بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الشعراء — Surah Shuara
آیت نمبر 87
کل آیات: 227
قرآن کریم الشعراء آیت 87
آیت نمبر: 87 — سورۃ الشعراء islamicurdubooks.com ↗
وَ لَا تُخۡزِنِیۡ یَوۡمَ یُبۡعَثُوۡنَ ﴿ۙ۸۷﴾
اور مجھے اس دن رسوا نہ کر جبکہ سب لوگ زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے
اور جس دن کے لوگ دوباره جلائے جائیں مجھے رسوا نہ کر
اور مجھے رسوا نہ کرنا جس دن سب اٹھائے جائیں گے
اور جس دن لوگ (قبروں سے) اٹھائے جائیں گے اس دن مجھے رسوا نہ کر۔
اور مجھے رسوا نہ کر، جس دن لوگ اٹھائے جائیں گے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

حکم سے کیا مراد ہے؟ ٭٭

حکم سے مراد علم عقل الوہیت کتاب اور نبوت ہے۔ آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ مجھے یہ چیزیں عطا فرما کر دنیا اور آخرت میں نیک لوگوں میں شامل رکھ۔ چنانچہ صحیح حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی آخری وقت میں دعا مانگی تھی کہ { اے اللہ اعلیٰ رفیقوں میں ملادے } تین بار یہی دعا کی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4436] ‏‏‏‏ ایک حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا بھی مروی ہے۔ { «اللَّهُمَّ أَحْيِنَا مُسْلِمِينَ وَأَمِتْنَا مُسْلِمِينَ وَأَلْحِقْنَا بِالصَّالِحِينَ غَيْر خَزَايَا وَلَا مُبَدِّلِينَ» ۔ یعنی اے اللہ! ہمیں اسلام پر زندہ رکھ اور مسلمانی کی حالت میں ہی موت دے اور نیکوں میں ملادے }۔ ۱؎ [مسند احمد:424/3:صحیح] ‏‏‏‏ در آنحالیکہ نہ رسوائی ہو نہ تبدیلی۔ پھر اور دعا کرتے ہیں کہ میرے بعد بھی میرا ذکر خیر لوگوں میں جاری رہے۔ لوگ نیک باتوں میں میری اقتداء کرتے رہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بھی ان کا ذکر پچھلی نسلوں میں باقی رکھا۔ ہر ایک آپ علیہ السلام پر سلام بھیجتا ہے اللہ کسی نیک بندے کی نیکی اکارت نہیں کرتا۔ ایک جہان ہے جن کی زبانیں آپ علیہ السلام کی تعریف وتوصیف سے تر ہیں۔ دنیا میں بھی اللہ نے انہیں اونچائی اور بھلائی دی۔ عموماً ہر مذہب وملت کے لوگوں خلیل اللہ علیہ السلام سے محبت رکھتے ہیں۔ اور دعا کرتے ہیں کہ ”میرا ذکر جمیل جہاں میں باقی رہے وہاں آخرت میں بھی جنتی بنایا جاؤں۔ اور اے اللہ میرے گمراہ باپ کو معاف فرما۔‏‏‏‏“ لیکن اپنے کافر باپ کے لیے یہ استغفار کرنا ایک وعدے پر تھا جب آپ علیہ السلام پر اس کا دشمن اللہ ہونا کھل گیا کہ وہ کفر پر ہی مرا تو آپ علیہ السلام کے دل سے اس کی عزت ومحبت جاتی رہی اور استغفار کرنا بھی ترک کر دیا۔ ابراہیم علیہ السلام بڑے صاف دل اور بردبار تھے۔ ہمیں بھی جہاں ابراہیم علیہ السلام کی روش پر چلنے کا حکم ملا ہے وہیں یہ بھی فرما دیا گیا ہے کہ اس بات میں ان کی پیروی نہ کرنا پھر دعا کرتے ہیں کہ ”مجھے قیامت کے دن کی رسوائی سے بچالینا۔ جب کہ تمام اگلی پچھلی مخلوق زندہ ہو کر ایک میدان میں کھڑی ہوگی۔‏‏‏‏“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { قیامت کے دن ابراہیم علیہ السلام کی اپنے والد سے ملاقات ہوگی۔ آپ علیہ السلام دیکھیں گے کہ اس کا منہ ذلت سے اور گردوغبار سے آلودہ ہو رہا ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4768] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ { اس وقت آپ علیہ السلام جناب باری تعالیٰ میں عرض کریں گے کہ پروردگار تیرا مجھ سے قول ہے کہ مجھے قیامت کے دن رسوا نہ کرے گا۔ اللہ فرمائے گا ’ سن لے جنت تو کافر پر قطعاً حرام ہے ‘ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4768] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ { ابراہیم علیہ السلام اپنے باپ کو اس حالت میں دیکھ کر فرمائیں گے کہ ”دیکھ میں تجھے نہیں کہہ رہا تھا کہ میری نافرمانی نہ کر“ باپ جواب دے گا کہ ”اچھا اب نہ کرونگا۔‏‏‏‏“ آپ اللہ تعالیٰ کی جناب میں عرض کریں گے کہ ”پروردگار تو نے مجھے سے وعدہ کیا ہے کہ اس دن مجھے رسوا نہ فرمائے گا۔ اب اس سے بڑھ کر اور رسوائی کیا ہو گی کہ میرا باپ اس طرح رحمت سے دور ہے۔‏‏‏‏“ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ ’ میرے خلیل علیہ السلام میں نے جنت کو کافروں پر حرام کر دیا ہے ‘، پھر فرمائے گا ’ ابراہیم (‏‏‏‏علیہ السلام) دیکھ تیرے پیروں تلے کیا ہے؟ ‘ آپ علیہ السلام دیکھیں گے کہ ایک بدصورت بچھو کیچڑ و پانی میں لتھڑا کھڑا ہے جس کے پاؤں پکڑ کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا}۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3350] ‏‏‏‏

حقیقتاً یہ ان کے والد ہونگے جو اس صورت میں کر دئیے گئے اور اپنی مقررہ جگہ پہنچادئے گئے اس دن انسان اگر اپنا فدیہ مال سے ادا کرنا چاہے گو دنیا بھر کے خزانے دیدے لیکن بےسود ہے، نہ اس دن اولاد فائدہ دے گی۔ تمام اہل زمین کو اپنے بدلے میں دینا چاہے پھر بھی لاحاصل۔ اس دن نفع دینے والی چیز ایمان اخلاص اور شرک اور اہل شرک سے بیزاری ہے۔ جس کا دل صالح ہو یعنی شرک و کفر کے میل کچیل سے صاف ہو، اللہ کو سچا جانتا ہو قیامت کو یقینی مانتا ہو دوبارہ کے جی اٹھنے پر ایمان رکھتا ہو اللہ کی توحید کا قائل اور عامل ہو۔ نفاق وغیرہ سے دل مریض نہ ہو۔ بلکہ ایمان واخلاص اور نیک عقیدے سے دل صحیح اور تندرست ہو۔ بدعتوں سے نفرت رکھتا ہو اور سنت سے اطمینان اور الفت رکھتا ہو۔

📖 احسن البیان

87-1یعنی تمام مخلوق کے سامنے میرا مؤاخذہ کرکے یا عذاب سے دوچار کرکے حدیث میں آتا ہے کہ قیامت والے دن، جب حضرت ابراہیم ؑ اپنے والد کو برے حال میں دیکھیں گے، تو ایک مرتبہ پھر اللہ کی بارگاہ میں ان کے لئے مغفرت کی درخواست کریں گے اور فرمائیں گے یا اللہ! اس سے زیادہ میرے لئے رسوائی اور کیا ہوگی؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں نے جنت کافروں پر حرام کردی ہے۔ پھر ان کے باپ کو نجاست میں لتھڑے ہوئے بجو کی شکل میں جہنم میں ڈال دیا جائے گا (صحیح بخاری)

📖 القرآن الکریم

(آیت 87) {وَ لَا تُخْزِنِيْ يَوْمَ يُبْعَثُوْنَ:} یعنی قیامت کے دن تمام مخلوق کے سامنے میرا مؤاخذہ کرکے، یا میرے والد کو عذاب دے کر مجھے رسوا نہ کرکہ لوگ اسے جہنم میں جلتا ہوا دیکھ کر کہیں یہ ابراہیم کا باپ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کی یہ دعا بھی قبول فرمائی، چنانچہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ يَلْقٰی إِبْرَاهِيْمُ أَبَاهُ آزَرَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَ عَلٰی وَجْهِ آزَرَ قَتَرَةٌ وَغَبَرَةٌ فَيَقُوْلُ لَهُ إِبْرَاهِيْمُ أَلَمْ أَقُلْ لَّكَ لَا تَعْصِنِيْ؟ فَيَقُوْلُ أَبُوْهُ فَالْيَوْمَ لَا أَعْصِيْكَ، فَيَقُوْلُ إِبْرَاهِيْمُ يَا رَبِّ! إِنَّكَ وَعَدْتَنِيْ أَنْ لَّا تُخْزِيَنِيْ يَوْمَ يُبْعَثُوْنَ، فَأَيُّ خِزْيٍ أَخْزٰی مِنْ أَبِي الْأَبْعَدِ؟ فَيَقُوْلُ اللّٰهُ تَعَالٰی إِنِّيْ حَرَّمْتُ الْجَنَّةَ عَلَی الْكَافِرِيْنَ، ثُمَّ يُقَالُ يَا إِبْرَاهِيْمُ! مَا تَحْتَ رِجْلَيْكَ؟ فَيَنْظُرُ فَإِذَا هُوَ بِذِيْخٍ مُلْتَطِخٍ فَيُؤْخَذُ بِقَوَائِمِهِ فَيُلْقٰی فِي النَّارِ ] [بخاري، أحادیث الأنبیاء، باب قول اللہ تعالٰی: «‏‏‏‏واتخذ اللہ إبراہیم خلیلا» ‏‏‏‏: ۳۳۵۰ ] ”قیامت کے دن ابراہیم علیہ السلام اپنے باپ کو اس حال میں ملیں گے کہ اس کے چہرے پر سیاہی اور غبار ہو گا۔ ابراہیم علیہ السلام اس سے کہیں گے: ”میں نے تجھے کہا نہ تھا کہ میری نافرمانی مت کر۔“ ان کا باپ کہے گا: ”تو آج میں تیری نافرمانی نہیں کروں گا۔“ ابراہیم علیہ السلام کہیں گے: ”اے رب! تو نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ تو مجھے اس دن رسوا نہیں کرے گا جب لوگ اٹھائے جائیں گے، تو میرے بدنصیب باپ سے بڑھ کر ذلت کیا ہو گی۔“ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ”یقینا میں نے جنت کافروں پر حرام کر دی ہے۔“ پھر کہا جائے گا: ”ابراہیم! تیرے پاؤں کے نیچے کیا ہے؟“ وہ دیکھیں گے تو اچانک گندگی میں لت پت ایک بِجّو ہو گا، پھر اس بِجّو کو اس کی ٹانگوں سے پکڑ کر آگ میں پھینک دیا جائے گا۔“ گویا اللہ تعالیٰ مشرک پر جنت حرام کرنے کا قانون بھی قائم رکھیں گے اور ابراہیم علیہ السلام کو رسوا ہونے سے بھی بچا لیں گے کہ رسوائی تو تب ہو کہ لوگ دیکھیں کہ ابراہیم علیہ السلام کا باپ آگ میں جل رہا ہے۔ ایک بِجّو آگ میں جل رہا ہو تو کسی کو کیا خبر کہ یہ ابراہیم علیہ السلام کا باپ ہے۔
← پچھلی آیت (86) پوری سورۃ اگلی آیت (88) →