بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الشعراء — Surah Shuara
آیت نمبر 181
کل آیات: 227
قرآن کریم الشعراء آیت 181
آیت نمبر: 181 — سورۃ الشعراء islamicurdubooks.com ↗
اَوۡفُوا الۡکَیۡلَ وَ لَا تَکُوۡنُوۡا مِنَ الۡمُخۡسِرِیۡنَ ﴿۱۸۱﴾ۚ
پیمانے ٹھیک بھرو اور کسی کو گھاٹا نہ دو
ناپ پورا بھرا کرو کم دینے والوں میں شمولیت نہ کرو
ناپ پورا کرو اور گھٹانے والوں میں نہ ہو
(دیکھو) پورا ناپا کرو (پیمانہ بھرا کرو) اور نقصان پہنچانے والوں میں سے نہ ہو۔
ماپ پورا دو اور کم دینے والوں میں سے نہ بنو۔

📖 تفسیر ابن کثیر

ڈنڈی مار قوم ٭٭

حضرت شعیب علیہ السلام اپنی قوم کو ناپ تول درست کرنے کی ہدایت کر رہے ہیں۔ ڈنڈی مارنے اور ناپ تول میں کمی کرنے سے روکتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ ”جب کسی کو کوئی شے ناپ کر دو تو پورا پیمانہ بھر کر دو اس کے حق سے کم نہ کرو۔ اسی طرح دوسرے سے جب لو تو زیادہ لینے کی کوشش اور تدبیر نہ کرو۔ یہ کیا کہ لینے کے وقت پورا لو اور دینے کے وقت کم دو؟ لین دین دونوں صاف اور پورا رکھو۔ ترازو اچھی رکھو جس میں تول صحیح آئے بٹے بھی پورے رکھو تول میں عدل کرو ڈنڈی نہ مارو کم نہ تولو کسی کو اس کی چیز کم نہ دو۔ کسی کی راہ نہ مارو چوری چکاری لوٹ مار غارتگری رہزنی سے بچو لوگوں کو ڈرا دھمکا کر خوفزدہ کر کے ان سے مال نہ لوٹو۔ اس اللہ کے عذابوں کا خوف رکھو جس نے تمہیں اور سب اگلوں کو پیدا کیا ہے۔ جو تمہارے اور تمہارے بڑوں کا رب ہے۔‏‏‏‏“ یہی لفظ آیت «وَلَقَدْ اَضَلَّ مِنْكُمْ جِبِلًّا كَثِيْرًا اَفَلَمْ تَكُوْنُوْا تَـعْقِلُوْنَ» ۱؎ [36-يس:62] ‏‏‏‏ میں بھی اسی معنی میں ہے۔

📖 احسن البیان

181-1یعنی جب تم لوگوں کو ناپ کردو تو اسی طرح پورا دو، جس طرح لیتے وقت تم پورا ناپ کرلیتے ہو۔ لینے اور دینے کے پیمانے الگ الگ مت رکھو، کہ دیتے وقت کم دو اور لیتے وقت پورا لو!

📖 القرآن الکریم

(آیت 181تا183) {اَوْفُوا الْكَيْلَ وَ لَا تَكُوْنُوْا …:} ان کی ماپ تول میں کمی بیشی، زمین میں فساد اور رہزنی کا ذکر سورۂ اعراف (۸۵، ۸۶) میں گزر چکا ہے۔ شعیب علیہ السلام کے قصے کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ اعراف (۸۵ تا ۹۳)، ہود (۸۴ تا ۹۵) اور عنکبوت (۳۶، ۳۷) بعض لوگوں نے مدین کے اس بزرگ کو شعیب علیہ السلام قرار دیا ہے جس کے پاس موسیٰ علیہ السلام نے دس سال گزارے تھے، مگر یہ بات بالکل بے اصل ہے، ”مدین“ کے ہر بزرگ کا شعیب علیہ السلام ہونا ضروری نہیں۔
← پچھلی آیت (180) پوری سورۃ اگلی آیت (182) →