بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الشعراء — Surah Shuara
آیت نمبر 151
کل آیات: 227
قرآن کریم الشعراء آیت 151
آیت نمبر: 151 — سورۃ الشعراء islamicurdubooks.com ↗
وَ لَا تُطِیۡعُوۡۤا اَمۡرَ الۡمُسۡرِفِیۡنَ ﴿۱۵۱﴾ۙ
اُن بے لگام لوگوں کی اطاعت نہ کرو
بے باک حد سے گزر جانے والوں کی اطاعت سے باز آجاؤ
اور حد سے بڑھنے والوں کے کہنے پر نہ چلو
اور ان حد سے تجاوز کرنے والوں کے حکم کی اطاعت نہ کرو۔
اور حد سے بڑھنے والوں کا حکم مت مانو۔

📖 تفسیر ابن کثیر

صالح علیہ السلام کی باغی قوم ٭٭

حضرت صالح علیہ السلام اپنی قوم میں وعظ فرما رہے ہیں انہیں اللہ کی نعمتیں یاد دلا رہے ہیں اور اس کے عذابوں سے متنبہ فرما رہے ہیں کہ ”وہ اللہ جو تمہیں یہ کشادہ روزیاں دے رہا ہے جس نے تمہارے لیے باغات اور چشمے کھیتیاں اور پھل پھول مہیا فرمادئیے ہیں امن چین سے تمہاری زندگی کے ایام پورے کر رہے ہیں تم اس کی نافرمانیاں کرکے انہی نعمتوں میں اور اسی امن وامان میں نہیں چھوڑے جا سکتے۔ ان باغات اور ان دریاؤں میں ان کھیتوں میں ان کھجوروں کے باغات میں جن کے خوشے کھجوروں کی زیادتی کے مارے بوجھل ہو رہے ہیں اور جھکے پڑتے ہیں جن میں تہہ بہ تہہ تر کجھوریں بھرپور لگ رہی ہیں جو نرم خوش نما میٹھی اور خوش ذائقہ کجھوروں سے لدی ہوئے ہیں تم اللہ کی نافرمانیاں کر کے ان کو بہ آرام ہضم نہیں کر سکتے۔ اللہ نے تمہیں اس وقت جن مضبوط اور پرتکلف بلند اور عمدہ گھروں میں رکھ چھوڑا ہے اللہ کی توحید اور میری رسالت سے انکار کے بعد یہ بھی قائم نہیں رہ سکتے۔ افسوس تم اللہ کی نعمتوں کی قدر نہیں کرتے اپنا وقت اپنا روپیہ بیجا برباد کر کے یہ نقش و نگار والے مکانات پہاڑوں میں بہ تصنع وتکلف صرف بڑائی اور ریاکاری کیلئے اپنی عظمت اور قوت کے مظاہرے کیلے تراش رہے ہو جس میں کوئی نفع نہیں بلکہ اس کا وبال تمہارے سروں پر منڈلا رہا ہے پس تمہیں اللہ سے ڈرنا چاہیئے اور میری اتباع کرنی چاہیئے اپنے خالق رازق منعم محسن کی عبادت اور اس کی فرمانبرداری اور اس کی توحید کی طرف پوری طرح متوجہ ہو جانا چاہیئے۔ جس کا نفع تمہیں اپنے دنیا اور آخرت میں ملے تمہیں اس کا شکر ادا کرنا چاہیئے اس کی تسبیح وتہلیل کرنی چاہئیے صبح و شام اس کی عبادت کرنی چاہیئے تمہیں اپنے ان موجودہ سردارں کی ہرگز نہ ماننی چاہیئے یہ تو حدود اللہ سے تجاوز کر گئے، توحید کو، اتباع کو بھلا بیٹھے ہیں۔ زمین میں فسادپھیلا رہے ہیں نافرمانی، گناہ، فسق وفجور پر خود لگے ہوئے ہیں اور دوسروں کو بھی اسی کی طرف بلا رہے ہیں اور حق کی موافقت اور اتباع کر کے اصلاح کی کوشش نہیں کرتے۔‏‏‏‏“

📖 احسن البیان

151-1مُسْرِفِیْنَ سے مراد وہ رؤسا اور سردار ہیں جو کفر و شرک کے داعی اور مخالفت میں پیش پیش تھے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 152،151) {وَ لَا تُطِيْعُوْۤا اَمْرَ الْمُسْرِفِيْنَ …:} یعنی ان لوگوں کا کہنا مت مانو جو اخلاق و تہذیب کی ساری حدیں پھلانگ کر شتر بے مہار بن گئے ہیں۔ مراد ان کے وہ سردار اور امراء ہیں جو شرک و کفر کے داعی اور حق کی مخالفت میں پیش پیش تھے اور جن کی زیرِ قیادت ان کا بگڑا ہوا نظامِ زندگی چل رہا تھا، ایسے لوگ ہمیشہ زمین میں فساد ہی پھیلاتے ہیں، ان کے ہاتھوں اصلاح کبھی نہیں ہو سکتی۔ قرآن مجید کے دوسرے مقام سے معلوم ہوتا ہے کہ ان {” الْمُسْرِفِيْنَ “} میں سب سے پیش پیش وہ نو (۹) بدمعاش تھے جنھوں نے ملک میں فساد مچا رکھا تھا اور آخر کار قوم کی تباہی کا سبب بنے، فرمایا: «{ وَ كَانَ فِي الْمَدِيْنَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ يُّفْسِدُوْنَ فِي الْاَرْضِ وَ لَا يُصْلِحُوْنَ }» [ النمل: ۴۸ ] ”اور اس شہر میں نو(۹) شخص تھے، جو اس سرزمین میں فساد پھیلاتے تھے اور اصلاح نہیں کرتے تھے۔“
← پچھلی آیت (150) پوری سورۃ اگلی آیت (152) →