بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ يس — Surah Yasin
آیت نمبر 73
کل آیات: 83
قرآن کریم يس آیت 73
آیت نمبر: 73 — سورۃ يس islamicurdubooks.com ↗
وَ لَہُمۡ فِیۡہَا مَنَافِعُ وَ مَشَارِبُ ؕ اَفَلَا یَشۡکُرُوۡنَ ﴿۷۳﴾
اور اُن کے اندر اِن کے لیے طرح طرح کے فوائد اور مشروبات ہیں پھر کیا یہ شکر گزار نہیں ہوتے؟
انہیں ان سے اور بھی بہت سے فائدے ہیں، اور پینے کی چیزیں۔ کیا پھر (بھی) یہ شکر ادا نہیں کریں گے؟
اور ان کے لیے ان میں کئی طرح کے نفع اور پینے کی چیزیں ہیں تو کیا شکر نہ کریں گے
اور ان کیلئے ان میں اور بھی طرح طرح کے فائدے اور پینے کی چیزیں (دودھ وغیرہ) بھی ہیں تو کیا یہ لوگ شکر ادا نہیں کرتے؟
اور ان کے لیے ان میں کئی فائدے اور پینے کی چیزیں ہیں۔ تو کیا وہ شکر نہیں کرتے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

چوپائیوں کے فوائد ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے انعام و احسان کا ذکر فرما رہا ہے۔ کہ اس نے خود ہی یہ چوپائے پیدا کئے اور انسان کی ملکیت میں دے دئیے، ایک چھوٹا سا بچہ بھی اونٹ کی نکیل تھام لے اونٹ جیسا قوی اور بڑا جانور اس کے ساتھ ساتھ ہی سو اونٹوں کی ایک قطار ہو ایک بچے کے ہانکنے سے سیدھے چلتی رہتی ہے۔

اس ماتحتی کے علاوہ بعض لمبے لمبے مشقت والے سفر بآسانی جلدی جلدی طے ہوتے ہیں خود سوار ہوتے ہیں اسباب لادتے ہیں بوجھ ڈھونے کے کام آتے ہیں۔ اور بعض کے گوشت کھائے جاتے ہیں، پھر صوف اور ان کے بالوں کھالوں وغیرہ سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ دودھ پیتے ہیں، بطور علاج پیشاب کام میں آتے ہیں اور بھی طرح طرح کے فوائد حاصل کئے جاتے ہیں۔ کیا پھر ان کو نہ چاہے کہ ان نعمتوں کے منعم حقیقی، ان احسانوں کے محسن، ان چیزوں کے خالق، ان کے حقیقی مالک کا شکر بجا لائیں؟ صرف اسی کی عبادت کریں؟ اس کی توحید کو مانیں اور اس کے ساتھ کسی اور کو شریک نہ کریں۔

📖 احسن البیان

73۔ 1 یعنی سواری اور کھانے کے علاوہ بھی ان سے بہت سے فوائد حاصل کئے جاتے ہیں مثلًا اون اور بالوں سے کئی چیزیں بنتی ہیں، ان کی چربی سے تیل حاصل ہوتا ہے اور یہ باربرداری اور کھیتی باڑی کے کام بھی آتے ہیں۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 73) ➊ { وَ لَهُمْ فِيْهَا مَنَافِعُ وَ مَشَارِبُ:} سواری اور گوشت کے علاوہ انسان کے لیے ان جانوروں میں بہت سے فوائد ہیں، مثلاً ان کی کھال، چربی، سینگوں، بالوں اور آنتوں وغیرہ سے سیکڑوں چیزیں بناتے ہیں۔ ان کے ساتھ کھیتی باڑی کرتے ہیں، ان کے گوبر کی کھاد بناتے ہیں اور ان کی خریدو فروخت کے ساتھ زندگی کی ہر ضرورت پوری کرتے ہیں۔ جانوروں کے ذریعے سے آدمی کو پینے کی بھی بہت سی چیزیں مہیا ہوتی ہیں، مثلاً ان کا دودھ اور بے شمار وہ چیزیں جو دودھ سے بنتی ہیں۔ مزید دیکھیے سورۂ نحل (۵ تا۸) اور سورۂ زخرف (۱۲ تا ۱۴)۔ ➋ { اَفَلَا يَشْكُرُوْنَ:} یعنی یہ سب قسم کے احسانات تو انسان پر اللہ تعالیٰ نے کیے، اب بجائے اس کے کہ وہ اللہ کا شکر ادا کرتا، اس نے انھی جانوروں کی قربانیاں غیر اللہ کے آستانوں پر اور ان کے نام پر کیں۔ ان کے نام پر جانور آزاد چھوڑے جن کا ان جانوروں کے پیدا کرنے اور انھیں انسان کا مطیع بنانے میں کچھ بھی عمل دخل نہ تھا، اس سے بڑھ کر ناشکری اور نمک حرامی کیا ہو سکتی ہے!؟
← پچھلی آیت (72) پوری سورۃ اگلی آیت (74) →