بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ طه — Surah Taha
آیت نمبر 55
کل آیات: 135
قرآن کریم طه آیت 55
آیت نمبر: 55 — سورۃ طه islamicurdubooks.com ↗
مِنۡہَا خَلَقۡنٰکُمۡ وَ فِیۡہَا نُعِیۡدُکُمۡ وَ مِنۡہَا نُخۡرِجُکُمۡ تَارَۃً اُخۡرٰی ﴿۵۵﴾
اِسی زمین سے ہم نے تم کو پیدا کیا ہے، اِسی میں ہم تمہیں واپس لے جائیں گے اور اسی سے تم کو دوبارہ نکالیں گے
اسی زمین میں سے ہم نے تمہیں پیدا کیا اور اسی میں پھر واپس لوٹائیں گے اور اسی سے پھر دوباره تم سب کو نکال کھڑا کریں گے
ہم نے زمین ہی سے تمہیں بنایا اور اسی میں تمہیں پھر لے جائیں گے اور اسی سے تمہیں دوبارہ نکالیں گے
اسی زمین سے ہم نے تمہیں پیدا کیا ہے اور اسی میں ہم تمہیں لوٹائیں گے اور اسی سے دوبارہ تمہیں نکالیں گے۔
اسی سے ہم نے تمھیں پیدا کیا اور اسی میں تمھیں لوٹائیں گے اور اسی سے تمھیں ایک اور بار نکالیں گے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

اللہ رب العزت کا تعارف ٭٭

موسیٰ علیہ السلام فرعون کے سوال کے جواب میں اوصاف الٰہی بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اسی اللہ نے زمین کو لوگوں کے لیے فرش بنایا ہے۔ «مَهْدًا» کی دوسری قرأت «مھَادًا» ہے۔ زمین کو اللہ تعالیٰ نے بطور فرش کے بنا دیا ہے کہ تم اس پر قرار کئے ہوئے ہو، اسی پر سوتے بیٹھتے رہتے سہتے ہو۔ «وَجَعَلْنَا فِيهَا فِجَاجًا سُبُلًا لَّعَلَّهُمْ يَهْتَدُونَ» ۱؎ [21-الأنبياء:31] ‏‏‏‏ ’ اس نے زمین میں تمہارے چلنے پھرنے اور سفر کرنے کے لیے راہیں بنا دی ہیں تاکہ تم راستہ نہ بھولو۔ ‘ اور منزل مقصود تک بہ آسانی پہنچ سکو۔ وہی آسمان سے بارش برساتا ہے اور اس کی وجہ سے زمین سے ہر قسم کی پیداوار اگاتا ہے۔ کھیتیاں، باغات، میوے، قسم قسم کے ذائقے دار کہ تم خود کھا لو اور اپنے جانوروں کو چارہ بھی دو۔ تمہارا کھانا اور میوے، تمہارے جانوروں کا چارا، خشک اور تر سب اسی سے اللہ تعالیٰ پیدا کرتا ہے۔ جن کی عقلیں صحیح سالم ہیں، ان کے لیے تو قدرت کی یہ تمام نشانیاں دلیل ہیں اللہ کی الوہیت، اس کی وحدانیت اور اس کے وجود پر۔ اسی زمین سے ہم نے تمہیں پیدا فرمایا ہے، تمہاری ابتداء اسی سے ہے۔ اس لیے کہ تمہارے باپ آدم علیہ السلام کی پیدائش اسی سے ہوئی ہے۔ اسی میں تمہیں پھر لوٹنا ہے، مر کر اسی میں دفن ہونا ہے، اسی سے پھر قیامت کے دن کھڑے کئے جاؤ گے۔ «يَوْمَ يَدْعُوكُمْ فَتَسْتَجِيبُونَ بِحَمْدِهِ وَتَظُنُّونَ إِن لَّبِثْتُمْ إِلَّا قَلِيلًا» ‏‏‏‏ ۱؎ [17-الإسراء:52] ‏‏‏‏ ’ ہماری پکار پر ہماری تعریفیں کرتے ہوئے اٹھو گے اور یقین کر لو گے کہ تم بہت ہی تھوڑی دیر رہے۔ ‘ جیسے اور آیت میں ہے کہ «قَالَ فِيهَا تَحْيَوْنَ وَفِيهَا تَمُوتُونَ وَمِنْهَا تُخْرَجُونَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [7-الأعراف:25] ‏‏‏‏ ’ اسی زمین پر تمہاری زندگی گزرے گی، مر کر بھی اسی میں جاؤ گے، پھر اسی میں سے نکالے جاؤ گے۔‘ سنن کی حدیث میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک میت کے دفن کے بعد اس کی قبر پر مٹی ڈالتے ہوئے پہلی بار فرمایا «‏‏‏‏مِنْهَا خَلَقْنَاكُمْ» ‏‏‏‏ دوسری لپ ڈالتے ہوئے فرمایا «‏‏‏‏وَفِيهَا نُعِيدكُمْ» تیسری بار فرمایا «‏‏‏‏وَمِنْهَا نُخْرِجكُمْ تَارَة أُخْرَى» ۔ } الغرض فرعون کے سامنے دلیلیں آ چکیں، اس نے معجزے اور نشان دیکھ لیے لیکن سب کا انکار اور تکذیب کرتا رہا، کفر، سرکشی، ضد اور تکبر سے باز نہ آیا۔ جیسے فرمان ہے «وَجَحَدُوا بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَا أَنفُسُهُمْ ظُلْمًا وَعُلُوًّا ۚ فَانظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِينَ» ۱؎ [27-النمل:14] ‏‏‏‏ ’ یعنی باوجود یہ کہ ان کے دلوں میں یقین ہو چکا تھا لیکن تاہم ازراہ ظلم و زیادتی انکار سے باز نہ آئے۔ ‘

📖 احسن البیان

55۔ 1 بعض روایات میں دفنانے کے بعد تین مٹھیاں (یا بکے) مٹی ڈالتے وقت اس آیت کا پڑھنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے، لیکن سنداً یہ روایات ضعیف ہیں۔ تاہم آیت کے بغیر تین لپیں ڈالنے والی روایت، جو ابن ماجہ میں ہے، صحیح ہے، اس لئے دفنانے کے بعد دونوں ہاتھوں سے تین تین مرتبہ مٹی ڈالنے کو علماء نے مستحب قرارا دیا ہے۔ ملاحظہ ہو کتاب الجنائر صفحہ 152۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 55){ مِنْهَا خَلَقْنٰكُمْ وَ فِيْهَا نُعِيْدُكُمْ …:} یعنی تم سب کے باپ آدم علیہ السلام کا پتلا مٹی سے بنایا گیا اور تمھاری غذائیں اور ضرورت کی تمام چیزیں بھی مٹی سے نکلتی ہیں۔ یہ پہلا مرحلہ ہے جو موت تک چلتا ہے۔ دوسرا مرحلہ یہ کہ موت کے بعد دوبارہ مٹی میں جاؤ گے، پھر کوئی انسان قبر میں دفن ہو یا نہ ہو، بالواسطہ یا بلا واسطہ اس کے اجزا مٹی میں جائیں گے۔ تیسرے مرحلے میں قیامت کے دن انھی اجزا کو دوبارہ روح پھونک کر زندہ کر دیا جائے گا، فرمایا: «{ قَالَ فِيْهَا تَحْيَوْنَ وَ فِيْهَا تَمُوْتُوْنَ وَ مِنْهَا تُخْرَجُوْنَ }» [ الأعراف: ۲۵ ] ”فرمایا تم اسی میں زندہ رہو گے اور اسی میں مرو گے اور اسی سے نکالے جاؤ گے۔“ بعض روایات میں دفن کے وقت مٹی کی پہلی مٹھی ڈالتے ہوئے {” مِنْهَا خَلَقْنٰكُمْ “}، دوسری مٹھی ڈالتے ہوئے {” وَ فِيْهَا نُعِيْدُكُمْ “} اور تیسری مٹھی ڈالتے وقت {” وَ مِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً اُخْرٰى “} پڑھنے کا ذکر ہے، مگر وہ روایات ضعیف ہیں، البتہ آیت پڑھے بغیر تین مٹھی مٹی ڈالنا مسنون ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: [ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلّٰی عَلٰی جِنَازَةٍ ثُمَّ أَتٰی قَبْرَ الْمَيِّتِ فَحَثٰی عَلَيْهِ مِنْ قِبَلِ رَأْسِهٖ ثَلاَثًا ] [ ابن ماجہ، الجنائز، باب ما جاء في حثو التراب في القبر: ۱۵۶۵، صحیح ] ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جنازے پر نماز پڑھی، پھر میت کی قبر پر آئے اور اس کے سر کی طرف (مٹی کی) تین مٹھیاں ڈالیں۔“
← پچھلی آیت (54) پوری سورۃ اگلی آیت (56) →