بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ طه — Surah Taha
آیت نمبر 79
کل آیات: 135
قرآن کریم طه آیت 79
آیت نمبر: 79 — سورۃ طه islamicurdubooks.com ↗
وَ اَضَلَّ فِرۡعَوۡنُ قَوۡمَہٗ وَ مَا ہَدٰی ﴿۷۹﴾
فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ ہی کیا تھا، کوئی صحیح رہنمائی نہیں کی تھی
فرعون نے اپنی قوم کو گمراہی میں ڈال دیا اور سیدھا راستہ نہ دکھایا
اور فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ کیا اور راہ نہ دکھائی
اور فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ ہی کیا کوئی راہنمائی نہیں کی۔
اور فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ کیا اور سیدھے راستے پر نہ ڈالا۔

📖 تفسیر ابن کثیر

بنی اسرائیل کی ہجرت اور فرعون کا تعاقب ٭٭

چونکہ موسیٰ علیہ السلام کے اس فرمان کو بھی فرعون نے ٹال دیا تھا کہ وہ بنی اسرائیل کو اپنی غلامی سے آزاد کر کے انہیں موسیٰ علیہ السلام کے سپرد کر دے، اس لیے جناب باری نے آپ کو حکم فرمایا کہ آپ راتوں رات ان کی بے خبری میں تمام بنی اسرائیل کو چپ چاپ لے کر یہاں سے چلے جائیں جیسے کہ اس کا تفصیلی بیان قرآن کریم میں اور بہت سی جگہ پر ہوا ہے۔ چنانچہ حسب ارشاد آپ نے بنی اسرائیل کو اپنے ساتھ لے کر یہاں سے ہجرت کی۔ صبح جب فرعونی جاگے اور سارے شہر میں ایک بنی اسرائیلی نہ دیکھا۔ فرعون کو اطلاع دی، وہ مارے غصے کے چکر کھا گیا اور ہر طرف منادی دوڑا دئیے کہ لشکر جمع ہو جائیں اور دانت پیس پیس کر کہنے لگا کہ اس مٹھی بھر جماعت نے ہمارا ناک میں دم کر رکھا ہے آج ان سب کو تہ تیغ کر دوں گا۔ سورج نکلتے ہی لشکر آ موجود ہوا، اسی وقت خود سارے لشکرکو لے کر ان کے تعاقب میں روانہ ہو گیا۔ بنی اسرائیل دریا کے کنارے پہنچے ہی تھے کہ فرعونی لشکر انہیں دکھائی دے گیا، گھبرا کر اپنے نبی علیہ السلام سے کہنے لگے، لو اب کیا ہو گا سامنے دریا ہے پیچھے فرعونی ہیں۔ آپ نے جواب دیا، گھبرانے کی کوئی بات نہیں، میری مدد پر خود میرا رب ہے، وہ ابھی مجھے راہ دکھا دے گا۔ اسی وقت وحی الٰہی آئی کہ موسیٰ دریا پر اپنی لکڑی مارو، وہ ہٹ کر تمہیں راستہ دیدے گا۔

چنانچہ آپ نے یہ کہہ کر لکڑی ماری کہ اے دریا! بحکم الٰہی تو ہٹ جا۔ اسی وقت اس کا پانی پتھر کی طرح ادھر اْدھر جم گیا اور بیچ میں راستے نمایاں ہو گئے۔ ادھر ادھر پانی مثل پہاڑوں کے کھڑا ہو گیا اور تیز اور خشک ہواؤں کے جھونکوں نے راستوں کو بالکل سوکھی زمین کے راستوں کی طرح کر دیا۔ نہ تو فرعون کی پکڑ کا خوف رہا نہ دریا میں ڈوب جانے کا خطرہ رہا۔ فرعون اور اس کے لشکری یہ حال دیکھ رہے تھے۔ فرعون نے حکم دیا کہ انہی راستوں سے تم بھی پار ہو جاؤ۔ چیختا کودتا مع تمام لشکر کے ان ہی راہوں میں اتر پڑا، ان کے اترتے ہی پانی کو بہنے کا حکم ہو گیا اور چشم زدن میں تمام فرعونی ڈبو دیئے گئے۔ دریا کی موجوں نے انہیں چھپا لیا۔ یہاں جو فرمایا کہ انہیں اس چیز نے ڈھانپ لیا۔ یہ اس لیے کہ یہ مشہور ومعروف ہے نام لینے کی ضرورت نہیں یعنی دریا کی موجوں نے۔ اسی جیسی آیت «‏‏‏‏وَالْمُؤْتَفِكَةَ اَهْوٰى * فَغَشّٰـىهَا مَا غَشّٰى» [53-النجم:53-54] ‏‏‏‏ ہے ’ یعنی قوم لوط کی بستیوں کو بھی اسی نے دے پٹکا تھا۔ پھر ان پر جو تباہی آئی، سو آئی۔ ‘ عرب کے اشعار میں بھی ایسی مثالیں موجود ہیں۔ الغرض فرعون نے اپنی قوم کو بہکا دیا اور راہ راست انہیں نہ دکھائی۔ جس طرح دنیا میں انہیں اس نے آگے بڑھ کر دریا برد کیا، «يَقْدُمُ قَوْمَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَأَوْرَدَهُمُ النَّارَ ۖ وَبِئْسَ الْوِرْدُ الْمَوْرُودُ» ‏‏‏‏ ۱؎ [11-هود:98] ‏‏‏‏ ’ اسی طرح آگے ہو کر قیامت کے دن انہیں جہنم میں جا جھونکے گا جو بدترین جگہ ہے۔ ‘

📖 احسن البیان

79۔ 1 اس لئے کہ سمندر میں غرق ہونا ان کا مقدر تھا

📖 القرآن الکریم

(آیت 79) {وَ اَضَلَّ فِرْعَوْنُ قَوْمَهٗ وَ مَا هَدٰى:} یہاں ایک سوال ہے کہ {” اَضَلَّ “} (گمراہ کیا) اور {” مَا هَدٰى “} (سیدھے راستے پر نہ ڈالا) دونوں کا مطلب ایک ہی ہے تو تکرار کا کیا فائدہ؟ اس سوال کے کئی جواب ہیں، ایک تویہ کہ یہ تاکید کے لیے ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ اَمْوَاتٌ غَيْرُ اَحْيَآءٍ }» [ النحل: ۲۱ ] ”مردے ہیں، زندہ نہیں ہیں۔“ دوسرا یہ کہ ”فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ کیا“ میں امکان تھا کہ اگر بعض چیزوں میں اس نے اپنی قوم کو غلط راستے پر ڈالا تو بعض میں درست سمت پر بھی چلایا ہو، چلو دنیا ہی کا کچھ فائدہ پہنچایا ہو۔ فرمایا، نہیں! کسی چیز میں بھی درست راستے پر نہیں ڈالا، بلکہ انھیں اتنا بے وقوف اور بے وقعت بنا دیا کہ وہ اس کی سراسر حماقتوں میں بھی اس کے پیچھے ہی چلتے رہے۔ (زخرف: ۴۵) (بقاعی) جیسا کہ آج کل دہریہ ملک چین میں حکومت کے حکم پر ایک یا دو بچوں سے زیادہ بچے پیدا ہونے پر عموماً انھیں ہسپتال ہی میں زہر کا ٹیکہ لگا کر مار دیا جاتا ہے اور اگر کوئی اپنا بچہ مرنے سے بچا لے تو اس کا پیدائش کے رجسٹر میں اندراج ہو سکتا ہے نہ اسے رجسٹرڈ شہری کی مراعات حاصل ہو سکتی ہیں۔ کوئی اولاد والا ہی اس دردناک کیفیت کا ادراک کر سکتا ہے۔ اس کے باوجود پوری قوم خوشی یا بے بسی سے ان احکام کے پیچھے چل رہی ہے، اس سے بڑھ کر {” مَا هَدٰى “} کیا ہو گا؟ تیسرا جواب یہ کہ دراصل یہ فرعون کے اس دعویٰ پر طنز ہے جو اس نے کیا تھا: «{ مَاۤ اُرِيْكُمْ اِلَّا مَاۤ اَرٰى وَ مَاۤ اَهْدِيْكُمْ اِلَّا سَبِيْلَ الرَّشَادِ }» [ المؤمن: ۲۹ ] ”میں تو تمھیں وہی رائے دے رہا ہوں جو خود رائے رکھتا ہوں اور میں تمھیں بھلائی کا راستہ ہی بتا رہا ہوں۔“ اور زیرِ تفسیر سورت کی آیت (۶۳) میں بھی اس کے چیلوں نے اپنے طریقے کو سب سے افضل قرار دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے رد میں فرمایا کہ ”فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ کیا اور انھیں سیدھے راستے پر نہ ڈالا۔“ (زمخشری)
← پچھلی آیت (78) پوری سورۃ اگلی آیت (80) →