بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الشعراء — Surah Shuara
آیت نمبر 117
کل آیات: 227
قرآن کریم الشعراء آیت 117
آیت نمبر: 117 — سورۃ الشعراء islamicurdubooks.com ↗
قَالَ رَبِّ اِنَّ قَوۡمِیۡ کَذَّبُوۡنِ ﴿۱۱۷﴾ۚۖ
نوحؑ نے دعا کی "“اے میرے رب، میری قوم نے مجھے جھٹلا دیا
آپ نے کہا اے میرے پروردگار! میری قوم نے مجھے جھٹلا دیا
عرض کی اے میرے رب میری قوم نے مجھے جھٹلایا
آپ نے کہا اے میرے پروردگار! میری قوم نے تو مجھے جھٹلایا دیا ہے۔
اس نے کہا اے میرے رب! بے شک میری قوم نے مجھے جھٹلا دیا۔

📖 تفسیر ابن کثیر

تذکرہ نوح علیہ السلام ٭٭

لمبی مدت تک جناب نوح علیہ السلام ان میں رہے دن رات چھپے کھلے انہیں اللہ کی راہ کی دعوت دیتے رہے لیکن جوں جوں آپ علیہ السلام اپنی نیکی میں بڑھتے گئے وہ اپنی بدی میں سوار ہوتے گئے بالآخر زور باندھتے باندھتے صاف کہہ دیا کہ ”اگر اب ہمیں اپنے دین کی دعوت دی تو ہم تجھ پر پتھراؤ کر کے تیری جان لے لیں گے۔‏‏‏‏“ آپ علیہ السلام کے ہاتھ بھی جناب باری میں اٹھ گئے قوم کی تکذیب کی شکایت آسمان کی طرف بلند ہوئی۔ اور آپ نے فتح کی دعا کی فرمایا کہ ”اے اللہ! میں مغلوب اور عاجز ہوں میری مدد کر میرے ساتھ میرے ساتھیوں کو بھی بچا لے۔‏‏‏‏“ پس جناب باری عزوجل نے آپ علیہ السلام کی دعا قبول کی۔ انسانوں جانوروں اور سامان اسباب سے کچھا کچھ بھری ہوئی کشتی میں سوار ہو جانے کا حکم دے دیا۔ ’ یقیناً یہ واقعہ بھی عبرت آموز ہے لیکن اکثر لوگ بےیقین ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ رب بڑے غلبے والا لیکن وہ مہربان بھی بہت ہے ‘۔

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 117) {قَالَ رَبِّ اِنَّ قَوْمِيْ كَذَّبُوْنِ:كَذَّبُوْنِ “} اصل میں {”كَذَّبُوْنِيْ“} ہے۔ جب قوم اس حد تک پہنچ گئی کہ اپنے رسول کو سنگسار کر دے اور اللہ تعالیٰ نے نوح علیہ السلام کو اطلاع بھی دے دی کہ اب ان میں سے مزید کوئی ایمان نہیں لائے گا (دیکھیے ہود: ۳۷) تو انھوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی، اس دعا کے الفاظ قرآن میں مختلف مقامات پر موجود ہیں، فرمایا: «{ اَنِّيْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ }» [ القمر: ۱۰ ] ”کہ بے شک میں مغلوب ہوں، سو تو بدلا لے۔“ اور فرمایا: «{ رَبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْاَرْضِ مِنَ الْكٰفِرِيْنَ دَيَّارًا }» [ نوح: ۲۶ ] ”اے میرے رب! زمین پر ان کافروں میں سے کوئی رہنے والا نہ چھوڑ۔“ یہاں انھوں نے جو کہا ہے کہ ”اے میرے رب! میری قوم نے مجھے جھٹلا دیا“ یہ اللہ کے حضور شکایت کے لیے ہے، یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کو یہ بات معلوم نہیں اور نوح علیہ السلام اسے بتا رہے ہیں۔
← پچھلی آیت (116) پوری سورۃ اگلی آیت (118) →