بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الشعراء — Surah Shuara
آیت نمبر 23
کل آیات: 227
قرآن کریم الشعراء آیت 23
آیت نمبر: 23 — سورۃ الشعراء islamicurdubooks.com ↗
قَالَ فِرۡعَوۡنُ وَ مَا رَبُّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿ؕ۲۳﴾
فرعون نے کہا "اور یہ رب العالمین کیا ہوتا ہے؟"
فرعون نے کہا رب العالمین کیا (چیز) ہے؟
فرعون بولا اور سارے جہان کا رب کیا ہے
فرعون نے کہا اور یہ رب العالمین کیا چیز ہے۔
فرعون نے کہا اور رب العالمین کیا چیز ہے؟

📖 تفسیر ابن کثیر

موسیٰ علیہ السلام اور اللہ جل شانہ کے مکالمات ٭٭

اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور اپنے رسول اور اپنے کلیم موسیٰ علیہ الصلٰوۃ والتسلیم کو جو حکم دیا تھا اسے بیان فرما رہے ہیں کہ ’ طور کے دائیں طرف سے آپ علیہ السلام کو آواز دی آپ علیہ السلام سے سرگوشیاں کیں آپ علیہ السلام کو اپنا رسول اور برگزیدہ بنایا اور آپ علیہ السلام کو فرعون اور اس کی قوم کی طرف بھیجا جو ظلم پر کمربستہ تھے۔ اور اللہ کا ڈر اور پرہیزگاری نام کو بھی ان میں نہیں رہی تھی ‘۔ موسیٰ علیہ السلام نے اپنی چند کمزوریاں جناب باری تعالیٰ کے سامنے بیان کی جو عنایت الٰہی سے دور کر دی گئیں جیسے سورۃ طہٰ میں آپ علیہ السلام کے سوالات پور کر دئیے گئے۔ یہاں آپ علیہ السلام کے عذر یہ بیان ہوئے کہ ’ مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے جھٹلا دیں گے۔ میرا سینہ تنگ ہے، میری زبان لکنت والی ہے، ہارون کو بھی میرے ساتھ نبی بنا دیا جائے۔ اور میں نے ان ہی میں سے ایک قبطی کو بلا قصور مار ڈالا تھا جس وجہ سے میں نے مصر چھوڑا اب جاتے ہوئے ڈر لگتا ہے کہ کہیں وہ مجھ سے بدلہ نہ لے لیں ‘۔ جناب باری تعالیٰ نے جواب دیا کہ ’ کسی بات کا کھٹکا نہ رکھو۔ ہم تیرے بھائی کو تیرا ساتھی بنا دیتے ہیں۔ اور تمہیں روشن دلیل دیتے ہیں وہ لوگ تمہیں کوئی ایذاء نہ پہنچا سکیں گے میرا وعدہ ہے کہ تم کو غالب کرونگا۔ تم میری آیتیں لے کر جاؤ تو سہی، میری مدد تمہارے ساتھ رہے گی۔ میں تمہاری ان کی سب باتیں سنتا رہونگا ‘۔

جیسے فرمان ہے ’ میں تم دونوں کے ساتھ ہوں سنتا ہوں دیکھتا رہونگا۔ میری حفاظت میری مدد میری نصرت وتائید تمہارے ساتھ ہے۔ تم فرعون کے پاس جاؤ اور اس پر اپنی رسالت کا اظہار کرو ‘۔ جیسے دوسری آیت میں ہے کہ ’ اس سے کہو کہ ہم دونوں میں سے ہر ایک اللہ کا فرستادہ ہے ‘۔ فرعون سے کہا کہ ’ تو ہمارے ساتھ بنو اسرائیل کو بھیج دے وہ اللہ کے مومن بندے ہیں تو نے انہیں اپنا غلام بنارکھا ہے اور ان کی حالت زبوں کر رکھی ہے۔ ذلت کے ساتھ ان سے اپنا کام لیتا ہے اور انہیں عذابوں میں جکڑ رکھاہے اب انہیں آزاد کر دے ‘۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے اس پیغام کو فرعون نے نہایت حقارت سے سنا۔ اور آپ علیہ السلام کو ڈانٹ کر کہنے لگا کہ کیا تو وہی نہیں کہ ہم نے تجھے اپنے ہاں پالا؟ مدتوں تک تیری خبرگیری کرتے رہے اس احسان کا بدلہ تو نے یہ دیا کہ ہم میں سے ایک شخص کو مار ڈالا اور ہماری ناشکری کی۔ جس کے جواب میں کلیم اللہ علیہ السلام نے فرمایا ”یہ سب باتیں نبوت سے پہلے کی ہیں جب کہ میں خود بے خبر تھا۔‏‏‏‏“ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہا کی قرائت میں بجائے «مِنَ الضَّالِّینَ» کے «مِنَ الْجَاهِلِیْنَ» ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے ساتھ ہی فرمایا کہ ”پھر وہ پہلا حال جاتا رہا دوسرا دور آیا اور اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنا رسول بنا کر تیری طرف بھیجا اب اگر تو میرا کہا مانے گا تو سلامتی پائے گا اور میری نافرمانی کرے گا تو ہلاک ہو گا۔ اس خطا کے بعد جب کہ میں تم میں سے بھاگ گیا اس کے بعد اللہ کا یہ فضل مجھ پر ہوا اب پرانے قصہ یاد نہ کر۔ میری آواز پر لبیک کہہ۔ سن اگر ایک مجھ پر تو نے احسان کیا ہے تو میری قوم کی قوم پر تو نے ظلم وتعدی کی ہے۔ ان کو بری طرح غلام بنارکھا ہے کیا میرے ساتھ کا سلوک اور ان کے ساتھ کی یہ سنگدلی اور بدسلوکی برابر برابر ہوجائیگی؟“

چونکہ فرعون نے اپنی رعیت کو بہکا رکھا تھا اور انہیں یقین دلایا تھا کہ معبود اور رب صرف میں ہی ہوں میرے سوا کوئی نہیں اس لیے ان سب کا عقیدہ یہ تھا۔ جب موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ ”میں رب العالمین کا رسول علیہ السلام ہوں“، تو اس نے کہا کہ رب العالمین ہے کیا چیز؟ مقصد یہی تھا کہ میرے سوا کوئی رب ہے ہی نہیں تو جو کہہ رہا ہے محض غلط ہے۔ چنانچہ اور آیت میں ہے کہ اس نے پوچھا آیت «قَالَ فَمَن رَّبُّكُمَا يَا مُوسَىٰ قَالَ رَبُّنَا الَّذِي أَعْطَىٰ كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدَىٰ» [20-سورةطه:49،50] ‏‏‏‏ ’ موسیٰ تم دونوں کا رب کون ہے؟ اس کے جواب میں کلیم اللہ نے فرمایا جس نے ہر ایک کی پیدائش کی ہے اور جو سب کا ہادی ہے ‘۔ یہاں پر یہ یاد رہے کہ بعض منطقیوں نے یہاں ٹھوکر کھائی ہے اور کہا ہے کہ فرعون کا سوال اللہ کی ماہیت سے تھا یہ محض غلط ہے اس لیے کہ ماہیت کو تو جب پوچھتا جب کہ پہلے وجود کا قائل ہوتا۔ وہ تو سرے سے اللہ کے وجود کا منکر تھا۔ اپنے اسی عقیدے کو ظاہر کرتا تھا اور ہر ایک ایک کو یہ عقیدہ گھونٹ گھونٹ کر پلا رہا تھا گو اس کے خلاف دلائل وبراہین اس کے سامنے کھل گئے تھے۔

پس اس کے اس سوال پر کہ رب العالمین کون ہے؟ کلیم اللہ علیہ السلام نے جواب دیا کہ ”وہ جو سب کا خالق ہے، سب کا مالک ہے، سب پر قادر ہے یکتا ہے اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ عالم علوی آسمان اور اس کی مخلوق عالم سفلی زمین اور اس کی کائنات اب اسی کی پیدا کی ہوئی ہے۔ ان کے درمیان کی چیزیں ہوا پرندہ وغیرہ سب اس کے سامنے ہیں اور اس کے عبادت گزار ہیں۔ اگر تمہارے دل یقین کی دولت سے محروم نہیں اگر تمہاری نگاہیں روشن ہیں تو رب العالمین کے یہ اوصاف اس کی ذات کے ماننے کے لیے کافی ہیں۔‏‏‏‏“ یہ سن کر فرعون سے چونکہ کوئی جواب نہ بن سکا اس لیے بات کو مذاق میں ڈالنے کے لیے لوگوں کو اپنے سکھائے بتائے ہوئے عقیدے پر جمانے کے لیے ان کی طرف دیکھ کر کہنے لگا لو اور سنو یہ میرے سوا کسی اور کو ہی اللہ مانتا ہے؟ تعجب کی بات ہے۔ موسیٰ علیہ السلام اس کی اس بے التفاتی سے گھبرائے نہیں اور وجود اللہ کے دلائل بیان کرنے شروع کر دیئے کہ وہ تم سب کا اور تمہارے اگلوں کا مالک اور پروردگار ہے۔ آج اگر تم فرعون کو اللہ مانتے ہو تو ذرا اسے تو سوچو کہ فرعون سے پہلے جہان والوں کا اللہ کون تھا؟ اس کے وجود سے پہلے آسمان و زمین کا وجود تھا تو ان کا موجد کون تھا؟ بس وہی میرا رب ہے وہی تمام جہانوں کا رب ہے اسی کا بھیجا ہوا ہوں میں۔ فرعون دلائل کی تاب نہ لاسکا کوئی جواب بن نہ پڑا تو کہنے لگا اسے چھوڑو یہ تو کوئی پاگل آدمی ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو میرے سوا کسی اور کو رب کیوں مانتا۔ کلیم اللہ علیہ السلام نے پھر بھی اپنی دلیلوں کو جاری رکھا۔ اس کے لغو کلام سے بے تعلق ہو کر فرمانے لگے کہ ”سنو میرا اللہ مشرق و مغرب کا مالک ہے اور وہی میرا رب ہے۔ وہ سورج چاند ستارے مشرق سے چڑھاتا ہے۔ مغرب کی طرف اتارتا ہے اگر فرعون اپنی الوہیت کے دعوے میں سچا ہے تو ذرا ایک دن اس کا خلاف کر کے دکھا دے یعنی انہیں مغرب سے نکالے اور مشرق کو لے جائے۔‏‏‏‏“ یہی بات خلیل علیہ السلام نے اپنے زمانے کے بادشاہ سے بوقت مناظرہ کہی تھی پہلے تو اللہ کا وصف بیان کیا کہ ”وہ جلاتا مارتا ہے“ لیکن اس بیوقوف نے جب کہ اس وصف کا اللہ کے ساتھ مختص ہونے سے انکار کر دیا اور کہنے لگا یہ تو میں بھی کر سکتا ہوں آپ علیہ السلام نے باوجود اسی دلیل میں بہت سی گنجائش ہونے کے اس سے بھی واضح دلیل اس کے سامنے رکھی کہ ”اچھا میرا رب مشرق سے سورج نکالتا ہے تو اسے مغرب سے نکال۔‏‏‏‏“ اب تو اس کے حواس گم ہو گئے۔ اسی طرح موسیٰ ٰعلیہ السلام کی زبانی تابڑ توڑ ایسی واضح اور روشن دلیلیں سن کر فرعون کے اوسان خطا ہو گئے وہ سمجھ گیا کہ اگر ایک میں نے نہ مانا تو کیا؟ یہ واضح دلیلیں ان سب لوگوں پر اثر کر جائیں گی اس لیے اب اپنی قوت کو کام میں لانے کا ارادہ کیا اور موسیٰ علیہ السلام کو ڈرانے دھمکانے لگا جیسے آگے آرہا ہے۔

📖 احسن البیان

23-1یہ اس نے بطور دریافت کے نہیں، بلکہ جواب کے طور پر کہا، کیونکہ اس کا دعویٰ تو یہ تھا (مَا عَلِمْتُ لَکُمْ مِّنْ اِلٰہِ غَیْرِیْ) (وَقَالَ فِرْعَوْنُ يٰٓاَيُّهَا الْمَلَاُ مَا عَلِمْتُ لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرِيْ ۚ فَاَوْقِدْ لِيْ يٰهَامٰنُ عَلَي الطِّيْنِ فَاجْعَلْ لِّيْ صَرْحًا لَّعَلِّيْٓ اَطَّلِــعُ اِلٰٓى اِلٰهِ مُوْسٰي ۙ وَاِنِّىْ لَاَظُنُّهٗ مِنَ الْكٰذِبِيْنَ) 28۔ القصص:38) ' میں اپنے سوا تمہارے لئے کوئی اور معبود جانتا ہی نہیں '

📖 القرآن الکریم

(آیت 23) ➊ {قَالَ فِرْعَوْنُ وَ مَا رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ:} فرعون نے جب دیکھا کہ وہ موسیٰ علیہ السلام کو خوف زدہ نہیں کر سکا اور وہ کسی صورت توحید کی دعوت سے اور بنی اسرائیل کی آزادی کے مطالبے سے باز آنے والے نہیں تو وہ مجادلے پر اتر آیا۔ عموماً مناظرے کا کامیاب اسلوب یہ سمجھا جاتا ہے کہ مدّ مقابل کو سوالات میں الجھا دیا جائے۔ تو اس کے مطابق اس نے کہا: «{ وَ مَا رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ }» ”اور رب العالمین کیا ہے؟“ واؤ عطف اس لیے ہے کہ اس سے پہلے وہ ایک سوال کر چکا تھا: «{ اَلَمْ نُرَبِّكَ فِيْنَا }» یہ اس پر عطف ہے۔ یہاں مفسرین عام طور پر لکھتے ہیں کہ {” مَا “} کے ساتھ کسی چیز کی حقیقت کے متعلق سوال ہوتا ہے، چونکہ مخلوق خالق کی حقیقت کا ادراک کر ہی نہیں سکتی، اس لیے موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کے آثار کو اس کے تعارف کے لیے پیش فرمایا۔ ابن عاشور نے فرمایا، لفظ {” مَا “} کے ساتھ سوال ہو تو {” مَا “} کے بعد والی چیز کی وہ حقیقت معلوم کرنا مقصود ہوتی ہے جس سے وہ دوسری چیزوں سے الگ ہو جائے۔ اس لیے کسی کی قوم یا قبیلہ معلوم کرنا ہو تو {” مَا “} کے ساتھ سوال ہوتا ہے، جیسا کہ فارس کے ساتھ ایک جنگ میں کسریٰ کے جرنیل کی مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے گفتگو ہوئی تو اس نے پوچھا: [ مَا أَنْتُمْ؟ ] ”تم کیا ہو؟“ تو انھوں نے فرمایا: [ نَحْنُ أُنَاسٌ مِنَ الْعَرَبِ ] [ بخاري، الجزیۃ، باب الجزیۃ والموادعۃ …: ۳۱۵۹ ] ”ہم عرب کے کچھ لوگ ہیں۔“ ➋ قبطیوں کے ہاں کئی معبودوں کی پرستش ہوتی تھی، مشرکین کا علم الاصنام سراسر باطل ہونے کی وجہ سے نہایت پُر پیچ اور ناقابل فہم ہوتا ہے۔ فرعون کی سلطنت میں کئی معبودوں کی پرستش ہوتی تھی، فرعون بھی ان کی خدائی کو مانتا تھا۔ (دیکھیے اعراف: ۱۲۷) اس کے باوجود وہ ان تمام معبودوں کا نمائندہ بن کر اپنے آپ کو رب اعلیٰ کہتا اور کہلواتا تھا، جیسا کہ فرمایا: «{ فَحَشَرَ فَنَادٰى (23) فَقَالَ اَنَا رَبُّكُمُ الْاَعْلٰى }» [ النازعات: ۲۳، ۲۴ ] ”پھر اس نے اکٹھا کیا، پس پکارا۔ پس اس نے کہا میں تمھارا سب سے اونچا رب ہوں۔“ کبھی یہ کہتا: «{ يٰۤاَيُّهَا الْمَلَاُ مَا عَلِمْتُ لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرِيْ }» [ القصص: ۳۸ ] ”اے سردارو! میں نے اپنے سوا تمھارے لیے کوئی معبود نہیں جانا۔“ بظاہر اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ”رب العالمین“ کو نہیں جانتا تھا، اس لیے اس نے پوچھا: «{ وَ مَا رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ }» مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ ”رب العالمین“ کو اچھی طرح جانتا تھا، جیسا کہ موسیٰ علیہ السلام نے اسے فرمایا تھا: «{ لَقَدْ عَلِمْتَ مَاۤ اَنْزَلَ هٰۤؤُلَآءِ اِلَّا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ بَصَآىِٕرَ }» [ بني إسرائیل: ۱۰۲ ] ”بلاشبہ یقینا تو جان چکا ہے کہ انھیں آسمانوں اور زمین کے رب کے سوا کسی نے نہیں اتارا، اس حال میں کہ واضح دلائل ہیں۔“ اور اللہ تعالیٰ نے اس کے اور اس کی قوم کے متعلق شہادت دی ہے، فرمایا: «{ وَ جَحَدُوْا بِهَا وَ اسْتَيْقَنَتْهَاۤ اَنْفُسُهُمْ ظُلْمًا وَّ عُلُوًّا }» [ النمل: ۱۴] ”اور انھوں نے ظلم اور تکبر کی وجہ سے ان کا انکار کر دیا، حالانکہ ان کے دل ان کا اچھی طرح یقین کر چکے تھے۔“ معلوم ہوا اس کا سوال {” وَ مَا رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ “} تجاہلِ عارفانہ تھا، وہ جاننے کے باوجود ماننے کے لیے تیار نہیں تھا۔ سورۂ طٰہٰ میں اس کا سوال یہ نقل ہوا ہے: «{ فَمَنْ رَّبُّكُمَا يٰمُوْسٰى }» [ طٰہٰ: ۴۹ ] ”تو تم دونوں کا رب کون ہے اے موسیٰ!؟“
← پچھلی آیت (22) پوری سورۃ اگلی آیت (24) →