بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الشعراء — Surah Shuara
آیت نمبر 59
کل آیات: 227
قرآن کریم الشعراء آیت 59
آیت نمبر: 59 — سورۃ الشعراء islamicurdubooks.com ↗
کَذٰلِکَ ؕ وَ اَوۡرَثۡنٰہَا بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ ﴿ؕ۵۹﴾
یہ تو ہوا اُن کے ساتھ، اور (دوسری طرف) بنی اسرائیل کو ہم نے ان سب چیزوں کا وارث کر دیا
اسی طرح ہوا اور ہم نےان (تمام) چیزوں کا وارث بنی اسرائیل کو بنا دیا
ہم نے ایسا ہی کیا اور ان کا وارث کردیا بنی اسرائیل کو
ایسا ہی ہوا اور ہم نے ان چیزوں کا وارث بنی اسرائیل کو بنایا۔
ایسے ہی ہوا اور ہم نے ان کا وارث بنی اسرائیل کو بنا دیا۔

📖 تفسیر ابن کثیر

محض ذلیل کمین اور قلیل لوگ ہیں ہر وقت ان سے ہمیں کوفت ہوتی رہتی ہے تکلیف پہنچتی رہتی ہے۔ اور پھر ہر وقت ہمیں ان کی طرف سے دغدغہ ہی لگا رہتا ہے یہ معنی «حَاذِرُوْنَ» کی قرأت پر ہیں سلف کی ایک جماعت نے اسے «حَذِرُوْنَ» بھی پڑھا ہے یعنی ہم ہتھیار بند ہیں۔ میں ارادہ کر چکا ہوں کہ اب انہیں ان کی سرکشی کا مزہ چکھا دوں۔ ان سب کو ایک ساتھ گھیر گھار کر گاجر مولی کی طرح کاٹ ڈال دوں۔ اللہ کی شان یہی بات اسی پر لوٹ پڑی اور وہ مع اپنی قوم اور لاؤ لشکر کے یہ یک وقت ہلاک ہوا۔ «لعنۃ اللہ علیہ وعلی من تبعہ» ۔ جناب باری کا ارشاد ہے کہ ’ یہ لوگ اپنی طاقت اور اکثریت کے گھمنڈ پر بنی اسرائیل کے تعاقب میں انہیں نیست و نابود کرنے کے ارادے سے نکل کھڑے ہوئے اس بہانے ہم نے انہیں ان کے باغات چشموں نہروں خزانوں اور بارونق مکانوں سے خارج کیا اور جہنم واصل کیا۔ وہ اپنے بلند و بالا شوکت وشان والے محلات ہرے بھرے باغات جاری نہریں خزانے سلطنت ملک تخت و تاج جاہو مال سے چھوڑ کر بنی اسرائیل کے پیچھے مصر سے نکلے۔ اور ہم نے ان کی یہ تمام چیزیں بنی اسرائیل کو دلوادیں جو آج تک پست حال تھے ذلیل و نادار تھے۔ چونکہ ہمار ارادہ ہو چکا تھا کہ ہم ان کمزوروں کو ابھاریں اور ان گرے پڑے لوگوں کو برسر ترقی لائیں اور انہیں پیشوا اور وارث بنادیں اور ارادہ ہم نے پورا کیا ‘۔

📖 احسن البیان

59-1یعنی جو اقتدار اور بادشاہت فرعون کو حاصل تھی، وہ اس سے چھین کر ہم نے بنی اسرائیل کو عطا کردی۔ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد مصر جیسا اقتدار اور دنیاوی جاہ جلال ہم نے بنی اسرائیل کو بھی عطا کیا۔ کیونکہ بنی اسرائیل، مصر سے نکل جانے کے بعد مصر واپس نہیں آئے۔ نیز سورة دخان میں فرمایا کہ ' ہم نے اس کا وارث کسی دوسری قوم کو بنایا ' (أیسر التفاسیر) اول الذکر اہل علم کہتے ہیں کہ قوما آخرین میں قوم کا لفظ اگرچہ عام ہے لیکن یہاں سورة شعراء میں جب بنی اسرائیل کو وارث بنانے کی صراحت آگئی ہے تو اس سے مراد بھی قوم بنی اسرائیل ہی ہوگی۔ مگر خود قرآن کی صراحت کے مطابق مصر سے نکلنے کے بعد بنو اسرائیل کو ارض مقدس میں داخل ہونے کا حکم دیا گیا اور ان کے انکار پر چالیس سال کے لیے یہ داخلہ مؤخر کرکے میدان تیہ میں بھٹکایا گیا پھر وہ ارض مقدس میں داخل ہوئے چناچہ حضرت موسیٰ ؑ کی قبر حدیث اسراء کے مطابق بیت المقدس کے قریب ہی ہے اس لیے صحیح معنی یہی ہے کہ جیسی نعمتیں آل فرعون کو مصر میں حاصل تھیں ویسی ہی نعتیں اب بنو اسرائیل کو عطا کی گئیں لیکن مصر میں نہیں بلکہ فلسطین میں واللہ اعلم۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 59) {كَذٰلِكَ وَ اَوْرَثْنٰهَا بَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ:كَذٰلِكَ “} کو مبتدا محذوف کی خبر بنا لیں {”أَيْ اَلْأَمْرُ كَذٰلِكَ“} یا فعل محذوف کا فاعل {”أَيْ وَقَعَ كَذٰلِكَ“} یعنی اگرچہ یہ بات ناممکن دکھائی دیتی ہے، مگر ایسے ہی ہوا اور ہم نے ان باغوں، چشموں، خزانوں اور عالی شان جگہوں کا وارث بنی اسرائیل کو بنا دیا۔ یہاں ایک سوال ہے کہ اس آیت سے ظاہر ہو رہا ہے کہ فرعون کے غرق ہونے کے بعد بنی اسرائیل مصر کی سر زمین کے مالک بن گئے، جب کہ بنی اسرائیل جہاد سے انکار کی پاداش میں چالیس برس تو صحرا ہی میں دھکے کھاتے رہے، اس کے بعد بھی معروف یہی ہے کہ ان کی پیش قدمی شام کی طرف ہوئی اور شام ہی یوشع بن نون اور بعد میں داؤد اور سلیمان علیھم السلام کی سلطنت کا مرکز تھا۔ تاریخ میں ان کی مصر واپسی کا کہیں ذکر نہیں۔ اس سوال کا حل دو طرح سے ہے، ایک وہ جو بہت سے مفسرین نے اختیار کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو بہت سے باغوں، چشموں، خزانوں اور عمدہ جگہوں کا وارث بنایا، مگر مصر میں نہیں بلکہ شام میں۔ مصر کے باغوں، چشموں وغیرہ کی وارث اور قومیں بنیں۔ ان مفسرین کے نزدیک سورۂ دخان (۲۸) میں مذکور: «{ كَذٰلِكَ وَ اَوْرَثْنٰهَا قَوْمًا اٰخَرِيْنَ }» (اسی طرح ہوا اور ہم نے ان کا وارث اور لوگوں کو بنا دیا) کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے سر زمین مصر کا وارث بنی اسرائیل کے سوا اور لوگوں کو بنا دیا۔ ابن عاشور، بقاعی اور بہت سے مفسرین کی یہی رائے ہے۔ دوسرا حل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مصر کے باغوں، چشموں اور خزانوں وغیرہ کا مالک بالآخر بنی اسرائیل کو بنا دیا، مگر ان کو نہیں جو موسیٰ علیہ السلام کے ہمراہ ہجرت کرکے وہاں سے نکلے تھے، بلکہ بنی اسرائیل ہی کی ایک اور نسل کو یہ نعمت عطا ہوئی اور یہی مطلب ہے اس آیت کا: «{ كَذٰلِكَ وَ اَوْرَثْنٰهَا قَوْمًا اٰخَرِيْنَ }» [ الدخان: ۲۸ ] مجھے اس رائے پر اطمینان ہوتا ہے۔ رہی یہ بات کہ تاریخ میں بنی اسرائیل کے مصر واپس آنے کا ذکر نہیں تو حقیقت یہ ہے کہ قبل مسیح کی تاریخ کا پوری طرح اعتبار مشکل ہے اور اس میں کسی بات کے ذکر نہ ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ وہ واقعہ ہوا ہی نہیں۔ سلیمان علیہ السلام جنھوں نے یمن کی ملکہ کی حکومت کا علم ہونے پر اسے اپنے زیر نگیں کرنے تک دم نہیں لیا اور قرآن کے بیان کے مطابق جنھیں ایسی سلطنت ملی جو بعد میں کسی کے شایان شان ہی نہیں، ان کے لیے مصر کو اپنی قلمرو میں شامل کرنا کچھ مشکل نہیں تھا۔ اس لیے فرعون کی قوم کو ان کے باغوں اور چشموں وغیرہ سے نکال لانے کے بعد ”اور ہم نے ان کا وارث بنی اسرائیل کو بنا دیا“ کے الفاظ کو ان کے ظاہر پر ہی رہنے دینا چاہیے۔ ہاں، یہ درست ہے کہ وہ بنی اسرائیل اور تھے جو وارث بنے، ”تیہ“ میں چالیس سال تک سر مارتے رہنے والے بنی اسرائیل نہیں تھے۔ (واللہ اعلم) مزید دیکھیے سورۂ اعراف (۱۳۶)۔
← پچھلی آیت (58) پوری سورۃ اگلی آیت (60) →