بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الشعراء — Surah Shuara
آیت نمبر 114
کل آیات: 227
قرآن کریم الشعراء آیت 114
آیت نمبر: 114 — سورۃ الشعراء islamicurdubooks.com ↗
وَ مَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۱۴﴾ۚ
میرا یہ کام نہیں ہے کہ جو ایمان لائیں ان کو میں دھتکار دوں
میں ایمان والوں کو دھکے دینے واﻻ نہیں
اور میں مسلمانوں کو دور کرنے والا نہیں
اور میں اہلِ ایمان کو دھتکارنے والا نہیں ہوں۔
اور میں ایمان والوں کو کسی صورت نکال دینے والا نہیں ہوں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

ہدایت طبقاتی عصبیت سے پاک ہے ٭٭

قوم نوح نے اللہ کے رسول کو جواب دیا کہ چند سفلے اور چھوٹے لوگوں نے تیری بات مانی ہے۔ ہم سے یہ نہیں ہوسکتا کہ ان رذیلوں کا ساتھ دیں اور تیری مان لیں۔ اس کے جواب میں اللہ کے رسول نے جواب دیا ”یہ میرا فرض نہیں کہ کوئی حق قبول کرنے کو آئے تو میں اس سے اس کی قوم اور پیشہ دریافت کرتا پھروں۔ اندرونی حالات پر اطلاع رکھنا، حساب لینا اللہ کا کام ہے۔ افسوس تمہیں اتنی سمجھ بھی نہیں۔ تمہاری اس چاہت کو پورا کرنا میرے اختیار سے باہر ہے کہ میں ان مسکینوں سے اپنی محفل خالی کرالوں۔ میں تو اللہ کی طرف سے ایک آگاہ کر دینے والا ہوں۔ جو بھی مانے وہ میرا اور جو نہ مانے وہ خود ذمہ دار۔ شریف ہو یا رذیل ہو امیر ہو یا غریب ہو جو میری مانے میرا ہے اور میں اس کا ہوں۔‏‏‏‏“

📖 احسن البیان

114-1یہ ان کی اس خواہش کا جواب ہے کہ کمتر حیثیت کے لوگوں کو اپنے سے دور کر دے، پھر ہم تیری جماعت میں شامل ہوجائیں گے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 114){ وَ مَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الْمُؤْمِنِيْنَ: } یہ سرداروں کے اس مطالبے کا جواب ہے کہ ان رذیلوں کو اپنے ہاں سے نکال دیں تو ہم آپ کی مجلس میں بیٹھیں، فرمایا میں کسی صورت ایمان والوں کو نکال دینے والا نہیں کہ انھیں دھکے دے کر نکال دوں۔ (نفی کی تاکید باء کے ساتھ ہونے کی وجہ سے ترجمہ میں ”کسی صورت“ کا اضافہ کیا گیا ہے) یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ جو لوگ میری بات نہیں مانتے میں ان کے پیچھے پھرتا رہوں اور جو میری بات مانتے ہیں انھیں دھکے دے کر نکال دوں۔ (دیکھیے عبس: ۵ تا ۹) میرا کام تو صاف اور واضح الفاظ میں کفر کے برے انجام سے ڈرانا ہے، پھر جس کا جی چاہے مانے جس کا جی چاہے نہ مانے۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھی بعینہٖ یہی صورت پیش آئی، نوح علیہ السلام اور ان کی قوم کی گفتگو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی لیے سنائی جا رہی ہے، فرق صرف نوح علیہ السلام اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے، ورنہ دونوں کی دعوت اور دونوں کے لیے مغرور اور متکبر سرداروں کا جواب ایک ہی ہے۔ یقینا اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بہت بڑی تسلی ہے کہ یہ سب کچھ آپ ہی پر نہیں گزر رہا، اہلِ زمین کی طرف سب سے پہلے رسول کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوا تھا۔ اہلِ ایمان کو اپنے پاس سے نکالنے کی ممانعت کے لیے دیکھیے سورۂ انعام (۵۲، ۵۳) اور کہف (۲۸)۔
← پچھلی آیت (113) پوری سورۃ اگلی آیت (115) →