بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الطلاق — Surah Talaq
آیت نمبر 8
کل آیات: 12
قرآن کریم الطلاق آیت 8
آیت نمبر: 8 — سورۃ الطلاق islamicurdubooks.com ↗
وَ کَاَیِّنۡ مِّنۡ قَرۡیَۃٍ عَتَتۡ عَنۡ اَمۡرِ رَبِّہَا وَ رُسُلِہٖ فَحَاسَبۡنٰہَا حِسَابًا شَدِیۡدًا ۙ وَّ عَذَّبۡنٰہَا عَذَابًا نُّکۡرًا ﴿۸﴾
کتنی ہی بستیاں ہیں جنہوں نے اپنے رب اور اس کے رسولوں کے حکم سے سرتابی کی تو ہم نے ان سے سخت محاسبہ کیا اور ان کو بری طرح سزا دی
اور بہت سی بستی والوں نے اپنے رب کے حکم سے اور اس کے رسولوں سے سرتابی کی تو ہم نے بھی ان سے سخت حساب کیا اور انہیں عذاب دیا ان دیکھا (سخت) عذاب
اور کتنے ہی شہر تھے جنہوں نے اپنے رب کے حکم اور اس کے رسولوں سے سرکشی کی تو ہم نے ان سے سخت حسا ب لیا اور انہیں بری مار دی
اور کتنی ہی ایسی بستیاں ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار اور اس کے رسولوں(ع) کے حکم سے سرتابی کی تو ہم نے انکا سخت محاسبہ کیا اور انہیں انوکھی (سخت) سزا دی۔
اور کتنی ہی بستیاں ہیں جنھوں نے اپنے رب اور اس کے رسولوں کے حکم سے سرکشی کی تو ہم نے ان کا محاسبہ کیا، بہت سخت محاسبہ اور انھیں سزا دی، ایسی سزا جو دیکھنے سننے میں نہ آئی تھی۔

📖 تفسیر ابن کثیر

شریعت پر چلنا ہی روشنی کا انتخاب ہے ٭٭

جو لوگ اللہ کے امر کا خلاف کریں، اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ مانیں، اس کی شریعت پر نہ چلیں انہیں ڈانٹا جا رہا ہے کہ دیکھو گزشتہ لوگوں میں سے بھی جو اس روش پر چلے وہ تباہ و برباد ہو گئے جنہوں نے سرتابی، سرکشی اور تکبر کیا حکم اللہ اور اتباع رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بے پرواہی برتی آخر انہیں سخت حساب دینا پڑا اور اپنی بدکرداری کا مزہ چکھنا پڑا۔ انجام کار نقصان اٹھایا، اس وقت نادم ہونے لگے، لیکن اب ندامت کس کام کی؟ پھر دنیا کے اس عذاب سے ہی اگر پلا پاک ہو جاتا تو جب بھی ایک بات تھی، نہیں تو پھر ان کے لیے آخرت میں بھی سخت تر عذاب اور بے پناہ مار ہے، اب اے سوچ سمجھ والو! چاہیئے کہ ان جیسے نہ بنو اور ان کے انجام سے عبرت حاصل کرو، اے عقلمند ایماندارو اللہ نے تمہاری طرف قرآن کریم نازل فرما دیا ہے۔ «ذکر» سے مراد قرآن ہے جیسے اور جگہ فرمایا «إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [15-الحجر:9] ‏‏‏‏، ’ ہم نے اس قرآن کو نازل فرمایا اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں ‘۔ اور بعض نے کہا ہے ذکر سے مراد یہاں رسول ہے چنانچہ ساتھ ہی فرمایا ہے «رَسُولًا» تو یہ بدل اشتمال ہے، چونکہ قرآن کے پہنچانے والے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں تو اس مناسبت سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لفظ «ذکر» سے یاد کیا گیا، امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی مطلب کو درست بتاتے ہیں۔ پھر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حالت بیان فرمائی کہ ’ وہ اللہ کی واضح اور روشن آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتے ہیں تاکہ مسلمان اندھیرں سے نکل آئیں اور روشنیوں میں پہنچ جائیں ‘، جیسے اور جگہ «‏‏‏‏الر كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ إِلَيْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ بِإِذْنِ رَبِّهِمْ إِلَىٰ صِرَاطِ الْعَزِيزِ الْحَمِيدِ» ۱؎ [14-ابراھیم:1] ‏‏‏‏ ’ اس کتاب کو ہم نے تجھے دیا ہے تاکہ تو لوگوں کو تاریکیوں سے روشنی میں لائے ‘۔ ایک اور جگہ ارشاد ہے «اللَّـهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا يُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ وَالَّذِينَ كَفَرُوا أَوْلِيَاؤُهُمُ الطَّاغُوتُ يُخْرِجُونَهُم مِّنَ النُّورِ إِلَى الظُّلُمَاتِ أُولَـٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ» ۱؎ [2-البقرة:257] ‏‏‏‏، ’ اللہ ایمان والوں کا کارساز ہے وہ انہیں اندھیروں سے اجالے کی طرف لاتا ہے ‘، یعنی کفر و جہالت سے ایمان و علم کی طرف، چنانچہ اور آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی نازل کردہ وحی کو نور فرمایا ہے کیونکہ اس سے ہدایت اور راہ راست حاصل ہوتی ہے اور اسی کا نام روح بھی رکھا ہے کیونکہ اس سے دلوں کی زندگی ملتی ہے۔ چنانچہ ارشاد باری ہے «وَكَذَٰلِكَ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ رُوحًا مِّنْ أَمْرِنَا مَا كُنتَ تَدْرِي مَا الْكِتَابُ وَلَا الْإِيمَانُ وَلَـٰكِن جَعَلْنَاهُ نُورًا نَّهْدِي بِهِ مَن نَّشَاءُ مِنْ عِبَادِنَا وَإِنَّكَ لَتَهْدِي إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ» ‏‏‏‏۱؎ [42-الشوریٰ:52] ‏‏‏‏ یعنی ’ ہم نے اسی طرح تیری طرف اپنے حکم سے روح کی وحی کی تو نہیں جانتا تھا کہ کتاب کیا ہے اور ایمان کیا ہے؟ لیکن ہم نے اسے نور کر دیا جس کے ساتھ ہم اپنے جس بندے کو چاہیں ہدایت کرتے ہیں، یقیناً تو صحیح اور سچی راہ کی رہبری کرتا ہے ‘۔ پھر ایمانداروں اور نیک اعمال والوں کا بدلہ بہتی نہروں والی ہمیشہ رہنے والی جنت بیان ہوا ہے جس کی تفسیر بارہا گزر چکی ہے۔

📖 احسن البیان

8۔ 1 عَتَتُ، ای تمردت وطغت و استکبرت عن اتباع امر اللہ تعالیٰ و متابعۃ رسلہ۔ 7۔ 2 نکرا، منکرا فظیعا، حساب اور عذاب، دونوں سے مراد دنیاوی مواخذہ اور سزا ہے یا پھر بقول بعض کلام میں تقدیم و تاخیر ہے۔ عذابا نکرا، وہ عذاب ہے جو دنیا میں قحط، خسف ومسخ وغیرہ کی شکل میں انہیں پہنچا، اور حسابا شدیدا وہ ہے جو آخرت میں ہوگا۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 9،8) {وَ كَاَيِّنْ مِّنْ قَرْيَةٍ عَتَتْ عَنْ اَمْرِ رَبِّهَا وَ رُسُلِهٖ …: ” عَتَتْ”عَتَا يَعْتُوْ عُتُوًّا“} (ن) سے ماضی معلوم ہے، اصل میں {”عَتَوَتْ“ } ہے۔ {” نُكْرًا “} اجنبی، نہ پہچانا ہوا، جو نہ دیکھا ہو نہ سنا۔ اب تک اللہ تعالیٰ نے طلاق وغیرہ کے متعلق اپنے احکام کا ذکر فرمایا تھا، یہاں سے بتایا جا رہا ہے کہ پچھلی جن بستیوں نے اللہ اور اس کے رسولوں کے احکام سے سرکشی اختیار کی ان کا انجام کیا ہوا۔ مقصد مسلمانوں کو ان احکام کی اہمیت بتانا اور ان کی پابندی کی تلقین کرنا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پہلی اقوام کی بربادی میں شرک و کفر کے ساتھ ساتھ اللہ اور اس کے رسولوں کے ان تفصیلی احکام کی مخالفت بھی تھی جو زندگی کے ہر شعبے میں انھوں نے دیے، جس کی وجہ سے ان کے اندر حد سے بڑھی ہوئی سرکشی اور فساد پیدا ہوا۔ مثلاً جب انھوں نے شرک و کفر پر اصرار کے ساتھ نکاح و طلاق کے ضابطوں کی پابندی سے سرکشی اختیار کی تو زنا اور قوم لوط کا عمل عام ہوا، جس کی وجہ سے قتل و غارت کا بازار گرم ہوا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کا بہت سخت محاسبہ کیا اور انھیں ایسی سزا دی جو کسی نے نہ دیکھی تھی نہ سنی تھی۔ آج کے دور میں کفار نے شرک و کفر پر اصرار کے ساتھ ساتھ ان ضابطوں کی بھی شدید مخالفت اختیار کر رکھی ہے، جس کے نتیجے میں ان کا معاشرہ بے پناہ بداخلاقی، بدامنی اور قتل و غارت کا شکار ہو چکا ہے اور بری طرح ٹوٹ پھوٹ چکا ہے۔ اب ان کی کوشش یہ ہے کہ مسلمان بھی ان احکام سے آزاد ہو جائیں اور ان میں بھی زنا، قوم لوط کا عمل اور قتل و غارت پھیل جائے۔ اللہ تعالیٰ نے پہلی امتوں کے عذاب کا حوالہ دے کر مسلمانوں کو ان کے انجام سے ڈرایا ہے۔
← پچھلی آیت (7) پوری سورۃ اگلی آیت (9) →