بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الشعراء — Surah Shuara
آیت نمبر 63
کل آیات: 227
قرآن کریم الشعراء آیت 63
آیت نمبر: 63 — سورۃ الشعراء islamicurdubooks.com ↗
فَاَوۡحَیۡنَاۤ اِلٰی مُوۡسٰۤی اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاکَ الۡبَحۡرَ ؕ فَانۡفَلَقَ فَکَانَ کُلُّ فِرۡقٍ کَالطَّوۡدِ الۡعَظِیۡمِ ﴿ۚ۶۳﴾
ہم نے موسیٰؑ کو وحی کے ذریعہ سے حکم دیا کہ "مار اپنا عصا سمندر پر" یکایک سمندر پھَٹ گیا اور اس کا ہر ٹکڑا ایک عظیم الشان پہاڑ کی طرح ہو گیا
ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ دریا پر اپنی ﻻٹھی مار، پس اسی وقت دریا پھٹ گیا اور ہر ایک حصہ پانی کا مثل بڑے پہاڑ کے ہوگیا
تو ہم نے موسیٰ کو وحی فرمائی کہ دریا پر اپنا عصا مار تو جبھی دریا پھٹ گیا تو ہر حصہ ہوگیا جیسے بڑا پہاڑ
سو ہم نے موسیٰ کو وحی کی کہ اپنا عصا دریا پر مارو۔ چنانچہ وہ دریا پھٹ گیا اور (پانی کا) ہر حصہ ایک بڑے پہاڑ کی طرح ہوگیا۔
تو ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنی لاٹھی سمندر پر مار، پس وہ پھٹ گیا تو ہر ٹکڑا بہت بڑے پہاڑ کی طرح ہوگیا۔

📖 تفسیر ابن کثیر

فرعون اور اس کا لشکر غرق دریا ہو گیا ٭٭

فرعون اپنے تمام لاؤ لشکر اور تمام رعایا کو مصر اور بیرون کے لوگوں کو اپنے والوں کو اور اپنی قوم کے لوگوں کو لے کر بڑ طمطراق اور ٹھاٹھ سے بنی اسرائیل کو تہس نہس کرنے کے ارادے سے چلا بعض کہتے ہیں ان کی تعداد لاکھوں سے تجاوز کر گئی تھی۔ ان میں سے ایک لاکھ تو صرف سیاہ رنگ کے گھوڑوں پر سوار تھے لیکن یہ خبر اہل کتاب کی ہے جو تامل طلب ہے۔ کعب رضی اللہ عنہ سے تو مروی ہے کہ آٹھ لاکھ تو ایسے گھوڑوں پر سوار تھے۔ ہمارا تو خیال ہے کہ یہ سب بنی اسرائیل کی مبالغہ آمیز روایتیں ہیں۔ اتنا تو قرآن سے ثابت ہے کہ فرعون اپنی کل جماعت کو لے کر چلا مگر قرآن نے ان کی تعداد بیان نہیں فرمائی نہ اس کو علم ہمیں کچھ نفع دینے والا ہے طلوع آفتاب کے وقت یہ ان کے پاس پہنچ گیا۔ کافروں نے مومنوں اور مومنوں نے کافروں کو دیکھ لیا۔ موسیٰ علیہ السلام کے ساتھیوں کے منہ سے بےساختہ نکل گیا کہ موسیٰ علیہ السلام اب بتاؤ کیا کریں۔ پکڑ لیے گئے آگے بحر قلزم ہے پیچھے فرعون کاٹڈی دل لشکر ہے۔ نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن۔ ظاہر ہے کہ نبی اور غیر نبی کا ایمان یکساں نہیں ہوتا موسیٰ علیہ السلام نہایت ٹھنڈے دل سے جواب دیتے ہیں کہ ”گھبراؤ نہیں تمہیں کوئی ایذاء نہیں پہنچا سکتی میں اپنی رائے سے تمہیں لے کر نہیں نکلا بلکہ احکم الحکمین کے حکم سے تمہیں لے کر چلا ہوں۔ وہ وعدہ خلاف نہیں ہے۔‏‏‏‏“ ان کے اگلے حصے پر ہارون علیہ السلام تھے انہی کے ساتھ یوشع بن نون تھے یہ آل فرعون کا مومن شخص تھا۔ اور موسیٰ علیہ السلام لشکر کے اگلے حصے میں تھے۔ گھبراہٹ کے مارے اور راہ نہ ملنے کی وجہ سے سارے بنو اسرئیل ہکا بکا ہو کر ٹھہر گئے اور اضطراب کے ساتھ جناب کلیم اللہ علیہ السلام سے دریافت فرمانے لگے کہ اسی راہ پر چلنے کا اللہ کا حکم تھا؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا ”ہاں۔‏‏‏‏“ اتنی دیر میں تو فرعون کا لشکر سر پر آ پہنچا۔ اسی وقت پروردگار کی وحی آئی کہ ’ اے نبی! اس دریا پر اپنی لکڑی مارو۔ اور پھر میری قدرت کا کرشمہ دیکھو ‘۔ آپ علیہ السلام نے لکڑی ماری جس کے لگتے ہی بحکم اللہ پانی پھٹ گیا اس پریشانی کے وقت موسیٰ علیہ السلام نے جو دعا مانگی تھی۔ وہ ابن ابی حاتم میں ان الفاظ سے مروی ہے «يَا مَنْ كَانَ قَبْل كُلّ شَيْء وَالْمُكَوِّن لِكُلِّ شَيْء وَالْكَائِن بَعْد كُلّ شَيْء اِجْعَلْ لَنَا مَخْرَجًا» یہ دعا موسیٰ علیہ السلام کے منہ سے نکلی ہی تھی کہ اللہ کی وحی آئی کہ ’ دریا پر اپنی لکڑی مارو ‘۔

حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس رات اللہ تعالیٰ نے دریا کی طرف پہلے ہی سے وحی بھیج دی تھی کہ جب میرے پیغمبر موسیٰ علیہ السلام آئیں اور تجھے لکڑی ماریں تو تو ان کی بات سننا اور ماننا پس سمندر میں رات بھر تلاطم رہا اس کی موجیں ادھر ادھر سر ٹکراتی پھیریں کہ نہ معلوم علیہ السلام کب اور کدھر سے آ جائیں اور مجھے لکڑی مار دیں ایسا نہ ہو کہ مجھے خبر نہ لگے اور میں ان کے حکم کی بجا آوری نہ کرسکوں جب بالکل کنارے پہنچ گئے تو آپ علیہ السلام کے ساتھی یوشع بن نون رحمۃ اللہ نے فرمایا اے اللہ کے نبی! اللہ کا آپ کو کیا حکم ہے؟ آپ نے فرمایا ”یہی کہ میں سمندر میں لکڑی ماروں۔‏‏‏‏“ انہوں نے کہا پھر دیر کیا ہے؟ چنانچہ آپ علیہ السلام نے لکڑی مار کر فرمایا اللہ کے حکم سے تو پھٹ اور مجھے چلنے کا راستہ دیدے۔ اسی وقت وہ پھٹ گیا راستے بیچ میں صاف نظر آنے لگے اور اس کے آس پاس پانی بطور پہاڑ کے کھڑا ہو گیا۔ اس میں بارہ راستے نکل آئے بنو اسرائیل کے قبیلے بھی بارہ ہی تھے۔ پھر قدرت الٰہی سے ہر دو فریق کے درمیان جو پہاڑ حائل تھا اسمیں طاق سے بن گئے تاکہ ہر ایک دوسرے کو سلامت روی سے آتا ہوا دیکھے۔ پانی مثل دیواروں کے ہو گیا۔ اور ہوا کو حکم ہوا کہ اس نے درمیان سے پانی کو اور زمین کو خشک کر کے راستے صاف کر دیئے پس اس خشک راستے سے آپ مع اپنی قوم کے بے کھٹکے جانے لگے۔ پھر فرعونیوں کو اللہ تعالیٰ نے دریا سے قریب کر دیا پھر موسیٰ علیہ السلام اور بنواسرائیل اور سب کو تو نجات مل گئی۔ اور باقی سب کافروں کو ہم نے ڈبودیا نہ ان میں سے کوئی بچا۔ نہ ان میں سے کوئی ڈوبا۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”فرعون کو جب بنو اسرائل کے بھاگ جانے کی خبر ملی تو اس نے ایک بکری ذبح کی اور کہا اس کی کھال اترنے سے پہلے چھ لاکھ کا لشکرجمع ہو جانا چاہیئے۔ ادھر موسیٰ علیہ السلام بھاگم بھاگ دریا کے کنارے جب پہنچ گئے تو دریا سے فرمانے لگے تو پھٹ جا کہیں ہٹ جا اور ہمیں جگہ دیدے اس نے کہا یہ کیا تکبر کی باتیں کر رہے ہو؟ کیا میں اس سے پہلے بھی کبھی پھٹا ہوں؟ اور ہٹ کر کسی انسان کو جگہ دی ہے جو تجھے دوں گا؟ آپ علیہ السلام کے ساتھ جو بزرگ شخص تھے انہوں نے کہا اے نبی علیہ السلام کیا یہی راستہ اور یہی جگہ اللہ کی بتلائی ہوئی ہے؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا ہاں یہی انہوں نے کہا پھر نہ تو آپ علیہ السلام جھوٹے ہیں نہ آپ علیہ السلام سے غلط فرمایا گیا ہے۔ آپ علیہ السلام نے دوبارہ یہی کہا لیکن پھر بھی کچھ نہ ہوا۔ اس بزرگ شخص نے دوبارہ یہی سوال کیا اسی وقت وحی اتری کہ ’ سمندر پر اپنی لکڑی مار ‘۔ اب آپ علیہ السلام کو خیال آیا اور لکڑی ماری لکڑی لگتے ہی سمندر نے راستہ دے دیا۔ بارہ راہیں ظاہر ہو گئیں ہر فرقہ اپنے راستے کو پہچان گیا اور اپنی راہ پر چل دیا اور ایک دوسرے کو دیکھتے ہوئے بہ اطمینان تمام چل دئیے۔ موسیٰ علیہ السلام تو بنی اسرائیل کو لے کر پار نکل گئے اور فرعونی ان کے تعاقب میں سمندر میں آ گئے کہ اللہ کے حکم سے سمندر کا پانی جیسا تھا ویسا ہو گیا اور سب کو ڈبودیا۔ جب سب سے آخری بنی اسرائیلی نکلا اور سب سے آخری قبطی سمندر میں آ گیا اسی وقت جناب باری تعالیٰ کے حکم سے سمندر کا پانی ایک ہو گیا اور سارے کے سارے قبطی ایک ایک کر کے ڈبودیئے گئے۔‏‏‏‏“ ’ اس میں بڑی عبرتناک نشانی ہے کہ کس طرح گنہگار برباد ہوتے ہیں اور نیک کردار شاد ہوتے ہیں لیکن پھر بھی اکثر لوگ ایمان جیسی دولت سے محروم ہیں۔ بیشک تیرا رب عزیز ورحیم ہے ‘۔

📖 احسن البیان

63-1چناچہ اللہ تعالیٰ نے یہ راہنمائی اور نشان دہی فرمائی کہ اپنی لاٹھی سمندر پر مارو، جس سے دائیں طرف کا پانی دائیں طرف اور بائیں طرف کا پانی بائیں طرف رک گیا اور دونوں کے بیچ راستہ بن گیا کہا جاتا ہے کہ بارہ قبیلوں کے حساب سے بارہ راستے بن گئے تھے واللہ عالم۔ -63-2فرق قطعہ بحر، سمندر کا حصہ طور پہاڑ۔ یعنی پانی کا ہر حصہ بڑے پہاڑ کی طرح کھڑا ہوگیا یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے معجزے کا صدور ہوا تاکہ موسیٰ ؑ اور ان کی قوم فرعون سے نجات پالے اس تائید الہی کے بغیر فرعون سے نجات ممکن نہیں تھی۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 63) {فَاَوْحَيْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اَنِ اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْبَحْرَ …:} بعض لوگ جو معجزات کے منکر ہیں فرعون اور اس کی قوم کے سمندر میں غرق ہونے کی تاویل یہ کرتے ہیں کہ جب بنی اسرائیل سمند رکے کنارے پہنچے تو اس وقت سمندر میں جزر کی کیفیت تھی، پانی پیچھے ہٹ گیا تھا، چنانچہ وہ بخیریت اس سے گزر گئے، ان کے پیچھے فرعون اور اس کی قوم بھی سمندر میں داخل ہو گئی۔ جب وہ پوری طرح اس کے اندر داخل ہو گئے تو سمندر میں ”مد“ کی کیفیت پیدا ہو گئی، پانی یک لخت چڑھ آیا اور وہ سب غرق ہو گئے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ تاویل نہیں بلکہ قرآن کا صاف انکار ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم نے اس موقع پر موسیٰ علیہ السلام کو وحی کی کہ اپنا عصا سمندر پر مار، چنانچہ سمندر پھٹ گیا اور پانی کا ہر ٹکڑا ایک بہت بڑے، لمبے چوڑے اور اونچے پہاڑ کی صورت میں تھم گیا۔ سورۂ طٰہٰ میں ہے کہ ان کے درمیان (سمندر کی تہ کی گیلی اور دلدلی زمین میں) خشک راستہ بن گیا، فرمایا: «{ فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِيْقًا فِي الْبَحْرِ يَبَسًا }» [ طٰہٰ: ۷۷ ] ”پس ان کے لیے سمندر میں ایک خشک راستہ بنا۔“ غور کریں کہاں مد و جزر سے سمندر کا بڑھنا گھٹنا اور کہاں پانی کا اپنی سطح ہموار رکھنے کے بجائے بہت بڑے پہاڑوں کی صورت میں تھم جانا۔ دراصل ان لوگوں کا ایمان ہی نہیں کہ جس مالک نے آگ میں جلانے کی اور پانی میں بہنے اور ڈبونے کی خاصیت رکھی ہے، وہ جب چاہے ان سے یہ خاصیت واپس بھی لے سکتا ہے۔ یہ لوگ اندھے بہرے مادے ہی کو اپنا معبود بنائے بیٹھے ہیں، جو اپنے آپ پر بھی کوئی اختیار نہیں رکھتا۔ یہاں {”فَأَوْحَيْنَا إِلَيْهِ“} کے بجائے {” فَاَوْحَيْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى “} میں موسیٰ علیہ السلام کا نام اپنے رب پر اعتماد کے صلے میں ان کی عظمت شان کے اظہار کے لیے ہے۔
← پچھلی آیت (62) پوری سورۃ اگلی آیت (64) →