بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
التين
سورۃ التين — 8 آیات
قرآن کریم Surah 95
وَ التِّیۡنِ وَ الزَّیۡتُوۡنِ ۙ﴿۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
قسم ہے انجیر اور زیتون کی
مولانا محمد جوناگڑھی
قسم ہے انجیر کی اور زیتون کی
احمد رضا خان بریلوی
انجیر کی قسم اور زیتون
علامہ محمد حسین نجفی
قَسم ہے انجیر اور زیتون کی۔
عبدالسلام بن محمد
قسم ہے انجیر کی! اور زیتون کی!
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
«وَالتِّينِ» سے مراد کسی کے نزدیک تو مسجد دمشق ہے، کوئی کہتا ہے خود دمشق مراد ہے، کسی کے نزدیک دمشق کا ایک پہاڑ مراد ہے، بعض کہتے ہیں کہ اصحاب کہف کی مسجد مراد ہے، کوئی کہتا ہے کہ جودی پہاڑ پر مسجد نوح علیہ السلام ہے وہ مراد ہے۔ بعض کہتے ہیں انجیر مراد ہے، «زیتون» سے کوئی کہتا ہے مسجد بیت المقدس مراد ہے۔ کسی نے کہا کہ وہ زیتون جسے نچوڑتے ہو، «طور سِينِينَ» وہ پہاڑ ہے جس پر موسیٰ علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے کلام کیا تھا «الْبَلَدِ الْأَمِينِ» سے مراد مکہ شریف ہے اس میں کسی کو اختلاف نہیں۔ بعض کا قول یہ ہے کہ یہ تینوں وہ جگہیں ہیں جہاں تین اولو العزم صاحب شریعت پیغمبر علیہم السلام بھیجے گئے تھے۔

«وَالتِّينِ» سے مراد تو بیت المقدس ہے۔ جہاں پر عیسیٰ علیہ السلام کو نبی بنا کر بھیجا گیا تھا اور «وَطُورِ سِينِينَ» سے مراد طور سینا ہے جہاں موسیٰ بن عمران علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے کلام کیا تھا اور «الْبَلَدِ الْأَمِينِ» سے مراد مکہ مکرمہ جہاں ہمارے سردار محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھیجے گئے۔ تورات کے آخر میں بھی ان تینوں جگہوں کا نام ہے اس میں ہے کہ طور سینا سے اللہ تعالیٰ آیا یعنی وہاں پر موسیٰ علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے کلام کیا اور «ساعیر» یعنی بیت المقدس کے پہاڑ سے اس نے اپنا نور چمکایا یعنی عیسیٰ علیہ السلام کو وہاں بھیجا اور فاران کی چوٹیوں پر وہ بلند ہوا یعنی مکہ کے پہاڑوں سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا، پھر ان تینوں زبردست بڑے مرتبے والے پیغمبروں کی زمانی اور وجودی ترتیب بیان کر دی۔ اسی طرح یہاں بھی پہلے جس کا نام لیا اس سے زیادہ شریف چیز کا نام پھر لیا اور پھر ان دونوں سے بزرگ تر چیز کا نام آخر میں لیا۔ پھر ان قسموں کے بعد بیان فرمایا کہ ’ انسان کو اچھی شکل و صورت میں صحیح قد و قامت والا، درست اور سڈول اعضاء والا خوبصورت اور سہانے چہرے والا پیدا کیا پھر اسے نیچوں کا نِیچ کر دیا یعنی جہنمی ہو گیا، اگر اللہ کی اطاعت اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع نہ کی تو اسی لیے ایمان والوں کو اس سے الگ کر لیا ‘۔ بعض کہتے ہیں کہ مراد انتہائی بڑھاپے کی طرف لوٹا دینا ہے۔

سیدنا عکرمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”جس نے قرآن جمع کیا وہ رذیل عمر کو نہ پہنچے گا۔‏‏‏‏“ امام ابن جریر اسی کو پسند فرماتے ہیں، لیکن اگر یہی بڑھاپا مراد ہوتا تو مومنوں کا استشناء کیوں ہوتا؟ بڑھاپا تو بعض مومنوں پر بھی آتا ہے پس ٹھیک بات وہی ہے جو اوپر ہم نے ذکر کی۔ جیسے اور جگہ سورۃ والعصر میں ہے کہ «وَالْعَصْر إِنَّ الْإِنْسَان لَفِي خُسْر إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَات» ۱؎ [103-العصر:1-3] ‏‏‏‏ ’ تمام انسان نقصان میں ہیں سوائے ایمان اور اعمال صالح والوں کے کہ انہیں ایسی نیک جزا ملے گی جس کی انتہا نہ ہو ‘۔ جیسے پہلے بیان ہو چکا ہے۔ پھر فرماتا ہے ’ اے انسان جبکہ تو اپنی پہلی اور اول مرتبہ کی پیدائش کو جانتا ہے تو پھر جزا و سزا کے دن کے آنے پر اور تیرے دوبارہ زندہ ہونے پر تجھے کیوں یقین نہیں؟ کیا وجہ ہے کہ تو اسے نہیں مانتا حالانکہ ظاہر ہے کہ جس نے پہلی دفعہ پیدا کر دیا اس پر دوسری دفعہ کا پیدا کرنا کیا مشکل ہے؟ ‘۔ مجاہد رحمہ اللہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھ بیٹھے کہ اس سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”معاذاللہ اس سے مراد مطلق انسان ہے۔‏‏‏‏“ عکرمہ رحمہ اللہ وغیرہ کا بھی یہی قول ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ کیا اللہ حکم الحاکمین نہیں ہے وہ نہ ظلم کرے نہ بے عدلی کرے اسی لیے وہ قیامت قائم کرے گا اور ہر ایک ظالم سے مظلوم کا انتقام لے گا ‘۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوع حدیث میں یہ گزر چکا ہے کہ جو شخص «وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ» پڑھے اور اس کے آخر کی آیت «أَلَيْسَ اللَّـهُ بِأَحْكَمِ الْحَاكِمِينَ» پڑھے تو کہہ دے «بَلَى وَأَنَا عَلَى ذَلِكَ مِنْ الشَّاهِدِينَ» یعنی ہاں اور میں اس پر گواہ ہوں۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3347،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ اللہ کے فضل و کرم سے سورۃ التین کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
قسم ہے انجیر کی اور زیتون کی۔
(آیت 1) {وَ التِّيْنِ وَ الزَّيْتُوْنِ:} انجیر اور زیتون دو ایسے پھل ہیں جو اپنی جامعیت اور فوائد کی کثرت میں انسان کے جامع الفضائل ہونے کے ساتھ مشابہت رکھتے ہیں، اس لیے انھیں انسان کے احسن تقویم میں پیدا کیے جانے کے شاہد کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اکثر مفسرین نے انجیر اور زیتون سے مراد سر زمین شام لی ہے جہاں یہ کثرت سے اُگتے ہیں اور جہاں عیسیٰ علیہ السلام اور اللہ کے بہت سے پیغمبر پیدا ہوئے ہیں اور یہی بات راجح ہے، کیونکہ اس کے بعد طور سینا اور بلد امین کا ذکر ہے۔
وَ طُوۡرِ سِیۡنِیۡنَ ۙ﴿۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور طور سینا کی
مولانا محمد جوناگڑھی
اور طور سِینِین کی
احمد رضا خان بریلوی
اور طور سینا
علامہ محمد حسین نجفی
اور طُورِ سینا کی۔
عبدالسلام بن محمد
اور طور سینین کی!
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
«وَالتِّينِ» سے مراد کسی کے نزدیک تو مسجد دمشق ہے، کوئی کہتا ہے خود دمشق مراد ہے، کسی کے نزدیک دمشق کا ایک پہاڑ مراد ہے، بعض کہتے ہیں کہ اصحاب کہف کی مسجد مراد ہے، کوئی کہتا ہے کہ جودی پہاڑ پر مسجد نوح علیہ السلام ہے وہ مراد ہے۔ بعض کہتے ہیں انجیر مراد ہے، «زیتون» سے کوئی کہتا ہے مسجد بیت المقدس مراد ہے۔ کسی نے کہا کہ وہ زیتون جسے نچوڑتے ہو، «طور سِينِينَ» وہ پہاڑ ہے جس پر موسیٰ علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے کلام کیا تھا «الْبَلَدِ الْأَمِينِ» سے مراد مکہ شریف ہے اس میں کسی کو اختلاف نہیں۔ بعض کا قول یہ ہے کہ یہ تینوں وہ جگہیں ہیں جہاں تین اولو العزم صاحب شریعت پیغمبر علیہم السلام بھیجے گئے تھے۔

«وَالتِّينِ» سے مراد تو بیت المقدس ہے۔ جہاں پر عیسیٰ علیہ السلام کو نبی بنا کر بھیجا گیا تھا اور «وَطُورِ سِينِينَ» سے مراد طور سینا ہے جہاں موسیٰ بن عمران علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے کلام کیا تھا اور «الْبَلَدِ الْأَمِينِ» سے مراد مکہ مکرمہ جہاں ہمارے سردار محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھیجے گئے۔ تورات کے آخر میں بھی ان تینوں جگہوں کا نام ہے اس میں ہے کہ طور سینا سے اللہ تعالیٰ آیا یعنی وہاں پر موسیٰ علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے کلام کیا اور «ساعیر» یعنی بیت المقدس کے پہاڑ سے اس نے اپنا نور چمکایا یعنی عیسیٰ علیہ السلام کو وہاں بھیجا اور فاران کی چوٹیوں پر وہ بلند ہوا یعنی مکہ کے پہاڑوں سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا، پھر ان تینوں زبردست بڑے مرتبے والے پیغمبروں کی زمانی اور وجودی ترتیب بیان کر دی۔ اسی طرح یہاں بھی پہلے جس کا نام لیا اس سے زیادہ شریف چیز کا نام پھر لیا اور پھر ان دونوں سے بزرگ تر چیز کا نام آخر میں لیا۔ پھر ان قسموں کے بعد بیان فرمایا کہ ’ انسان کو اچھی شکل و صورت میں صحیح قد و قامت والا، درست اور سڈول اعضاء والا خوبصورت اور سہانے چہرے والا پیدا کیا پھر اسے نیچوں کا نِیچ کر دیا یعنی جہنمی ہو گیا، اگر اللہ کی اطاعت اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع نہ کی تو اسی لیے ایمان والوں کو اس سے الگ کر لیا ‘۔ بعض کہتے ہیں کہ مراد انتہائی بڑھاپے کی طرف لوٹا دینا ہے۔

سیدنا عکرمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”جس نے قرآن جمع کیا وہ رذیل عمر کو نہ پہنچے گا۔‏‏‏‏“ امام ابن جریر اسی کو پسند فرماتے ہیں، لیکن اگر یہی بڑھاپا مراد ہوتا تو مومنوں کا استشناء کیوں ہوتا؟ بڑھاپا تو بعض مومنوں پر بھی آتا ہے پس ٹھیک بات وہی ہے جو اوپر ہم نے ذکر کی۔ جیسے اور جگہ سورۃ والعصر میں ہے کہ «وَالْعَصْر إِنَّ الْإِنْسَان لَفِي خُسْر إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَات» ۱؎ [103-العصر:1-3] ‏‏‏‏ ’ تمام انسان نقصان میں ہیں سوائے ایمان اور اعمال صالح والوں کے کہ انہیں ایسی نیک جزا ملے گی جس کی انتہا نہ ہو ‘۔ جیسے پہلے بیان ہو چکا ہے۔ پھر فرماتا ہے ’ اے انسان جبکہ تو اپنی پہلی اور اول مرتبہ کی پیدائش کو جانتا ہے تو پھر جزا و سزا کے دن کے آنے پر اور تیرے دوبارہ زندہ ہونے پر تجھے کیوں یقین نہیں؟ کیا وجہ ہے کہ تو اسے نہیں مانتا حالانکہ ظاہر ہے کہ جس نے پہلی دفعہ پیدا کر دیا اس پر دوسری دفعہ کا پیدا کرنا کیا مشکل ہے؟ ‘۔ مجاہد رحمہ اللہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھ بیٹھے کہ اس سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”معاذاللہ اس سے مراد مطلق انسان ہے۔‏‏‏‏“ عکرمہ رحمہ اللہ وغیرہ کا بھی یہی قول ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ کیا اللہ حکم الحاکمین نہیں ہے وہ نہ ظلم کرے نہ بے عدلی کرے اسی لیے وہ قیامت قائم کرے گا اور ہر ایک ظالم سے مظلوم کا انتقام لے گا ‘۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوع حدیث میں یہ گزر چکا ہے کہ جو شخص «وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ» پڑھے اور اس کے آخر کی آیت «أَلَيْسَ اللَّـهُ بِأَحْكَمِ الْحَاكِمِينَ» پڑھے تو کہہ دے «بَلَى وَأَنَا عَلَى ذَلِكَ مِنْ الشَّاهِدِينَ» یعنی ہاں اور میں اس پر گواہ ہوں۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3347،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ اللہ کے فضل و کرم سے سورۃ التین کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
2۔ 1 یہ وہی کوہ طور ہے جہاں اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ ؑ سے ہم کلام ہوا تھا
(آیت 2) {وَ طُوْرِ سِيْنِيْنَ:} طور سینا جہاں اللہ تعالیٰ موسیٰ علیہ السلام سے ہم کلام ہوئے۔ مزید دیکھیے سورۂ مومنون (۲۰)۔
وَ ہٰذَا الۡبَلَدِ الۡاَمِیۡنِ ۙ﴿۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور اِس پرامن شہر (مکہ) کی
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اس امن والے شہر کی
احمد رضا خان بریلوی
اور اس امان والے شہر کی
علامہ محمد حسین نجفی
اور پُرامن شہر (مکہ) کی۔
عبدالسلام بن محمد
اور اس امن والے شہر کی!
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
«وَالتِّينِ» سے مراد کسی کے نزدیک تو مسجد دمشق ہے، کوئی کہتا ہے خود دمشق مراد ہے، کسی کے نزدیک دمشق کا ایک پہاڑ مراد ہے، بعض کہتے ہیں کہ اصحاب کہف کی مسجد مراد ہے، کوئی کہتا ہے کہ جودی پہاڑ پر مسجد نوح علیہ السلام ہے وہ مراد ہے۔ بعض کہتے ہیں انجیر مراد ہے، «زیتون» سے کوئی کہتا ہے مسجد بیت المقدس مراد ہے۔ کسی نے کہا کہ وہ زیتون جسے نچوڑتے ہو، «طور سِينِينَ» وہ پہاڑ ہے جس پر موسیٰ علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے کلام کیا تھا «الْبَلَدِ الْأَمِينِ» سے مراد مکہ شریف ہے اس میں کسی کو اختلاف نہیں۔ بعض کا قول یہ ہے کہ یہ تینوں وہ جگہیں ہیں جہاں تین اولو العزم صاحب شریعت پیغمبر علیہم السلام بھیجے گئے تھے۔

«وَالتِّينِ» سے مراد تو بیت المقدس ہے۔ جہاں پر عیسیٰ علیہ السلام کو نبی بنا کر بھیجا گیا تھا اور «وَطُورِ سِينِينَ» سے مراد طور سینا ہے جہاں موسیٰ بن عمران علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے کلام کیا تھا اور «الْبَلَدِ الْأَمِينِ» سے مراد مکہ مکرمہ جہاں ہمارے سردار محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھیجے گئے۔ تورات کے آخر میں بھی ان تینوں جگہوں کا نام ہے اس میں ہے کہ طور سینا سے اللہ تعالیٰ آیا یعنی وہاں پر موسیٰ علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے کلام کیا اور «ساعیر» یعنی بیت المقدس کے پہاڑ سے اس نے اپنا نور چمکایا یعنی عیسیٰ علیہ السلام کو وہاں بھیجا اور فاران کی چوٹیوں پر وہ بلند ہوا یعنی مکہ کے پہاڑوں سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا، پھر ان تینوں زبردست بڑے مرتبے والے پیغمبروں کی زمانی اور وجودی ترتیب بیان کر دی۔ اسی طرح یہاں بھی پہلے جس کا نام لیا اس سے زیادہ شریف چیز کا نام پھر لیا اور پھر ان دونوں سے بزرگ تر چیز کا نام آخر میں لیا۔ پھر ان قسموں کے بعد بیان فرمایا کہ ’ انسان کو اچھی شکل و صورت میں صحیح قد و قامت والا، درست اور سڈول اعضاء والا خوبصورت اور سہانے چہرے والا پیدا کیا پھر اسے نیچوں کا نِیچ کر دیا یعنی جہنمی ہو گیا، اگر اللہ کی اطاعت اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع نہ کی تو اسی لیے ایمان والوں کو اس سے الگ کر لیا ‘۔ بعض کہتے ہیں کہ مراد انتہائی بڑھاپے کی طرف لوٹا دینا ہے۔

سیدنا عکرمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”جس نے قرآن جمع کیا وہ رذیل عمر کو نہ پہنچے گا۔‏‏‏‏“ امام ابن جریر اسی کو پسند فرماتے ہیں، لیکن اگر یہی بڑھاپا مراد ہوتا تو مومنوں کا استشناء کیوں ہوتا؟ بڑھاپا تو بعض مومنوں پر بھی آتا ہے پس ٹھیک بات وہی ہے جو اوپر ہم نے ذکر کی۔ جیسے اور جگہ سورۃ والعصر میں ہے کہ «وَالْعَصْر إِنَّ الْإِنْسَان لَفِي خُسْر إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَات» ۱؎ [103-العصر:1-3] ‏‏‏‏ ’ تمام انسان نقصان میں ہیں سوائے ایمان اور اعمال صالح والوں کے کہ انہیں ایسی نیک جزا ملے گی جس کی انتہا نہ ہو ‘۔ جیسے پہلے بیان ہو چکا ہے۔ پھر فرماتا ہے ’ اے انسان جبکہ تو اپنی پہلی اور اول مرتبہ کی پیدائش کو جانتا ہے تو پھر جزا و سزا کے دن کے آنے پر اور تیرے دوبارہ زندہ ہونے پر تجھے کیوں یقین نہیں؟ کیا وجہ ہے کہ تو اسے نہیں مانتا حالانکہ ظاہر ہے کہ جس نے پہلی دفعہ پیدا کر دیا اس پر دوسری دفعہ کا پیدا کرنا کیا مشکل ہے؟ ‘۔ مجاہد رحمہ اللہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھ بیٹھے کہ اس سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”معاذاللہ اس سے مراد مطلق انسان ہے۔‏‏‏‏“ عکرمہ رحمہ اللہ وغیرہ کا بھی یہی قول ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ کیا اللہ حکم الحاکمین نہیں ہے وہ نہ ظلم کرے نہ بے عدلی کرے اسی لیے وہ قیامت قائم کرے گا اور ہر ایک ظالم سے مظلوم کا انتقام لے گا ‘۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوع حدیث میں یہ گزر چکا ہے کہ جو شخص «وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ» پڑھے اور اس کے آخر کی آیت «أَلَيْسَ اللَّـهُ بِأَحْكَمِ الْحَاكِمِينَ» پڑھے تو کہہ دے «بَلَى وَأَنَا عَلَى ذَلِكَ مِنْ الشَّاهِدِينَ» یعنی ہاں اور میں اس پر گواہ ہوں۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3347،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ اللہ کے فضل و کرم سے سورۃ التین کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
3۔ 1 اس سے مراد مکہ مکرمہ ہے، جس میں قتال کی اجازت نہیں ہے۔ علاوہ ازیں جو اس میں داخل ہوجائے، اسے بھی امن حاصل ہوتا ہے۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ یہ دراصل تین مقامات کی قسم ہے جن میں سے ہر ایک جگہ میں جلیل القدر پیغمبر مبعوث ہوئے، انجیر اور زیتون سے مراد وہ علاقہ ہے جہاں پر اس کی پیداوار ہوئی اور وہ ہے بیت المقدس، جہاں حضرت عیسیٰ پیغمبر بن کر آئے، سنین پر حضرت موسیٰ کو نبوت ملی، اور شہر مکہ میں سیدالرسل حضرت محمد کی بعثت ہوئی۔
(آیت 3) {وَ هٰذَا الْبَلَدِ الْاَمِيْنِ:} شہر مکہ جو ابراہیم اور اسماعیل علیھما السلام نے آباد کیا اور جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہوئے۔ اسے بلد امین اس لیے فرمایا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام نے اس کے لیے دعا کی تھی: «‏‏‏‏رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا بَلَدًا اٰمِنًا» ‏‏‏‏ [ البقرۃ: ۱۲۶ ] ”اے میرے رب! اس (جگہ) کو ایک امن والا شہر بنا دے۔“
لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ فِیۡۤ اَحۡسَنِ تَقۡوِیۡمٍ ۫﴿۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا
مولانا محمد جوناگڑھی
یقیناً ہم نے انسان کو بہترین صورت میں پیدا کیا
احمد رضا خان بریلوی
بیشک ہم نے آدمی کو اچھی صورت پر بنایا،
علامہ محمد حسین نجفی
ہم نے انسان کو بہترین ساخت و انداز کے ساتھ پیدا کیا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
بلاشبہ یقینا ہم نے انسان کو سب سے اچھی بناوٹ میں پیدا کیا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
«وَالتِّينِ» سے مراد کسی کے نزدیک تو مسجد دمشق ہے، کوئی کہتا ہے خود دمشق مراد ہے، کسی کے نزدیک دمشق کا ایک پہاڑ مراد ہے، بعض کہتے ہیں کہ اصحاب کہف کی مسجد مراد ہے، کوئی کہتا ہے کہ جودی پہاڑ پر مسجد نوح علیہ السلام ہے وہ مراد ہے۔ بعض کہتے ہیں انجیر مراد ہے، «زیتون» سے کوئی کہتا ہے مسجد بیت المقدس مراد ہے۔ کسی نے کہا کہ وہ زیتون جسے نچوڑتے ہو، «طور سِينِينَ» وہ پہاڑ ہے جس پر موسیٰ علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے کلام کیا تھا «الْبَلَدِ الْأَمِينِ» سے مراد مکہ شریف ہے اس میں کسی کو اختلاف نہیں۔ بعض کا قول یہ ہے کہ یہ تینوں وہ جگہیں ہیں جہاں تین اولو العزم صاحب شریعت پیغمبر علیہم السلام بھیجے گئے تھے۔

«وَالتِّينِ» سے مراد تو بیت المقدس ہے۔ جہاں پر عیسیٰ علیہ السلام کو نبی بنا کر بھیجا گیا تھا اور «وَطُورِ سِينِينَ» سے مراد طور سینا ہے جہاں موسیٰ بن عمران علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے کلام کیا تھا اور «الْبَلَدِ الْأَمِينِ» سے مراد مکہ مکرمہ جہاں ہمارے سردار محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھیجے گئے۔ تورات کے آخر میں بھی ان تینوں جگہوں کا نام ہے اس میں ہے کہ طور سینا سے اللہ تعالیٰ آیا یعنی وہاں پر موسیٰ علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے کلام کیا اور «ساعیر» یعنی بیت المقدس کے پہاڑ سے اس نے اپنا نور چمکایا یعنی عیسیٰ علیہ السلام کو وہاں بھیجا اور فاران کی چوٹیوں پر وہ بلند ہوا یعنی مکہ کے پہاڑوں سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا، پھر ان تینوں زبردست بڑے مرتبے والے پیغمبروں کی زمانی اور وجودی ترتیب بیان کر دی۔ اسی طرح یہاں بھی پہلے جس کا نام لیا اس سے زیادہ شریف چیز کا نام پھر لیا اور پھر ان دونوں سے بزرگ تر چیز کا نام آخر میں لیا۔ پھر ان قسموں کے بعد بیان فرمایا کہ ’ انسان کو اچھی شکل و صورت میں صحیح قد و قامت والا، درست اور سڈول اعضاء والا خوبصورت اور سہانے چہرے والا پیدا کیا پھر اسے نیچوں کا نِیچ کر دیا یعنی جہنمی ہو گیا، اگر اللہ کی اطاعت اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع نہ کی تو اسی لیے ایمان والوں کو اس سے الگ کر لیا ‘۔ بعض کہتے ہیں کہ مراد انتہائی بڑھاپے کی طرف لوٹا دینا ہے۔

سیدنا عکرمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”جس نے قرآن جمع کیا وہ رذیل عمر کو نہ پہنچے گا۔‏‏‏‏“ امام ابن جریر اسی کو پسند فرماتے ہیں، لیکن اگر یہی بڑھاپا مراد ہوتا تو مومنوں کا استشناء کیوں ہوتا؟ بڑھاپا تو بعض مومنوں پر بھی آتا ہے پس ٹھیک بات وہی ہے جو اوپر ہم نے ذکر کی۔ جیسے اور جگہ سورۃ والعصر میں ہے کہ «وَالْعَصْر إِنَّ الْإِنْسَان لَفِي خُسْر إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَات» ۱؎ [103-العصر:1-3] ‏‏‏‏ ’ تمام انسان نقصان میں ہیں سوائے ایمان اور اعمال صالح والوں کے کہ انہیں ایسی نیک جزا ملے گی جس کی انتہا نہ ہو ‘۔ جیسے پہلے بیان ہو چکا ہے۔ پھر فرماتا ہے ’ اے انسان جبکہ تو اپنی پہلی اور اول مرتبہ کی پیدائش کو جانتا ہے تو پھر جزا و سزا کے دن کے آنے پر اور تیرے دوبارہ زندہ ہونے پر تجھے کیوں یقین نہیں؟ کیا وجہ ہے کہ تو اسے نہیں مانتا حالانکہ ظاہر ہے کہ جس نے پہلی دفعہ پیدا کر دیا اس پر دوسری دفعہ کا پیدا کرنا کیا مشکل ہے؟ ‘۔ مجاہد رحمہ اللہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھ بیٹھے کہ اس سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”معاذاللہ اس سے مراد مطلق انسان ہے۔‏‏‏‏“ عکرمہ رحمہ اللہ وغیرہ کا بھی یہی قول ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ کیا اللہ حکم الحاکمین نہیں ہے وہ نہ ظلم کرے نہ بے عدلی کرے اسی لیے وہ قیامت قائم کرے گا اور ہر ایک ظالم سے مظلوم کا انتقام لے گا ‘۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوع حدیث میں یہ گزر چکا ہے کہ جو شخص «وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ» پڑھے اور اس کے آخر کی آیت «أَلَيْسَ اللَّـهُ بِأَحْكَمِ الْحَاكِمِينَ» پڑھے تو کہہ دے «بَلَى وَأَنَا عَلَى ذَلِكَ مِنْ الشَّاهِدِينَ» یعنی ہاں اور میں اس پر گواہ ہوں۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3347،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ اللہ کے فضل و کرم سے سورۃ التین کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
4۔ 1 یہ جواب قسم ہے، اللہ تعالیٰ نے ہر مخلوق کو اس طرح پیدا کیا کہ اس کا منہ نیچے کو جھکا ہوا ہے صرف انسان کو دراز قد، سیدھا بنایا ہے جو اپنے ہاتھوں سے کھاتا پیتا ہے، پھر اس کے اعضا کو نہایت تناسب کے ساتھ بنایا، ان میں جانوروں کی طرح بےڈھنگا پن نہیں ہے۔
(آیت 4){ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ …:} قسم اور جواب قسم میں مناسبت یہ ہے کہ سر زمین شام میں پیدا ہونے والے جلیل القدر پیغمبروں اور طور سینا اور شہر مکہ کی شہرت کا باعث بننے والے پیغمبروں کی زندگی اس بات کی شاہد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہترین بناوٹ میں پیدا کیا ہے۔
ثُمَّ رَدَدۡنٰہُ اَسۡفَلَ سٰفِلِیۡنَ ۙ﴿۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پھر اُسے الٹا پھیر کر ہم نے سب نیچوں سے نیچ کر دیا
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر اسے نیچوں سے نیچا کر دیا
احمد رضا خان بریلوی
پھر اسے ہر نیچی سے نیچی حالت کی طرف پھیردیا
علامہ محمد حسین نجفی
پھر اسے (اس کی کج رفتاری کی وجہ سے) پست ترین حالت کی طرف لوٹا دیا۔
عبدالسلام بن محمد
پھر ہم نے اسے لوٹا کر نیچوں سے سب سے نیچا کر دیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
«وَالتِّينِ» سے مراد کسی کے نزدیک تو مسجد دمشق ہے، کوئی کہتا ہے خود دمشق مراد ہے، کسی کے نزدیک دمشق کا ایک پہاڑ مراد ہے، بعض کہتے ہیں کہ اصحاب کہف کی مسجد مراد ہے، کوئی کہتا ہے کہ جودی پہاڑ پر مسجد نوح علیہ السلام ہے وہ مراد ہے۔ بعض کہتے ہیں انجیر مراد ہے، «زیتون» سے کوئی کہتا ہے مسجد بیت المقدس مراد ہے۔ کسی نے کہا کہ وہ زیتون جسے نچوڑتے ہو، «طور سِينِينَ» وہ پہاڑ ہے جس پر موسیٰ علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے کلام کیا تھا «الْبَلَدِ الْأَمِينِ» سے مراد مکہ شریف ہے اس میں کسی کو اختلاف نہیں۔ بعض کا قول یہ ہے کہ یہ تینوں وہ جگہیں ہیں جہاں تین اولو العزم صاحب شریعت پیغمبر علیہم السلام بھیجے گئے تھے۔

«وَالتِّينِ» سے مراد تو بیت المقدس ہے۔ جہاں پر عیسیٰ علیہ السلام کو نبی بنا کر بھیجا گیا تھا اور «وَطُورِ سِينِينَ» سے مراد طور سینا ہے جہاں موسیٰ بن عمران علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے کلام کیا تھا اور «الْبَلَدِ الْأَمِينِ» سے مراد مکہ مکرمہ جہاں ہمارے سردار محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھیجے گئے۔ تورات کے آخر میں بھی ان تینوں جگہوں کا نام ہے اس میں ہے کہ طور سینا سے اللہ تعالیٰ آیا یعنی وہاں پر موسیٰ علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے کلام کیا اور «ساعیر» یعنی بیت المقدس کے پہاڑ سے اس نے اپنا نور چمکایا یعنی عیسیٰ علیہ السلام کو وہاں بھیجا اور فاران کی چوٹیوں پر وہ بلند ہوا یعنی مکہ کے پہاڑوں سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا، پھر ان تینوں زبردست بڑے مرتبے والے پیغمبروں کی زمانی اور وجودی ترتیب بیان کر دی۔ اسی طرح یہاں بھی پہلے جس کا نام لیا اس سے زیادہ شریف چیز کا نام پھر لیا اور پھر ان دونوں سے بزرگ تر چیز کا نام آخر میں لیا۔ پھر ان قسموں کے بعد بیان فرمایا کہ ’ انسان کو اچھی شکل و صورت میں صحیح قد و قامت والا، درست اور سڈول اعضاء والا خوبصورت اور سہانے چہرے والا پیدا کیا پھر اسے نیچوں کا نِیچ کر دیا یعنی جہنمی ہو گیا، اگر اللہ کی اطاعت اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع نہ کی تو اسی لیے ایمان والوں کو اس سے الگ کر لیا ‘۔ بعض کہتے ہیں کہ مراد انتہائی بڑھاپے کی طرف لوٹا دینا ہے۔

سیدنا عکرمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”جس نے قرآن جمع کیا وہ رذیل عمر کو نہ پہنچے گا۔‏‏‏‏“ امام ابن جریر اسی کو پسند فرماتے ہیں، لیکن اگر یہی بڑھاپا مراد ہوتا تو مومنوں کا استشناء کیوں ہوتا؟ بڑھاپا تو بعض مومنوں پر بھی آتا ہے پس ٹھیک بات وہی ہے جو اوپر ہم نے ذکر کی۔ جیسے اور جگہ سورۃ والعصر میں ہے کہ «وَالْعَصْر إِنَّ الْإِنْسَان لَفِي خُسْر إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَات» ۱؎ [103-العصر:1-3] ‏‏‏‏ ’ تمام انسان نقصان میں ہیں سوائے ایمان اور اعمال صالح والوں کے کہ انہیں ایسی نیک جزا ملے گی جس کی انتہا نہ ہو ‘۔ جیسے پہلے بیان ہو چکا ہے۔ پھر فرماتا ہے ’ اے انسان جبکہ تو اپنی پہلی اور اول مرتبہ کی پیدائش کو جانتا ہے تو پھر جزا و سزا کے دن کے آنے پر اور تیرے دوبارہ زندہ ہونے پر تجھے کیوں یقین نہیں؟ کیا وجہ ہے کہ تو اسے نہیں مانتا حالانکہ ظاہر ہے کہ جس نے پہلی دفعہ پیدا کر دیا اس پر دوسری دفعہ کا پیدا کرنا کیا مشکل ہے؟ ‘۔ مجاہد رحمہ اللہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھ بیٹھے کہ اس سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”معاذاللہ اس سے مراد مطلق انسان ہے۔‏‏‏‏“ عکرمہ رحمہ اللہ وغیرہ کا بھی یہی قول ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ کیا اللہ حکم الحاکمین نہیں ہے وہ نہ ظلم کرے نہ بے عدلی کرے اسی لیے وہ قیامت قائم کرے گا اور ہر ایک ظالم سے مظلوم کا انتقام لے گا ‘۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوع حدیث میں یہ گزر چکا ہے کہ جو شخص «وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ» پڑھے اور اس کے آخر کی آیت «أَلَيْسَ اللَّـهُ بِأَحْكَمِ الْحَاكِمِينَ» پڑھے تو کہہ دے «بَلَى وَأَنَا عَلَى ذَلِكَ مِنْ الشَّاهِدِينَ» یعنی ہاں اور میں اس پر گواہ ہوں۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3347،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ اللہ کے فضل و کرم سے سورۃ التین کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
5۔ 1 یہ اشارہ ہے انسان کی ارذل العمر کی طرف جس میں جوانی اور قوت کے بعد بڑھاپا اور ضعف آجاتا ہے اور انسان کی عقل اور ذہن بچے کی طرح ہوجاتا ہے۔ بعض نے اس سے کردار کا وہ سفلہ پن لیا ہے جس میں مبتلا ہو کر انسان انتہائی پست اور سانپ بچھو سے بھی گیا گزرا ہوجاتا ہے بعض نے اس سے ذلت و رسوائی کا وہ عذاب مراد لیا ہے جو جہنم میں کافروں کے لیے ہے، گویا انسان اللہ اور رسول کی اطاعت سے انحراف کر کے اپنے احسن تقویم کے بلند رتبہ واعزاز سے گرا کر جہنم کے اسفل السافلین میں ڈال لیتا ہے۔
(آیت 5) {ثُمَّ رَدَدْنٰهُ اَسْفَلَ سٰفِلِيْنَ:} اس بہترین بناوٹ میں اس کی شکل و صورت کا حسن، اس کی عقل، اس کی فطرت پر پیدائش اور وہ سب کچھ شامل ہے جو کسی حیوان کو حاصل نہیں۔ پھر اگر وہ اس عقل اور فطرت کے تقاضوں پر عمل نہ کرے بلکہ انسانیت سے اتر کر حیوانیت میں جاگرے اور شہوت و غضب اور دوسری حیوانی صفات سے مغلوب ہوجائے، تو اس سے زیادہ نیچا اور ذلیل کوئی نہیں، کیونکہ پھر وہ اس حد تک گر جاتا ہے کہ کوئی حیوان بھی نہیں گرتا، حتیٰ کہ وہ اپنے مالک و خالق کو بھی بھول جاتا ہے، اس کے ساتھ شریک بنانے لگتا ہے اور زمین میں ایسا فساد برپا کرتا ہے جو کوئی حیوان بھی نہیں کر سکتا۔ ظاہر ہے کہ اس کا نتیجہ آگ ہے اور اس میں گرنے والوں سے نیچا اور ذلیل کوئی اور نہیں ہوسکتا۔ انھی کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «‏‏‏‏اُولٰٓىِٕكَ كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ» ‏‏‏‏ [ الأعراف: ۱۷۹ ] ”یہ لوگ جانوروں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی گئے گزرے ہیں۔“
اِلَّا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَہُمۡ اَجۡرٌ غَیۡرُ مَمۡنُوۡنٍ ؕ﴿۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
سوائے اُن لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے کہ ان کے لیے کبھی ختم نہ ہونے والا اجر ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
لیکن جو لوگ ایمان ﻻئے اور (پھر) نیک عمل کیے تو ان کے لئے ایسا اجر ہے جو کبھی ختم نہ ہوگا
احمد رضا خان بریلوی
مگر جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے کہ انہیں بے حد ثواب ہے
علامہ محمد حسین نجفی
سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے سو ان کیلئے ختم نہ ہو نے والا اجر ہے۔
عبدالسلام بن محمد
مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے تو ان کے لیے ختم نہ ہونے والا اجر ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
«وَالتِّينِ» سے مراد کسی کے نزدیک تو مسجد دمشق ہے، کوئی کہتا ہے خود دمشق مراد ہے، کسی کے نزدیک دمشق کا ایک پہاڑ مراد ہے، بعض کہتے ہیں کہ اصحاب کہف کی مسجد مراد ہے، کوئی کہتا ہے کہ جودی پہاڑ پر مسجد نوح علیہ السلام ہے وہ مراد ہے۔ بعض کہتے ہیں انجیر مراد ہے، «زیتون» سے کوئی کہتا ہے مسجد بیت المقدس مراد ہے۔ کسی نے کہا کہ وہ زیتون جسے نچوڑتے ہو، «طور سِينِينَ» وہ پہاڑ ہے جس پر موسیٰ علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے کلام کیا تھا «الْبَلَدِ الْأَمِينِ» سے مراد مکہ شریف ہے اس میں کسی کو اختلاف نہیں۔ بعض کا قول یہ ہے کہ یہ تینوں وہ جگہیں ہیں جہاں تین اولو العزم صاحب شریعت پیغمبر علیہم السلام بھیجے گئے تھے۔

«وَالتِّينِ» سے مراد تو بیت المقدس ہے۔ جہاں پر عیسیٰ علیہ السلام کو نبی بنا کر بھیجا گیا تھا اور «وَطُورِ سِينِينَ» سے مراد طور سینا ہے جہاں موسیٰ بن عمران علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے کلام کیا تھا اور «الْبَلَدِ الْأَمِينِ» سے مراد مکہ مکرمہ جہاں ہمارے سردار محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھیجے گئے۔ تورات کے آخر میں بھی ان تینوں جگہوں کا نام ہے اس میں ہے کہ طور سینا سے اللہ تعالیٰ آیا یعنی وہاں پر موسیٰ علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے کلام کیا اور «ساعیر» یعنی بیت المقدس کے پہاڑ سے اس نے اپنا نور چمکایا یعنی عیسیٰ علیہ السلام کو وہاں بھیجا اور فاران کی چوٹیوں پر وہ بلند ہوا یعنی مکہ کے پہاڑوں سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا، پھر ان تینوں زبردست بڑے مرتبے والے پیغمبروں کی زمانی اور وجودی ترتیب بیان کر دی۔ اسی طرح یہاں بھی پہلے جس کا نام لیا اس سے زیادہ شریف چیز کا نام پھر لیا اور پھر ان دونوں سے بزرگ تر چیز کا نام آخر میں لیا۔ پھر ان قسموں کے بعد بیان فرمایا کہ ’ انسان کو اچھی شکل و صورت میں صحیح قد و قامت والا، درست اور سڈول اعضاء والا خوبصورت اور سہانے چہرے والا پیدا کیا پھر اسے نیچوں کا نِیچ کر دیا یعنی جہنمی ہو گیا، اگر اللہ کی اطاعت اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع نہ کی تو اسی لیے ایمان والوں کو اس سے الگ کر لیا ‘۔ بعض کہتے ہیں کہ مراد انتہائی بڑھاپے کی طرف لوٹا دینا ہے۔

سیدنا عکرمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”جس نے قرآن جمع کیا وہ رذیل عمر کو نہ پہنچے گا۔‏‏‏‏“ امام ابن جریر اسی کو پسند فرماتے ہیں، لیکن اگر یہی بڑھاپا مراد ہوتا تو مومنوں کا استشناء کیوں ہوتا؟ بڑھاپا تو بعض مومنوں پر بھی آتا ہے پس ٹھیک بات وہی ہے جو اوپر ہم نے ذکر کی۔ جیسے اور جگہ سورۃ والعصر میں ہے کہ «وَالْعَصْر إِنَّ الْإِنْسَان لَفِي خُسْر إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَات» ۱؎ [103-العصر:1-3] ‏‏‏‏ ’ تمام انسان نقصان میں ہیں سوائے ایمان اور اعمال صالح والوں کے کہ انہیں ایسی نیک جزا ملے گی جس کی انتہا نہ ہو ‘۔ جیسے پہلے بیان ہو چکا ہے۔ پھر فرماتا ہے ’ اے انسان جبکہ تو اپنی پہلی اور اول مرتبہ کی پیدائش کو جانتا ہے تو پھر جزا و سزا کے دن کے آنے پر اور تیرے دوبارہ زندہ ہونے پر تجھے کیوں یقین نہیں؟ کیا وجہ ہے کہ تو اسے نہیں مانتا حالانکہ ظاہر ہے کہ جس نے پہلی دفعہ پیدا کر دیا اس پر دوسری دفعہ کا پیدا کرنا کیا مشکل ہے؟ ‘۔ مجاہد رحمہ اللہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھ بیٹھے کہ اس سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”معاذاللہ اس سے مراد مطلق انسان ہے۔‏‏‏‏“ عکرمہ رحمہ اللہ وغیرہ کا بھی یہی قول ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ کیا اللہ حکم الحاکمین نہیں ہے وہ نہ ظلم کرے نہ بے عدلی کرے اسی لیے وہ قیامت قائم کرے گا اور ہر ایک ظالم سے مظلوم کا انتقام لے گا ‘۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوع حدیث میں یہ گزر چکا ہے کہ جو شخص «وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ» پڑھے اور اس کے آخر کی آیت «أَلَيْسَ اللَّـهُ بِأَحْكَمِ الْحَاكِمِينَ» پڑھے تو کہہ دے «بَلَى وَأَنَا عَلَى ذَلِكَ مِنْ الشَّاهِدِينَ» یعنی ہاں اور میں اس پر گواہ ہوں۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3347،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ اللہ کے فضل و کرم سے سورۃ التین کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 6){ اِلَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ …:} اور اگر یہ احسن تقویم کے مطابق ایمان لا کر عمل صالح کرے تو اس کو ایسا اجر ملے گا جو کبھی منقطع نہیں ہوگا۔
فَمَا یُکَذِّبُکَ بَعۡدُ بِالدِّیۡنِ ؕ﴿۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پس (اے نبیؐ) اس کے بعد کون جزا و سزا کے معاملہ میں تم کو جھٹلا سکتا ہے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
پس تجھے اب روز جزا کے جھٹلانے پر کون سی چیز آماده کرتی ہے
احمد رضا خان بریلوی
تو اب کیا چیز تجھے انصاف کے جھٹلانے پر باعث ہے
علامہ محمد حسین نجفی
تواس کے بعد آپ(ص) کو جزا و سزا کے معاملہ میں کون جھٹلا سکتا ہے؟
عبدالسلام بن محمد
پس اس کے بعد کون سی چیز تجھے جزا کے بارے میں جھٹلانے پر آمادہ کرتی ہے؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
«وَالتِّينِ» سے مراد کسی کے نزدیک تو مسجد دمشق ہے، کوئی کہتا ہے خود دمشق مراد ہے، کسی کے نزدیک دمشق کا ایک پہاڑ مراد ہے، بعض کہتے ہیں کہ اصحاب کہف کی مسجد مراد ہے، کوئی کہتا ہے کہ جودی پہاڑ پر مسجد نوح علیہ السلام ہے وہ مراد ہے۔ بعض کہتے ہیں انجیر مراد ہے، «زیتون» سے کوئی کہتا ہے مسجد بیت المقدس مراد ہے۔ کسی نے کہا کہ وہ زیتون جسے نچوڑتے ہو، «طور سِينِينَ» وہ پہاڑ ہے جس پر موسیٰ علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے کلام کیا تھا «الْبَلَدِ الْأَمِينِ» سے مراد مکہ شریف ہے اس میں کسی کو اختلاف نہیں۔ بعض کا قول یہ ہے کہ یہ تینوں وہ جگہیں ہیں جہاں تین اولو العزم صاحب شریعت پیغمبر علیہم السلام بھیجے گئے تھے۔

«وَالتِّينِ» سے مراد تو بیت المقدس ہے۔ جہاں پر عیسیٰ علیہ السلام کو نبی بنا کر بھیجا گیا تھا اور «وَطُورِ سِينِينَ» سے مراد طور سینا ہے جہاں موسیٰ بن عمران علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے کلام کیا تھا اور «الْبَلَدِ الْأَمِينِ» سے مراد مکہ مکرمہ جہاں ہمارے سردار محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھیجے گئے۔ تورات کے آخر میں بھی ان تینوں جگہوں کا نام ہے اس میں ہے کہ طور سینا سے اللہ تعالیٰ آیا یعنی وہاں پر موسیٰ علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے کلام کیا اور «ساعیر» یعنی بیت المقدس کے پہاڑ سے اس نے اپنا نور چمکایا یعنی عیسیٰ علیہ السلام کو وہاں بھیجا اور فاران کی چوٹیوں پر وہ بلند ہوا یعنی مکہ کے پہاڑوں سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا، پھر ان تینوں زبردست بڑے مرتبے والے پیغمبروں کی زمانی اور وجودی ترتیب بیان کر دی۔ اسی طرح یہاں بھی پہلے جس کا نام لیا اس سے زیادہ شریف چیز کا نام پھر لیا اور پھر ان دونوں سے بزرگ تر چیز کا نام آخر میں لیا۔ پھر ان قسموں کے بعد بیان فرمایا کہ ’ انسان کو اچھی شکل و صورت میں صحیح قد و قامت والا، درست اور سڈول اعضاء والا خوبصورت اور سہانے چہرے والا پیدا کیا پھر اسے نیچوں کا نِیچ کر دیا یعنی جہنمی ہو گیا، اگر اللہ کی اطاعت اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع نہ کی تو اسی لیے ایمان والوں کو اس سے الگ کر لیا ‘۔ بعض کہتے ہیں کہ مراد انتہائی بڑھاپے کی طرف لوٹا دینا ہے۔

سیدنا عکرمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”جس نے قرآن جمع کیا وہ رذیل عمر کو نہ پہنچے گا۔‏‏‏‏“ امام ابن جریر اسی کو پسند فرماتے ہیں، لیکن اگر یہی بڑھاپا مراد ہوتا تو مومنوں کا استشناء کیوں ہوتا؟ بڑھاپا تو بعض مومنوں پر بھی آتا ہے پس ٹھیک بات وہی ہے جو اوپر ہم نے ذکر کی۔ جیسے اور جگہ سورۃ والعصر میں ہے کہ «وَالْعَصْر إِنَّ الْإِنْسَان لَفِي خُسْر إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَات» ۱؎ [103-العصر:1-3] ‏‏‏‏ ’ تمام انسان نقصان میں ہیں سوائے ایمان اور اعمال صالح والوں کے کہ انہیں ایسی نیک جزا ملے گی جس کی انتہا نہ ہو ‘۔ جیسے پہلے بیان ہو چکا ہے۔ پھر فرماتا ہے ’ اے انسان جبکہ تو اپنی پہلی اور اول مرتبہ کی پیدائش کو جانتا ہے تو پھر جزا و سزا کے دن کے آنے پر اور تیرے دوبارہ زندہ ہونے پر تجھے کیوں یقین نہیں؟ کیا وجہ ہے کہ تو اسے نہیں مانتا حالانکہ ظاہر ہے کہ جس نے پہلی دفعہ پیدا کر دیا اس پر دوسری دفعہ کا پیدا کرنا کیا مشکل ہے؟ ‘۔ مجاہد رحمہ اللہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھ بیٹھے کہ اس سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”معاذاللہ اس سے مراد مطلق انسان ہے۔‏‏‏‏“ عکرمہ رحمہ اللہ وغیرہ کا بھی یہی قول ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ کیا اللہ حکم الحاکمین نہیں ہے وہ نہ ظلم کرے نہ بے عدلی کرے اسی لیے وہ قیامت قائم کرے گا اور ہر ایک ظالم سے مظلوم کا انتقام لے گا ‘۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوع حدیث میں یہ گزر چکا ہے کہ جو شخص «وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ» پڑھے اور اس کے آخر کی آیت «أَلَيْسَ اللَّـهُ بِأَحْكَمِ الْحَاكِمِينَ» پڑھے تو کہہ دے «بَلَى وَأَنَا عَلَى ذَلِكَ مِنْ الشَّاهِدِينَ» یعنی ہاں اور میں اس پر گواہ ہوں۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3347،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ اللہ کے فضل و کرم سے سورۃ التین کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
7۔ 1 یہ انسان سے خطاب ہے کہ اللہ نے تجھے بہترین صورت میں پیدا کیا اور وہ تجھے اور اس کے برعکس ذلت میں گرانے کی قدرت رکھتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اس کے لئے دوبارہ پیدا کرنا کوئی مشکل نہیں۔ اس کے بعد بھی تو قیامت اور جزا کا انکار کرتا ہے۔
(آیت 7) {فَمَا يُكَذِّبُكَ بَعْدُ بِالدِّيْنِ:} اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہترین ساخت میں پیدا کیا، پھر بعض نے تو اس ساخت کے تقاضوں کے مطابق ایمان اور عمل صالح اختیار کیا اور بعض نافرمانی کی وجہ سے ”اسفل السافلین“ ٹھہرے۔ ان دونوں کے عمل کا لازمی نتیجہ ہے کہ ایک دن ایسا ہو جس میں ہر ایک کو نیکی اور بدی کی جزا و سزا دی جائے۔ اتنی واضح دلیل کے بعد اے انسان! تجھے کون سی چیز آمادہ کر رہی ہے کہ تو جزا کو جھٹلا دے؟ اس کا دوسرا ترجمہ یہ ہے: ”اے نبی! اس کے بعد کون ہے جو تجھے جزا کے بارے میں جھٹلائے؟“
اَلَیۡسَ اللّٰہُ بِاَحۡکَمِ الۡحٰکِمِیۡنَ ٪﴿۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کیا اللہ سب حاکموں سے بڑا حاکم نہیں ہے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا اللہ تعالیٰ (سب) حاکموں کا حاکم نہیں ہے
احمد رضا خان بریلوی
کیا اللہ سب حاکموں سے بڑھ کر حاکم نہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
کیا اللہ سبحانہٗ سب حاکموں سے بڑا حاکم نہیں ہے؟
عبدالسلام بن محمد
کیا اللہ سب حاکموں سے بڑا حاکم نہیں ہے؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
«وَالتِّينِ» سے مراد کسی کے نزدیک تو مسجد دمشق ہے، کوئی کہتا ہے خود دمشق مراد ہے، کسی کے نزدیک دمشق کا ایک پہاڑ مراد ہے، بعض کہتے ہیں کہ اصحاب کہف کی مسجد مراد ہے، کوئی کہتا ہے کہ جودی پہاڑ پر مسجد نوح علیہ السلام ہے وہ مراد ہے۔ بعض کہتے ہیں انجیر مراد ہے، «زیتون» سے کوئی کہتا ہے مسجد بیت المقدس مراد ہے۔ کسی نے کہا کہ وہ زیتون جسے نچوڑتے ہو، «طور سِينِينَ» وہ پہاڑ ہے جس پر موسیٰ علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے کلام کیا تھا «الْبَلَدِ الْأَمِينِ» سے مراد مکہ شریف ہے اس میں کسی کو اختلاف نہیں۔ بعض کا قول یہ ہے کہ یہ تینوں وہ جگہیں ہیں جہاں تین اولو العزم صاحب شریعت پیغمبر علیہم السلام بھیجے گئے تھے۔

«وَالتِّينِ» سے مراد تو بیت المقدس ہے۔ جہاں پر عیسیٰ علیہ السلام کو نبی بنا کر بھیجا گیا تھا اور «وَطُورِ سِينِينَ» سے مراد طور سینا ہے جہاں موسیٰ بن عمران علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے کلام کیا تھا اور «الْبَلَدِ الْأَمِينِ» سے مراد مکہ مکرمہ جہاں ہمارے سردار محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھیجے گئے۔ تورات کے آخر میں بھی ان تینوں جگہوں کا نام ہے اس میں ہے کہ طور سینا سے اللہ تعالیٰ آیا یعنی وہاں پر موسیٰ علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے کلام کیا اور «ساعیر» یعنی بیت المقدس کے پہاڑ سے اس نے اپنا نور چمکایا یعنی عیسیٰ علیہ السلام کو وہاں بھیجا اور فاران کی چوٹیوں پر وہ بلند ہوا یعنی مکہ کے پہاڑوں سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا، پھر ان تینوں زبردست بڑے مرتبے والے پیغمبروں کی زمانی اور وجودی ترتیب بیان کر دی۔ اسی طرح یہاں بھی پہلے جس کا نام لیا اس سے زیادہ شریف چیز کا نام پھر لیا اور پھر ان دونوں سے بزرگ تر چیز کا نام آخر میں لیا۔ پھر ان قسموں کے بعد بیان فرمایا کہ ’ انسان کو اچھی شکل و صورت میں صحیح قد و قامت والا، درست اور سڈول اعضاء والا خوبصورت اور سہانے چہرے والا پیدا کیا پھر اسے نیچوں کا نِیچ کر دیا یعنی جہنمی ہو گیا، اگر اللہ کی اطاعت اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع نہ کی تو اسی لیے ایمان والوں کو اس سے الگ کر لیا ‘۔ بعض کہتے ہیں کہ مراد انتہائی بڑھاپے کی طرف لوٹا دینا ہے۔

سیدنا عکرمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”جس نے قرآن جمع کیا وہ رذیل عمر کو نہ پہنچے گا۔‏‏‏‏“ امام ابن جریر اسی کو پسند فرماتے ہیں، لیکن اگر یہی بڑھاپا مراد ہوتا تو مومنوں کا استشناء کیوں ہوتا؟ بڑھاپا تو بعض مومنوں پر بھی آتا ہے پس ٹھیک بات وہی ہے جو اوپر ہم نے ذکر کی۔ جیسے اور جگہ سورۃ والعصر میں ہے کہ «وَالْعَصْر إِنَّ الْإِنْسَان لَفِي خُسْر إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَات» ۱؎ [103-العصر:1-3] ‏‏‏‏ ’ تمام انسان نقصان میں ہیں سوائے ایمان اور اعمال صالح والوں کے کہ انہیں ایسی نیک جزا ملے گی جس کی انتہا نہ ہو ‘۔ جیسے پہلے بیان ہو چکا ہے۔ پھر فرماتا ہے ’ اے انسان جبکہ تو اپنی پہلی اور اول مرتبہ کی پیدائش کو جانتا ہے تو پھر جزا و سزا کے دن کے آنے پر اور تیرے دوبارہ زندہ ہونے پر تجھے کیوں یقین نہیں؟ کیا وجہ ہے کہ تو اسے نہیں مانتا حالانکہ ظاہر ہے کہ جس نے پہلی دفعہ پیدا کر دیا اس پر دوسری دفعہ کا پیدا کرنا کیا مشکل ہے؟ ‘۔ مجاہد رحمہ اللہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھ بیٹھے کہ اس سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”معاذاللہ اس سے مراد مطلق انسان ہے۔‏‏‏‏“ عکرمہ رحمہ اللہ وغیرہ کا بھی یہی قول ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ کیا اللہ حکم الحاکمین نہیں ہے وہ نہ ظلم کرے نہ بے عدلی کرے اسی لیے وہ قیامت قائم کرے گا اور ہر ایک ظالم سے مظلوم کا انتقام لے گا ‘۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوع حدیث میں یہ گزر چکا ہے کہ جو شخص «وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ» پڑھے اور اس کے آخر کی آیت «أَلَيْسَ اللَّـهُ بِأَحْكَمِ الْحَاكِمِينَ» پڑھے تو کہہ دے «بَلَى وَأَنَا عَلَى ذَلِكَ مِنْ الشَّاهِدِينَ» یعنی ہاں اور میں اس پر گواہ ہوں۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3347،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ اللہ کے فضل و کرم سے سورۃ التین کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
8۔ 1 جو کسی پر ظلم نہیں کرتا اور اس کے عدل ہی کا یہ تقاضا ہے کہ وہ قیامت برپا کرے اور ان کی داد رسی کرے جن پر دنیا میں ظلم ہوا۔
(آیت 8){ اَلَيْسَ اللّٰهُ بِاَحْكَمِ الْحٰكِمِيْنَ:} کوئی معمولی سا انصاف کرنے والا ہو وہ بھی اپنے اختیار میں جزا و سزا کا اہتمام کیے بغیر نہیں رہے گا، تو اللہ جو سب حاکموں سے بڑا حاکم ہے، وہ اس کا اہتمام کیوں نہیں کرے گا؟ ترمذی وغیرہ میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی سورت {” وَ التِّيْنِ وَ الزَّيْتُوْنِ “} پڑھے اور {” اَلَيْسَ اللّٰهُ بِاَحْكَمِ الْحٰكِمِيْنَ “} پر پہنچے تو کہے: [ بَلٰی وَ أَنَا عَلٰی ذٰلِكَ مِنَ الشَّاهِدِيْنَ ] [ترمذي، تفسیر القرآن، باب و من سورۃ والتین: ۳۳۴۷ ] ”کیوں نہیں! اور میں اس پر شہادت دینے والوں میں سے ہوں۔“ مگر یہ روایت صحیح نہیں، کیونکہ ترمذی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک اعرابی نے یہ روایت بیان کی ہے جس کا نام ہی معلوم نہیں۔