بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الشعراء — Surah Shuara
آیت نمبر 44
کل آیات: 227
قرآن کریم الشعراء آیت 44
آیت نمبر: 44 — سورۃ الشعراء islamicurdubooks.com ↗
فَاَلۡقَوۡا حِبَالَہُمۡ وَ عِصِیَّہُمۡ وَ قَالُوۡا بِعِزَّۃِ فِرۡعَوۡنَ اِنَّا لَنَحۡنُ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴿۴۴﴾
انہوں نے فوراً اپنی رسیاں اور لاٹھیاں پھینک دیں اور بولے "فرعون کے اقبال سے ہم ہی غالب رہیں گے"
انہوں نے اپنی رسیاں اور ﻻٹھیاں ڈال دیں اور کہنے لگے عزت فرعون کی قسم! ہم یقیناً غالب ہی رہیں گے
تو انہوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں اور بولے فرعون کی عزت کی قسم بیشک ہماری ہی جیت ہے،
چنانچہ انہوں نے اپنی رسیاں اور اپنی لاٹھیاں پھینک دیں اور کہا کہ فرعون کے جلال و اقبال کی قَسم ہم ہی غالب آئیں گے۔
تو انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں پھینکیں اور انھوں نے کہا فرعون کی عزت کی قسم! بے شک ہم، یقینا ہم ہی غالب آنے والے ہیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

مناظرہ کے بعد مقابلہ ٭٭

مناظرہ زبانی ہو چکا۔ اب مناظرہ عملاً ہو رہا ہے اس مناظرہ کا ذکر سورۃ الاعراف، سورۃ طہٰ اور اس سورت میں ہے۔ قبطیوں کا ارادہ اللہ کے نور کے بجھانے کا تھا اور اللہ کا ارادہ اس کی نورانیت کے پھیلانے کا تھا۔ پس اللہ کا ارادہ غالب رہا۔ ایمان و کفر کا مقابلہ جب کبھی ہوا ایمان کفر پر غالب رہا۔ اللہ تعالیٰ حق کو غالب کرتا ہے باطل کا سر پھٹ جاتا ہے اور لوگوں کے باطل ارادے ہوا میں اڑ جاتے ہیں۔ حق آ جاتا ہے باطل بھاگ کھڑا ہوتا ہے۔ یہاں بھی یہ ہوا ہر ایک شہر میں سپاہی بھیجے گئے۔ چاروں طرف سے بڑے بڑے نامی گرامی جادوگر جمع کئے گئے جو اپنے فن میں کامل اور استاد زمانہ تھے کہا گیا ہے کہ ان کی تعداد بارہ یا پندرہ یا سترہ یا انیس یا کچھ اوپر تیس یا اسی ہزار کی یا اس سے کم و بیش تھی۔ صحیح تعداد اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے ان تمام کے استاد اور سردار چار شخص تھے۔ سابور عاذور حطحط اور مصفی۔ چونکہ سارے ملک میں شور مچ چکا تھا چاروں طرف سے لوگوں کے غول کے غول وقت مقررہ سے پہلے مصر میں جمع ہو گئے۔ چونکہ یہ کلیہ قاعدہ ہے کہ رعیت اپنے بادشاہ کے مذہب پر ہوتی ہے۔ سب کی زبان سے یہی نکلتا تھا کہ جادوگروں کے غلبہ کے بعد ہم تو ان کی راہ لگ جائیں گے۔ یہ کسی زبان سے نہ نکلا کہ جس طرف حق ہو گا ہم اسی طرف ہو جائیں گے اب موقعہ پر فرعون مع اپنے جاہ چشم کے نکال تمام امراء و رؤسا ساتھ تھے لشکر فوج پلٹن ہمراہ تھی جادوگروں کو اپنے دربار میں اپنے سامنے بلوایا۔ جادوگروں نے بادشاہ سے عہد لینا چاہا اس لیے کہا کہ جب ہم غالب آ جائیں تو بادشاہ ہمیں انعامات سے محروم نہیں رکھیں گے؟ فرعون نے جواب دیا واہ یہ کیسے ہوسکتا ہے نہ صرف انعام بلکہ میں تو تمہیں اپنے خاص رؤسا میں شامل کرونگا اور تم ہمیشہ میرے پاس اور میرے ساتھ ہی رہا کرو گے۔ تم میرے مقرب بن جاؤ گے میری تمام تر توجہ تمہاری ہی طرف ہو گی۔ وہ خوشی خوشی میدان کی طرف چل دیئے۔ وہاں جا کر موسیٰ علیہ السلام سے کہنے لگے۔ بولو تم پہلے اپنی استادی دکھاتے ہو؟ یا ہم دکھائیں؟ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا نہیں تم ہی پہلے اپنی بھڑاس نکال لو تاکہ تمہارے دل میں کوئی ارمان نہ رہ جائے یہ جواب پاتے ہی انہوں نے اپنی چھڑیاں اور رسیاں میدان میں ڈال دیں اور کہنے لگے فرعون کی عزت سے ہمارا غلبہ رہے گا۔

جیسے جاہل عوام جب کسی کام کو کرتے ہیں تو کہتے ہیں یہ فلاں کے ثواب سے۔ سورۃ الاعراف میں ہے «‏‏‏‏قَالَ أَلْقُوا فَلَمَّا أَلْقَوْا سَحَرُ‌وا أَعْيُنَ النَّاسِ وَاسْتَرْ‌هَبُوهُمْ وَجَاءُوا بِسِحْرٍ‌ عَظِيمٍ» ۱؎ [7-الأعراف:116] ‏‏‏‏ ’ جادوگروں نے لوگوں کی آنکھوں پر جادو کر دیا۔ انہیں ہیبت میں ڈال دیا اور بڑا بھاری جادو ظاہر کیا ‘۔ سورۃ طہٰ میں ہے کہ ’ ان کی لاٹھیاں اور رسیاں ان کے جادو سے ہلتی جلتی معلوم ہونے لگیں ‘۔ اب موسیٰ علیہ السلام نے اپنے ہاتھ میں جو لکڑی تھی اسے میدان میں ڈال دیا جس نے سارے میدان میں ان کی جو کچھ نظربندیوں کی چیزیں تھیں، سب کو ہضم کر لیا۔ پس حق ظاہر ہو گیا اور باطل دب گیا اور ان کا کیا کرایا سب غارت ہو گیا۔ یہ کوئی ہلکی سی بات اور تھوڑی سی دلیل نہ تھی جادوگر تو اسے دیکھتے ہی مسلمان ہوگئے کہ ایک شخص اپنے استاد فن کے مقابلے میں آتا ہے اس کا حال جادوگروں کا سا نہیں۔ وہ کوئی بات نہیں کرتا یقیناً ہمارا جادو صرف نگاہوں کا فریب ہے اور اس کے پاس اللہ کا دیا ہوا معجزہ ہے وہ تو اسی وقت وہیں کے وہیں اللہ کے سامنے سجدے میں گرگئے۔ اور اسی مجمع میں سب کے سامنے اپنے ایمان لانے کا اعلان کیا کہ ہم رب العالمین پر ایمان لا چکے۔ پھر اپنا قول اور واضح کرنے کے لیے یہ بھی ساتھ ہی کہہ دیا کہ رب العالمین سے ہماری مراد وہ رب ہے جسے موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام اپنا رب کہتے ہیں۔ اتنا بڑا معجزہ اس قدر انقلاب فرعون نے اپنی آنکھوں سے دیکھا لیکن ملعون کی قسمت میں ایمان نہ تھا۔ پھر بھی آنکھیں نہ کھلی۔ اور دشمن جاں ہو گیا۔ اور اپنی طاقت سے حق کو کچلنے لگا۔ اور کہنے لگا کہ ہاں میں جان گیا موسیٰ تم سب کے استاد تھے اسے تم نے پہلے سے بھیج دیا پھر تم بظاہر مقابلہ کرنے کے لیے آئے اور باطنی مشورے کے مطابق میدان ہار گئے اور اس کی بات مان گئے پس تمہارا یہ مکر کھل گیا۔

📖 احسن البیان

44-1جیسا کہ سورة اعراف اور طٰہٰ میں گزرا کہ ان جادوگروں نے اپنے خیال میں بہت بڑا جادو پیش کیا،۔ سحروا أعین الناس واسترھبوھم وجاؤا بسحر عظیم۔ سورة الاعراف۔ حتٰی کہ حضرت موسیٰ ؑ نے بھی اپنے دل میں خوف محسوس کیا،۔ فاوجس فی نفسہ خیفۃ موسی۔ طہ۔ چناچہ ان جادوگروں کو اپنی کامیابی اور برتری کا بڑا یقین تھا، جیسا کہ یہاں ان الفاظ سے ظاہر ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑ کو تسلی دی کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ ذرا اپنی لاٹھی زمین پر پھینکو اور پھر دیکھو۔ چناچہ لاٹھی کا زمین پر پھینکنا تھا کہ اس نے ایک خوفناک اژدھا کی شکل اختیار کرلی اور ایک ایک کر کے ان سارے کرتبوں کو نگل گیا۔ جیسا کہ اگلی آیت میں ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 44) { وَ قَالُوْا بِعِزَّةِ فِرْعَوْنَ …:} فرعون کی تعظیم کے لیے اس کی عزت کی قسم کھائی کہ ہم ضرور ہی جیتیں گے۔ اس سے جادوگروں کا مقصد فرعون کو خوش اور موسیٰ علیہ السلام کو مرعوب کرنا تھا۔ جاہلیت میں لوگ اس قسم کی قسمیں کھایا کرتے تھے، اسلام میں اس سے منع کر دیا گیا۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ أَلاَ إِنَّ اللّٰهَ يَنْهَاكُمْ أَنْ تَحْلِفُوْا بِآبَائِكُمْ مَنْ كَانَ حَالِفًا فَلْيَحْلِفْ بِاللّٰهِ أَوْ لِيَصْمُتْ ] [ بخاری، الأیمان والنذور، باب لا تحلفوا بآبائکم: ۶۶۴۶ ] ”خبر دار! اللہ تعالیٰ تمھیں تمھارے باپوں کی قسم کھانے سے منع کرتا ہے، جسے قسم کھانی ہو وہ اللہ کی قسم کھائے، یا خاموش رہے۔“ اس کے باوجود آج کل بعض مسلمان بھی اللہ تعالیٰ کی ذات یا صفات کی قسم کھانے پر مطمئن نہیں ہوتے، بلکہ اپنے پیر و مرشد یا کسی بزرگ کی قبر کی قسم کھاتے ہیں، یا عام رواج کے مطابق کہہ دیتے ہیں مجھے تیری قسم یا تیرے سر کی قسم وغیرہ، اس طرح وہ دوسروں کی عظمت کا اظہار کرتے ہیں، تو جس طرح اللہ تعالیٰ کی جھوٹی قسم کھانا گناہ ہے مخلوق کی سچی قسم کھانا اس سے بھی بڑھ کر گناہ ہے۔
← پچھلی آیت (43) پوری سورۃ اگلی آیت (45) →