بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الشعراء — Surah Shuara
آیت نمبر 51
کل آیات: 227
قرآن کریم الشعراء آیت 51
آیت نمبر: 51 — سورۃ الشعراء islamicurdubooks.com ↗
اِنَّا نَطۡمَعُ اَنۡ یَّغۡفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰیٰنَاۤ اَنۡ کُنَّاۤ اَوَّلَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿ؕ٪۵۱﴾
اور ہمیں توقع ہے کہ ہمارا رب ہمارے گناہ معاف کر دے گا کیونکہ سب سے پہلے ہم ایمان لائے ہیں"
اس بنا پر کہ ہم سب سے پہلےایمان والے بنے ہیں ہمیں امید پڑتی ہے کہ ہمارا رب ہماری سب خطائیں معاف فرما دے گا
ہمیں طمع ہے کہ ہمارا رب ہماری خطائیں بخش دے اس پر کہ سب سے پہلے ایمان لائے
ہمیں امید ہے کہ وہ ہماری خطاؤں کو معاف کرے گا کیونکہ ہم سب سے پہلے ایمان لا رہے ہیں۔
بے شک ہم لالچ رکھتے ہیں کہ ہمارا رب ہمارے لیے ہماری خطائیں معاف کرے گا، اس لیے کہ ہم سب سے پہلے ایمان لانے والے بنے ہیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

جرات وہمت والے کامل ایمان لوگ ٭٭

سبحان اللہ کیسے کامل الایمان لوگ تھے حالانکہ ابھی ہی ایمان میں آئے تھے لیکن ان کی صبر و ثبات کا کیا کہنا؟ فرعون جیسا ظالم و جابر حاکم پاس کھڑا ڈرا دھمکا رہا ہے اور وہ نڈر بے خوف ہو کر اس کی منشأ کے خلاف جواب دے رہے ہیں۔ حجاب کفر دل سے دور ہو گئے ہیں اس وجہ سے سینہ ٹھونک کر مقابلہ پر آ گئے ہیں اور مادی طاقتوں سے بالکل مرعوب نہیں ہوتے۔ ان کے دلوں میں یہ بات جم گئی ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کے پاس اللہ کا دیا ہوا معجزہ ہے کسب کیا ہوا جادو نہیں۔ اسی وقت حق کو قبول کیا۔ فرعون آگ بگولہ ہو گیا اور کہنے لگا کہ تم نے مجھے کوئی چیز ہی نہ سمجھا۔ مجھ سے باغی ہو گئے مجھ سے پوچھا ہی نہیں اور موسیٰ علیہ السلام کی مان لی؟ یہ کہہ کر پھر اس خیال سے کہ کہیں حاضرین مجلس پر ان کے ہارجانے بلکہ پھر مسلمان ہو جانے کا اثر نہ پڑے اس نے انہیں ذلیل سمجھا۔ ایک بات بنائی اور کہنے لگا کہ ہاں تم سب اس کے شاگرد ہو اور یہ تمہارا استاد ہے تم سب خورد ہو اور یہ تمہار برزگ ہے۔ تم سب کو اسی نے جادو سکھایا ہے اس مکابرہ کو دیکھو یہ صرف فرعون کی بے ایمانی اور دغا بازی تھی ورنہ اس سے پہلے نہ تو جادوگروں نے موسیٰ کلیم اللہ کو دیکھا تھا اور نہ ہی اللہ کے رسول ان کی صورت سے آشنا تھے۔ رسول اللہ تو جادو جانتے ہی نہ تھے کسی کو کیا سکھاتے؟ عقلمندی کے خلاف یہ بات کہہ کر پھر دھمکانا شروع کردیا اور اپنی ظالمانہ روش پر اتر آیا کہنے لگا میں تمہارے سب کے ہاتھ پاؤں الٹی طرف سے کاٹ دوں گا اور تمہیں ٹنڈے منڈے بنا کر پھر سولی دونگا کسی اور ایک کو بھی اس سزا سے نہ چھوڑونگا۔

سب نے متفقہ طور پر جواب دیا کہ ”راجا جی اس میں حرج ہی کیا ہے؟ جو تم سے ہو سکے کر گزرو۔ ہمیں مطلق پرواہ نہیں ہمیں تو اللہ کی طرف لوٹ کر جانا ہے ہمیں اسی سے صلہ لینا ہے جتنی تکلیف تو ہمیں دے گا اتنا اجر و ثواب ہمارا رب ہمیں عطافرمائے گا۔ حق پر مصیبت سہنا بالکل معمولی بات ہے جس کا ہمیں مطلق خوف نہیں۔ ہماری تو اب یہی ایک آرزو ہے کہ ہمارا رب ہمارے اگلے گناہوں پر ہماری پکڑ نہ کرے جو مقابلہ تو نے ہم سے کروایا ہے۔ اس کا وبال ہم پر سے ہٹ جائے اور اس کے لیے ہمارے پاس سوائے اس کے کوئی وسیلہ نہیں کہ ہم سب سے پہلے اللہ والے بن جائیں ایمان میں سبقت کریں۔‏‏‏‏“ اس جواب پر وہ اور بھی بگڑا اور ان سب کو اس نے قتل کرادایا۔ «رضی الله عنهم اجمعین» ۔

📖 احسن البیان

51-1أوَّلُ الْمُئْومِنِیْنَ اس اعتبار سے کہا کہ فرعون کی قوم مسلمان نہیں ہوئی اور انہوں نے قبول ایمان میں سبقت کی۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 51) {اَنْ كُنَّاۤ اَوَّلَ الْمُؤْمِنِيْنَ:} یعنی دلیل واضح ہو جانے کے بعد قومِ فرعون میں سے سب سے پہلے ہم ایمان لائے۔ نوٹ! آیت (۴۱) سے (ا۵) تک کی تفسیر کے لیے سورۂ اعراف (۱۱۳ تا ۱۲۶) اور سورۂ طٰہٰ (۶۵ تا ۷۵) کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔
← پچھلی آیت (50) پوری سورۃ اگلی آیت (52) →