کہ عیینہ خلافت صدیقی میں مرتد ہو گیا تھا بخلاف اقرع کے کہ وہ ثابت قدم رہا تھا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

مغازی میں ہے کہ بدر کے مقتول کافروں کے درمیان گشت لگاتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے نکلا «نفلق ھاما» [ آگے کچھ نہ فرما سکے۔ اس پر جناب ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پورا شعر پڑھ دیا ] ‏‏‏‏۔ «من رجال اعزۃ علینا وھم کانوا اعق واظلما» یہ کسی عرب شاعر کا شعر ہے جو حماسہ میں موجود ہے۔ مسند احمد میں ہے کبھی کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم طرفہ کا یہ شعر بہت پڑھتے تھے ویاتیک بالا خبار من لم تزود اس کا پہلا مصرعہ یہ ہے «ستبدی لک الا یام ما کنت جاہلا» یعنی زمانہ تجھ پر وہ امور ظاہر کر دے گا جن سے تو بیخبر ہے اور تیرے پاس ایسا شخص خبریں لائے گا جسے تو نے توشہ نہیں دیا، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال ہوا کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شعر پڑھتے تھے، آپ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ سب سے زیادہ بغض آپ کو شعروں سے تھا ہاں کبھی کبھی بنو قیس والے کا کوئی شعر پڑھتے لیکن اس میں بھی غلطی کرتے تقدیم تاخیر کر دیا کرتے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ فرماتے یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم یوں نہیں ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے نہ شاعر ہوں نہ شعر گوئی میرے شایان شان ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:29229:مرسل و منقطع] ‏‏‏‏

دوسری روایت میں شعر اور آگے پیچھے کا ذکر بھی ہے یعنی «ویاتیک بالا خبار مالم تذود» کو آپصلی اللہ علیہ وسلم نے «من لم تزود الاخبار» پڑھا تھا، بیہقی کی ایک روایت میں ہے کہ پورا شعر کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں پڑھا زیادہ سے زیادہ ایک مصرعہ پڑھ لیتے تھے۔ (‏‏‏‏بیہقی فی السنن الکبری [43/7] ‏‏‏‏ضعیف)‏‏‏‏‏‏‏‏ صحیح حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خندق کھودتے ہوئے سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کے اشعار پڑھے۔ سو یاد رہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ پڑھنا صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ تھا۔ وہ اشعار یہ ہیں۔ «لاھم لو لاانت ما اھتدینا ولا تصدقناولاً صلینا فانذلن سکینتہ علینا وثبت الاقدام ان لا قینا ان الاولیٰ قد بغوا علینا اذا ارادوا فتنتہ ابینا» حضور لفظ ابینا کو کھینچ کر پڑھتے اور سارے ہی بلند آواز سے پڑھتے، [صحیح بخاری:4104] ‏‏‏‏ ترجمہ ان اشعار کا یہ ہے کوئی غم نہیں اگر تو نہ ہوتا تو ہم ہدایت یافتہ نہ ہوتے نہ صدقے دیتے اور نہ نمازیں پڑھتے۔ اب تو ہم پر تسکین نازل فرما۔ جب دشمنوں سے لڑائی چھڑ جائے تو ہمیں ثابت قدمی عطا فرما، یہی لوگ ہم پر سرکشی کرتے ہیں ہاں جب کبھی فتنے کا ارادہ کرتے ہیں تو ہم انکار کرتے ہیں اسی طرح ثابت ہے کہ حنین والے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خچر کو دشمنوں کی طرف بڑھاتے ہوئے فرمایا۔ «انا النبی لا کذب انا ابن عبدالمطلب» [صحیح بخاری:4315] ‏‏‏‏ اس کی بابت یہ یاد رہے کہ اتفاقیہ ایک کلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے نکل گیا جو وزن شعر پر اترا۔ نہ کہ قصداً آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شعر کہا، سیدنا جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غار میں تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلی زخمی ہو گئی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ «ھل انت الا اصبح دمیت وفی سبیل اللہ ما لقیت» یعنی تو ایک انگلی ہی تو ہے۔ اور تو راہ اللہ میں خون آلود ہوئی ہے۔ [صحیح بخاری:2802] ‏‏‏‏ یہ بھی اتفاقیہ ہے قصداً نہیں۔ اسی طرح ایک حدیث «إِلَّا اللَّمَمَ إِنَّ رَبَّكَ وَاسِعُ الْمَغْفِرَةِ» [ 53- النجم: 32 ] ‏‏‏‏ کی تفسیر میں آئے گی کہ آپ نے فرمایا۔ «ان تغفر اللھم تغفر جما وای عبدلک ما الما» یعنی اے اللہ تو جب بخشے تو ہمارے سبھی کے سب گناہ بخش دے، ورنہ یوں تو تیرا کوئی بندہ نہیں جو چھوٹی چھوٹی لغزشوں سے بھی پاک ہو پس یہ سب کے سب اس آیت کے منافی نہیں کیونکہ اللہ کی تعلیم آپ کو شعر گوئی کی نہ تھی۔ بلکہ رب العالمین نے تو آپ کو قرآن عظیم کی تعلیم دی تھی «لَّا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهِ تَنزِيلٌ مِّنْ حَكِيمٍ حَمِيدٍ» [ 41-فصلت: 42 ] ‏‏‏‏ جس کے پاس بھی باطل پھٹک نہیں سکتا۔ قرآن حکیم کی یہ پاک نظم شاعری سے منزلوں دور تھی۔ اسی طرح کہانت سے اور گھڑ لینے سے اور جادو کے کلمات سے جیسے کہ کفار کے مختلف گروہ مختلف بولیاں بولتے تھے۔ آپ کی تو طبیعت ان لسانی صنعتوں سے معصوم تھی۔ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ ابوداؤد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے نزدیک یہ تینوں باتیں برابر ہیں، تریاق کا پینا، گنڈے کا لٹکانا اور شعر بنانا۔ [سنن ابوداود:3869،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں شعر گوئی سے آپ کو طبعاً نفرت تھی۔ دعا میں آپ کو جامع کلمات پسند آتے تھے اور اس کے سوا چھوڑ دیتے تھے۔ [مسند احمد:189/6:صحیح] ‏‏‏‏

ترمذی میں ہے میں ہے کسی کا پیٹ پیپ سے بھر جانا اس کے لیے شعروں سے بھر لینے سے بہتر ہے۔ [سنن ترمذي:2852،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ مسند احمد کی ایک غریب حدیث میں ہے جس نے عشاء کی نماز کے بعد کسی شعر کا ایک مصرع بھی باندھا اس کی اس رات کی نماز نامقبول ہے۔ [مسند احمد:125/4:ضعیف جدا] ‏‏‏‏ یہ یاد رہے کہ شعر گوئی کی قسمیں ہیں، مشرکوں کی ہجو میں شعر کہنے مشروع ہیں۔ سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ، سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ، سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ وغیرہ جیسے اکابرین صحابہ نے کفار کی ہجو میں اشعار کے کلام میں ایسے اشعار پائے جاتے ہیں۔ چنانچہ امیہ بن صلت کے اشعار کی بابت فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ اس کے شعر تو ایمان لا چکے ہیں لیکن اس کا دل کافر ہی رہا۔ ایک صحابی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو امیہ کے ایک سو بیت سنائے ہر بیت کے بعد آپ فرماتے تھے اور کہو۔ ابوداؤد میں حضور کا ارشاد ہے کہ بعض بیان مثل جادو کے ہیں اور بعض شعر سراسر حکمت والے ہیں۔ [سنن ابوداود:5010،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏

پس فرمان ہے کہ جو کچھ ہم نے انہیں سکھایا ہے وہ سراسر ذکر و نصیحت اور واضح صاف اور روشن قرآن ہے، جو شخص ذرا سا بھی غور کرے اس پر یہ کھل جاتا ہے۔ تاکہ روئے زمین پر جتنے لوگ موجود ہیں یہ ان سب کو آگاہ کر دے اور ڈرا دے جیسے فرمایا «لِاُنْذِرَكُمْ بِهٖ وَمَنْ بَلَغَ» [ 6- الانعام: 19 ] ‏‏‏‏ تاکہ میں تمہیں اس کے ساتھ ڈرا دوں اور جسے بھی یہ پہنچ جائے۔ اور آیت میں ہے «وَمَنْ يَّكْفُرْ بِهٖ مِنَ الْاَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهٗ» [ 11-ھود: 17 ] ‏‏‏‏ یعنی جماعتوں میں سے جو بھی اسے نہ مانے وہ سزاوار دوزخی ہے۔ ہاں اس قرآن سے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان سے اثر وہی لیتا ہے۔ جو زندہ دل اور اندرونی نور والا ہو۔ عقل و بصیرت رکھتا ہو اور عذاب کا قول تو کافروں پر ثابت ہے ہی۔ پس قرآن مومنوں کے لیے رحمت اور کافروں پر اتمام حجت ہے۔
68۔ 1 یعنی جس کو ہم لمبی عمر دیتے ہیں، ان کی پیدائش کو بدل کر برعکس حالت میں کردیتے ہیں۔ یعنی جب وہ بچہ ہوتا ہے تو اس کی نشو و نما جاری رہتی ہے اور اس کی عقلی اور بدنی قوتوں میں اضافہ ہوتا رہتا ہے حتٰی کہ وہ جوانی اور بڑھاپے کو پہنچ جاتا ہے۔ اس کے برعکس اس کے قوائے عقلیہ و بدنیہ میں ضعف و گھٹاؤ کا عمل شروع ہوجاتا ہے۔ حتٰی کہ وہ ایک بچے کی طرح ہوجاتا ہے۔ 68۔ 2 کہ جو اللہ اس طرح کرسکتا ہے، کیا وہ دوبارہ انسانوں کو زندہ کرنے پر قادر نہیں۔
(آیت 68) ➊ { وَ مَنْ نُّعَمِّرْهُ نُنَكِّسْهُ فِي الْخَلْقِ:} انسان کی جوانی جوں جوں ڈھلتی ہے، بڑھاپا، کمزوری اور ناتوانی آتی جاتی ہے، حتیٰ کہ وہ دوبارہ بچوں کی طرح کمزور اور ہر کام میں دوسروں کا محتاج ہو جاتا ہے۔ بڑے عالی دماغ کے باوجود سب کچھ بھول جاتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «اَللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ ضُؔعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ ضُؔعْفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ قُوَّةٍ ضُؔعْفًا وَّ شَيْبَةً يَخْلُقُ مَا يَشَآءُ وَ هُوَ الْعَلِيْمُ الْقَدِيْرُ» ‏‏‏‏ [ الروم: ۵۴ ] ”اللہ وہ ہے جس نے تمھیں کمزوری سے پیدا کیا، پھر کمزوری کے بعد قوت بنائی، پھر قوت کے بعد کمزوری اور بڑھاپا بنا دیا، وہ پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے اور وہی سب کچھ جاننے والا ہے، ہر چیز پر قادر ہے۔“ اور فرمایا: «ثُمَّ نُخْرِجُكُمْ طِفْلًا ثُمَّ لِتَبْلُغُوْۤا اَشُدَّكُمْ وَ مِنْكُمْ مَّنْ يُّتَوَفّٰى وَ مِنْكُمْ مَّنْ يُّرَدُّ اِلٰۤى اَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَيْلَا يَعْلَمَ مِنْۢ بَعْدِ عِلْمٍ شَيْـًٔا» ‏‏‏‏ [ الحج: ۵ ] ”پھر ہم تمھیں ایک بچے کی صورت میں نکالتے ہیں، پھر تاکہ تم اپنی جوانی کو پہنچو اور تم میں سے کوئی وہ ہے جو قبض کر لیا جاتا ہے اور تم میں سے کوئی وہ ہے جو سب سے نکمّی عمر کی طرف لوٹایا جاتا ہے، تاکہ وہ جاننے کے بعد کچھ نہ جانے۔“ ➋{ اَفَلَا يَعْقِلُوْنَ: } مفسرین نے پچھلی آیات کی مناسبت سے اس کی تفسیر دو طرح سے کی ہے، ایک یہ کہ زندگی کے ان انقلابات کو دیکھ کر بھی یہ لوگ نہیں سمجھتے کہ یہ انقلابات لانے والی ہستی کے لیے انسان کو دوبارہ زندہ کرنا اور قیامت برپا کرنا کچھ مشکل نہیں، بلکہ آخرت اور جزائے اعمال حق ہے۔ شاہ عبدالقادر لکھتے ہیں: ”یعنی جیسے لڑکا سست تھا، بوڑھا بھی ویسا ہی ہوا، یہ بھی نشان ہے پھر پیدا ہونے کا۔“ (موضح) دوسری تفسیر یہ کہ پھر بھی کیا یہ لوگ نہیں سمجھتے کہ جو پروردگار عمر دے کر بناوٹ میں الٹا کر دیتا ہے، وہ اس پر بھی قادر ہے کہ آنکھیں دینے کے بعد انھیں مٹا دے اور اچھی صورتیں عطا کرنے کے بعد انھیں مسخ کر دے۔
وَ مَا عَلَّمۡنٰہُ الشِّعۡرَ وَ مَا یَنۡۢبَغِیۡ لَہٗ ؕ اِنۡ ہُوَ اِلَّا ذِکۡرٌ وَّ قُرۡاٰنٌ مُّبِیۡنٌ ﴿ۙ۶۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ہم نے اِس (نبی) کو شعر نہیں سکھایا ہے اور نہ شاعری اس کو زیب ہی دیتی ہے یہ تو ایک نصیحت ہے اور صاف پڑھی جانے والی کتاب
مولانا محمد جوناگڑھی
نہ تو ہم نے اس پیغمبر کو شعر سکھائے اور نہ یہ اس کے ﻻئق ہے۔ وه تو صرف نصیحت اور واضح قرآن ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور ہم نے ان کو شعر کہنا نہ سکھایا اور نہ وہ ان کی شان کے لائق ہے، وہ تو نہیں مگر نصیحت اور روشن قرآن
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے انہیں شعر و شاعری نہیں سکھائی اور نہ ہی یہ ان کے شایانِ شان ہے یہ تو بس ایک نصیحت اور واضح قرآن ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم نے نہ اسے شعر سکھایا ہے اور نہ وہ اس کے لائق ہے۔ وہ تو سراسر نصیحت اور واضح قرآن کے سوا کچھ نہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
شاعری پیغمبرانہ شان کے منافی ٭٭

انسان کی جوانی جوں جوں ڈھلتی ہے پیری، ضعیفی، کمزوری اور ناتوانی آتی جاتی ہے، جیسے سورۃ الروم کی آیت میں ہے۔ «اَللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ ﮨـعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ ﮨـعْفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ قُوَّةٍ ﮨـعْفًا وَّشَيْبَةً يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ وَهُوَ الْعَلِيْمُ الْقَدِيْرُ» [ 30- الروم: 54 ] ‏‏‏‏، اللہ وہ ہے جس نے تمہیں ناتوانی کی حالت میں پیدا کیا۔ پھر ناتوانی کے بعد طاقت عطا فرمائی پھر طاقت و قوت کے بعد ضعف اور بڑھاپا کر دیا، وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور وہ خوب جاننے والا پوری قدرت رکھنے والا ہے۔ اور آیت میں ہے «وَمِنكُم مَّن يُرَدُّ إِلَىٰ أَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَيْلَا يَعْلَمَ مِن بَعْدِ عِلْمٍ شَيْئًا» [ 22-الحج: 5 ] ‏‏‏‏ ہم تم میں سے بعض بہت بڑی عمر کی طرف لوٹائے جاتے ہیں تاکہ علم کے بعد وہ بےعلم ہو جائیں۔ پس مطلب آیت سے یہ ہے کہ دنیا زوال اور انتقال کی جگہ ہے یہ پائیدار اور قرار گاہ نہیں، پھر بھی کیا یہ لوگ عقل نہیں رکھتے کہ اپنے بچپن، پھر جوانی، پھر بڑھاپے پر غور کریں اور اس سے نتیجہ نکال لیں کہ اس دنیا کے بعد آخرت آنے والی ہے اور اس زندگی کے بعد میں دوبارہ پیدا ہونا ہے۔

پھر فرمایا نہ تو میں نے اپنے پیغمبر کو شاعری سکھائی نہ شاعری اس کے شایان شان نہ اسے شعر گوئی سے محبت نہ شعر اشعار کی طرف اس کی طبیعت کا میلان۔ اسی کا ثبوت آپ کی زندگی میں نمایاں طور پر ملتا ہے کہ کسی کاشعر پڑھتے تھے تو صحیح طور پر ادا نہیں ہوتا تھا یا پورا یاد نہیں ہوتا تھا۔ حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اولاد عبدالمطلب کا ہر مرد عورت شعر کہنا جانتا تھا مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے کوسوں دور تھے۔ [ ابن اعساکر ] ‏‏‏‏ ایک بار اللہ کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ شعر پڑھا كفى بالاسلام والشيب للمرء ناهيا اس پر سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح نہیں بلکہ یوں ہے كفى الشيب ولاسلام للمرء ناھیاًٍ پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ہی یا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا سچ مچ آپ اللہ کے رسول ہیں اللہ نے سچ فرمایا [وَمَا عَلَّمْنَاهُ الشِّعْرَ وَمَا يَنبَغِي لَهُ إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرٌ وَقُرْآنٌ مُّبِينٌ ] ‏‏‏‏۔ «‏‏‏‏الدار المنثور للسیوطی:505/5،ضعیف» دلائل بیہقی میں ہے کہ آپ نے ایک مرتبہ سیدنا عباس بن مرداس سلمی رضی اللہ عنہ سے فرمایا تم نے بھی تو یہ شعر کہا ہے؟ «تجعل نھبی و نھب العبید، بین الاقرع و عینیتہ» انہوں نے کہایا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم دراصل یوں ہے «بین عینیتہ» والا قرع آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چلو سب برابر ہے مطلب تو فوت نہیں ہوتا؟ صلوات اللہ و سلامہ علیہ۔ [دلائل النبوۃ للبیهقی:179/5:مرسل] ‏‏‏‏ سہیلی نے روض الانف میں اس تقدیم تاخیر کی ایک عجیب توجیہ کی ہے وہ کہتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اقرع کو پہلے اور عیینہ کو بعد میں اس لیے ذکر کیا کہ عیینہ خلافت صدیقی میں مرتد ہو گیا تھا بخلاف اقرع کے کہ وہ ثابت قدم رہا تھا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

مغازی میں ہے کہ بدر کے مقتول کافروں کے درمیان گشت لگاتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے نکلا «نفلق ھاما» [ آگے کچھ نہ فرما سکے۔ اس پر جناب ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پورا شعر پڑھ دیا ] ‏‏‏‏۔ «من رجال اعزۃ علینا وھم کانوا اعق واظلما» یہ کسی عرب شاعر کا شعر ہے جو حماسہ میں موجود ہے۔ مسند احمد میں ہے کبھی کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم طرفہ کا یہ شعر بہت پڑھتے تھے ویاتیک بالا خبار من لم تزود اس کا پہلا مصرعہ یہ ہے «ستبدی لک الا یام ما کنت جاہلا» یعنی زمانہ تجھ پر وہ امور ظاہر کر دے گا جن سے تو بیخبر ہے اور تیرے پاس ایسا شخص خبریں لائے گا جسے تو نے توشہ نہیں دیا، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال ہوا کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شعر پڑھتے تھے، آپ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ سب سے زیادہ بغض آپ کو شعروں سے تھا ہاں کبھی کبھی بنو قیس والے کا کوئی شعر پڑھتے لیکن اس میں بھی غلطی کرتے تقدیم تاخیر کر دیا کرتے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ فرماتے یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم یوں نہیں ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے نہ شاعر ہوں نہ شعر گوئی میرے شایان شان ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:29229:مرسل و منقطع] ‏‏‏‏

دوسری روایت میں شعر اور آگے پیچھے کا ذکر بھی ہے یعنی «ویاتیک بالا خبار مالم تذود» کو آپصلی اللہ علیہ وسلم نے «من لم تزود الاخبار» پڑھا تھا، بیہقی کی ایک روایت میں ہے کہ پورا شعر کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں پڑھا زیادہ سے زیادہ ایک مصرعہ پڑھ لیتے تھے۔ (‏‏‏‏بیہقی فی السنن الکبری [43/7] ‏‏‏‏ضعیف)‏‏‏‏‏‏‏‏ صحیح حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خندق کھودتے ہوئے سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کے اشعار پڑھے۔ سو یاد رہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ پڑھنا صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ تھا۔ وہ اشعار یہ ہیں۔ «لاھم لو لاانت ما اھتدینا ولا تصدقناولاً صلینا فانذلن سکینتہ علینا وثبت الاقدام ان لا قینا ان الاولیٰ قد بغوا علینا اذا ارادوا فتنتہ ابینا» حضور لفظ ابینا کو کھینچ کر پڑھتے اور سارے ہی بلند آواز سے پڑھتے، [صحیح بخاری:4104] ‏‏‏‏ ترجمہ ان اشعار کا یہ ہے کوئی غم نہیں اگر تو نہ ہوتا تو ہم ہدایت یافتہ نہ ہوتے نہ صدقے دیتے اور نہ نمازیں پڑھتے۔ اب تو ہم پر تسکین نازل فرما۔ جب دشمنوں سے لڑائی چھڑ جائے تو ہمیں ثابت قدمی عطا فرما، یہی لوگ ہم پر سرکشی کرتے ہیں ہاں جب کبھی فتنے کا ارادہ کرتے ہیں تو ہم انکار کرتے ہیں اسی طرح ثابت ہے کہ حنین والے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خچر کو دشمنوں کی طرف بڑھاتے ہوئے فرمایا۔ «انا النبی لا کذب انا ابن عبدالمطلب» [صحیح بخاری:4315] ‏‏‏‏ اس کی بابت یہ یاد رہے کہ اتفاقیہ ایک کلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے نکل گیا جو وزن شعر پر اترا۔ نہ کہ قصداً آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شعر کہا، سیدنا جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غار میں تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلی زخمی ہو گئی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ «ھل انت الا اصبح دمیت وفی سبیل اللہ ما لقیت» یعنی تو ایک انگلی ہی تو ہے۔ اور تو راہ اللہ میں خون آلود ہوئی ہے۔ [صحیح بخاری:2802] ‏‏‏‏ یہ بھی اتفاقیہ ہے قصداً نہیں۔ اسی طرح ایک حدیث «إِلَّا اللَّمَمَ إِنَّ رَبَّكَ وَاسِعُ الْمَغْفِرَةِ» [ 53- النجم: 32 ] ‏‏‏‏ کی تفسیر میں آئے گی کہ آپ نے فرمایا۔ «ان تغفر اللھم تغفر جما وای عبدلک ما الما» یعنی اے اللہ تو جب بخشے تو ہمارے سبھی کے سب گناہ بخش دے، ورنہ یوں تو تیرا کوئی بندہ نہیں جو چھوٹی چھوٹی لغزشوں سے بھی پاک ہو پس یہ سب کے سب اس آیت کے منافی نہیں کیونکہ اللہ کی تعلیم آپ کو شعر گوئی کی نہ تھی۔ بلکہ رب العالمین نے تو آپ کو قرآن عظیم کی تعلیم دی تھی «لَّا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهِ تَنزِيلٌ مِّنْ حَكِيمٍ حَمِيدٍ» [ 41-فصلت: 42 ] ‏‏‏‏ جس کے پاس بھی باطل پھٹک نہیں سکتا۔ قرآن حکیم کی یہ پاک نظم شاعری سے منزلوں دور تھی۔ اسی طرح کہانت سے اور گھڑ لینے سے اور جادو کے کلمات سے جیسے کہ کفار کے مختلف گروہ مختلف بولیاں بولتے تھے۔ آپ کی تو طبیعت ان لسانی صنعتوں سے معصوم تھی۔ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ ابوداؤد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے نزدیک یہ تینوں باتیں برابر ہیں، تریاق کا پینا، گنڈے کا لٹکانا اور شعر بنانا۔ [سنن ابوداود:3869،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں شعر گوئی سے آپ کو طبعاً نفرت تھی۔ دعا میں آپ کو جامع کلمات پسند آتے تھے اور اس کے سوا چھوڑ دیتے تھے۔ [مسند احمد:189/6:صحیح] ‏‏‏‏

ترمذی میں ہے میں ہے کسی کا پیٹ پیپ سے بھر جانا اس کے لیے شعروں سے بھر لینے سے بہتر ہے۔ [سنن ترمذي:2852،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ مسند احمد کی ایک غریب حدیث میں ہے جس نے عشاء کی نماز کے بعد کسی شعر کا ایک مصرع بھی باندھا اس کی اس رات کی نماز نامقبول ہے۔ [مسند احمد:125/4:ضعیف جدا] ‏‏‏‏ یہ یاد رہے کہ شعر گوئی کی قسمیں ہیں، مشرکوں کی ہجو میں شعر کہنے مشروع ہیں۔ سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ، سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ، سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ وغیرہ جیسے اکابرین صحابہ نے کفار کی ہجو میں اشعار کے کلام میں ایسے اشعار پائے جاتے ہیں۔ چنانچہ امیہ بن صلت کے اشعار کی بابت فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ اس کے شعر تو ایمان لا چکے ہیں لیکن اس کا دل کافر ہی رہا۔ ایک صحابی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو امیہ کے ایک سو بیت سنائے ہر بیت کے بعد آپ فرماتے تھے اور کہو۔ ابوداؤد میں حضور کا ارشاد ہے کہ بعض بیان مثل جادو کے ہیں اور بعض شعر سراسر حکمت والے ہیں۔ [سنن ابوداود:5010،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏

پس فرمان ہے کہ جو کچھ ہم نے انہیں سکھایا ہے وہ سراسر ذکر و نصیحت اور واضح صاف اور روشن قرآن ہے، جو شخص ذرا سا بھی غور کرے اس پر یہ کھل جاتا ہے۔ تاکہ روئے زمین پر جتنے لوگ موجود ہیں یہ ان سب کو آگاہ کر دے اور ڈرا دے جیسے فرمایا «لِاُنْذِرَكُمْ بِهٖ وَمَنْ بَلَغَ» [ 6- الانعام: 19 ] ‏‏‏‏ تاکہ میں تمہیں اس کے ساتھ ڈرا دوں اور جسے بھی یہ پہنچ جائے۔ اور آیت میں ہے «وَمَنْ يَّكْفُرْ بِهٖ مِنَ الْاَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهٗ» [ 11-ھود: 17 ] ‏‏‏‏ یعنی جماعتوں میں سے جو بھی اسے نہ مانے وہ سزاوار دوزخی ہے۔ ہاں اس قرآن سے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان سے اثر وہی لیتا ہے۔ جو زندہ دل اور اندرونی نور والا ہو۔ عقل و بصیرت رکھتا ہو اور عذاب کا قول تو کافروں پر ثابت ہے ہی۔ پس قرآن مومنوں کے لیے رحمت اور کافروں پر اتمام حجت ہے۔
69۔ 1 مشرکین مکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلانے کے لئے مختلف قسم کی باتیں کہتے رہتے تھے۔ ان میں ایک بات یہ بھی تھی کہ آپ شاعر ہیں اور یہ قرآن پاک آپ کی شاعرانہ تک بندی ہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی نفی فرمائی۔ کہ آپ شاعر ہیں اور نہ قرآن شعری کلام کا مجموعہ ہے بلکہ یہ تو صرف نصیحت و موعظت ہے۔ شاعری میں بالعموم مبالغہ، افراط وتفریط اور محض تخیلات کی ندرت کاری ہوتی ہے، یوں گویا اسکی بنیاد جھوٹ پر ہوتی ہے۔ علاوہ ازیں شاعر محض گفتار کے غازی ہوتے ہیں، کردار کے نہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے نہ صرف یہ کہ اپنے پیغمبر کو شعر نہیں سکھلائے، نہ اشعار کی اس پر وحی کی، بلکہ اس کے مزاج و طبیعت کو ایسا بنایا کہ شعر سے اسکو کوئی مناسبت ہی نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کسی کا شعر پڑھتے تو اکثر صحیح نہ پڑھ پاتے اور اسکا وزن ٹوٹ جاتا۔ جس کی مثالیں احادیث میں موجود ہیں۔ یہ احتیاط اس لیے کی گئی کہ منکرین پر اتمام حجت اور انکے شبہات کا خاتمہ کردیا جائے۔ اور وہ یہ نہ کہہ سکیں کہ یہ قرآن کی شاعرانہ تک بندی کا نتیجہ ہے، جس طرح آپ کی امیت بھی قطع شبہات کے لیے تھی تاکہ لوگ قرآن کی بابت یہ نہ کہہ سکیں کہ یہ تو اس نے فلاں سے سیکھ پڑھ کر اس کو مرتب کرلیا ہے۔ البتہ بعض مواقع پر آپ کی زبان مبارک سے ایسے الفاظ کا نکل جانا، دو مصرعوں کی طرح ہوتے اور شعری اوزان و بحور کے بھی مطابق ہوتے، آپ کے شاعر ہونے کی دلیل نہیں بن سکتے۔ کیونکہ ایسا آپ کے قصدو ارادہ کے بغیر ہوا اور ان کا شعری قالب میں ڈھل جانا ایک اتفاق تھا، جس طرح حنین والے دن آپ کی زبان پر بےاختیار یہ رجز جاری ہوگیا۔ انا النبی لا کذب۔ انا ابن عبد المطلب ایک اور موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلی زخمی ہوگئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ھل أنت الا اصبع دمیت۔ وفی سبیل اللہ ما لقیت
(آیت 69) ➊ { وَ مَا عَلَّمْنٰهُ االشِّعْرَ وَ مَا يَنْۢبَغِيْ لَهٗ:} پچھلی آیات سے اس کی مناسبت یہ ہے کہ کفار توحید و آخرت اور زندگی کے بعد موت اور جنت و دوزخ کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں کو محض شاعری قرار دے کر اپنے خیال میں بے وزن ٹھہرانے کی کوشش کرتے تھے، یہ ان کے اس الزام کا رد ہے۔ یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نبوت و رسالت کے جس مقام پر فائز ہیں شاعری کو اس سے کوئی مناسبت نہیں۔ شاعری کا حُسن اور کمال تو جھوٹ، مبالغہ آرائی، خیالی بلند پروازی اور فرضی نکتہ آفرینی ہے، جب کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان ان چیزوں سے بلندوبالا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت ایسی رکھی کہ باوجود خاندان عبدالمطلب سے ہونے کے، جس کا ہر فرد فطرتاً شاعر ہوتا تھا، پوری عمر میں کوئی شعر نہیں کہا۔ یوں جنگ وغیرہ کے موقع پر زبان مبارک سے کبھی کوئی مقفّٰی عبارت ایسی نکل گئی جو شعر کا سا وزن رکھتی تھی تو وہ الگ بات ہے، اسے شعروشاعری نہیں کہا جا سکتا۔ شعر اور شعراء پر مفصل کلام کے لیے دیکھیے سورۂ شعراء کی آیات (۲۴ ۲ تا ۲۲۷) کی تفسیر۔ ➋ { ” وَ مَا عَلَّمْنٰهُ الشِّعْرَ “} کے الفاظ پر ان لوگوں کو غور کرنا چاہیے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو {”عَالِمُ مَا كَانَ وَمَا يَكُوْنُ “} قرار دیتے ہیں۔ ➌ { اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ وَّ قُرْاٰنٌ مُّبِيْنٌ:} یعنی یہ تو نصیحت اور یاد دہانی ہے اور واضح پڑھی جانے والی آسمانی کتاب ہے۔
لِّیُنۡذِرَ مَنۡ کَانَ حَیًّا وَّ یَحِقَّ الۡقَوۡلُ عَلَی الۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۷۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
تاکہ وہ ہر اُس شخص کو خبردار کر دے جو زندہ ہو اور انکار کرنے والوں پر حجت قائم ہو جائے
مولانا محمد جوناگڑھی
تاکہ وه ہر اس شخص کو آگاه کر دے جو زنده ہے، اور کافروں پر حجت ﺛابت ہو جائے
احمد رضا خان بریلوی
کہ اسے ڈرائے جو زندہ ہو اور کافروں پر بات ثابت ہوجائے
علامہ محمد حسین نجفی
تاکہ آپ(ص) (اس کی ذریعہ سے) انہیں ڈرائیں جو زندہ (دل) ہیں اور تاکہ کافروں پر حجت تمام ہو جائے۔
عبدالسلام بن محمد
تاکہ اسے ڈرائے جو زندہ ہو اور انکار کرنے والوں پر بات ثابت ہو جائے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
شاعری پیغمبرانہ شان کے منافی ٭٭

انسان کی جوانی جوں جوں ڈھلتی ہے پیری، ضعیفی، کمزوری اور ناتوانی آتی جاتی ہے، جیسے سورۃ الروم کی آیت میں ہے۔ «اَللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ ﮨـعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ ﮨـعْفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ قُوَّةٍ ﮨـعْفًا وَّشَيْبَةً يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ وَهُوَ الْعَلِيْمُ الْقَدِيْرُ» [ 30- الروم: 54 ] ‏‏‏‏، اللہ وہ ہے جس نے تمہیں ناتوانی کی حالت میں پیدا کیا۔ پھر ناتوانی کے بعد طاقت عطا فرمائی پھر طاقت و قوت کے بعد ضعف اور بڑھاپا کر دیا، وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور وہ خوب جاننے والا پوری قدرت رکھنے والا ہے۔ اور آیت میں ہے «وَمِنكُم مَّن يُرَدُّ إِلَىٰ أَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَيْلَا يَعْلَمَ مِن بَعْدِ عِلْمٍ شَيْئًا» [ 22-الحج: 5 ] ‏‏‏‏ ہم تم میں سے بعض بہت بڑی عمر کی طرف لوٹائے جاتے ہیں تاکہ علم کے بعد وہ بےعلم ہو جائیں۔ پس مطلب آیت سے یہ ہے کہ دنیا زوال اور انتقال کی جگہ ہے یہ پائیدار اور قرار گاہ نہیں، پھر بھی کیا یہ لوگ عقل نہیں رکھتے کہ اپنے بچپن، پھر جوانی، پھر بڑھاپے پر غور کریں اور اس سے نتیجہ نکال لیں کہ اس دنیا کے بعد آخرت آنے والی ہے اور اس زندگی کے بعد میں دوبارہ پیدا ہونا ہے۔

پھر فرمایا نہ تو میں نے اپنے پیغمبر کو شاعری سکھائی نہ شاعری اس کے شایان شان نہ اسے شعر گوئی سے محبت نہ شعر اشعار کی طرف اس کی طبیعت کا میلان۔ اسی کا ثبوت آپ کی زندگی میں نمایاں طور پر ملتا ہے کہ کسی کاشعر پڑھتے تھے تو صحیح طور پر ادا نہیں ہوتا تھا یا پورا یاد نہیں ہوتا تھا۔ حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اولاد عبدالمطلب کا ہر مرد عورت شعر کہنا جانتا تھا مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے کوسوں دور تھے۔ [ ابن اعساکر ] ‏‏‏‏ ایک بار اللہ کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ شعر پڑھا كفى بالاسلام والشيب للمرء ناهيا اس پر سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح نہیں بلکہ یوں ہے كفى الشيب ولاسلام للمرء ناھیاًٍ پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ہی یا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا سچ مچ آپ اللہ کے رسول ہیں اللہ نے سچ فرمایا [وَمَا عَلَّمْنَاهُ الشِّعْرَ وَمَا يَنبَغِي لَهُ إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرٌ وَقُرْآنٌ مُّبِينٌ ] ‏‏‏‏۔ «‏‏‏‏الدار المنثور للسیوطی:505/5،ضعیف» دلائل بیہقی میں ہے کہ آپ نے ایک مرتبہ سیدنا عباس بن مرداس سلمی رضی اللہ عنہ سے فرمایا تم نے بھی تو یہ شعر کہا ہے؟ «تجعل نھبی و نھب العبید، بین الاقرع و عینیتہ» انہوں نے کہایا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم دراصل یوں ہے «بین عینیتہ» والا قرع آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چلو سب برابر ہے مطلب تو فوت نہیں ہوتا؟ صلوات اللہ و سلامہ علیہ۔ [دلائل النبوۃ للبیهقی:179/5:مرسل] ‏‏‏‏ سہیلی نے روض الانف میں اس تقدیم تاخیر کی ایک عجیب توجیہ کی ہے وہ کہتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اقرع کو پہلے اور عیینہ کو بعد میں اس لیے ذکر کیا کہ عیینہ خلافت صدیقی میں مرتد ہو گیا تھا بخلاف اقرع کے کہ وہ ثابت قدم رہا تھا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

مغازی میں ہے کہ بدر کے مقتول کافروں کے درمیان گشت لگاتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے نکلا «نفلق ھاما» [ آگے کچھ نہ فرما سکے۔ اس پر جناب ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پورا شعر پڑھ دیا ] ‏‏‏‏۔ «من رجال اعزۃ علینا وھم کانوا اعق واظلما» یہ کسی عرب شاعر کا شعر ہے جو حماسہ میں موجود ہے۔ مسند احمد میں ہے کبھی کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم طرفہ کا یہ شعر بہت پڑھتے تھے ویاتیک بالا خبار من لم تزود اس کا پہلا مصرعہ یہ ہے «ستبدی لک الا یام ما کنت جاہلا» یعنی زمانہ تجھ پر وہ امور ظاہر کر دے گا جن سے تو بیخبر ہے اور تیرے پاس ایسا شخص خبریں لائے گا جسے تو نے توشہ نہیں دیا، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال ہوا کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شعر پڑھتے تھے، آپ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ سب سے زیادہ بغض آپ کو شعروں سے تھا ہاں کبھی کبھی بنو قیس والے کا کوئی شعر پڑھتے لیکن اس میں بھی غلطی کرتے تقدیم تاخیر کر دیا کرتے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ فرماتے یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم یوں نہیں ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے نہ شاعر ہوں نہ شعر گوئی میرے شایان شان ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:29229:مرسل و منقطع] ‏‏‏‏

دوسری روایت میں شعر اور آگے پیچھے کا ذکر بھی ہے یعنی «ویاتیک بالا خبار مالم تذود» کو آپصلی اللہ علیہ وسلم نے «من لم تزود الاخبار» پڑھا تھا، بیہقی کی ایک روایت میں ہے کہ پورا شعر کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں پڑھا زیادہ سے زیادہ ایک مصرعہ پڑھ لیتے تھے۔ (‏‏‏‏بیہقی فی السنن الکبری [43/7] ‏‏‏‏ضعیف)‏‏‏‏‏‏‏‏ صحیح حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خندق کھودتے ہوئے سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کے اشعار پڑھے۔ سو یاد رہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ پڑھنا صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ تھا۔ وہ اشعار یہ ہیں۔ «لاھم لو لاانت ما اھتدینا ولا تصدقناولاً صلینا فانذلن سکینتہ علینا وثبت الاقدام ان لا قینا ان الاولیٰ قد بغوا علینا اذا ارادوا فتنتہ ابینا» حضور لفظ ابینا کو کھینچ کر پڑھتے اور سارے ہی بلند آواز سے پڑھتے، [صحیح بخاری:4104] ‏‏‏‏ ترجمہ ان اشعار کا یہ ہے کوئی غم نہیں اگر تو نہ ہوتا تو ہم ہدایت یافتہ نہ ہوتے نہ صدقے دیتے اور نہ نمازیں پڑھتے۔ اب تو ہم پر تسکین نازل فرما۔ جب دشمنوں سے لڑائی چھڑ جائے تو ہمیں ثابت قدمی عطا فرما، یہی لوگ ہم پر سرکشی کرتے ہیں ہاں جب کبھی فتنے کا ارادہ کرتے ہیں تو ہم انکار کرتے ہیں اسی طرح ثابت ہے کہ حنین والے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خچر کو دشمنوں کی طرف بڑھاتے ہوئے فرمایا۔ «انا النبی لا کذب انا ابن عبدالمطلب» [صحیح بخاری:4315] ‏‏‏‏ اس کی بابت یہ یاد رہے کہ اتفاقیہ ایک کلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے نکل گیا جو وزن شعر پر اترا۔ نہ کہ قصداً آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شعر کہا، سیدنا جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غار میں تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلی زخمی ہو گئی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ «ھل انت الا اصبح دمیت وفی سبیل اللہ ما لقیت» یعنی تو ایک انگلی ہی تو ہے۔ اور تو راہ اللہ میں خون آلود ہوئی ہے۔ [صحیح بخاری:2802] ‏‏‏‏ یہ بھی اتفاقیہ ہے قصداً نہیں۔ اسی طرح ایک حدیث «إِلَّا اللَّمَمَ إِنَّ رَبَّكَ وَاسِعُ الْمَغْفِرَةِ» [ 53- النجم: 32 ] ‏‏‏‏ کی تفسیر میں آئے گی کہ آپ نے فرمایا۔ «ان تغفر اللھم تغفر جما وای عبدلک ما الما» یعنی اے اللہ تو جب بخشے تو ہمارے سبھی کے سب گناہ بخش دے، ورنہ یوں تو تیرا کوئی بندہ نہیں جو چھوٹی چھوٹی لغزشوں سے بھی پاک ہو پس یہ سب کے سب اس آیت کے منافی نہیں کیونکہ اللہ کی تعلیم آپ کو شعر گوئی کی نہ تھی۔ بلکہ رب العالمین نے تو آپ کو قرآن عظیم کی تعلیم دی تھی «لَّا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهِ تَنزِيلٌ مِّنْ حَكِيمٍ حَمِيدٍ» [ 41-فصلت: 42 ] ‏‏‏‏ جس کے پاس بھی باطل پھٹک نہیں سکتا۔ قرآن حکیم کی یہ پاک نظم شاعری سے منزلوں دور تھی۔ اسی طرح کہانت سے اور گھڑ لینے سے اور جادو کے کلمات سے جیسے کہ کفار کے مختلف گروہ مختلف بولیاں بولتے تھے۔ آپ کی تو طبیعت ان لسانی صنعتوں سے معصوم تھی۔ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ ابوداؤد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے نزدیک یہ تینوں باتیں برابر ہیں، تریاق کا پینا، گنڈے کا لٹکانا اور شعر بنانا۔ [سنن ابوداود:3869،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں شعر گوئی سے آپ کو طبعاً نفرت تھی۔ دعا میں آپ کو جامع کلمات پسند آتے تھے اور اس کے سوا چھوڑ دیتے تھے۔ [مسند احمد:189/6:صحیح] ‏‏‏‏

ترمذی میں ہے میں ہے کسی کا پیٹ پیپ سے بھر جانا اس کے لیے شعروں سے بھر لینے سے بہتر ہے۔ [سنن ترمذي:2852،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ مسند احمد کی ایک غریب حدیث میں ہے جس نے عشاء کی نماز کے بعد کسی شعر کا ایک مصرع بھی باندھا اس کی اس رات کی نماز نامقبول ہے۔ [مسند احمد:125/4:ضعیف جدا] ‏‏‏‏ یہ یاد رہے کہ شعر گوئی کی قسمیں ہیں، مشرکوں کی ہجو میں شعر کہنے مشروع ہیں۔ سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ، سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ، سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ وغیرہ جیسے اکابرین صحابہ نے کفار کی ہجو میں اشعار کے کلام میں ایسے اشعار پائے جاتے ہیں۔ چنانچہ امیہ بن صلت کے اشعار کی بابت فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ اس کے شعر تو ایمان لا چکے ہیں لیکن اس کا دل کافر ہی رہا۔ ایک صحابی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو امیہ کے ایک سو بیت سنائے ہر بیت کے بعد آپ فرماتے تھے اور کہو۔ ابوداؤد میں حضور کا ارشاد ہے کہ بعض بیان مثل جادو کے ہیں اور بعض شعر سراسر حکمت والے ہیں۔ [سنن ابوداود:5010،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏

پس فرمان ہے کہ جو کچھ ہم نے انہیں سکھایا ہے وہ سراسر ذکر و نصیحت اور واضح صاف اور روشن قرآن ہے، جو شخص ذرا سا بھی غور کرے اس پر یہ کھل جاتا ہے۔ تاکہ روئے زمین پر جتنے لوگ موجود ہیں یہ ان سب کو آگاہ کر دے اور ڈرا دے جیسے فرمایا «لِاُنْذِرَكُمْ بِهٖ وَمَنْ بَلَغَ» [ 6- الانعام: 19 ] ‏‏‏‏ تاکہ میں تمہیں اس کے ساتھ ڈرا دوں اور جسے بھی یہ پہنچ جائے۔ اور آیت میں ہے «وَمَنْ يَّكْفُرْ بِهٖ مِنَ الْاَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهٗ» [ 11-ھود: 17 ] ‏‏‏‏ یعنی جماعتوں میں سے جو بھی اسے نہ مانے وہ سزاوار دوزخی ہے۔ ہاں اس قرآن سے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان سے اثر وہی لیتا ہے۔ جو زندہ دل اور اندرونی نور والا ہو۔ عقل و بصیرت رکھتا ہو اور عذاب کا قول تو کافروں پر ثابت ہے ہی۔ پس قرآن مومنوں کے لیے رحمت اور کافروں پر اتمام حجت ہے۔
70۔ 1 یعنی جس کا دل صحیح ہے، حق کو قبول کرتا اور باطل سے انکار کرتا ہے۔ 70۔ 2 یعنی جو کفر پر مصر ہو، اس پر عذاب والی بات ثابت ہوجائے۔ لِیُنْذِرَ میں ضمیر کا مرجع قرآن ہے۔
(آیت 70) ➊ { لِيُنْذِرَ مَنْ كَانَ حَيًّا:} تاکہ یہ اس آدمی کو ڈرائے جس کا دل اور جس کی بصیرت زندہ ہے، جس نے اپنے سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں کو معطل نہیں کر رکھا اور نہ ہی اس کا دل پتھر کی طرح مُردہ ہو چکا ہے کہ اسے کتنی ہی نصیحت کی جائے اس پر کوئی اثر نہیں ہوتا، کیونکہ زندہ دل والا آدمی ہی اس کے ڈرانے سے فائدہ اٹھا سکتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏اِنَّمَا تُنْذِرُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَيْبِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ مَنْ تَزَكّٰى فَاِنَّمَا يَتَزَكّٰى لِنَفْسِهٖ وَ اِلَى اللّٰهِ الْمَصِيْرُ (18) وَ مَا يَسْتَوِي الْاَعْمٰى وَ الْبَصِيْرُ (19) وَ لَا الظُّلُمٰتُ وَ لَا النُّوْرُ (20) وَ لَا الظِّلُّ وَ لَا الْحَرُوْرُ (21) وَ مَا يَسْتَوِي الْاَحْيَآءُ وَ لَا الْاَمْوَاتُ اِنَّ اللّٰهَ يُسْمِعُ مَنْ يَّشَآءُ وَ مَاۤ اَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَّنْ فِي الْقُبُوْرِ (22) اِنْ اَنْتَ اِلَّا نَذِيْرٌ (23) اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ بِالْحَقِّ بَشِيْرًا وَّ نَذِيْرًا وَ اِنْ مِّنْ اُمَّةٍ اِلَّا خَلَا فِيْهَا نَذِيْرٌ» [ فاطر: ۱۸ تا ۲۴ ] ”تو صرف ان لوگوں کو ڈراتا ہے جو دیکھے بغیر اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور جو پاک ہوتا ہے تو وہ صرف اپنے لیے پاک ہوتا ہے اور اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ اور اندھا اور دیکھنے والا برابر نہیں۔ اور نہ اندھیرے اور نہ روشنی۔ اور نہ سایہ اور نہ لُو۔ اور نہ زندے برابر ہیں اور نہ مردے۔ بے شک اللہ سنا دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور تو ہرگز اسے سنانے والا نہیں جو قبروں میں ہے۔ تُو تو محض ایک ڈرانے والا ہے۔ بے شک ہم نے تجھے حق کے ساتھ خوش خبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے اور کوئی امت نہیں مگر اس میں ایک ڈرانے والا گزرا ہے۔“ اور فرمایا: «‏‏‏‏اِنَّمَا تُنْذِرُ مَنِ اتَّبَعَ الذِّكْرَ وَ خَشِيَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَيْبِ فَبَشِّرْهُ بِمَغْفِرَةٍ وَّ اَجْرٍ كَرِيْمٍ» [ یٰسٓ: ۱۱ ] ”تُو تو صرف اسی کو ڈراتا ہے جو نصیحت کی پیروی کرے اور رحمان سے بِن دیکھے ڈرے۔ سو اسے بڑی بخشش اور باعزت اجر کی خوش خبری دے۔“ اور فرمایا: «فَاِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى وَ لَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِيْنَ (56) وَ مَاۤ اَنْتَ بِهٰدِ الْعُمْيِ عَنْ ضَلٰلَتِهِمْ اِنْ تُسْمِعُ اِلَّا مَنْ يُّؤْمِنُ بِاٰيٰتِنَا فَهُمْ مُّسْلِمُوْنَ» ‏‏‏‏ [ الروم: ۵۲، ۵۳ ] ”پس بے شک تو نہ ُمردوں کو سناتا ہے اور نہ بہروں کو پکار سناتا ہے، جب وہ پیٹھ پھیر کر لوٹ جائیں۔ اور نہ تو کبھی اندھوں کو ان کی گمراہی سے راہ پر لانے والا ہے۔ تو نہیں سناتا مگر انھی کو جو ہماری آیات پر ایمان لاتے ہیں،پھر وہ فرماں بردار ہیں۔“ ➋ { وَ يَحِقَّ الْقَوْلُ عَلَى الْكٰفِرِيْنَ:} اور تاکہ جو کفر پر ڈٹے رہیں ان پر اللہ کی طرف سے حجت پوری ہو جائے اور ان کے پاس کوئی ایسا عذر نہ رہے جس کی بنا پر وہ قیامت کے دن اپنے آپ کو بے قصور اور مظلوم تصور کر سکیں۔
اَوَ لَمۡ یَرَوۡا اَنَّا خَلَقۡنَا لَہُمۡ مِّمَّا عَمِلَتۡ اَیۡدِیۡنَاۤ اَنۡعَامًا فَہُمۡ لَہَا مٰلِکُوۡنَ ﴿۷۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں ہیں کہ ہم نے اپنے ہاتھوں کی بنائی ہوئی چیزوں میں سے اِن کے لیے مویشی پیدا کیے اور اب یہ ان کے مالک ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا وه نہیں دیکھتے کہ ہم نے اپنے ہاتھوں سے بنائی ہوئی چیزوں میں سے ان کے لئے چوپائے (بھی) پیدا کر دیئے، جن کے یہ مالک ہوگئے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور کیا انہوں نے نہ دیکھا کہ ہم نے اپنے ہاتھ کے بنائے ہوئے چوپائے ان کے لیے پیدا کیے تو یہ ان کے مالک ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
کیا یہ لوگ نہیں دیکھتے (غور نہیں کرتے) کہ ہم نے ان کیلئے اپنے دست ہائے قدرت سے بنائی ہوئی چیزوں میں سے مویشی پیدا کئے (چنانچہ اب) یہ ان کے مالک ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور کیا انھوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ان چیزوں میں سے جنھیں ہمارے ہاتھوں نے بنایا، ان کے لیے مویشی پیدا کیے، پھر وہ ان کے مالک ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
چوپائیوں کے فوائد ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے انعام و احسان کا ذکر فرما رہا ہے۔ کہ اس نے خود ہی یہ چوپائے پیدا کئے اور انسان کی ملکیت میں دے دئیے، ایک چھوٹا سا بچہ بھی اونٹ کی نکیل تھام لے اونٹ جیسا قوی اور بڑا جانور اس کے ساتھ ساتھ ہی سو اونٹوں کی ایک قطار ہو ایک بچے کے ہانکنے سے سیدھے چلتی رہتی ہے۔

اس ماتحتی کے علاوہ بعض لمبے لمبے مشقت والے سفر بآسانی جلدی جلدی طے ہوتے ہیں خود سوار ہوتے ہیں اسباب لادتے ہیں بوجھ ڈھونے کے کام آتے ہیں۔ اور بعض کے گوشت کھائے جاتے ہیں، پھر صوف اور ان کے بالوں کھالوں وغیرہ سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ دودھ پیتے ہیں، بطور علاج پیشاب کام میں آتے ہیں اور بھی طرح طرح کے فوائد حاصل کئے جاتے ہیں۔ کیا پھر ان کو نہ چاہے کہ ان نعمتوں کے منعم حقیقی، ان احسانوں کے محسن، ان چیزوں کے خالق، ان کے حقیقی مالک کا شکر بجا لائیں؟ صرف اسی کی عبادت کریں؟ اس کی توحید کو مانیں اور اس کے ساتھ کسی اور کو شریک نہ کریں۔
71۔ 1 اس سے غیروں کی شرکت کی نفی ہے، ان کو ہم نے اپنے ہاتھوں سے بنایا، کسی اور کا ان کے بناننے میں حصہ نہیں ہے۔ 71۔ 2 اَنْعَام نَعَم کی جمع ہے۔ اس سے مراد چوپائے یعنی اونٹ، گائے، بکری اور بھیڑ دنبہ وغیرہ ہیں۔ 71۔ 3 یعنی جس طرح چاہتے ہیں ان میں تصرف کرتے ہیں، اگر ہم ان کے اندر وحشی پن رکھ دیتے (جیسا کہ بعض جانوروں میں ہے) تو یہ چوپائے ان سے دور بھاگتے اور وہ ان کی ملکیت اور قبضے میں ہی نہ آسکتے۔
(آیت 71) {اَوَ لَمْ يَرَوْا اَنَّا خَلَقْنَا لَهُمْ …:} یہاں سے پھر توحید اور اس کے بعد آخرت کے دلائل کا بیان ہے۔{” اَنْعَامًا”نَعَمٌ“} کی جمع ہے، یعنی کیا انھوں نے نہیں دیکھا کہ یہ جانور جن کے یہ مالک بنے ہوئے ہیں، یہ سب ہم نے پیدا کیے ہیں۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھوں کا ذکر قرآن مجید میں دوسرے مقامات پر بھی ہے اور ان پر ایمان رکھنا اور ان کی کیفیت اللہ تعالیٰ کے سپرد کرنا واجب ہے، تاہم یہاں اہلِ علم نے ”اپنے ہاتھوں سے“ بنانے کا مطلب یہ بیان فرمایا ہے کہ ہم نے انھیں کسی کی شرکت یا واسطے کے بغیر خود بنایا ہے۔ ان کے پیدا کرنے میں کسی دوسرے کا ذرہ برابر دخل نہیں ہے۔ (فتح البیان)
وَ ذَلَّلۡنٰہَا لَہُمۡ فَمِنۡہَا رَکُوۡبُہُمۡ وَ مِنۡہَا یَاۡکُلُوۡنَ ﴿۷۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ہم نے اُنہیں اس طرح اِن کے بس میں کر دیا ہے کہ اُن میں سے کسی پر یہ سوار ہوتے ہیں، کسی کا یہ گوشت کھاتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ان مویشیوں کو ہم نے ان کا تابع فرمان بنا دیا ہے جن میں سے بعض تو ان کی سواریاں ہیں اور بعض کا گوشت کھاتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور انہیں ان کے لیے نرم کردیا تو کسی پر سوار ہوتے ہیں اور کسی کو کھاتے ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے ان (مویشیوں) کو ان کا مطیع کر دیا ہے پس ان میں سے بعض پر وہ سوار ہوتے ہیں اور بعض کا گوشت کھاتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور کیا انھوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ان چیزوں میں سے جنھیں ہمارے ہاتھوں نے بنایا، ان کے لیے مویشی پیدا کیے، پھر وہ ان کے مالک ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
چوپائیوں کے فوائد ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے انعام و احسان کا ذکر فرما رہا ہے۔ کہ اس نے خود ہی یہ چوپائے پیدا کئے اور انسان کی ملکیت میں دے دئیے، ایک چھوٹا سا بچہ بھی اونٹ کی نکیل تھام لے اونٹ جیسا قوی اور بڑا جانور اس کے ساتھ ساتھ ہی سو اونٹوں کی ایک قطار ہو ایک بچے کے ہانکنے سے سیدھے چلتی رہتی ہے۔

اس ماتحتی کے علاوہ بعض لمبے لمبے مشقت والے سفر بآسانی جلدی جلدی طے ہوتے ہیں خود سوار ہوتے ہیں اسباب لادتے ہیں بوجھ ڈھونے کے کام آتے ہیں۔ اور بعض کے گوشت کھائے جاتے ہیں، پھر صوف اور ان کے بالوں کھالوں وغیرہ سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ دودھ پیتے ہیں، بطور علاج پیشاب کام میں آتے ہیں اور بھی طرح طرح کے فوائد حاصل کئے جاتے ہیں۔ کیا پھر ان کو نہ چاہے کہ ان نعمتوں کے منعم حقیقی، ان احسانوں کے محسن، ان چیزوں کے خالق، ان کے حقیقی مالک کا شکر بجا لائیں؟ صرف اسی کی عبادت کریں؟ اس کی توحید کو مانیں اور اس کے ساتھ کسی اور کو شریک نہ کریں۔
72۔ 1 یعنی ان جانوروں سے وہ جس طرح کا بھی فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں، وہ انکار نہیں کرتے، حتٰی کہ وہ انہیں ذبح بھی کردیتے ہیں اور چھوٹے بچے انہیں کھینچے پھرتے ہیں۔
(آیت 72) {وَ ذَلَّلْنٰهَا لَهُمْ فَمِنْهَا رَكُوْبُهُمْ …:} یعنی ان چوپاؤں کو ہم نے ان کے تابع کر رکھا ہے، اگر ہم دوسرے جنگلی جانوروں کی طرح ان کی طبیعت میں بھی وحشت رکھ دیتے تو وہ کبھی ان کے قابو میں نہ آتے، کجا یہ کہ ان کے مالک بنتے۔ ہمارے تابع کرنے کا نتیجہ ہے کہ ایک چھوٹا سا بچہ بھی اونٹ کی نکیل تھام لے تو اونٹ جیسا قوی اور بڑا جانور اس کے ساتھ چل پڑتا ہے اور اگر اس کے ساتھ سو اونٹوں کی قطار ہو تو وہ بھی ایک بچے کے ہانکنے سے سیدھی چلتی رہتی ہے۔ اس ماتحتی کے علاوہ ان پر سوار ہو کر لمبے لمبے سفر آسانی سے طے کرتے ہیں۔ خود سوار ہوتے ہیں، سامان لادتے ہیں اور بوجھ ڈھونے کا کام لیتے ہیں، حتیٰ کہ بعض کو ذبح کر کے ان کا گوشت بھی کھاتے ہیں۔
وَ لَہُمۡ فِیۡہَا مَنَافِعُ وَ مَشَارِبُ ؕ اَفَلَا یَشۡکُرُوۡنَ ﴿۷۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور اُن کے اندر اِن کے لیے طرح طرح کے فوائد اور مشروبات ہیں پھر کیا یہ شکر گزار نہیں ہوتے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
انہیں ان سے اور بھی بہت سے فائدے ہیں، اور پینے کی چیزیں۔ کیا پھر (بھی) یہ شکر ادا نہیں کریں گے؟
احمد رضا خان بریلوی
اور ان کے لیے ان میں کئی طرح کے نفع اور پینے کی چیزیں ہیں تو کیا شکر نہ کریں گے
علامہ محمد حسین نجفی
اور ان کیلئے ان میں اور بھی طرح طرح کے فائدے اور پینے کی چیزیں (دودھ وغیرہ) بھی ہیں تو کیا یہ لوگ شکر ادا نہیں کرتے؟
عبدالسلام بن محمد
اور ان کے لیے ان میں کئی فائدے اور پینے کی چیزیں ہیں۔ تو کیا وہ شکر نہیں کرتے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
چوپائیوں کے فوائد ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے انعام و احسان کا ذکر فرما رہا ہے۔ کہ اس نے خود ہی یہ چوپائے پیدا کئے اور انسان کی ملکیت میں دے دئیے، ایک چھوٹا سا بچہ بھی اونٹ کی نکیل تھام لے اونٹ جیسا قوی اور بڑا جانور اس کے ساتھ ساتھ ہی سو اونٹوں کی ایک قطار ہو ایک بچے کے ہانکنے سے سیدھے چلتی رہتی ہے۔

اس ماتحتی کے علاوہ بعض لمبے لمبے مشقت والے سفر بآسانی جلدی جلدی طے ہوتے ہیں خود سوار ہوتے ہیں اسباب لادتے ہیں بوجھ ڈھونے کے کام آتے ہیں۔ اور بعض کے گوشت کھائے جاتے ہیں، پھر صوف اور ان کے بالوں کھالوں وغیرہ سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ دودھ پیتے ہیں، بطور علاج پیشاب کام میں آتے ہیں اور بھی طرح طرح کے فوائد حاصل کئے جاتے ہیں۔ کیا پھر ان کو نہ چاہے کہ ان نعمتوں کے منعم حقیقی، ان احسانوں کے محسن، ان چیزوں کے خالق، ان کے حقیقی مالک کا شکر بجا لائیں؟ صرف اسی کی عبادت کریں؟ اس کی توحید کو مانیں اور اس کے ساتھ کسی اور کو شریک نہ کریں۔
73۔ 1 یعنی سواری اور کھانے کے علاوہ بھی ان سے بہت سے فوائد حاصل کئے جاتے ہیں مثلًا اون اور بالوں سے کئی چیزیں بنتی ہیں، ان کی چربی سے تیل حاصل ہوتا ہے اور یہ باربرداری اور کھیتی باڑی کے کام بھی آتے ہیں۔
(آیت 73) ➊ { وَ لَهُمْ فِيْهَا مَنَافِعُ وَ مَشَارِبُ:} سواری اور گوشت کے علاوہ انسان کے لیے ان جانوروں میں بہت سے فوائد ہیں، مثلاً ان کی کھال، چربی، سینگوں، بالوں اور آنتوں وغیرہ سے سیکڑوں چیزیں بناتے ہیں۔ ان کے ساتھ کھیتی باڑی کرتے ہیں، ان کے گوبر کی کھاد بناتے ہیں اور ان کی خریدو فروخت کے ساتھ زندگی کی ہر ضرورت پوری کرتے ہیں۔ جانوروں کے ذریعے سے آدمی کو پینے کی بھی بہت سی چیزیں مہیا ہوتی ہیں، مثلاً ان کا دودھ اور بے شمار وہ چیزیں جو دودھ سے بنتی ہیں۔ مزید دیکھیے سورۂ نحل (۵ تا۸) اور سورۂ زخرف (۱۲ تا ۱۴)۔ ➋ { اَفَلَا يَشْكُرُوْنَ:} یعنی یہ سب قسم کے احسانات تو انسان پر اللہ تعالیٰ نے کیے، اب بجائے اس کے کہ وہ اللہ کا شکر ادا کرتا، اس نے انھی جانوروں کی قربانیاں غیر اللہ کے آستانوں پر اور ان کے نام پر کیں۔ ان کے نام پر جانور آزاد چھوڑے جن کا ان جانوروں کے پیدا کرنے اور انھیں انسان کا مطیع بنانے میں کچھ بھی عمل دخل نہ تھا، اس سے بڑھ کر ناشکری اور نمک حرامی کیا ہو سکتی ہے!؟
وَ اتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ اٰلِہَۃً لَّعَلَّہُمۡ یُنۡصَرُوۡنَ ﴿ؕ۷۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یہ سب کچھ ہوتے ہوئے اِنہوں نے اللہ کے سوا دوسرے خدا بنا لیے ہیں اور یہ امید رکھتے ہیں کہ اِن کی مدد کی جائے گی
مولانا محمد جوناگڑھی
اور وه اللہ کے سوا دوسروں کو معبود بناتے ہیں تاکہ وه مدد کئے جائیں
احمد رضا خان بریلوی
اور انہوں نے اللہ کے سوا اور خدا ٹھہرالیے کہ شاید ان کی مدد ہو
علامہ محمد حسین نجفی
اور کیا انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر اور خدا بنا لئے ہیں کہ شاید ان کی مدد کی جائے گی۔
عبدالسلام بن محمد
اور انھوں نے اللہ کے سوا کئی معبود بنالیے، تاکہ ان کی مدد کی جائے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نفع و نقصان کا اختیار کس کے پاس ہے؟ ٭٭

مشرکین کے اس باطل عقیدے کی تردید ہو رہی ہے جو وہ سمجھتے تھے کہ جن جن کی سوائے اللہ تعالیٰ کے یہ عبادت کرتے ہیں وہ ان کی امداد نصرت کریں گے ان کی روزیوں میں برکت دیں گے اور اللہ سے ملادیں گے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ ان کی مدد کرنے سے عاجز ہیں اور ان کی مدد تو کجا، وہ تو خود اپنی مدد بھی نہیں کر سکتے بلکہ یہ بت تو اپنے دشمن کے نقصان سے بھی اپنے تئیں بچا نہیں سکتے۔ کوئی اور انہیں توڑ مروڑ کر بھی چلا جائے تو یہ اس کا کچھ نہیں کر سکتے بلکہ بول چال پر بھی قادر نہیں سمجھ بوجھ نہیں۔ یہ بت قیامت کے دن جمع شدہ حساب کے وقت اپنے عابدوں کے سامنے لاچاری اور بیکسی کے ساتھ موجود ہوں گے تاکہ مشرکین کی پوری ذلت و خواری ہو اور ان پر حجت تمام ہو۔ حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ بت تو ان کی کسی طرح کی امداد نہیں کر سکتے، لیکن پھر بھی یہ بےسمجھ مشرکین ان کے سامنے اس طرح موجود رہتے ہیں جیسے کوئی حاضر باش لشکر ہو وہ نہ انہیں کوئی نفع پہنچا سکیں نہ کسی نقصان کو دفع کر سکیں لیکن یہ ہیں کہ ان کے نام پر مرے جاتے ہیں یہاں تک کہ ان کے خلاف آواز سننا نہیں چاہتے غصے سے بے قابو ہو جاتے ہیں۔ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی کفر کی باتوں سے آپ غم ناک نہ ہوں ہم پر ان کا ظاہر باطن روشن ہے وقت آ رہا ہے۔ گن چن کر ہم انہیں سزائیں دیں۔
74۔ 1 یہ ان کفران نعمت کا اظہار ہے کہ مذکورہ نعمتیں، جن سے یہ فائدہ اٹھاتے ہیں، سب اللہ کی پیدا کردہ ہیں۔ لیکن یہ بجائے اس کے کہ یہ اللہ کی نعمتوں پر شکر ادا کریں یعنی ان کی عبادت و اطاعت کریں، یہ غیروں سے امیدیں وابستہ کرتے اور انہیں معبود بناتے ہیں۔
(آیت 74){ وَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ …:} انسان نے اللہ کے سوا جن کی بھی عبادت کی ہے صرف اس لیے کی ہے کہ وہ اس کی مدد کریں، اس کی کوئی حاجت پوری کریں، یا اس کی کوئی مشکل دور کریں۔ اگر وہ آخرت پر بھی ایمان رکھتا ہے تو اس لیے کہ اسے سفارش کے بل بوتے پر عذاب سے بچا لیں، یہ سب مدد کی صورتیں ہیں۔
لَا یَسۡتَطِیۡعُوۡنَ نَصۡرَہُمۡ ۙ وَ ہُمۡ لَہُمۡ جُنۡدٌ مُّحۡضَرُوۡنَ ﴿۷۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
وہ اِن کی کوئی مدد نہیں کر سکتے بلکہ یہ لوگ الٹے اُن کے لیے حاضر باش لشکر بنے ہوئے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
(حاﻻنکہ) ان میں ان کی مدد کی طاقت ہی نہیں، (لیکن) پھر بھی (مشرکین) ان کے لئے حاضر باش لشکری ہیں
احمد رضا خان بریلوی
وہ ان کی مدد نہیں کرسکتے اور وہ ان کے لشکر سب گرفتار حاضر آئیں گے
علامہ محمد حسین نجفی
حالانکہ وہ ان کی (کچھ بھی) مدد نہیں کر سکتے (بلکہ) وہ (کفار) ان (بتوں) کی حفاظت اور ان کے (دفاع) کیلئے حاضر باش لشکر ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
وہ ان کی کوئی مدد نہیں کر سکتے اور یہ ان کے لشکر ہیں، جو حاضر کیے ہوئے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نفع و نقصان کا اختیار کس کے پاس ہے؟ ٭٭

مشرکین کے اس باطل عقیدے کی تردید ہو رہی ہے جو وہ سمجھتے تھے کہ جن جن کی سوائے اللہ تعالیٰ کے یہ عبادت کرتے ہیں وہ ان کی امداد نصرت کریں گے ان کی روزیوں میں برکت دیں گے اور اللہ سے ملادیں گے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ ان کی مدد کرنے سے عاجز ہیں اور ان کی مدد تو کجا، وہ تو خود اپنی مدد بھی نہیں کر سکتے بلکہ یہ بت تو اپنے دشمن کے نقصان سے بھی اپنے تئیں بچا نہیں سکتے۔ کوئی اور انہیں توڑ مروڑ کر بھی چلا جائے تو یہ اس کا کچھ نہیں کر سکتے بلکہ بول چال پر بھی قادر نہیں سمجھ بوجھ نہیں۔ یہ بت قیامت کے دن جمع شدہ حساب کے وقت اپنے عابدوں کے سامنے لاچاری اور بیکسی کے ساتھ موجود ہوں گے تاکہ مشرکین کی پوری ذلت و خواری ہو اور ان پر حجت تمام ہو۔ حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ بت تو ان کی کسی طرح کی امداد نہیں کر سکتے، لیکن پھر بھی یہ بےسمجھ مشرکین ان کے سامنے اس طرح موجود رہتے ہیں جیسے کوئی حاضر باش لشکر ہو وہ نہ انہیں کوئی نفع پہنچا سکیں نہ کسی نقصان کو دفع کر سکیں لیکن یہ ہیں کہ ان کے نام پر مرے جاتے ہیں یہاں تک کہ ان کے خلاف آواز سننا نہیں چاہتے غصے سے بے قابو ہو جاتے ہیں۔ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی کفر کی باتوں سے آپ غم ناک نہ ہوں ہم پر ان کا ظاہر باطن روشن ہے وقت آ رہا ہے۔ گن چن کر ہم انہیں سزائیں دیں۔
75۔ 1 مطلب یہ ہے کہ جن بتوں کو معبود سمجھتے ہیں، وہ ان کی مدد کیا کریں گے؟ وہ خود اپنی مدد کرنے سے قاصر ہیں انہیں کوئی برا کہے ان کی ندامت کرے، تو یہی ان کی حمایت و مدافت میں سرگرم ہوتے ہیں، نہ کہ خود ان کے وہ معبود
(آیت 75) ➊ { لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ نَصْرَهُمْ:} فرمایا، وہ ان کی مدد کی طاقت نہیں رکھتے، نہ دنیا میں نہ آخرت میں۔ دنیا میں ان کی مدد کا یہ حال ہے کہ وہ اپنے عابدوں کی مدد تو کیا کریں گے وہ اپنی بقا، حفاظت اور دوسری ضروریات کے لیے اپنی عبادت کرنے والوں کے محتاج ہیں اور آخرت میں وہ ان کے دشمن بن جائیں گے اور ان کی عبادت کا انکار کر دیں گے۔ دیکھیے سورۂ احقاف (۶)۔ ➋ { وَ هُمْ لَهُمْ جُنْدٌ مُّحْضَرُوْنَ:} اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں، پہلا یہ کہ {” هُمْ “} سے مراد مشرکین اور {” لَهُمْ “} سے مراد ان کے معبود ہوں، یعنی بجائے اس کے کہ ان کے معبود ان کی مدد کریں یہ عبادت کرنے والے ہر وقت ان کے مددگار اور خدمت گار فوج بنے ہوئے ہیں، ان کے آستانے تعمیر کرتے ہیں، ان کے آستانوں اور قبروں پر جھاڑو دیتے ہیں، انھیں چمکا کر رکھتے ہیں، وہاں لنگر کا انتظام کرتے ہیں، ان کی حمایت میں لڑتے جھگڑتے ہیں اور ان کی مشکل کُشائی اور حاجت روائی کے جھوٹے قصّے بیان کر کے لوگوں کو ان کا گرویدہ بناتے ہیں۔ اگر عبادت کرنے والوں کے یہ لشکر نہ ہوں تو ان کی خدائی ایک لمحہ نہیں چل سکتی۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ {” هُمْ “} سے مراد باطل معبود اور {” لَهُمْ “} سے مراد مشرکین ہوں، یعنی وہ جھوٹے معبود قیامت کے دن ان کفار کی عبادت کا انکار کر کے انھیں عذاب دینے دلوانے والے لشکر بن جائیں گے۔
فَلَا یَحۡزُنۡکَ قَوۡلُہُمۡ ۘ اِنَّا نَعۡلَمُ مَا یُسِرُّوۡنَ وَ مَا یُعۡلِنُوۡنَ ﴿۷۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اچھا، جو باتیں یہ بنا رہے ہیں وہ تمہیں رنجیدہ نہ کریں، اِن کی چھپی اور کھلی سب باتوں کو ہم جانتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
پس آپ کو ان کی بات غمناک نہ کرے، ہم ان کی پوشیده اور علانیہ سب باتوں کو (بخوبی) جانتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
تو تم ان کی بات کا غم نہ کرو بیشک ہم جانتے ہیں جو وہ چھپاتے ہیں اور ظاہر کرتے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
(اے پیغمبر(ص)) ان لوگوں کی باتیں آپ کو رنجیدہ نہ کریں بے شک ہم خوب جانتے ہیں جو کچھ وہ چھپاتے ہیں اور جو کچھ وہ ظاہر کرتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
پس ان کی بات تجھے غم زدہ نہ کرے، بے شک ہم جانتے ہیں جو وہ چھپاتے ہیں اور جو وہ ظاہر کرتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نفع و نقصان کا اختیار کس کے پاس ہے؟ ٭٭

مشرکین کے اس باطل عقیدے کی تردید ہو رہی ہے جو وہ سمجھتے تھے کہ جن جن کی سوائے اللہ تعالیٰ کے یہ عبادت کرتے ہیں وہ ان کی امداد نصرت کریں گے ان کی روزیوں میں برکت دیں گے اور اللہ سے ملادیں گے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ ان کی مدد کرنے سے عاجز ہیں اور ان کی مدد تو کجا، وہ تو خود اپنی مدد بھی نہیں کر سکتے بلکہ یہ بت تو اپنے دشمن کے نقصان سے بھی اپنے تئیں بچا نہیں سکتے۔ کوئی اور انہیں توڑ مروڑ کر بھی چلا جائے تو یہ اس کا کچھ نہیں کر سکتے بلکہ بول چال پر بھی قادر نہیں سمجھ بوجھ نہیں۔ یہ بت قیامت کے دن جمع شدہ حساب کے وقت اپنے عابدوں کے سامنے لاچاری اور بیکسی کے ساتھ موجود ہوں گے تاکہ مشرکین کی پوری ذلت و خواری ہو اور ان پر حجت تمام ہو۔ حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ بت تو ان کی کسی طرح کی امداد نہیں کر سکتے، لیکن پھر بھی یہ بےسمجھ مشرکین ان کے سامنے اس طرح موجود رہتے ہیں جیسے کوئی حاضر باش لشکر ہو وہ نہ انہیں کوئی نفع پہنچا سکیں نہ کسی نقصان کو دفع کر سکیں لیکن یہ ہیں کہ ان کے نام پر مرے جاتے ہیں یہاں تک کہ ان کے خلاف آواز سننا نہیں چاہتے غصے سے بے قابو ہو جاتے ہیں۔ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی کفر کی باتوں سے آپ غم ناک نہ ہوں ہم پر ان کا ظاہر باطن روشن ہے وقت آ رہا ہے۔ گن چن کر ہم انہیں سزائیں دیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 76) ➊ { فَلَا يَحْزُنْكَ قَوْلُهُمْ:} اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی ہے کہ جب ہمارے متعلق ان مشرکین کے جہل اور عناد کا یہ حال ہے تو آپ بھی ان کی باتوں سے غم زدہ نہ ہوں۔ ➋ { اِنَّا نَعْلَمُ مَا يُسِرُّوْنَ وَ مَا يُعْلِنُوْنَ:} ({إِنَّ} تعلیل کے لیے ہوتا ہے) کیونکہ آپ غم زدہ تو تب ہوں جب انھیں کوئی پوچھنے والا نہ ہو، ہم تو ان کی وہ باتیں بھی جانتے ہیں جو وہ چھپاتے ہیں اور وہ بھی جو ظاہر کرتے تھے۔ ہمیں معلوم ہے کہ آپس میں وہ آپ کے سچا ہونے کا اقرار کرتے ہیں اور لوگوں کے سامنے آپ کو شاعر، ساحر اور کاہن وغیرہ کہتے ہیں۔ اسی طرح ہمیں ان کی خفیہ سازشوں کا بھی علم ہے اور علانیہ دشمنی کا بھی، آپ فکر نہ کریں، ہم سارا حساب برابر کر دیں گے۔
اَوَ لَمۡ یَرَ الۡاِنۡسَانُ اَنَّا خَلَقۡنٰہُ مِنۡ نُّطۡفَۃٍ فَاِذَا ہُوَ خَصِیۡمٌ مُّبِیۡنٌ ﴿۷۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کیا انسان دیکھتا نہیں ہے کہ ہم نے اسے نطفہ سے پیدا کیا اور پھر وہ صریح جھگڑالو بن کر کھڑا ہو گیا؟
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا انسان کو اتنا بھی معلوم نہیں کہ ہم نے اسے نطفے سے پیدا کیا ہے؟ پھر یکایک وہ صریح جھگڑالو بن بیٹھا
احمد رضا خان بریلوی
اور کیا آدمی نے نہ دیکھا کہ ہم نے اسے پانی کی بوند سے بنایا جبھی وہ صریح جھگڑالو ہے
علامہ محمد حسین نجفی
کیا انسان یہ نہیں دیکھتا (اس پر غور نہیں کرتا) کہ ہم نے اسے نطفہ سے پیدا کیا ہے سو وہ یکایک (ہمارا) کھلا ہوا مخالف بن گیا۔
عبدالسلام بن محمد
اور کیا انسان نے نہیں دیکھا کہ ہم نے اسے ایک قطرے سے پیدا کیا تو اچانک وہ کھلا جھگڑنے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
موت کے بعد زندگی ٭٭

ابی ابن خلف ملعون ایک مرتبہ اپنے ہاتھ میں ایک بوسیدہ کھوکھلی سڑی گلی ہڈی لے کر آیا اور اسے اپنے چٹکی میں ملتے ہوئے جبکہ اس کے ریزے ہوا میں اڑ رہے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے ہیں کہ ان ہڈیوں کو اللہ زندہ کرے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ہاں اللہ تجھے ہلاک کر دے گا پھر زندہ کر دے گا پھر تیرا حشر جہنم کی طرف ہو گا۔ اس پر اس سورت کی یہ آخری آیتیں نازل ہوئیں۔ اور روایت میں ہے کہ یہ اعتراض کرنے والا عاص بن وائل تھا اور اس آیت سے لے کر ختم سورت تک کی آیتیں نازل ہوئیں اور روایت میں ہے کہ یہ واقعہ عبداللہ بن ابی سے ہوا تھا۔ لیکن یہ ذرا غور طلب ہے اس لیے کہ یہ سورت مکی ہے اور عبداللہ بن ابی تو مدینہ میں تھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:31/23:ضعیف] ‏‏‏‏ بہر صورت خواہ ابی کے سوال پر یہ آیتیں اتری ہوں یا عاص کے سوال پر ہیں عام۔ لفظ انسان جو الف لام ہے وہ جنس کا ہے جو بھی دوسری زندگی کا منکر ہو اسے یہی جواب ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کو چاہیئے کہ اپنے شروع پیدائش پر غور کریں۔ جس نے ایک حقیر و ذلیل قطرے سے انسان کو پیدا کر دیا حالانکہ اس سے پہلے وہ کچھ نہ تھا پھر اس کی قدرت پر حرف رکھنے کے کیا معنی؟ اس مضمون کو بہت سی آیتوں میں بیان فرمایا ہے جیسے «اَلَمْ نَخْلُقْكُّمْ مِّنْ مَّاءٍ مَّهِيْنٍ» [ 77- المرسلات: 20 ] ‏‏‏‏ اور جیسے «إِنَّا خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن نُّطْفَةٍ أَمْشَاجٍ نَّبْتَلِيهِ فَجَعَلْنَاهُ سَمِيعًا بَصِيرًا» [ 76- الإنسان: 2 ] ‏‏‏‏، وغیرہ۔ مسند احمد میں ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہتھیلی میں تھوکا پھر اس پر انگلی رکھ کر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے ابن آدم کیا تو مجھے بھی عاجز کر سکتا ہے؟ میں نے تجھے اس جیسی چیز سے پیدا کیا پھر جب ٹھیک ٹھاک درست اور چست کر دیا اور تو ذرا کس بل والا ہو گیا تو تو نے مال جمع کرنا اور مسکینوں کو دینے سے روکنا شروع کر دیا، ہاں جب دم نرخرے میں اٹکا تو کہنے لگا اب میں اپنا تمام مال اللہ کی راہ میں صدقہ کرتا ہوں، بھلا اب صدقے کا وقت کہاں؟ [سنن ابن ماجہ:2707،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ الغرض نطفے سے پیدا کیا ہوا انسان حجت بازیاں کرنے لگا۔ اور اپنا دوبارہ جی اٹھنا محال جاننے لگا اس اللہ کی قدرت سے نظریں ہٹالیں جس نے آسمان و زمین کو اور تمام مخلوق کو پیدا کر دیا۔ یہ اگر غور کرتا تو اس عظیم الشان مخلوق کی پیدائش کے علاوہ خود اپنی پیدائش کو بھی دوبارہ پیدا کرنے کی قدرت کا ایک نشان عظیم پاتا۔ لیکن اس نے تو عقل کی آنکھوں پر ٹھیکری رکھ لی۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 77) ➊ { اَوَ لَمْ يَرَ الْاِنْسَانُ:} یہاں سے سورت کے آخر تک کفار کے اس انکار کا دلیل کے ساتھ جواب ہے جو وہ قیامت کا مذاق اڑانے کے لیے سوال کی صورت میں کرتے تھے کہ {” مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ “} قیامت کا وعدہ کب پورا ہو گا؟ یعنی قیامت وغیرہ کچھ نہیں، نہ ہی کوئی مر کر زندہ ہو سکتا ہے۔ {” اَوَ لَمْ يَرَ “} (اور کیا انسان نے نہیں دیکھا) سے مراد ہے {”أَوَلَمْ يَعْلَمْ“} (اور کیا انسان کو معلوم نہیں)۔ کیونکہ کسی بھی شخص نے اپنا نطفے سے پیدا ہونا آنکھوں سے نہیں دیکھا۔ ➋ { اَنَّا خَلَقْنٰهُ مِنْ نُّطْفَةٍ:نُطْفَةٍ”نَطَفَ يَنْطُفُ“} (ن، ض) ٹپکنا، اس میں تنوین تحقیر کے لیے ہے، معمولی اور حقیر قطرہ، یعنی کیا انسان کو معلوم نہیں کہ ہم نے انسان کو ایک حقیر قطرے سے پیدا کیا ہے؟ بسر بن جحاش القرشی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: [ بَزَقَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ فِيْ كَفِّهِ، ثُمَّ وَضَعَ أُصْبَعَهُ السَّبَّابَةَ وَقَالَ يَقُوْلُ اللّٰهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنّٰی تُعْجِزُنِي ابْنَ آدَمَ وَقَدْ خَلَقْتُكَ مِنْ مِثْلِ هٰذِهِ، فَإِذَا بَلَغَتْ نَفْسُكَ هٰذِهِ، وَأَشَارَ إِلٰی حَلْقِهِ، قُلْتَ أَتَصَدَّقُ، وَأَنّٰی أَوَانُ الصَّدَقَةِ؟ ] [ابن ماجہ، الوصایا، باب النھي عن الإمساک…: ۲۷۰۷، قال البوصیري صحیح وقال الألباني حسن ] ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہتھیلی پر تھوکا، پھر اپنی شہادت کی انگلی اس پر رکھی اور فرمایا: ”اللہ عز و جل فرماتا ہے، اے ابن آدم! تو مجھے کیسے عاجز کر سکتا ہے، حالانکہ میں نے تجھے اس جیسی چیز سے پیدا کیا ہے اور جب تیری جان یہاں پہنچ جاتی ہے (اور آپ نے حلق کی طرف اشارہ فرمایا) تو کہتا ہے، میں صدقہ کرتا ہوں، بھلا اب صدقے کا وقت کہاں؟“ ➌ { فَاِذَا هُوَ خَصِيْمٌ مُّبِيْنٌ:خَصِيْمٌ “} مبالغے کا صیغہ ہے، بہت جھگڑنے والا۔ {”إِذَا“} فجائیہ اچانک کے معنی میں آتا ہے، یعنی ایسی عجیب چیز کا وجود میں آنا جس کا وہم و گمان نہ ہو، یعنی ایسے حقیر قطرے سے پیدا کیے جانے والے انسان کا حق تو یہ تھا کہ ہمیشہ اس کا سر ہمارے احسان کے بوجھ سے جھکا رہتا۔ یہ تو امید ہی نہ تھی کہ وہ صاف جھگڑے پر اتر آئے گا اور اتنا زیادہ جھگڑے گا۔ دیکھیے سورۂ نحل (۴)۔
وَ ضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَّ نَسِیَ خَلۡقَہٗ ؕ قَالَ مَنۡ یُّحۡیِ الۡعِظَامَ وَ ہِیَ رَمِیۡمٌ ﴿۷۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اب وہ ہم پر مثالیں چسپاں کرتا ہے اور اپنی پیدائش کو بھول جاتا ہے کہتا ہے "کون ان ہڈیوں کو زندہ کرے گا جبکہ یہ بوسیدہ ہو چکی ہوں؟"
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اس نے ہمارے لئے مثال بیان کی اور اپنی (اصل) پیدائش کو بھول گیا، کہنے لگا ان گلی سڑی ہڈیوں کو کون زنده کر سکتا ہے؟
احمد رضا خان بریلوی
اور ہمارے لیے کہاوت کہتا ہے اور اپنی پیدائش بھول گیا بولا ایسا کون ہے کہ ہڈیوں کو زندہ کرے جب وہ بالکل گل گئیں،
علامہ محمد حسین نجفی
وہ ہمارے لئے مثالیں پیش کرتا ہے اور اپنی خلقت کو بھول گیا ہے وہ کہتا ہے کہ ان ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا جبکہ وہ بالکل بوسیدہ ہو چکی ہوں؟
عبدالسلام بن محمد
اور اس نے ہمارے لیے ایک مثال بیان کی اور اپنی پیدائش کو بھول گیا، اس نے کہا کون ہڈیوں کو زندہ کرے گا، جب کہ وہ بوسیدہ ہوں گی؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
موت کے بعد زندگی ٭٭

ابی ابن خلف ملعون ایک مرتبہ اپنے ہاتھ میں ایک بوسیدہ کھوکھلی سڑی گلی ہڈی لے کر آیا اور اسے اپنے چٹکی میں ملتے ہوئے جبکہ اس کے ریزے ہوا میں اڑ رہے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے ہیں کہ ان ہڈیوں کو اللہ زندہ کرے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ہاں اللہ تجھے ہلاک کر دے گا پھر زندہ کر دے گا پھر تیرا حشر جہنم کی طرف ہو گا۔ اس پر اس سورت کی یہ آخری آیتیں نازل ہوئیں۔ اور روایت میں ہے کہ یہ اعتراض کرنے والا عاص بن وائل تھا اور اس آیت سے لے کر ختم سورت تک کی آیتیں نازل ہوئیں اور روایت میں ہے کہ یہ واقعہ عبداللہ بن ابی سے ہوا تھا۔ لیکن یہ ذرا غور طلب ہے اس لیے کہ یہ سورت مکی ہے اور عبداللہ بن ابی تو مدینہ میں تھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:31/23:ضعیف] ‏‏‏‏ بہر صورت خواہ ابی کے سوال پر یہ آیتیں اتری ہوں یا عاص کے سوال پر ہیں عام۔ لفظ انسان جو الف لام ہے وہ جنس کا ہے جو بھی دوسری زندگی کا منکر ہو اسے یہی جواب ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کو چاہیئے کہ اپنے شروع پیدائش پر غور کریں۔ جس نے ایک حقیر و ذلیل قطرے سے انسان کو پیدا کر دیا حالانکہ اس سے پہلے وہ کچھ نہ تھا پھر اس کی قدرت پر حرف رکھنے کے کیا معنی؟ اس مضمون کو بہت سی آیتوں میں بیان فرمایا ہے جیسے «اَلَمْ نَخْلُقْكُّمْ مِّنْ مَّاءٍ مَّهِيْنٍ» [ 77- المرسلات: 20 ] ‏‏‏‏ اور جیسے «إِنَّا خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن نُّطْفَةٍ أَمْشَاجٍ نَّبْتَلِيهِ فَجَعَلْنَاهُ سَمِيعًا بَصِيرًا» [ 76- الإنسان: 2 ] ‏‏‏‏، وغیرہ۔ مسند احمد میں ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہتھیلی میں تھوکا پھر اس پر انگلی رکھ کر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے ابن آدم کیا تو مجھے بھی عاجز کر سکتا ہے؟ میں نے تجھے اس جیسی چیز سے پیدا کیا پھر جب ٹھیک ٹھاک درست اور چست کر دیا اور تو ذرا کس بل والا ہو گیا تو تو نے مال جمع کرنا اور مسکینوں کو دینے سے روکنا شروع کر دیا، ہاں جب دم نرخرے میں اٹکا تو کہنے لگا اب میں اپنا تمام مال اللہ کی راہ میں صدقہ کرتا ہوں، بھلا اب صدقے کا وقت کہاں؟ [سنن ابن ماجہ:2707،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ الغرض نطفے سے پیدا کیا ہوا انسان حجت بازیاں کرنے لگا۔ اور اپنا دوبارہ جی اٹھنا محال جاننے لگا اس اللہ کی قدرت سے نظریں ہٹالیں جس نے آسمان و زمین کو اور تمام مخلوق کو پیدا کر دیا۔ یہ اگر غور کرتا تو اس عظیم الشان مخلوق کی پیدائش کے علاوہ خود اپنی پیدائش کو بھی دوبارہ پیدا کرنے کی قدرت کا ایک نشان عظیم پاتا۔ لیکن اس نے تو عقل کی آنکھوں پر ٹھیکری رکھ لی۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 78) {وَ ضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَّ نَسِيَ خَلْقَهٗ …:} یعنی ہمیں مخلوق کی طرح عاجز سمجھتا ہے کہ جس طرح انسان مُردہ کو زندہ نہیں کر سکتا ہم بھی نہیں کر سکتے اور یہ بھول جاتا ہے کہ خود اسے ہم نے کس چیز سے پیدا کیا۔ کہتا ہے، آخر جب بدن گل سڑ کر ہڈیاں رہ گیا اور وہ بھی پرانی اور بوسیدہ و کھوکھلی تو انھیں دوبارہ کون زندہ کرے گا؟ اگر یہ اپنی پیدائش کو یاد رکھتا تو یہ سوال ہر گز نہ کرتا، کیونکہ جو انسان کو ایک حقیر مردہ قطرے سے پیدا کر سکتا ہے، جب اس کا نام و نشان نہیں تھا، اس کے لیے اسے اس کی بوسیدہ ہڈیوں کو دوبارہ زندہ کرنا کیا مشکل ہے؟ اللہ تعالیٰ نے انسان کو نطفے سے پیدا کرنے کی بات کئی مقامات پر یاد دلائی ہے، سورۂ دہر میں فرمایا: «‏‏‏‏اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ اَمْشَاجٍ» [ الدھر: ۲ ] ”بلاشبہ ہم نے انسان کو ایک ملے جلے قطرے سے پیدا کیا۔“ اور سورۂ مرسلات میں فرمایا: «‏‏‏‏اَلَمْ نَخْلُقْكُّمْ مِّنْ مَّآءٍ مَّهِيْنٍ» [ المرسلات: ۲۰ ] ”کیا ہم نے تمھیں ایک حقیر پانی سے پیدا نہیں کیا؟“
قُلۡ یُحۡیِیۡہَا الَّذِیۡۤ اَنۡشَاَہَاۤ اَوَّلَ مَرَّۃٍ ؕ وَ ہُوَ بِکُلِّ خَلۡقٍ عَلِیۡمُۨ ﴿ۙ۷۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اس سے کہو، اِنہیں وہی زندہ کرے گا جس نے پہلے انہیں پیدا کیا تھا، اور وہ تخلیق کا ہر کام جانتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
آپ جواب دیجئے! کہ انہیں وه زنده کرے گا جس نے انہیں اول مرتبہ پیدا کیا ہے، جو سب طرح کی پیدائش کا بخوبی جاننے واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
تم فرماؤ وہ زندہ کرے گا جس نے پہلی بار انہیں بنایا، اور اسے ہر پیدائش کا علم ہے
علامہ محمد حسین نجفی
آپ(ص) کہہ دیجئے! انہیں وہی (خدا دوبارہ) زندہ کرے گا جس نے انہیں پہلی بار پیدا کیا تھا وہ ہر مخلوق کو خوب جانتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
کہہ دے انھیں وہ زندہ کرے گا جس نے انھیں پہلی مرتبہ پیدا کیا اور وہ ہر طرح کا پیدا کرنا خوب جاننے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جس نے اول پیدا کیا وہی زندہ کرے گا ٭٭

اس کے جواب میں کہدو کہ اول رتبہ ان ہڈیوں کو جو اب گلی سڑی ہیں جس نے پیدا کیا وہی دوبارہ انہیں پیدا کرے گا۔ جہاں جہاں بھی یہ ہڈیاں ہوں وہ خوب جانتا ہے۔ مسند کی حدیث میں ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے عقبہ بن عمرو نے کہا آپ ہمیں رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی کوئی حدیث سنائیے تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک شخص پر جب موت کی حالت طاری ہوئی تو اس نے اپنے وارثوں کو وصیت کی کہ جب میں مرجاؤں تو تم بہت ساری لکڑیاں جمع کر کے میری لاش کو جلا کر خاک کر دینا پھر اسے سمندر میں بہا دینا، چنانچہ انہوں نے یہی کیا اللہ تعالیٰ نے اس کی راکھ کو جمع کر کے جب اسے دوبارہ زندہ کیا تو اس سے پوچھا کہ تو نے ایسا کیوں کیا؟ اس نے جواب دیا کہ صرف تیرے ڈر سے، اللہ تعالیٰ نے اسے بخش دیا۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے راہ چلتے چلتے یہ حدیث بیان فرمائی جسے میں نے خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے اپنے کانوں سے سنا۔ [مسند احمد:383/5:] ‏‏‏‏ یہ حدیث بخاری مسلم میں بھی بہت سے الفاظ سے مروی ہے، [صحیح بخاری:3479] ‏‏‏‏ ایک راویت میں ہے کہ اس نے کہا تھا میری راکھ کو ہوا کے رخ اڑا دینا کچھ تو ہوا میں کچھ دریا میں بہا دینا۔ سمندر نے بحکم اللہ جو راکھ اس میں تھی اسے جمع کر دیا اسی طرح ہوا نے بھی۔ پھر اللہ کے فرمان سے وہ کھڑا کر دیا گیا۔ پھر اپنی قدرت کے مشاہدے کے لیے اور بات کی دلیل قائم کرنے کے لیے کہ اللہ ہر شے پر قادر ہے وہ مردوں کو بھی زندہ کر سکتا ہے، ہیت کو وہ منقلب کر سکتا ہے فرمایا کہ تم غور کرو کہ پانی میں درخت اگائے سرسبز شاداب ہرے بھرے پھل والے ہوئے، پھر وہ سوکھ گئے اور ان لکڑیوں سے میں نے آگ نکالی کہاں وہ تری اور ٹھنڈی کہاں یہ خشکی اور گرمی؟ پس مجھے کوئی چیز کرنی بھاری نہیں تر کو خشک کرنا خشک کو تر کرنا زندہ کو مردہ کرنا مردے کو زندگی دینا سب میرے بس کی بات ہے۔ یہ بھی کہا گیا کہ مراد اس سے مرخ اور عفار کے درخت ہیں جو حجاز میں ہوتے ہیں ان کی سبز ٹہنیوں کو آپس میں رگڑنے سے چقماق کی طرح آگ نکلتی ہے۔ چنانچہ عرب میں ایک مشہور مثل ہے «لکل شجر ناروا استجدا المرخ والمفار حکماء» کا قول ہے کہ سوائے انگور کے درخت کے ہر درخت میں آگ ہے۔
79۔ 1 یعنی جو اللہ تعالیٰ انسان کو ایک حقیر نطفے سے پیدا کرتا ہے، وہ دوبارہ اس کو زندہ کرنے پر قادر نہیں ہے؟ اسکی قدرت احیائے موتی کا ایک واقعہ حدیث میں بیان کیا گیا ہے کہ ایک شخص نے مرتے وقت وصیت کی کہ مرنے کے بعد اسے جلا کر اس کی آدھی راکھ سمندر میں اور آدھی راکھ تیز ہوا والے دن خشکی میں اڑا دی جائے۔ اللہ تعالیٰ نے ساری راکھ جمع کرکے اسے زندہ فرمایا اور اس سے پوچھا تو نے ایسا کیوں کیا؟ اس نے کہا تیرے خوف سے۔ چناچہ اللہ نے اسے معاف فرما دیا۔
(آیت 79) ➊ { قُلْ يُحْيِيْهَا الَّذِيْۤ اَنْشَاَهَاۤ …:} یعنی جس نے ان ہڈیوں کو اس وقت پیدا کر لیا جب ان کا وجود ہی نہ تھا، پھر ان میں جان ڈال دی، وہی انھیں دوبارہ زندہ کر دے گا، کیونکہ دوبارہ بنانا تو زیادہ آسان ہوتا ہے۔ اگرچہ اس قادر مطلق کے لیے پہلی مرتبہ بنانا اور دوبارہ بنانا یکساں آسان ہے۔ دیکھیے سورۂ روم (۲۷)۔ ➋ { وَ هُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيْمُ:خَلْقٍ “} مصدر بھی ہو سکتا ہے، یعنی ”ہر طرح کا پیدا کرنا“ اور اسم مفعول بمعنی مخلوق بھی، یعنی ”ہر ہر مخلوق“ پہلا معنی ہو تو مطلب یہ ہے کہ وہ ہر چیز کے متعلق خوب جانتا ہے کہ اسے کس طرح پیدا کرنا ہے، پھر یہ بھی کہ اسے پہلی دفعہ کیسے پیدا کرنا ہے اور دوبارہ کیسے بنانا ہے، لہٰذا اس کے لیے بوسیدہ ہڈیوں کو زندہ کرنا کچھ مشکل نہیں۔ دوسرا معنی ہو تو مطلب یہ ہے کہ وہ ہر ہر مخلوق کو جانتا ہے کہ وہ کہاں ہے اور اس کے فنا ہونے کے بعد اس کے ذرات کہاں کہاں ہیں، سو وہ ہر ذرے کو اس کی جگہ سے جمع کر کے دوبارہ زندہ کر سکتا ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ كَانَ رَجُلٌ يُسْرِفُ عَلٰی نَفْسِهِ، فَلَمَّا حَضَرَهُ الْمَوْتُ قَالَ لِبَنِيْهِ إِذَا أَنَا مُتُّ فَأَحْرِقُوْنِيْ ثُمَّ اطْحَنُوْنِيْ ثُمَّ ذَرُّوْنِيْ فِي الرِّيْحِ، فَوَ اللّٰهِ! لَئِنْ قَدَرَ اللّٰهُ عَلَيَّ لَيُعَذِّبَنِّيْ عَذَابًا مَا عَذَّبَهُ أَحَدًا فَلَمَّا مَاتَ فُعِلَ بِهِ ذٰلِكَ، فَأَمَرَ اللّٰهُ الْأَرْضَ، فَقَالَ اجْمَعِيْ مَا فِيْكِ مِنْهُ فَفَعَلَتْ فَإِذَا هُوَ قَائِمٌ، فَقَالَ مَا حَمَلَكَ عَلٰی مَا صَنَعْتَ؟ قَالَ يَا رَبِّ! خَشْيَتُكَ فَغَفَرَ لَهُ ] [ بخاري، أحادیث الأنبیاء، باب: ۳۴۸۱ ] ”ایک آدمی اپنی جان پر زیادتی کرتا تھا۔ جب اس کی موت کا وقت آیا، اس نے اپنے بیٹوں سے کہا، جب میں فوت ہو جاؤں، مجھے جلا دینا، پھر مجھے پیسنا، پھر مجھے ہوا میں اڑا دینا، کیونکہ قسم ہے اللہ کی! اگر اللہ نے مجھ پر قابو پا لیا تو مجھے ایسا عذاب دے گا جو اس نے کسی کو نہیں دیا۔ تو جب وہ فوت ہو گیا، اس کے ساتھ ایسے ہی کیا گیا تو اللہ تعالیٰ نے زمین کو حکم دیا، فرمایا، تجھ میں اس کا جو کچھ ہے جمع کر دے، اس نے ایسے ہی کیا تو وہ اسی وقت کھڑا ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”تجھے اس طرح کرنے پر کس چیز نے آمادہ کیا؟“ اس نے کہا: ”اے میرے رب! تیرے خوف نے۔“ تو اللہ تعالیٰ نے اسے بخش دیا۔“
الَّذِیۡ جَعَلَ لَکُمۡ مِّنَ الشَّجَرِ الۡاَخۡضَرِ نَارًا فَاِذَاۤ اَنۡتُمۡ مِّنۡہُ تُوۡقِدُوۡنَ ﴿۸۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
وہی جس نے تمہارے لیے ہرے بھرے درخت سے آگ پیدا کر دی اور تم اس سے اپنے چولہے روشن کرتے ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
وہی جس نے تمہارے لئے سبز درخت سے آگ پیدا کر دی جس سے تم یکایک آگ سلگاتے ہو
احمد رضا خان بریلوی
جس نے تمہارے لیے ہرے پیڑ میں ا ٓ گ پیدا کی جبھی تم اس سے سلگاتے ہو
علامہ محمد حسین نجفی
(خدا) جس نے تمہارے لئے سرسبز درخت سے آگ پیدا کی ہے اس سے (اور) آگ سلگاتے ہو۔
عبدالسلام بن محمد
وہ جس نے تمھارے لیے سبز درخت سے آگ پیدا کر دی، پھر یکایک تم اس سے آگ جلا لیتے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جس نے اول پیدا کیا وہی زندہ کرے گا ٭٭

اس کے جواب میں کہدو کہ اول رتبہ ان ہڈیوں کو جو اب گلی سڑی ہیں جس نے پیدا کیا وہی دوبارہ انہیں پیدا کرے گا۔ جہاں جہاں بھی یہ ہڈیاں ہوں وہ خوب جانتا ہے۔ مسند کی حدیث میں ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے عقبہ بن عمرو نے کہا آپ ہمیں رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی کوئی حدیث سنائیے تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک شخص پر جب موت کی حالت طاری ہوئی تو اس نے اپنے وارثوں کو وصیت کی کہ جب میں مرجاؤں تو تم بہت ساری لکڑیاں جمع کر کے میری لاش کو جلا کر خاک کر دینا پھر اسے سمندر میں بہا دینا، چنانچہ انہوں نے یہی کیا اللہ تعالیٰ نے اس کی راکھ کو جمع کر کے جب اسے دوبارہ زندہ کیا تو اس سے پوچھا کہ تو نے ایسا کیوں کیا؟ اس نے جواب دیا کہ صرف تیرے ڈر سے، اللہ تعالیٰ نے اسے بخش دیا۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے راہ چلتے چلتے یہ حدیث بیان فرمائی جسے میں نے خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے اپنے کانوں سے سنا۔ [مسند احمد:383/5:] ‏‏‏‏ یہ حدیث بخاری مسلم میں بھی بہت سے الفاظ سے مروی ہے، [صحیح بخاری:3479] ‏‏‏‏ ایک راویت میں ہے کہ اس نے کہا تھا میری راکھ کو ہوا کے رخ اڑا دینا کچھ تو ہوا میں کچھ دریا میں بہا دینا۔ سمندر نے بحکم اللہ جو راکھ اس میں تھی اسے جمع کر دیا اسی طرح ہوا نے بھی۔ پھر اللہ کے فرمان سے وہ کھڑا کر دیا گیا۔ پھر اپنی قدرت کے مشاہدے کے لیے اور بات کی دلیل قائم کرنے کے لیے کہ اللہ ہر شے پر قادر ہے وہ مردوں کو بھی زندہ کر سکتا ہے، ہیت کو وہ منقلب کر سکتا ہے فرمایا کہ تم غور کرو کہ پانی میں درخت اگائے سرسبز شاداب ہرے بھرے پھل والے ہوئے، پھر وہ سوکھ گئے اور ان لکڑیوں سے میں نے آگ نکالی کہاں وہ تری اور ٹھنڈی کہاں یہ خشکی اور گرمی؟ پس مجھے کوئی چیز کرنی بھاری نہیں تر کو خشک کرنا خشک کو تر کرنا زندہ کو مردہ کرنا مردے کو زندگی دینا سب میرے بس کی بات ہے۔ یہ بھی کہا گیا کہ مراد اس سے مرخ اور عفار کے درخت ہیں جو حجاز میں ہوتے ہیں ان کی سبز ٹہنیوں کو آپس میں رگڑنے سے چقماق کی طرح آگ نکلتی ہے۔ چنانچہ عرب میں ایک مشہور مثل ہے «لکل شجر ناروا استجدا المرخ والمفار حکماء» کا قول ہے کہ سوائے انگور کے درخت کے ہر درخت میں آگ ہے۔
80۔ 1 کہتے ہیں عرب میں دو درخت ہیں مرخ اور عفار۔ ان کی دو لکڑیاں آپس میں رگڑی جائیں تو آگ پیدا ہوتی ہے، سبز درخت سے آگ پیدا کرنے کے حوالے سے اس طرف اشارہ مقصود ہے۔
(آیت 80) {الَّذِيْ جَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الشَّجَرِ الْاَخْضَرِ نَارًا …: ” الْاَخْضَرِ “} سے مراد تروتازہ درخت ہے، جو پانی سے لبریز ہوتا ہے۔ یہ دوبارہ زندگی کی دوسری دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ اشیاء سے ان کی ضد نکالنے پر قادر ہے، وہ بوسیدہ ہڈیوں سے دوبارہ زندہ انسان بنا دے گا، کیونکہ دیکھو، پانی اور آگ ایک دوسرے کی ضد ہیں، مگر اس نے پانی سے لبریز تازہ درخت میں آگ پکڑنے والا وہ مادہ رکھ دیا ہے جس سے تازہ لکڑی بھی جلنے لگتی ہے۔ اسی طرح وہ زندہ سے مُردہ کو اور مُردہ سے زندہ کو نکالتا ہے اور نکالے گا۔
اَوَ لَیۡسَ الَّذِیۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ بِقٰدِرٍ عَلٰۤی اَنۡ یَّخۡلُقَ مِثۡلَہُمۡ ؕ؃ بَلٰی ٭ وَ ہُوَ الۡخَلّٰقُ الۡعَلِیۡمُ ﴿۸۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کیا وہ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اِس پر قادر نہیں ہے کہ اِن جیسوں کو پیدا کر سکے؟ کیوں نہیں، جبکہ وہ ماہر خلاق ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے کیا وه ان جیسوں کے پیدا کرنے پرقادر نہیں، بےشک قادر ہے۔ اور وہی تو پیدا کرنے واﻻ دانا (بینا) ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور کیا وہ جس نے آسمان اور زمین بنائے ان جیسے اور نہیں بناسکتا کیوں نہیں اور وہی بڑا پیدا کرنے والا سب کچھ جانتا،
علامہ محمد حسین نجفی
کیا وہ (قادرِ مطلق) جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اس بات پر قادر نہیں ہے کہ ان (لوگوں) جیسے (دوبارہ) پیدا کرے؟ ہاں وہ بڑا پیدا کرنے والا (اور) بڑا جاننے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور کیا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اس پر قادر نہیں کہ ان جیسے اور پیدا کر دے؟ کیوں نہیں اور وہی سب کچھ پیدا کرنے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ ہر چیز پر قادر ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنی زبردست قدرت بیان فرما رہا ہے کہ اس نے آسمانوں کو اور ان کی سب چیزوں کو پیدا کیا۔ زمین کو اس کے اندر کی سب چیزوں کو بھی اسی نے بنایا۔ پھر اتنی بڑی قدرتوں والا انسانوں جیسی چھوٹی مخلوق کو پیدا کرنے سے عاجز آ جائے یہ تو عقل کے بھی خلاف ہے، جیسے فرمایا «لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» [ 40- غافر: 57 ] ‏‏‏‏ یعنی آسمان و زمین کی پیدائش انسانی پیدائش سے بہت بڑی اور اہم ہے، یہاں بھی فرمایا کہ وہ اللہ جس نے آسمان و زمین کو پیدا کر دیا وہ کیا انسانوں جیسی کمزور مخلوق کو پیدا کرنے سے عاجز آ جائے گا؟ اور جب وہ قادر ہے تو یقیناً انہیں مار ڈالنے کے بعد پھر وہ انہیں جلا دے گا۔ جس نے ابتداءً پیدا کیا ہے اس پر اعادہ بہت آسان ہے جیسے اور آیت میں ہے «اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَلَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى بَلٰٓي اِنَّهٗ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ» [ 46- الأحقاف: 33 ] ‏‏‏‏، کیا وہ نہیں دیکھتے کہ جس اللہ نے زمین و آسمان کو بنا دیا اور ان کی پیدائش سے عاجز نہ آیا نہ تھکا کیا وہ ُمردوں کے زندہ کرنے پر قادر نہیں؟ بیشک قادر ہے بلکہ وہ تو ہرچیز پر قادر ہے۔ وہی پیدا کرنے والا اور بنانے والا، ایجاد کرنے والا اور خالق ہے۔ ساتھ ہی دانا، بینا اور رتی رتی سے واقف ہے۔ وہ تو جو کرنا چاہتا ہے اس کا صرف حکم دے دینا کافی ہوتا ہے۔ مسند کی حدیث قدسی میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے میرے بندو، تم سب فقیر ہو مگر جسے میں غنی کر دوں۔ میں جواد ہوں، میں ماجد ہوں، میں واجد ہوں۔ جو چاہتا ہوں کرتا ہوں۔ میرا انعام بھی ایک کلام ہے اور میرا عذاب بھی کلام ہے۔ میں جس چیز کو کرنا چاہتا ہوں کہ دیتا ہوں کہ ہو جا وہ ہو جاتی ہے۔ [مسند احمد:160/5:صحیح] ‏‏‏‏ ہر برائی سے اس حی و قیوم اللہ کی ذات پاک ہے جو زمین و آسمان کا بادشاہ ہے، جس کے ہاتھ میں آسمانوں اور زمینوں کی کنجیاں ہیں۔ وہ سب کا خالق ہے، وہی اصلی حاکم ہے، اسی کی طرف قیامت کے دن سب لوٹائے جائیں گے وہی عادل و منعم اللہ انہیں سزا دے گا۔ اور جگہ فرمان ہے پاک ہے وہ اللہ جس کے ہاتھ میں ہرچیز کی ملکیت ہے۔ اور آیت میں ہے کون ہے جس کے ہاتھ میں ہرچیز کا اختیار ہے؟ اور فرمان ہے «تَبٰرَكَ الَّذِيْ بِيَدِهِ الْمُلْكُ ۡ وَهُوَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرُ ۝» [ 67- الملك: 1 ] ‏‏‏‏ ] ‏‏‏‏ پس ملک و ملکوت دونوں کے ایک ہی معنی ہیں جیسے رحمت و رحموت اور رہبت و رہبوت اور جبرو جبروت۔ بعض نے کہا ہے کہ ملک سے مراد جسموں کا عالم اور ملکوت سے مراد روحوں کا عالم ہے۔ لیکن صحیح بات پہلی ہی ہے اور یہی قول جمہور مفسرین کا ہے۔ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ایک رات میں تہجد کی نماز میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں کھڑا ہو گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات لمبی سورتیں [ یعنی پونے دس پارے ] ‏‏‏‏ سات رکعت میں پڑھیں «سمع اللہ لمن حمدہ» کہہ کر رکوع سے سر اٹھا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ پڑھتے تھے «الحمدللہ ذی الملکوت والجبروت والکبریاء والعظمتہ» [مسند احمد:388/5:ضعیف] ‏‏‏‏ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رکوع قیام کے مناسب ہی لمبا تھا اور سجدہ بھی مثل رکوع کے تھا میری تو یہ حالت ہو گئی تھی کہ ٹانگیں ٹوٹنے لگیں [ ابوداؤد وغیرہ ] ‏‏‏‏ انہی سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ نے رات کی نماز پڑھتے ہوئے دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا پڑھ کر پھر قرأت شروع کی «اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ اکبر ذی الملکوت والجبروت والکبریاء والعظمتہ» پھرپوری سورۃ البقرہ پڑھ کر رکوع کیا اور رکوع میں بھی قریب قریب اتنی ہی دیر ٹھہرے رہے اور سبحان ربی العظیم پڑھتے رہے پھر اپنا سر رکوع سے اٹھایا اور تقریباً اتنی ہی دیر کھڑے رہے اور لرَِبَّیَ الُحَمُدُ پڑھتے رہے۔ پھر سجدے میں گئے وہ بھی تقریباً قیام کے برابر تھا اور سجدے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سبحان ربی الاعلی پڑھتے رہے۔ پھر سجدے سے سر اٹھایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارک تھی کہ دونوں سجدوں کے درمیان بھی اتنی دیر بیٹھے رہتے تھے جتنی دیر سجدوں میں لگاتے تھے اور رب اغفرلی رب اغفرلی پڑھتے رہے۔ چار رکعت آپ نے ادا کیں سورۃ البقرہ سورۃ آل عمران سورۃ نساء اور سورۃ المائدہ کی تلاوت کی۔ [سنن ابوداود:874،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏

حضرت شعبہ رحمہ اللہ کو شک ہے کہ سورۃ المائدہ کہا یا سورۃ الانعام؟ نسائی وغیرہ میں ہے سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک رات میں نے اے اللہ کے رسول! صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تہجد کی نماز پڑھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ البقرہ کی تلاوت فرمائی، ہر اس آیت پر جس میں رحمت کا ذکر ہوتا آپ ٹھہرتے اور اللہ تعالیٰ سے رحمت طلب کرتے اور ہر اس آیت پر جس میں عذاب کا ذکر ہوتا آپ ٹھہرتے اور اللہ تعالیٰ سے پناہ طلب کرتے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا وہ بھی قیام سے کچھ کم نہ تھا اور رکوع میں یہ فرماتے تھے «سبحان ذی الجبروت والملکوت و الکبریاء والعظمتہ» پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا وہ بھی قیام کے قریب قریب تھا۔ اور سجدے میں بھی یہی پڑھتے پھر دوسری رکعت میں سورۃ آل عمران پڑھی۔ پھر اسی طرح ایک ایک سورت ایک ایک رکعت میں پڑھتے رہے۔ [سنن ابوداود:873،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏
81۔ 1 یعنی انسانوں جیسے مطلب انسانوں کا دوبارہ پیدا کرنا جس طرح انہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا، آسمان و زمین کی پیدائش سے انسانوں کو دوبارہ پیدا کرنے پر استدلال ہے۔ جس طرح دوسرے مقام پر فرمایا (لَخَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرضِ اَکْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ) (اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَلَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى ۭ بَلٰٓي اِنَّهٗ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ) 46۔ الاحقاف:33) ' آسمان و زمین کی پیدائش (لوگوں کے نزدیک) انسانوں کی پیدائش سے زیادہ مشکل کام ہے '۔
(آیت 81){ اَوَ لَيْسَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِقٰدِرٍ …:} یہ دوبارہ زندگی کی تیسری دلیل ہے کہ آسمان اور زمین کو دیکھو، ان میں اللہ تعالیٰ نے جو عجیب و غریب اور عظیم الشّان چیزیں رکھی ہیں، انھیں دیکھو اور ان کے مقابلے میں انسان کو دیکھو، کیا اس عظیم آسمان و زمین کو پیدا کرنے والا اس ضعیف البنیان انسان کو پہلے یا دوبارہ پیدا نہیں کر سکتا؟ پھر اللہ تعالیٰ نے خود ہی جواب دیا، کیوں نہیں! وہ خلّاق بھی ہے اور علیم بھی۔ جب اس میں صفت خلق اور صفت علم پورے کمال کے ساتھ جمع ہیں تو پھر کون سا مُردہ ہے جو وہ زندہ نہ کر سکے؟ اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کی پیدائش کو انسان کے دوبارہ زندہ کرنے کی دلیل کے طور پر کئی مقامات پر نہایت زوردار انداز میں بیان فرمایا ہے، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏لَخَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ» [المؤمن: ۵۷ ] ”یقینا آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا لوگوں کے پیدا کرنے سے زیادہ بڑا (کام) ہے۔“ اور فرمایا: «اَوَ لَمْ يَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ لَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنْ يُّحْيِۧ الْمَوْتٰى بَلٰۤى اِنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ» [ الأحقاف: ۳۳ ] ”اور کیا انھوں نے نہیں دیکھا کہ وہ اللہ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور وہ ان کے پیدا کرنے سے نہیں تھکا، وہ اس بات پر قادر ہے کہ ُمردوں کو زندہ کر دے؟ کیوں نہیں! یقینا وہ ہر چیز پر خوب قادر ہے۔“ اور فرمایا: «‏‏‏‏ءَاَنْتُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمِ السَّمَآءُ بَنٰىهَا» [النازعات: ۲۷ ] ”کیا پیدا کرنے میں تم زیادہ مشکل ہو یا آسمان؟ اس نے اسے بنایا۔“
اِنَّمَاۤ اَمۡرُہٗۤ اِذَاۤ اَرَادَ شَیۡئًا اَنۡ یَّقُوۡلَ لَہٗ کُنۡ فَیَکُوۡنُ ﴿۸۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
وہ تو جب کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اس کا کام بس یہ ہے کہ اسے حکم دے کہ ہو جا اور وہ ہو جاتی ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
وه جب کبھی کسی چیز کا اراده کرتا ہے اسے اتنا فرما دینا (کافی ہے) کہ ہو جا، وه اسی وقت ہو جاتی ہے
احمد رضا خان بریلوی
اس کا کام تو یہی ہے کہ جب کسی چیز کو چاہے تو اس سے فرمائے ہو جا وہ فوراً ہوجاتی ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اس کا معاملہ تو بس یوں ہے کہ جب وہ کسی چیز کے پیدا کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو کہہ دیتا ہے کہ ہو جا تو وہ (فوراً) ہو جاتی ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اس کا حکم تو، جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے، اس کے سوا نہیں ہوتا کہ اسے کہتا ہے ’’ہو جا‘‘ تو وہ ہو جاتی ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ ہر چیز پر قادر ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنی زبردست قدرت بیان فرما رہا ہے کہ اس نے آسمانوں کو اور ان کی سب چیزوں کو پیدا کیا۔ زمین کو اس کے اندر کی سب چیزوں کو بھی اسی نے بنایا۔ پھر اتنی بڑی قدرتوں والا انسانوں جیسی چھوٹی مخلوق کو پیدا کرنے سے عاجز آ جائے یہ تو عقل کے بھی خلاف ہے، جیسے فرمایا «لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» [ 40- غافر: 57 ] ‏‏‏‏ یعنی آسمان و زمین کی پیدائش انسانی پیدائش سے بہت بڑی اور اہم ہے، یہاں بھی فرمایا کہ وہ اللہ جس نے آسمان و زمین کو پیدا کر دیا وہ کیا انسانوں جیسی کمزور مخلوق کو پیدا کرنے سے عاجز آ جائے گا؟ اور جب وہ قادر ہے تو یقیناً انہیں مار ڈالنے کے بعد پھر وہ انہیں جلا دے گا۔ جس نے ابتداءً پیدا کیا ہے اس پر اعادہ بہت آسان ہے جیسے اور آیت میں ہے «اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَلَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى بَلٰٓي اِنَّهٗ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ» [ 46- الأحقاف: 33 ] ‏‏‏‏، کیا وہ نہیں دیکھتے کہ جس اللہ نے زمین و آسمان کو بنا دیا اور ان کی پیدائش سے عاجز نہ آیا نہ تھکا کیا وہ ُمردوں کے زندہ کرنے پر قادر نہیں؟ بیشک قادر ہے بلکہ وہ تو ہرچیز پر قادر ہے۔ وہی پیدا کرنے والا اور بنانے والا، ایجاد کرنے والا اور خالق ہے۔ ساتھ ہی دانا، بینا اور رتی رتی سے واقف ہے۔ وہ تو جو کرنا چاہتا ہے اس کا صرف حکم دے دینا کافی ہوتا ہے۔ مسند کی حدیث قدسی میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے میرے بندو، تم سب فقیر ہو مگر جسے میں غنی کر دوں۔ میں جواد ہوں، میں ماجد ہوں، میں واجد ہوں۔ جو چاہتا ہوں کرتا ہوں۔ میرا انعام بھی ایک کلام ہے اور میرا عذاب بھی کلام ہے۔ میں جس چیز کو کرنا چاہتا ہوں کہ دیتا ہوں کہ ہو جا وہ ہو جاتی ہے۔ [مسند احمد:160/5:صحیح] ‏‏‏‏ ہر برائی سے اس حی و قیوم اللہ کی ذات پاک ہے جو زمین و آسمان کا بادشاہ ہے، جس کے ہاتھ میں آسمانوں اور زمینوں کی کنجیاں ہیں۔ وہ سب کا خالق ہے، وہی اصلی حاکم ہے، اسی کی طرف قیامت کے دن سب لوٹائے جائیں گے وہی عادل و منعم اللہ انہیں سزا دے گا۔ اور جگہ فرمان ہے پاک ہے وہ اللہ جس کے ہاتھ میں ہرچیز کی ملکیت ہے۔ اور آیت میں ہے کون ہے جس کے ہاتھ میں ہرچیز کا اختیار ہے؟ اور فرمان ہے «تَبٰرَكَ الَّذِيْ بِيَدِهِ الْمُلْكُ ۡ وَهُوَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرُ ۝» [ 67- الملك: 1 ] ‏‏‏‏ ] ‏‏‏‏ پس ملک و ملکوت دونوں کے ایک ہی معنی ہیں جیسے رحمت و رحموت اور رہبت و رہبوت اور جبرو جبروت۔ بعض نے کہا ہے کہ ملک سے مراد جسموں کا عالم اور ملکوت سے مراد روحوں کا عالم ہے۔ لیکن صحیح بات پہلی ہی ہے اور یہی قول جمہور مفسرین کا ہے۔ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ایک رات میں تہجد کی نماز میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں کھڑا ہو گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات لمبی سورتیں [ یعنی پونے دس پارے ] ‏‏‏‏ سات رکعت میں پڑھیں «سمع اللہ لمن حمدہ» کہہ کر رکوع سے سر اٹھا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ پڑھتے تھے «الحمدللہ ذی الملکوت والجبروت والکبریاء والعظمتہ» [مسند احمد:388/5:ضعیف] ‏‏‏‏ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رکوع قیام کے مناسب ہی لمبا تھا اور سجدہ بھی مثل رکوع کے تھا میری تو یہ حالت ہو گئی تھی کہ ٹانگیں ٹوٹنے لگیں [ ابوداؤد وغیرہ ] ‏‏‏‏ انہی سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ نے رات کی نماز پڑھتے ہوئے دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا پڑھ کر پھر قرأت شروع کی «اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ اکبر ذی الملکوت والجبروت والکبریاء والعظمتہ» پھرپوری سورۃ البقرہ پڑھ کر رکوع کیا اور رکوع میں بھی قریب قریب اتنی ہی دیر ٹھہرے رہے اور سبحان ربی العظیم پڑھتے رہے پھر اپنا سر رکوع سے اٹھایا اور تقریباً اتنی ہی دیر کھڑے رہے اور لرَِبَّیَ الُحَمُدُ پڑھتے رہے۔ پھر سجدے میں گئے وہ بھی تقریباً قیام کے برابر تھا اور سجدے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سبحان ربی الاعلی پڑھتے رہے۔ پھر سجدے سے سر اٹھایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارک تھی کہ دونوں سجدوں کے درمیان بھی اتنی دیر بیٹھے رہتے تھے جتنی دیر سجدوں میں لگاتے تھے اور رب اغفرلی رب اغفرلی پڑھتے رہے۔ چار رکعت آپ نے ادا کیں سورۃ البقرہ سورۃ آل عمران سورۃ نساء اور سورۃ المائدہ کی تلاوت کی۔ [سنن ابوداود:874،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏

حضرت شعبہ رحمہ اللہ کو شک ہے کہ سورۃ المائدہ کہا یا سورۃ الانعام؟ نسائی وغیرہ میں ہے سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک رات میں نے اے اللہ کے رسول! صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تہجد کی نماز پڑھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ البقرہ کی تلاوت فرمائی، ہر اس آیت پر جس میں رحمت کا ذکر ہوتا آپ ٹھہرتے اور اللہ تعالیٰ سے رحمت طلب کرتے اور ہر اس آیت پر جس میں عذاب کا ذکر ہوتا آپ ٹھہرتے اور اللہ تعالیٰ سے پناہ طلب کرتے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا وہ بھی قیام سے کچھ کم نہ تھا اور رکوع میں یہ فرماتے تھے «سبحان ذی الجبروت والملکوت و الکبریاء والعظمتہ» پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا وہ بھی قیام کے قریب قریب تھا۔ اور سجدے میں بھی یہی پڑھتے پھر دوسری رکعت میں سورۃ آل عمران پڑھی۔ پھر اسی طرح ایک ایک سورت ایک ایک رکعت میں پڑھتے رہے۔ [سنن ابوداود:873،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏
(1) یعنی اس کی شان تو یہ ہے پھر اس کے لیے سب انسانوں کا زندہ کردینا کون سا مشکل معاملہ ہے؟
(آیت 82){ اِنَّمَااَمْرُهٗۤ اِذَاۤ اَرَادَ شَيْـًٔا …:} یہ ایک طرح سے پہلی آیات کا نتیجہ اور خلاصہ ہے کہ اسے پہلی مرتبہ یا دوسری مرتبہ کوئی چھوٹی یا بڑی چیز بنانے میں دقت ہی کیا ہو سکتی ہے؟ وہ تو جب کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو بس {” كُنْ “} کہتا ہے اور وہ ہو جاتی ہے۔
فَسُبۡحٰنَ الَّذِیۡ بِیَدِہٖ مَلَکُوۡتُ کُلِّ شَیۡءٍ وَّ اِلَیۡہِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴿٪۸۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پاک ہے وہ جس کے ہاتھ میں ہر چیز کا مکمل اقتدار ہے، اور اسی کی طرف تم پلٹائے جانے والے
مولانا محمد جوناگڑھی
پس پاک ہے وه اللہ جس کے ہاتھ میں ہر چیز کی بادشاہت ہے اور جس کی طرف تم سب لوٹائے جاؤ گے
احمد رضا خان بریلوی
تو پاکی ہے، اسے جس کے ہاتھ ہر چیز کا قبضہ ہے، اور اسی کی طرف پھیرے جاؤ گے
علامہ محمد حسین نجفی
پس پاک ہے وہ ذات جس کے قبضۂ قدرت میں ہر چیز کی حکومت ہے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤگے۔
عبدالسلام بن محمد
سو پاک ہے وہ کہ اسی کے ہاتھ میں ہر چیز کی کامل بادشاہی ہے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ ہر چیز پر قادر ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنی زبردست قدرت بیان فرما رہا ہے کہ اس نے آسمانوں کو اور ان کی سب چیزوں کو پیدا کیا۔ زمین کو اس کے اندر کی سب چیزوں کو بھی اسی نے بنایا۔ پھر اتنی بڑی قدرتوں والا انسانوں جیسی چھوٹی مخلوق کو پیدا کرنے سے عاجز آ جائے یہ تو عقل کے بھی خلاف ہے، جیسے فرمایا «لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» [ 40- غافر: 57 ] ‏‏‏‏ یعنی آسمان و زمین کی پیدائش انسانی پیدائش سے بہت بڑی اور اہم ہے، یہاں بھی فرمایا کہ وہ اللہ جس نے آسمان و زمین کو پیدا کر دیا وہ کیا انسانوں جیسی کمزور مخلوق کو پیدا کرنے سے عاجز آ جائے گا؟ اور جب وہ قادر ہے تو یقیناً انہیں مار ڈالنے کے بعد پھر وہ انہیں جلا دے گا۔ جس نے ابتداءً پیدا کیا ہے اس پر اعادہ بہت آسان ہے جیسے اور آیت میں ہے «اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَلَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى بَلٰٓي اِنَّهٗ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ» [ 46- الأحقاف: 33 ] ‏‏‏‏، کیا وہ نہیں دیکھتے کہ جس اللہ نے زمین و آسمان کو بنا دیا اور ان کی پیدائش سے عاجز نہ آیا نہ تھکا کیا وہ ُمردوں کے زندہ کرنے پر قادر نہیں؟ بیشک قادر ہے بلکہ وہ تو ہرچیز پر قادر ہے۔ وہی پیدا کرنے والا اور بنانے والا، ایجاد کرنے والا اور خالق ہے۔ ساتھ ہی دانا، بینا اور رتی رتی سے واقف ہے۔ وہ تو جو کرنا چاہتا ہے اس کا صرف حکم دے دینا کافی ہوتا ہے۔ مسند کی حدیث قدسی میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے میرے بندو، تم سب فقیر ہو مگر جسے میں غنی کر دوں۔ میں جواد ہوں، میں ماجد ہوں، میں واجد ہوں۔ جو چاہتا ہوں کرتا ہوں۔ میرا انعام بھی ایک کلام ہے اور میرا عذاب بھی کلام ہے۔ میں جس چیز کو کرنا چاہتا ہوں کہ دیتا ہوں کہ ہو جا وہ ہو جاتی ہے۔ [مسند احمد:160/5:صحیح] ‏‏‏‏ ہر برائی سے اس حی و قیوم اللہ کی ذات پاک ہے جو زمین و آسمان کا بادشاہ ہے، جس کے ہاتھ میں آسمانوں اور زمینوں کی کنجیاں ہیں۔ وہ سب کا خالق ہے، وہی اصلی حاکم ہے، اسی کی طرف قیامت کے دن سب لوٹائے جائیں گے وہی عادل و منعم اللہ انہیں سزا دے گا۔ اور جگہ فرمان ہے پاک ہے وہ اللہ جس کے ہاتھ میں ہرچیز کی ملکیت ہے۔ اور آیت میں ہے کون ہے جس کے ہاتھ میں ہرچیز کا اختیار ہے؟ اور فرمان ہے «تَبٰرَكَ الَّذِيْ بِيَدِهِ الْمُلْكُ ۡ وَهُوَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرُ ۝» [ 67- الملك: 1 ] ‏‏‏‏ ] ‏‏‏‏ پس ملک و ملکوت دونوں کے ایک ہی معنی ہیں جیسے رحمت و رحموت اور رہبت و رہبوت اور جبرو جبروت۔ بعض نے کہا ہے کہ ملک سے مراد جسموں کا عالم اور ملکوت سے مراد روحوں کا عالم ہے۔ لیکن صحیح بات پہلی ہی ہے اور یہی قول جمہور مفسرین کا ہے۔ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ایک رات میں تہجد کی نماز میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں کھڑا ہو گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات لمبی سورتیں [ یعنی پونے دس پارے ] ‏‏‏‏ سات رکعت میں پڑھیں «سمع اللہ لمن حمدہ» کہہ کر رکوع سے سر اٹھا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ پڑھتے تھے «الحمدللہ ذی الملکوت والجبروت والکبریاء والعظمتہ» [مسند احمد:388/5:ضعیف] ‏‏‏‏ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رکوع قیام کے مناسب ہی لمبا تھا اور سجدہ بھی مثل رکوع کے تھا میری تو یہ حالت ہو گئی تھی کہ ٹانگیں ٹوٹنے لگیں [ ابوداؤد وغیرہ ] ‏‏‏‏ انہی سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ نے رات کی نماز پڑھتے ہوئے دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا پڑھ کر پھر قرأت شروع کی «اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ اکبر ذی الملکوت والجبروت والکبریاء والعظمتہ» پھرپوری سورۃ البقرہ پڑھ کر رکوع کیا اور رکوع میں بھی قریب قریب اتنی ہی دیر ٹھہرے رہے اور سبحان ربی العظیم پڑھتے رہے پھر اپنا سر رکوع سے اٹھایا اور تقریباً اتنی ہی دیر کھڑے رہے اور لرَِبَّیَ الُحَمُدُ پڑھتے رہے۔ پھر سجدے میں گئے وہ بھی تقریباً قیام کے برابر تھا اور سجدے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سبحان ربی الاعلی پڑھتے رہے۔ پھر سجدے سے سر اٹھایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارک تھی کہ دونوں سجدوں کے درمیان بھی اتنی دیر بیٹھے رہتے تھے جتنی دیر سجدوں میں لگاتے تھے اور رب اغفرلی رب اغفرلی پڑھتے رہے۔ چار رکعت آپ نے ادا کیں سورۃ البقرہ سورۃ آل عمران سورۃ نساء اور سورۃ المائدہ کی تلاوت کی۔ [سنن ابوداود:874،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏

حضرت شعبہ رحمہ اللہ کو شک ہے کہ سورۃ المائدہ کہا یا سورۃ الانعام؟ نسائی وغیرہ میں ہے سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک رات میں نے اے اللہ کے رسول! صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تہجد کی نماز پڑھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ البقرہ کی تلاوت فرمائی، ہر اس آیت پر جس میں رحمت کا ذکر ہوتا آپ ٹھہرتے اور اللہ تعالیٰ سے رحمت طلب کرتے اور ہر اس آیت پر جس میں عذاب کا ذکر ہوتا آپ ٹھہرتے اور اللہ تعالیٰ سے پناہ طلب کرتے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا وہ بھی قیام سے کچھ کم نہ تھا اور رکوع میں یہ فرماتے تھے «سبحان ذی الجبروت والملکوت و الکبریاء والعظمتہ» پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا وہ بھی قیام کے قریب قریب تھا۔ اور سجدے میں بھی یہی پڑھتے پھر دوسری رکعت میں سورۃ آل عمران پڑھی۔ پھر اسی طرح ایک ایک سورت ایک ایک رکعت میں پڑھتے رہے۔ [سنن ابوداود:873،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏
(1) یعنی یہ نہیں ہوگا کہ مٹی میں رل مل کر مبالغے کا صیغہ قرار دیتے ہیں۔ (فتح القدیر) یعنی ملکوت ملک کا مبالغہ ہے۔ 83۔ 1 یعنی یہ نہیں ہوگا کہ مٹی میں رل مل کر تمہارا وجود ہمیشہ کے لئے ختم ہوجائے نہیں بلکہ اسے دوبارہ وجود عطا کیا جائے گا۔ یہ بھی نہیں ہوگا کہ تم بھاگ کر کسی اور کے پاس پناہ طلب کرلو۔ تمہیں ہر حال اللہ ہی کی بارگاہ میں حاضر ہونا ہوگا، جہاں وہ عملوں کے مطابق اچھی یا بری جزا دے گا۔
(آیت 83) ➊ {فَسُبْحٰنَ الَّذِيْ بِيَدِهٖ مَلَكُوْتُ كُلِّ شَيْءٍ:مَلَكُوْتُ”مُلْكٌ“} (مصدر) میں مبالغہ ہے، اس لیے اس کا ترجمہ ”کامل بادشاہی“ کیا گیا ہے۔ ➋ {وَ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ:} یعنی یہ نہیں کہ مٹی میں رَل مل کر تمھارا وجود ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے۔ نہیں، بلکہ اسے دوبارہ وجود عطا کیا جائے گا۔ یہ بھی نہیں ہو گا کہ تم بھاگ کر کسی اور کے پاس پناہ طلب کر لو، بلکہ تمھیں ہرحال میں اس کی بارگاہ میں حاضر ہونا ہو گا، جہاں وہ تمھارے اعمال کے مطابق اچھی یا بری جزا دے گا۔