بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الشعراء — Surah Shuara
آیت نمبر 96
کل آیات: 227
قرآن کریم الشعراء آیت 96
آیت نمبر: 96 — سورۃ الشعراء islamicurdubooks.com ↗
قَالُوۡا وَ ہُمۡ فِیۡہَا یَخۡتَصِمُوۡنَ ﴿ۙ۹۶﴾
وہاں یہ سب آپس میں جھگڑیں گے اور یہ بہکے ہوئے لوگ (اپنے معبودوں سے) کہیں گے
آپس میں لڑتے جھگڑتے ہوئے کہیں گے
کہیں گے اور وہ اس میں باہم جھگڑے ہوں گے،
اور وہ دوزخ میں باہم جھگڑتے ہوئے کہیں گے۔
وہ کہیں گے جب کہ وہ اس میں جھگڑ رہے ہوں گے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

نیک لوگ اور جنت ٭٭

جن لوگوں نے نیکیاں کی تھیں برائیوں سے بچے تھے جنت اس دن ان کے پاس ہی ان کے سامنے ہی زیب و زینت کے ساتھ موجود ہو گی۔ اور سرکشوں کے لیے اسی طرح جہنم ظاہر ہوگی اس میں سے ایک گردن نکل کھڑی ہوگی جو گنہگاروں کی طرف غضبناک تیوروں سے نظر ڈالے گی اور اس طرح شور مچائے گی کہ دل اڑ جائیں گے اور مشرکوں سے ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ فرمایا جائے گا کہ ’ تمہارے معبودان باطل جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے تھے کہاں ہیں۔ کیا وہ تمہاری کچھ مدد کرتے ہیں؟ یا خود اپنی مدد کر سکتے ہیں؟ نہیں نہیں بلکہ عابد ومعبود سب دوزخ میں الٹے لٹک رہے ہیں اور جل بھن رہے ہیں ‘۔ تابع ومتبوع سب اوپر تلے جہنم میں جھونک دیئے جائیں گے۔

ساتھ ہی ابلیس کے کل لشکری بھی اول سے لے کر آخر تک۔ وہاں سفلے لوگ بڑے لوگوں سے جھگڑیں گے اور کہیں گے کہ ہم نے زندگی بھر تمہاری مانی۔ آج تم ہمیں عذابوں سے کیوں نہیں چھڑاتے۔ سچ تو یہ ہے کہ ہم ہی بالکل گمراہ تھے راہ سے دور ہو گئے تھے کہ تمہارے احکام کو اللہ کے احکام کے مثل سمجھ بیٹھے تھے اور رب العلیمن کے ساتھ ہی تمہاری بھی عبادت کرتے رہے گویا کہ تمہیں رب کے برابر سمجھے ہوئے تھے۔ افسوس ہمیں اس غلط اور خطرناک راہ پر مجرموں نے لگائے رکھا۔ اب تو ہماری کوئی سفارشی بھی نہیں رہا۔ آپس میں پوچھیں گے کہ کیا کوئی ہمارا شفیع ہے جو ہماری شفاعت کرے؟ یا ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ ہم دوبارہ دنیاکی طرف لوٹائے جائیں اور وہاں جا کر اب تک کئے ہوئے اعمال کے خلاف عمل کریں؟ جہاں ہمارا کوئی سفارشی ہمیں نظر نہیں آتا وہاں کوئی قریبی سچا دوست بھی نہیں دکھائی دیتا کہ وہی ہماری ہمدردی و غم خواری کرے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اگر کسی صالح شخص سے ہماری دوستی ہوتی تو وہ آج ضرور ہمیں نفع دیتا اور اگر کوئی ہمارا دلی محب ہوتا تو وہ ضرور ہماری شفاعت کے لیے آگے بڑھتا اور اگر ہمیں پھر سے دنیا میں جانا ملتا تو ہم آپ اپنے ان بد اعمال کا تدارک کر لیتے اپنے رب کی ہی مانتے اور اسی کی عبادتیں کرتے۔ لیکن حق تو یہ ہے کہ یہ بدبخت ازلی اگر دوبارہ بھی لائیں جائیں تو وہی بد اعمالیاں پھر سے شروع کر دیں۔ سورۃ ص میں بھی ان دوزخیوں کے جھگڑے کا بیان کر کے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ’ ان کا یہ جھگڑا یقیناً ہو گا ‘۔

ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم سے جو کچھ فرمایا اور جو دلیلیں انہیں دیں اور ان پر توحید کی وضاحت کی اس میں یقیناً اللہ کی الوہیت پر اور اس کی یکتائی پر صاف برہان موجود ہے لیکن پھر بھی اکثر لوگ ایمان سے محروم ہیں اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ تیرا پالنہار پروردگار پورے غلبے اور قوت والا ساتھ ہی بخشش و رحم والا ہے۔

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت96تا98) ➊ {قَالُوْا وَ هُمْ فِيْهَا يَخْتَصِمُوْنَ …: ” اِنْ كُنَّا لَفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ “} اصل میں{ ”إِنَّا كُنَّا لَفِيْ ضَلاَلٍ مُّبِيْنٍ“ } ہے۔ دلیل اس کی{ ” فِيْ“ } پر آنے والا لام ہے۔ یعنی وہ جہنم میں اپنے معبودوں سے جھگڑتے ہوئے ان سے کہیں گے کہ اللہ کی قسم! ہم یقینا کھلی گمراہی میں تھے، جب ہم تمھیں رب العالمین کے برابر ٹھہراتے تھے، اس کے بعض اختیارات اور صفات تمھارے لیے بھی مانتے تھے، تمھارے لیے حلال و حرام کرنے کے اختیار کا عقیدہ رکھتے تھے، تمھیں بھی عالم الغیب اور مختار کل سمجھتے تھے، تمھیں بگڑی بنانے والے، فریاد کو پہنچنے والے، اولاد عطا کرنے والے اور شفا دینے والے سمجھتے تھے۔ ➋ یاد رہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے الفاظ بولنے سے بھی منع فرمایا جن سے مخلوق کی خالق کے ساتھ کسی طرح بھی برابری ظاہر ہوتی ہو۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ لَا تَقُوْلُوْا مَا شَاءَ اللّٰهُ وَ شَاءَ فُلَانٌ وَلٰكِنْ قُوْلُوْا مَا شَاءَ اللّٰهُ ثُمَّ شَاءَ فُلَانٌ ] [ أبوداوٗد، الأدب، باب لا یقال خبثت نفسي: ۴۹۸۰، قال الألباني صحیح ] ”یہ مت کہو کہ جو اللہ نے چاہا اور فلاں نے چاہا، بلکہ یوں کہو کہ جو اللہ نے چاہا، پھر فلاں نے چاہا۔“ ابن عباس رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: [ مَا شَاءَ اللّٰهُ وَ شِئْتَ ] ”جو اللہ چاہے اور آپ چاہیں۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ جَعَلْتَ لِلّٰهِ نِدًّا ] ”تم نے اللہ کا شریک بنا دیا۔“ یوں کہو: [ مَا شَاءَ اللّٰهُ وَحْدَهُ ] ”جو اللہ اکیلا چاہے۔“ [الأدب المفرد: 274/1، ح: ۷۸۳، وقال الألباني صحیح ]
← پچھلی آیت (95) پوری سورۃ اگلی آیت (97) →