بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
الطلاق
سورۃ الطلاق — 12 آیات
قرآن کریم Surah 65
یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ اِذَا طَلَّقۡتُمُ النِّسَآءَ فَطَلِّقُوۡہُنَّ لِعِدَّتِہِنَّ وَ اَحۡصُوا الۡعِدَّۃَ ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ رَبَّکُمۡ ۚ لَا تُخۡرِجُوۡہُنَّ مِنۡۢ بُیُوۡتِہِنَّ وَ لَا یَخۡرُجۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ یَّاۡتِیۡنَ بِفَاحِشَۃٍ مُّبَیِّنَۃٍ ؕ وَ تِلۡکَ حُدُوۡدُ اللّٰہِ ؕ وَ مَنۡ یَّتَعَدَّ حُدُوۡدَ اللّٰہِ فَقَدۡ ظَلَمَ نَفۡسَہٗ ؕ لَا تَدۡرِیۡ لَعَلَّ اللّٰہَ یُحۡدِثُ بَعۡدَ ذٰلِکَ اَمۡرًا ﴿۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اے نبیؐ، جب تم لوگ عورتوں کو طلاق دو تو اُنہیں اُن کی عدت کے لیے طلاق دیا کرو اور عدت کے زمانے کا ٹھیک ٹھیک شمار کرو، اور اللہ سے ڈرو جو تمہارا رب ہے (زمانہ عدت میں) نہ تم اُنہیں اُن کے گھروں سے نکالو اور نہ وہ خود نکلیں، الا یہ کہ وہ کسی صریح برائی کی مرتکب ہوں یہ اللہ کی مقرر کردہ حدیں ہیں، اور جو کوئی اللہ کی حدوں سے تجاوز کرے گا وہ اپنے اوپر خود ظلم کرے گا تم نہیں جانتے، شاید اس کے بعد اللہ (موافقت کی) کوئی صورت پیدا کر دے
مولانا محمد جوناگڑھی
اے نبی! (اپنی امت سے کہو کہ) جب تم اپنی بیویوں کو طلاق دینا چاہو تو ان کی عدت (کے دنوں کے آغاز) میں انہیں طلاق دو اور عدت کا حساب رکھو، اور اللہ سے جو تمہارا پروردگار ہے ڈرتے رہو، نہ تم انہیں ان کے گھروں سے نکالو اور نہ وه (خود) نکلیں ہاں یہ اور بات ہے کہ وه کھلی برائی کر بیٹھیں، یہ اللہ کی مقرر کرده حدیں ہیں، جو شخص اللہ کی حدوں سے آگے بڑھ جائے اس نے یقیناً اپنے اوپر ﻇلم کیا، تم نہیں جانتے شاید اس کے بعد اللہ تعالیٰ کوئی نئی بات پیدا کر دے
احمد رضا خان بریلوی
اے نبی جب تم لوگ عورتوں کو طلاق دو تو ان کی عدت کے وقت پر انہیں طلاق دو اور عدت کا شمار رکھو اور اپنے رب اللہ سے ڈرو، عدت میں انہیں ان کے گھروں سے نہ نکالو اور نہ وہ آپ نکلیں مگر یہ کہ کوئی صریح بے حیائی کی بات لائیں اور یہ اللہ کی حدیں ہیں، اور جو اللہ کی حدوں سے آگے بڑھا بیشک اس نے اپنی جان پر ظلم کیا، تمہیں نہیں معلوم شاید اللہ اس کے بعد کوئی نیا حکم بھیجے
علامہ محمد حسین نجفی
اے نبی(ص)! جب تم لوگ (اپنی) عورتوں کو طلاق دینے لگو تو انہیں عدت کے حساب سے طلاق دو اور پھر عدت کا شمار کرو اور اللہ (کی نافرمانی) سے ڈرو جو تمہارا پروردگار ہے۔ انہیں ان کے گھروں سے نہ نکالو اور نہ ہی وہ خود نکلیں مگر یہ کہ وہ کسی کھلی ہوئی بےحیائی کا ارتکاب کریں اور یہ اللہ کی (مقرر کی ہوئی) حدیں ہیں اور جو اللہ کے حدود سے تجاوز کرے گا تو وہ خود اپنے اوپر ظلم کرے گا تم نہیں جانتے شاید اللہ اس کے بعد کوئی نئی بات پیدا کر دے۔
عبدالسلام بن محمد
اے نبی! جب تم عورتوں کو طلاق دو تو انھیں ان کی عدت کے وقت طلاق دو اور عدت کو گنو اور اللہ سے ڈرو جو تمھارا رب ہے، نہ تم انھیں ان کے گھروں سے نکالو اور نہ وہ نکلیں مگر یہ کہ کوئی کھلی بے حیائی (عمل میں) لائیں۔ اور یہ اللہ کی حدیں ہیں اور جو اللہ کی حدوں سے آگے بڑھے تو یقینا اس نے اپنے آپ پر ظلم کیا۔ تو نہیں جانتا شاید اللہ اس کے بعد کوئی نئی بات پیدا کر دے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
طلاق کے مسائل ٭٭

اولاً تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شرافت و کرامت کے طور پر خطاب کیا گیا پھر تبعاً آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت سے خطاب کیا گیا اور طلاق کے مسئلہ کو سمجھایا گیا۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو طلاق دی وہ اپنے میکے آ گئیں اس پر یہ آیت اتری اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا گیا کہ ’ ان سے رجوع کر لو، وہ بہت زیادہ روزہ رکھنے والی اور بہت زیادہ نماز پڑھنے والی ہیں اور وہ یہاں بھی آپ کی بیوی ہیں اور جنت میں بھی آپ کی ازواج میں داخل ہیں }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:24244:ضعیف و مرسل] ‏‏‏‏ یہی روایت مرسلاً ابن جریر میں بھی ہے اور سندوں سے بھی آئی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو طلاق دی پھر رجوع کر لیا۔

صحیح بخاری میں ہے کہ { سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی بیوی صاحبہ کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ واقعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہوئے اور فرمایا: ”اسے چاہیئے کہ رجوع کر لے، پھر حیض سے پاک ہونے تک روکے رکھے، پھر دوسرا حیض آئے اور اس سے نہا لیں پھر اگر جی چاہے طلاق دیں“، یعنی اس پاکیزگی کی حالت میں بات چیت کرنے سے پہلے، یہی وہ عدت ہے جس کا حکم اللہ تعالیٰ نے دیا ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4908] ‏‏‏‏ یہ حدیث اور بھی بہت سی کتابوں میں بہت سی سندوں کے ساتھ مذکور ہے۔ { عبدالرحمٰن بن ایمن رحمہ الله نے جو عزہ کے مولیٰ ہیں ابوالزبیر رحمہ الله کے سنتے ہوئے، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا کہ اس شخص کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں جس نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دی؟، تو آپ نے فرمایا ”سنو! ابن عمر نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں طلاق دی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اسے لوٹا لے، چنانچہ ابن عمر نے رجوع کر لیا اور یہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ”اس سے پاک ہو جانے کے بعد اسے اختیار ہے خواہ طلاق دے خواہ بسا لے“ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی «يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَأَحْصُوا الْعِدَّةَ» } ۱؎ [65-الطلاق:1] ‏‏‏‏ ۱؎ [صحیح مسلم:1471] ‏‏‏‏ دوسری روایت میں «‏‏‏‏فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ» یعنی طہر کی حالت میں جماع سے پہلے، بہت سے بزرگوں نے یہی فرمایا ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یعنی حیض میں طلاق نہ دو، نہ اس طہر میں طلاق دو جس میں جماع ہو چکا ہو بلکہ اس وقت تک چھوڑ دے جب حیض آ جائے پھر اس سے نہا لے تب ایک طلاق دے۔

عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ” «عدت» سے مراد طہر ہے۔‏‏‏‏“ «قرء» سے مراد حیض ہے یا حمل کی حالت میں، جب حمل ظاہر ہو، جس طہر میں مجامعت کر چکا ہے اس میں طلاق نہ دے نہ معلوم حاملہ ہے یا نہیں، یہیں سے باسمجھ علماء نے احکام طلاق لیے ہیں اور طلاق کی دو قسمیں کی ہیں طلاق سنت اور طلاق بدعت۔ طلاق سنت تو یہ ہے کہ طہر کی یعنی پاکیزگی کی حالت میں جماع کرنے سے پہلے طلاق دے دے یا حالت حمل میں طلاق دے اور بدعی طلاق یہ ہے کہ حالت حیض میں طلاق دے یا طہر میں دے لیکن مجامعت کر چکا ہو اور معلوم نہ ہو کہ حمل ہے یا نہیں؟ طلاق کی تیسری قسم بھی ہے جو نہ طلاق سنت ہے نہ طلاق بدعت اور وہ نابالغہ کی طلاق ہے اور اس عورت کی جسے حیض کے آنے سے ناامیدی ہو چکی ہو اور اس عورت کی جس سے دخول نہ ہوا۔ ان سب کے احکام اور تفصیلی بحث کی جگہ کتب فروغ ہیں نہ کہ تفسیر۔ «وَاللہُ سُبْحَانَہُ وَ تَعَالَىٰ اَعْلَمُ»

عدت کی حفاظت کرو ٭٭

پھر فرمان ہے ’ عدت کی حفاظت کرو اور اس بارے میں اپنے ابتداء انتہا کی دیکھ بھال رکھو ایسا نہ ہو کہ عدت کی لمبائی عورت کو دوسرا خاوند کرنے سے روک دے اور اس بارے میں اپنے معبود حقیقی پروردگار عالم سے ڈرتے رہو ‘۔ عدت کے زمانہ میں مطلقہ عورت کی رہائش کا مکان خاوند کے ذمہ ہے وہ اسے نکال نہ دے اور نہ خود اسے نکلنا جائز ہے کیونکہ وہ اپنے خاوند کے حق میں رکی ہوئی ہے۔ «فَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ» زنا کو بھی شامل ہے اور اسے بھی کہ عورت اپنے خاوند کو تنگ کرے، اس کا خلاف کرے اور ایذاء پہنچائے، یا بدزبانی و کج خلقی شروع کر دے اور اپنے کاموں سے اور اپنی زبان سے سسرال والوں کو تکلیف پہنچائے تو ان صورتوں میں بیشک خاوند کو جائز ہے کہ اسے اپنے گھر سے نکال باہر کرے، یہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدیں ہیں اس کی شریعت اور اس کے بتائے ہوئے احکام ہیں۔ جو شخص ان پر عمل نہ کرے انہیں بے حرمتی کے ساتھ توڑ دے ان سے آگے بڑھ جائے وہ اپنا ہی برا کرنے والا اور اپنی جان پر ظلم ڈھانے والا ہے شاید کہ اللہ کو نئی بات پیدا کر دے اللہ کے ارادوں کو اور ہونے والی باتوں کو کوئی نہیں جان سکتا۔

عدت کا زمانہ مطلقہ عورت کو خاوند کے گھر گزارنے کا حکم دینا اس مصلحت سے ہے کہ ممکن ہے اس مدت میں اس کے خاوند کے خیالات بدل جائیں، طلاق دینے پر نادم ہو، دل میں لوٹا لینے کا خیال پیدا ہو جائے اور پھر رجوع کر کے دونوں میاں بیوی امن و امان سے گزارا کرنے لگیں، نیا کام پیدا کرنے سے مراد بھی رجعت ہے۔ اسی بنا پر بعض سلف اور ان کے تابعین مثلاً امام احمد بن حنبل رحمة الله علیہم وغیرہ کا مذہب ہے کہ «مبتوتہ» یعنی وہ عورت جس کی طلاق کے بعد خاوند کو رجعت کا حق باقی نہ رہا ہو اس کے لیے عدت گزارنے کے زمانے تک مکان کا دینا خاوند کے ذمہ نہیں، اسی طرح جس عورت کا خاوند فوت ہو جائے اسے بھی رہائشی مکان عدت تک کے لیے دینا اس کے وارثوں پر نہیں۔ ان کی اعتمادی دلیل فاطمہ بنت قیس فہریہ رضی اللہ عنہا والی حدیث ہے کہ جب ان کے خاوند ابوعمر بن حفص رضی اللہ عنہ نے ان کو تیسری آخری طلاق دی اور وہ اس وقت یہاں موجود نہ تھے بلکہ یمن میں تھے اور وہیں سے طلاق دی تھی تو ان کے وکیل نے ان کے پاس تھوڑے سے جو بھیج دیئے تھے کہ یہ تمہاری خوراک ہے یہ بہت ناراض ہوئیں اس نے کہا بگڑتی کیوں ہو؟ تمہارا نفقہ کھانا پینا ہمارے ذمہ نہیں، یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ٹھیک ہے تیرا نفقہ اس پر نہیں۔‏‏‏‏“ مسلم میں ہے { نہ تیرے رہنے سہنے کا گھر اور ان سے فرمایا: ”تم ام شریک کے گھر اپنی عدت گزارو“، پھر فرمایا: ”وہاں تو میرے اکثر صحابہ آیا جایا کرتے ہیں تم عبداللہ بن ام مکتوم کے ہاں اپنی عدت کا زمانہ گزارو وہ ایک نابینا آدمی ہیں تم وہاں آرام سے اپنے کپڑے بھی رکھ سکتی ہو“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1480] ‏‏‏‏

مسند احمد میں ہے کہ { ان کے خاوند کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی جہاد پر بھیجا تھا، انہوں نے وہیں سے انہیں طلاق بھیج دی، ان کے بھائی نے ان سے کہا کہ ہمارے گھر سے چلی جاؤ، انہوں نے کہا: نہیں! جب تک عدت ختم نہ ہو جائے میرا کھانا پینا اور رہنا سہنا میرے خاوند کے ذمہ ہے۔ اس نے انکار کیا، آخر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یہ معاملہ پہنچا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا کہ یہ آخری تیسری طلاق ہے تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”نان نفقہ، گھربار خاوند کے ذمہ اس صورت میں ہے کہ اسے حق رجعت حاصل ہو جب یہ نہیں تو وہ بھی نہیں، تم یہاں سے چلی جاؤ اور فلاں عورت کے گھر اپنی عدت گزارو }۔ پھر فرمایا: ”وہاں تو صحابہ کی آمد و رفت ہے تم ابن ام مکتوم کے گھر عدت کا زمانہ گزارو وہ نابینا ہیں تمہیں دیکھ نہیں سکتے“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:373/6:ضعیف] ‏‏‏‏ طبرانی میں ہے یہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا ضحاک بن قیس قرشی رضی اللہ عنہ کی بہن تھیں ان کے خاوند مخزومی قبیلہ کے تھے، طلاق کی خبر کے بعد ان کے نفقہ طلب کرنے پر ان کے خاوند کے اولیاء نے کہا تھا، نہ تو تمہارے میاں نے کچھ بھیجا ہے، نہ ہمیں دینے کو کہا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان میں یہ بھی مروی ہے کہ ”جب عورت کو وہ طلاق مل جائے جس کے بعد وہ اپنے اگلے خاوند پر حرام ہو جاتی ہے، جب تک دوسرے سے نکاح اور پھر طلاق نہ ہو جائے، تو اس صورت میں عدت کا نان نفقہ اور رہنے کا مکان اس کے خاوند کے ذمہ نہیں“ }۔ ۱؎ [سنن نسائی:3432،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏
اے نبی! (اپنی امت سے کہو کہ) جب تم اپنی بیویوں کو طلاق دینا چاہو (1) تو ان کی عدت (کے دنوں کے آغاز) میں انہیں طلاق دو (2) اور عدت کا حساب رکھو (3) اور اللہ سے جو تمہارا پروردگار ہے ڈرتے رہو، نہ تم انہیں ان کے گھر سے نکالو (4) اور نہ وہ (خود) نکلیں (5) ہاں یہ اور بات ہے کہ وہ کھلی برائی کر بیٹھیں (6) یہ اللہ کی مقرر کردہ حدیں ہیں جو شخص اللہ کی حدوں سے آگے بڑھ جائے اس نے یقیناً اپنے اوپر ظلم کیا (7) تم نہیں جانتے شاید اس کے بعد اللہ تعالیٰ کوئی نئی بات پیدا کردے
سورۂ تغابن میں بیویوں کے ساتھ رہن سہن میں کشادہ دلی اور عفو و درگزر کے ساتھ مدارات اور گزارا کرنے کی تعلیم دی گئی ہے، لیکن اگر میاں بیوی کا اختلاف حد سے بڑھ جائے اور گزارے کی کوئی صورت نہ رہے تو اللہ تعالیٰ نے طلاق کی بھی اجازت دی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جس طرح زنا کو حرام قرار دینا اور نکاح کا حکم دینا اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے، کیونکہ اس سے نسب اور نسل کی حفاظت ہوتی ہے اور معاشرے میں فسق و فجور اور قتل و غارت کے بجائے پاکیزگی اور امن و امان کا دور دورہ ہوتا ہے، اسی طرح زوجین میں موافقت نہ رہے تو مرد کو طلاق کی اور عورت کو خلع کی اجازت بھی اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی رحمت ہے، جس سے وہ ایسی زندگی سے نکل آتے ہیں جو ہر لمحہ ان کے لیے شدید اذیت کا باعث تھی اور دونوں کو نیا نکاح کر کے آئندہ کے لیے خوشگوار زندگی گزارنے کا موقع مل جاتا ہے۔ ایسی صورت میں اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرے سے جدا ہونے والے مرد اور عورت میں سے ہر ایک کو اپنی وسعت کے ساتھ غنی کر دینے کا وعدہ فرمایا ہے اور اسے اپنی وسعت و حکمت کا ایک مظہر قرار دیا ہے، جیسا کہ فرمایا: «وَ اِنْ يَّتَفَرَّقَا يُغْنِ اللّٰهُ كُلًّا مِّنْ سَعَتِهٖ وَ كَانَ اللّٰهُ وَاسِعًا حَكِيْمًا» ‏‏‏‏ [ النساء: ۱۳۰ ] ”اور اگر وہ دونوں ایک دوسرے سے جدا ہو جائیں تو اللہ ہر ایک کو اپنی وسعت سے غنی کر دے گا اور اللہ ہمیشہ سے وسعت والا، کمال حکمت والا ہے۔“ جن اقوام نے طلاق پر پابندی لگائی اور اسے ناجائز قرار دیا ہے یا اس پر نامناسب پابندیاں لگائی ہیں، مثلاً یہ کہ طلاق دینے والا مرد ساری عمر اپنی مطلقہ کے نان و نفقہ کا ذمہ دار ہوگا وغیرہ، انھوں نے ایک دوسرے سے موافقت نہ رکھنے والے میاں بیوی پر شدید ظلم کیا ہے اور ساری عمر ان پر دل کی اس خوشی کا دروازہ بند کر دیا ہے جو میاں بیوی کو نکاح سے حاصل ہوتی ہے۔ کفار کے اس اقدام کا نتیجہ یہ ہوا کہ لوگوں نے نکاح کرنا ہی چھوڑ دیا، کیونکہ اس صورت میں وہ ایک دوسرے سے جدا نہیں ہو سکیں گے، یا جدا ہوئے تو انھیں ناقابل برداشت پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اب ان میں کم ہی کوئی نکاح کرتا ہے، مردوں اور عورتوں کی اکثریت نکاح کے بغیر ایک دوسرے کے ساتھ رہ کر حرام اولاد کو جنم دے رہی ہے اور جس کا دوسرے سے دل بھر جاتا ہے وہ اسے چھوڑ کر آگے روانہ ہو جاتا ہے۔ طلاق صرف ایک دوسرے سے جدا ہونے کا ذریعہ نہیں بلکہ میاں بیوی کے بگڑے ہوئے معاملات کو درست کرنے کا آخری ذریعہ بھی ہے، کیونکہ جب اللہ تعالیٰ کے مقرر کر دہ طریقے کے مطابق طلاق دی جائے تو عدت کی صورت میں مرد کے پاس رجوع کا اور عورت کے پاس خاوند کو منا لینے کا موقع موجود ہوتا ہے اور تین حیض یا وضع حمل تک ایک گھر میں اکٹھے رہنے کی وجہ سے امید ہوتی ہے کہ جدائی کا باعث بننے والی کشیدگی ختم ہو جائے اور وہ دونوں آپس میں صلح کر لیں۔ سورۂ طلاق کی پہلی آیت {” لَعَلَّ اللّٰهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذٰلِكَ اَمْرًا “} میں یہی بات بیان ہوئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس طرح ہر کام میں ہمارے لیے نمونہ ہیں نکاح و طلاق میں بھی نمونہ ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح بھی کیے ہیں اور بعض کو طلاق بھی دی ہے، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنت الجون کو {” أَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنْكَ “} کہنے پر طلاق دے دی۔ [ یکھیے بخاري، الطلاق، باب من طلق وھل یواجہ الرجل امرأتہ بالطلاق؟: ۵۲۵۴ ] اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طلاق دے کر رجوع بھی کیا ہے، چنانچہ ابن عباس رضی اللہ عنھما عمر رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں: [ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَلَّقَ حَفْصَةَ ثُمَّ رَاجَعَهَا ] [ أبو داوٗد، الطلاق، باب في المراجعۃ: ۲۲۸۳، وقال الألباني صحیح ] ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حفصہ(رضی اللہ عنھا) کو طلاق دے دی، پھر ان سے رجوع کر لیا۔“ (آیت 1) ➊ {يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ …:} یہاں ایک سوال ہے کہ پہلے {” يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ “} کے ساتھ صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کیا، پھر {” اِذَا طَلَّقْتُمْ“} میں جمع کے صیغے کے ساتھ خطاب کیوں کیا گیا ہے؟ جواب اس کا یہ ہے کہ چونکہ طلاق کے احکام میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی امت دونوں مشترک ہیں، اس لیے آپ کو اور آپ کی امت دونوں کو مخاطب کرتے ہوئے {” اِذَا طَلَّقْتُمْ“} فرمایا، مگر پہلے خاص طور پر آپ کو خطاب آپ کی تعظیم کے لیے ہے، جیسے کسی قوم کے سردار سے کہا جاتا ہے، اے فلاں! تم ایسا کرو، یعنی تم اور تمھاری قوم ایسا کرو۔ گویا یوں فرمایا کہ اے نبی! جب تم لوگ طلاق دو، یعنی آپ اور آپ کی امت طلاق دے۔ ➋ {” اِذَا طَلَّقْتُمْ“} (جب تم طلاق دو) سے مراد یہ ہے کہ جب تم طلاق کا ارادہ کرو، جیسا کہ سورۂ مائدہ کی آیت (۶) {” اِذَا قُمْتُمْ اِلَى الصَّلٰوةِ فَاغْسِلُوْا وُجُوْهَكُمْ وَ اَيْدِيَكُمْ “} میں ہے۔ ➌ {” النِّسَآءَ “} سے مراد صرف وہ عورتیں ہیں جن کے ساتھ نکاح کے بعد دخول ہو چکا ہو، کیونکہ جن عورتوں کو دخول سے پہلے طلاق دے دی جائے ان کی کوئی عدت نہیں۔ (دیکھیے سورۂ احزاب: ۴۹)۔ ➍ {فَطَلِّقُوْهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ: } جب تم عورتوں کو طلاق دینا چاہو تو یہ نہیں کہ جب چاہو طلاق دے دو، بلکہ ان کی عدت کے وقت طلاق دو، یعنی جب عورت حیض سے پاک ہو تو طہر کی حالت میں جماع کے بغیر طلاق دو، تاکہ اس کی عدت کسی کمی یا زیادتی کے بغیر پوری ہو، کیونکہ اگر تم حالت حیض میں طلاق دوگے تو اگر اس حیض کو عدت میں شمار کرو تو عدت تین حیض سے کم رہ جائے گی اور اگر شمار نہ کرو تو تین حیض سے زیادہ ہو جائے گی، کیونکہ بعد میں آنے والے تین حیضوں کے ساتھ اس حیض کے وہ ایام بھی شامل ہوں گے جو طلاق کے بعد باقی ہوں گے۔ اسی طرح اگر تم انھیں ایسے طہر میں طلاق دو گے جس میں ان کے ساتھ جماع کیا ہے تو ممکن ہے کہ حمل قرار پا جائے، اس صورت میں معلوم نہیں ہو سکے گا کہ اس کی عدت کے لیے تین حیض کا اعتبار ہو گا یا وضع حمل کا۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے اپنی بیوی کو طلاق دی جب وہ حیض کی حالت میں تھی، عمر رضی اللہ عنہ نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا، ثُمَّ لِيُمْسِكْهَا حَتّٰی تَطْهُرَ ثُمَّ تَحِيْضَ، ثُمَّ تَطْهُرَ، ثُمَّ إِنْ شَاءَ أَمْسَكَ بَعْدُ وَ إِنْ شَاءَ طَلَّقَ قَبْلَ أَنْ يَمَسَّ، فَتِلْكَ الْعِدَّةُ الَّتِيْ أَمَرَ اللّٰهُ أَنْ تُطَلَّقَ لَهَا النِّسَاءُ ] [ بخاري، الطلاق، باب قول اللّٰہ تعالٰی: «یا أیھا النبي…» : ۵۲۵۱ ] ”اسے حکم دو کہ وہ اس سے رجوع کرے، پھر اسے اپنے پاس رکھے یہاں تک کہ وہ پاک ہو، پھر اسے حیض آئے، پھر پاک ہو، پھر اگر چاہے تو اپنے پاس رکھے اور اگر چاہے تو چھونے سے پہلے طلاق دے دے، کیونکہ یہ ہے وہ عدت جس کے وقت اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو طلاق دینے کا حکم دیا ہے۔“ اگر عورت حاملہ ہو تو اسے کسی بھی وقت طلاق دی جا سکتی ہے، کیونکہ اس کی عدت وضع حمل معلوم اور واضح ہے، جیسا کہ آگے {” وَ اُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُهُنَّ اَنْ يَّضَعْنَ حَمْلَهُنَّ “} میں آرہا ہے۔ ➎ اللہ تعالیٰ نے طلاق کے لیے یہ وقت اس لیے مقرر فرمایا ہے کہ جہاں تک ہو سکے میاں بیوی کا تعلق قائم رہے، اگر کبھی آدمی کو غصہ آئے تو فوراً طلاق نہ دے بلکہ اس وقت کا انتظار کرے جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ اتنی دیر میں غصہ ٹھنڈا ہو جائے گا اور حیض سے فراغت کے بعد خاوند کو بیوی کی طرف جو رغبت ہوتی ہے وہ طلاق سے باز رکھنے کا باعث ہوگی۔ اسی طرح حمل کی حالت خاوند کو طلاق سے روکنے کا باعث ہے، کیونکہ آنے والے مہمان کی امید اسے اس اقدام سے باز رکھنے والی ہے۔ ان دونوں وقتوں میں طلاق دینے کا مطلب یہ ہے کہ وہ طلاق کسی وقتی اشتعال کی وجہ سے نہیں بلکہ خوب سوچ سمجھ کر دی جا رہی ہے، اس کے بعد عدت کی صورت میں ایک خاصی مدت تک دونوں کو ایک گھر میں رہنے کا حکم دیا گیا، ہو سکتا ہے کہ ان کا تعلق باقی رہنے کی کوئی صورت نکل آئے۔ افسوس! مسلمانوں نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی پروا ہی نہیں کی، (الاّما شاء اللہ) حالانکہ اگر وہ طلاق کے لیے اس وقت کا انتظار کرتے جو اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمایا ہے تو طلاق کی نوبت ہی بہت کم آتی، پھر عدت کی برکت سے دوبارہ رجوع کی بھی بہت امید تھی۔ ➏ ایک وقت میں صرف ایک طلاق دینا ہی جائز ہے، اس سے زیادہ دینا حرام ہے۔ اگر کوئی شخص ایک وقت میں ایک سے زیادہ طلاقیں دے دے تو صرف ایک طلاق ہوگی۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ (230،229)کی تفسیر۔ ➐ { وَ اَحْصُوا الْعِدَّةَ: ”أَحْصٰي يُحْصِيْ“} اچھی طرح شمار کرنا، گننا۔ یہ {”حَصًي“} (کنکریاں) سے مشتق ہے۔ عرب اُمی تھے، جب انھیں ایسی چیز گننا ہوتی جو تعداد میں زیادہ ہوتی تو ہر ایک کے لیے ایک کنکری رکھتے جاتے، آخر میں کنکریوں کو گن لیتے۔ {” الْعِدَّةَ “} (بروزن {فِعْلَةٌ}) بمعنی {”مَعْدُوْدٌ“} ہے، گنے ہوئے دن، جیسے {”طِحْنٌ“} بمعنی {”مَطْحُوْنٌ“} (پسا ہوا آٹا) ہے۔ یعنی وہ دن جن کے گزر جانے کے بعد کسی اور شخص سے نکاح حلال ہو جاتا ہے۔ اس پر ”الف لام“ عہد کا ہے، یعنی وہ عدت جو دوسری آیات میں بتائی گئی ہے۔ (دیکھیے بقرہ: ۲۲۸۔ طلاق: ۴) عدت کو اچھی طرح گننے کا حکم اس لیے دیا کہ ایسا نہ ہو کہ عدت گزرنے کے بعد بھی تم رجوع کر لو یا عدت گزرنے سے پہلے عورت کسی اور مرد سے نکاح کر لے، جب کہ یہ دونوں کام ناجائز ہیں۔ ➑ { وَ اتَّقُوا اللّٰهَ رَبَّكُمْ:} ذاتی نام {” اللّٰهَ “} اور وصفی نام {”رَبٌّ“} کا ذکر کر کے اللہ تعالیٰ سے، جو ہر لمحے انسان کی پرورش کر رہا ہے، ڈرنے کا حکم دیا، یعنی ان ایام میں طلاق دینے سے اللہ سے ڈرتے رہو جن میں طلاق دینا ممنوع ہے، کیونکہ اس میں اللہ کی نافرمانی بھی ہے اور عورت کو اذیت رسانی بھی۔ اسی طرح عدت کے ایام میں عورتوں کو گھروں سے نکالنے سے بھی ڈرو۔ ➒ { لَا تُخْرِجُوْهُنَّ مِنْۢ بُيُوْتِهِنَّ وَ لَا يَخْرُجْنَ:بُيُوْتِهِنَّ “} سے مراد خاوندوں کے گھر ہیں جن میں عورتیں رہ رہی ہیں، ان میں رہنے کی وجہ سے انھیں ان کے گھر فرمایا ہے۔ یعنی عورت کے لیے عدت کے ایام خاوند کے گھر میں گزارنا ضروری ہے، نہ خاوندوں کو انھیں ان کے گھروں سے نکالنے کی اجازت ہے نہ انھیں خود ان سے نکل جانے کی۔ اس کی حکمت آگے {” لَعَلَّ اللّٰهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذٰلِكَ اَمْرًا “} میں بیان فرمائی کہ اتنی مدت ایک گھر میں اکٹھے رہنے سے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی باہمی صلح اور رجوع کی کوئی صورت پیدا فرما دے گا۔ اگر وہ دونوں ایک دوسرے سے اسی وقت الگ ہو گئے اور ملاقات کا موقع ہی نہ رہا تو رجوع کا معاملہ بہت مشکل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنا خوف دلا کر نہایت تاکید کے ساتھ یہ حکم دیا ہے، مگر مسلمانوں نے کم ہی اس کی پروا کی ہے، شاید ہی کوئی ایسا مرد ہو جو طلاق کے بعد عورت کو اپنے گھر میں رہنے دے یا کوئی ایسی عورت ہو جو وہاں رہے۔ ➓ { اِلَّاۤ اَنْ يَّاْتِيْنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ:فَاحِشَةٌ “} کوئی بھی قول یا فعل جس میں بہت بڑی قباحت ہو۔ {” مُبَيِّنَةٍ “} کھلی اور واضح۔ {” بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ “} میں زنا، چوری وغیرہ کے علاوہ عورت کا خاوند سے یا اس کے اہلِ خانہ سے بدزبانی اور گالی گلوچ کرنا بھی شامل ہے۔ طبری نے محمد بن ابراہیم کی حسن سند کے ساتھ ابن عباس رضی اللہ عنھما سے نقل فرمایا ہے، انھوں نے فرمایا: [ اَلْفَاحِشَةُ أَنْ تَبْذُؤَ عَلٰی أَهْلِهَا ] ”فاحشہ یہ ہے کہ گھر والوں پر زبان درازی کرے۔“ ⓫ {وَ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ وَ مَنْ يَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰهِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهٗ:} یعنی وہ مرد جو عورت کو اس وقت طلاق دیتا ہے جب طلاق دینے کا وقت نہیں، یا عدت میں عورت کو گھر سے نکال دیتا ہے، یا وہ عورت جو خود ہی نکل جاتی ہے، یہ نہ سمجھیں کہ وہ معمولی خطا کر رہے ہیں، بلکہ وہ اللہ کی مقرر کردہ حدیں پھلانگ رہے ہیں اور جو اللہ کی حدیں پھلانگتا ہے یقینا وہ اپنی جان پر ظلم کر رہا ہے۔ ⓬ {لَا تَدْرِيْ لَعَلَّ اللّٰهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذٰلِكَ اَمْرًا:} یعنی طلاق کے بعد عورت کو عدت کے دوران خاوند کے گھر میں رہنے کا حکم اس لیے ہے کہ شاید اللہ تعالیٰ اس کے بعد ان کی باہمی موافقت کی کوئی صورت پیدا فرما دے اور خاوند اس سے رجوع کر لے۔ اس سے معلوم ہوا کہ خاوند کے گھر میں رہ کر عدت گزارنے کا حکم اس طلاق میں ہے جس سے رجوع ہو سکتا ہو اور وہ صرف پہلی اور دوسری طلاق ہے، ان دونوں کو رجعی طلاق کہتے ہیں، ان کی عدت کے دوران عورت کی رہائش اور نفقہ خاوند کے ذمے ہے۔ رہی تیسری طلاق کی عدت، تو اگرچہ عورت اس کے دوران آگے نکاح نہیں کر سکتی مگر خاوند رجوع بھی نہیں کر سکتا، اس لیے اس کے دوران اس کی رہائش نہ صرف یہ کہ خاوند کے ذمے نہیں بلکہ اس کا خاوند کے ساتھ اس کے گھر میں رہنا ہی ٹھیک نہیں، کیونکہ اس میں سابقہ بے تکلفی کی وجہ سے ان کے حد سے تجاوز کا خطرہ ہے جب کہ وہ عورت اس کے لیے حلال نہیں، جیسا کہ فرمایا: «فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنْۢ بَعْدُ حَتّٰى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهٗ» [ البقرۃ: ۲۳۰ ] ”پھر اگر وہ اسے (تیسری) طلاق دے دے تو اس کے بعد وہ اس کے لیے حلال نہیں ہوگی، یہاں تک کہ اس کے علاوہ کسی اور خاوند سے نکاح کرے۔“ اگرچہ بہت سے ائمہ نے اس کی رہائش خاوند کے ذمے قرار دی ہے، مگر اس آیت کے مطابق اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح حدیث کے مطابق تیسری طلاق کے بعد اس کی رہائش خاوند کے ذمے نہیں ہے۔ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں: [ أَنَّهُ طَلَّقَهَا زَوْجُهَا فِيْ عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَ كَانَ أَنْفَقَ عَلَيْهَا نَفَقَةَ دُوْنٍ، فَلَمَّا رَأَتْ ذٰلِكَ قَالَتْ وَاللّٰهِ! لَأُعْلِمَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنْ كَانَ لِيْ نَفَقَةٌ أَخَذْتُ الَّذِيْ يُصْلِحُنِيْ وَإِنْ لَمْ تَكُنْ لِيْ نَفَقَةٌ لَمْ آخُذْ مِنْهُ شَيْئًا، قَالَتْ فَذَكَرْتُ ذٰلِكَ لِرَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَا نَفَقَةَ لَكِ وَلَا سُكْنٰي ] [مسلم، الطلاق، باب المطلقۃ البائن لا نفقۃ لہا: ۳۷ /۱۴۸۰ ] ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ان کے خاوند نے انھیں طلاق دے دی اور انھیں معمولی خرچہ دیا۔ جب انھوں نے یہ دیکھا تو کہا: ”اللہ کی قسم! میں یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علم میں لاؤں گی، پھر اگر میرے لیے خرچہ ہوا تو اتنا لوں گی جو میری حالت درست رکھ سکے اور اگر میرے لیے خرچہ نہ ہوا تو میں اس سے کچھ بھی نہیں لوں گی۔“ فرماتی ہیں، میں نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے لیے نہ خرچہ ہے نہ رہائش۔“ یاد رہے کہ صحیح مسلم کے اسی باب کی ایک روایت میں صراحت ہے کہ ان کے خاوند نے انھیں تیسری طلاق دے دی تھی۔
فَاِذَا بَلَغۡنَ اَجَلَہُنَّ فَاَمۡسِکُوۡہُنَّ بِمَعۡرُوۡفٍ اَوۡ فَارِقُوۡہُنَّ بِمَعۡرُوۡفٍ وَّ اَشۡہِدُوۡا ذَوَیۡ عَدۡلٍ مِّنۡکُمۡ وَ اَقِیۡمُوا الشَّہَادَۃَ لِلّٰہِ ؕ ذٰلِکُمۡ یُوۡعَظُ بِہٖ مَنۡ کَانَ یُؤۡمِنُ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ ۬ؕ وَ مَنۡ یَّتَّقِ اللّٰہَ یَجۡعَلۡ لَّہٗ مَخۡرَجًا ۙ﴿۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پھر جب وہ اپنی (عدت کی) مدت کے خاتمہ پر پہنچیں تو یا انہیں بھلے طریقے سے (اپنے نکاح میں) روک ر کھو، یا بھلے طریقے پر اُن سے جدا ہو جاؤ اور دو ایسے آدمیوں کو گواہ بنا لو جو تم میں سے صاحب عدل ہوں اور (اے گواہ بننے والو) گواہی ٹھیک ٹھیک اللہ کے لیے ادا کرو یہ باتیں ہیں جن کی تم لوگوں کو نصیحت کی جاتی ہے، ہر اُس شخص کو جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو جو کوئی اللہ سے ڈرتے ہوئے کام کرے گا اللہ اُس کے لیے مشکلات سے نکلنے کا کوئی راستہ پیدا کر دے گا
مولانا محمد جوناگڑھی
پس جب یہ عورتیں اپنی عدت پوری کرنے کے قریب پہنچ جائیں تو انہیں یا تو قاعده کے مطابق اپنے نکاح میں رہنے دو یا دستور کے مطابق انہیں الگ کر دو اور آپس میں سے دو عادل شخصوں کو گواه کر لو اور اللہ کی رضامندی کے لیے ٹھیک ٹھیک گواہی دو۔ یہی ہے وه جس کی نصیحت اسے کی جاتی ہے جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لیے چھٹکارے کی شکل نکال دیتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
تو جب وہ اپنی میعاد تک پہنچنے کو ہوں تو انہیں بھلائی کے ساتھ روک لو یا بھلائی کے ساتھ جدا کرو اور اپنے میں دو ثقہ کو گواہ کرلو اور اللہ کے لیے گواہی قائم کرو اس سے نصیحت فرمائی جاتی ہے اسے جو اللہ اور پچھلے دن پر ایمان رکھتا ہو اور جو اللہ سے ڈرے اللہ اس کے لیے نجات کی راہ نکال دے گا
علامہ محمد حسین نجفی
تو جب وہ اپنی (مقررہ) عدت کی مدت کو پہنچ جائیں تو ان کو یا تو قاعدہ (اور شائستہ طریقہ) سے (اپنے نکاح میں) روک لو یا پھر قاعدہ (اور اچھے طریقہ) سے جدا کر دو اور اپنے میں سے دو عادل آدمیوں کو گواہ بناؤ اور خدا کیلئے صحیح گواہی دو ان باتوں سے اس شخص کو نصیحت کی جاتی ہے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اور جو کوئی خدا سے ڈرتا ہے اللہ اس کیلئے (مشکل سے نجات کا) راستہ پیدا کر دیتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
پھر جب وہ اپنی میعاد کو پہنچنے لگیں تو انھیں اچھے طریقے سے روک لو، یا اچھے طریقے سے ان سے جدا ہو جاؤ اور اپنوں میں سے دو صاحب عدل آدمی گواہ بنا لو اور شہادت اللہ کے لیے قائم کرو۔ یہ وہ (حکم) ہے جس سے اس شخص کو نصیحت کی جاتی ہے جو اللہ اور یوم آخر پر ایمان رکھتا ہے اور جو اللہ سے ڈرے گا وہ اس کے لیے نکلنے کا کوئی راستہ بنا دے گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عائلی قوانین ٭٭

ارشاد ہوتا ہے کہ ’ عدت والی عورتوں کی عدت جب پوری ہونے کے قریب پہنچ جائے تو ان کے خاوندوں کو چاہیئے کہ دو باتوں میں سے ایک کر لیں یا تو انہیں بھلائی اور سلوک کے ساتھ اپنے ہی نکاح میں روک رکھیں یعنی طلاق جو دی تھی اس سے رجوع کر کے باقاعدہ اس کے ساتھ بود و باش رکھیں یا انہیں طلاق دے دیں، لیکن برا بھلا کہے بغیر، گالی گلوچ دیئے بغیر، سرزنش اور ڈانٹ ڈپٹ بغیر، بھلائی اچھائی اور خوبصورتی کے ساتھ ‘۔ (‏‏‏‏یہ یاد رہے کہ رجعت کا اختیار اس وقت ہے جب ایک طلاق ہوئی ہو یا دو ہوئی ہوں)۔ پھر فرمایا ہے ’ اگر رجعت کا ارادہ ہو اور رجعت کرو، یعنی لوٹا لو تو اس پر دو عادل مسلمان گواہ رکھ لو ‘۔ ابوداؤد اور اور ابن ماجہ میں ہے کہ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا کہ ایک شخص اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہے پھر اس سے جماع کرتا ہے نہ طلاق پر گواہ رکھتا ہے نہ رجعت پر تو آپ نے فرمایا ”اس نے خلاف سنت طلاق دی اور خلاف سنت رجوع کیا، طلاق پر بھی گواہ رکھنا چاہیئے اور رجعت پر بھی، اب دوبارہ ایسا نہ کرنا۔‏‏‏‏“ ۱؎ [سنن ابوداود:2186،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ عطاء رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”نکاح، رجعت بغیر دو عادل گواہوں کے جائز نہیں، جیسے فرمان اللہ ہے ہاں مجبوی ہو تو اور بات ہے۔‏‏‏‏“ پھر فرماتا ہے ’ گواہ مقرر کرنے اور سچی شہادت دینے کا حکم انہیں ہو رہا ہے، جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہوں، اللہ کی شریعت کے پابند اور عذاب آخرت سے ڈرنے والے ہوں ‘۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”رجعت پر گواہ رکھنا واجب ہے“، گو آپ رحمہ اللہ سے ایک دوسرا قول بھی مروی ہے، اسی طرح نکاح پر گواہ رکھنا بھی آپ واجب بتاتے ہیں۔ ایک اور جماعت کا بھی یہی قول ہے، اس مسئلہ کو ماننے والی علماء کرام کی جماعت یہ بھی کہتی ہے کہ رجعت زبانی کہے بغیر ثابت نہیں ہوتی کیونکہ گواہ رکھنا ضروری ہے اور جب تک زبان سے نہ کہے گواہ کیسے مقرر کئے جائیں گے۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ جو شخص احکام اللہ بجا لائے اس کی حرام کردہ چیزوں سے پرہیز کرے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے مخلصی پیدا کر دیتا ہے ایک اور جگہ ہے اس طرح رزق پہنچاتا ہے کہ اس کے خواب و خیال میں بھی نہ ہو ‘۔

مسند احمد میں ہے { سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک مرتبہ میرے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی پھر فرمایا: ”اے ابوذر! اگر تمام لوگ صرف اسے ہی لے لیں تو کافی ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے باربار اس کی تلاوت شروع کی یہاں تک کہ مجھے اونگھ آنے لگی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوذر! تم کیا کرو گے جب تمہیں مدینہ سے نکال دیا جائے گا؟“ جواب دیا کہ میں اور کشادگی اور رحمت کی طرف چلا جاؤں گا، یعنی مکہ شریف کو، وہیں کا کبوتر بن کر رہ جاؤں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر کیا کرو گے، جب تمہیں وہاں سے بھی نکالا جائے؟“ میں نے کہا: شام کی پاک زمین میں چلا جاؤ گا۔ فرمایا: ”جب شام سے نکالا جائے گا تو کیا کرے گا؟“ میں نے کہا: یا رسول اللہ! اللہ کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ پیغمبر بنا کر بھیجا ہے پھر تو اپنی تلوار اپنے کندھے پر رکھ کر مقابلہ پر اتر آؤں گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تجھے اس سے بہتر ترکیب بتاؤں؟“ میں نے کہا: ہاں، اے اللہ کے رسول! ضرور ارشاد فرمائیے، فرمایا: ”سنتا رہ اور مانتا رہ اگرچہ حبشی غلام ہو“ }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:4220،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ ابن ابی حاتم میں ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”قرآن کریم میں بہت ہی جامع آیت «‏‏‏‏إِنَّ اللَّـهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ» ۱؎ [16-النحل:90] ‏‏‏‏ ہے اور سب سے زیادہ کشادگی کا وعدہ اس آیت «وَمَن يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا» ۱؎ [65-الطلاق:2] ‏‏‏‏، میں ہے۔‏‏‏‏“ مسند احمد میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ { جو شخص بکثرت استغفار کرتا رہے، اللہ تعالیٰ اسے ہر غم سے نجات اور ہر تنگی سے فراخی دے گا اور ایسی جگہ سے رزق پہنچائے گا جہاں کا اسے خیال و گمان تک نہ ہو }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1518،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”اسے اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت کے ہر کرب و بے چینی سے نجات دے گا۔‏‏‏‏“ ربیع رحمہ الله فرماتے ہیں ”لوگوں پر کام بھاری ہو اس پر آسان ہو جائے گا۔‏‏‏‏“ عکرمہ رحمہ الله فرماتے ہیں ”مطلب یہ ہے کہ جو شخص اپنی بیوی کو اللہ کے حکم کے مطابق طلاق دے گا اللہ اسے نکاسی اور نجات دے گا۔‏‏‏‏“ ابن مسعود رضی اللہ عنہ وغیرہ سے مروی ہے کہ ”وہ جانتا ہے کہ اللہ اگر چاہے دے اگر نہ چاہے نہ دے۔‏‏‏‏“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”تمام امور کے شبہ سے اور موت کی تکلیف سے بچا لے گا اور روزی ایسی جگہ سے دے گا جہاں کا گمان بھی نہ ہو۔‏‏‏‏“ سدی رحمہ الله فرماتے ہیں ”یہاں اللہ سے ڈرنے کے یہ معنی ہیں کہ سنت کے مطابق طلاق دے اور سنت کے مطاق رجوع کرے۔‏‏‏‏“ آپ فرماتے ہیں عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے کو کفار گرفتار کر کے لے گئے اور انہیں جیل خانہ میں ڈال دیا ان کے والد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اکثر آتے اور اپنے بیٹے کی حالت اور حاجت مصیبت اور تکلیف بیان کرتے رہتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں صبر کرنے کی تلقین کرتے اور فرماتے ”عنقریب اللہ تعالیٰ ان کے چھٹکارے کی سبیل بنا دے گا“، تھوڑے ہی دن گزرے ہوں گے کہ ان کے بیٹے دشمنوں میں سے نکل بھاگے، راستہ میں دشمنوں کی بکریوں کا ریوڑ مل گیا جسے اپنے ساتھ ہنکا لائے اور بکریاں لیے ہوئے اپنے والد کی خدمت میں جا پہنچے پس یہ آیت اتری کہ ’ متقی بندوں کو اللہ نجات دے دیتا ہے اور اس کا گمان بھی نہ ہو وہاں سے اسے روزی پہنچاتا ہے ‘۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:34287] ‏‏‏‏

مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ گناہ کی وجہ سے انسان اپنی روزی سے محروم ہو جاتا ہے، تقدیر کو لوٹانے والی چیز صرف دعا ہے، عمر میں زیادتی کرنے والی چیز صرف نیکی اور خوش سلوکی ہے }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:4022،قال الشيخ الألباني:حسن دون الجملة] ‏‏‏‏ سیرت ابن اسحاق میں ہے کہ { سیدنا مالک بن اشجعی رضی اللہ عنہ کے لڑکے عوف رضی اللہ عنہ جب کافروں کی قید میں تھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان سے کہلوا دو کہ بکثرت «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاﷲِ» پڑھتا رہے“، ایک دن اچانک بیٹھے بیٹھے ان کی قید کھل گئی اور یہ وہاں سے نکل بھاگے اور ان لوگوں کی ایک اونٹنی ہاتھ لگ گئی جس پر سوار ہو لیے راستے میں ان کے اونٹوں کے ریوڑ ملے انہیں بھی اپنے ساتھ ہنکا لائے، وہ لوگ پیچھے دوڑے لیکن یہ کسی کے ہاتھ نہ لگے، سیدھے اپنے گھر آئے اور دروازے پر کھڑے ہو کر آواز دی، باپ نے آواز سن کر فرمایا: اللہ کی قسم! یہ تو عوف ہے، ماں نے کہا: ہائے، وہ کہاں، وہ تو قید و بند کی مصیبتیں جھیل رہا ہو گا۔ اب دونوں ماں باپ اور خادم دروازے کی طرف دوڑے، دروازہ کھولا تو ان کے لڑکے عوف رضی اللہ عنہ ہیں اور تمام انگنائی اونٹوں سے بھری پڑی ہے پوچھا کہ یہ اونٹ کیسے ہیں، انہوں نے واقعہ بیان فرمایا کہا اچھا ٹھہرو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی بابت مسئلہ دریافت کر آؤں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ سب تمہارا مال ہے، جو چاہو کرو“ اور یہ آیت اتری کہ اللہ سے ڈرنے والوں کی مشکل اللہ آسان کرتا ہے اور بےگمان روزی پہنچاتا ہے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:34288:مرسل] ‏‏‏‏

جو اللہ کا، اللہ اس کا ٭٭

ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے { جو شخص ہر طرف سے کھچ کر اللہ کا ہو جائے، اللہ اس کی ہر مشکل میں اسے کفایت کرتا ہے اور بے گمان روزیاں دیتا ہے اور جو اللہ سے ہٹ کر دنیا ہی کا ہو جائے اللہ بھی اسے اسی کے حوالے کر دیتا ہے }۔ ۱؎ [طبرانی صغیر:321:ضعیف] ‏‏‏‏

مسند احمد میں ہے کہ { ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کی سواری پر آپ کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بچے! میں تمہیں چند باتیں سکھاتا ہوں سنو، تم اللہ کو یاد رکھو وہ تمہیں یاد رکھے گا، اللہ کے احکام کی حفاظت کرو تو اللہ کو اپنے پاس بلکہ اپنے سامنے پاؤ گے، جب کچھ مانگنا ہو اللہ ہی سے مانگو، جب مدد طلب کرنی ہو اسی سے مدد چاہو۔ تمام امت مل کر تمہیں نفع پہنچانا چاہے اور اللہ کو منظور نہ ہو تو ذرا سا بھی نفع نہیں پہنچا سکتی اور اسی طرح سارے کے سارے جمع ہو کر تجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہیں تو بھی نہیں پہنچا سکتے اگر تقدیر میں نہ لکھا ہو، قلمیں اٹھ چکیں اور صحیفے خشک ہو گئے۔“ } ۱؎ [سنن ترمذي:2516،قال الشيخ الألباني:حسن صحیح] ‏‏‏‏ ترمذی میں بھی یہ حدیث ہے، امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن صحیح کہتے ہیں۔ مسند احمد کی اور حدیث میں ہے { جسے کوئی حاجت ہو اور وہ لوگوں کی طرف لے جائے تو بہت ممکن ہے کہ وہ سختی میں پڑ جائے اور کام مشکل ہو جائے اور جو اپنی حاجت اللہ کی طرف لے جائے اللہ تعالیٰ ضرور اس کی مراد پوری کرتا ہے یا تو جلدی اسی دنیا میں ہی یا دیر کے ساتھ موت کے بعد }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1645،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ’ اللہ تعالیٰ اپنے قضاء اور احکام جس طرح اور جیسے چاہے اپنی مخلوق میں پورے کرنے والا اور اچھی طرح جاری کرنے والا ہے، ہر چیز کا اس نے اندازہ مقرر کیا ہوا ہے ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «اللَّـهُ يَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ أُنثَىٰ وَمَا تَغِيضُ الْأَرْحَامُ وَمَا تَزْدَادُ وَكُلُّ شَيْءٍ عِندَهُ بِمِقْدَارٍ» ۱؎ [13-الرعد:8] ‏‏‏‏ ’ ہر چیز اس کے پاس ایک اندازے سے ہے ‘۔
2۔ 1 مطلقہ مد خولہ کی عدت تین حیض ہے۔ اگر رجوع کرنا مقصود ہو تو عدت ختم ہونے سے پہلے پہلے رجوع کرلو۔ بصورت دیگر انہیں معروف کے مطابق اپنے سے جدا کردو۔ 2۔ 2 اس رجعت اور بعض کے نزدیک طلاق پر گواہ کرلو۔ یہ امر وجوب کے لئے نہیں، استحباب کے لئے ہے، یعنی گواہ بنا لینا بہتر ہے تاہم ضروری نہیں۔ 2۔ 3 یہ تاکید گواہوں کو ہے کہ وہ کسی کی رعایت اور لالچ کے بغیر صحیح صحیح گواہی دیں۔ 2۔ 4 یعنی شدائد اور آزمائشوں سے نکلنے کی سبیل پیدا فرما دیتا ہے
(آیت 2) ➊ { فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ:} یعنی جب ان کی عدت ختم ہونے کے قریب پہنچ جائے، کیونکہ عدت ختم ہونے کے بعد تو رجوع ہو نہیں سکتا۔ ➋ {فَاَمْسِكُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ فَارِقُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ …:} یعنی جب عورتوں کی عدت ختم ہونے کے قریب ہو، صرف اتنی باقی ہو جس میں ان سے رجوع ہو سکتا ہو تو انھیں معروف (اچھے طریقے) کے ساتھ روک لو یا معروف کے ساتھ ان سے جدا ہو جاؤ۔ معروف کے ساتھ روکنے کا مطلب یہ ہے کہ آئندہ اچھے طریقے سے ان کے ساتھ رہنے کی نیت سے ان سے رجوع کر کے حسب سابق بیوی بنا کر رکھ لو اور اس رجوع پر گواہ بناؤ اور معروف طریقے سے جدا ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ان سے رجوع نہ کرو بلکہ انھیں ان کے حال پر رہنے دو، تاکہ عدت ختم ہو جائے اور وہ خود بخود تم سے جدا ہو جائیں، پھر کسی لڑائی جھگڑے یا برا بھلا کہنے کے بغیر انھیں رخصت کر دو۔ اس میں اچھائی یہ ہے کہ اگرچہ عدت گزرنے کی وجہ سے وہ آزاد ہیں کہ جس مرد سے چاہیں شادی کر لیں، مگر انھیں پہلے خاوندوں سے شادی کا بھی اختیار ہے۔ ➌ سورۂ بقرہ میں اور یہاں پہلی یا دوسری طلاق کے بعد دو ہی صورتیں بیان فرمائی ہیں، ایک یہ کہ عدت ختم ہونے سے پہلے رجوع کر لو، دوسری یہ کہ اچھے طریقے سے چھوڑ دو، یعنی رجوع نہ کرو بلکہ عدت ختم ہونے دو اور اچھے طریقے سے جدا ہو جاؤ، عدت ختم ہونے سے پہلے دوسری یا تیسری طلاق دینے کا حکم نہیں دیا۔ جس عورت کو حیض آتا ہو اس کے لیے طلاقِ سنت یہی ہے۔ بعض حضرات طلاق کا سنت طریقہ یہ بیان کرتے ہیں کہ جب عورت حیض سے پاک ہو تو جماع کے بغیر اسے ایک طلاق دو، اگلے طہر میں دوسری طلاق دو اور تیسرے طہر میں تیسری طلاق دو، حالانکہ یہ ہرگز طلاقِ سنت نہیں ہے۔ یہ طلاقِ سنت کیسے ہو سکتی ہے جب کہ ابھی پہلی طلاق کی عدت جاری ہے، نہ وہ آخر کو پہنچی ہے نہ اس سے رجوع ہوا ہے، تو دوسری اور تیسری طلاق کا کیا مطلب؟ پھر اس میں بلا ضرورت عورت کو ہمیشہ کے لیے حرام کرنے کی تلقین کی گئی ہے جو شریعت کے مقصد ہی کے خلاف ہے۔ طلاق سنت صرف دو ہی ہیں، ایک وہ جو آیت میں مذکور ہے اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ عورت حیض سے پاک ہو تو جماع کے بغیر اسے طلاق دی جائے، پھر اگر اسے بسانے کی نیت ہو تو عدت ختم ہونے سے پہلے رجوع کر لے، یا عدت ختم ہو جانے دے، جس سے وہ خود بخود جدا ہو جائے گی۔ طلاقِ سنت کی دوسری صورت یہ ہے کہ حمل کی حالت میں طلاق دے، پھر وضع حمل سے پہلے یا تو رجوع کرلے یا عدت ختم ہونے پر علیحدگی اختیار کرلے۔ ہر طہر میں طلاق کو سنت قرار دینے والے دلیل میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول بیان کرتے ہیں، سنن نسائی میں ہے: [ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَی بْنِ أَيُّوْبَ قَالَ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِيْ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ أَنَّهُ قَالَ طَلاَقُ السُّنَّةِ تَطْلِيْقَةٌ وَهِيَ طَاهِرٌ فِيْ غَيْرِ جِمَاعٍ فَإِذَا حَاضَتْ وَطَهُرَتْ طَلَّقَهَا أُخْرٰی فَإِذَا حَاضَتْ وَطَهُرَتْ طَلَّقَهَا أُخْرٰی ثُمَّ تَعْتَدُّ بَعْدَ ذٰلِكَ بِحَيْضَةٍ ] [ نسائي، الطلاق، باب طلاق السنۃ: ۳۴۲۳ ] ”عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”طلاق سنت یہ ہے کہ عورت کو طہر کی حالت میں جماع کے بغیر ایک طلاق دے، پھر جب اسے حیض آئے اور وہ پاک ہو تو اسے دوسری طلاق دے، پھر جب اسے حیض آئے اور وہ پاک ہو تو اسے تیسری طلاق دے، پھر اس کے بعد ایک حیض عدت گزارے۔“ مگر اس روایت میں طلاقِ سنت کی جو تفصیل آئی ہے درست نہیں، کیونکہ یہ قرآن کی آیت کے خلاف ہے اور خود عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے طلاق کا طریقہ آیت کے مطابق اس سند سے بہتر سند کے ساتھ ثابت ہے۔ ابن ابی شیبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: [ حَدَّثَنَا وَكِيْعٌ، عَنْ إِسْرَائِيْلَ، عَنْ أَبِيْ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ قَالَ مَنْ أَرَادَ الطَّلاَقَ الَّذِيْ هُوَ الطَّلاَقُ فَلْيُطَلِّقْهَا تَطْلِيْقَةً، ثُمَّ يَدَعُهَا حَتّٰی تَحِيْضَ ثَلاَثَ حِيَضٍ ] [مصنف ابن أبي شیبۃ، الطلاق، باب ما یستحب من طلاق السنۃ: 4/5، ح: ۱۸۰۳۶ ] ”عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جو شخص طلاق دینا چاہے، جو اصل طلاق ہے، وہ عورت کو ایک طلاق دے، پھر اسے اس کے حال پر چھوڑ دے یہاں تک کہ اسے تین حیض آ جائیں۔“ واضح رہے کہ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی دونوں روایتوں کی سند ابو اسحاق سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تک ایک ہی ہے، پھر نسائی کی روایت میں ابو اسحاق سے بیان کرنے والے اعمش ہیں جو مشہور مدلس ہیں، جب کہ ابن ابی شیبہ کی سند میں ابو اسحاق سے بیان کرنے والے ان کے پوتے اسرائیل بن یونس بن اسحاق ہیں جن کے متعلق ابو حاتم نے فرمایا: {”هُوَ مِنْ أَتْقَنِ أَصْحَابِ أَبِيْ إِسْحَاقَ“} ”وہ ابو اسحاق کے سب سے پختہ شاگردوں میں سے ہیں۔“ یاد رہے کہ اسرائیل پر تدلیس کی تہمت بھی نہیں، اس لیے انھی کی روایت معتبر ہوگی۔ نسائی میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے طلاقِ سنت کی جو تعریف اعمش نے روایت کی ہے وہ صحیح نہیں۔ ➍ { وَ اَشْهِدُوْا ذَوَيْ عَدْلٍ مِّنْكُمْ:} یعنی جب رجوع کا ارادہ کرو تو دو صاحب عدل آدمی گواہ بنا لو، تاکہ بعد میں کسی قسم کے جھگڑے کا یا گناہ میں مبتلا ہونے کا خطرہ باقی نہ رہے۔ مثلاً اگر خاوند نے رجوع کر لیا ہو مگر گواہ نہ بنائے ہوں اور فوت ہو جائے تو اس کے وارث اس کی بیوی کو اس کی میراث سے یہ کہہ کر محروم کر سکتے ہیں کہ تمھیں تو طلاق ہو چکی تھی اور رجوع کا کوئی گواہ نہیں، اس لیے تم نہ اس کی بیوی رہی ہو اور نہ میراث میں تمھارا حق ہے۔ اسی طرح اگر خاوند گواہوں کے بغیر رجوع کر لے اور عورت اللہ سے نہ ڈرتی ہو اور کہیں اور نکاح کرنا چاہتی ہو تو عدت ختم ہونے پر کہہ سکتی ہے کہ خاوند نے مجھ سے رجوع نہیں کیا، اب میں آزاد ہوں اور جہاں چاہوں نکاح کروں۔ اسی طرح اگر گواہی کی شرط نہ ہو تو عدت ختم ہونے کے بعد بھی خاوند دعویٰ کر سکتا ہے کہ میں نے عدت ختم ہونے سے پہلے رجوع کر لیا تھا۔ رجوع کی طرح عدت کے خاتمے پر ایک دوسرے سے علیحدگی کی صورت میں بھی گواہ بنانے کا حکم ہے، تاکہ اس طرح کی قباحتوں میں سے کوئی قباحت پیدا نہ ہو جن کا اوپر ذکر ہوا۔ واضح رہے کہ سنت یہی ہے کہ طلاق اور رجوع دونوں پر گواہ بنائے جائیں، مطرف بن عبداللہ کہتے ہیں: [ أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ سُئِلَ عَنِ الرَّجُلِ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ ثُمَّ يَقَعُ بِهَا وَلَمْ يُشْهِدْ عَلٰی طَلاَقِهَا وَلاَ عَلٰی رَجْعَتِهَا فَقَالَ طَلَّقْتَ لِغَيْرِ سُنَّةٍ وَرَاجَعْتَ لِغَيْرِ سُنَّةٍ أَشْهِدْ عَلٰی طَلاَقِهَا وَعَلٰی رَجْعَتِهَا وَلاَ تَعُدْ ] [أبو داوٗد، الطلاق، باب الرجل یراجع ولایشھد: ۲۱۸۶ ] ”عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے اس آدمی کے بارے میں سوال کیا گیا جو اپنی بیوی کو طلاق دے دیتا ہے پھر اس سے جماع کر لیتا ہے، لیکن نہ اس نے اس کی طلاق پر کوئی گواہ بنایا ہے اور نہ اس کے رجوع پر؟ تو انھوں نے فرمایا: ”تم نے سنت کے خلاف طلاق دی اور سنت کے خلاف ہی رجوع کیا۔ اس کی طلاق پر گواہ بناؤ اور اس کے رجوع پر بھی گواہ بناؤ اور دوبارہ ایسا نہ کرنا۔“ ➎ { وَ اَقِيْمُوا الشَّهَادَةَ لِلّٰهِ:} یہ گواہوں کو حکم ہے کہ اللہ کی رضا کے لیے شہادت دو۔ یہ حکم اس لیے دیا کہ گواہی دینے میں آدمی کو کئی مشکلات درپیش ہوتی ہیں، اسے اپنے نہایت اہم کام ترک کرنا پڑتے ہیں، حاکم کے پاس حاضری دینا پڑتی ہے اور بعض اوقات دور دراز سے آنا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ کئی لوگوں کی ناراضی کا خطرہ مول لینا پڑتا ہے اور کئی اور موانع بھی ہوتے ہیں، صرف اللہ کی رضا ایسی چیز ہے جس کی خاطر آدمی ہر مشقت برداشت کرتے ہوئے شہادت دیتا ہے اور سچی شہادت دیتا ہے۔ ➏ { ذٰلِكُمْ يُوْعَظُ بِهٖ …:} بعض حضرات نے یہاں یہ نکتہ بیان فرمایا ہے کہ اوپر طلاق کا وقت مقرر کرنے یا اس کا شمار کرنے، عدت کے دوران گھر سے نہ نکالنے، عدت ختم ہونے سے پہلے رجوع کر لینے یا علیحدگی اختیار کرنے اور گواہ بنانے کے جو احکام دیے گئے ہیں ان کی حیثیت وعظ و نصیحت کی ہے، قانون کی نہیں۔ ان حضرات کی یہ بات درست نہیں، حقیقت یہ ہے کہ یہ احکام بھی قانون کی حیثیت رکھتے ہیں، طلاق یا رجوع یا جو بھی عمل ان کے خلاف ہوگا اس کا کچھ اعتبار نہیں، مثلاً کوئی شخص عدت کا شمار ہی نہیں کرتا تو اس کا رجوع یا فراق کیسے معتبر ہو سکتا ہے؟ ہاں اگر کسی دوسری دلیل سے ثابت ہو جائے کہ ان میں سے فلاں حکم استحباب کے لیے ہے تو الگ بات ہے۔ قرآن مجید کی اصطلاح میں وعظ کا لفظ نہایت تاکید والے احکام کے لیے آتا ہے، جن کے قانون ہونے میں کسی کا اختلاف نہیں۔ دیکھیے سورۂ مجادلہ (۳)، بقرہ (۲۳۱)، نحل (۹۰) اور نور (۱۷)۔ ➐ { وَ مَنْ يَّتَّقِ اللّٰهَ يَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًا:} میاں بیوی کے باہمی معاملات کو ان کے سوا یا اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا، اگر ان میں سے کوئی ظلم، زیادتی یا خیانت کے بعد غلط بیانی پر اتر آئے تو دنیا میں اسے کوئی جھٹلا نہیں سکتا، صرف اللہ تعالیٰ کا ڈر ہی ایسی چیز ہے جو انھیں ہر قسم کے گناہ سے باز رکھ سکتا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ہر معاملے کی طرح نکاح و طلاق کے معاملے میں بھی اپنے تقویٰ کی تاکید فرمائی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکاح کے موقع پر جو تین آیات پڑھتے تھے ان تینوں میں تقویٰ کی تاکید فرمائی ہے۔ یہاں اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ گھریلو جھگڑوں میں آدمی اپنے آپ کو حق پر ثابت کرنے کے لیے غلط کام یا غلط بات کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اس طرح میرے مسائل حل ہو جائیں گے اور اگر میں اللہ سے ڈر کر صحیح کام کروں گا یا صحیح بات کروں گا تو پھنس جاؤں گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آسان یا مشکل ہر موقع پر تم اللہ سے ڈرتے رہو اور وہی کام کرو جو اس کے تقویٰ کا تقاضا ہے۔ پھنسنے سے مت گھبراؤ، جو بھی اللہ سے ڈرے گا اللہ تعالیٰ اس کے لیے نکلنے کا راستہ بنا دے گا اور تقویٰ اختیار کرنے میں اگر کوئی نقصان ہوتا ہے، بیوی ساتھ نہیں رہتی یا مال کا نقصان ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی تلافی کے لیے اس سے بھی بہتر چیز وہاں سے دے گا جہاں سے اس کا گمان بھی نہیں ہوگا۔ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے بگڑے ہوئے معاملات کو درست کرنے کے لیے چالاکی اختیار کرنے اور جھوٹ فریب سے اپنے آپ کو حق پر ثابت کرنے کے بجائے اللہ سے ڈرنے اور سیدھی اور صاف بات کہنے کا حکم دیا اور اس پر تمام بگڑے ہوئے معاملات کو درست کر دینے اور گزشتہ غلطیوں پر پردہ ڈال دینے کا وعدہ کیا، فرمایا: «‏‏‏‏يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ قُوْلُوْا قَوْلًا سَدِيْدًا (70) يُّصْلِحْ لَكُمْ اَعْمَالَكُمْ وَ يَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ وَ مَنْ يُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيْمًا» ‏‏‏‏ [ الأحزاب: 71،10 ] ”اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ سے ڈرو اور بالکل سیدھی بات کہو۔ وہ تمھارے لیے تمھارے اعمال درست کر دے گا اور تمھارے لیے تمھارے گناہ بخش دے گا اور جو اللہ اور اس کے رسول کی فرماں برداری کرے تو یقینا اس نے کامیابی حاصل کرلی، بہت بڑی کامیابی۔“ ➑ {” وَ مَنْ يَّتَّقِ اللّٰهَ يَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًا (2) وَّ يَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ “} کی جو تفسیر اوپر کی گئی ہے وہ اس مقام کی مناسبت سے ہے، ورنہ آیت کے الفاظ عام ہیں۔ اس لیے صرف نکاح و طلاق ہی نہیں، کسی مسئلے میں بھی جو شخص اللہ سے ڈرے گا اور مشکل سے مشکل حالات میں بھی اس کی نافرمانی سے بچے گا اللہ تعالیٰ جلدی یا دیر سے اس کے لیے نکلنے کا راستہ ضرور نکال دے گا اور اسے وہاں سے رزق دے گا جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوگا۔ اسی طرح جو اللہ سے ڈرتا رہے گا اللہ تعالیٰ اس کے لیے دنیا کے غم، آخرت کی فکر اور موت اور قیامت کی سختیوں سے نکلنے کا راستہ بھی بنا دے گا۔ ➒ ابن کثیر نے ابن ابی حاتم کے حوالے سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول ذکر کیا ہے کہ انھوں نے فرمایا: [ إِنَّ أَجْمَعَ آيَةٍ فِي الْقُرْآنِ: «‏‏‏‏اِنَّ اللّٰهَ يَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَ الْاِحْسَانِ» [النحل: ۹۰ ] وَإِنَّ أَكْبَرَ آيَةٍ فِي الْقُرْآنِ فَرَجًا: «‏‏‏‏وَ مَنْ يَّتَّقِ اللّٰهَ يَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًا» ‏‏‏‏ [الطلاق: ۲ ] ] ”قرآن کی سب سے جامع آیت {” اِنَّ اللّٰهَ يَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَ الْاِحْسَانِ “} ہے اور قرآن کی مشکل سے نکلنے کی سب سے بڑی آیت {” وَ مَنْ يَّتَّقِ اللّٰهَ يَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًا “} ہے۔“ ابن کثیر کے محقق حکمت بن بشیر نے فرمایا کہ اس کی سند جید ہے۔ ➓ واضح رہے کہ اس مقام پر ابن کثیر نے مالک بن اشجعی رضی اللہ عنہ کے بیٹے عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کا واقعہ ذکر کیا ہے جو دشمن کے ہاتھوں گرفتار ہو گیا اور انھوں نے اسے باندھ رکھا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی طرف پیغام بھیجو کہ وہ {”لاَحَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِاللّٰهِ“} کثرت سے پڑھے، جس کے نتیجے میں اس کی ہتھکڑیاں گر گئیں اور وہ دشمن کے اونٹ سمیٹ کر خیریت سے واپس آگیا۔ اس پر یہ آیت اتری: «‏‏‏‏وَ مَنْ يَّتَّقِ اللّٰهَ يَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًا (2) وَّ يَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ» ‏‏‏‏ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور قدرت کے لحاظ سے ایسا ہونا کچھ مشکل نہیں، مگر تفسیر ابن کثیر کے محقق حکمت بن بشیر نے لکھا ہے کہ اس کی سب سندیں مرسل یا منقطع ہونے کی وجہ سے ضعیف ہیں۔
وَّ یَرۡزُقۡہُ مِنۡ حَیۡثُ لَا یَحۡتَسِبُ ؕ وَ مَنۡ یَّتَوَکَّلۡ عَلَی اللّٰہِ فَہُوَ حَسۡبُہٗ ؕ اِنَّ اللّٰہَ بَالِغُ اَمۡرِہٖ ؕ قَدۡ جَعَلَ اللّٰہُ لِکُلِّ شَیۡءٍ قَدۡرًا ﴿۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور اسے ایسے راستے سے رزق دے گا جدھر اُس کا گمان بھی نہ جاتا ہو جو اللہ پر بھروسا کرے اس کے لیے وہ کافی ہے اللہ اپنا کام پورا کر کے رہتا ہے اللہ نے ہر چیز کے لیے ایک تقدیر مقرر کر رکھی ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اسے ایسی جگہ سے روزی دیتا ہے جس کا اسے گمان بھی نہ ہو اور جو شخص اللہ پر توکل کرے گا اللہ اسے کافی ہوگا۔ اللہ تعالیٰ اپنا کام پورا کرکے ہی رہے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کا ایک اندازه مقرر کر رکھا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور اسے وہاں سے روزی دے گا جہاں اس کا گمان نہ ہو، اور جو اللہ پر بھروسہ کرے تو وہ اسے کافی ہے بیشک اللہ اپنا کام پورا کرنے والا ہے، بیشک اللہ نے ہر چیز کا ایک اندازہ رکھا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور اسے وہاں سے رزق دیتا ہے جہاں سے اسے سان گمان بھی نہیں ہوتا ہے اور جو کوئی اللہ پر بھروسہ کرتا ہے وہ (اللہ) اس کے لئے کافی ہے بےشک اللہ اپنا کام پورا کرنے والا ہے اور اللہ نے ہر چیز کیلئے ایک اندازہ مقرر کر رکھا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اسے رزق دے گا جہاں سے وہ گمان نہیں کرتا اور جو کوئی اللہ پر بھروسا کرے تو وہ اسے کافی ہے، بے شک اللہ اپنے کام کو پورا کرنے والا ہے، یقینا اللہ نے ہر چیز کے لیے ایک اندازہ مقرر کیا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عائلی قوانین ٭٭

ارشاد ہوتا ہے کہ ’ عدت والی عورتوں کی عدت جب پوری ہونے کے قریب پہنچ جائے تو ان کے خاوندوں کو چاہیئے کہ دو باتوں میں سے ایک کر لیں یا تو انہیں بھلائی اور سلوک کے ساتھ اپنے ہی نکاح میں روک رکھیں یعنی طلاق جو دی تھی اس سے رجوع کر کے باقاعدہ اس کے ساتھ بود و باش رکھیں یا انہیں طلاق دے دیں، لیکن برا بھلا کہے بغیر، گالی گلوچ دیئے بغیر، سرزنش اور ڈانٹ ڈپٹ بغیر، بھلائی اچھائی اور خوبصورتی کے ساتھ ‘۔ (‏‏‏‏یہ یاد رہے کہ رجعت کا اختیار اس وقت ہے جب ایک طلاق ہوئی ہو یا دو ہوئی ہوں)۔ پھر فرمایا ہے ’ اگر رجعت کا ارادہ ہو اور رجعت کرو، یعنی لوٹا لو تو اس پر دو عادل مسلمان گواہ رکھ لو ‘۔ ابوداؤد اور اور ابن ماجہ میں ہے کہ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا کہ ایک شخص اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہے پھر اس سے جماع کرتا ہے نہ طلاق پر گواہ رکھتا ہے نہ رجعت پر تو آپ نے فرمایا ”اس نے خلاف سنت طلاق دی اور خلاف سنت رجوع کیا، طلاق پر بھی گواہ رکھنا چاہیئے اور رجعت پر بھی، اب دوبارہ ایسا نہ کرنا۔‏‏‏‏“ ۱؎ [سنن ابوداود:2186،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ عطاء رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”نکاح، رجعت بغیر دو عادل گواہوں کے جائز نہیں، جیسے فرمان اللہ ہے ہاں مجبوی ہو تو اور بات ہے۔‏‏‏‏“ پھر فرماتا ہے ’ گواہ مقرر کرنے اور سچی شہادت دینے کا حکم انہیں ہو رہا ہے، جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہوں، اللہ کی شریعت کے پابند اور عذاب آخرت سے ڈرنے والے ہوں ‘۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”رجعت پر گواہ رکھنا واجب ہے“، گو آپ رحمہ اللہ سے ایک دوسرا قول بھی مروی ہے، اسی طرح نکاح پر گواہ رکھنا بھی آپ واجب بتاتے ہیں۔ ایک اور جماعت کا بھی یہی قول ہے، اس مسئلہ کو ماننے والی علماء کرام کی جماعت یہ بھی کہتی ہے کہ رجعت زبانی کہے بغیر ثابت نہیں ہوتی کیونکہ گواہ رکھنا ضروری ہے اور جب تک زبان سے نہ کہے گواہ کیسے مقرر کئے جائیں گے۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ جو شخص احکام اللہ بجا لائے اس کی حرام کردہ چیزوں سے پرہیز کرے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے مخلصی پیدا کر دیتا ہے ایک اور جگہ ہے اس طرح رزق پہنچاتا ہے کہ اس کے خواب و خیال میں بھی نہ ہو ‘۔

مسند احمد میں ہے { سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک مرتبہ میرے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی پھر فرمایا: ”اے ابوذر! اگر تمام لوگ صرف اسے ہی لے لیں تو کافی ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے باربار اس کی تلاوت شروع کی یہاں تک کہ مجھے اونگھ آنے لگی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوذر! تم کیا کرو گے جب تمہیں مدینہ سے نکال دیا جائے گا؟“ جواب دیا کہ میں اور کشادگی اور رحمت کی طرف چلا جاؤں گا، یعنی مکہ شریف کو، وہیں کا کبوتر بن کر رہ جاؤں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر کیا کرو گے، جب تمہیں وہاں سے بھی نکالا جائے؟“ میں نے کہا: شام کی پاک زمین میں چلا جاؤ گا۔ فرمایا: ”جب شام سے نکالا جائے گا تو کیا کرے گا؟“ میں نے کہا: یا رسول اللہ! اللہ کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ پیغمبر بنا کر بھیجا ہے پھر تو اپنی تلوار اپنے کندھے پر رکھ کر مقابلہ پر اتر آؤں گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تجھے اس سے بہتر ترکیب بتاؤں؟“ میں نے کہا: ہاں، اے اللہ کے رسول! ضرور ارشاد فرمائیے، فرمایا: ”سنتا رہ اور مانتا رہ اگرچہ حبشی غلام ہو“ }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه:4220،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ ابن ابی حاتم میں ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”قرآن کریم میں بہت ہی جامع آیت «‏‏‏‏إِنَّ اللَّـهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ» ۱؎ [16-النحل:90] ‏‏‏‏ ہے اور سب سے زیادہ کشادگی کا وعدہ اس آیت «وَمَن يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا» ۱؎ [65-الطلاق:2] ‏‏‏‏، میں ہے۔‏‏‏‏“ مسند احمد میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ { جو شخص بکثرت استغفار کرتا رہے، اللہ تعالیٰ اسے ہر غم سے نجات اور ہر تنگی سے فراخی دے گا اور ایسی جگہ سے رزق پہنچائے گا جہاں کا اسے خیال و گمان تک نہ ہو }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1518،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”اسے اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت کے ہر کرب و بے چینی سے نجات دے گا۔‏‏‏‏“ ربیع رحمہ الله فرماتے ہیں ”لوگوں پر کام بھاری ہو اس پر آسان ہو جائے گا۔‏‏‏‏“ عکرمہ رحمہ الله فرماتے ہیں ”مطلب یہ ہے کہ جو شخص اپنی بیوی کو اللہ کے حکم کے مطابق طلاق دے گا اللہ اسے نکاسی اور نجات دے گا۔‏‏‏‏“ ابن مسعود رضی اللہ عنہ وغیرہ سے مروی ہے کہ ”وہ جانتا ہے کہ اللہ اگر چاہے دے اگر نہ چاہے نہ دے۔‏‏‏‏“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”تمام امور کے شبہ سے اور موت کی تکلیف سے بچا لے گا اور روزی ایسی جگہ سے دے گا جہاں کا گمان بھی نہ ہو۔‏‏‏‏“ سدی رحمہ الله فرماتے ہیں ”یہاں اللہ سے ڈرنے کے یہ معنی ہیں کہ سنت کے مطابق طلاق دے اور سنت کے مطاق رجوع کرے۔‏‏‏‏“ آپ فرماتے ہیں عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے کو کفار گرفتار کر کے لے گئے اور انہیں جیل خانہ میں ڈال دیا ان کے والد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اکثر آتے اور اپنے بیٹے کی حالت اور حاجت مصیبت اور تکلیف بیان کرتے رہتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں صبر کرنے کی تلقین کرتے اور فرماتے ”عنقریب اللہ تعالیٰ ان کے چھٹکارے کی سبیل بنا دے گا“، تھوڑے ہی دن گزرے ہوں گے کہ ان کے بیٹے دشمنوں میں سے نکل بھاگے، راستہ میں دشمنوں کی بکریوں کا ریوڑ مل گیا جسے اپنے ساتھ ہنکا لائے اور بکریاں لیے ہوئے اپنے والد کی خدمت میں جا پہنچے پس یہ آیت اتری کہ ’ متقی بندوں کو اللہ نجات دے دیتا ہے اور اس کا گمان بھی نہ ہو وہاں سے اسے روزی پہنچاتا ہے ‘۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:34287] ‏‏‏‏

مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ گناہ کی وجہ سے انسان اپنی روزی سے محروم ہو جاتا ہے، تقدیر کو لوٹانے والی چیز صرف دعا ہے، عمر میں زیادتی کرنے والی چیز صرف نیکی اور خوش سلوکی ہے }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:4022،قال الشيخ الألباني:حسن دون الجملة] ‏‏‏‏ سیرت ابن اسحاق میں ہے کہ { سیدنا مالک بن اشجعی رضی اللہ عنہ کے لڑکے عوف رضی اللہ عنہ جب کافروں کی قید میں تھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان سے کہلوا دو کہ بکثرت «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاﷲِ» پڑھتا رہے“، ایک دن اچانک بیٹھے بیٹھے ان کی قید کھل گئی اور یہ وہاں سے نکل بھاگے اور ان لوگوں کی ایک اونٹنی ہاتھ لگ گئی جس پر سوار ہو لیے راستے میں ان کے اونٹوں کے ریوڑ ملے انہیں بھی اپنے ساتھ ہنکا لائے، وہ لوگ پیچھے دوڑے لیکن یہ کسی کے ہاتھ نہ لگے، سیدھے اپنے گھر آئے اور دروازے پر کھڑے ہو کر آواز دی، باپ نے آواز سن کر فرمایا: اللہ کی قسم! یہ تو عوف ہے، ماں نے کہا: ہائے، وہ کہاں، وہ تو قید و بند کی مصیبتیں جھیل رہا ہو گا۔ اب دونوں ماں باپ اور خادم دروازے کی طرف دوڑے، دروازہ کھولا تو ان کے لڑکے عوف رضی اللہ عنہ ہیں اور تمام انگنائی اونٹوں سے بھری پڑی ہے پوچھا کہ یہ اونٹ کیسے ہیں، انہوں نے واقعہ بیان فرمایا کہا اچھا ٹھہرو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی بابت مسئلہ دریافت کر آؤں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ سب تمہارا مال ہے، جو چاہو کرو“ اور یہ آیت اتری کہ اللہ سے ڈرنے والوں کی مشکل اللہ آسان کرتا ہے اور بےگمان روزی پہنچاتا ہے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:34288:مرسل] ‏‏‏‏

جو اللہ کا، اللہ اس کا ٭٭

ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے { جو شخص ہر طرف سے کھچ کر اللہ کا ہو جائے، اللہ اس کی ہر مشکل میں اسے کفایت کرتا ہے اور بے گمان روزیاں دیتا ہے اور جو اللہ سے ہٹ کر دنیا ہی کا ہو جائے اللہ بھی اسے اسی کے حوالے کر دیتا ہے }۔ ۱؎ [طبرانی صغیر:321:ضعیف] ‏‏‏‏

مسند احمد میں ہے کہ { ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کی سواری پر آپ کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بچے! میں تمہیں چند باتیں سکھاتا ہوں سنو، تم اللہ کو یاد رکھو وہ تمہیں یاد رکھے گا، اللہ کے احکام کی حفاظت کرو تو اللہ کو اپنے پاس بلکہ اپنے سامنے پاؤ گے، جب کچھ مانگنا ہو اللہ ہی سے مانگو، جب مدد طلب کرنی ہو اسی سے مدد چاہو۔ تمام امت مل کر تمہیں نفع پہنچانا چاہے اور اللہ کو منظور نہ ہو تو ذرا سا بھی نفع نہیں پہنچا سکتی اور اسی طرح سارے کے سارے جمع ہو کر تجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہیں تو بھی نہیں پہنچا سکتے اگر تقدیر میں نہ لکھا ہو، قلمیں اٹھ چکیں اور صحیفے خشک ہو گئے۔“ } ۱؎ [سنن ترمذي:2516،قال الشيخ الألباني:حسن صحیح] ‏‏‏‏ ترمذی میں بھی یہ حدیث ہے، امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن صحیح کہتے ہیں۔ مسند احمد کی اور حدیث میں ہے { جسے کوئی حاجت ہو اور وہ لوگوں کی طرف لے جائے تو بہت ممکن ہے کہ وہ سختی میں پڑ جائے اور کام مشکل ہو جائے اور جو اپنی حاجت اللہ کی طرف لے جائے اللہ تعالیٰ ضرور اس کی مراد پوری کرتا ہے یا تو جلدی اسی دنیا میں ہی یا دیر کے ساتھ موت کے بعد }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1645،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ’ اللہ تعالیٰ اپنے قضاء اور احکام جس طرح اور جیسے چاہے اپنی مخلوق میں پورے کرنے والا اور اچھی طرح جاری کرنے والا ہے، ہر چیز کا اس نے اندازہ مقرر کیا ہوا ہے ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «اللَّـهُ يَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ أُنثَىٰ وَمَا تَغِيضُ الْأَرْحَامُ وَمَا تَزْدَادُ وَكُلُّ شَيْءٍ عِندَهُ بِمِقْدَارٍ» ۱؎ [13-الرعد:8] ‏‏‏‏ ’ ہر چیز اس کے پاس ایک اندازے سے ہے ‘۔
3۔ 1 یعنی وہ جو چاہے۔ اسے کوئی روکنے والا نہیں۔ 3۔ 2 تنگیوں کے لئے بھی اور آسانیوں کے لئے بھی۔ یہ دونوں اپنے وقت پر انتہا پذیر ہوجاتے ہیں۔ بعض نے اس سے حیض اور عدت مراد لی ہے۔
(آیت 3) ➊ {وَ يَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ:} مفسر عبدالرحمن کیلانی لکھتے ہیں: ”اس مقام پر رزق کا ذکر اس لیے کیا گیا کہ انسان دوران عدت مطلقہ عورت پر خرچ کرنے اور اس کو بھلے طریقے سے رخصت کرنے میں بخل سے کام نہ لے، بلکہ اس سے جتنا بہتر سلوک کر سکتا ہے کرے۔ نیز بعض دفعہ صورت حال یہ ہوتی ہے کہ میاں بیوی کی آپس میں ٹھنی رہتی ہے، مگر عورت صاحب جائداد ہوتی ہے یا اچھا کما سکتی ہے تو خاوند اس کو چھوڑنے ہی پر آمادہ نہیں ہوتا، مگر اس سے اچھا سلوک کرنے میں بھی ناکام ثابت ہوتا ہے، لہٰذا وہ عورت کو اپنے ہاں لٹکائے رکھتا ہے۔ ایسی سب صورتوں میں اللہ سے ڈرتے ہوئے وہی کام کرنا چاہیے جو اللہ کا حکم ہو، تنگ دستی سے نہیں ڈرنا چاہیے، کیونکہ اللہ کا وعدہ ہے کہ جو شخص اللہ پر بھروسا کرتے ہوئے اس سے ڈر کر اسی کے حکم کے مطابق چلے گا تو اس کی تنگدستی کو دور کرنا اللہ کے ذمے ہے، وہ اس کو ایسی جگہ سے رزق پہنچانے کا انتظام فرما دے گا جو پہلے اس کے وہم و گمان میں بھی نہ تھی۔“ (تیسیر القرآن) ➋ { وَ مَنْ يَّتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ فَهُوَ حَسْبُهٗ …:} یعنی جو شخص غلط کام سے بچتے ہوئے حق پر قائم رہے اور اپنا معاملہ اور نفع و نقصان اللہ کے سپرد کر دے تو اللہ تعالیٰ اسے کافی ہو جائے گا، کیونکہ ہر قسم کے ظاہری اور باطنی اسباب اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں، جب کہ انسان کی نظر صرف چند ظاہری اسباب تک محدود ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ جس طرح چاہے اپنے ڈرنے والے کے لیے پریشانیوں سے نجات کی راہ پیدا کر سکتا ہے اور وہ پریشانی اور تنگدستی دور کرنے کے لیے نئے اسباب بھی پیدا فرما سکتا ہے اور اسباب کے بغیر بھی جو چاہے کر سکتا ہے، کیونکہ اس کی قدرت اسباب کی پابند نہیں بلکہ اسباب اس کی مشیت کے تابع ہیں۔ وہ ظاہری اسباب سے بھی ایسے نتائج ظاہر کر سکتا ہے جو انسانی عقل کے برعکس ہوں، وہ نہ چاہے تو مجرب دوا بھی شفا کے بجائے بیماری کا باعث بن جاتی ہے اور چاہے تو مضر صحت چیز شفا کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ ➌ { قَدْ جَعَلَ اللّٰهُ لِكُلِّ شَيْءٍ قَدْرًا:} یعنی اگر کسی شخص کو اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کے باوجود نکلنے کی راہ نہیں ملی اور نہ ہی اللہ پر توکل کے باوجود اس کی پریشانی دور ہوئی ہے تو اسے گھبرانا نہیں چاہیے بلکہ صبر اور حوصلے کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور کشادگی کا منتظر رہنا چاہیے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا اسے ہر حال میں پورا کرنے والا ہے، مگر اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کا ایک اندازہ اور وقت اپنے کامل علم کے ساتھ شروع سے مقرر فرمایا ہے، اس مقرر وقت پر اس کا توکل کرنے والوں کے لیے کافی ہو جانے کا وعدہ ضرور پورا ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ تقدیر پر ایمان ہی انسان کو مشکلات میں صبر اور حوصلہ دلاتا ہے، فرمایا: «قُلْ لَّنْ يُّصِيْبَنَاۤ اِلَّا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَنَا هُوَ مَوْلٰىنَا وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ» ‏‏‏‏ [ التوبۃ: ۵۱ ] ”کہہ دے ہمیں ہرگز نہیں پہنچے گا مگر وہی جو اللہ نے ہمارے لیے لکھ دیا، وہی ہمارا مالک ہے اور اللہ ہی پر پس لازم ہے کہ ایمان والے بھروسا کریں۔“ مزید دیکھیے سورۂ قمر (۴۹)، فرقان (۲)، رعد (۸) اور سورۂ حجر (۲۱)۔
وَ الِّٰٓیۡٔ یَئِسۡنَ مِنَ الۡمَحِیۡضِ مِنۡ نِّسَآئِکُمۡ اِنِ ارۡتَبۡتُمۡ فَعِدَّتُہُنَّ ثَلٰثَۃُ اَشۡہُرٍ ۙ وَّ الِّٰٓیۡٔ لَمۡ یَحِضۡنَ ؕ وَ اُولَاتُ الۡاَحۡمَالِ اَجَلُہُنَّ اَنۡ یَّضَعۡنَ حَمۡلَہُنَّ ؕ وَ مَنۡ یَّتَّقِ اللّٰہَ یَجۡعَلۡ لَّہٗ مِنۡ اَمۡرِہٖ یُسۡرًا ﴿۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور تمہاری عورتوں میں سے جو حیض سے مایوس ہو چکی ہوں ان کے معاملہ میں اگر تم لوگوں کو کوئی شک لاحق ہے تو (تمہیں معلوم ہو کہ) ان کی عدت تین مہینے ہے اور یہی حکم اُن کا ہے جنہیں ابھی حیض نہ آیا ہو اور حاملہ عورتوں کی عدت کی حد یہ ہے کہ اُن کا وضع حمل ہو جائے جو شخص اللہ سے ڈرے اُس کے معاملہ میں وہ سہولت پیدا کر دیتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
تمہاری عورتوں میں سے جو عورتیں حیض سے ناامید ہو گئی ہوں، اگر تمہیں شبہ ہو تو ان کی عدت تین مہینے ہے اور ان کی بھی جنہیں حیض آنا شروع ہی نہ ہوا ہو اور حاملہ عورتوں کی عدت ان کے وضع حمل ہے اور جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرے گا اللہ اس کے (ہر) کام میں آسانی کر دے گا
احمد رضا خان بریلوی
اور تمہاری عورتوں میں جنہیں حیض کی امید نہ رہی اگر تمہیں کچھ شک ہو تو ان کی عدت تین مہینے ہے اور ان کی جنہیں ابھی حیض نہ آیا اور حمل والیوں کی میعاد یہ ہے کہ وہ اپنا حمل جَن لیں اور جو اللہ سے ڈرے اللہ اس کے کام میں آسانی فرمادے گا،
علامہ محمد حسین نجفی
اور تمہاری (مطلقہ) عورتوں میں سے جو حیض سے مایوس ہو چکی ہوں اگر ان کے بارے میں تمہیں کوئی شک ہو تو ان کی عدت تین ماہ ہے اور یہی حکم ان عورتوں کا ہے جنہیں (باوجود حیض کے سن و سال میں ہو نے کے کسی وجہ سے) حیض نہ آتا ہو اور حاملہ عورتوں کی میعاد وضعِ حمل ہے اور جو کوئی اللہ سے ڈرتا ہے تو اللہ اس کے معاملہ میں آسانی پیدا کر دیتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہ عورتیں جو تمھاری عورتوں میں سے حیض سے ناامید ہو چکی ہیں، اگر تم شک کرو تو ان کی عدت تین ماہ ہے اور ان کی بھی جنھیں حیض نہیں آیا اور جو حمل والی ہیں ان کی عدت یہ ہے کہ وہ اپنا حمل وضع کر دیں اور جو کوئی اللہ سے ڈرے گا وہ اس کے لیے اس کے کام میں آسانی پیدا کر دے گا ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مسائل عدت ٭٭

جن بڑھیا عورتوں کی اپنی بڑی عمر کی وجہ سے ایام بند ہو گئے ہوں یہاں ان کی عدت بتائی جاتی ہے کہ تین مہینے کی عدت گزاریں، جیسے کہ ایام والی عورتوں کی عدت تین حیض ہے۔ ملاحظہ ہو سورۃ البقرہ کی آیت «وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا» ۱؎ [2-البقرة:234] ‏‏‏‏ ’ تم میں سے جو لوگ فوت ہو جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں، وه عورتیں اپنے آپ کو چار مہینے اور دس (‏‏‏‏دن) عدت میں رکھیں ‘۔ اسی طرح وہ لڑکیاں جو اس عمر کو نہیں پہنچیں کہ انہیں حیض آئے، ان کی عدت بھی یہی تین مہینے رکھی، اگر تمہیں شک ہو، اس کی تفسیر میں دو قول ہیں ایک تو یہ کہ خون دیکھ لیں اور تمہیں شبہ گزرے کہ آیا حیض کا خون ہے یا استخاضہ کی بیماری کا۔

دوسرا قول یہ ہے کہ ”ان کی عدت کے حکم میں تمہیں شک باقی رہ جائے اور تم اسے نہ پہچان سکو تو تین مہینے یاد رکھو لو۔‏‏‏‏“ یہ دوسرا قول ہی زیادہ ظاہر ہے، اس کی دلیل یہ روایت بھی ہے کہ { سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا تھا یا رسول اللہ! بہت سی عورتوں کی عدت ابھی بیان نہیں ہوئی، کمسن لڑکیاں، بوڑھی بڑی عورتیں اور حمل والی عورتیں اس کے جواب میں یہ آیت اتری }۔ ۱؎ [مستدرک حاکم:392/4:منقطع ضعیف] ‏‏‏‏ پھر حاملہ کی عدت بیان فرمائی کہ ’ وضع حمل اس کی عدت ہے، گو طلاق یا خاوند کی موت کے ذرا سی دیر بعد ہی ہو جائے ‘، جیسے کہ اس آیت کریمہ کے الفاظ ہیں اور احادیث نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے اور جمہور علماء سلف و خلف کا قول ہے۔ ہاں سیدنا علی ابن طالب اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم سے مروی ہے کہ سورۃ البقرہ کی آیت اور اس آیت کو ملا کر ان کا فتویٰ یہ ہے کہ ان دونوں میں سے جو زیادہ دیر میں ختم ہو وہ عدت یہ گزارے یعنی اگر بچہ تین مہینے سے پہلے پیدا ہو گیا تو تین مہینے کی عدت ہے اور تین مہینے گزر چکے اور بچہ نہیں ہوا تو بچے کے ہونے تک عدت ہے۔‏‏‏‏“

صحیح بخاری میں سیدنا ابوسلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ { ایک شخص سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور اس وقت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی وہیں موجود تھے اس نے سوال کیا کہ اس عورت کے بارے میں آپ کا کیا فتویٰ ہے جسے اپنے خاوند کے انتقال کے بعد چالیسویں دن بچہ ہو جائے؟ آپ نے فرمایا: ”دونوں عدتوں میں سے آخری عدت اسے گزارنی پڑے گی“ یعنی اس صورت میں تین مہینے کی عدت اس پر ہے۔ ابوسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”قرآن میں تو ہے کہ حمل والیوں کی عدت بچہ کا ہو جانا ہے؟“ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں بھی اپنے چچا زاد بھائی ابوسلمہ کے ساتھ ہوں“ یعنی میرا بھی یہی فتویٰ ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اسی وقت اپنے غلام کریب کو ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا کہ جاؤ ان سے یہ مسئلہ پوچھ آؤ انہوں نے فرمایا: ”سبیعہ اسلمیہ رضی اللہ عنہا کے شوہر قتل کئے گئے اور یہ اس وقت امید سے تھیں، چالیس راتوں کے بعد بچہ ہو گیا، اسی وقت نکاح کا پیغام آیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کر دیا پیغام دینے والوں میں ابوالسنابل بھی تھے“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4909] ‏‏‏‏ یہ حدیث قدرے طوالت کے ساتھ اور کتابوں میں بھی ہے۔

{ عبداللہ بن عتبہ رحمہ اللہ نے عمر بن عبداللہ بن ارقم زہری رحمہ اللہ کو لکھا کہ وہ سبیعہ بنت حارث اسلمیہ رضی اللہ عنہا کے پاس جائیں اور ان سے ان کا واقعہ دریافت کر کے انہیں لکھ بھیجیں، یہ گئے، دریافت کیا اور لکھا کہ ان کے خاوند سعد بن خولہ رضی اللہ عنہ تھے یہ بدری صحابی تھے حجتہ الوداع میں فوت ہو گئے اس وقت یہ حمل سے تھیں، تھوڑے ہی دن کے بعد انہیں بچہ پیدا ہو گیا، جب نفاس سے پاک ہوئیں تو اچھے کپڑے پہن کر بناؤ سنگھار کر کے بیٹھ گئیں ابوالسنابل بن بعلک رضی اللہ عنہ جب ان کے پاس آئے تو انہیں اس حالت میں دیکھ کر کہنے لگے تم جو اس طرح بیٹھی ہو تو کیا نکاح کرنا چاہتی ہو، واللہ! تم نکاح نہیں کر سکتیں جب تک کہ چار مہینے دس دن نہ گزر جائیں۔ میں یہ سن کر چادر اوڑھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بچہ پیدا ہوتے ہی تم عدت سے نکل گئیں اب تمہیں اختیار ہے اگر چاہو تو اپنا نکاح کر لو“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3991] ‏‏‏‏

صحیح بخاری میں اس آیت کے تحت اس حدیث کے وارد کرنے کے بعد یہ بھی ہے کہ محمد بن سیرین رحمہ اللہ ایک مجلس میں تھے، جہاں عبدالرحمٰن بن ابو یعلیٰ بھی تھے، جن کی تعظیم تکریم ان کے ساتھی بہت ہی کیا کرتے تھے، انہوں نے حاملہ کی عدت آخری دو عدتوں کی میعاد بتائی، اس پر میں نے سبیعہ رضی اللہ عنہا والی حدیث بیان کی، اس پر میرے بعض ساتھی مجھے ٹہوکے لگانے لگے، میں نے کہا: پھر تو میں نے بڑی جرأت کی اگر عبداللہ پر میں نے بہتان باندھا حالانکہ وہ کوفہ کے کونے میں زندہ موجود ہیں، پس وہ ذرا شرما گئے اور کہنے لگے لیکن ان کے چچا تو یہ نہیں کہتے، میں ابوعطیہ مالک بن عامر سے ملا، انہوں نے مجھے سبیعہ رضی اللہ عنہا والی حدیث پوری سنائی، میں نے کہا: تم نے اس بابت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے بھی کچھ سنا ہے؟ فرمایا: یہ عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے تھے، آپ نے فرمایا: کیا تم اس پر سختی کرتے ہو اور رخصت نہیں دیتے؟ سورۃ نساء قصریٰ یعنی سورۃ الطلاق سورۃ نساء طولی کے بعد اتری ہے اور اس میں فرمان ہے کہ ’ حاملہ عورت کی عدت وضع حمل ہے ‘۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4910] ‏‏‏‏ ابن جریر میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جو «ملاعنہ» کرنا چاہے، میں اس سے «ملاعنہ» کرنے کو تیار ہوں یعنی میرے فتوے کے خلاف جس کا فتویٰ ہو میں تیار ہوں کہ وہ میرے مقابلہ میں آئے اور جھوٹے پر اللہ لعنت کرے، میرا فتویٰ یہ ہے کہ حمل والی کی عدت بچہ کا پیدا ہو جانا ہے، پہلے عام الحکم تھا کہ جن عورتوں کے خاوند مر جائیں وہ چار مہینے دس دن عدت گزاریں اس کے بعد یہ آیت نازل ہوئی کہ حمل والیوں کی عدت بچے کا پیدا ہو جانا ہے پس یہ عورتیں ان عورتوں میں سے مخصوص ہو گئیں اب مسئلہ یہی ہے کہ جس عورت کا خاوند مر جائے اور وہ حمل سے ہو تو جب حمل سے فارغ ہو جائے، عدت سے نکل گئی۔

ابن ابی حاتم کی روایت میں ہے کہ { سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ اس وقت فرمایا تھا جب انہیں معلوم ہوا کہ سیدنا علی ابن طالب رضی اللہ عنہ کا فتویٰ یہ ہے کہ اس کی عدت ان دونوں عدتوں میں سے جو آخری ہو وہ ہے۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:2307،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے کہ { ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ حمل والیوں کی عدت جو وضع حمل ہے یہ تین طلاق والیوں کی عدت ہے یا فوت شدہ خاوند والیوں کی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دونوں کی“ }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:34317:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ حدیث بہت غریب ہے بلکہ منکر ہے اس لیے کہ اس کی اسناد میں مثنی بن صباح ہے اور وہ بالکل متروک الحدیث ہے، لیکن اس کی دوسری سندیں بھی ہیں۔ پھر فرماتا ہے ’ اللہ تعالیٰ متقیوں کے لیے ہر مشکل سے آسانی اور ہر تکلیف سے راحت عنایت فرما دیتا ہے، یہ اللہ کے احکام اور اس کی پاک شریعت ہے جو اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے تمہاری طرف اتار رہا ہے اللہ سے ڈرنے والوں کو اللہ تعالیٰ اور چیزوں کے ڈر سے بچا لیتا ہے اور ان کے تھوڑے عمل پر بڑا اجر دیتا ہے ‘۔
4۔ 1 یہ ان کی عدت ہے جن کا حیض عمر رسیدہ ہونے کی وجہ سے بند ہوگیا ہو، یا جنہیں حیض آنا شروع ہی نہ ہوا ہو۔ واضح رہے کہ نادر طور پر ایسا ہوتا ہے کہ عورت سن بلوغت کو پہنچ جاتی ہے اور اسے حیض ہی نہیں آتا۔ 4۔ 2 مطلقہ اگر حاملہ ہو تو اس کی عدت وضع حمل ہے، چاہے دوسرے روز ہی وضع حمل ہوجائے، ہر حاملہ عورت کی عدت یہی ہے چاہے وہ مطلقہ ہو یا اس کا خاوند فوت ہوگیا ہو۔ احادیث سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے (صحیح بخاری) اور جن کے خاوند فوت ہوجائیں ان کی عدت چار مہینے دس دن ہے۔
(آیت 4) ➊ {وَ الّٰٓـِٔيْ يَىِٕسْنَ مِنَ الْمَحِيْضِ مِنْ نِّسَآىِٕكُمْ …: ” الّٰٓـِٔيْ”اَللَّاتِيْ“} کی طرح {”اَلَّتِيْ“} کی جمع ہے، وہ عورتیں۔ {” ارْتَبْتُمْ”رَيْبٌ“} (شک) میں سے باب افتعال ماضی مطلق معروف جمع مذکر حاضر کا صیغہ ہے، اصل میں {”اِرْتَيَبْتُمْ“} تھا۔ یعنی وہ عورتیں جو حیض سے ناامید ہو چکی ہیں اور وہ عورتیں جنھیں حیض آیا ہی نہیں، اگر انھیں دخول کے بعد طلاق ہو تو ان کی عدت تین قمری مہینے ہے، جب کہ دخول کے بغیر طلاق ہو تو ان پر کوئی عدت نہیں۔ دیکھیے سورۂ احزاب (۴۹)۔ ➋ {” اِنِ ارْتَبْتُمْ “} (اگر تمھیں شک ہو) کے تین مطلب ہو سکتے ہیں، ایک یہ کہ اگر تمھیں شک ہو کہ عدت تو حیض سے شمار ہوتی ہے اور ان عورتوں کا حیض بند ہے یا آیا ہی نہیں تو ان کی عدت کا کیا کیا جائے، تو ہم تمھیں بتاتے ہیں کہ ان کی عدت تین قمری مہینے ہے۔ ابن کثیر نے فرمایا کہ یہ سعید بن جبیر سے مروی ہے اور ابن جریر نے یہی معنی پسند فرمایا ہے اور معنی کے لحاظ سے زیادہ ظاہر یہی ہے۔ ابن جریر نے اس پر اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ کی روایت بطور دلیل ذکر فرمائی ہے کہ انھوں نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! کئی طرح کی عورتوں کی عدت کا ذکر قرآن میں نہیں آیا، یعنی چھوٹی عمر کی عورتیں، عمر رسیدہ عورتیں اور حاملہ عورتیں۔ تو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «‏‏‏‏وَ الّٰٓـِٔيْ يَىِٕسْنَ مِنَ الْمَحِيْضِ مِنْ نِّسَآىِٕكُمْ» ‏‏‏‏ ”اور وہ عورتیں جو تمھاری عورتوں میں سے حیض سے ناامید ہو چکی ہیں۔“ ابن کثیر نے اس کے علاوہ ابن ابی حاتم کی سند کے ساتھ اسی مفہوم کی مفصل روایت ذکر کی ہے، مگر تفسیر ابن کثیر کے محقق حکمت بن بشیر نے فرمایا کہ ان دونوں کی سند میں عمرو بن سالم (ابو عثمان انصاری) راوی ہے جسے تقریب میں مقبول کہا گیا ہے، یعنی اس کی متابعت ہو تو اس کی روایت قبول ہے ورنہ کمزور ہے اور یہاں اس کی متابعت نہیں کی گئی، لہٰذا اس کی سند ضعیف ہے۔ اس تفسیر کے مطابق {” اِنِ ارْتَبْتُمْ “} کے الفاظ کا کوئی خاص فائدہ نظر نہیں آتا۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ اگر ایسی عورتوں کو جو حیض سے مایوس ہو چکی ہیں، بیماری کا خون (استحاضہ) شروع ہو جائے اور تم فیصلہ نہ کر سکو کہ یہ حیض ہے یا استحاضہ تو ان کی عدت تین قمری مہینے ہے۔ یہ مجاہد اور زہری کا قول ہے۔ [ طبري: 69/23، ح: ۳۴۶۱۷، ۳۴۶۱۸، بسند صحیح ] اس سے ظاہر ہے کہ جب شک کی صورت میں ان کی عدت تین ماہ ہے تو اگر انھیں کسی قسم کا خون آتا ہی نہیں اور ان کے حیض سے مایوس ہونے میں کوئی شک ہی نہیں تو ان کی عدت بالاولیٰ تین ماہ ہے۔ تیسرا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ عام قاعدہ یہی ہے کہ جن عورتوں کا حیض بند ہو گیا ہو یا شروع ہی نہ ہوا ہو انھیں حمل نہیں ہوتا، مگر شاذ و نادر ایسی عورتوں کو بھی حمل ہو جاتا ہے اور یہاں مسئلہ ان عورتوں کا بیان ہو رہا ہے جنھیں دخول کے بعد طلاق دی گئی ہے، اس میں حمل کا امکان بہر حال رہتا ہے۔ سو اگر تمھیں آثار سے ان کے حاملہ ہونے کا شک پڑ جائے تو ان کی عدت تین ماہ ہے، اتنی مدت میں ان کا حاملہ ہونا یا نہ ہونا واضح ہو جائے گا۔ اگر حاملہ نہ ہوں تو عدت تین ماہ ہی ہے اور اگر حمل ظاہر ہو جائے تو ان کی عدت وضع حمل ہے، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏وَ اُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُهُنَّ اَنْ يَّضَعْنَ حَمْلَهُنَّ» کہ حمل والی عورتوں کی عدت وضع حمل ہے۔ اس سے ظاہر ہے کہ اگر حیض سے مایوس عمر رسیدہ عورت یا ایسی عورت جسے حیض آیا ہی نہیں اور ان کے متعلق حمل کا کوئی شک بھی نہ ہو تو ان کی عدت بالاولیٰ تین ماہ ہے۔ ➌ { وَ الّٰٓـِٔيْ يَىِٕسْنَ:} یعنی وہ عورتیں جنھیں حیض آیا ہی نہیں ان کی عدت بھی تین ماہ ہے۔ اس میں چھوٹی عمر کی عورتیں بھی شامل ہیں جنھیں ابھی حیض نہ آیا ہو اور بڑی عمر کی عورتیں بھی جنھیں کسی وجہ سے حیض شروع ہی نہیں ہو سکا۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ چھوٹی عمر کی لڑکی سے نکاح ہو سکتا ہے اور اس کا خاوند اس سے جماع بھی کر سکتا ہے۔ کفار کے کہنے پر چھوٹی عمر کی شادی پر پابندی لگانا یا بالغ ہو جانے والی لڑکیوں کی شادی پر اٹھارہ سال کی یا کسی مخصوص عمر کی پابندی لگانا اللہ تعالیٰ کے احکام کی صریح مخالفت ہے۔ ➍ { وَ اُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُهُنَّ اَنْ يَّضَعْنَ حَمْلَهُنَّ:اُولَاتُ”ذَاتٌ“} کی جمع ہے جیسا کہ {”أُوْلُوْ“ ”ذُوْ“} کی جمع ہے۔ {” اُولَاتُ الْاَحْمَالِ “} حمل والیاں۔ آیت کے الفاظ عام ہیں، اس لیے حاملہ عورت کی عدت وضع حمل ہی ہے، خواہ اس کے خاوند نے اسے طلاق دی ہو یا اس کا خاوند فوت ہو جائے۔ صحیح احادیث سے بھی یہی بات ثابت ہے کہ حاملہ عورت کا خاوند فوت ہو جائے تو بچہ پیدا ہونے کے ساتھ اس کی عدت ختم ہو جائے گی، خواہ خاوند فوت ہونے کے فوراً بعد بچہ پیدا ہو جائے یا کئی ماہ کے بعد پیدا ہو۔ ام سلمہ رضی اللہ عنھا بیان کرتی ہیں کہ سبیعہ اسلمیہ کے ہاں ان کے خاوند کے قتل ہونے کے چالیس دن بعد بچہ پیدا ہوگیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں نکاح کرنے کی اجازت دے دی۔ [ بخاري، التفسیر، باب: «و أولات الأحمال أجلہن…» : ۴۹۰۹ ] رہی وہ عورتیں جو حاملہ نہ ہوں اور ان کے خاوند فوت ہو جائیں تو ان کی عدت چار ماہ دس دن ہے۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۲۳۴)۔ ➎ { وَ مَنْ يَّتَّقِ اللّٰهَ يَجْعَلْ لَّهٗ مِنْ اَمْرِهٖ يُسْرًا:} اس سورت میں بار بار اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنے کی تاکید کی گئی ہے، وجہ یہ ہے کہ میاں بیوی کے مسائل بھی کچھ ایسے ہوتے ہیں کہ جب تک آدمی ہر وقت اللہ سے ڈرتا نہ رہے وہ اپنی بیوی کے معاملہ میں بے راہ رو ہو جاتا ہے، اس لیے کتاب و سنت میں اپنی بیویوں سے حسن سلوک کی بار بار تاکید آئی ہے۔ (کیلانی) اس مقام کی مناسبت سے اس کے کام میں آسانی پیدا کرنے کا مطلب یہ ہے کہ جو اللہ سے ڈرے گا اوّل تو طلاق کے وقت کے انتظار کی وجہ سے طلاق کی نوبت ہی نہیں آئے گی اور اگر اللہ کے مقرر کردہ طریقے کے مطابق طلاق دے گا تو عدت کے اندر اسے رجوع کا حق حاصل رہے گا اور اگر عدت ختم ہو جائے تو دوبارہ نکاح کا موقع باقی رہے گا۔
ذٰلِکَ اَمۡرُ اللّٰہِ اَنۡزَلَہٗۤ اِلَیۡکُمۡ ؕ وَ مَنۡ یَّتَّقِ اللّٰہَ یُکَفِّرۡ عَنۡہُ سَیِّاٰتِہٖ وَ یُعۡظِمۡ لَہٗۤ اَجۡرًا ﴿۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یہ اللہ کا حکم ہے جو اُس نے تمہاری طرف نازل کیا ہے جو اللہ سے ڈرے گا اللہ اس کی برائیوں کو اس سے دور کر دے گا اور اس کو بڑا اجر دے گا
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ اللہ کا حکم ہے جو اس نے تمہاری طرف اتارا ہے اور جو شخص اللہ سے ڈرے گا اللہ اس کے گناه مٹا دے گا اور اسے بڑا بھاری اجر دے گا
احمد رضا خان بریلوی
یہ اللہ کا حکم ہے کہ اس نے تمہاری طرف اتارا، اور جو اللہ سے ڈرے اللہ اس کی برائیاں اتار دے گا اور اسے بڑا ثواب دے گا،
علامہ محمد حسین نجفی
یہ اللہ کا حکم ہے جو اس نے تمہاری طرف نازل کیا ہے اور جو اللہ سے ڈرتا ہے تو اللہ اس سے اس کی برائیاں دور کر دیتا ہے اور اس کے اجر کو بڑا کرتا (بڑھاتا) ہے۔
عبدالسلام بن محمد
یہ اللہ کا حکم ہے جسے اس نے تمھاری طرف نازل کیا ہے اور جو کوئی اللہ سے ڈرے گا وہ اس سے اس کی برائیاں دور کر دے گا اور اسے بڑا اجر دے گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مسائل عدت ٭٭

جن بڑھیا عورتوں کی اپنی بڑی عمر کی وجہ سے ایام بند ہو گئے ہوں یہاں ان کی عدت بتائی جاتی ہے کہ تین مہینے کی عدت گزاریں، جیسے کہ ایام والی عورتوں کی عدت تین حیض ہے۔ ملاحظہ ہو سورۃ البقرہ کی آیت «وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا» ۱؎ [2-البقرة:234] ‏‏‏‏ ’ تم میں سے جو لوگ فوت ہو جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں، وه عورتیں اپنے آپ کو چار مہینے اور دس (‏‏‏‏دن) عدت میں رکھیں ‘۔ اسی طرح وہ لڑکیاں جو اس عمر کو نہیں پہنچیں کہ انہیں حیض آئے، ان کی عدت بھی یہی تین مہینے رکھی، اگر تمہیں شک ہو، اس کی تفسیر میں دو قول ہیں ایک تو یہ کہ خون دیکھ لیں اور تمہیں شبہ گزرے کہ آیا حیض کا خون ہے یا استخاضہ کی بیماری کا۔

دوسرا قول یہ ہے کہ ”ان کی عدت کے حکم میں تمہیں شک باقی رہ جائے اور تم اسے نہ پہچان سکو تو تین مہینے یاد رکھو لو۔‏‏‏‏“ یہ دوسرا قول ہی زیادہ ظاہر ہے، اس کی دلیل یہ روایت بھی ہے کہ { سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا تھا یا رسول اللہ! بہت سی عورتوں کی عدت ابھی بیان نہیں ہوئی، کمسن لڑکیاں، بوڑھی بڑی عورتیں اور حمل والی عورتیں اس کے جواب میں یہ آیت اتری }۔ ۱؎ [مستدرک حاکم:392/4:منقطع ضعیف] ‏‏‏‏ پھر حاملہ کی عدت بیان فرمائی کہ ’ وضع حمل اس کی عدت ہے، گو طلاق یا خاوند کی موت کے ذرا سی دیر بعد ہی ہو جائے ‘، جیسے کہ اس آیت کریمہ کے الفاظ ہیں اور احادیث نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے اور جمہور علماء سلف و خلف کا قول ہے۔ ہاں سیدنا علی ابن طالب اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم سے مروی ہے کہ سورۃ البقرہ کی آیت اور اس آیت کو ملا کر ان کا فتویٰ یہ ہے کہ ان دونوں میں سے جو زیادہ دیر میں ختم ہو وہ عدت یہ گزارے یعنی اگر بچہ تین مہینے سے پہلے پیدا ہو گیا تو تین مہینے کی عدت ہے اور تین مہینے گزر چکے اور بچہ نہیں ہوا تو بچے کے ہونے تک عدت ہے۔‏‏‏‏“

صحیح بخاری میں سیدنا ابوسلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ { ایک شخص سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور اس وقت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی وہیں موجود تھے اس نے سوال کیا کہ اس عورت کے بارے میں آپ کا کیا فتویٰ ہے جسے اپنے خاوند کے انتقال کے بعد چالیسویں دن بچہ ہو جائے؟ آپ نے فرمایا: ”دونوں عدتوں میں سے آخری عدت اسے گزارنی پڑے گی“ یعنی اس صورت میں تین مہینے کی عدت اس پر ہے۔ ابوسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”قرآن میں تو ہے کہ حمل والیوں کی عدت بچہ کا ہو جانا ہے؟“ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں بھی اپنے چچا زاد بھائی ابوسلمہ کے ساتھ ہوں“ یعنی میرا بھی یہی فتویٰ ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اسی وقت اپنے غلام کریب کو ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا کہ جاؤ ان سے یہ مسئلہ پوچھ آؤ انہوں نے فرمایا: ”سبیعہ اسلمیہ رضی اللہ عنہا کے شوہر قتل کئے گئے اور یہ اس وقت امید سے تھیں، چالیس راتوں کے بعد بچہ ہو گیا، اسی وقت نکاح کا پیغام آیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کر دیا پیغام دینے والوں میں ابوالسنابل بھی تھے“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4909] ‏‏‏‏ یہ حدیث قدرے طوالت کے ساتھ اور کتابوں میں بھی ہے۔

{ عبداللہ بن عتبہ رحمہ اللہ نے عمر بن عبداللہ بن ارقم زہری رحمہ اللہ کو لکھا کہ وہ سبیعہ بنت حارث اسلمیہ رضی اللہ عنہا کے پاس جائیں اور ان سے ان کا واقعہ دریافت کر کے انہیں لکھ بھیجیں، یہ گئے، دریافت کیا اور لکھا کہ ان کے خاوند سعد بن خولہ رضی اللہ عنہ تھے یہ بدری صحابی تھے حجتہ الوداع میں فوت ہو گئے اس وقت یہ حمل سے تھیں، تھوڑے ہی دن کے بعد انہیں بچہ پیدا ہو گیا، جب نفاس سے پاک ہوئیں تو اچھے کپڑے پہن کر بناؤ سنگھار کر کے بیٹھ گئیں ابوالسنابل بن بعلک رضی اللہ عنہ جب ان کے پاس آئے تو انہیں اس حالت میں دیکھ کر کہنے لگے تم جو اس طرح بیٹھی ہو تو کیا نکاح کرنا چاہتی ہو، واللہ! تم نکاح نہیں کر سکتیں جب تک کہ چار مہینے دس دن نہ گزر جائیں۔ میں یہ سن کر چادر اوڑھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بچہ پیدا ہوتے ہی تم عدت سے نکل گئیں اب تمہیں اختیار ہے اگر چاہو تو اپنا نکاح کر لو“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3991] ‏‏‏‏

صحیح بخاری میں اس آیت کے تحت اس حدیث کے وارد کرنے کے بعد یہ بھی ہے کہ محمد بن سیرین رحمہ اللہ ایک مجلس میں تھے، جہاں عبدالرحمٰن بن ابو یعلیٰ بھی تھے، جن کی تعظیم تکریم ان کے ساتھی بہت ہی کیا کرتے تھے، انہوں نے حاملہ کی عدت آخری دو عدتوں کی میعاد بتائی، اس پر میں نے سبیعہ رضی اللہ عنہا والی حدیث بیان کی، اس پر میرے بعض ساتھی مجھے ٹہوکے لگانے لگے، میں نے کہا: پھر تو میں نے بڑی جرأت کی اگر عبداللہ پر میں نے بہتان باندھا حالانکہ وہ کوفہ کے کونے میں زندہ موجود ہیں، پس وہ ذرا شرما گئے اور کہنے لگے لیکن ان کے چچا تو یہ نہیں کہتے، میں ابوعطیہ مالک بن عامر سے ملا، انہوں نے مجھے سبیعہ رضی اللہ عنہا والی حدیث پوری سنائی، میں نے کہا: تم نے اس بابت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے بھی کچھ سنا ہے؟ فرمایا: یہ عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے تھے، آپ نے فرمایا: کیا تم اس پر سختی کرتے ہو اور رخصت نہیں دیتے؟ سورۃ نساء قصریٰ یعنی سورۃ الطلاق سورۃ نساء طولی کے بعد اتری ہے اور اس میں فرمان ہے کہ ’ حاملہ عورت کی عدت وضع حمل ہے ‘۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4910] ‏‏‏‏ ابن جریر میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جو «ملاعنہ» کرنا چاہے، میں اس سے «ملاعنہ» کرنے کو تیار ہوں یعنی میرے فتوے کے خلاف جس کا فتویٰ ہو میں تیار ہوں کہ وہ میرے مقابلہ میں آئے اور جھوٹے پر اللہ لعنت کرے، میرا فتویٰ یہ ہے کہ حمل والی کی عدت بچہ کا پیدا ہو جانا ہے، پہلے عام الحکم تھا کہ جن عورتوں کے خاوند مر جائیں وہ چار مہینے دس دن عدت گزاریں اس کے بعد یہ آیت نازل ہوئی کہ حمل والیوں کی عدت بچے کا پیدا ہو جانا ہے پس یہ عورتیں ان عورتوں میں سے مخصوص ہو گئیں اب مسئلہ یہی ہے کہ جس عورت کا خاوند مر جائے اور وہ حمل سے ہو تو جب حمل سے فارغ ہو جائے، عدت سے نکل گئی۔

ابن ابی حاتم کی روایت میں ہے کہ { سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ اس وقت فرمایا تھا جب انہیں معلوم ہوا کہ سیدنا علی ابن طالب رضی اللہ عنہ کا فتویٰ یہ ہے کہ اس کی عدت ان دونوں عدتوں میں سے جو آخری ہو وہ ہے۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:2307،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے کہ { ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ حمل والیوں کی عدت جو وضع حمل ہے یہ تین طلاق والیوں کی عدت ہے یا فوت شدہ خاوند والیوں کی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دونوں کی“ }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:34317:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ حدیث بہت غریب ہے بلکہ منکر ہے اس لیے کہ اس کی اسناد میں مثنی بن صباح ہے اور وہ بالکل متروک الحدیث ہے، لیکن اس کی دوسری سندیں بھی ہیں۔ پھر فرماتا ہے ’ اللہ تعالیٰ متقیوں کے لیے ہر مشکل سے آسانی اور ہر تکلیف سے راحت عنایت فرما دیتا ہے، یہ اللہ کے احکام اور اس کی پاک شریعت ہے جو اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے تمہاری طرف اتار رہا ہے اللہ سے ڈرنے والوں کو اللہ تعالیٰ اور چیزوں کے ڈر سے بچا لیتا ہے اور ان کے تھوڑے عمل پر بڑا اجر دیتا ہے ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 5) ➊ {ذٰلِكَ اَمْرُ اللّٰهِ اَنْزَلَهٗۤ اِلَيْكُمْ:} اس میں طلاق اور عدت کے احکام کی اہمیت بیان کرنا مقصود ہے۔ ➋ { وَ مَنْ يَّتَّقِ اللّٰهَ يُكَفِّرْ عَنْهُ سَيِّاٰتِهٖ …:} اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے تقویٰ کے پانچ فائدے بیان فرمائے ہیں، سب سے پہلا فائدہ یہ کہ اللہ تعالیٰ اس کے لیے مشکلات سے نکلنے کا راستہ بنا دے گا، دوسرا یہ کہ اسے وہاں سے رزق دے گا جہاں سے اسے گمان نہیں ہوگا، تیسرا یہ کہ اس کے لیے اس کے معاملات میں آسانی پیدا فرما دے گا، چوتھا یہ کہ اس کے گناہ معاف فرما دے گا اور پانچواں یہ کہ اسے اجر عظیم عطا فرمائے گا۔
اَسۡکِنُوۡہُنَّ مِنۡ حَیۡثُ سَکَنۡتُمۡ مِّنۡ وُّجۡدِکُمۡ وَ لَا تُضَآرُّوۡہُنَّ لِتُضَیِّقُوۡا عَلَیۡہِنَّ ؕ وَ اِنۡ کُنَّ اُولَاتِ حَمۡلٍ فَاَنۡفِقُوۡا عَلَیۡہِنَّ حَتّٰی یَضَعۡنَ حَمۡلَہُنَّ ۚ فَاِنۡ اَرۡضَعۡنَ لَکُمۡ فَاٰتُوۡہُنَّ اُجُوۡرَہُنَّ ۚ وَ اۡتَمِرُوۡا بَیۡنَکُمۡ بِمَعۡرُوۡفٍ ۚ وَ اِنۡ تَعَاسَرۡتُمۡ فَسَتُرۡضِعُ لَہٗۤ اُخۡرٰی ؕ﴿۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اُن کو (زمانہ عدت میں) اُسی جگہ رکھو جہاں تم رہتے ہو، جیسی کچھ بھی جگہ تمہیں میسر ہو اور انہیں تنگ کرنے کے لیے ان کو نہ ستاؤ اور اگر وہ حاملہ ہوں تو ان پر اُس وقت تک خرچ کرتے رہو جب تک ان کا وضع حمل نہ ہو جائے پھر اگر وہ تمہارے لیے (بچے کو) دودھ پلائیں تو ان کی اجرت انہیں دو، اور بھلے طریقے سے (اجرت کا معاملہ) باہمی گفت و شنید سے طے کر لو لیکن اگر تم نے (اجرت طے کرنے میں) ایک دوسرے کو تنگ کیا تو بچے کو کوئی اور عورت دودھ پلا لے گی
مولانا محمد جوناگڑھی
تم اپنی طاقت کے مطابق جہاں تم رہتے ہو وہاں ان (طلاق والی) عورتوں کو رکھو اور انہیں تنگ کرنے کے لیے تکلیف نہ پہنچاؤ اور اگر وه حمل سے ہوں تو جب تک بچہ پیدا ہولے انہیں خرچ دیتے رہا کرو پھر اگر تمہارے کہنے سے وہی دودھ پلائیں تو تم انہیں ان کی اجرت دے دو اور باہم مناسب طور پر مشوره کر لیا کرو اور اگر تم آپس میں کشمکش کرو تو اس کے کہنے سے کوئی اور دودھ پلائے گی
احمد رضا خان بریلوی
عورتوں کو وہاں رکھو جہاں خود رہتے ہو اپنی طاقت بھر اور انہیں ضرر نہ دو کہ ان پر تنگی کرو اور اگر حمل والیاں ہوں تو انہیں نان و نفقہ دو یہاں تک کہ ان کے بچہ پیدا ہو پھر اگر وہ تمہارے لیے بچہ کو دودھ پلائیں تو انہیں اس کی اجرت دو اور آپس میں معقول طور پر مشورہ کرو پھر اگر باہم مضائقہ کرو (دشوار سمجھو) تو قریب ہے کہ اسے اور دودھ پلانے والی مل جائے گی،
علامہ محمد حسین نجفی
ان (مطلقہ عورتوں) کو (زمانۂ عدت میں) وہاں رکھو جہاں اپنی حیثیت کے مطابق تم خود رہتے ہو اور انہیں ضرر و زیاں نہ پہنچاؤ تاکہ ان پر تنگی کرو۔ اور اگر وہ حاملہ ہوں تو پھر ان پر خرچ کرو یہاں تک ان کا وضعِ حمل ہو جائے پھر اگر تمہارے لئے (بچہ) کو دودھ پلائیں تو تم انہیں ان کی اجرت دو اور منا سب طریقہ پر باہم طے کر لو اور اگر تمہیں باہم کوئی دشواری پیش آئے (اور باہمی اتفاق نہ ہو سکے) تو پھر کوئی اور عورت اسے دودھ پلائے گی۔
عبدالسلام بن محمد
انھیں وہاں سے رہائش دو جہاں تم رہتے ہو، اپنی طاقت کے مطابق اور انھیں اس لیے تکلیف نہ دو کہ ان پر تنگی کرو اور اگر وہ حمل والی ہوں تو ان پر خرچ کرو، یہاں تک کہ وہ اپنا حمل وضع کر لیں، پھر اگر وہ تمھارے لیے دودھ پلائیں تو انھیں ان کی اجرتیں دو اور آپس میں اچھے طریقے سے مشورہ کرو اور اگر تم آپس میں تنگی کرو تو عنقریب اسے کوئی اور عورت دودھ پلا دے گی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
طلاق کے بعد بھی سلوک کی ہدایت ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ ’ جب ان میں سے کوئی اپنی بیوی کو طلاق دے تو عدت کے گزر جانے تک اس کے رہنے سہنے کو اپنا مکان دے ‘۔ یہ جگہ اپنی طاقت کے مطابق ہے یہاں تک کہ فتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اگر زیادہ وسعت نہ ہو تو اپنے ہی مکان کا ایک کونہ اسے دے دے“، اسے تکلیفیں پہنچا کر اس قدر تنگ نہ کرو کہ وہ مکان چھوڑ کر چلی جائے یا تم سے چھوٹنے کے لیے اپنا حق مہر چھوڑ دے یا اس طرح کہ طلاق دی دیکھا کہ دو ایک روز عدت کے رہ گئے ہیں رجوع کا اعلان کر دیا پھر طلاق دے دی اور عدت کے ختم ہونے کے قریب رجعت کر لی تاکہ نہ وہ بیچاری سہاگن رہے نہ رانڈ۔

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ’ اگر طلاق والی عورت حمل سے ہو تو بچہ ہونے تک اس کا نان نفقہ اس کے خاوند کے ذمہ ہے ‘۔ اکثر علماء کا فرمان ہے کہ یہ خصوصاً ان عورتوں کے لیے بیان ہو رہا ہے جنہیں آخری طلاق دے دی گئی ہو جس سے رجوع کرنے کا حق ان کے خاوندوں کو نہ رہا ہو اس لیے کہ جن سے رجوع ہو سکتا ہے ان کی عدت تک کا خرچ تو خاوند کے ذمہ ہے ہی وہ حمل سے ہوں تب اور بے حمل ہوں تو بھی۔ اور حضرات علماء فرماتے ہیں، یہ حکم بھی انہیں عورتوں کا بیان ہو رہا ہے جن سے رجعت کا حق حاصل ہے کیونکہ اوپر بھی انہی کا بیان تھا، اسے الگ اس لیے بیان کر دیا کہ عموماً حمل کی مدت لمبی ہوتی ہے، اس لمحے کوئی یہ نہ سمجھ بیٹھے کہ عدت کے زمانے جتنا نفقہ تو ہمارے ذمہ ہے پھر نہیں، اس لیے صاف طور پر فرما دیا کہ ’ رجعت والی طلاق کے وقت اگر عورت حمل سے ہو تو جب تک بچہ نہ ہو اس کا کھلانا پلانا خاوند کے ذمہ ہے ‘۔ پھر اس میں بھی علماء کا اختلاف ہے کہ خرچ اس کے لیے حمل کے واسطے سے ہے یا حمل کے لیے ہے، امام شافعی رحمہ اللہ وغیرہ سے دونوں قول مروی ہیں اور اس بناء پر بہت سے فروعی مسائل میں بھی اختلاف رونما ہوا ہے۔

پھر فرماتا ہے کہ ’ جب یہ مطلقہ عورتیں حمل سے فارغ ہو جائیں تو اگر تمہاری اولاد کو وہ دودھ پلائیں تو تمہیں ان کی دودھ پلائی دینی چاہیئے ‘۔ ہاں عورت کو اختیار ہے خواہ دودھ پلائے یا نہ پلائے لیکن اول دفعہ کا دودھ اسے ضرور پلانا چاہیئے، گو پھر دودھ نہ پلائے کیونکہ عموماً بچہ کی زندگی اس دودھ کے ساتھ وابستہ ہے اگر وہ بعد میں بھی دودھ پلاتی رہے تو ماں باپ کے درمیان جو اجرت طے ہو جائے وہ ادا کرنی چاہیئے۔ فرمایا ’ تم میں آپس میں جو کام ہوں وہ بھلائی کے ساتھ باقاعدہ دستور کے مطابق ہونے چاہئیں نہ اس کے نقصان کے درپے رہے نہ وہ اسے ایذاء پہنچانے کی کوشش کرے ‘، جیسے سورۃ البقرہ میں فرمایا «لَا تُضَارَّ وَالِدَةٌ بِوَلَدِهَا وَلَا مَوْلُودٌ لَّهُ بِوَلَدِهِ» ۱؎ [2-البقرۃ:233] ‏‏‏‏ یعنی ’ بچہ کے بارے میں نہ اس کی ماں کو ضرور پہنچایا جائے نہ اس کے باپ کو ‘۔ پھر فرماتا ہے ’ اگر آپس میں اختلاف بڑھ جائے مثلاً لڑکے کا باپ کم دینا چاہتا ہے اور اس کی ماں کو منظور نہیں یا ماں زائد مانگتی ہے جو باپ پر گراں ہے اور موافقت نہیں ہو سکتی دونوں کسی بات پر رضامند نہیں ہوتے تو اختیار ہے کہ کسی اور دایہ کو دیں ہاں جو اور دایہ کو دیا جانا منظور کیا جاتا ہے اگر اسی پر اس بچہ کی ماں رضامند ہو جائے تو زیادہ مستحق یہی ہے ‘۔

پھر فرماتا ہے کہ ’ بچے کا باپ یا ولی جو ہو اسے چاہیئے کہ بچے پر اپنی وسعت کے مطابق خرچ کرے، تنگی والا اپنی طاقت کے مطابق دے، طاقت سے بڑھ کر تکلیف کسی کو اللہ نہیں دیتا ‘۔ تفسیر ابن جریر میں ہے کہ ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کی بابت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ وہ موٹا کپڑا پہنتے ہیں اور ہلکی غذا کھاتے ہیں آپ رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ انہیں ایک ہزار دینار بھجوا دو اور جس کے ہاتھ بھجوائے ان سے کہہ دیا کہ ”دیکھنا وہ ان دیناروں کو پا کر کیا کرتے ہیں؟“ جب یہ اشرفیاں انہیں مل گئیں تو انہوں نے باریک کپڑے پہننے اور نہایت نفیس غذائیں کھانی شروع کر دیں، قاصد نے واپس آ کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے واقعہ بیان کیا آپ نے فرمایا ”اللہ اس پر رحم کرے اس نے اس آیت پر عمل کیا کہ کشادگی والا اپنی کشادگی کے مطابق خرچ کرے اور تنگی و ترشی والا اپنی حالت کے موافق۔‏‏‏‏“ طبرانی کی ایک غریب حدیث میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک شخص کے پاس دس دینار تھے، اس نے ان میں سے ایک راہ اللہ صدقہ کیا، دوسرے کے پاس دس اوقیہ تھے، اس نے اس میں سے ایک اوقیہ یعنی چالیس درہم خرچ کئے، تیسرے کے پاس سو اوقیہ تھے، جس میں سے اس نے اللہ کے نام پر دس اوقیہ خرچ کئے، تو یہ سب اجر میں اللہ کے نزدیک برابر ہیں اس لیے کہ ہر ایک نے اپنے مال کا دسواں حصہ فی سبیل اللہ دیا ہے، پھر اللہ تعالیٰ سچا وعدہ دیتا ہے کہ وہ تنگی کے بعد آسانی کر دے گا“ } ۱؎ [طبرانی:3439:ضعیف] ‏‏‏‏ جیسے اور جگہ فرمایا «إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا» ۱؎ [94-الشرح:6] ‏‏‏‏ ’ بیشک مشکل کے ساتھ آسانی ہے ‘۔

اللہ پر توکل کا نتیجہ ٭٭

مسند احمد کی حدیث اس جگہ وارد کرنے کے قابل ہے جس میں ہے کہ { سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگلے زمانہ میں ایک میاں بیوی تھے جو فقر و فاقہ سے اپنی زندگی گزار رہے تھے پاس کچھ بھی نہ تھا، ایک مرتبہ یہ شخص سفر سے آیا اور سخت بھوکا تھا، بھوک کے مارے بے تاب تھا، آتے ہی اپنی بیوی سے پوچھا: کچھ کھانے کو ہے؟ اس نے کہا: آپ خوش ہو جایئے، اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی روزی ہمارے ہاں آ پہنچی ہے، اس نے کہا: پھر لاؤ، جو کچھ ہو دے دو، میں بہت بھوکا ہوں۔ بیوی نے کہا اور ذرا سی دیر صبر کر لو، اللہ کی رحمت سے ہمیں بہت کچھ امید ہے، پھر جب کچھ دیر اور ہو گئی، اس نے بے تاب ہو کر کہا: جو کچھ تمہارے پاس ہے دیتی کیوں نہیں؟ مجھے تو بھوک سے سخت تکلیف ہو رہی ہے، بیوی نے کہا: اتنی جلدی کیوں کرتے ہو؟ اب تنور کھولتی ہوں۔ تھوڑی دیر گزرنے کے بعد جب بیوی نے دیکھا کہ یہ اب پھر تقاضہ کرنا چاہتے ہیں، تو خودبخود کہنے لگیں، اب اٹھ کر تنور کو دیکھتی ہوں، اٹھ کر جو دیکھتی ہیں تو قدرت اللہ سے ان کے توکل کے بدلے وہ بکری کے پہلو کے گوشت سے بھرا ہوا ہے، دیکھتی ہیں کہ گھر کی دونوں چکیاں از خود چل رہی ہیں اور برابر آٹا نکل رہا ہے، انہوں نے تنور میں سے سب گوشت نکال لیا اور چکیوں میں سارا آٹا اٹھا لیا اور جھاڑ دیں۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ قسم کھا کر فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ اگر وہ صرف آٹا لے لیتیں اور چکی نہ جھاڑتیں تو وہ قیامت تک چلتی رہتیں۔ ۱؎ [مسند احمد:421/2:ضعیف] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ { ایک شخص اپنے گھر پہنچا دیکھا کہ بھوک کے مارے گھر والوں کا برا حال ہے، آپ جنگل کی طرف نکل کھڑے ہوئے، یہاں ان کی نیک بخت بیوی صاحبہ نے جب دیکھا کہ میاں بھی پریشان حال ہیں اور یہ منظر دیکھ نہیں سکے اور چل دیئے تو چکی کو ٹھیک ٹھاک کیا، تنور سلگایا اور الله تعالیٰ سے دعا کرنے لگیں، اے اللہ! ہمیں روزی دے، دعا کر کے اٹھیں تو دیکھا کہ ہنڈیا گوشت سے پر ہے، تنور میں روٹیاں لگ رہی ہیں اور چکی سے برابر آٹا ابلا چلا آتا ہے، اتنے میں میاں صاحب بھی تشریف لائے، پوچھا کہ میرے بعد تمہیں کچھ ملا؟ بیوی صاحبہ نے کہا: ہاں! ہمارے رب نے ہمیں بہت کچھ عطا فرما دیا اس نے جا کر چکی کے دوسرے پاٹ کو اٹھا لیا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ واقعہ بیان ہو تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر وہ اسے نہ اٹھاتا تو قیامت تک یہ چکی چلتی ہی رہتی۔‏‏‏‏“ ۱؎ [مسند احمد:513/2:ضعیف] ‏‏‏‏
6۔ 1 یعنی مطلقہ رجعیہ کو۔ اس لیے کہ مطلقہ بائنہ کے لیے تو رہائش اور نفقہ ضروری ہی نہیں۔ اپنی طاقت کے مطابق رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر مکان فراخ ہو اور اس میں متعدد کمرے ہوں تو ایک کمرہ اس کے لیے مخصوص کردیا جائے۔ بصورت دیگر اپنا کمرہ اس کے لیے خالی کردے۔ اس میں حکمت یہی ہے کہ قریب رہ کر عدت گزارے گی تو شاید خاوند کا دل پسیج جائے اور رجوع کرنے کی رغبت اس کے دل میں پیدا ہوجائے خاص طور پر اگر بچے بھی ہوں تو پھر رغبت اور رجوع کا قوی امکان ہے۔ مگر افسوس ہے کہ مسلمان اس ہدایت پر عمل نہیں کرتے جس کی وجہ سے اس حکم کے فوائد سے بھی محروم ہیں۔ ہمارے معاشرے میں طلاق کے ساتھ ہی جس طرح عورت کو فوراً چھوت بنا کر گھر سے نکال دیا جاتا ہے، یا بعض دفعہ لڑکی والے اسے اپنے گھر لے جاتے ہیں، یہ رواج قرآن کریم کی صریح تعلیم کے خلاف ہے۔ 6۔ 2 یعنی نان نفقہ میں یا رہائش میں اسے تنگ اور بےآبرو کرنا تاکہ وہ گھر چھوڑ جائے۔ عدت کے دوران ایسا رویہ اختیار نہ کیا جائے۔ بعض نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے عدت ہوجانے کے قریب ہو تو رجوع کرلے اور بار بار ایسا نہ کرے، جیسا کہ زمانہ جاہلیت میں کیا جاتا تھا۔ جس کے سدباب کے لیے شریعت نے طلاق کے بعد رجوع کرنے کی حد مقرر فرمادی تاکہ کوئی شخص آئندہ اس طرح عورت کو تنگ نہ کرے، اب ایک انسان دو مرتبہ تو ایسا کرسکتا ہے یعنی طلاق دے کر عدت ختم ہونے سے پہلے رجوع کرلے۔ لیکن تیسری مرتبہ جب طلاق دے گا تو اس کے بعد اس کے رجوع کا حق بھی ختم ہوجائے گا۔ 6۔ 2 یعنی مطلقہ خواہ بائنہ ہی کیوں نہ ہو، اگر حاملہ ہے تو اس کا نفقہ و رہائش ضروری ہے، جیسا کہ پہلے بیان کیا گیا ہے۔ 6۔ 3 یعنی طلاق دینے کے بعد اگر وہ تمہارے بچے کو دودھ پلائے تو اس کی اجرت تمہارے ذمے ہے۔ 6۔ 4 یعنی باہم مشورے سے اجرت اور دیگر معاملات طے کر لئے جائیں۔ مثلاً بچے کا باپ حیثیت کے مطابق اجرت دے اور ماں، باپ کی حیثیت کے مطابق اجرت طلب کرے، وغیرہ۔ 6۔ 5 یعنی آپس میں اجرت وغیرہ کا معاملہ طے نہ ہوسکے تو کسی دوسری انا کے ساتھ معاملہ کرلے جو اسکے بچے کو دودھ پلائے
(آیت 6) ➊ { اَسْكِنُوْهُنَّ مِنْ حَيْثُ سَكَنْتُمْ مِّنْ وُّجْدِكُمْ:} اس میں ان عورتوں کا حکم بیان فرمایا ہے جنھیں پہلی یا دوسری طلاق دی گئی ہو۔ پہلے ان کے متعلق فرمایا تھا کہ عدت پوری ہونے تک انھیں ان کے گھروں سے نہ نکالو اور نہ ہی وہ خود نکلیں، اب اسی کی تفصیل ہے۔ {” مِنْ حَيْثُ سَكَنْتُمْ “} میں {” مِنْ “} تبعیض کے لیے ہے، یعنی جہاں تم رہتے ہو اس کے کسی حصے میں انھیں بھی رہنے کے لیے جگہ دو۔ {” مِنْ وُّجْدِكُمْ “} اپنی وسعت کے مطابق، یعنی مکان ذاتی ہے یا کرائے کا یاخیمہ وغیرہ ہے، جہاں رہتے ہو وہیں انھیں رکھو۔ اس کا مقصد اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلے بیان فرمایا ہے کہ اتنی مدت ایک جگہ رہنے کی وجہ سے ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ دوبارہ موافقت کی صورت پیدا فرما دے اور رجوع ہو جائے، اس دوران ان کا نفقہ بھی خاوند کے ذمے ہے۔ تیسری طلاق کے بعد چونکہ رجوع کی گنجائش نہیں، اس لیے خاوند کے ساتھ رہائش کا حکم بھی نہیں اور نہ ہی ان کا خرچ خاوند کے ذمے ہے، جیسا کہ پہلی آیت کے فائدہ (۱۲) میں فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنھا کی صحیح حدیث میں گزر چکا ہے۔ ➋ { وَ لَا تُضَآرُّوْهُنَّ لِتُضَيِّقُوْا عَلَيْهِنَّ:} یعنی انھیں نفقہ میں کمی یا نامناسب رہائش یا بدزبانی یا مار پیٹ کے ساتھ تکلیف پہنچا کر تنگ نہ کرو کہ وہاں رہیں تو تنگی میں مبتلا رہیں یا پھر مکان چھوڑ کر چلی جائیں یا مہر چھوڑ دیں۔ ➌ { وَ اِنْ كُنَّ اُولَاتِ حَمْلٍ فَاَنْفِقُوْا عَلَيْهِنَّ …:} مطلقہ عورت اگر حاملہ نہیں تو رجعی طلاق کی صورت میں اس کا نفقہ اور رہائش خاوند کے ذمے ہے، تیسری طلاق کی صورت میں اس کا نفقہ یا رہائش خاوند کے ذمے نہیں، جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔ البتہ اگر وہ حاملہ ہے تو رجعی طلاق کی صورت میں بچہ پیدا ہونے تک اس کا نفقہ اور رہائش دونوں خاوند کے ذمے ہیں اور اگر تیسری طلاق ہے تو وضع حمل تک صرف اس کا خرچہ خاوند کے ذمے ہے۔ ➍ { فَاِنْ اَرْضَعْنَ لَكُمْ فَاٰتُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ:} اس جملے سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق بچہ باپ کا ہوتا ہے ماں کا نہیں، کیونکہ ماں اس بچے کے باپ کے لیے دودھ پلا رہی ہے اور اجرت لے رہی ہے، اگر بچہ ماں کا ہو تو اجرت لینے کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ دوسرا یہ کہ عورت اپنے دودھ کی خود مالک ہے، وہ طلاق دینے والے خاوند سے بھی اسی طرح اجرت لے سکتی ہے جیسے دوسروں سے۔ ➎ {وَ اْتَمِرُوْا بَيْنَكُمْ بِمَعْرُوْفٍ:وَ اْتَمِرُوْا”اِئْتَمَرَ يَأْتَمِرُ اِئْتِمَارًا“} (افتعال) مشورہ کرنا، جیسا کہ سورۂ قصص میں فرمایا: «يٰمُوْسٰۤى اِنَّ الْمَلَاَ يَاْتَمِرُوْنَ بِكَ لِيَقْتُلُوْكَ» [ القصص: ۲۰ ] ”اے موسیٰ! بے شک سردار تیرے بارے میں مشورہ کر رہے ہیں کہ تجھے قتل کر دیں۔“ طلاق کے بعد عموماً میاں بیوی کی باہمی ناچاقی اور ناراضی کی وجہ سے کشیدگی پیدا ہو چکی ہوتی ہے، ایسی صورت میں میاں بیوی دونوں کو اور ان کے تعلق والوں کو حکم دیا کہ بچے کو دودھ پلانے، اس کے علاج و تربیت اور اس کی بہتری کے لیے آپس میں اچھے طریقے سے مشورہ کرتے رہو، ایسا نہ ہو کہ تمھاری کشیدگی بچے کو نقصان پہنچانے کا باعث بن جائے۔ ➏ { وَ اِنْ تَعَاسَرْتُمْ فَسَتُرْضِعُ لَهٗۤ اُخْرٰى:} یعنی اگر ماں کسی بیماری یا کمزوری کی وجہ سے دودھ پلانے سے انکار کر دے، یا اجرت اتنی زیادہ مانگے جو خاوند کی استطاعت یا معروف رواج سے زیادہ ہو، یا خاوند اس کی طلب کردہ اجرت دینے پر تیار نہ ہو، یا کسی اور وجہ سے آپس میں ضد پیدا ہو جائے اور ماں دودھ نہ پلائے تو ضروری نہیں کہ ہر حال میں ماں ہی دودھ پلائے، بلکہ کوئی اور عورت اسے دودھ پلا دے گی۔
لِیُنۡفِقۡ ذُوۡ سَعَۃٍ مِّنۡ سَعَتِہٖ ؕ وَ مَنۡ قُدِرَ عَلَیۡہِ رِزۡقُہٗ فَلۡیُنۡفِقۡ مِمَّاۤ اٰتٰىہُ اللّٰہُ ؕ لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفۡسًا اِلَّا مَاۤ اٰتٰىہَا ؕ سَیَجۡعَلُ اللّٰہُ بَعۡدَ عُسۡرٍ یُّسۡرًا ٪﴿۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
خوشحال آدمی اپنی خوشحالی کے مطابق نفقہ دے، اور جس کو رزق کم دیا گیا ہو وہ اُسی مال میں سے خرچ کرے جو اللہ نے اسے دیا ہے اللہ نے جس کو جتنا کچھ دیا ہے اس سے زیادہ کا وہ اُسے مکلف نہیں کرتا بعید نہیں کہ اللہ تنگ دستی کے بعد فراخ دستی بھی عطا فرما دے
مولانا محمد جوناگڑھی
کشادگی والے کو اپنی کشادگی سے خرچ کرنا چاہئے اور جس پر اس کے رزق کی تنگی کی گئی ہو اسے چاہئے کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے اسے دے رکھا ہے اسی میں سے (اپنی حسب حیثیت) دے، کسی شخص کو اللہ تکلیف نہیں دیتا مگر اتنی ہی جتنی طاقت اسے دے رکھی ہے، اللہ تنگی کے بعد آسانی وفراغت بھی کر دے گا
احمد رضا خان بریلوی
مقدور والا اپنے مقدور کے قابل نفقہ دے، اور جس پر اس کا رزق تنگ کیا گیا وہ اس میں سے نفقہ دے جو اسے اللہ نے دیا، اللہ کسی جان پر بوجھ نہیں رکھتا مگر اسی قابل جتنا اسے دیا ہے، قریب ہے اللہ دشواری کے بعد آسانی فرمادے گا
علامہ محمد حسین نجفی
وسعت والے کو چاہیے کہ اپنی وسعت کے مطابق خرچ کرے اور جس کی روزی تنگ ہو تو جتنا اللہ نے اسے دیا ہے اس میں سے خرچ کرے اللہ نے جتنا کسی کو دیا ہے اس سے زیادہ اسے تکلیف نہیں دیتا عنقر یب اللہ تنگی کے بعد آسانی اور کشادگی پیدا کرے گا۔
عبدالسلام بن محمد
لازم ہے کہ وسعت والا اپنی وسعت میں سے خرچ کرے اور جس پر اس کا رزق تنگ کیا گیا ہو تو وہ اس میں سے خرچ کرے جو اللہ نے اسے دیا ہے۔ اللہ کسی شخص کو تکلیف نہیں دیتا مگر اسی کی جو اس نے اسے دیا ہے، عنقریب اللہ تنگی کے بعد آسانی پیدا کر دے گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
طلاق کے بعد بھی سلوک کی ہدایت ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ ’ جب ان میں سے کوئی اپنی بیوی کو طلاق دے تو عدت کے گزر جانے تک اس کے رہنے سہنے کو اپنا مکان دے ‘۔ یہ جگہ اپنی طاقت کے مطابق ہے یہاں تک کہ فتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اگر زیادہ وسعت نہ ہو تو اپنے ہی مکان کا ایک کونہ اسے دے دے“، اسے تکلیفیں پہنچا کر اس قدر تنگ نہ کرو کہ وہ مکان چھوڑ کر چلی جائے یا تم سے چھوٹنے کے لیے اپنا حق مہر چھوڑ دے یا اس طرح کہ طلاق دی دیکھا کہ دو ایک روز عدت کے رہ گئے ہیں رجوع کا اعلان کر دیا پھر طلاق دے دی اور عدت کے ختم ہونے کے قریب رجعت کر لی تاکہ نہ وہ بیچاری سہاگن رہے نہ رانڈ۔

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ’ اگر طلاق والی عورت حمل سے ہو تو بچہ ہونے تک اس کا نان نفقہ اس کے خاوند کے ذمہ ہے ‘۔ اکثر علماء کا فرمان ہے کہ یہ خصوصاً ان عورتوں کے لیے بیان ہو رہا ہے جنہیں آخری طلاق دے دی گئی ہو جس سے رجوع کرنے کا حق ان کے خاوندوں کو نہ رہا ہو اس لیے کہ جن سے رجوع ہو سکتا ہے ان کی عدت تک کا خرچ تو خاوند کے ذمہ ہے ہی وہ حمل سے ہوں تب اور بے حمل ہوں تو بھی۔ اور حضرات علماء فرماتے ہیں، یہ حکم بھی انہیں عورتوں کا بیان ہو رہا ہے جن سے رجعت کا حق حاصل ہے کیونکہ اوپر بھی انہی کا بیان تھا، اسے الگ اس لیے بیان کر دیا کہ عموماً حمل کی مدت لمبی ہوتی ہے، اس لمحے کوئی یہ نہ سمجھ بیٹھے کہ عدت کے زمانے جتنا نفقہ تو ہمارے ذمہ ہے پھر نہیں، اس لیے صاف طور پر فرما دیا کہ ’ رجعت والی طلاق کے وقت اگر عورت حمل سے ہو تو جب تک بچہ نہ ہو اس کا کھلانا پلانا خاوند کے ذمہ ہے ‘۔ پھر اس میں بھی علماء کا اختلاف ہے کہ خرچ اس کے لیے حمل کے واسطے سے ہے یا حمل کے لیے ہے، امام شافعی رحمہ اللہ وغیرہ سے دونوں قول مروی ہیں اور اس بناء پر بہت سے فروعی مسائل میں بھی اختلاف رونما ہوا ہے۔

پھر فرماتا ہے کہ ’ جب یہ مطلقہ عورتیں حمل سے فارغ ہو جائیں تو اگر تمہاری اولاد کو وہ دودھ پلائیں تو تمہیں ان کی دودھ پلائی دینی چاہیئے ‘۔ ہاں عورت کو اختیار ہے خواہ دودھ پلائے یا نہ پلائے لیکن اول دفعہ کا دودھ اسے ضرور پلانا چاہیئے، گو پھر دودھ نہ پلائے کیونکہ عموماً بچہ کی زندگی اس دودھ کے ساتھ وابستہ ہے اگر وہ بعد میں بھی دودھ پلاتی رہے تو ماں باپ کے درمیان جو اجرت طے ہو جائے وہ ادا کرنی چاہیئے۔ فرمایا ’ تم میں آپس میں جو کام ہوں وہ بھلائی کے ساتھ باقاعدہ دستور کے مطابق ہونے چاہئیں نہ اس کے نقصان کے درپے رہے نہ وہ اسے ایذاء پہنچانے کی کوشش کرے ‘، جیسے سورۃ البقرہ میں فرمایا «لَا تُضَارَّ وَالِدَةٌ بِوَلَدِهَا وَلَا مَوْلُودٌ لَّهُ بِوَلَدِهِ» ۱؎ [2-البقرۃ:233] ‏‏‏‏ یعنی ’ بچہ کے بارے میں نہ اس کی ماں کو ضرور پہنچایا جائے نہ اس کے باپ کو ‘۔ پھر فرماتا ہے ’ اگر آپس میں اختلاف بڑھ جائے مثلاً لڑکے کا باپ کم دینا چاہتا ہے اور اس کی ماں کو منظور نہیں یا ماں زائد مانگتی ہے جو باپ پر گراں ہے اور موافقت نہیں ہو سکتی دونوں کسی بات پر رضامند نہیں ہوتے تو اختیار ہے کہ کسی اور دایہ کو دیں ہاں جو اور دایہ کو دیا جانا منظور کیا جاتا ہے اگر اسی پر اس بچہ کی ماں رضامند ہو جائے تو زیادہ مستحق یہی ہے ‘۔

پھر فرماتا ہے کہ ’ بچے کا باپ یا ولی جو ہو اسے چاہیئے کہ بچے پر اپنی وسعت کے مطابق خرچ کرے، تنگی والا اپنی طاقت کے مطابق دے، طاقت سے بڑھ کر تکلیف کسی کو اللہ نہیں دیتا ‘۔ تفسیر ابن جریر میں ہے کہ ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کی بابت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ وہ موٹا کپڑا پہنتے ہیں اور ہلکی غذا کھاتے ہیں آپ رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ انہیں ایک ہزار دینار بھجوا دو اور جس کے ہاتھ بھجوائے ان سے کہہ دیا کہ ”دیکھنا وہ ان دیناروں کو پا کر کیا کرتے ہیں؟“ جب یہ اشرفیاں انہیں مل گئیں تو انہوں نے باریک کپڑے پہننے اور نہایت نفیس غذائیں کھانی شروع کر دیں، قاصد نے واپس آ کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے واقعہ بیان کیا آپ نے فرمایا ”اللہ اس پر رحم کرے اس نے اس آیت پر عمل کیا کہ کشادگی والا اپنی کشادگی کے مطابق خرچ کرے اور تنگی و ترشی والا اپنی حالت کے موافق۔‏‏‏‏“ طبرانی کی ایک غریب حدیث میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک شخص کے پاس دس دینار تھے، اس نے ان میں سے ایک راہ اللہ صدقہ کیا، دوسرے کے پاس دس اوقیہ تھے، اس نے اس میں سے ایک اوقیہ یعنی چالیس درہم خرچ کئے، تیسرے کے پاس سو اوقیہ تھے، جس میں سے اس نے اللہ کے نام پر دس اوقیہ خرچ کئے، تو یہ سب اجر میں اللہ کے نزدیک برابر ہیں اس لیے کہ ہر ایک نے اپنے مال کا دسواں حصہ فی سبیل اللہ دیا ہے، پھر اللہ تعالیٰ سچا وعدہ دیتا ہے کہ وہ تنگی کے بعد آسانی کر دے گا“ } ۱؎ [طبرانی:3439:ضعیف] ‏‏‏‏ جیسے اور جگہ فرمایا «إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا» ۱؎ [94-الشرح:6] ‏‏‏‏ ’ بیشک مشکل کے ساتھ آسانی ہے ‘۔

اللہ پر توکل کا نتیجہ ٭٭

مسند احمد کی حدیث اس جگہ وارد کرنے کے قابل ہے جس میں ہے کہ { سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگلے زمانہ میں ایک میاں بیوی تھے جو فقر و فاقہ سے اپنی زندگی گزار رہے تھے پاس کچھ بھی نہ تھا، ایک مرتبہ یہ شخص سفر سے آیا اور سخت بھوکا تھا، بھوک کے مارے بے تاب تھا، آتے ہی اپنی بیوی سے پوچھا: کچھ کھانے کو ہے؟ اس نے کہا: آپ خوش ہو جایئے، اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی روزی ہمارے ہاں آ پہنچی ہے، اس نے کہا: پھر لاؤ، جو کچھ ہو دے دو، میں بہت بھوکا ہوں۔ بیوی نے کہا اور ذرا سی دیر صبر کر لو، اللہ کی رحمت سے ہمیں بہت کچھ امید ہے، پھر جب کچھ دیر اور ہو گئی، اس نے بے تاب ہو کر کہا: جو کچھ تمہارے پاس ہے دیتی کیوں نہیں؟ مجھے تو بھوک سے سخت تکلیف ہو رہی ہے، بیوی نے کہا: اتنی جلدی کیوں کرتے ہو؟ اب تنور کھولتی ہوں۔ تھوڑی دیر گزرنے کے بعد جب بیوی نے دیکھا کہ یہ اب پھر تقاضہ کرنا چاہتے ہیں، تو خودبخود کہنے لگیں، اب اٹھ کر تنور کو دیکھتی ہوں، اٹھ کر جو دیکھتی ہیں تو قدرت اللہ سے ان کے توکل کے بدلے وہ بکری کے پہلو کے گوشت سے بھرا ہوا ہے، دیکھتی ہیں کہ گھر کی دونوں چکیاں از خود چل رہی ہیں اور برابر آٹا نکل رہا ہے، انہوں نے تنور میں سے سب گوشت نکال لیا اور چکیوں میں سارا آٹا اٹھا لیا اور جھاڑ دیں۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ قسم کھا کر فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ اگر وہ صرف آٹا لے لیتیں اور چکی نہ جھاڑتیں تو وہ قیامت تک چلتی رہتیں۔ ۱؎ [مسند احمد:421/2:ضعیف] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ { ایک شخص اپنے گھر پہنچا دیکھا کہ بھوک کے مارے گھر والوں کا برا حال ہے، آپ جنگل کی طرف نکل کھڑے ہوئے، یہاں ان کی نیک بخت بیوی صاحبہ نے جب دیکھا کہ میاں بھی پریشان حال ہیں اور یہ منظر دیکھ نہیں سکے اور چل دیئے تو چکی کو ٹھیک ٹھاک کیا، تنور سلگایا اور الله تعالیٰ سے دعا کرنے لگیں، اے اللہ! ہمیں روزی دے، دعا کر کے اٹھیں تو دیکھا کہ ہنڈیا گوشت سے پر ہے، تنور میں روٹیاں لگ رہی ہیں اور چکی سے برابر آٹا ابلا چلا آتا ہے، اتنے میں میاں صاحب بھی تشریف لائے، پوچھا کہ میرے بعد تمہیں کچھ ملا؟ بیوی صاحبہ نے کہا: ہاں! ہمارے رب نے ہمیں بہت کچھ عطا فرما دیا اس نے جا کر چکی کے دوسرے پاٹ کو اٹھا لیا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ واقعہ بیان ہو تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر وہ اسے نہ اٹھاتا تو قیامت تک یہ چکی چلتی ہی رہتی۔‏‏‏‏“ ۱؎ [مسند احمد:513/2:ضعیف] ‏‏‏‏
7۔ 1 یعنی دودھ پلانے والی عورتوں کو اجرت اپنی طاقت کے مطابق دی جائے اگر اللہ نے مال ودولت میں فراخی عطا فرمائی ہے تو اسی فراخی کے ساتھ مرضعۃ کی خدمت ضروری ہے۔ 7۔ 2 یعنی مالی لحاظ سے کمزور ہو۔ 7۔ 3 اس لیے وہ غریب اور کمزور کو یہ حکم نہیں دیتا کہ وہ دودھ پلانے والی کو زیادہ اجرت ہی دے۔ مطلب ان ہدایات کا یہ ہے کہ بچے کی ماں اور بچے کا باپ دونوں ایسا مناسب رویہ اختیار کریں کہ ایک دوسرے کو تکلیف نہ پہنچے اور بچے کو دودھ پلانے کا مسئلہ سنگین نہ جیسے دوسرے مقام پر فرمایا (لَا تُضَاۗرَّ وَالِدَةٌۢ بِوَلَدِھَا وَلَا مَوْلُوْدٌ لَّهٗ بِوَلَدِهٖ) 2۔ البقرۃ:233) نہ ماں کو بچے کی وجہ سے تکلیف پہنچائی جائے اور نہ باپ کو۔ 7۔ 4 چناچہ جو اللہ پر اعتماد وتوکل کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو آسانی و کشادگی سے بھی نواز دیتا ہے۔
(آیت 7) ➊ {لِيُنْفِقْ ذُوْ سَعَةٍ مِّنْ سَعَتِهٖ …:} اس سے معلوم ہوا کہ نفقہ میں بیوی کی حالت کا اعتبار نہیں کیا جائے گا، بلکہ خاوند کی حالت کے مطابق نفقہ واجب ہوگا۔ اگر خاوند وسعت والا اور مال دار ہے تو اس کے مطابق خرچ کرے گا اور اگر وہ تنگدست ہے تو اللہ نے اسے جو کچھ دیا ہے اس میں سے اپنی طاقت کے مطابق خرچ کرے۔ ➋ { سَيَجْعَلُ اللّٰهُ بَعْدَ عُسْرٍ يُّسْرًا:} اس میں اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ جو خاوند حسب مقدور وہ خرچے پورے کرتے ہیں جو ان کے ذمے ہیں اور ان میں بخل نہیں کرتے، تو اللہ تعالیٰ ان کے لیے تنگی کے بعد آسانی کی کوئی نہ کوئی صورت ضرور پیدا فرما دے گا۔ {” سَيَجْعَلُ “} میں ”سین“ استقبال کے علاوہ تاکید کا مفہوم بھی رکھتا ہے۔ {” عُسْرٍ “} اور {” يُسْرًا “} دونوں میں تنوین تنکیر کے لیے ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کے پاس آسانی پیدا کرنے کی بے شمار صورتیں ہیں، تنگی خواہ کسی قسم کی ہو اللہ تعالیٰ اس میں آسانی کی کوئی نہ کوئی صورت پیدا فرما سکتا ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ تنگی میں اپنی طاقت کے مطابق دریغ نہ کرے، اللہ تعالیٰ نے جو کچھ دیا ہے اس میں سے خرچ کرتا رہے، تو اللہ تعالیٰ تنگی کے بعد خواہ کوئی ہو ضرور ہی آسانی کی کوئی نہ کوئی صورت پیدا فرما دے گا، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏فَاِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا (5) اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا» ‏‏‏‏ [ الانشراح: 6،5 ] ”پس بے شک ہر مشکل کے ساتھ ایک آسانی ہے۔ بے شک اسی مشکل کے ساتھ ایک اور آسانی ہے۔“
وَ کَاَیِّنۡ مِّنۡ قَرۡیَۃٍ عَتَتۡ عَنۡ اَمۡرِ رَبِّہَا وَ رُسُلِہٖ فَحَاسَبۡنٰہَا حِسَابًا شَدِیۡدًا ۙ وَّ عَذَّبۡنٰہَا عَذَابًا نُّکۡرًا ﴿۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کتنی ہی بستیاں ہیں جنہوں نے اپنے رب اور اس کے رسولوں کے حکم سے سرتابی کی تو ہم نے ان سے سخت محاسبہ کیا اور ان کو بری طرح سزا دی
مولانا محمد جوناگڑھی
اور بہت سی بستی والوں نے اپنے رب کے حکم سے اور اس کے رسولوں سے سرتابی کی تو ہم نے بھی ان سے سخت حساب کیا اور انہیں عذاب دیا ان دیکھا (سخت) عذاب
احمد رضا خان بریلوی
اور کتنے ہی شہر تھے جنہوں نے اپنے رب کے حکم اور اس کے رسولوں سے سرکشی کی تو ہم نے ان سے سخت حسا ب لیا اور انہیں بری مار دی
علامہ محمد حسین نجفی
اور کتنی ہی ایسی بستیاں ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار اور اس کے رسولوں(ع) کے حکم سے سرتابی کی تو ہم نے انکا سخت محاسبہ کیا اور انہیں انوکھی (سخت) سزا دی۔
عبدالسلام بن محمد
اور کتنی ہی بستیاں ہیں جنھوں نے اپنے رب اور اس کے رسولوں کے حکم سے سرکشی کی تو ہم نے ان کا محاسبہ کیا، بہت سخت محاسبہ اور انھیں سزا دی، ایسی سزا جو دیکھنے سننے میں نہ آئی تھی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
شریعت پر چلنا ہی روشنی کا انتخاب ہے ٭٭

جو لوگ اللہ کے امر کا خلاف کریں، اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ مانیں، اس کی شریعت پر نہ چلیں انہیں ڈانٹا جا رہا ہے کہ دیکھو گزشتہ لوگوں میں سے بھی جو اس روش پر چلے وہ تباہ و برباد ہو گئے جنہوں نے سرتابی، سرکشی اور تکبر کیا حکم اللہ اور اتباع رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بے پرواہی برتی آخر انہیں سخت حساب دینا پڑا اور اپنی بدکرداری کا مزہ چکھنا پڑا۔ انجام کار نقصان اٹھایا، اس وقت نادم ہونے لگے، لیکن اب ندامت کس کام کی؟ پھر دنیا کے اس عذاب سے ہی اگر پلا پاک ہو جاتا تو جب بھی ایک بات تھی، نہیں تو پھر ان کے لیے آخرت میں بھی سخت تر عذاب اور بے پناہ مار ہے، اب اے سوچ سمجھ والو! چاہیئے کہ ان جیسے نہ بنو اور ان کے انجام سے عبرت حاصل کرو، اے عقلمند ایماندارو اللہ نے تمہاری طرف قرآن کریم نازل فرما دیا ہے۔ «ذکر» سے مراد قرآن ہے جیسے اور جگہ فرمایا «إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [15-الحجر:9] ‏‏‏‏، ’ ہم نے اس قرآن کو نازل فرمایا اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں ‘۔ اور بعض نے کہا ہے ذکر سے مراد یہاں رسول ہے چنانچہ ساتھ ہی فرمایا ہے «رَسُولًا» تو یہ بدل اشتمال ہے، چونکہ قرآن کے پہنچانے والے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں تو اس مناسبت سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لفظ «ذکر» سے یاد کیا گیا، امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی مطلب کو درست بتاتے ہیں۔ پھر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حالت بیان فرمائی کہ ’ وہ اللہ کی واضح اور روشن آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتے ہیں تاکہ مسلمان اندھیرں سے نکل آئیں اور روشنیوں میں پہنچ جائیں ‘، جیسے اور جگہ «‏‏‏‏الر كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ إِلَيْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ بِإِذْنِ رَبِّهِمْ إِلَىٰ صِرَاطِ الْعَزِيزِ الْحَمِيدِ» ۱؎ [14-ابراھیم:1] ‏‏‏‏ ’ اس کتاب کو ہم نے تجھے دیا ہے تاکہ تو لوگوں کو تاریکیوں سے روشنی میں لائے ‘۔ ایک اور جگہ ارشاد ہے «اللَّـهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا يُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ وَالَّذِينَ كَفَرُوا أَوْلِيَاؤُهُمُ الطَّاغُوتُ يُخْرِجُونَهُم مِّنَ النُّورِ إِلَى الظُّلُمَاتِ أُولَـٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ» ۱؎ [2-البقرة:257] ‏‏‏‏، ’ اللہ ایمان والوں کا کارساز ہے وہ انہیں اندھیروں سے اجالے کی طرف لاتا ہے ‘، یعنی کفر و جہالت سے ایمان و علم کی طرف، چنانچہ اور آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی نازل کردہ وحی کو نور فرمایا ہے کیونکہ اس سے ہدایت اور راہ راست حاصل ہوتی ہے اور اسی کا نام روح بھی رکھا ہے کیونکہ اس سے دلوں کی زندگی ملتی ہے۔ چنانچہ ارشاد باری ہے «وَكَذَٰلِكَ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ رُوحًا مِّنْ أَمْرِنَا مَا كُنتَ تَدْرِي مَا الْكِتَابُ وَلَا الْإِيمَانُ وَلَـٰكِن جَعَلْنَاهُ نُورًا نَّهْدِي بِهِ مَن نَّشَاءُ مِنْ عِبَادِنَا وَإِنَّكَ لَتَهْدِي إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ» ‏‏‏‏۱؎ [42-الشوریٰ:52] ‏‏‏‏ یعنی ’ ہم نے اسی طرح تیری طرف اپنے حکم سے روح کی وحی کی تو نہیں جانتا تھا کہ کتاب کیا ہے اور ایمان کیا ہے؟ لیکن ہم نے اسے نور کر دیا جس کے ساتھ ہم اپنے جس بندے کو چاہیں ہدایت کرتے ہیں، یقیناً تو صحیح اور سچی راہ کی رہبری کرتا ہے ‘۔ پھر ایمانداروں اور نیک اعمال والوں کا بدلہ بہتی نہروں والی ہمیشہ رہنے والی جنت بیان ہوا ہے جس کی تفسیر بارہا گزر چکی ہے۔
8۔ 1 عَتَتُ، ای تمردت وطغت و استکبرت عن اتباع امر اللہ تعالیٰ و متابعۃ رسلہ۔ 7۔ 2 نکرا، منکرا فظیعا، حساب اور عذاب، دونوں سے مراد دنیاوی مواخذہ اور سزا ہے یا پھر بقول بعض کلام میں تقدیم و تاخیر ہے۔ عذابا نکرا، وہ عذاب ہے جو دنیا میں قحط، خسف ومسخ وغیرہ کی شکل میں انہیں پہنچا، اور حسابا شدیدا وہ ہے جو آخرت میں ہوگا۔
(آیت 9،8) {وَ كَاَيِّنْ مِّنْ قَرْيَةٍ عَتَتْ عَنْ اَمْرِ رَبِّهَا وَ رُسُلِهٖ …: ” عَتَتْ”عَتَا يَعْتُوْ عُتُوًّا“} (ن) سے ماضی معلوم ہے، اصل میں {”عَتَوَتْ“ } ہے۔ {” نُكْرًا “} اجنبی، نہ پہچانا ہوا، جو نہ دیکھا ہو نہ سنا۔ اب تک اللہ تعالیٰ نے طلاق وغیرہ کے متعلق اپنے احکام کا ذکر فرمایا تھا، یہاں سے بتایا جا رہا ہے کہ پچھلی جن بستیوں نے اللہ اور اس کے رسولوں کے احکام سے سرکشی اختیار کی ان کا انجام کیا ہوا۔ مقصد مسلمانوں کو ان احکام کی اہمیت بتانا اور ان کی پابندی کی تلقین کرنا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پہلی اقوام کی بربادی میں شرک و کفر کے ساتھ ساتھ اللہ اور اس کے رسولوں کے ان تفصیلی احکام کی مخالفت بھی تھی جو زندگی کے ہر شعبے میں انھوں نے دیے، جس کی وجہ سے ان کے اندر حد سے بڑھی ہوئی سرکشی اور فساد پیدا ہوا۔ مثلاً جب انھوں نے شرک و کفر پر اصرار کے ساتھ نکاح و طلاق کے ضابطوں کی پابندی سے سرکشی اختیار کی تو زنا اور قوم لوط کا عمل عام ہوا، جس کی وجہ سے قتل و غارت کا بازار گرم ہوا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کا بہت سخت محاسبہ کیا اور انھیں ایسی سزا دی جو کسی نے نہ دیکھی تھی نہ سنی تھی۔ آج کے دور میں کفار نے شرک و کفر پر اصرار کے ساتھ ساتھ ان ضابطوں کی بھی شدید مخالفت اختیار کر رکھی ہے، جس کے نتیجے میں ان کا معاشرہ بے پناہ بداخلاقی، بدامنی اور قتل و غارت کا شکار ہو چکا ہے اور بری طرح ٹوٹ پھوٹ چکا ہے۔ اب ان کی کوشش یہ ہے کہ مسلمان بھی ان احکام سے آزاد ہو جائیں اور ان میں بھی زنا، قوم لوط کا عمل اور قتل و غارت پھیل جائے۔ اللہ تعالیٰ نے پہلی امتوں کے عذاب کا حوالہ دے کر مسلمانوں کو ان کے انجام سے ڈرایا ہے۔
فَذَاقَتۡ وَبَالَ اَمۡرِہَا وَ کَانَ عَاقِبَۃُ اَمۡرِہَا خُسۡرًا ﴿۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
انہوں نے اپنے کیے کا مزا چکھ لیا اور اُن کا انجام کار گھاٹا ہی گھاٹا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
پس انہوں نے اپنے کرتوت کا مزه چکھ لیا اور انجام کار ان کا خساره ہی ہوا
احمد رضا خان بریلوی
تو انہوں نے اپنے کیے کا وبال چکھا اور ان کے کام انجام گھاٹا ہوا،
علامہ محمد حسین نجفی
پس انہوں نے اپنے کئے (کرتوت) کا وبال چکھا اور ان کے کام کا انجام گھاٹا تھا۔
عبدالسلام بن محمد
تو انھوں نے اپنے کام کا وبال چکھا اور ان کے کام کا انجام خسارہ تھا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
شریعت پر چلنا ہی روشنی کا انتخاب ہے ٭٭

جو لوگ اللہ کے امر کا خلاف کریں، اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ مانیں، اس کی شریعت پر نہ چلیں انہیں ڈانٹا جا رہا ہے کہ دیکھو گزشتہ لوگوں میں سے بھی جو اس روش پر چلے وہ تباہ و برباد ہو گئے جنہوں نے سرتابی، سرکشی اور تکبر کیا حکم اللہ اور اتباع رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بے پرواہی برتی آخر انہیں سخت حساب دینا پڑا اور اپنی بدکرداری کا مزہ چکھنا پڑا۔ انجام کار نقصان اٹھایا، اس وقت نادم ہونے لگے، لیکن اب ندامت کس کام کی؟ پھر دنیا کے اس عذاب سے ہی اگر پلا پاک ہو جاتا تو جب بھی ایک بات تھی، نہیں تو پھر ان کے لیے آخرت میں بھی سخت تر عذاب اور بے پناہ مار ہے، اب اے سوچ سمجھ والو! چاہیئے کہ ان جیسے نہ بنو اور ان کے انجام سے عبرت حاصل کرو، اے عقلمند ایماندارو اللہ نے تمہاری طرف قرآن کریم نازل فرما دیا ہے۔ «ذکر» سے مراد قرآن ہے جیسے اور جگہ فرمایا «إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [15-الحجر:9] ‏‏‏‏، ’ ہم نے اس قرآن کو نازل فرمایا اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں ‘۔ اور بعض نے کہا ہے ذکر سے مراد یہاں رسول ہے چنانچہ ساتھ ہی فرمایا ہے «رَسُولًا» تو یہ بدل اشتمال ہے، چونکہ قرآن کے پہنچانے والے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں تو اس مناسبت سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لفظ «ذکر» سے یاد کیا گیا، امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی مطلب کو درست بتاتے ہیں۔ پھر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حالت بیان فرمائی کہ ’ وہ اللہ کی واضح اور روشن آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتے ہیں تاکہ مسلمان اندھیرں سے نکل آئیں اور روشنیوں میں پہنچ جائیں ‘، جیسے اور جگہ «‏‏‏‏الر كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ إِلَيْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ بِإِذْنِ رَبِّهِمْ إِلَىٰ صِرَاطِ الْعَزِيزِ الْحَمِيدِ» ۱؎ [14-ابراھیم:1] ‏‏‏‏ ’ اس کتاب کو ہم نے تجھے دیا ہے تاکہ تو لوگوں کو تاریکیوں سے روشنی میں لائے ‘۔ ایک اور جگہ ارشاد ہے «اللَّـهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا يُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ وَالَّذِينَ كَفَرُوا أَوْلِيَاؤُهُمُ الطَّاغُوتُ يُخْرِجُونَهُم مِّنَ النُّورِ إِلَى الظُّلُمَاتِ أُولَـٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ» ۱؎ [2-البقرة:257] ‏‏‏‏، ’ اللہ ایمان والوں کا کارساز ہے وہ انہیں اندھیروں سے اجالے کی طرف لاتا ہے ‘، یعنی کفر و جہالت سے ایمان و علم کی طرف، چنانچہ اور آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی نازل کردہ وحی کو نور فرمایا ہے کیونکہ اس سے ہدایت اور راہ راست حاصل ہوتی ہے اور اسی کا نام روح بھی رکھا ہے کیونکہ اس سے دلوں کی زندگی ملتی ہے۔ چنانچہ ارشاد باری ہے «وَكَذَٰلِكَ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ رُوحًا مِّنْ أَمْرِنَا مَا كُنتَ تَدْرِي مَا الْكِتَابُ وَلَا الْإِيمَانُ وَلَـٰكِن جَعَلْنَاهُ نُورًا نَّهْدِي بِهِ مَن نَّشَاءُ مِنْ عِبَادِنَا وَإِنَّكَ لَتَهْدِي إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ» ‏‏‏‏۱؎ [42-الشوریٰ:52] ‏‏‏‏ یعنی ’ ہم نے اسی طرح تیری طرف اپنے حکم سے روح کی وحی کی تو نہیں جانتا تھا کہ کتاب کیا ہے اور ایمان کیا ہے؟ لیکن ہم نے اسے نور کر دیا جس کے ساتھ ہم اپنے جس بندے کو چاہیں ہدایت کرتے ہیں، یقیناً تو صحیح اور سچی راہ کی رہبری کرتا ہے ‘۔ پھر ایمانداروں اور نیک اعمال والوں کا بدلہ بہتی نہروں والی ہمیشہ رہنے والی جنت بیان ہوا ہے جس کی تفسیر بارہا گزر چکی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اَعَدَّ اللّٰہُ لَہُمۡ عَذَابًا شَدِیۡدًا ۙ فَاتَّقُوا اللّٰہَ یٰۤاُولِی الۡاَلۡبَابِ ۬ۚۖۛ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا ؕ۟ۛ قَدۡ اَنۡزَلَ اللّٰہُ اِلَیۡکُمۡ ذِکۡرًا ﴿ۙ۱۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اللہ نے (آخرت میں) ان کے لیے سخت عذاب مہیا کر رکھا ہے پس اللہ سے ڈرو اے صاحب عقل لوگو جو ایمان لائے ہو اللہ نے تمہاری طرف ایک نصیحت نازل کر دی ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے سخت عذاب تیار کر رکھا ہے، پس اللہ سے ڈرو اے عقل مند ایمان والو۔ یقیناً اللہ نے تمہاری طرف نصیحت اتار دی ہے
احمد رضا خان بریلوی
اللہ نے ان کے لیے سخت عذاب تیار کر رکھا ہے تو اللہ سے ڈرو اے عقل والو! وہ جو ایمان لائے ہو، بیشک اللہ نے تمہارے لیے عزت اتاری ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اللہ نے (آخرت میں) ان کیلئے سخت عذاب تیار کر رکھا ہے تواللہ (کی مخالفت) سے ڈرو۔ اے عقلمندو جو ایمان لائے ہو خدا نے تمہاری طرف ذکر نازل کیا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اللہ نے ان کے لیے بہت سخت عذاب تیار کیا ہے، سو اللہ سے ڈرو اے عقلوں والو جو ایمان لائے ہو! یقینا اللہ نے تمھاری طرف ایک نصیحت نازل کی ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
شریعت پر چلنا ہی روشنی کا انتخاب ہے ٭٭

جو لوگ اللہ کے امر کا خلاف کریں، اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ مانیں، اس کی شریعت پر نہ چلیں انہیں ڈانٹا جا رہا ہے کہ دیکھو گزشتہ لوگوں میں سے بھی جو اس روش پر چلے وہ تباہ و برباد ہو گئے جنہوں نے سرتابی، سرکشی اور تکبر کیا حکم اللہ اور اتباع رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بے پرواہی برتی آخر انہیں سخت حساب دینا پڑا اور اپنی بدکرداری کا مزہ چکھنا پڑا۔ انجام کار نقصان اٹھایا، اس وقت نادم ہونے لگے، لیکن اب ندامت کس کام کی؟ پھر دنیا کے اس عذاب سے ہی اگر پلا پاک ہو جاتا تو جب بھی ایک بات تھی، نہیں تو پھر ان کے لیے آخرت میں بھی سخت تر عذاب اور بے پناہ مار ہے، اب اے سوچ سمجھ والو! چاہیئے کہ ان جیسے نہ بنو اور ان کے انجام سے عبرت حاصل کرو، اے عقلمند ایماندارو اللہ نے تمہاری طرف قرآن کریم نازل فرما دیا ہے۔ «ذکر» سے مراد قرآن ہے جیسے اور جگہ فرمایا «إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [15-الحجر:9] ‏‏‏‏، ’ ہم نے اس قرآن کو نازل فرمایا اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں ‘۔ اور بعض نے کہا ہے ذکر سے مراد یہاں رسول ہے چنانچہ ساتھ ہی فرمایا ہے «رَسُولًا» تو یہ بدل اشتمال ہے، چونکہ قرآن کے پہنچانے والے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں تو اس مناسبت سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لفظ «ذکر» سے یاد کیا گیا، امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی مطلب کو درست بتاتے ہیں۔ پھر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حالت بیان فرمائی کہ ’ وہ اللہ کی واضح اور روشن آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتے ہیں تاکہ مسلمان اندھیرں سے نکل آئیں اور روشنیوں میں پہنچ جائیں ‘، جیسے اور جگہ «‏‏‏‏الر كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ إِلَيْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ بِإِذْنِ رَبِّهِمْ إِلَىٰ صِرَاطِ الْعَزِيزِ الْحَمِيدِ» ۱؎ [14-ابراھیم:1] ‏‏‏‏ ’ اس کتاب کو ہم نے تجھے دیا ہے تاکہ تو لوگوں کو تاریکیوں سے روشنی میں لائے ‘۔ ایک اور جگہ ارشاد ہے «اللَّـهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا يُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ وَالَّذِينَ كَفَرُوا أَوْلِيَاؤُهُمُ الطَّاغُوتُ يُخْرِجُونَهُم مِّنَ النُّورِ إِلَى الظُّلُمَاتِ أُولَـٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ» ۱؎ [2-البقرة:257] ‏‏‏‏، ’ اللہ ایمان والوں کا کارساز ہے وہ انہیں اندھیروں سے اجالے کی طرف لاتا ہے ‘، یعنی کفر و جہالت سے ایمان و علم کی طرف، چنانچہ اور آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی نازل کردہ وحی کو نور فرمایا ہے کیونکہ اس سے ہدایت اور راہ راست حاصل ہوتی ہے اور اسی کا نام روح بھی رکھا ہے کیونکہ اس سے دلوں کی زندگی ملتی ہے۔ چنانچہ ارشاد باری ہے «وَكَذَٰلِكَ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ رُوحًا مِّنْ أَمْرِنَا مَا كُنتَ تَدْرِي مَا الْكِتَابُ وَلَا الْإِيمَانُ وَلَـٰكِن جَعَلْنَاهُ نُورًا نَّهْدِي بِهِ مَن نَّشَاءُ مِنْ عِبَادِنَا وَإِنَّكَ لَتَهْدِي إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ» ‏‏‏‏۱؎ [42-الشوریٰ:52] ‏‏‏‏ یعنی ’ ہم نے اسی طرح تیری طرف اپنے حکم سے روح کی وحی کی تو نہیں جانتا تھا کہ کتاب کیا ہے اور ایمان کیا ہے؟ لیکن ہم نے اسے نور کر دیا جس کے ساتھ ہم اپنے جس بندے کو چاہیں ہدایت کرتے ہیں، یقیناً تو صحیح اور سچی راہ کی رہبری کرتا ہے ‘۔ پھر ایمانداروں اور نیک اعمال والوں کا بدلہ بہتی نہروں والی ہمیشہ رہنے والی جنت بیان ہوا ہے جس کی تفسیر بارہا گزر چکی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 10) ➊ {اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ عَذَابًا شَدِيْدًا:} پچھلی آیات میں دنیا کے عذاب کا ذکر تھا، اس میں آخرت کے عذاب کا ذکر ہے۔ ➋ {فَاتَّقُوا اللّٰهَ يٰۤاُولِي الْاَلْبَابِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا:} یہ ”فاء“ فصیحہ ہے جو محذوف شرط کا اظہار کر رہی ہے، یعنی جب تم ان بستیوں کا حال سن چکے جنھوں نے اللہ اور اس کے رسولوں کے احکام سے سرکشی اختیار کی تو اے عقلوں والو جو ایمان لا چکے ہو! تم اللہ اور اس کے رسول کے احکام کی نافرمانی سے بچ جاؤ۔ ➌ {قَدْ اَنْزَلَ اللّٰهُ اِلَيْكُمْ ذِكْرًا:ذِكْرًا “} پر تنوین تعظیم کی ہے، عظیم نصیحت۔
رَّسُوۡلًا یَّتۡلُوۡا عَلَیۡکُمۡ اٰیٰتِ اللّٰہِ مُبَیِّنٰتٍ لِّیُخۡرِجَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوۡرِ ؕ وَ مَنۡ یُّؤۡمِنۡۢ بِاللّٰہِ وَ یَعۡمَلۡ صَالِحًا یُّدۡخِلۡہُ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَاۤ اَبَدًا ؕ قَدۡ اَحۡسَنَ اللّٰہُ لَہٗ رِزۡقًا ﴿۱۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ایک ایسا رسو ل جو تم کو اللہ کی صاف صاف ہدایت دینے والی آیات سناتا ہے تاکہ ایمان لانے والوں اور نیک عمل کرنے والوں کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لے آئے جو کوئی اللہ پر ایمان لائے اور نیک عمل کرے، اللہ اُسے ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی یہ لوگ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اللہ نے ایسے شخص کے لیے بہترین رزق رکھا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
(یعنی) رسول جو تمہیں اللہ کے صاف صاف احکام پڑھ سناتا ہے تاکہ ان لوگوں کو جو ایمان ﻻئیں اور نیک عمل کریں وه تاریکیوں سے روشنی کی طرف لے آئے، اور جو شخص اللہ پر ایمان ﻻئے اور نیک عمل کرے اللہ اسے ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جس کے نیچے نہریں جاری ہیں جن میں یہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ بیشک اللہ نے اسے بہترین روزی دے رکھی ہے
احمد رضا خان بریلوی
وہ رسول کہ تم پر اللہ کی روشن آیتیں پڑھتا ہے تاکہ انہیں جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے اندھیریوں سے اجالے کی طرف لے جائے، اور جو اللہ پر ایمان لائے اور اچھا کام کرے وہ اسے باغوں میں لے جائے گا جن کے نیچے نہریں بہیں جن میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں، بیشک اللہ نے اس کے لیے اچھی روزی رکھی
علامہ محمد حسین نجفی
یعنی ایک ایسا رسول(ص) جو اللہ کی واضح آیتیں تمہیں پڑھ کر سناتا ہے تاکہ ان لوگوں کو جو ایمان لائیں اور نیک عمل کریں (کفر و شرک) کی تاریکیوں سے نکال کر (ایمان کے) نور کی طرف لائے اور جو کوئی اللہ پر ایمان لائے گا اور نیک عمل کرے گا تواللہ اسے ایسے باغہائے بہشت میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہیں وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ بےشک اللہ نے ایسے (مؤمن) کو بہت اچھی روزی دی ہے۔
عبدالسلام بن محمد
جو ایسا رسول ہے کہ تمھارے سامنے اللہ کی واضح بیان کرنے والی آیات پڑھتا ہے، تا کہ وہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے، اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے آئے اور جو اللہ پر ایمان لائے اور نیک عمل کرے وہ اسے ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں، ان میں ہمیشہ رہنے والے ہیں ہمیشہ، بلاشبہ اللہ نے اس کے لیے اچھا رزق بنایا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
شریعت پر چلنا ہی روشنی کا انتخاب ہے ٭٭

جو لوگ اللہ کے امر کا خلاف کریں، اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ مانیں، اس کی شریعت پر نہ چلیں انہیں ڈانٹا جا رہا ہے کہ دیکھو گزشتہ لوگوں میں سے بھی جو اس روش پر چلے وہ تباہ و برباد ہو گئے جنہوں نے سرتابی، سرکشی اور تکبر کیا حکم اللہ اور اتباع رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بے پرواہی برتی آخر انہیں سخت حساب دینا پڑا اور اپنی بدکرداری کا مزہ چکھنا پڑا۔ انجام کار نقصان اٹھایا، اس وقت نادم ہونے لگے، لیکن اب ندامت کس کام کی؟ پھر دنیا کے اس عذاب سے ہی اگر پلا پاک ہو جاتا تو جب بھی ایک بات تھی، نہیں تو پھر ان کے لیے آخرت میں بھی سخت تر عذاب اور بے پناہ مار ہے، اب اے سوچ سمجھ والو! چاہیئے کہ ان جیسے نہ بنو اور ان کے انجام سے عبرت حاصل کرو، اے عقلمند ایماندارو اللہ نے تمہاری طرف قرآن کریم نازل فرما دیا ہے۔ «ذکر» سے مراد قرآن ہے جیسے اور جگہ فرمایا «إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [15-الحجر:9] ‏‏‏‏، ’ ہم نے اس قرآن کو نازل فرمایا اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں ‘۔ اور بعض نے کہا ہے ذکر سے مراد یہاں رسول ہے چنانچہ ساتھ ہی فرمایا ہے «رَسُولًا» تو یہ بدل اشتمال ہے، چونکہ قرآن کے پہنچانے والے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں تو اس مناسبت سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لفظ «ذکر» سے یاد کیا گیا، امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی مطلب کو درست بتاتے ہیں۔ پھر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حالت بیان فرمائی کہ ’ وہ اللہ کی واضح اور روشن آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتے ہیں تاکہ مسلمان اندھیرں سے نکل آئیں اور روشنیوں میں پہنچ جائیں ‘، جیسے اور جگہ «‏‏‏‏الر كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ إِلَيْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ بِإِذْنِ رَبِّهِمْ إِلَىٰ صِرَاطِ الْعَزِيزِ الْحَمِيدِ» ۱؎ [14-ابراھیم:1] ‏‏‏‏ ’ اس کتاب کو ہم نے تجھے دیا ہے تاکہ تو لوگوں کو تاریکیوں سے روشنی میں لائے ‘۔ ایک اور جگہ ارشاد ہے «اللَّـهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا يُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ وَالَّذِينَ كَفَرُوا أَوْلِيَاؤُهُمُ الطَّاغُوتُ يُخْرِجُونَهُم مِّنَ النُّورِ إِلَى الظُّلُمَاتِ أُولَـٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ» ۱؎ [2-البقرة:257] ‏‏‏‏، ’ اللہ ایمان والوں کا کارساز ہے وہ انہیں اندھیروں سے اجالے کی طرف لاتا ہے ‘، یعنی کفر و جہالت سے ایمان و علم کی طرف، چنانچہ اور آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی نازل کردہ وحی کو نور فرمایا ہے کیونکہ اس سے ہدایت اور راہ راست حاصل ہوتی ہے اور اسی کا نام روح بھی رکھا ہے کیونکہ اس سے دلوں کی زندگی ملتی ہے۔ چنانچہ ارشاد باری ہے «وَكَذَٰلِكَ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ رُوحًا مِّنْ أَمْرِنَا مَا كُنتَ تَدْرِي مَا الْكِتَابُ وَلَا الْإِيمَانُ وَلَـٰكِن جَعَلْنَاهُ نُورًا نَّهْدِي بِهِ مَن نَّشَاءُ مِنْ عِبَادِنَا وَإِنَّكَ لَتَهْدِي إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ» ‏‏‏‏۱؎ [42-الشوریٰ:52] ‏‏‏‏ یعنی ’ ہم نے اسی طرح تیری طرف اپنے حکم سے روح کی وحی کی تو نہیں جانتا تھا کہ کتاب کیا ہے اور ایمان کیا ہے؟ لیکن ہم نے اسے نور کر دیا جس کے ساتھ ہم اپنے جس بندے کو چاہیں ہدایت کرتے ہیں، یقیناً تو صحیح اور سچی راہ کی رہبری کرتا ہے ‘۔ پھر ایمانداروں اور نیک اعمال والوں کا بدلہ بہتی نہروں والی ہمیشہ رہنے والی جنت بیان ہوا ہے جس کی تفسیر بارہا گزر چکی ہے۔
11۔ 1 رسول، ذکر سے بدل ہے، بطور مبالغہ رسول کو ذکر سے تعبیر فرمایا، جیسے کہتے ہیں، وہ مجسم عدل ہے۔ یا ذکر سے مراد قرآن ہے اور رسولاً سے پہلے اَرْسَلْنَا محذوف ہے یعنی ذکر (قرآن) کو نازل کیا اور رسول کو ارسال کیا۔ 11۔ 2 یہ رسول کا منصب اور فریضہ بیان کیا گیا کہ وہ قرآن کے ذریعے سے لوگوں کو اخلاقی پستیوں سے شرک و ضلالت کی تاریکیوں سے نکال کر ایمان و عمل صالح کی روشنی کی طرف لاتا ہے۔ رسول سے یہاں مراد الرسول یعنی حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ 11۔ 3 عمل صالح میں دونوں باتیں شامل ہیں احکام و فرائض کی ادائیگی اور معصیات ومنہیات سے اجتناب، مطلب ہے کہ جنت میں وہی اہل ایمان داخل ہوں گے، جنہوں نے صرف زبان سے ہی ایمان کا اظہار نہیں کیا تھا، بلکہ انہوں نے ایمان کے تقاضوں کے مطابق فرائض پر عمل اور معاصی سے اجتناب کیا تھا۔
(آیت 11) ➊ {رَسُوْلًا يَّتْلُوْا عَلَيْكُمْ اٰيٰتِ اللّٰهِ مُبَيِّنٰتٍ:” رَسُوْلًا “} پچھلی آیت میں مذکور{” ذِكْرًا “} سے بدل ہے، یعنی یقینا اللہ تعالیٰ نے تمھاری طرف عظیم ذکر نازل کیا ہے جو رسول ہے، یعنی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود سراپا نصیحت ہے کہ اس کا قول، فعل، حال اور تقریر سب نصیحت ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ سورۂ حجر (۹) میں اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا ہے: «‏‏‏‏اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ» ‏‏‏‏ (بے شک ہم نے ہی یہ نصیحت نازل کی ہے اور بے شک ہم اس کی ضرور حفاظت کرنے والے ہیں) اس میں {” الذِّكْرَ “} سے مراد صرف قرآن مجید نہیں بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل شدہ ساری وحی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی بھی حفاظت فرمائی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال و افعال اور احوال و تقریرات کی بھی حفاظت فرمائی ہے۔ ➋ { لِيُخْرِجَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ …:} اس کی وضاحت کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ (۲۵۷) کی تفسیر۔
اَللّٰہُ الَّذِیۡ خَلَقَ سَبۡعَ سَمٰوٰتٍ وَّ مِنَ الۡاَرۡضِ مِثۡلَہُنَّ ؕ یَتَنَزَّلُ الۡاَمۡرُ بَیۡنَہُنَّ لِتَعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ۬ۙ وَّ اَنَّ اللّٰہَ قَدۡ اَحَاطَ بِکُلِّ شَیۡءٍ عِلۡمًا ﴿٪۱۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان بنائے اور زمین کی قسم سے بھی اُنہی کے مانند ان کے درمیان حکم نازل ہوتا رہتا ہے (یہ بات تمہیں اس لیے بتائی جا رہی ہے) تاکہ تم جان لو کہ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے، اور یہ کہ اللہ کا علم ہر چیز پر محیط ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اللہ وه ہے جس نے سات آسمان بنائے اور اسی کے مثل زمینیں بھی۔ اس کا حکم ان کے درمیان اترتا ہے تاکہ تم جان لو کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو بہ اعتبار علم گھیر رکھا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اللہ ہے جس نے سات آسمان بنائے اور انہی کی برابر زمینیں حکم ان کے درمیان اترتا ہے تاکہ تم جان لو کہ اللہ سب کچھ کرسکتا ہے، اللہ کا علم ہر چیز کو محیط ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان پیدا کئے اور انہی کی طرح زمین بھی ان کے درمیان حکم (خدا) نازل ہوتا رہتا ہے تاکہ تمہیں معلوم ہو کہ اللہ ہر چیز پر بڑی قدرت رکھتا ہے اور یہ کہ اللہ نے ہر چیز کا (علمی) احاطہ کر رکھا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان پیدا کیے اور زمین سے بھی ان کی مانند ۔ ان کے درمیان حکم نازل ہوتا ہے، تاکہ تم جان لو کہ اللہ ہر چیز پر خوب قدرت رکھنے والا ہے اور یہ کہ اللہ نے یقینا ہر چیز کو علم سے گھیر رکھا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
حیرت، افزا شان ذوالجلال ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کاملہ اور اپنی عظیم الشان سلطنت کا ذکر فرماتا ہے تاکہ مخلوق اس کی عظمت و عزت کا خیال کر کے اس کے فرمان کو قدر کی نگاہ سے دیکھے اور اس پر عامل بن کر اسے خوش کرے، تو فرمایا کہ ’ ساتوں آسمانوں کا خلاق اللہ تعالیٰ ہے ‘، جیسے نوح علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا تھا «‏‏‏‏أَلَمْ تَرَوْا كَيْفَ خَلَقَ اللَّـهُ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ طِبَاقًا» ۱؎ [71-نوح:15] ‏‏‏‏ ’ کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ پاک نے ساتوں آسمانوں کس طرح اوپر تلے پیدا کیا ہے؟ ‘ اور جگہ ارشاد ہے «‏‏‏‏تُسَبِّحُ لَهُ السَّمَاوَاتُ السَّبْعُ وَالْأَرْضُ وَمَن فِيهِنَّ» ۱؎ [17-الاسراء:44] ‏‏‏‏ یعنی ’ ساتوں آسمان اور زمین اور ان میں جو کچھ ہے سب اس اللہ کی تسبیح پڑھتے رہتے ہیں ‘۔ پھر فرماتا ہے ’ اسی کے مثال زمینیں ہیں ‘۔ جیسے کہ بخاری و مسلم کی صحیح حدیث میں ہے { جو شخص ظلم کر کے کسی کی ایک بالشت بھر زمین لے لے گا اسے ساتوں زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3196] ‏‏‏‏ صحیح بخاری میں ہے { اسے ساتویں زمین تک دھنسایا جائے گا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3196] ‏‏‏‏ میں نے اس کی تمام سندیں اور کل الفاظ ابتداء اور انتہا میں زمین کی پیدائش کے ذکر میں بیان کر دیئے ہیں۔ «فَالْحَمْدُ لِلَّـهِ» جن بعض لوگوں نے کہا ہے کہ اس سے مراد ہفت اقلیم ہے انہوں نے بے فائدہ دوڑ بھاگ کی ہے اور اختلاف بے جا میں پھنس گئے ہیں اور بلا دلیل قرآن حدیث کا صریح خلاف کیا ہے۔ سورۃ الحدید میں آیت «هُوَ الْاَوَّلُ وَالْاٰخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ» ۱؎ [57- الحديد:3] ‏‏‏‏، کی تفسیر میں ساتوں زمینوں کا اور ان کے درمیان کی دوری کا اور ان کی موٹائی کا جو پانچ سو سال کی ہے پورا بیان ہو چکا ہے، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ وغیرہ بھی یہی فرماتے ہیں۔ ایک اور حدیث میں بھی ہے { ساتوں آسمان اور جو کچھ ان میں اور ان کے درمیان ہے اور ساتوں زمینیں اور جو کچھ ان میں اور ان کے درمیان ہے کرسی کے مقابلہ میں ایسے ہیں جیسے کسی لمبے چوڑے بہت بڑے چٹیل میدان میں ایک چھلا پڑا ہو }۔ ۱؎ [البدایة و والنهایة:14/1] ‏‏‏‏ ابن جریر میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”اگر میں اس کی تفسیر تمہارے سامنے بیان کروں تو اسے نہ مانو گے اور نہ ماننا جھوٹا جاننا ہے۔‏‏‏‏“ اور روایت میں ہے کہ کسی شخص نے اس آیت کا مطلب پوچھا تھا اس پر آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا کہ ”میں کیسے باور کر لوں کہ جو میں تجھے بتاؤں گا تو اس کا انکار کرے گا؟“

اور روایت میں مروی ہے کہ ہر زمین میں مثل ابراہیم علیہ السلام کے اور اس زمین کی مخلوق کے ہے اور ابن مثنی والی اس روایت میں آیا ہے ہر آسمان میں مثل ابراہیم علیہ السلام کے ہے۔ بیہقی کی کتاب «الْاَسْمَاءُ والصَّفَات» میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ ساتوں زمینوں میں سے ہر ایک میں نبی ہے مثل تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اور آدم ہیں مثل آدم علیہ السلام کے اور نوح ہیں مثل نوح علیہ السلام کے اور ابراہیم ہیں مثل ابراہیم علیہ السلام کے اور عیسیٰ ہیں مثل عیسیٰ علیہ السلام کے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:145/12] ‏‏‏‏ پھر امام بیہقی نے ایک اور روایت بھی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی وارد کی ہے اور فرمایا ہے اس کی اسناد صحیح ہے لیکن یہ بالکل شاذ ہے ابوالضحیٰ جو اس کے ایک راوی ہیں میرے علم میں تو ان کی متابعت کوئی نہیں کرتا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

مخلوق خدا میں غور و خوض ٭٭

ایک مرسل اور بہت ہی منکر روایت ابن ابی الدنیا لائے ہیں جس میں مروی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کے مجمع میں تشریف لائے دیکھا کہ سب کسی غور و فکر میں چپ چاپ ہیں، پوچھا: ”کیا بات ہے؟“ جواب ملا، اللہ کی مخلوق کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ فرمایا: ”ٹھیک ہے مخلوقات پر نظریں دوڑاؤ لیکن کہیں اللہ کی بابت غور و خوض میں نہ پڑ جانا، سنو اس مغرب کی طرف ایک سفید زمین ہے اس کی سفیدی اس کا نور ہے“ یا فرمایا ”اس کا نور اس کی سفیدی ہے، سورج کا راستہ چالیس دن کا ہے، وہاں اللہ کی ایک مخلوق ہے جس نے ایک آنکھ جھکپنے کے برابر بھی کبھی اس کی نافرمانی نہیں کی“ صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین نے کہا: پھر شیطان ان سے کہاں ہیں؟ فرمایا: ”انہیں یہ بھی نہیں معلوم کہ شیطان پیدا بھی کیا گیا ہے یا نہیں؟“ پوچھا: کیا وہ بھی انسان ہیں؟ فرمایا: ”انہیں آدم علیہ السلام کی پیدائش کا بھی علم نہیں“ } [كتابه التفكر والاعتبار:منکر] ‏‏‏‏ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» سورۃ الطلاق کی تفسیر بھی پوری ہوئی۔
12۔ 1 ای خلق من الارض مثلھن۔ یعنی سات آسمانوں کی طرح، اللہ نے سات زمینیں بھی پیدا کی ہیں۔ بعض نے اس سے سات اقالیم مراد لیے ہیں، لیکن یہ صحیح نہیں۔ بلکہ جس طرح اوپر نیچے سات آسمان ہیں۔ اسی طرح سات زمینیں ہیں، جن کے درمیان بعد و مسافت ہے اور ہر زمین میں اللہ کی مخلوق آباد ہے۔ (القرطبی) احادیث سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا من اخذ شبرا من الارض ظلاما فانہ یطوقہ یوم القیامۃ من سبع ارضین (صحیح مسلم) جس نے کسی کی ایک بالشت زمین بھی ہتھیالی تو قیامت والے دن اس زمین کا اتنا حصہ ساتوں زمینوں سے طوق بنا کر اس کے گلے میں ڈال دیا جائے گا۔ (صحیح بخاری) اور صحیح بخاری کے الفاظ ہیں خسف بہ الی سبع ارضین یعنی اس کو ساتوں زمینوں تک دھنسا دیا جائے گا۔ بعض یہ بھی کہتے ہیں کہ ہر زمین میں اسی طرح کا پیغمبر ہے جس طرح کا پیغمبر تمہاری زمین پر آیا مثلاً آدم آدم کی طرح، نوح نوح کی طرح، ابراہیم ابراہیم کی طرح، عیسیٰ عیسیٰ کی طرح۔ لیکن یہ بات کسی صحیح روایت سے ثابت نہیں۔ 12۔ 2 یعنی جس طرح ہر آسمان پر اللہ کا حکم نافذ اور غالب ہے، اسی طرح ہر زمین پر اس کا حکم چلتا ہے، آسمانوں کی طرح ساتوں زمینوں کی بھی وہ تدبیر فرماتا ہے۔ 12۔ 3 پس اس کے علم سے کوئی چیز باہر نہیں، چاہے وہ کیسی ہی ہو۔
(آیت 12) ➊ { اَللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ …:} سورت کے آخر میں اس کے اندر مذکور احکام کی عظمت کی طرف توجہ دلانے کے لیے آسمان و زمین کی پیدائش، ان میں اپنے اوامر کے نزول اور اپنے علم و قدرت کا ذکر فرمایا، تاکہ یہ بات مد نظر رہے کہ یہ احکام دینے والا کون ہے۔ بارہ (۱۲) آیات پر مشتمل اس سورت میں اللہ تعالیٰ کا ذکر اس کے تقویٰ کے ساتھ شروع ہوا ہے جو اس کے نام، اس کی ضمیر اور اس کی طرف نسبت کی صورت میں تقریباً تیس (۳۰) مرتبہ آیا ہے اور آخر میں پھر اس عظیم ہستی کا تعارف ان صفات کے ساتھ دہرایا ہے۔ (ابن عاشور) ➋ {خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ:} سات آسمانوں کی کیفیت تو اللہ تعالیٰ نے خود بیان فرمائی ہے کہ وہ ایک دوسرے کے اوپر تہ بہ تہ ہیں، جیساکہ فرمایا: «‏‏‏‏اَلَمْ تَرَوْا كَيْفَ خَلَقَ اللّٰهُ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا» ‏‏‏‏ [ نوح: ۱۵ ] ”کیا تم نے نہیں دیکھا کہ کس طرح اللہ نے سات آسمانوں کو اوپر تلے پیدا کیا۔“ ➌ { وَ مِنَ الْاَرْضِ مِثْلَهُنَّ:} قرآن مجید میں آسمان کا ذکر واحد کے صیغے {” السَّمَاۤءُ “} کے ساتھ بھی آیا ہے اور جمع کے صیغے {” سَمٰوٰتٍ “ } کے ساتھ بھی، مگر زمین کا ذکر واحد کے صیغے کے ساتھ ہی آیا ہے، آسمانوں کی طرح اوپر تلے سات زمینیں ہونے کا ذکر نہیں فرمایا۔ یہاں فرمایا اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان پیدا کیے اور زمین سے بھی ان کی مثل یعنی مانند۔ مانند ہونے کا ایک مطلب تو یہ ہو سکتا ہے کہ زمین بھی اپنی عظمت، برکت، آبادی اور کُرویت (گول ہونے) میں آسمانوں کی طرح ہے۔ دوسرا مطلب جو اکثر مفسرین نے مراد لیا ہے، یہ ہے کہ سات آسمانوں کی طرح زمینیں بھی اوپر تلے سات ہیں۔ اس کی دلیل میں وہ صحیح حدیث پیش کی ہے جو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما نے بیان فرمائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مَنْ أَخَذَ مِنَ الْأَرْضِ شَيْئًا بِغَيْرِ حَقِّهِ خُسِفَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلٰي سَبْعِ أَرَضِيْنَ ] [ بخاري، المظالم، باب إثم من ظلم شیئا من الأرض: ۲۴۵۴ ] ”جو شخص زمین میں سے کچھ بھی اس کے حق کے بغیر لے گا اسے قیامت کے دن سات زمینوں تک دھنسایا جائے گا۔“ حدیث میں مذکور سات زمینوں سے مراد تو ظاہر ہے کہ اسی زمین کے سات طبقات ہیں جس پر ہم رہتے ہیں، لیکن کیا آیت میں مذکور سات زمینوں سے بھی یہی طبقات مراد ہیں یا ہماری زمین جیسی اور چھ زمینیں ہیں، یہ بات اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ کائنات کی بے پناہ وسعتوں کو دیکھیں تو کچھ بعید نہیں کہ ہماری زمین جیسی اور زمینیں بھی ہوں جو ہماری زمین ہی کی طرح آباد ہوں، جیسا کہ فرمایا: «وَ مَا یَعْلَمُ جُنُوْدَ رَبِّکَ اِلَّا ھُوَ» ‏‏‏‏ [ المدثر: ۳۱ ] ”اور تیرے رب کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔“ اور اللہ تعالیٰ نے اکیلے ہی آسمان و زمین کو پیدا فرمایا، کوئی اس وقت موجود نہ تھا کہ ان کے اسرار سے پوری طرح واقف ہو، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏مَاۤ اَشْهَدْتُّهُمْ خَلْقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ» [ الکھف: ۵۱ ] ”میں نے انھیں آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے میں حاضر نہیں کیا۔“ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایجاد کا جو سلیقہ عطا فرمایا ہے جس سے بڑی بڑی طاقتور دوربینیں ایجاد ہوئی ہیں، ہیئت دان ان کے ساتھ کائنات کا مشاہدہ کرتے ہیں تو ہر دن نئے سے نیا انکشاف ہوتا ہے۔ ہمارے لیے اتنی بات ہی کافی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سات آسمانوں کی طرح زمینیں بھی سات پیدا فرمائی ہیں۔ رہی ان کی کیفیت اور متعین مراد، تو وہ اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ اس نے اسے مجمل رکھا ہے تو اس میں ہماری بہتری ہے، کیونکہ اگر اس کی واقعی کیفیت بیان ہوتی تو اپنی ذہنی نارسائی کی وجہ سے ممکن تھا کہ کئی لوگ انکار ہی کر دیتے۔ ➍ {يَتَنَزَّلُ الْاَمْرُ بَيْنَهُنَّ:} اللہ تعالیٰ کا امر دو قسم کا ہے، ایک امر کونی ہے، یعنی وہ جس چیز کا ارادہ کرتا ہے اسے {” كُنْ“} (ہو جا) کہتا ہے تو وہ ہوجاتی ہے اور ایک امر شرعی ہے، یعنی اللہ تعالیٰ فرشتوں کے ذریعے سے اپنے احکام نازل فرماتا رہتا ہے، یعنی آسمانوں اور زمینوں کے درمیان اللہ تعالیٰ کے اوامر کونی اور اوامر شرعی اترتے رہتے ہیں۔ اس میں بھی اس سورت میں مذکور احکام کی اہمیت کا اظہار ہو رہا ہے کہ وہ ان عظیم الشان آسمانوں اور زمینوں کے خالق و مالک کے احکام ہیں۔ ➎ { لِتَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ وَّ اَنَّ اللّٰهَ قَدْ اَحَاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْمًا:} یعنی زمین و آسمان کی پیدائش کی یہ بات تمھیں اس لیے بتائی ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی ہر چیز پر پوری قدرت کو اور اس کے ہر چیز پر علم کے ساتھ احاطے کو جان لو۔ پھر جب تم اس کی قدرت اور علم سے واقف ہو جاؤ گے تو اس کے احکام کی نافرمانی کی جرأت نہیں کرو گے۔