بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الشعراء — Surah Shuara
آیت نمبر 160
کل آیات: 227
قرآن کریم الشعراء آیت 160
آیت نمبر: 160 — سورۃ الشعراء islamicurdubooks.com ↗
کَذَّبَتۡ قَوۡمُ لُوۡطِۣ الۡمُرۡسَلِیۡنَ ﴿۱۶۰﴾ۚۖ
لوطؑ کی قوم نے رسولوں کو جھٹلایا
قوم لوط نے بھی نبیوں کو جھٹلایا
لوط کی قوم نے رسولوں کو جھٹلایا،
قومِ لوط نے رسولوں کو جھٹلایا۔
لوط کی قوم نے رسولوں کو جھٹلایا۔

📖 تفسیر ابن کثیر

لوط علیہ السلام اور ان کی قوم ٭٭

اب اللہ تعالیٰ اپنے بندے اور رسول لوط علیہ السلام کا قصہ بیان فرما رہا ہے۔ ان کا نام لوط بن ہاران بن آزر تھا۔ یہ ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کے بھتیجے تھے۔ انہیں اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کی حیات میں بہت بڑی امت کی طرف بھیجا تھا۔ یہ لوگ سدوم اور اس کے پاس بستے تھے بالآخر یہ بھی اللہ کے عذابوں میں پکڑے گئے سب کے سب ہلاک ہوئے اور ان کی بستیوں کی جگہ ایک جھیل سڑے ہوئے گندے کھاری پانی کی باقی رہ گئی۔ یہ اب تک بھی بلاد غور میں مشہور ہے جو کہ بیت المقدس اور کرک وشوبک کے درمیان ہے۔ ان لوگوں نے بھی رسول اللہ علیہ السلام کی تکذیب کی۔ آپ علیہ السلام نے انہیں اللہ کی معصیت چھوڑنے اور اپنی تابعداری کرنے کی ہدایت کی۔ اپنا رسول ہو کر آنا ظاہر کیا۔ انہیں اللہ کے عذابوں سے ڈرایا اللہ کی باتیں مان لینے کو فرمایا۔ اعلان کر دیا کہ میں تمہارے پیسے ٹکے کا محتاج نہیں۔ میں صرف اللہ کے واسطے تمہاری خیر خواہی کر رہا ہوں، تم اپنے اس خبیث فعل سے باز آؤ یعنی عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے حاجت روائی کرنے سے رک جاؤ لیکن انہیں نے اللہ کے رسول علیہ السلام کی نہ مانی بلکہ ایذائیں پہنچانے لگے۔

📖 احسن البیان

160-1حضرت لوط علیہ السلام، حضرت ابراہیم ؑ کے بھائی ہارون بن آزر کے بیٹے تھے۔ اور ان کو حضرت ابراہیم ؑ ہی کی زندگی میں نبی بناکر بھیجا گیا تھا۔ ان کی قوم ' سدوم ' اور ' عموریہ ' میں رہتی تھی۔ یہ بستیاں شام کے علاقے میں تھیں۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 161،160) {كَذَّبَتْ قَوْمُ لُوْطٍ المُرْسَلِيْنَ …:} لوط علیہ السلام کے حالات کے لیے دیکھیے سورۂ اعراف (۸۰ تا ۸۴)، ہود (۷۷ تا ۸۳)، حجر (۶۱ تا ۷۷)، انبیاء (۷۱ تا ۷۵)، نمل (۵۴ تا ۵۸)، صافات (۱۳۳ تا ۱۳۸) اور قمر (۳۳ تا ۳۹) لوط علیہ السلام ابراہیم علیہ السلام کے بھتیجے تھے۔ اصلاً یہ عراق کے رہنے والے تھے، انھیں جن بستیوں کی طرف مبعوث کیا گیا ان کا صدر مقام سدوم تھا، اس کے رہنے والوں کو لوط کی قوم اس لیے کہا گیا کہ وہ ان میں جا کر آباد ہو گئے تھے۔ ممکن ہے ان کی بیوی بھی انھی میں سے ہو۔ اگلی آیت میں لوط علیہ السلام کو ان کا بھائی اسی مناسبت سے کہا گیا ہے، ورنہ ان کا ان سے نسبی رشتہ نہیں تھا۔ اسی لیے جب ان کی قوم کے بدمعاش ان کے مہمانوں کی بے عزتی پر تل گئے تو انھوں نے کہا: «{ لَوْ اَنَّ لِيْ بِكُمْ قُوَّةً اَوْ اٰوِيْۤ اِلٰى رُكْنٍ شَدِيْدٍ }» [ ھود: ۸۰ ] ”کاش! واقعی میرے پاس تمھارے مقابلہ کی کچھ طاقت ہوتی، یا میں کسی مضبوط سہارے کی پناہ لیتا۔“ تفصیل سورۂ اعراف (۸۰ تا ۸۴)، ہود (۷۷ تا ۸۳) اور حجر (۶۱ تا ۷۷) میں دیکھیے۔
← پچھلی آیت (159) پوری سورۃ اگلی آیت (161) →