بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الشعراء — Surah Shuara
آیت نمبر 109
کل آیات: 227
قرآن کریم الشعراء آیت 109
آیت نمبر: 109 — سورۃ الشعراء islamicurdubooks.com ↗
وَ مَاۤ اَسۡـَٔلُکُمۡ عَلَیۡہِ مِنۡ اَجۡرٍ ۚ اِنۡ اَجۡرِیَ اِلَّا عَلٰی رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۱۰۹﴾ۚ
میں اس کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں میرا اجر تو رب العالمین کے ذمہ ہے
میں تم سے اس پر کوئی اجر نہیں چاہتا، میرا بدلہ تو صرف رب العالمین کے ہاں ہے
اور میں اس پر تم سے کچھ اجرت نہیں مانگتا میرا اجر تو اسی پر ہے جو سارے جہان کا رب ہے،
اور میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی اجرت نہیں مانگتا۔ میری اجرت تو رب العالمین کے ذمہ ہے۔
اور میں اس پر تم سے کسی اجرت کا سوال نہیں کرتا، میری اجرت تو رب العالمین ہی کے ذمے ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

بت پرستی کا اغاز ٭٭

زمین پر سب سے پہلے جو بت پرستی شروع ہوئی اور لوگ شیطانی راہوں پر چلنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے اولوالعزم رسولوں کے سلسلے کو نوح علیہ السلام سے شروع کیا جنہوں نے آکر لوگوں کو اللہ کے عذابوں سے ڈرایا اور اس کی سزاؤں سے انہیں آگاہ کیا لیکن وہ اپنے ناپاک کرتوتوں سے باز نہ آئے غیر اللہ کی عبادت نہ چھوڑی بلکہ نوح علیہ السلام کو جھوٹا کہا ان کے دشمن بن گئے اور ایذاء رسانی کے درپے ہو گئے۔ نوح علیہ السلام کا جھٹلانا گویا تمام پیغمبروں سے انکار کرنا تھا اس لیے آیت میں فرمایا گیا کہ ’ قوم نوح نے نبیوں کو جھٹلایا ‘۔

حضرت نوح علیہ السلام نے پہلے تو انہیں اللہ کا خوف کرنے کی نصیحت کی کہ ”تم جو غیر اللہ کی عبادت کرتے ہو اللہ کے عذاب کا تمہیں ڈر نہیں؟“ اس طرح توحید کی تعلیم کے بعد اپنی رسالت کی تلقین کی اور فرمایا ”میں تمہاری طرف اللہ کا رسول بن کر آیا ہوں اور میں امانت دار بھی ہوں اس کا پیغام ہو بہو وہی ہے جو تمہیں سنارہا ہوں۔ پس تمہیں اپنے دلوں کو اللہ کے ڈر سے پرکھنا چاہیئے اور میری تمام باتوں کو بلا چوں وچرا مان لینا چائیے۔ اور سنو میں تم سے اس تبلیغ رسالت پر کوئی اجرت نہیں مانگتا۔ میر امقصد اس سے صرف یہی ہے کہ میرا رب مجھے اس کا بدلہ اور ثواب عطا فرمائے۔ پس تم اللہ سے ڈرو اور میر اکہنا مانو میری سچائی میری خیر خواہی تم پر خوب روشن ہے۔ ساتھ ہی میری دیانت داری اور امانت داری بھی تم پر واضح ہے۔‏‏‏‏“

📖 احسن البیان

19-1میں تمہیں جو تبلیغ کر رہا ہوں، اس کا کوئی اجر تم سے نہیں مانگتا، بلکہ اس کا اجر رب العالمین ہی کے ذمے ہے جو قیامت کو عطا فرمائے گا۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 109) ➊ { وَ مَاۤ اَسْـَٔلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ اَجْرٍ:} اپنی رسالت کے ثبوت کے لیے دوسری چیز یہ پیش فرمائی کہ دین داری اور روحانیت کے دعوے داروں کا مقصود عموماً اپنی گدی جمانا، مال و زر جمع کرنا اور سرداری حاصل کرنا ہوتا ہے۔ خانقاہوں اور راہبوں کی کٹیاؤں کے تقدس کے پیچھے عموماً بدترین ہوس زر ہی چھپی ہوتی ہے، مگر مجھے اللہ کا پیغام پہنچانے میں نہ تم سے کسی مزدوری یا دنیاوی منفعت کی خواہش ہے نہ تم سے اس کا کوئی مطالبہ۔ ایسے بے غرض خیر خواہ کی بھی بات نہ مانو تو تم سے بڑا بدنصیب کون ہو گا۔ اس بات کا نوح علیہ السلام نے خاص طور پر اس لیے بھی ذکر کیا کہ ان کی قوم نے ان پر بہتان باندھا تھا کہ وہ رسالت کے ذریعے سے اپنی قوم پر بڑائی حاصل کرنا چاہتے ہیں، سورۂ مؤمنون میں ہے: «{ مَا هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُرِيْدُ اَنْ يَّتَفَضَّلَ عَلَيْكُمْ }» [ المؤمنون: ۲۴ ] ”یہ نہیں ہے مگر تمھارے جیسا ایک بشر، جو چاہتا ہے کہ تم پر برتری حاصل کر لے۔“ نوح علیہ السلام کی طرح ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی بھی اس کی شاہد عدل ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنے پیچھے نہ کوئی دینار چھوڑا، نہ درہم اور نہ کوئی اور چیز، جو کچھ تھا صدقہ کر دیا۔ اللہ کے پیغمبر ایسے ہی بے لوث ہوتے ہیں اور وہ اس کا اعلان بھی کرتے رہتے ہیں۔ ➋ {اِنْ اَجْرِيَ اِلَّا عَلٰى رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ:} اس میں قیامت کے عقیدے کی دعوت بھی ہے کہ میری تگ و دو اور محنت کی اجرت صرف اور صرف رب العالمین کے ذمے ہے اور ظاہر ہے کہ وہ قیامت کے دن ہی پوری پوری ملے گی۔
← پچھلی آیت (108) پوری سورۃ اگلی آیت (110) →