بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الشعراء — Surah Shuara
آیت نمبر 82
کل آیات: 227
قرآن کریم الشعراء آیت 82
آیت نمبر: 82 — سورۃ الشعراء islamicurdubooks.com ↗
وَ الَّذِیۡۤ اَطۡمَعُ اَنۡ یَّغۡفِرَ لِیۡ خَطِیۡٓئَتِیۡ یَوۡمَ الدِّیۡنِ ﴿ؕ۸۲﴾
اور جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ روزِ جزا میں وہ میری خطا معاف فرما دے گا"
اور جس سے امید بندھی ہوئی ہے کہ وه روز جزا میں میرے گناہوں کو بخش دے گا
اور وہ جس کی مجھے آس لگی ہے کہ میری خطائیں قیامت کے دن بخشے گا
اور جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ وہ جزا و سزا کے دن میری خطا معاف کر دے گا۔
اور وہ جس سے میں طمع رکھتا ہوں کہ وہ جزا کے دن مجھے میری خطا بخش دے گا۔

📖 تفسیر ابن کثیر

خلیل اللہ کی تعریف ٭٭

حضرت خلیل اللہ علیہ السلام اپنے رب کی صفتیں بیان فرماتے ہیں کہ ”میں تو ان اوصاف والے رب کا ہی عابد ہوں۔ اس کے سوا اور کسی کی عبادت نہیں کرونگا۔ پہلا وصف یہ کہ وہ میرا خالق ہے اسی نے اندازہ مقرر کیا ہے اور وہی مخلوقات کی اس کی طرف رہبری کرتا ہے۔ دوسرا وصف یہ کہ وہ ہادی حقیقی ہے جسے چاہتا ہے اپنی راہ مستقیم پر چلاتا ہے جسے چاہتا ہے اسے غلط راہ پر لگا دیتا ہے۔ تیسر وصف میرے رب کا یہ ہے کہ وہ رازق ہے آسمان و زمین کے تمام اسباب اسی نے مہیا کئے ہیں۔ بادلوں کا اٹھانا پھیلانا ان سے بارش کا برسانا اس سے زمین کو زندہ کرنا پھر پیداوار اگانا اسی کا کام ہے۔ وہی میٹھا اور پیاس بجھانے والا پانی ہمیں دیتا ہے اور اپنی مخلوق کو بھی غرض کھلانے پلانے والا ہی ہے۔ ساتھ ہی بیمار تندرستی بھی اسی کے ہاتھ ہے۔‏‏‏‏“ لیکن خلیل اللہ علیہ السلام کا کمال ادب دیکھئیے کہ بیماری کی نسبت تو اپنی طرف کی اور شفاء کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہے۔ گو بیماری بھی اس قضاء و قدر ہے اور اسی کی بنائی ہوئی چیز ہے۔ یہی لطافت سورۃ فاتحہ کی دعا میں بھی ہے کہ انعام وہدایت کی اسناد تو اللہ عالم کی طرف کی ہے اور غضب کے فاعل کو حزف کر دیا ہے اور ضلالت بندے کی طرف منسوب کر دی ہے۔ سورۃ الجن میں جنات کا قول بھی ملاحظہ ہوجہاں انہوں نے کہا ہے کہ ہمیں نہیں معلوم کہ زمین والی مخلوق کے ساتھ کسی برائی کا ارادہ کیا گیا ہے یا ان کے ساتھ ان کے رب نے بھلائی کا ارادہ کیا ہے؟ یہاں بھی بھلائی کی نسبت رب کی طرف کی گئی اور برائی کے ارادے میں نسبت ظاہر نہیں کی گئی۔ اسی طرح کی آیت ہے کہ ’ جب میں بیمار پڑتا ہوں تو میری شفاء پر بجز اس اللہ کے اور کوئی قادر نہیں ‘۔ دوا میں تاثیر پیدا کرنا بھی اسی کے بس کی چیز ہے۔ موت و حیات پر قادر بھی وہی ہے۔ ابتداء اسی کے ساتھ ہے اسی نے پہلی پیدائش کی ہے۔ وہی دوبارہ لوٹائے گا۔ دنیا اور آخرت میں گناہوں کی بخشش پر بھی وہی قادر ہے وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے، غفور ورحیم وہی ہے۔

📖 احسن البیان

84-1یہاں امید، یقین کے معنی میں ہے۔ کیونکہ کسی بڑی شخصیت سے امید، یقین کے مترادف ہی ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ تو کائنات کی سب سے بڑی ہستی ہے، اس سے وابستہ امید، یقینی کیوں نہیں ہوگی اسی لئے مفسرین کہتے ہیں کہ قرآن میں جہاں بھی اللہ کے لئے عَسَیٰ کا لفظ استعمال ہوا ہے وہ یقین ہی کے مفہوم میں ہے۔ خطیئتی، خطیئۃ واحد کا صیغہ ہے لیکن خطایا جمع کے معنی میں ہے انبیاء (علیہم السلام) اگرچہ معصوم ہوتے ہیں اس لیے ان سے کسی بڑے گناہ کا صدور ممکن نہیں پھر بھی اپنے بعض افعال کو کوتاہی پر محمول کرتے ہوئے بارگاہ الہی میں عفو وطلب ہوں گے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 82) {وَ الَّذِيْۤ اَطْمَعُ اَنْ يَّغْفِرَ لِيْ خَطِيْٓـَٔتِيْ يَوْمَ الدِّيْنِ:} یعنی قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ عدالت قائم فرمائے گا تو وہاں کسی کی عدالت، حاکمیت یا سلطنت نہیں ہو گی، نہ اس کے فیصلوں میں کسی کا کوئی دخل ہو گا، نہ اس کے سوا کوئی کسی کے گناہ معاف کر سکے گا، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ مَنْ يَّغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اللّٰهُ }» [ آل عمران: ۱۳۵ ] ”اور اللہ کے سوا اور کون گناہ بخشتا ہے؟“ چونکہ میں اس کا موحد بندہ ہوں، میں نے اس کے ساتھ شرک نہیں کیا، اس لیے میں اس سے امید رکھتا ہوں کہ اس دن وہ میری خطائیں معاف فرمائے گا۔ اس میں ابراہیم علیہ السلام کی تواضع اور ان کا انکسار بھی ظاہر ہو رہا ہے کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے جلال اور اس کی بے پروائی کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی امید کا اظہار کیا ہے۔ ابراہیم علیہ السلام نے یہ صفات اس لیے بیان فرمائیں کہ مشرکین کو مطمئن کر سکیں کہ عبادت صرف اس ”رب العالمین“ کا حق ہے جو ان صفات کا مالک ہے۔ دوسرے معبود جو نہ پیدا کر سکیں، نہ رہنمائی کر سکیں، نہ کھانے کو دے سکیں، نہ پینے کو، نہ شفا کے مالک ہوں، نہ موت و حیات کے، نہ قیامت برپا کر سکتے ہوں، نہ عدالت قائم کر سکتے ہوں، وہ عبادت کے حق دار کیسے ہو سکتے ہیں؟
← پچھلی آیت (81) پوری سورۃ اگلی آیت (83) →