بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الشمس — Surah Shams
آیت نمبر 14
کل آیات: 15
قرآن کریم الشمس آیت 14
آیت نمبر: 14 — سورۃ الشمس islamicurdubooks.com ↗
فَکَذَّبُوۡہُ فَعَقَرُوۡہَا ۪۬ۙ فَدَمۡدَمَ عَلَیۡہِمۡ رَبُّہُمۡ بِذَنۡۢبِہِمۡ فَسَوّٰىہَا ﴿۪ۙ۱۴﴾
مگر انہوں نے اُس کی بات کو جھوٹا قرار دیا اور اونٹنی کو مار ڈالا آخرکار اُن کے گناہ کی پاداش میں ان کے رب نے ان پر ایسی آفت توڑی کہ ایک ساتھ سب کو پیوند خاک کر دیا
ان لوگوں نے اپنے پیغمبر کو جھوٹا سمجھ کر اس اونٹنی کی کوچیں کاٹ دیں، پس ان کے رب نے ان کے گناہوں کے باعﺚ ان پر ہلاکت ڈالی اور پھر ہلاکت کو عام کر دیا اور اس بستی کو برابر کردیا
تو انہوں نے اسے جھٹلایا پھر ناقہ کی کوچیں کاٹ دیں تو ان پر ان کے رب نے ان کے گناہ کے سبب تباہی ڈال کر وہ بستی برابر کردی
پس ان لوگوں نے ان (رسول(ع)) کو جھٹلایا اور اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں تو ان کے پروردگار نے ان کے گناہ (عظیم) کی پاداش میں ان پر ہلاکت نازل کی اور اسی (بستی) کو زمین کے برابر کر دیا۔
تو انھوں نے اسے جھٹلا دیا، پس اس (اونٹنی) کی کونچیں کاٹ دیں، تو ان کے رب نے انھیں ان کے گناہ کی وجہ سے پیس کر ہلاک کر دیا، پھر اس ( بستی) کو برابر کر دیا۔

📖 تفسیر ابن کثیر

آل ثمود کی تباہی کے اسباب ٭٭

اللہ تعالیٰٰ بیان فرما رہا ہے کہ ثمودیوں نے اپنی سرکشی، تکبر و تجّبر کی بناء پر اپنے رسول کی تصدیق نہ کی۔ محمد بن کعب رحمہ اللہ فرماتے ہیں ” «بِطَغْوَاهَا» کا مطلب یہ ہے کہ ان سب نے تکذیب کی“ لیکن پہلی بات ہی زیادہ اولیٰ ہے۔ مجاہد اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم نے بھی یہی بیان کیا ہے، اس سرکشی اور تکذیب کی شامت سے یہ اس قدر بدبخت ہو گئی کہ ان میں سے جو زیادہ بد شخص تھا وہ تیار ہو گیا اس کا نام قدار بن سالف تھا اسی نے صالح علیہ السلام کی اونٹنی کی کوچیں کاٹی تھیں۔ اسی کے بارے میں فرمان ہے «فَنَادَوْا صَاحِبَهُمْ فَتَعَاطَىٰ فَعَقَرَ» ۱؎ [54-القمر:29] ‏‏‏‏ ثمودیوں کی آواز پر یہ آ گیا اور اس نے اونٹنی کو مار ڈالا، یہ شخص اس قوم میں ذی عزت تھا شریف تھا ذی نسب تھا قوم کا رئیس اور سردار تھا۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ اپنے خطبے میں اس اونٹنی کا اور اس کے مار ڈالنے والے کا ذکر کیا اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا کہ جیسے ابوزمعہ تھا اسی جیسا یہ شخص بھی اپنی قوم میں شریف عزیز اور بڑا آدمی تھا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4942] ‏‏‏‏ امام بخاری رحمہ اللہ بھی اسے تفسیر میں اور امام مسلم رحمہ اللہ جہنم کی صفت میں لائے ہیں اور سنن ترمذی، سنن نسائی میں بھی یہ روایت تفسیر میں ہے۔

ابن ابی حاتم میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ میں تجھے دنیا بھر کے بدبخت ترین دو شخص بتاتا ہوں ایک تو احیمر ثمود جس نے اونٹنی کو مار ڈالا اور دوسرا وہ شخص جو تیری پیشانی پر زخم لگائے گا یہاں تک کہ داڑھی خون سے تربتر ہو جائے گی }۔ [مسند احمد:263/4:حسن لغیرہ] ‏‏‏‏ اللہ کے رسول صالح علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ ”اے قوم اللہ کی اونٹنی کو برائی پہنچانے سے ڈرو، اس کے پانی پینے کے مقرر دن میں ظلم کر کے اسے پانی سے نہ روکو تمہاری اور اس کی باری مقرر ہے۔‏‏‏‏“ لیکن ان بدبختوں نے پیغمبر علیہ السلام کی نہ مانی جس گناہ کے باعث ان کے دل سخت ہو گئے اور پھر یہ صاف طور پر مقابلہ کے لیے تیار ہو گئے اور اس اونٹنی کی کوچیں کاٹ دیں، جسے اللہ تعالیٰ نے بغیر ماں باپ کے پتھر کی ایک چٹان سے پیدا کیا تھا جو صالح علیہ السلام کا معجزہ اور اللہ کی قدرت کی کامل نشانی تھی اللہ بھی ان پر غضبناک ہو گیا اور ہلاکت ڈال دی، اور سب پر ابر سے عذاب اترا۔ یہ اس لیے کہ احیمر ثمود کے ہاتھ پر اس کی قوم کے چھوٹے بڑوں نے مرد و عورت نے بیعت کر لی تھی اور سب کے مشورے سے اس نے اس اونٹنی کو کاٹا تھا اس لیے عذاب میں بھی سب پکڑے گئے۔ «وَلَا يَخَافُ» کو «فَلَا یَخَافُ» بھی پڑھا گیا ہے، مطلب یہ ہے کہ اللہ کسی کو سزا کرے تو اسے یہ خوف نہیں ہوتا کہ اس کا انجام کیا ہو گا؟ کہیں یہ بگڑ نہ بیٹھیں، یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ اس بدکار، احیمر نے اونٹنی کو مار تو ڈالا لیکن انجام سے نہ ڈرا، مگر پہلا قول ہی اولیٰ ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ الشمس کی تفسیر ختم ہوئی۔

📖 احسن البیان

14۔ 1 یہ کام ایک شخص قدار نے کیا تھا لیکن چوں کہ اس شرارت میں قوم بھی اس کے ساتھ تھی اس لیے اس میں سب کو برابر کا مجرم قرار دیا گیا، اور تکذیب اور اونٹنی کی کوچیں کاٹنے کی نسبت پوری قوم کی طرف کی گئی، جس سے یہ اصول معلوم ہوا کہ ایک برائی پر نکیر کرنے کے بجائے اسے پسند کرتی ہو تو اللہ کے ہاں پوری قوم اس برائی کی مرتکب قرار پائے گی اور اس جرم یا برائی میں برابر کی شریک سمجھی جائے گی۔ 14۔ 2 ان کو ہلاک کردیا اور ان پر سخت عذاب نازل کیا۔ 14۔ 3۔ یعنی اس عذاب میں سب کو برابر کردیا، کسی کو نہیں چھوڑا، چھوٹا بڑا، سب کو نیست ونابود کردیا گیا یا زمین کو ان پر برابر کردیا یعنی سب کو تہ خاک کردیا۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 14) ➊ {فَكَذَّبُوْهُ فَعَقَرُوْهَا:} اگرچہ ایک آدمی نے کونچیں کاٹ کر اسے ہلاک کیا تھا، لیکن چونکہ ساری قوم اس کے ساتھ تھی بلکہ انھی کے کہنے پر اس نے یہ کام کیا تھا، اس لیے ان سب کو مجرم قرار دیا گیا اور فرمایا کہ ” انھوں نے اس کی کونچیں کاٹ دیں۔“ ➋ {فَدَمْدَمَ عَلَيْهِمْ رَبُّهُمْ بِذَنْۢبِهِمْ فَسَوّٰىهَا …:} قاموس میں ہے: {”دَمَّمَ الْقَوْمَ كَدَمْدَمَهُمْ وَ دَمْدَمَ عَلَيْهِمْ، طَحَنَهُمْ فَأَهْلَكَهُمْ۔“ ”دَمْدَمَ عَلَيْهِمْ“} اس نے انھیں پیس کر ہلاک کر دیا۔ اونٹنی کو مار ڈالنے کے تین دن بعد ان پر ایک زبردست غیبی چیخ کے ساتھ عذاب آیا اور وہ اس طرح نابود ہوگئے جیسے کبھی وہاں تھے ہی نہیں، صرف صالح علیہ السلام اور اہل ایمان بچے۔ سورۂ ہود (۶۲ تا ۶۸)، اعراف (۷۳ تا ۷۹) اور سورۂ شعراء (۱۴۱ تا ۱۵۹) میں یہ واقعہ تفصیل سے گزرچکا ہے۔
← پچھلی آیت (13) پوری سورۃ اگلی آیت (15) →