بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الشعراء — Surah Shuara
آیت نمبر 141
کل آیات: 227
قرآن کریم الشعراء آیت 141
آیت نمبر: 141 — سورۃ الشعراء islamicurdubooks.com ↗
کَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ الۡمُرۡسَلِیۡنَ ﴿۱۴۱﴾ۚۖ
ثمود نے رسولوں کو جھٹلایا
ﺛمودیوں نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا
ثمود نے رسولوں کو جھٹلایا،
قومِ ثمود نے رسولوں کو جھٹلایا۔
ثمود نے رسولوں کو جھٹلایا۔

📖 تفسیر ابن کثیر

صالح علیہ السلام اور قوم ثمود ٭٭

اللہ تعالیٰ کے بندے اور رسول صالح علیہ السلام کا واقعہ بیان ہو رہا کہ آپ علیہ السلام اپنی قوم ثمود کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے تھے یہ لوگ عرب حجر نامی شہر میں رہتے تھے جو وادی القری اور ملک شام کے درمیان ہے۔ یہ عادیوں کے بعد اور ابراہمیوں سے پہلے تھے شام کی طرف جاتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس جگہ سے گزرنے کا بیان سورۃ الاعراف کی تفسیر میں پہلے گزر چکا ہے۔ انہیں ان کے نبی علیہ السلام نے اللہ کی طرف بلایا کہ یہ اللہ کی توحید کو مانیں اور صالح علیہ السلام کی رسالت کا اقرار کریں لیکن انہوں نے بھی انکار کر دیا اور اپنے کفر پر جمے رہے اللہ کے پیغمبر علیہ السلام کو جھوٹا کہا۔ باوجود اللہ سے ڈرتے رہنے کی نصیحت سننے کی پرہیزگاری اختیار نہ کی۔ باوجود رسول امین کی موجودگی کے راہ ہدایت اختیار نہ کی۔ حالانکہ نبی کا صاف اعلان تھا کہ ”میں اپنا کوئی بوجھ تم پر ڈال نہیں رہا میں تو رسالت کی تبلیغ کے اجرا کا صرف اللہ تعالیٰ سے خواہاں ہوں۔‏‏‏‏“ اس کے بعد اللہ کی نعمتیں انہیں یاد دلائیں۔

📖 احسن البیان

141-1ثمود کا مسکن حضر تھا جو حجاز کے شمال میں ہے، آجکل اسے مدائن صالح کہتے ہیں۔ (ایسر التفاسیر) یہ عرب تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تبوک جاتے ہوئے ان بستیوں سے گزر کر گئے تھے، جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 141تا145) ➊ {كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ الْمُرْسَلِيْنَ …:} ثمود اور صالح علیھما السلام کا قصہ اس سے پہلے سورۂ اعراف (۷۳ تا ۷۹)، ہود (۶۱ تا ۶۸)، حجر (۸۰ تا ۸۴) اور بنی اسرائیل (۵۹) میں گزر چکا ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ نمل (۴۵ تا ۵۳)، ذاریات (۴۳ تا ۴۵)، قمر (۲۳ تا ۳۱)، فجر (۹) اور شمس (۱۱)۔ ➋ { اِنِّيْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِيْنٌ:} صالح علیہ السلام کی قوم بھی ان کی امانت و دیانت اور غیر معمولی قابلیت کو مانتی تھی۔ (دیکھیے ہود: ۶۲) قوم کا انھیں {” اِنَّمَا اَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِيْنَ “} کہنے سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ نبوت کے اعلان سے پہلے وہ ان کے نزدیک نہایت سمجھ دار اور عقل مند تھے اور ان کی حالت کی تبدیلی ان کے خیال سے جادو کا نتیجہ تھی۔
← پچھلی آیت (140) پوری سورۃ اگلی آیت (142) →