بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ طه — Surah Taha
آیت نمبر 75
کل آیات: 135
قرآن کریم طه آیت 75
آیت نمبر: 75 — سورۃ طه islamicurdubooks.com ↗
وَ مَنۡ یَّاۡتِہٖ مُؤۡمِنًا قَدۡ عَمِلَ الصّٰلِحٰتِ فَاُولٰٓئِکَ لَہُمُ الدَّرَجٰتُ الۡعُلٰی ﴿ۙ۷۵﴾
اور جو اس کے حضور مومن کی حیثیت سے حاضر ہو گا، جس نے نیک عمل کیے ہوں گے، ایسے سب لوگوں کے لیے بلند درجے ہیں
اور جو بھی اس کے پاس ایمان کی حالت میں حاضر ہوگا اور اس نے اعمال بھی نیک کیے ہوں گے اس کے لئے بلند وباﻻ درجے ہیں
اور جو اس کے حضور ایمان کے ساتھ آئے کہ اچھے کام کیے ہوں تو انہیں کے درجے اونچے،
اور جو کوئی مؤمن بن کر اس کی بارگاہ میں حاضر ہوگا۔ جب کہ اس نے نیک عمل بھی کئے ہوں گے ان کے لئے بڑے بلند درجے ہیں۔
اور جو اس کے پاس مومن بن کر آئے گا کہ اس نے اچھے اعمال کیے ہوںگے تو یہی لوگ ہیں جن کے لیے سب سے بلند درجے ہیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

مسند احمد میں ہے، { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اصلی جہنمی تو جہنم میں ہی پڑے رہیں گے نہ وہاں انہیں موت آئے نہ آرام کی زندگی ملے۔ ہاں ایسے لوگ بھی ہوں گے جنہیں ان کے گناہوں کی پاداش میں دوزخ میں ڈال دیا جائے گا جہاں وہ جل کر کوئلہ ہو جائیں گے جان نکل جائے گی۔ پھر شفاعت کی اجازت کے بعد ان کا چورا نکالاجائے گا اور جنت کی نہروں کے کناروں پر بکھیردیا جائے گا اور جنتیوں سے فرمایا جائے گا کہ ان پر پانی ڈالو تو جس طرح تم نے نہر کے کنارے کے کھیت کے دانوں کو اگتے ہوئے دیکھا ہے، اسی طرح وہ اگیں گے۔ یہ سن کر ایک شخص کہنے لگا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مثال تو ایسی دی ہے گویا آپ کچھ زمانہ جنگل میں گزار چکے ہیں۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:185] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے کہ { خطبے میں اس آیت کی تلاوت کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا۔ اور جو اللہ سے قیامت کے دن ایمان اور عمل صالح کے ساتھ جا ملا، اسے اونچے بالا خانوں والی جنت ملے گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، جنت کے سو درجوں میں اتنا ہی فاصلہ ہے جتنا زمین و آسمان میں۔ سب سے اوپر جنت الفردوس ہے اسی سے چاروں نہریں جاری ہوتی ہیں، اس کی چھت رحمان کا عرش ہے۔ اللہ سے جب جنت مانگو تو جنت الفردوس کی دعا کیا کرو۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:2531،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏

ابن ابی حاتم میں ہے کہ کہا جاتا تھا کہ جنت کے سو درجے ہیں، ہر درجے کے پھر سو درجے ہیں، دو درجوں میں اتنی دوری ہے جتنی آسمان و زمین میں۔ ان میں یاقوت اور موتی ہیں اور زیور بھی۔ ہر جنت میں امیر ہے جس کی فضیلت اور سرداری کے دوسرے قائل ہیں۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ { اعلی علیین والے ایسے دکھائی دیتے ہیں جیسے تم لوگ آسمان کے ستاروں کو دیکھتے ہو۔ لوگوں نے کہا پھر یہ بلند درجے تو نبیوں کے لیے ہی مخصوص ہونگے؟ فرمایا سنو اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ پر ایمان لائے اور نبیوں کو سچا جانا۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:3256] ‏‏‏‏ سنن کی حدیث میں یہ بھی ہے کہ { سیدنا ابوبکر و سیدنا عمر رضی اللہ عنہما انہی میں سے ہیں۔ اور کتنے ہی اچھے مرتبے والے ہیں۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:3987،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ جنتیں ہمیشگی کی اقامت ہیں جہاں یہ ہمیشہ ابد الاباد رہیں گے۔ جو لوگ اپنے نفس پاک رکھیں، گناہوں سے، خباثت سے، گندگی سے، شرک و کفر سے دور رہیں، اللہ واحد کی عبادت کرتے رہیں، رسولوں کی اطاعت میں عمرگزاردیں، ان کے لیے یہی قابل رشک مقامات اور قابل صد مبارکباد انعام ہیں «‏‏‏‏رَزَقَّنَا الّلهُ اِيَّاھَا» ‏‏‏‏۔

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 76,75) {فَاُولٰٓىِٕكَ لَهُمُ الدَّرَجٰتُ الْعُلٰى …: ” الْعُلٰى”عُلْيَا“} کی جمع ہے، جو اسم تفضیل {” أَعْلٰي“} کی مؤنث ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ فِي الْجَنَّةِ مِائَةُ دَرَجَةٍ مَا بَيْنَ كُلِّ دَرَجَتَيْنِ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، وَالْفِرْدَوْسُ أَعْلاَهَا دَرَجَةً وَمِنْهَا تُفَجَّرُ أَنْهَارُ الْجَنَّةِ الْأَرْبَعَةُ وَمِنْ فَوْقِهَا يَكُوْنُ الْعَرْشُ فَإِذَا سَأَلْتُمُ اللّٰهَ فَاسْأَلُوْهُ الْفِرْدَوْسَ ] [ ترمذي، صفۃ الجنۃ، باب ما جاء فی صفۃ درجات الجنۃ: ۲۵۳۱، عن عبادۃ بن الصامت رضی اللہ عنہ ] ”جنت میں سو درجے ہیں، ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان اور زمین کے درمیان ہے۔ ان میں سب سے اعلیٰ درجہ فردوس ہے، اسی سے جنت کی چاروں نہریں جاری ہوتی ہیں اور اس کے اوپر رحمان کا عرش ہے تو جب تم اللہ تعالیٰ سے مانگو تو فردوس مانگا کرو۔“ ایک حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ يَتَرَاؤُنَ أَهْلَ الْغُرَفِ مِنْ فَوْقِهِمْ كَمَا تَتَرَاؤُنَ الْكَوْكَبَ الدُّرِّيَّ الْغَابِرَ فِي الْأُفُقِ مِنَ الْمَشْرِقِ أَوِ الْمَغْرِبِ لِتَفَاضُلِ مَا بَيْنَهُمْ، قَالُوْا: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! تِلْكَ مَنَازِلُ الْأَنْبِيَاءِ لَا يَبْلُغُهَا غَيْرُهُمْ؟ قَالَ بَلٰی وَالَّذِيْ نَفْسِيْ بِيَدِهِ! رِجَالٌ آمَنُوْا بِاللّٰهِ وَصَدَّقُوا الْمُرْسَلِيْنَ ] [ بخاري، بدء الخلق، باب ما جاء في صفۃ الجنۃ و أنھا مخلوقۃ: ۳۲۵۶، عن أبي سعید الخدري رضی اللہ عنہ ] ”جنت والے اپنے سے اوپر بالاخانوں والوں کو اس طرح دیکھیں گے جس طرح تم اس چمک دار ستارے کو دیکھتے ہو جو آسمان کے مشرقی یا مغربی کنارے میں باقی رہ گیا ہو، ان کے ایک دوسرے سے درجات زیادہ ہونے کی وجہ سے۔“ لوگوں نے کہا: ”یا رسول اللہ! یہ انبیاء کے مقام ہوں گے کہ ان کے سوا کوئی ان تک نہیں پہنچ سکے گا؟“ آپ نے فرمایا: ”کیوں نہیں؟ مجھے اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! یہ وہ آدمی ہوں گے جو اللہ پرایمان لائے اور انھوں نے رسولوں کی تصدیق کی۔“ جنت کی نہروں کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ محمد (۱۵)۔
← پچھلی آیت (74) پوری سورۃ اگلی آیت (76) →