بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الشعراء — Surah Shuara
آیت نمبر 92
کل آیات: 227
قرآن کریم الشعراء آیت 92
آیت نمبر: 92 — سورۃ الشعراء islamicurdubooks.com ↗
وَ قِیۡلَ لَہُمۡ اَیۡنَمَا کُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَ ﴿ۙ۹۲﴾
اور ان سے پوچھا جائے گا کہ "اب کہاں ہیں وہ جن کی تم خدا کو چھوڑ کر عبادت کیا کرتے تھے؟
اور ان سے پوچھا جائے گا کہ جن کی تم پوجا کرتے رہے وه کہاں ہیں؟
اور ان سے کہا جائے گا کہاں ہیں وہ جن کو تم پوجتے تھے،
اور ان سے کہا جائے گا کہ تمہارے وہ معبود کہاں ہیں جن کی تم اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے تھے؟
اور ان سے کہا جائے گا کہاں ہیں وہ جنھیں تم پوجتے تھے؟

📖 تفسیر ابن کثیر

نیک لوگ اور جنت ٭٭

جن لوگوں نے نیکیاں کی تھیں برائیوں سے بچے تھے جنت اس دن ان کے پاس ہی ان کے سامنے ہی زیب و زینت کے ساتھ موجود ہو گی۔ اور سرکشوں کے لیے اسی طرح جہنم ظاہر ہوگی اس میں سے ایک گردن نکل کھڑی ہوگی جو گنہگاروں کی طرف غضبناک تیوروں سے نظر ڈالے گی اور اس طرح شور مچائے گی کہ دل اڑ جائیں گے اور مشرکوں سے ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ فرمایا جائے گا کہ ’ تمہارے معبودان باطل جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے تھے کہاں ہیں۔ کیا وہ تمہاری کچھ مدد کرتے ہیں؟ یا خود اپنی مدد کر سکتے ہیں؟ نہیں نہیں بلکہ عابد ومعبود سب دوزخ میں الٹے لٹک رہے ہیں اور جل بھن رہے ہیں ‘۔ تابع ومتبوع سب اوپر تلے جہنم میں جھونک دیئے جائیں گے۔

ساتھ ہی ابلیس کے کل لشکری بھی اول سے لے کر آخر تک۔ وہاں سفلے لوگ بڑے لوگوں سے جھگڑیں گے اور کہیں گے کہ ہم نے زندگی بھر تمہاری مانی۔ آج تم ہمیں عذابوں سے کیوں نہیں چھڑاتے۔ سچ تو یہ ہے کہ ہم ہی بالکل گمراہ تھے راہ سے دور ہو گئے تھے کہ تمہارے احکام کو اللہ کے احکام کے مثل سمجھ بیٹھے تھے اور رب العلیمن کے ساتھ ہی تمہاری بھی عبادت کرتے رہے گویا کہ تمہیں رب کے برابر سمجھے ہوئے تھے۔ افسوس ہمیں اس غلط اور خطرناک راہ پر مجرموں نے لگائے رکھا۔ اب تو ہماری کوئی سفارشی بھی نہیں رہا۔ آپس میں پوچھیں گے کہ کیا کوئی ہمارا شفیع ہے جو ہماری شفاعت کرے؟ یا ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ ہم دوبارہ دنیاکی طرف لوٹائے جائیں اور وہاں جا کر اب تک کئے ہوئے اعمال کے خلاف عمل کریں؟ جہاں ہمارا کوئی سفارشی ہمیں نظر نہیں آتا وہاں کوئی قریبی سچا دوست بھی نہیں دکھائی دیتا کہ وہی ہماری ہمدردی و غم خواری کرے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اگر کسی صالح شخص سے ہماری دوستی ہوتی تو وہ آج ضرور ہمیں نفع دیتا اور اگر کوئی ہمارا دلی محب ہوتا تو وہ ضرور ہماری شفاعت کے لیے آگے بڑھتا اور اگر ہمیں پھر سے دنیا میں جانا ملتا تو ہم آپ اپنے ان بد اعمال کا تدارک کر لیتے اپنے رب کی ہی مانتے اور اسی کی عبادتیں کرتے۔ لیکن حق تو یہ ہے کہ یہ بدبخت ازلی اگر دوبارہ بھی لائیں جائیں تو وہی بد اعمالیاں پھر سے شروع کر دیں۔ سورۃ ص میں بھی ان دوزخیوں کے جھگڑے کا بیان کر کے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ’ ان کا یہ جھگڑا یقیناً ہو گا ‘۔

ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم سے جو کچھ فرمایا اور جو دلیلیں انہیں دیں اور ان پر توحید کی وضاحت کی اس میں یقیناً اللہ کی الوہیت پر اور اس کی یکتائی پر صاف برہان موجود ہے لیکن پھر بھی اکثر لوگ ایمان سے محروم ہیں اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ تیرا پالنہار پروردگار پورے غلبے اور قوت والا ساتھ ہی بخشش و رحم والا ہے۔

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 93،92) {وَ قِيْلَ لَهُمْ اَيْنَمَا كُنْتُمْ تَعْبُدُوْنَ …: ” يَنْتَصِرُوْنَ”اِنْتَصَرَ يَنْتَصِرُ“} (افتعال) کا معنی اپنا بچاؤ کرنا بھی ہے اور بدلا لینا بھی، یعنی ان گمراہوں سے کہا جائے گا کہ کہاں ہیں وہ جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے تھے، کیا وہ تمھاری مدد کرتے ہیں، یا تمھارا بدلا لیتے ہیں، یا کم از کم اپنا بچاؤ ہی کرتے ہیں؟
← پچھلی آیت (91) پوری سورۃ اگلی آیت (93) →