محض ذلیل کمین اور قلیل لوگ ہیں ہر وقت ان سے ہمیں کوفت ہوتی رہتی ہے تکلیف پہنچتی رہتی ہے۔ اور پھر ہر وقت ہمیں ان کی طرف سے دغدغہ ہی لگا رہتا ہے یہ معنی «حَاذِرُوْنَ» کی قرأت پر ہیں سلف کی ایک جماعت نے اسے «حَذِرُوْنَ» بھی پڑھا ہے یعنی ہم ہتھیار بند ہیں۔ میں ارادہ کر چکا ہوں کہ اب انہیں ان کی سرکشی کا مزہ چکھا دوں۔ ان سب کو ایک ساتھ گھیر گھار کر گاجر مولی کی طرح کاٹ ڈال دوں۔ اللہ کی شان یہی بات اسی پر لوٹ پڑی اور وہ مع اپنی قوم اور لاؤ لشکر کے یہ یک وقت ہلاک ہوا۔ «لعنۃ اللہ علیہ وعلی من تبعہ» ۔ جناب باری کا ارشاد ہے کہ ’ یہ لوگ اپنی طاقت اور اکثریت کے گھمنڈ پر بنی اسرائیل کے تعاقب میں انہیں نیست و نابود کرنے کے ارادے سے نکل کھڑے ہوئے اس بہانے ہم نے انہیں ان کے باغات چشموں نہروں خزانوں اور بارونق مکانوں سے خارج کیا اور جہنم واصل کیا۔ وہ اپنے بلند و بالا شوکت وشان والے محلات ہرے بھرے باغات جاری نہریں خزانے سلطنت ملک تخت و تاج جاہو مال سے چھوڑ کر بنی اسرائیل کے پیچھے مصر سے نکلے۔ اور ہم نے ان کی یہ تمام چیزیں بنی اسرائیل کو دلوادیں جو آج تک پست حال تھے ذلیل و نادار تھے۔ چونکہ ہمار ارادہ ہو چکا تھا کہ ہم ان کمزوروں کو ابھاریں اور ان گرے پڑے لوگوں کو برسر ترقی لائیں اور انہیں پیشوا اور وارث بنادیں اور ارادہ ہم نے پورا کیا ‘۔
📖 احسن البیان
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
📖 القرآن الکریم
(آیت 58،57) {فَاَخْرَجْنٰهُمْ مِّنْ جَنّٰتٍ وَّ عُيُوْنٍ …:} چند ہی دنوں میں فرعون نے بنی اسرائیل کے تعاقب کے لیے ایک لشکر جرار تیار کر لیا۔ اس کے نزدیک تو یہ کام نہایت عقل مندی کا تھا کہ اس نے پورے ملک سے اپنی ساری قوت اکٹھی کرلی، تاکہ بنی اسرائیل کو زبردستی دوبارہ اپنی غلامی میں واپس لے آئے، یا انھیں دنیا سے مٹا دے، مگر اللہ تعالیٰ کی تدبیر غالب ہے۔ اس نے فرعون کی چال اسی پر پلٹ دی، اس کی سلطنت کے بڑے بڑے ستون پورے ملک سے اکٹھے ہو گئے، تمام فوجیں بھی یکجا ہو گئیں اور ایک ہی وقت میں سمندر میں غرق کر دی گئیں۔ اگر وہ بنی اسرائیل کے لیے فوجیں جمع نہ کرتا تو زیادہ سے زیادہ ایک قوم اس کے ہاتھ سے نکل جاتی، مگر اس کی سلطنت اور عیش و عشرت کے اسباب باقی رہتے۔ اب اس کی تدبیر کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ خود، اس کی افواج اور اس کے امراء و وزراء، جو اس کی سلطنت کا خلاصہ تھے، سب سمندر میں غرق ہو گئے۔ یہ اس قادر و مختار کا کام تھا کہ ایک طرف اس نے فرعون کو، اس کی پوری قوت کو اور اس کی قوم کے سرداروں کو ان کے باغوں، چشموں، خزانوں اور عالی شان مقامات سے نکالا اور سمندر میں لا کر غرق کر دیا اور دوسری طرف بنی اسرائیل کو خیریت کے ساتھ مصر سے نکال کر آزادی سے ہمکنار کر دیا۔