بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الشعراء — Surah Shuara
آیت نمبر 55
کل آیات: 227
قرآن کریم الشعراء آیت 55
آیت نمبر: 55 — سورۃ الشعراء islamicurdubooks.com ↗
وَ اِنَّہُمۡ لَنَا لَغَآئِظُوۡنَ ﴿ۙ۵۵﴾
اور انہوں نے ہم کو بہت ناراض کیا ہے
اور اس پر یہ ہمیں سخت غضب ناک کر رہے ہیں
اور بیشک ہم سب کا دل جلاتے ہیں
اور انہوں نے ہمیں بہت غصہ دلایا ہے۔
اور بلاشبہ یہ ہمیں یقینا غصہ دلانے والے ہیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

محض ذلیل کمین اور قلیل لوگ ہیں ہر وقت ان سے ہمیں کوفت ہوتی رہتی ہے تکلیف پہنچتی رہتی ہے۔ اور پھر ہر وقت ہمیں ان کی طرف سے دغدغہ ہی لگا رہتا ہے یہ معنی «حَاذِرُوْنَ» کی قرأت پر ہیں سلف کی ایک جماعت نے اسے «حَذِرُوْنَ» بھی پڑھا ہے یعنی ہم ہتھیار بند ہیں۔ میں ارادہ کر چکا ہوں کہ اب انہیں ان کی سرکشی کا مزہ چکھا دوں۔ ان سب کو ایک ساتھ گھیر گھار کر گاجر مولی کی طرح کاٹ ڈال دوں۔ اللہ کی شان یہی بات اسی پر لوٹ پڑی اور وہ مع اپنی قوم اور لاؤ لشکر کے یہ یک وقت ہلاک ہوا۔ «لعنۃ اللہ علیہ وعلی من تبعہ» ۔ جناب باری کا ارشاد ہے کہ ’ یہ لوگ اپنی طاقت اور اکثریت کے گھمنڈ پر بنی اسرائیل کے تعاقب میں انہیں نیست و نابود کرنے کے ارادے سے نکل کھڑے ہوئے اس بہانے ہم نے انہیں ان کے باغات چشموں نہروں خزانوں اور بارونق مکانوں سے خارج کیا اور جہنم واصل کیا۔ وہ اپنے بلند و بالا شوکت وشان والے محلات ہرے بھرے باغات جاری نہریں خزانے سلطنت ملک تخت و تاج جاہو مال سے چھوڑ کر بنی اسرائیل کے پیچھے مصر سے نکلے۔ اور ہم نے ان کی یہ تمام چیزیں بنی اسرائیل کو دلوادیں جو آج تک پست حال تھے ذلیل و نادار تھے۔ چونکہ ہمار ارادہ ہو چکا تھا کہ ہم ان کمزوروں کو ابھاریں اور ان گرے پڑے لوگوں کو برسر ترقی لائیں اور انہیں پیشوا اور وارث بنادیں اور ارادہ ہم نے پورا کیا ‘۔

📖 احسن البیان

55-1یعنی میری اجازت کے بغیر ان کا یہاں سے فرار ہونا ہمارے لئے غیظ و غضب کا باعث ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 55) {وَ اِنَّهُمْ لَنَا لَغَآىِٕظُوْنَ:} وہ ہمیں غصہ دلانے والے ہیں کہ وہ ہمیشہ ہم سے آزادی کا مطالبہ کر کے بدامنی اور شور و شر پھیلاتے رہتے ہیں اور اب ہمارے پوچھے بغیر ہمارے ہاتھ سے نکل گئے۔ بعض مفسرین نے غصہ دلانے کے اسباب میں سے ان کا زیورات لے جانا بھی لکھا ہے، مگر یہ بات ثابت نہیں۔
← پچھلی آیت (54) پوری سورۃ اگلی آیت (56) →