بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ التين — Surah Tin
آیت نمبر 5
کل آیات: 8
قرآن کریم التين آیت 5
آیت نمبر: 5 — سورۃ التين islamicurdubooks.com ↗
ثُمَّ رَدَدۡنٰہُ اَسۡفَلَ سٰفِلِیۡنَ ۙ﴿۵﴾
پھر اُسے الٹا پھیر کر ہم نے سب نیچوں سے نیچ کر دیا
پھر اسے نیچوں سے نیچا کر دیا
پھر اسے ہر نیچی سے نیچی حالت کی طرف پھیردیا
پھر اسے (اس کی کج رفتاری کی وجہ سے) پست ترین حالت کی طرف لوٹا دیا۔
پھر ہم نے اسے لوٹا کر نیچوں سے سب سے نیچا کر دیا۔

📖 تفسیر ابن کثیر

«وَالتِّينِ» سے مراد کسی کے نزدیک تو مسجد دمشق ہے، کوئی کہتا ہے خود دمشق مراد ہے، کسی کے نزدیک دمشق کا ایک پہاڑ مراد ہے، بعض کہتے ہیں کہ اصحاب کہف کی مسجد مراد ہے، کوئی کہتا ہے کہ جودی پہاڑ پر مسجد نوح علیہ السلام ہے وہ مراد ہے۔ بعض کہتے ہیں انجیر مراد ہے، «زیتون» سے کوئی کہتا ہے مسجد بیت المقدس مراد ہے۔ کسی نے کہا کہ وہ زیتون جسے نچوڑتے ہو، «طور سِينِينَ» وہ پہاڑ ہے جس پر موسیٰ علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے کلام کیا تھا «الْبَلَدِ الْأَمِينِ» سے مراد مکہ شریف ہے اس میں کسی کو اختلاف نہیں۔ بعض کا قول یہ ہے کہ یہ تینوں وہ جگہیں ہیں جہاں تین اولو العزم صاحب شریعت پیغمبر علیہم السلام بھیجے گئے تھے۔

«وَالتِّينِ» سے مراد تو بیت المقدس ہے۔ جہاں پر عیسیٰ علیہ السلام کو نبی بنا کر بھیجا گیا تھا اور «وَطُورِ سِينِينَ» سے مراد طور سینا ہے جہاں موسیٰ بن عمران علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے کلام کیا تھا اور «الْبَلَدِ الْأَمِينِ» سے مراد مکہ مکرمہ جہاں ہمارے سردار محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھیجے گئے۔ تورات کے آخر میں بھی ان تینوں جگہوں کا نام ہے اس میں ہے کہ طور سینا سے اللہ تعالیٰ آیا یعنی وہاں پر موسیٰ علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے کلام کیا اور «ساعیر» یعنی بیت المقدس کے پہاڑ سے اس نے اپنا نور چمکایا یعنی عیسیٰ علیہ السلام کو وہاں بھیجا اور فاران کی چوٹیوں پر وہ بلند ہوا یعنی مکہ کے پہاڑوں سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا، پھر ان تینوں زبردست بڑے مرتبے والے پیغمبروں کی زمانی اور وجودی ترتیب بیان کر دی۔ اسی طرح یہاں بھی پہلے جس کا نام لیا اس سے زیادہ شریف چیز کا نام پھر لیا اور پھر ان دونوں سے بزرگ تر چیز کا نام آخر میں لیا۔ پھر ان قسموں کے بعد بیان فرمایا کہ ’ انسان کو اچھی شکل و صورت میں صحیح قد و قامت والا، درست اور سڈول اعضاء والا خوبصورت اور سہانے چہرے والا پیدا کیا پھر اسے نیچوں کا نِیچ کر دیا یعنی جہنمی ہو گیا، اگر اللہ کی اطاعت اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع نہ کی تو اسی لیے ایمان والوں کو اس سے الگ کر لیا ‘۔ بعض کہتے ہیں کہ مراد انتہائی بڑھاپے کی طرف لوٹا دینا ہے۔

سیدنا عکرمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”جس نے قرآن جمع کیا وہ رذیل عمر کو نہ پہنچے گا۔‏‏‏‏“ امام ابن جریر اسی کو پسند فرماتے ہیں، لیکن اگر یہی بڑھاپا مراد ہوتا تو مومنوں کا استشناء کیوں ہوتا؟ بڑھاپا تو بعض مومنوں پر بھی آتا ہے پس ٹھیک بات وہی ہے جو اوپر ہم نے ذکر کی۔ جیسے اور جگہ سورۃ والعصر میں ہے کہ «وَالْعَصْر إِنَّ الْإِنْسَان لَفِي خُسْر إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَات» ۱؎ [103-العصر:1-3] ‏‏‏‏ ’ تمام انسان نقصان میں ہیں سوائے ایمان اور اعمال صالح والوں کے کہ انہیں ایسی نیک جزا ملے گی جس کی انتہا نہ ہو ‘۔ جیسے پہلے بیان ہو چکا ہے۔ پھر فرماتا ہے ’ اے انسان جبکہ تو اپنی پہلی اور اول مرتبہ کی پیدائش کو جانتا ہے تو پھر جزا و سزا کے دن کے آنے پر اور تیرے دوبارہ زندہ ہونے پر تجھے کیوں یقین نہیں؟ کیا وجہ ہے کہ تو اسے نہیں مانتا حالانکہ ظاہر ہے کہ جس نے پہلی دفعہ پیدا کر دیا اس پر دوسری دفعہ کا پیدا کرنا کیا مشکل ہے؟ ‘۔ مجاہد رحمہ اللہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھ بیٹھے کہ اس سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”معاذاللہ اس سے مراد مطلق انسان ہے۔‏‏‏‏“ عکرمہ رحمہ اللہ وغیرہ کا بھی یہی قول ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ کیا اللہ حکم الحاکمین نہیں ہے وہ نہ ظلم کرے نہ بے عدلی کرے اسی لیے وہ قیامت قائم کرے گا اور ہر ایک ظالم سے مظلوم کا انتقام لے گا ‘۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوع حدیث میں یہ گزر چکا ہے کہ جو شخص «وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ» پڑھے اور اس کے آخر کی آیت «أَلَيْسَ اللَّـهُ بِأَحْكَمِ الْحَاكِمِينَ» پڑھے تو کہہ دے «بَلَى وَأَنَا عَلَى ذَلِكَ مِنْ الشَّاهِدِينَ» یعنی ہاں اور میں اس پر گواہ ہوں۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3347،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ اللہ کے فضل و کرم سے سورۃ التین کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»

📖 احسن البیان

5۔ 1 یہ اشارہ ہے انسان کی ارذل العمر کی طرف جس میں جوانی اور قوت کے بعد بڑھاپا اور ضعف آجاتا ہے اور انسان کی عقل اور ذہن بچے کی طرح ہوجاتا ہے۔ بعض نے اس سے کردار کا وہ سفلہ پن لیا ہے جس میں مبتلا ہو کر انسان انتہائی پست اور سانپ بچھو سے بھی گیا گزرا ہوجاتا ہے بعض نے اس سے ذلت و رسوائی کا وہ عذاب مراد لیا ہے جو جہنم میں کافروں کے لیے ہے، گویا انسان اللہ اور رسول کی اطاعت سے انحراف کر کے اپنے احسن تقویم کے بلند رتبہ واعزاز سے گرا کر جہنم کے اسفل السافلین میں ڈال لیتا ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 5) {ثُمَّ رَدَدْنٰهُ اَسْفَلَ سٰفِلِيْنَ:} اس بہترین بناوٹ میں اس کی شکل و صورت کا حسن، اس کی عقل، اس کی فطرت پر پیدائش اور وہ سب کچھ شامل ہے جو کسی حیوان کو حاصل نہیں۔ پھر اگر وہ اس عقل اور فطرت کے تقاضوں پر عمل نہ کرے بلکہ انسانیت سے اتر کر حیوانیت میں جاگرے اور شہوت و غضب اور دوسری حیوانی صفات سے مغلوب ہوجائے، تو اس سے زیادہ نیچا اور ذلیل کوئی نہیں، کیونکہ پھر وہ اس حد تک گر جاتا ہے کہ کوئی حیوان بھی نہیں گرتا، حتیٰ کہ وہ اپنے مالک و خالق کو بھی بھول جاتا ہے، اس کے ساتھ شریک بنانے لگتا ہے اور زمین میں ایسا فساد برپا کرتا ہے جو کوئی حیوان بھی نہیں کر سکتا۔ ظاہر ہے کہ اس کا نتیجہ آگ ہے اور اس میں گرنے والوں سے نیچا اور ذلیل کوئی اور نہیں ہوسکتا۔ انھی کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «‏‏‏‏اُولٰٓىِٕكَ كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ» ‏‏‏‏ [ الأعراف: ۱۷۹ ] ”یہ لوگ جانوروں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی گئے گزرے ہیں۔“
← پچھلی آیت (4) پوری سورۃ اگلی آیت (6) →