بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الشعراء — Surah Shuara
آیت نمبر 170
کل آیات: 227
قرآن کریم الشعراء آیت 170
آیت نمبر: 170 — سورۃ الشعراء islamicurdubooks.com ↗
فَنَجَّیۡنٰہُ وَ اَہۡلَہٗۤ اَجۡمَعِیۡنَ ﴿۱۷۰﴾ۙ
آخرکار ہم نے اسے اور اس کے سب اہل و عیال کو بچا لیا
پس ہم نے اسے اور اس کے متعلقین کو سب کو بچالیا
تو ہم نے اسے اور اس کے سب گھر والوں کو نجات بخشی
چنانچہ ہم نے انہیں اور ان کے گھر والوں کو نجات عطا کی ہے۔
تو ہم نے اسے اور اس کے گھر والوں کو نجات دی۔

📖 تفسیر ابن کثیر

ہم جنسی پرستی کا شکار ٭٭

لوط نبی علیہ السلام نے اپنی قوم کو ان کی خاص بدکاری سے روکا کہ تم مردوں کے پاس شہوت سے نہ آؤ۔ ہاں اپنی حلال بیویوں سے اپنی خواہش پوری کر جنہیں اللہ نے تمہارے لیے جوڑا بنا دیا ہے۔ رب کی مقرر حدوں کا ادب واحترام کرو۔ اس کا جواب ان کے پاس یہی تھا کہ اے لوط علیہ السلام اگر تو باز نہ آیا تو ہم تجھے جلا وطن کر دیں گے انہوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ ان پاکبازوں لوگوں کو تو الگ کر دو۔ یہ دیکھ کر آپ علیہ السلام نے ان سے بیزاری اور دست برداری کا اعلان کر دیا، اور فرمایا کہ ”میں تمہارے اس برے کام سے ناراض ہوں میں اسے پسند نہیں کرتا میں اللہ کے سامنے اپنی برأت کا اظہار کرتا ہوں۔‏‏‏‏“

پھر اللہ سے ان کی لیے بد دعا کی اور اپنی اور اپنے گھرانے کی نجات طلب کی۔ اللہ تعالیٰ نے سب کو نجات دی مگر آپ علیہ السلام کی بیوی نے اپنی قوم کا ساتھ دیا اور انہی کے ساتھ تباہ ہوئی جیسے کہ سورۃ الاعراف، سورۃ ہود اور سورۃ الحجر میں بالتفصیل بیان گزر چکا ہے۔ آپ علیہ السلام اپنے والوں کو لے کر اللہ کے فرمان کے مطابق اس بستی سے چل کھڑے ہوئے حکم تھا کہ آپ علیہ السلام کے نکلتے ہی ان پر عذاب آئے گا اس وقت پلٹ کر ان کی طرف دیکھنا بھی نہیں۔ پھر ان سب پر عذاب برسا اور سب برباد کر دئیے گئے۔ ان پر آسمان سے سنگ باری ہوئی۔ اور انکا انجام بد ہوا۔ یہ بھی عبرتناک واقعہ ہے ان میں سے بھی اکثر بے ایمان تھے۔ رب کے غلبے میں اس کے رحم میں کوئی شک نہیں۔

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 170تا173) ان آیات کی تفسیر اس مقام پر لوط علیہ السلام کے قصے کے شروع میں دیے ہوئے حوالہ جات میں ملاحظہ فرمائیں۔
← پچھلی آیت (169) پوری سورۃ اگلی آیت (171) →