بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الشعراء — Surah Shuara
آیت نمبر 200
کل آیات: 227
قرآن کریم الشعراء آیت 200
آیت نمبر: 200 — سورۃ الشعراء islamicurdubooks.com ↗
کَذٰلِکَ سَلَکۡنٰہُ فِیۡ قُلُوۡبِ الۡمُجۡرِمِیۡنَ ﴿۲۰۰﴾ؕ
اِسی طرح ہم نے اس (ذکر) کو مجرموں کے دلوں میں گزارا ہے
اسی طرح ہم نے گناہگاروں کے دلوں میں اس انکار کو داخل کر دیا ہے
ہم نے یونہی جھٹلانا پیرا دیا ہے مجرموں کے دلوں میں
اسی طرح ہم نے اس (انکار) کو مجرموں کے دلوں میں داخل کر دیا ہے۔
اسی طرح ہم نے یہ بات مجرموں کے دلوں میں داخل کر دی۔

📖 تفسیر ابن کثیر

کفر و انکار ٭٭

تکذیب وکفر انکار وعدم تسلیم کو ان مجرموں کے دل میں بٹھا دیا ہے۔ یہ جب تک عذاب اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں ایمان نہیں لائیں گے۔ اس وقت اگر ایمان لائے بھی تو محض بے سود ہو گا ان پر لعنت برس چکی ہو گی۔ برائی مل چکی ہوگی۔ نہ پچھتانا کام آئے نہ معذرت نفع دے۔ عذاب اللہ آئیں گے اور اچانک ان کی بے خبری میں ہی آ جائیں گے اس وقت ان کی تمنائیں اگر ذرا سی بھی مہلت پائیں تو نیک بن جائیں بے سود ہونگی۔ ایک انہی پر کیا موقوف ہے ہر ظالم، فاجر، فاسق، کافر بدکار عذاب کو دیکھتے ہی سیدھا ہو جاتا ہے، نادم ہوتا ہے توبہ تلافی کرتا ہے مگر سب لا حاصل۔

فرعون ہی کو دیکھئیے موسیٰ علیہ السلام نے اس کے لیے بد دعا کی «وَقَالَ مُوسَىٰ رَبَّنَا إِنَّكَ آتَيْتَ فِرْعَوْنَ وَمَلَأَهُ زِينَةً وَأَمْوَالًا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا رَبَّنَا لِيُضِلُّوا عَن سَبِيلِكَ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلَىٰ أَمْوَالِهِمْ وَاشْدُدْ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوا حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» ۱؎ [10-يونس:88،89] ‏‏‏‏ جو قبول ہوئی عذاب کو دیکھ کر ڈوبتے ہوئے کہنے لگا کہ ”اب میں مسلمان ہوتا ہوں لیکن جواب ملا کہ ’ یہ ایمان بےسود ہے ‘۔ اسی طرح ایک اور آیت میں «وَجَاوَزْنَا بِبَنِي إِسْرَائِيلَ الْبَحْرَ فَأَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ وَجُنُودُهُ بَغْيًا وَعَدْوًا حَتَّىٰ إِذَا أَدْرَكَهُ الْغَرَقُ قَالَ آمَنتُ أَنَّهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا الَّذِي آمَنَتْ بِهِ بَنُو إِسْرَائِيلَ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ وَكُنتَ مِنَ الْمُفْسِدِينَ» ۱؎ [10-يونس:90-91] ‏‏‏‏ ہے کہ ’ ہمارا عذاب دیکھ کر ایمان کا اقرار کیا ‘۔ پھر ان کی ایک اور بدبختی بیان ہو رہی ہے کہ ’ وہ اپنے نبیوں سے کہتے تھے اگر سچے ہو تو عذاب اللہ لاؤ۔ اگرچہ ہم انہیں مہلت دیں اور کچھ دنوں تک کچھ مدت تک انہیں عذاب سے بچائے رکھیں۔ پھر ان کے پاس ہمارا مقررہ عذاب آجائے۔ ان کا حال ان کی نعمتیں ان کی جاہ وحشمت غرض کوئی چیز انہیں ذرا سابھی فائدہ نہیں دے سکتی۔ اس وقت تک یہی معلوم ہو گا کہ شاید ایک صبح یا ایک شام ہی دنیا میں رہے ‘۔ جیسے ایک اور آیت میں ہے «يَوَدُّ اَحَدُھُمْ لَوْ يُعَمَّرُ اَلْفَ سَـنَةٍ وَمَا ھُوَ بِمُزَحْزِحِهٖ مِنَ الْعَذَابِ اَنْ يُّعَمَّرَ وَاللّٰهُ بَصِيْرٌ بِمَا يَعْمَلُوْنَ» ۱؎ [2-البقرة:96] ‏‏‏‏، ’ ان میں سے ہر ایک کی چاہت ہے کہ وہ ہزار ہزار سال جئے لیکن اتنی عمر بھی اللہ کے عذاب ہٹا نہیں سکتی ‘۔ یہی یہاں بھی فرمایا کہ ’ اسباب ان کے کچھ کام نہ آئیں گے الٹا عذاب میں مبتلا ہوتے وقت ان کی تمام طاقتیں اور اسباب یونہی رکھے رکھے رہ جائیں گے ‘۔ چنانچہ صحیح حدیث میں ہے کہ { کافر کو قیامت کے دن لایا جائے گا، پھر آگ میں ایک غوطہٰ دلا کر پوچھا جائے گا کہ تو نے کبھی راحت بھی اٹھائی ہے تو کہے گا کہ اللہ کی قسم میں نے کبھی کوئی راحت نہیں دیکھی اور ایک اس شخص کو لایا جائے گا جس نے پوری عمر واقعی کوئی راحت چکھی ہی نہ ہو۔ اسے جنت کی ہوا کھلا کر لایا جائے گا اور سوال ہو گا کہ کیا تو نے عمر بھر کبھی کوئی برائی دیکھی ہے؟ تو وہ کہے گا اے اللہ تیری ذات پاک کی قسم میں نے کبھی کوئی زحمت نہیں اٹھائی }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2807] ‏‏‏‏ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ عموماً یہ شعر پڑھا کرتے تھے کہ ”جب تو اپنی مراد کو پہنچ گیا تو گویا تو نے کبھی کسی تکلیف کا نام بھی نہیں سنا۔‏‏‏‏“

اللہ عزوجل اس کے بعد اپنے عدل کی خبر دیتا ہے کہ ’ کبھی اس نے حجت ختم ہونے سے پہلے کبھی کسی امت کو ختم نہیں کیا ‘۔ رسولوں کو بھیجتا، کتابیں اتارتا ہے، خبریں دیتا ہے، ہوشیار کرتا ہے پھر نہ ماننے والوں پر مصائب کے پہاڑ ٹوٹ پڑتے ہیں۔ پس فرمایا کہ ’ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ انبیاء علیہم السلام کے بھیجنے سے پہلے ہی ہم نے کسی امت پر عذاب بھیج دئے ہوں ‘۔ ڈرانے والے بھیج کر نصیحت کر کے عذر ہٹا کر پھر نہ مانے پر عذاب ہوتا ہے۔ جیسے فرمایا ’ تیرا رب کسی بستی کو ہلاک نہیں کرتا جب تک کہ ان کی بستیوں کی صدر بستی میں کسی رسول کو نہ بھیج دے جو انہیں ہماری آیتیں پڑھ کر سنائے ‘۔

📖 احسن البیان

20-1یعنی سَلَکْنَاہ میں ضمیر کا مرجع کفر و تکذیب اور جحود وعناد ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 201،200) {كَذٰلِكَ سَلَكْنٰهُ فِيْ قُلُوْبِ الْمُجْرِمِيْنَ …: ”سَلَكَ يَسْلُكُ“} پرونا، سوئی میں دھاگا داخل کرنا، کسی چیز کو دوسری کے اندر گھسا دینا۔ {” سَلَكْنٰهُ “} میں {”هٗ“} کی ضمیر اس انکار اور تکذیب کی طرف جا رہی ہے جس کا ذکر پچھلی آیت {” مَّا كَانُوْا بِهٖ مُؤْمِنِيْنَ “} میں ہے، یعنی ہم نے اس ایمان نہ لانے کو ان مجرموں کے جرائم کی پاداش میں ان کے دلوں کے اندر اس طرح داخل کر دیا ہے جس طرح سوئی میں دھاگا داخل کر دیا جاتا ہے۔ اب یہ لوگ اس پر ایمان نہیں لائیں گے، حتیٰ کہ {”عذاب اليم“} دیکھ لیں۔ اس میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تسلی ہے کہ ان لوگوں نے ایمان لانا ہی نہیں تو ان پر آپ غم زدہ کیوں ہوتے ہیں۔ آیت کے سیاق کے لحاظ سے یہی معنی راجح ہے۔ بعض مفسرین نے {” سَلَكْنٰهُ “} میں {”هُ“ } کی ضمیر کا مرجع قرآن کو قرار دیا ہے۔ انھوں نے اس کی تفسیر یہ کی ہے کہ قرآن کا حق ہونا تو ان کے دلوں میں اتار دیا گیا ہے مگر ان کی ہٹ دھرمی کا یہ حال ہے کہ…۔ (اشرف الحواشی) بعض نے اس کا مرجع قرآن کو قرار دے کر اس کی تفسیر اس طرح کی ہے: ”یعنی یہ اہلِ حق کے دلوں کی طرح تسکینِ روح اور شفائے قلب بن کر ان کے اندر نہیں اترتا، بلکہ ایک گرم لوہے کی سلاخ بن کر اس طرح گزرتا ہے کہ وہ سیخ پا ہو جاتے ہیں اور اس کے مضامین پر غور کرنے کے بجائے اس کی تردید کے لیے حربے ڈھونڈنے لگ جاتے ہیں۔“ (تفہیم القرآن)
← پچھلی آیت (199) پوری سورۃ اگلی آیت (201) →