بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الشعراء — Surah Shuara
آیت نمبر 37
کل آیات: 227
قرآن کریم الشعراء آیت 37
آیت نمبر: 37 — سورۃ الشعراء islamicurdubooks.com ↗
یَاۡتُوۡکَ بِکُلِّ سَحَّارٍ عَلِیۡمٍ ﴿۳۷﴾
کہ ہر سیانے جادوگر کو آپ کے پاس لے آئیں"
جو آپ کے پاس ذی علم جادو گروں کو لے آئیں
کہ وہ تیرے پاس لے آئیں ہر بڑے جادوگر دانا کو
جو ہر بڑے جادوگر کو تمہارے پاس لے آئیں۔
کہ وہ تیرے پاس ہر بڑا جادو گر لے آئیں، جو بہت ماہر فن ہو۔

📖 تفسیر ابن کثیر

فرعون اور موسیٰ علیہ السلام کا مباحثہ ٭٭

جب مباحثے میں فرعون ہارا دلیل و بیان میں غالب نہ آسکا تو قوت و طاقت کا مظاہرہ کرنے لگا اور سطوت و شوکت سے حق کو دبانے کا ارادہ کیا اور کہنے لگا کہ موسیٰ (‏‏‏‏علیہ السلام)‏‏‏‏‏‏‏‏ میرے سوا کسی اور کو معبود بنائے گا تو جیل میں سڑا سڑا کر تیری جان لے لونگا۔ موسیٰ علیہ السلام بھی چونکہ وعظ ونصیحت کر ہی چکے تھے آپ علیہ السلام نے بھی ارادہ کیا کہ میں بھی اسے اور اس کی قوم کو دوسری طرح قائل کروں تو فرمانے لگے ”کیوں جی میں اگر اپنی سچائی پر کسی ایسے معجزے کا اظہار کروں کہ تمہیں بھی قائل ہونا پڑے تب؟“ فرعون سو اس کے کیا کر سکتا تھا کہ کہا اچھا اگر سچا ہے تو پیش کر۔ آپ علیہ السلام نے سنتے ہی اپنی لکڑی جو آپ علیہ السلام کے ہاتھ میں تھی ہی اسے زمین پر ڈال دیا۔ بس اس کا زمین پر گرنا تھا کہ وہ ایک اژدہے کی شکل بن گئی۔ اور اژدہا بھی بہت بڑا تیز کچلیوں والا ہیبت ناک ڈراؤنی اور خوفناک شکل والا منہ پھاڑے ہوئے پھنکارتا ہوا۔ ساتھ ہی اپنے گریبان میں اپنا ہاتھ ڈال کر نکالا تو وہ چاند کی طرح چمکتاہوا نکلا۔ فرعون کی قسمت چونکہ ایمان سے خالی تھی ایسے واضح معجزے دیکھ کر بھی اپنی بدبختی پر اڑا رہا اور تو کچھ بن نہ پڑا اپنے ساتھیوں اور درباریوں سے کہنے لگا کہ یہ تو جادو کے کرشمے ہیں۔ بے شک اتنا تو میں بھی مان گیا کہ یہ اپنے فن جادوگری میں استاد کامل ہے۔ پھر انہیں موسیٰ علیہ السلام کی دشمنی پر آمادہ کرنے کے لیے ایک اور بات بنائی کہ یہ ایسے ہی شعبدے دکھا دکھا کر لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کر لے گا۔ اور جب کچھ لوگ اس کے ساتھی ہو جائیں گے تو یہ علم بغاوت بلند کر دے گا پھر تمہیں مغلوب کر کے اس ملک میں قبضہ کر لے گا تو اس کے استحصال کی کوشش ابھی سے کرنی چاہیئے۔ بتلاؤ تمہاری رائے کیا ہے؟ اللہ کی قدرت دیکھو کہ فرعونیوں سے اللہ نے وہ بات کہلوائی جس سے موسیٰ علیہ السلام کو عام تبلیغ کا موقعہ ملے اور لوگوں پر حق واضح ہو جائے۔ یعنی جادوگروں کو مقابلہ کے لیے بلوانا۔

📖 احسن البیان

37-1یعنی ان دونوں کو فی الحال اپنے حال پر چھوڑ دو، اور تمام شہروں سے جادوگروں کو جمع کرکے ان کا باہمی مقابلہ کیا جائے تاکہ ان کے کرتب کا جواب اور تیری تائید و نصرت ہوجائے۔ اور یہ اللہ ہی کی طرف سے سب انتطام تھا تاکہ لوگ ایک ہی جگہ جمع ہوجائیں اور دلائل کا بہ چشم خود مشاہدہ کریں، جو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑ کو عطا فرمائے تھے۔

📖 القرآن الکریم

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
← پچھلی آیت (36) پوری سورۃ اگلی آیت (38) →