بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ طه — Surah Taha
آیت نمبر 97
کل آیات: 135
قرآن کریم طه آیت 97
آیت نمبر: 97 — سورۃ طه islamicurdubooks.com ↗
قَالَ فَاذۡہَبۡ فَاِنَّ لَکَ فِی الۡحَیٰوۃِ اَنۡ تَقُوۡلَ لَا مِسَاسَ ۪ وَ اِنَّ لَکَ مَوۡعِدًا لَّنۡ تُخۡلَفَہٗ ۚ وَ انۡظُرۡ اِلٰۤی اِلٰـہِکَ الَّذِیۡ ظَلۡتَ عَلَیۡہِ عَاکِفًا ؕ لَنُحَرِّقَنَّہٗ ثُمَّ لَنَنۡسِفَنَّہٗ فِی الۡیَمِّ نَسۡفًا ﴿۹۷﴾
موسیٰؑ نے کہا " اچھا تو جا، اب زندگی بھر تجھے یہی پکارتے رہنا ہے کہ مجھے نہ چھونا اور تیرے لیے بازپُرس کا ایک وقت مقرر ہے جو تجھ سے ہرگز نہ ٹلے گا اور دیکھ اپنے اِس خدا کو جس پر تو ریجھا ہُوا تھا، اب ہم اسے جلا ڈالیں گے اور ریزہ ریزہ کر کے دریا میں بہا دیں گے
کہا اچھا جا دنیا کی زندگی میں تیری سزا یہی ہے کہ تو کہتا رہے کہ مجھے نہ چھونا، اور ایک اور بھی وعده تیرے ساتھ ہے جو تجھ سے ہر گز نہ ٹلے گا، اور اب تو اپنے اس معبود کو بھی دیکھ لینا جس کا اعتکاف کیے ہوئے تھا کہ ہم اسے جلا کر دریا میں ریزه ریزه اڑا دیں گے
کہا تو چلتا بن کہ دنیا کی زندگی میں تیری سزا یہ ہے کہ تو کہے چھو نہ جا اور بیشک تیرے لیے ایک وعدہ کا وقت ہے جو تجھ سے خلاف نہ ہوگا اور اپنے اس معبود کو دیکھ جس کے سامنے تو دن بھر آسن مارے (پوجا کے لیے بیٹھا) رہا قسم ہے ہم ضرور اسے جلائیں گے پھر ریزہ ریزہ کرکے دریا میں بہائیں گے
موسیٰ نے کہا جا چلا جا! تیرے لئے اس زندگی میں یہ (سزا) ہے کہ تو کہتا رہے گا کہ مجھے کوئی نہ چھوئے (کہ میں اچھوت ہوں) اور تیرے لئے (آخرت میں عذاب) کا ایک وعدہ ہے جو تجھ سے ٹلنے والا نہیں ہے۔ اور اب دیکھ اپنے اس معبود کو جس کی پرستش پر تو جما بیٹھا رہا۔ ہم (پہلے) اسے جلائیں گے اور پھر اس کی راکھ کو اڑا کر سمندر میں بہائیں گے۔
کہا پس جا کہ بے شک تیرے لیے زندگی بھر یہ ہے کہ کہتا رہے ’’ایک دوسرے کو چھونا نہیں‘‘ اور بے شک تیرے لیے ایک اور بھی وعدہ ہے جس کی خلاف ورزی تجھ سے ہرگز نہ کی جائے گی اور اپنے معبود کو دیکھ جس پر تومجاور بنا رہا، یقینا ہم اسے ضرور اچھی طرح جلائیں گے، پھر یقینا اسے ضرور سمندر میں اڑا دیں گے، اڑانا اچھی طرح۔

📖 تفسیر ابن کثیر

گائے پرست سامری اور بچھڑا ٭٭

موسیٰ علیہ السلام نے سامری سے پوچھا کہ تو نے یہ فتنہ کیوں اٹھایا؟ یہ شخص باجرو کا رہنے والا تھا، اس کی قوم گائے پرست تھی۔ اس کے دل میں گائے کی محبت گھر کئے ہوئے تھی۔ اس نے بنی اسرائیل کے ساتھ اپنے ایمان کا اظہار کیا تھا۔ اس کا نام موسیٰ بن ظفر تھا۔ ایک روایت میں ہے، یہ کرمانی تھا۔ ایک روایت میں ہے، اس کی بستی کا نام سامرا تھا۔ اس نے جواب دیا کہ جب فرعون کی ہلاکت کے لیے جبرائیل علیہ السلام آئے تو میں نے ان کے گھوڑے کے ٹاپ تلے کی تھوڑی سی مٹی اٹھا لی۔ اکثر مفسرین کے نزدیک مشہور بات یہی ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب جبرائیل علیہ السلام آئے اور موسیٰ علیہ السلام کو لے کر چڑھنے لگے تو سامری نے دیکھ لیا۔ اس نے جلدی سے ان کے گھوڑے کے سم تلے کی مٹی اٹھا لی۔ موسیٰ علیہ السلام کو جبرائیل علیہ السلام آسمان تک لے گئے، اللہ تعالیٰ نے تورات لکھی، موسیٰ علیہ السلام قلم کی تحریر کی آواز سن رہے تھے لیکن جب آپ کو اپنی قوم کی مصیبت معلوم ہوئی تو نیچے اتر آئے اور اس بچھڑے کو جلا دیا۔ لیکن اس اثر کی سند غریب ہے۔ اسی خاک کی چٹکی یا مٹھی کو اس نے بنی اسرائیل کے جمع کردہ زیوروں کے جلنے کے وقت ان میں ڈال دی۔ جو بصورت بچھڑا بن گئے اور چونکہ بیچ میں خلا تھا، وہاں سے ہوا گھستی تھی اور اس سے آواز نکلتی تھی۔ جبرائیل علیہ السلام کو دیکھتے ہی اس کے دل میں خیال گزرا تھا کہ میں ان کے گھوڑے کے ٹاپوں تلے کی مٹی اٹھا لوں، میں جو چاہوں گا، وہ اس مٹی کے ڈالنے سے بن جائے گا۔ اس کی انگلیاں اسی وقت سوکھ گئی تھیں۔ جب بنی اسرائیل نے دیکھا کہ ان کے پاس فرعونیوں کے زیورات رہ گئے اور فرعونی ہلاک ہو گئے اور یہ اب ان کو واپس نہیں ہو سکتے تو غمزدہ ہونے لگے۔ سامری نے کہا، دیکھو اس کی وجہ سے تم پر مصیبت نازل ہوئی ہے، اسے جمع کر کے آگ لگا دو۔ جب وہ جمع ہو گئے اور آگ سے پگھل گئے تو اس کے جی میں آئی کہ وہ خاک اس پر ڈال دے اور اسے بچھڑے کی شکل میں بنا لے چنانچہ یہی ہوا۔ اور اس نے کہہ دیا کہ تمہارا اور موسیٰ علیہ السلام کا رب یہی ہے۔ یہی وہ جواب دے رہا ہے کہ میں نے اسے ڈال دیا اور میرے دل نے یہی ترکیب مجھے اچھی طرح سمجھا دی۔

کلیم اللہ علیہ السلام نے فرمایا، تو نے نہ لینے کی چیز کو ہاتھ لگایا، تیری سزا دنیا میں یہی ہے کہ اب نہ تو تو کسی کو ہاتھ لگا سکے نہ کوئی اور تجھے ہاتھ لگا سکے۔ باقی سزا تیری قیامت کو ہو گی جس سے چھٹکارا محال ہے۔ ان کے بقایا اب تک یہی کہتے ہیں کہ نہ چھونا۔ اب تو اپنے معبود کا حشر بھی دیکھ لے جس کی عبادت پر اوندھا پڑا ہوا تھا کہ ہم اسے جلا کر راکھ کر دیتے ہیں چنانچہ وہ سونے کا بچھڑا اس طرح جل گیا جیسے خون اور گوشت والا بچھڑا جلے۔ پھر اس کی راکھ کو تیز ہوا میں دریا میں ذرہ ذرہ کر کے اڑا دیا۔ مروی ہے کہ اس نے بنی اسرائیل کی عورتوں کے زیور جہاں تک اس کے بس میں تھے لیے ان کا بچھڑا بنایا جسے موسیٰ علیہ السلام نے جلا دیا اور دریا میں اس کی خاک بہا دی۔ جس نے بھی اس کا پانی پیا، اس کا چہرہ زرد پڑ گیا، اس سے سارے گئوسالہ پرست معلوم ہو گئے۔ اب انہوں نے توبہ کی اور موسیٰ علیہ السلام سے دریافت کیا کہ ہماری توبہ کیسے قبول ہو گی؟ حکم ہوا کہ ایک دوسرے کو قتل کرو۔ اس کا پورا بیان پہلے گزر چکا ہے۔ پھر آپ نے فرمایا کہ تمہارا معبود یہ نہیں۔ مستحق عبادت تو صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ باقی تمام جہان اس کا محتاج ہے اور اس کے ماتحت ہے۔ وہ ہرچیز کا عالم ہے، اس کے علم نے تمام مخلوق کا احاطہٰ کر رکھا ہے، ہرچیز کی گنتی اسے معلوم ہے۔ ایک ذرہ بھی اس کے علم سے باہر نہیں، ہر پتے کا اور ہر دانے کا اسے علم ہے بلکہ اس کے پاس کی کتاب میں وہ لکھا ہوا موجود ہے۔ زمین کے تمام جانداروں کو روزیاں وہی پہنچاتا ہے، سب کی جگہ اسے معلوم ہے، سب کچھ کھلی اور واضح کتاب میں لکھا ہوا ہے۔ علم الٰہی محیط کل اور سب کو حاوی ہے۔ اس مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں۔

📖 احسن البیان

97۔ 1 یعنی عمر بھر تو یہی کہتا رہے گا کہ مجھ سے دور رہو، مجھے نہ چھونا، اس لئے کہ اسے چھو تے ہی چھونے والا بھی اور یہ سامری بھی دونوں بخار میں مبتلا ہوجاتے۔ اس لئے جب کسی انسان کو دیکھتا تو فوراً چیخ اٹھتا کہا جاتا ہے کہ پھر یہ انسانوں کی بستی سے نکل کر جنگل میں چلا گیا، جہاں جانوروں کے ساتھ اس کی زندگی گزری اور یوں عبرت کا نمونہ بنا رہا، گویا لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے جو شخص جتنا زیادہ حیلہ و فن اور مکر و فریب اختیار کرے گا، دنیا اور آخرت میں اس کی سزا بھی اسی حساب سے شدید تر اور نہایت عبرت ناک ہوگی۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 97) ➊ {قَالَ فَاذْهَبْ فَاِنَّ لَكَ فِي الْحَيٰوةِ …:” مِسَاسَ “ ” قَاتَلَ يُقَاتِلُ مَقَاتَلَةً وَ قِتَالًا “} کی طرح باب مفاعلہ کا مصدر ہے جس میں مشارکت پائی جاتی ہے، یعنی ایک دوسرے کو چھونا، ہاتھ لگانا۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے وہ زندگی بھر کے لیے ایسی بیماری اور عذاب میں مبتلا ہوا کہ وہ کسی کو ہاتھ لگاتا یا کوئی اسے ہاتھ لگاتا، دونوں صورتوں میں اسے شدید تکلیف ہوتی، جس کی حقیقت اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ وہ اس سے بچنے کے لیے خود ہی کہتا پھرتا کہ نہ میں تمھیں ہاتھ لگاتا ہوں اور نہ تم مجھے ہاتھ لگاؤ۔ بعض تابعین نے کہا ہے کہ ہاتھ لگنے کی صورت میں سامری اور دوسرے شخص دونوں کو بخار چڑھ جاتا تھا، مگر انھوں نے اس خبر کا ذریعہ نہیں بتایا۔ زندگی ہی میں تمام انسانوں سے اس کا تعلق کاٹ دیا گیا اور وہ تنہائی کے بدترین عذاب میں مبتلا ہو گیا۔ اس کے عمل سے سزا کی مناسبت اہل علم نے یہ بیان فرمائی ہے کہ گائے کی آواز والا بچھڑا بنا کر اسے معبود کی صورت میں پیش کرنے سے اس کا مقصد شہرت اور لوگوں کو اپنے گرد جمع کرنے کی خواہش تھی، اللہ تعالیٰ نے ایسی سزا دی کہ کسی ایک شخص سے بھی نہ مل سکے۔ ➋ {وَ اِنَّ لَكَ مَوْعِدًا لَّنْ تُخْلَفَهٗ: } مراد موت، قبر اور آخرت کا عذاب ہے۔ ➌ {وَ انْظُرْ اِلٰۤى اِلٰهِكَ الَّذِيْ …: ” ظَلْتَ”ظَلَّ يَظَلُّ“} (ع) سے واحد مذکر حاضر ہے، جو اصل میں {”ظَلِلْتَ“} تھا (پہلے لام کے کسرہ کے ساتھ)، بولنے میں دشواری ختم کرنے کے لیے پہلا لام حذف کر دیا گیا۔ وزن {”فَعِلْتَ“ } کے بجائے {”فَلْتَ“} رہ گیا۔ {”لَنُحَرِّقَنَّهٗ“} جلانے میں شدت کے اظہار کے لیے باب تفعیل استعمال ہوا ہے۔ {”نَسَفَ يَنْسِفُ نَسْفًا“} (ض) اڑانا، بکھیرنا۔ {”الْيَمِّ “} نمکین سمندر اور میٹھے دریا دونوں معنوں میں آتا ہے۔ یہاں ایک سوال ہے کہ سونے یا چاندی کے بچھڑے کو آگ میں جلانے سے وہ دھات اڑانے اور بکھیرنے کے قابل تو نہیں ہوتی بلکہ زیادہ خالص اور مضبوط ہو جاتی ہے۔ اس کا جواب بعض مفسرین نے یہ دیا ہے کہ وہ گوشت پوست کا بچھڑا بن گیا تھا، مقصد یہ تھا کہ ہم اسے ذبح کرکے اچھی طرح جلا کر دریا یا سمندر میں اڑا کر بکھیر دیں گے، مگر گوشت پوست کا بچھڑا بننے کی بات بالکل بے اصل ہے۔ دوسرا جواب یہ دیا گیا ہے کہ ہم اسے خوب گرم کریں گے، تاکہ وہ نرم ہو جائے، پھر ریتی کے ساتھ اسے ذرہ ذرہ کر کے دریا میں بکھیر دیں گے، مگر قرآن مجید میں ریتی کا ذکر نہیں۔ اس لیے بعض مفسرین نے فرمایا کہ {”حَرَقَ يَحْرُقُ“} کا معنی پیسنا بھی آتا ہے اور باب تفعیل میں مزید مبالغہ ہو گیا۔ یہ جواب بھی زبردستی پر مبنی ہے، کیونکہ {” تَحْرِيْقٌ “} کا معنی جلانا ہی آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے خاص فضل سے مجھے اس کا بالکل واضح جواب مل گیا، وہ یہ کہ حکیم جس دھات کا چاہتے ہیں کشتہ بنا لیتے ہیں، جو راکھ کی صورت میں اتنا باریک ہو جاتا ہے کہ پھونک سے اڑ جاتا ہے۔ اطباء کو انبیاء کے کمال سے تو کوئی نسبت ہی نہیں، لہٰذا ان کے لیے دھات کو راکھ بنانا کیا مشکل ہے؟ ➍ موسیٰ علیہ السلام کا عمل اس بات کی دلیل ہے کہ غیر اللہ کی عبادت کے لیے جو چیز بھی استعمال ہو رہی ہو اسے مسمار کرنا، جلانا اور اس کا نام و نشان مٹا دینا لازم ہے، خواہ وہ کوئی بت ہو یا درخت یا قبر۔ ابوالہیاج الاسدی (علی رضی اللہ عنہ کے داماد) فرماتے ہیں کہ مجھے علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: [ أَلَا أَبْعَثُكَ عَلٰی مَا بَعَثَنِيْ عَلَيْهِ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لاَّ تَدَعَ تِمْثَالاً إِلَّا طَمَسْتَهٗ وَلَا قَبْرًا مُشْرِفًا إِلاَّ سَوَّيْتَهٗ ] [ مسلم، الجنائز، باب الأمر بتسویۃ القبر: ۹۶۹ ] ”کیا میں تمھیں اس کام پر نہ بھیجوں جس پر مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیجا تھا؟ وہ یہ ہے کہ کسی مجسمے کو نہ چھوڑو جسے مٹا نہ دو اور کسی اونچی قبر کو نہ چھوڑو جسے برابر نہ کر دو۔“ اللہ کی شان دیکھیے، اونچی قبریں برابر کرنے پر علی رضی اللہ عنہ کو مقرر فرمایا جنھیں تمام قبر پرست اپنا پیشوا مانتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کی دنیوی و اخروی ذلت و رسوائی کا باعث اہلِ کتاب کی پیروی میں قبر پرستی اور شرک کی دوسری صورتوں میں مبتلا ہونا اور توحید سے منہ موڑنا ہے۔ اللہ تعالیٰ امتِ مسلمہ کو اپنی توحید کی طرف پلٹنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین) {” لَنُحَرِّقَنَّهٗ“} اور {” لَنَنْسِفَنَّهٗ “} میں لام تاکید اور نون ثقیلہ کے ساتھ اور پھر {” نَسْفًا “} مفعول مطلق کے ساتھ تاکید کا مطلب یہ ہے کہ ہم ہر صورت اسے جلائیں گے اور ہر صورت دریا میں اڑا کر بکھیریں گے۔ کسی طرح ایسا کرنے سے نہیں ٹلیں گے، خواہ کوئی مقابلے پر آ جائے، یا منت و سماجت کرے، یا اپنے اس معبود کے غیظ و غضب سے ڈراتا رہے، یہ کام ہو کر رہے گا۔
← پچھلی آیت (96) پوری سورۃ اگلی آیت (98) →