بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الشعراء — Surah Shuara
آیت نمبر 77
کل آیات: 227
قرآن کریم الشعراء آیت 77
آیت نمبر: 77 — سورۃ الشعراء islamicurdubooks.com ↗
فَاِنَّہُمۡ عَدُوٌّ لِّیۡۤ اِلَّا رَبَّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿ۙ۷۷﴾
میرے تو یہ سب دشمن ہیں، بجز ایک رب العالمین کے
بجز سچے اللہ تعالیٰ کے جو تمام جہان کا پالنہار ہے
بیشک وہ سب میرے دشمن ہیں مگر پروردگار عالم
بہرکیف یہ سب میرے دشمن ہیں سوائے رب العالمین کے۔
سو بلاشبہ وہ میرے دشمن ہیں، سوائے رب العالمین کے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

ابراہیم علیہ السلام علامت توحیدی پرستی ٭٭

تمام موحدوں کے باپ اللہ کے بندے اور رسول اور خلیل ابراہیم علیہ افضل التحیۃ والتسلیم کا واقعہ بیان ہو رہا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ہو رہا ہے کہ ’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کو یہ واقعہ سنا دیں، تاکہ وہ اخلاص توکل اور اللہ واحد کی عبادت اور شرک اور مشرکین سے بیزاری میں آپ علیہ السلام کی اقتداء کریں۔ آپ علیہ السلام اول دن سے اللہ کی توحید پر قائم تھے اور آخر دن تک اسی توحید پر جمے رہے ‘۔ اپنی قوم سے اور اپنے باپ سے فرمایا کہ ”یہ بت پرستی کیا کر رہے ہو“؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم تو پرانے وقت سے ان بتوں کی مجاوری اور عبادت کرتے چلے آتے ہیں۔ ابراہیم علیہ السلام نے ان کی اس غلطی کو ان پر وضح کر کے ان کی غلط روش بے نقاب کرنے کے لیے ایک بات اور بھی بیان فرمائی کہ تم جو ان سے دعائیں کرتے ہو اور دور نزدیک سے انہیں پکارتے ہو تو کیا یہ تمہاری پکار سنتے ہیں؟ یا جس نفع کے حاصل کرنے کے لیے تم انہیں بلاتے ہو وہ نفع تمہیں وہ پہنچاسکتے ہیں؟ یا اگر تم ان کی عبادت چھوڑ دو تو کیا وہ تمہیں نقصان پہنچا سکتے ہیں؟ اس کا جواب جو قوم کی جانب سے ملا وہ صاف ظاہر ہے کہ ان کے معبود ان کاموں میں سے کسی کام کو نہیں کر سکتے۔ انہوں نے صاف کہا کہ ہم تو اپنے بڑوں کی وجہ سے بت پرستی پر جمے ہوئے ہیں۔

اس کے جواب میں خلیل اللہ علیہ السلام نے ان سے اور ان کے معبودان باطلہ سے اپنی برأت اور بیزاری کا اعلان کر دیا۔ صاف فرما دیا کہ ”تم اور تمہارے معبود سے میں بیزار ہوں، جن کی تم اور تمہارے باپ دادا پرستش کرتے رہے۔ ان سب سے میں بیزار ہوں وہ سب میرے دشمن ہیں میں صرف سچے رب العلمین کا پرستار ہوں۔ میں موحد مخلص ہوں۔ جاؤ تم سے اور تمہارے معبودوں سے جو ہو سکے کر لو۔‏‏‏‏“ نوح نبی علیہ السلام نے بھی اپنی قوم سے یہی فرمایا تھا ”تم اور تمہارے سارے معبود مل کر اگر میرا کچھ بگاڑ سکتے ہوں تو کمی نہ کرو۔‏‏‏‏“ ھود علیہ السلام نے بھی فرمایا تھا ”میں تم سے اور تمہارے اللہ کے سوا باقی معبودوں سے بیزار ہوں تم سب اگر مجھے نقصان پہنچا سکتے ہو تو جاؤ پہنچالو۔ میرا بھروسہ اپنے رب کی ذات پر ہے تمام جاندار اس کے ماتحت ہیں وہ سیدھی راہ والا ہے۔‏‏‏‏“ اسی طرح خلیل الرحمن علیہ صلوات الرحمن نے فرمایا کہ ”میں تمہارے معبودوں سے بالکل نہیں ڈرتا۔ ڈر تو تمہیں میرے رب سے رکھنا چاہیئے۔ جو سچا ہے۔‏‏‏‏“ آپ علیہ السلام نے اعلان کر دیا تھا کہ ”جب تک تم ایک اللہ پر ایمان نہ لاؤ مجھ میں تم میں عداوت ہے۔ میں اے باپ تجھ سے اور تیری قوم سے اور تیرے معبودوں سے بری ہوں۔ صرف اپنے رب سے میری آرزو ہے کہ وہ مجھے راہ راست دکھلائے اسی کو یعنی «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کو انہوں نے کلمہ بنا لیا۔

📖 احسن البیان

76-1اس لئے کہ تم سب اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کی عبادت کرنے والے ہو۔ بعض نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ جن کی تم اور تمہارے باپ دادا عبادت کرتے رہے ہیں، وہ سب معبود میرے دشمن ہیں یعنی ان سے بیزار ہوں۔ 77-2یعنی وہ دشمن نہیں، بلکہ وہ تو دنیا و آخرت میں میرا ولی اور دوست ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 77) ➊ {فَاِنَّهُمْ عَدُوٌّ لِّيْۤ اِلَّا رَبَّ الْعٰلَمِيْنَ:عَدُوٌّ”فَعُوْلٌ“} کے وزن پر ہے، واحد، جمع، مذکر اور مؤنث سب کے لیے یکساں استعمال ہوتا ہے، اس لیے {” فَاِنَّهُمْ “} میں جمع کی خبر ہونے کے باوجود واحد آیا ہے۔ یعنی تم اور تمھارے قدیم ترین آبا و اجداد جن چیزوں کی عبادت کرتے رہے ہیں وہ سب چیزیں میری دشمن ہیں۔ ہاں، اگر ان میں سے کوئی {”رب العالمين“} کی بھی عبادت کرتا رہا ہے، تو صرف {”رب العالمين“} میرا دوست ہے۔ ➋ یہاں ایک سوال ہے کہ بتوں کے دشمن تو ابراہیم علیہ السلام تھے، بتوں نے ان سے کیا دشمنی کرنا تھی؟ تو یہاں یہ کہنے کے بجائے کہ میں ان کا دشمن ہوں، یہ کیوں فرمایا کہ وہ میرے دشمن ہیں؟ اس کے دو جواب ہیں، ایک یہ کہ ابراہیم علیہ السلام انھیں بتانا یہ چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا تم جن کی عبادت کرتے ہو، جتنی مرضی ان سے محبت کر لو یا ان کی عبادت کر لو، قیامت کے دن وہ تمھارے دشمن بن جائیں گے، ایک اللہ عز و جل کی ذات پاک ہے کہ وہ اپنی عبادت کرنے والوں کی دوست رہے گی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ وَ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ يَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَنْ لَّا يَسْتَجِيْبُ لَهٗۤ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ وَ هُمْ عَنْ دُعَآىِٕهِمْ غٰفِلُوْنَ (5) وَ اِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوْا لَهُمْ اَعْدَآءً وَّ كَانُوْا بِعِبَادَتِهِمْ كٰفِرِيْنَ }» [ الأحقاف: ۵، ۶ ] ”اور اس سے بڑھ کر کون گمراہ ہے جو اللہ کے سوا انھیں پکارتا ہے جو قیامت کے دن تک اس کی دعا قبول نہیں کریں گے اور وہ ان کے پکارنے سے بے خبر ہیں۔ اور جب سب لوگ اکٹھے کیے جائیں گے تو وہ ان کے دشمن ہوں گے اور ان کی عبادت سے منکر ہوں گے۔“ سورۂ بقرہ (۱۶۵، ۱۶۶) اور سورۂ مریم (۸۱، ۸۲) میں بھی یہی بات بیان ہوئی ہے۔ مگر ابراہیم علیہ السلام نے یہ کہنے کے بجائے کہ ”تمھارے معبود تمھارے دشمن ہوں گے“ یہ فرمایا کہ تمھارے یہ معبود (اگر میں ان کی عبادت کروں گا تو) میرے دشمن ہوں گے۔ اس میں انھوں نے دعوت میں حکمت اور دانائی کو محفوظ رکھا ہے کہ مخاطب سوچے کہ جس طرح ابراہیم علیہ السلام کو اپنی فکر ہے کہ بتوں کی عبادت کی صورت میں انھیں ان کی دشمنی کے علاوہ کچھ حاصل نہ ہو گا، اسی طرح مجھے بھی اپنی فکر کرنی چاہیے۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ {” عَدُوٌّ “} (دشمن) اسی کو نہیں کہتے جسے آپ سے دشمنی ہو، اسے بھی دشمن کہا جاتا ہے جس سے آپ کو دشمنی ہو۔ جس سے اپنی شدید دشمنی کا اظہار کرنا ہو اس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ میرا دشمن ہے اور جس سے شدید محبت کا اظہار کرنا ہو اس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ میرا دوست ہے۔ مرزا غالب نے کہا ہے: یہی ہے آزمانا تو ستانا کس کو کہتے ہیں عدو کے ہو لیے جب تم تو میرا امتحاں کیوں ہو گویا ابراہیم علیہ السلام نے اپنی شدید عداوت کے اظہار کے لیے انھیں اپنا دشمن اور ”رب العالمین“ کو اپنا دوست قرار دیا ہے۔ ➌ ابراہیم علیہ السلام نے ان الفاظ میں بتوں سے اپنی دشمنی کا جو اظہار کیا ہے دوسری جگہ اس کا اظہار ان الفاظ میں ہوا ہے: «{وَ تَاللّٰهِ لَاَكِيْدَنَّ اَصْنَامَكُمْ بَعْدَ اَنْ تُوَلُّوْا مُدْبِرِيْنَ }» [ الأنبیاء: ۵۷ ] ”اور اللہ کی قسم! میں ضرور ہی تمھارے بتوں کی خفیہ تدبیر کروں گا، اس کے بعد کہ تم پیٹھ پھیر کر چلے جاؤ گے۔“ پھر ابراہیم علیہ السلام نے اس دشمنی کا عملی مظاہرہ بھی بتوں کو توڑ کر فرمایا۔ ان الفاظ میں اس بات کا بھی اظہار ہے کہ میں تمھارے بتوں سے ہرگز نہیں ڈرتا، وہ میرا کچھ بگاڑ نہیں سکتے، میرا ان کے ساتھ اور تمھارے ساتھ تعلق دشمنی کا ہے۔ (دیکھیے ممتحنہ: ۴۔ انعام: ۸۰، ۸۱) اللہ تعالیٰ کے دوسرے جلیل القدر پیغمبروں نے بھی کفار اور ان کے معبودوں کے متعلق صاف اعلان کیا کہ وہ ان کے خلاف جو کر سکتے ہیں انھیں ان کی کوئی پروا ہے نہ ان سے کوئی خوف۔ نوح علیہ السلام کے متعلق دیکھیے سورۂ یونس (۷۱) اور ہود علیہ السلام کے متعلق دیکھیے سورۂ ہود (۵۵، ۵۶)۔
← پچھلی آیت (76) پوری سورۃ اگلی آیت (78) →