بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
الشمس
سورۃ الشمس — 15 آیات
قرآن کریم Surah 91
وَ الشَّمۡسِ وَ ضُحٰہَا ۪ۙ﴿۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
سورج اور اُس کی دھوپ کی قسم
مولانا محمد جوناگڑھی
قسم ہے سورج کی اور اس کی دھوپ کی
احمد رضا خان بریلوی
سورج اور اس کی روشنی کی قسم،
علامہ محمد حسین نجفی
قَسم ہے سورج اور اس کی ضیاء و شعا ع کی۔
عبدالسلام بن محمد
قسم ہے سورج کی! اور اس کی دھوپ کی!
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کامیابی کے لیے کیا ضروری ہے؟ ٭٭

مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ” «الضُّحَىٰ» سے مراد روشنی ہے۔‏‏‏‏“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”پورا دن مراد ہے۔‏‏‏‏“ امام جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”ٹھیک بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سورج کی اور دن کی قسم کھائی ہے اور چاند جبکہ اس کے پیچھے آئے یعنی سورج چھپ جائے اور چاند چمکنے لگے۔‏‏‏‏“ ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”مہینہ کے پہلے پندرہ دن میں تو چاند سورج کے پیچھے رہتا ہے اور پچھلے پندرہ دنوں میں آگے ہوتا ہے۔‏‏‏‏“ زید بن اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد اس سے لیلۃ القدر ہے۔‏‏‏‏“ پھر دن کی قسم کھائی جبکہ وہ منور ہو جائے یعنی سورج دن کو گھیر لے، بعض عربی دانوں نے یہ بھی کہا ہے کہ دن جبکہ اندھیرے کو روشن کر دے لیکن اگر یوں کہا جاتا کہ پھیلاوٹ کو وہ جب چمکا دے تو اور اچھا ہوتا ہے تاکہ «يَغْشَاهَا» میں بھی یہ معنی ٹھیک بیٹھتے، اسی لیے مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”دن کی قسم جبکہ وہ اسے روشن کر دے“، امام ابن جریر رحمہ اللہ اس قول کو پسند فرماتے ہیں کہ ان سب میں ضمیر «ھَا» کا مرجع «شَّمْسِ» ہے کیونکہ اسی کا ذکر چل رہا ہے، رات جبکہ اسے ڈھانپ لے یعنی سورج کو ڈھانپ لے اور چاروں طرف اندھیرا پھیل جائے۔ یزید بن ذی حمایہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”جب رات آتی ہے تو اللہ تعالیٰ جل جلالہ فرماتا ہے ’ میرے بندوں کو میری ایک بہت بڑی خلق نے چھپا لیا ‘ پس مخلوق رات سے ہیبت کرتی ہے حالانکہ اس کے پیدا کرنے والے سے زیادہ ہیبت کرنی چاہیئے۔ [ابن ابی حاتم] ‏‏‏‏

پھر آسمان کی قسم کھاتا ہے یہاں جو «مَا» ہے یہ مصدر یہ بھی ہو سکتا ہے، یعنی آسمان اور اس کی بناوٹ کی قسم۔ قتادہ رحمہ اللہ کا قول یہی ہے اور یہ «مَا» معنی میں «مَنْ» کے بھی ہو سکتا ہے تو مطلب یہ ہو گا کہ ’ آسمان کی قسم اور اس کے بنانے والے کی قسم ‘، یعنی خود اللہ کی۔ مجاہد رحمہ اللہ یہی فرماتے ہیں یہ دونوں معنی ایک دوسرے کو لازم ملزوم ہیں۔ «بَنا» کے معنی بلندی کے ہیں جیسے اور جگہ ہے «وَالسَّمَاء بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ وَالْأَرْضَ فَرَشْنَاهَا فَنِعْمَ الْمَاهِدُونَ» ۱؎ [51-الذریات:48-47] ‏‏‏‏، یعنی ’ آسمان کو ہم نے قوت کے ساتھ بنایا اور ہم کشادگی والے ہیں ہم نے زمین کو بچھایا اور کیا ہی اچھا ہم بچھانے والے ہیں ‘۔ اس طرح یہاں بھی فرمایا کہ ’ زمین کی اور اس کی ہمواری کی اسے بچھانے، پھیلانے کی اس کی تقسیم کی، اس کی مخلوق کی قسم ‘۔ زیادہ مشہور قول اس کی تفسیر میں پھیلانے کا ہے، اہل لغت کے نزدیک بھی یہی معروف ہے۔ جوہری فرماتے ہیں «طَحَوْتُهٗ» مثل «ودحَوْتُهٗ» کے ہے اور اس کے معنی پھیلانے کے ہیں اکثر مفسرین کا یہی قول ہے۔ پھر فرمایا ’ نفس کی اور اسے ٹھیک ٹھاک بنانے کی قسم ‘ یعنی اسے پیدا کیا اور آنحالیکہ یہ ٹھیک ٹھاک اور فطرت پر قائم تھا۔ جیسے اور جگہ ہے «فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا فِطْرَتَ اللَّـهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّـهِ» ۱؎ [30-الروم:30] ‏‏‏‏، ’ اپنے چہرے کو قائم رکھ دین حنیف کے لیے فطرت ہے، اللہ کی جس پر لوگوں کو بنایا اللہ کی خلق کی تبدیل نہیں ‘۔ حدیث میں ہے { ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا لیتے ہیں جیسے چوپائے جانور کا بچہ صحیح سالم پیدا ہوتا ہے کوئی ان میں کن کٹا نہ پاؤ گے }۔ [صحیح بخاری:1358] ‏‏‏‏

صحیح مسلم شریف کی ایک حدیث میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے اپنے بندے یکسوئی والے پیدا کئے ان کے پاس شیطان پہنچا اور دین سے ورغلا لیا }۔ [صحیح مسلم:2865] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے کہ ’ اللہ نے اس کے لیے بدکاری و پرہیزگاری کو بیان کر دیا اور جو چیز اس کی قسمت میں تھی اس کی طرف اس کی رہبری ہوئی ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”یعنی خیر و شر ظاہر کر دیا۔‏‏‏‏“ ابن جریر میں ہے ابوالاسود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے پوچھا: ذرا بتاؤ تو لوگ جو کچھ اعمال کرتے ہیں اور تکلیفیں اٹھا رہے ہیں یہ کیا ان کے لیے اللہ کی جانب سے مقرر ہو چکی ہیں اور ان کی تقدیر میں لکھی جا چکی ہیں یا یہ خود آئندہ کے لیے اپنے طور پر کر رہے ہیں اس بنا پر کہ انبیاء علیہم السلام ان کے پاس آ چکے اور اللہ کی حجت ان پر پوری ہوئی؟ میں نے جواب میں کہا نہیں نہیں بلکہ یہ چیز پہلے سے فیصل شدہ ہے اور مقدر ہو چکی ہے۔ سیدنا عمران رضی اللہ عنہ نے کہا پھر یہ ظلم تو نہ ہو گا میں تو اسے سن کر کانپ اٹھا اور گھبرا کر کہا کہ ہر چیز کا خالق مالک وہی اللہ ہے تمام ملک اسی کے ہاتھ میں ہے اس کے افعال کی باز پرس کوئی نہیں کر سکتا وہ سب سے سوال کر سکتا ہے میرا یہ جواب سن کر سیدنا عمران رضی اللہ عنہ بہت خوش ہوئے اور کہا اللہ تجھے درستگی عنایت فرمائے میں نے تو یہ سوالات اسی لیے کئے تھے کہ امتحان ہو جائے، سنو ایک شخص مزینہ یا جہینہ قبیلے کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہی سوال کیا جو میں نے پہلے تم سے کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی وہی جواب دیا جو تم نے دیا تو اس نے کہا پھر ہمارے اعمال سے کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواباً ارشاد فرمایا کہ جس کسی کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے جس منزل کے لیے پیدا کیا ہے اس سے ویسے ہی کام ہو کر رہیں گے اگر جنتی ہے تو اعمال جنت اور اگر دوزخی لکھا گیا ہے تو ویسے ہی اعمال اس پر آسان ہوں گے، سنو قرآن میں اس کی تصدیق موجود ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا» ۱؎ [91-الشمس:7،8] ‏‏‏‏ یہ حدیث مسلم شریف میں بھی ہے۔ [صحیح مسلم:2650] ‏‏‏‏

مسند احمد میں بھی ہے کہ { جس نے اپنے نفس کو پاک کیا وہ بامراد ہوا }، یعنی اطاعت رب میں لگا رہا نکمے اعمال رذیل اخلاق چھوڑ دئیے۔ جیسے اور جگہ ہے «دْ أَفْلَحَ مَن تَزَكَّىٰ وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهِ فَصَلَّىٰ» ۱؎ [87-الاعلیٰ:14-15] ‏‏‏‏ ’ جس نے پاکیزگی اختیار کی اور اپنے رب کا نام یاد کیا پھر نماز پڑھی اس نے کامیابی پا لی اور جس نے اپنے ضمیر کا ستیاناس کیا اور ہدایت سے ہٹا کر اسے برباد کیا، نافرمانیوں میں پڑ گیا اطاعت اللہ کو چھوڑ بیٹھا یہ ناکام اور نامراد ہوا ‘۔ اور یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ ’ جس کے نفس کو اللہ تعالیٰ نے پاک کیا اور بامراد ہوا اور جس کے نفس کو اللہ نے نیچے گرا دیا وہ برباد، خائب اور خاسر رہا ‘۔ عوفی اور علی بن ابوطلحہ رحمہ اللہ علیہم سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہی روایت کرتے ہیں، ابن ابی حاتم کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا» پڑھ کر فرمایا کہ جس نفس کو اللہ نے پاک کیا اس نے چھٹکارا پا لیا }۔ لیکن اس حدیث میں ایک علت تو یہ ہے کہ جویبربن سعید متروک الحدیث ہے دوسری علت یہ ہے کہ ضحاک جو عبداللہ سے روایت کرتے ہیں ان کی ملاقات ثابت نہیں۔ طبرانی کی حدیث میں ہے کہ { «فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا» پڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا پڑھی «اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا أَنْتَ وَلِيّهَا وَمَوْلَاهَا وَخَيْر مَنْ زَكَّاهَا» } ۱؎ [طبرانی کبیر:11191:ضعیف] ‏‏‏‏ ابن ابی حاتم کی حدیث میں یہ دعا یوں وارد ہوئی ہے «اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْر مَنْ زَكَّاهَا أَنْتَ وَلِيّهَا وَمَوْلَاهَا» ۔ ۱؎ [ابن ابی عاصم فی السنة:318:ضعیف] ‏‏‏‏ مسند احمد کی حدیث میں ہے { ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رات کو ایک مرتبہ میری آنکھ کھلی میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بستر پر نہیں، اندھیرے کی وجہ سے میں گھر میں اپنے ہاتھوں سے ٹٹولنے لگی تو میرے ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پڑے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت سجدے میں تھے اور یہ دعا پڑھ رہے تھے «رَبّ أَعْطِ نَفْسِي تَقْوَاهَا وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْر مَنْ زَكَّاهَا أَنْتَ وَلِيّهَا وَمَوْلَاهَا» } یہ حدیث صرف مسند احمد میں ہی ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:209/6:ضعیف] ‏‏‏‏

مسلم شریف اور مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگتے تھے «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذ بِك مِنْ الْعَجْز وَالْكَسَل وَالْهَرَم وَالْجُبْن وَالْبُخْل وَعَذَاب الْقَبْر اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْر مَنْ زَكَّاهَا أَنْتَ وَلِيّهَا وَمَوْلَاهَا اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذ بِك مِنْ قَلْب لَا يَخْشَع وَمِنْ نَفْس لَا تَشْبَع وَعِلْم لَا يَنْفَع وَدَعْوَة لَا يُسْتَجَاب لَهَا» یا اللہ! میں عاجزی، بیچارگی، سستی، تھکاوٹ، بڑھاپے، نامردی سے اور بخیلی اور عذاب قبر سے تیری پناہ چاہتا ہوں، اے اللہ میرے دل کو اس کا تقویٰ عطا فرما اور اسے پاک کر دے تو ہی اسے بہتر پاک کرنے والا ہے تو ہی اس کا والی اور مولیٰ ہے۔ اے اللہ! مجھے ایسے دل سے بچا جس میں تیرا ڈر نہ ہو اور ایسے نفس سے بچا جو آسودہ نہ ہو اور ایسے علم سے بچا جو نفع نہ دے اور ایسی دعا سے بچا جو قبول نہ کی جائے }۔ راوی حدیث میں زید بن ارقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ دعا سکھائی اور ہم تمہیں سکھاتے ہیں۔ [صحیح مسلم:2722] ‏‏‏‏
قسم ہے سورج کی اور اس کی دھوپ کی۔ (1)
(آیت 1) {وَ الشَّمْسِ وَ ضُحٰىهَا:} پہلی آیت سے لے کر آٹھویں آیت تک تمام قسموں کا جوابِ قسم یہ ہے کہ ”جس شخص نے اپنے نفس کوپاک کر لیا وہ کامیاب ہوا اور جس نے اسے مٹی میں دبا دیا وہ ناکام ہوا۔ “ ان قسموں اور جواب قسم کی مناسبت یہ ہے (واللہ اعلم) کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ نے انسان کے فائدے کے لیے پیدا فرمایا، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏هُوَ الَّذِيْ خَلَقَ لَكُمْ مَّا فِي الْاَرْضِ جَمِيْعًا» ‏‏‏‏ [ البقرۃ: ۲۹ ] ”وہ ذات کہ زمین میں جو کچھ ہے اس نے سب تمھارے لیے پیدا فرمایا۔“ حتیٰ کہ آسمان کی چھت، زمین کا فرش، سورج اور اس کی دھوپ، اس کے بعد چاند اور اس کی چاندنی اور دن کو آفتاب کا اُجالا، پھر رات کا اس کو ڈھانپ لینا اسی کے فائدے کے لیے ہے، فرمایا: «‏‏‏‏وَ سَخَّرَ لَكُمُ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ دَآىِٕبَيْنِ وَ سَخَّرَ لَكُمُ الَّيْلَ وَ النَّهَارَ» ‏‏‏‏ [ إبراہیم: ۳۳ ] ”اور اس نے تمھارے لیے سورج اور چاند کو مسخر کر دیا جو مسلسل چلنے والے ہیں اور تمھارے لیے رات اور دن کو مسخر کر دیا۔“ پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی عبادت کے لیے پیدا فرمایا اور نفس انسانی کو بہترین شکل و صورت میں بنا کر اسے نیکی اور بدی کی پہچان بھی کرا دی۔ ہر آدمی ان سب چیزوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھتا اور شعور سے محسوس کرتا ہے۔ اب ظاہر ہے کہ جو شخص ان عظیم الشان مخلوقات کو اور ان کے خالق کے احسانات کے تقاضوں کو مدنظر رکھ کر اپنے آپ کو کفر و شرک اور ظلم و زیادتی سے پاک کر لیتا ہے یقینا وہ اپنا مقصد تخلیق پورا کر دینے کی وجہ سے کامیاب ہے اور جو شخص ان سب چیزوں سے آنکھیں بند کرکے اپنے نفس کو شہوت، غضب اور شرک و کفر کے کیچڑ میں دبا دیتا ہے وہ ناکام ہے۔
وَ الۡقَمَرِ اِذَا تَلٰىہَا ۪ۙ﴿۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور چاند کی قسم جبکہ وہ اُس کے پیچھے آتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
قسم ہے چاند کی جب اس کے پیچھے آئے
احمد رضا خان بریلوی
اور چاند کی جب اس کے پیچھے آئے
علامہ محمد حسین نجفی
اور چاند کی جب وہ اس (سورج) کے پیچھے آئے۔
عبدالسلام بن محمد
اور چاند کی جب وہ اس کے پیچھے آئے!
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کامیابی کے لیے کیا ضروری ہے؟ ٭٭

مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ” «الضُّحَىٰ» سے مراد روشنی ہے۔‏‏‏‏“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”پورا دن مراد ہے۔‏‏‏‏“ امام جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”ٹھیک بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سورج کی اور دن کی قسم کھائی ہے اور چاند جبکہ اس کے پیچھے آئے یعنی سورج چھپ جائے اور چاند چمکنے لگے۔‏‏‏‏“ ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”مہینہ کے پہلے پندرہ دن میں تو چاند سورج کے پیچھے رہتا ہے اور پچھلے پندرہ دنوں میں آگے ہوتا ہے۔‏‏‏‏“ زید بن اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد اس سے لیلۃ القدر ہے۔‏‏‏‏“ پھر دن کی قسم کھائی جبکہ وہ منور ہو جائے یعنی سورج دن کو گھیر لے، بعض عربی دانوں نے یہ بھی کہا ہے کہ دن جبکہ اندھیرے کو روشن کر دے لیکن اگر یوں کہا جاتا کہ پھیلاوٹ کو وہ جب چمکا دے تو اور اچھا ہوتا ہے تاکہ «يَغْشَاهَا» میں بھی یہ معنی ٹھیک بیٹھتے، اسی لیے مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”دن کی قسم جبکہ وہ اسے روشن کر دے“، امام ابن جریر رحمہ اللہ اس قول کو پسند فرماتے ہیں کہ ان سب میں ضمیر «ھَا» کا مرجع «شَّمْسِ» ہے کیونکہ اسی کا ذکر چل رہا ہے، رات جبکہ اسے ڈھانپ لے یعنی سورج کو ڈھانپ لے اور چاروں طرف اندھیرا پھیل جائے۔ یزید بن ذی حمایہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”جب رات آتی ہے تو اللہ تعالیٰ جل جلالہ فرماتا ہے ’ میرے بندوں کو میری ایک بہت بڑی خلق نے چھپا لیا ‘ پس مخلوق رات سے ہیبت کرتی ہے حالانکہ اس کے پیدا کرنے والے سے زیادہ ہیبت کرنی چاہیئے۔ [ابن ابی حاتم] ‏‏‏‏

پھر آسمان کی قسم کھاتا ہے یہاں جو «مَا» ہے یہ مصدر یہ بھی ہو سکتا ہے، یعنی آسمان اور اس کی بناوٹ کی قسم۔ قتادہ رحمہ اللہ کا قول یہی ہے اور یہ «مَا» معنی میں «مَنْ» کے بھی ہو سکتا ہے تو مطلب یہ ہو گا کہ ’ آسمان کی قسم اور اس کے بنانے والے کی قسم ‘، یعنی خود اللہ کی۔ مجاہد رحمہ اللہ یہی فرماتے ہیں یہ دونوں معنی ایک دوسرے کو لازم ملزوم ہیں۔ «بَنا» کے معنی بلندی کے ہیں جیسے اور جگہ ہے «وَالسَّمَاء بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ وَالْأَرْضَ فَرَشْنَاهَا فَنِعْمَ الْمَاهِدُونَ» ۱؎ [51-الذریات:48-47] ‏‏‏‏، یعنی ’ آسمان کو ہم نے قوت کے ساتھ بنایا اور ہم کشادگی والے ہیں ہم نے زمین کو بچھایا اور کیا ہی اچھا ہم بچھانے والے ہیں ‘۔ اس طرح یہاں بھی فرمایا کہ ’ زمین کی اور اس کی ہمواری کی اسے بچھانے، پھیلانے کی اس کی تقسیم کی، اس کی مخلوق کی قسم ‘۔ زیادہ مشہور قول اس کی تفسیر میں پھیلانے کا ہے، اہل لغت کے نزدیک بھی یہی معروف ہے۔ جوہری فرماتے ہیں «طَحَوْتُهٗ» مثل «ودحَوْتُهٗ» کے ہے اور اس کے معنی پھیلانے کے ہیں اکثر مفسرین کا یہی قول ہے۔ پھر فرمایا ’ نفس کی اور اسے ٹھیک ٹھاک بنانے کی قسم ‘ یعنی اسے پیدا کیا اور آنحالیکہ یہ ٹھیک ٹھاک اور فطرت پر قائم تھا۔ جیسے اور جگہ ہے «فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا فِطْرَتَ اللَّـهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّـهِ» ۱؎ [30-الروم:30] ‏‏‏‏، ’ اپنے چہرے کو قائم رکھ دین حنیف کے لیے فطرت ہے، اللہ کی جس پر لوگوں کو بنایا اللہ کی خلق کی تبدیل نہیں ‘۔ حدیث میں ہے { ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا لیتے ہیں جیسے چوپائے جانور کا بچہ صحیح سالم پیدا ہوتا ہے کوئی ان میں کن کٹا نہ پاؤ گے }۔ [صحیح بخاری:1358] ‏‏‏‏

صحیح مسلم شریف کی ایک حدیث میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے اپنے بندے یکسوئی والے پیدا کئے ان کے پاس شیطان پہنچا اور دین سے ورغلا لیا }۔ [صحیح مسلم:2865] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے کہ ’ اللہ نے اس کے لیے بدکاری و پرہیزگاری کو بیان کر دیا اور جو چیز اس کی قسمت میں تھی اس کی طرف اس کی رہبری ہوئی ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”یعنی خیر و شر ظاہر کر دیا۔‏‏‏‏“ ابن جریر میں ہے ابوالاسود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے پوچھا: ذرا بتاؤ تو لوگ جو کچھ اعمال کرتے ہیں اور تکلیفیں اٹھا رہے ہیں یہ کیا ان کے لیے اللہ کی جانب سے مقرر ہو چکی ہیں اور ان کی تقدیر میں لکھی جا چکی ہیں یا یہ خود آئندہ کے لیے اپنے طور پر کر رہے ہیں اس بنا پر کہ انبیاء علیہم السلام ان کے پاس آ چکے اور اللہ کی حجت ان پر پوری ہوئی؟ میں نے جواب میں کہا نہیں نہیں بلکہ یہ چیز پہلے سے فیصل شدہ ہے اور مقدر ہو چکی ہے۔ سیدنا عمران رضی اللہ عنہ نے کہا پھر یہ ظلم تو نہ ہو گا میں تو اسے سن کر کانپ اٹھا اور گھبرا کر کہا کہ ہر چیز کا خالق مالک وہی اللہ ہے تمام ملک اسی کے ہاتھ میں ہے اس کے افعال کی باز پرس کوئی نہیں کر سکتا وہ سب سے سوال کر سکتا ہے میرا یہ جواب سن کر سیدنا عمران رضی اللہ عنہ بہت خوش ہوئے اور کہا اللہ تجھے درستگی عنایت فرمائے میں نے تو یہ سوالات اسی لیے کئے تھے کہ امتحان ہو جائے، سنو ایک شخص مزینہ یا جہینہ قبیلے کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہی سوال کیا جو میں نے پہلے تم سے کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی وہی جواب دیا جو تم نے دیا تو اس نے کہا پھر ہمارے اعمال سے کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواباً ارشاد فرمایا کہ جس کسی کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے جس منزل کے لیے پیدا کیا ہے اس سے ویسے ہی کام ہو کر رہیں گے اگر جنتی ہے تو اعمال جنت اور اگر دوزخی لکھا گیا ہے تو ویسے ہی اعمال اس پر آسان ہوں گے، سنو قرآن میں اس کی تصدیق موجود ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا» ۱؎ [91-الشمس:7،8] ‏‏‏‏ یہ حدیث مسلم شریف میں بھی ہے۔ [صحیح مسلم:2650] ‏‏‏‏

مسند احمد میں بھی ہے کہ { جس نے اپنے نفس کو پاک کیا وہ بامراد ہوا }، یعنی اطاعت رب میں لگا رہا نکمے اعمال رذیل اخلاق چھوڑ دئیے۔ جیسے اور جگہ ہے «دْ أَفْلَحَ مَن تَزَكَّىٰ وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهِ فَصَلَّىٰ» ۱؎ [87-الاعلیٰ:14-15] ‏‏‏‏ ’ جس نے پاکیزگی اختیار کی اور اپنے رب کا نام یاد کیا پھر نماز پڑھی اس نے کامیابی پا لی اور جس نے اپنے ضمیر کا ستیاناس کیا اور ہدایت سے ہٹا کر اسے برباد کیا، نافرمانیوں میں پڑ گیا اطاعت اللہ کو چھوڑ بیٹھا یہ ناکام اور نامراد ہوا ‘۔ اور یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ ’ جس کے نفس کو اللہ تعالیٰ نے پاک کیا اور بامراد ہوا اور جس کے نفس کو اللہ نے نیچے گرا دیا وہ برباد، خائب اور خاسر رہا ‘۔ عوفی اور علی بن ابوطلحہ رحمہ اللہ علیہم سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہی روایت کرتے ہیں، ابن ابی حاتم کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا» پڑھ کر فرمایا کہ جس نفس کو اللہ نے پاک کیا اس نے چھٹکارا پا لیا }۔ لیکن اس حدیث میں ایک علت تو یہ ہے کہ جویبربن سعید متروک الحدیث ہے دوسری علت یہ ہے کہ ضحاک جو عبداللہ سے روایت کرتے ہیں ان کی ملاقات ثابت نہیں۔ طبرانی کی حدیث میں ہے کہ { «فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا» پڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا پڑھی «اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا أَنْتَ وَلِيّهَا وَمَوْلَاهَا وَخَيْر مَنْ زَكَّاهَا» } ۱؎ [طبرانی کبیر:11191:ضعیف] ‏‏‏‏ ابن ابی حاتم کی حدیث میں یہ دعا یوں وارد ہوئی ہے «اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْر مَنْ زَكَّاهَا أَنْتَ وَلِيّهَا وَمَوْلَاهَا» ۔ ۱؎ [ابن ابی عاصم فی السنة:318:ضعیف] ‏‏‏‏ مسند احمد کی حدیث میں ہے { ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رات کو ایک مرتبہ میری آنکھ کھلی میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بستر پر نہیں، اندھیرے کی وجہ سے میں گھر میں اپنے ہاتھوں سے ٹٹولنے لگی تو میرے ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پڑے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت سجدے میں تھے اور یہ دعا پڑھ رہے تھے «رَبّ أَعْطِ نَفْسِي تَقْوَاهَا وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْر مَنْ زَكَّاهَا أَنْتَ وَلِيّهَا وَمَوْلَاهَا» } یہ حدیث صرف مسند احمد میں ہی ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:209/6:ضعیف] ‏‏‏‏

مسلم شریف اور مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگتے تھے «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذ بِك مِنْ الْعَجْز وَالْكَسَل وَالْهَرَم وَالْجُبْن وَالْبُخْل وَعَذَاب الْقَبْر اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْر مَنْ زَكَّاهَا أَنْتَ وَلِيّهَا وَمَوْلَاهَا اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذ بِك مِنْ قَلْب لَا يَخْشَع وَمِنْ نَفْس لَا تَشْبَع وَعِلْم لَا يَنْفَع وَدَعْوَة لَا يُسْتَجَاب لَهَا» یا اللہ! میں عاجزی، بیچارگی، سستی، تھکاوٹ، بڑھاپے، نامردی سے اور بخیلی اور عذاب قبر سے تیری پناہ چاہتا ہوں، اے اللہ میرے دل کو اس کا تقویٰ عطا فرما اور اسے پاک کر دے تو ہی اسے بہتر پاک کرنے والا ہے تو ہی اس کا والی اور مولیٰ ہے۔ اے اللہ! مجھے ایسے دل سے بچا جس میں تیرا ڈر نہ ہو اور ایسے نفس سے بچا جو آسودہ نہ ہو اور ایسے علم سے بچا جو نفع نہ دے اور ایسی دعا سے بچا جو قبول نہ کی جائے }۔ راوی حدیث میں زید بن ارقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ دعا سکھائی اور ہم تمہیں سکھاتے ہیں۔ [صحیح مسلم:2722] ‏‏‏‏
2۔ 1۔ یعنی جب سورج غروب ہونے کے بعد وہ طلوع ہو، جیسا کہ پہلے نصف مہینہ میں ایسا ہوتا ہے۔
(آیت 2) {وَ الْقَمَرِ اِذَا تَلٰىهَا: ”تَلاَ يَتْلُوْ“} (ن) پیچھے آنا۔ اور چاند کی قسم جب وہ سورج کے پیچھے آتا ہے! یعنی سورج غروب ہونے کے بعد جب چاند کی روشنی پھیلتی ہے۔
وَ النَّہَارِ اِذَا جَلّٰىہَا ۪ۙ﴿۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور دن کی قسم جبکہ وہ (سورج کو) نمایاں کر دیتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
قسم ہے دن کی جب سورج کو نمایاں کرے
احمد رضا خان بریلوی
اور دن کی جب اسے چمکائے
علامہ محمد حسین نجفی
دن کی جب وہ اس (سورج) کو خوب روشن کر دے۔
عبدالسلام بن محمد
اور دن کی جب وہ اس ( سورج) کو ظاہر کر دے!
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کامیابی کے لیے کیا ضروری ہے؟ ٭٭

مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ” «الضُّحَىٰ» سے مراد روشنی ہے۔‏‏‏‏“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”پورا دن مراد ہے۔‏‏‏‏“ امام جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”ٹھیک بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سورج کی اور دن کی قسم کھائی ہے اور چاند جبکہ اس کے پیچھے آئے یعنی سورج چھپ جائے اور چاند چمکنے لگے۔‏‏‏‏“ ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”مہینہ کے پہلے پندرہ دن میں تو چاند سورج کے پیچھے رہتا ہے اور پچھلے پندرہ دنوں میں آگے ہوتا ہے۔‏‏‏‏“ زید بن اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد اس سے لیلۃ القدر ہے۔‏‏‏‏“ پھر دن کی قسم کھائی جبکہ وہ منور ہو جائے یعنی سورج دن کو گھیر لے، بعض عربی دانوں نے یہ بھی کہا ہے کہ دن جبکہ اندھیرے کو روشن کر دے لیکن اگر یوں کہا جاتا کہ پھیلاوٹ کو وہ جب چمکا دے تو اور اچھا ہوتا ہے تاکہ «يَغْشَاهَا» میں بھی یہ معنی ٹھیک بیٹھتے، اسی لیے مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”دن کی قسم جبکہ وہ اسے روشن کر دے“، امام ابن جریر رحمہ اللہ اس قول کو پسند فرماتے ہیں کہ ان سب میں ضمیر «ھَا» کا مرجع «شَّمْسِ» ہے کیونکہ اسی کا ذکر چل رہا ہے، رات جبکہ اسے ڈھانپ لے یعنی سورج کو ڈھانپ لے اور چاروں طرف اندھیرا پھیل جائے۔ یزید بن ذی حمایہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”جب رات آتی ہے تو اللہ تعالیٰ جل جلالہ فرماتا ہے ’ میرے بندوں کو میری ایک بہت بڑی خلق نے چھپا لیا ‘ پس مخلوق رات سے ہیبت کرتی ہے حالانکہ اس کے پیدا کرنے والے سے زیادہ ہیبت کرنی چاہیئے۔ [ابن ابی حاتم] ‏‏‏‏

پھر آسمان کی قسم کھاتا ہے یہاں جو «مَا» ہے یہ مصدر یہ بھی ہو سکتا ہے، یعنی آسمان اور اس کی بناوٹ کی قسم۔ قتادہ رحمہ اللہ کا قول یہی ہے اور یہ «مَا» معنی میں «مَنْ» کے بھی ہو سکتا ہے تو مطلب یہ ہو گا کہ ’ آسمان کی قسم اور اس کے بنانے والے کی قسم ‘، یعنی خود اللہ کی۔ مجاہد رحمہ اللہ یہی فرماتے ہیں یہ دونوں معنی ایک دوسرے کو لازم ملزوم ہیں۔ «بَنا» کے معنی بلندی کے ہیں جیسے اور جگہ ہے «وَالسَّمَاء بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ وَالْأَرْضَ فَرَشْنَاهَا فَنِعْمَ الْمَاهِدُونَ» ۱؎ [51-الذریات:48-47] ‏‏‏‏، یعنی ’ آسمان کو ہم نے قوت کے ساتھ بنایا اور ہم کشادگی والے ہیں ہم نے زمین کو بچھایا اور کیا ہی اچھا ہم بچھانے والے ہیں ‘۔ اس طرح یہاں بھی فرمایا کہ ’ زمین کی اور اس کی ہمواری کی اسے بچھانے، پھیلانے کی اس کی تقسیم کی، اس کی مخلوق کی قسم ‘۔ زیادہ مشہور قول اس کی تفسیر میں پھیلانے کا ہے، اہل لغت کے نزدیک بھی یہی معروف ہے۔ جوہری فرماتے ہیں «طَحَوْتُهٗ» مثل «ودحَوْتُهٗ» کے ہے اور اس کے معنی پھیلانے کے ہیں اکثر مفسرین کا یہی قول ہے۔ پھر فرمایا ’ نفس کی اور اسے ٹھیک ٹھاک بنانے کی قسم ‘ یعنی اسے پیدا کیا اور آنحالیکہ یہ ٹھیک ٹھاک اور فطرت پر قائم تھا۔ جیسے اور جگہ ہے «فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا فِطْرَتَ اللَّـهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّـهِ» ۱؎ [30-الروم:30] ‏‏‏‏، ’ اپنے چہرے کو قائم رکھ دین حنیف کے لیے فطرت ہے، اللہ کی جس پر لوگوں کو بنایا اللہ کی خلق کی تبدیل نہیں ‘۔ حدیث میں ہے { ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا لیتے ہیں جیسے چوپائے جانور کا بچہ صحیح سالم پیدا ہوتا ہے کوئی ان میں کن کٹا نہ پاؤ گے }۔ [صحیح بخاری:1358] ‏‏‏‏

صحیح مسلم شریف کی ایک حدیث میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے اپنے بندے یکسوئی والے پیدا کئے ان کے پاس شیطان پہنچا اور دین سے ورغلا لیا }۔ [صحیح مسلم:2865] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے کہ ’ اللہ نے اس کے لیے بدکاری و پرہیزگاری کو بیان کر دیا اور جو چیز اس کی قسمت میں تھی اس کی طرف اس کی رہبری ہوئی ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”یعنی خیر و شر ظاہر کر دیا۔‏‏‏‏“ ابن جریر میں ہے ابوالاسود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے پوچھا: ذرا بتاؤ تو لوگ جو کچھ اعمال کرتے ہیں اور تکلیفیں اٹھا رہے ہیں یہ کیا ان کے لیے اللہ کی جانب سے مقرر ہو چکی ہیں اور ان کی تقدیر میں لکھی جا چکی ہیں یا یہ خود آئندہ کے لیے اپنے طور پر کر رہے ہیں اس بنا پر کہ انبیاء علیہم السلام ان کے پاس آ چکے اور اللہ کی حجت ان پر پوری ہوئی؟ میں نے جواب میں کہا نہیں نہیں بلکہ یہ چیز پہلے سے فیصل شدہ ہے اور مقدر ہو چکی ہے۔ سیدنا عمران رضی اللہ عنہ نے کہا پھر یہ ظلم تو نہ ہو گا میں تو اسے سن کر کانپ اٹھا اور گھبرا کر کہا کہ ہر چیز کا خالق مالک وہی اللہ ہے تمام ملک اسی کے ہاتھ میں ہے اس کے افعال کی باز پرس کوئی نہیں کر سکتا وہ سب سے سوال کر سکتا ہے میرا یہ جواب سن کر سیدنا عمران رضی اللہ عنہ بہت خوش ہوئے اور کہا اللہ تجھے درستگی عنایت فرمائے میں نے تو یہ سوالات اسی لیے کئے تھے کہ امتحان ہو جائے، سنو ایک شخص مزینہ یا جہینہ قبیلے کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہی سوال کیا جو میں نے پہلے تم سے کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی وہی جواب دیا جو تم نے دیا تو اس نے کہا پھر ہمارے اعمال سے کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواباً ارشاد فرمایا کہ جس کسی کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے جس منزل کے لیے پیدا کیا ہے اس سے ویسے ہی کام ہو کر رہیں گے اگر جنتی ہے تو اعمال جنت اور اگر دوزخی لکھا گیا ہے تو ویسے ہی اعمال اس پر آسان ہوں گے، سنو قرآن میں اس کی تصدیق موجود ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا» ۱؎ [91-الشمس:7،8] ‏‏‏‏ یہ حدیث مسلم شریف میں بھی ہے۔ [صحیح مسلم:2650] ‏‏‏‏

مسند احمد میں بھی ہے کہ { جس نے اپنے نفس کو پاک کیا وہ بامراد ہوا }، یعنی اطاعت رب میں لگا رہا نکمے اعمال رذیل اخلاق چھوڑ دئیے۔ جیسے اور جگہ ہے «دْ أَفْلَحَ مَن تَزَكَّىٰ وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهِ فَصَلَّىٰ» ۱؎ [87-الاعلیٰ:14-15] ‏‏‏‏ ’ جس نے پاکیزگی اختیار کی اور اپنے رب کا نام یاد کیا پھر نماز پڑھی اس نے کامیابی پا لی اور جس نے اپنے ضمیر کا ستیاناس کیا اور ہدایت سے ہٹا کر اسے برباد کیا، نافرمانیوں میں پڑ گیا اطاعت اللہ کو چھوڑ بیٹھا یہ ناکام اور نامراد ہوا ‘۔ اور یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ ’ جس کے نفس کو اللہ تعالیٰ نے پاک کیا اور بامراد ہوا اور جس کے نفس کو اللہ نے نیچے گرا دیا وہ برباد، خائب اور خاسر رہا ‘۔ عوفی اور علی بن ابوطلحہ رحمہ اللہ علیہم سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہی روایت کرتے ہیں، ابن ابی حاتم کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا» پڑھ کر فرمایا کہ جس نفس کو اللہ نے پاک کیا اس نے چھٹکارا پا لیا }۔ لیکن اس حدیث میں ایک علت تو یہ ہے کہ جویبربن سعید متروک الحدیث ہے دوسری علت یہ ہے کہ ضحاک جو عبداللہ سے روایت کرتے ہیں ان کی ملاقات ثابت نہیں۔ طبرانی کی حدیث میں ہے کہ { «فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا» پڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا پڑھی «اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا أَنْتَ وَلِيّهَا وَمَوْلَاهَا وَخَيْر مَنْ زَكَّاهَا» } ۱؎ [طبرانی کبیر:11191:ضعیف] ‏‏‏‏ ابن ابی حاتم کی حدیث میں یہ دعا یوں وارد ہوئی ہے «اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْر مَنْ زَكَّاهَا أَنْتَ وَلِيّهَا وَمَوْلَاهَا» ۔ ۱؎ [ابن ابی عاصم فی السنة:318:ضعیف] ‏‏‏‏ مسند احمد کی حدیث میں ہے { ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رات کو ایک مرتبہ میری آنکھ کھلی میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بستر پر نہیں، اندھیرے کی وجہ سے میں گھر میں اپنے ہاتھوں سے ٹٹولنے لگی تو میرے ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پڑے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت سجدے میں تھے اور یہ دعا پڑھ رہے تھے «رَبّ أَعْطِ نَفْسِي تَقْوَاهَا وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْر مَنْ زَكَّاهَا أَنْتَ وَلِيّهَا وَمَوْلَاهَا» } یہ حدیث صرف مسند احمد میں ہی ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:209/6:ضعیف] ‏‏‏‏

مسلم شریف اور مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگتے تھے «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذ بِك مِنْ الْعَجْز وَالْكَسَل وَالْهَرَم وَالْجُبْن وَالْبُخْل وَعَذَاب الْقَبْر اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْر مَنْ زَكَّاهَا أَنْتَ وَلِيّهَا وَمَوْلَاهَا اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذ بِك مِنْ قَلْب لَا يَخْشَع وَمِنْ نَفْس لَا تَشْبَع وَعِلْم لَا يَنْفَع وَدَعْوَة لَا يُسْتَجَاب لَهَا» یا اللہ! میں عاجزی، بیچارگی، سستی، تھکاوٹ، بڑھاپے، نامردی سے اور بخیلی اور عذاب قبر سے تیری پناہ چاہتا ہوں، اے اللہ میرے دل کو اس کا تقویٰ عطا فرما اور اسے پاک کر دے تو ہی اسے بہتر پاک کرنے والا ہے تو ہی اس کا والی اور مولیٰ ہے۔ اے اللہ! مجھے ایسے دل سے بچا جس میں تیرا ڈر نہ ہو اور ایسے نفس سے بچا جو آسودہ نہ ہو اور ایسے علم سے بچا جو نفع نہ دے اور ایسی دعا سے بچا جو قبول نہ کی جائے }۔ راوی حدیث میں زید بن ارقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ دعا سکھائی اور ہم تمہیں سکھاتے ہیں۔ [صحیح مسلم:2722] ‏‏‏‏
3۔ 1 یا تاریکی کو دور کرے، ظلمت کا پہلے ذکر تو نہیں ہے لیکن سیاق اس پر دلالت کرتا ہے۔ (فتح القدیر)
(آیت 3) {وَ النَّهَارِ اِذَا جَلّٰىهَا: ”جَلّٰي يُجَلِّيْ تَجْلِيَةً“} (تفعیل) ظاہر کرنا، روشن کرنا۔ اور دن کی قسم جب وہ اس سورج کو ظاہر کرتا ہے! یعنی جب اس میں سورج پوری روشنی اور گرمی کے ساتھ چمکتا ہے۔
وَ الَّیۡلِ اِذَا یَغۡشٰىہَا ۪ۙ﴿۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور رات کی قسم جبکہ وہ (سورج کو) ڈھانک لیتی ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
قسم ہے رات کی جب اسے ڈھانﭗ لے
احمد رضا خان بریلوی
اور رات کی جب اسے چھپائے
علامہ محمد حسین نجفی
اور رات کی جب کہ وہ اسے ڈھانپ لے۔
عبدالسلام بن محمد
اور رات کی جب وہ اس ( سورج) کو ڈھانپ لے!
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کامیابی کے لیے کیا ضروری ہے؟ ٭٭

مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ” «الضُّحَىٰ» سے مراد روشنی ہے۔‏‏‏‏“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”پورا دن مراد ہے۔‏‏‏‏“ امام جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”ٹھیک بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سورج کی اور دن کی قسم کھائی ہے اور چاند جبکہ اس کے پیچھے آئے یعنی سورج چھپ جائے اور چاند چمکنے لگے۔‏‏‏‏“ ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”مہینہ کے پہلے پندرہ دن میں تو چاند سورج کے پیچھے رہتا ہے اور پچھلے پندرہ دنوں میں آگے ہوتا ہے۔‏‏‏‏“ زید بن اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد اس سے لیلۃ القدر ہے۔‏‏‏‏“ پھر دن کی قسم کھائی جبکہ وہ منور ہو جائے یعنی سورج دن کو گھیر لے، بعض عربی دانوں نے یہ بھی کہا ہے کہ دن جبکہ اندھیرے کو روشن کر دے لیکن اگر یوں کہا جاتا کہ پھیلاوٹ کو وہ جب چمکا دے تو اور اچھا ہوتا ہے تاکہ «يَغْشَاهَا» میں بھی یہ معنی ٹھیک بیٹھتے، اسی لیے مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”دن کی قسم جبکہ وہ اسے روشن کر دے“، امام ابن جریر رحمہ اللہ اس قول کو پسند فرماتے ہیں کہ ان سب میں ضمیر «ھَا» کا مرجع «شَّمْسِ» ہے کیونکہ اسی کا ذکر چل رہا ہے، رات جبکہ اسے ڈھانپ لے یعنی سورج کو ڈھانپ لے اور چاروں طرف اندھیرا پھیل جائے۔ یزید بن ذی حمایہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”جب رات آتی ہے تو اللہ تعالیٰ جل جلالہ فرماتا ہے ’ میرے بندوں کو میری ایک بہت بڑی خلق نے چھپا لیا ‘ پس مخلوق رات سے ہیبت کرتی ہے حالانکہ اس کے پیدا کرنے والے سے زیادہ ہیبت کرنی چاہیئے۔ [ابن ابی حاتم] ‏‏‏‏

پھر آسمان کی قسم کھاتا ہے یہاں جو «مَا» ہے یہ مصدر یہ بھی ہو سکتا ہے، یعنی آسمان اور اس کی بناوٹ کی قسم۔ قتادہ رحمہ اللہ کا قول یہی ہے اور یہ «مَا» معنی میں «مَنْ» کے بھی ہو سکتا ہے تو مطلب یہ ہو گا کہ ’ آسمان کی قسم اور اس کے بنانے والے کی قسم ‘، یعنی خود اللہ کی۔ مجاہد رحمہ اللہ یہی فرماتے ہیں یہ دونوں معنی ایک دوسرے کو لازم ملزوم ہیں۔ «بَنا» کے معنی بلندی کے ہیں جیسے اور جگہ ہے «وَالسَّمَاء بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ وَالْأَرْضَ فَرَشْنَاهَا فَنِعْمَ الْمَاهِدُونَ» ۱؎ [51-الذریات:48-47] ‏‏‏‏، یعنی ’ آسمان کو ہم نے قوت کے ساتھ بنایا اور ہم کشادگی والے ہیں ہم نے زمین کو بچھایا اور کیا ہی اچھا ہم بچھانے والے ہیں ‘۔ اس طرح یہاں بھی فرمایا کہ ’ زمین کی اور اس کی ہمواری کی اسے بچھانے، پھیلانے کی اس کی تقسیم کی، اس کی مخلوق کی قسم ‘۔ زیادہ مشہور قول اس کی تفسیر میں پھیلانے کا ہے، اہل لغت کے نزدیک بھی یہی معروف ہے۔ جوہری فرماتے ہیں «طَحَوْتُهٗ» مثل «ودحَوْتُهٗ» کے ہے اور اس کے معنی پھیلانے کے ہیں اکثر مفسرین کا یہی قول ہے۔ پھر فرمایا ’ نفس کی اور اسے ٹھیک ٹھاک بنانے کی قسم ‘ یعنی اسے پیدا کیا اور آنحالیکہ یہ ٹھیک ٹھاک اور فطرت پر قائم تھا۔ جیسے اور جگہ ہے «فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا فِطْرَتَ اللَّـهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّـهِ» ۱؎ [30-الروم:30] ‏‏‏‏، ’ اپنے چہرے کو قائم رکھ دین حنیف کے لیے فطرت ہے، اللہ کی جس پر لوگوں کو بنایا اللہ کی خلق کی تبدیل نہیں ‘۔ حدیث میں ہے { ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا لیتے ہیں جیسے چوپائے جانور کا بچہ صحیح سالم پیدا ہوتا ہے کوئی ان میں کن کٹا نہ پاؤ گے }۔ [صحیح بخاری:1358] ‏‏‏‏

صحیح مسلم شریف کی ایک حدیث میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے اپنے بندے یکسوئی والے پیدا کئے ان کے پاس شیطان پہنچا اور دین سے ورغلا لیا }۔ [صحیح مسلم:2865] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے کہ ’ اللہ نے اس کے لیے بدکاری و پرہیزگاری کو بیان کر دیا اور جو چیز اس کی قسمت میں تھی اس کی طرف اس کی رہبری ہوئی ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”یعنی خیر و شر ظاہر کر دیا۔‏‏‏‏“ ابن جریر میں ہے ابوالاسود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے پوچھا: ذرا بتاؤ تو لوگ جو کچھ اعمال کرتے ہیں اور تکلیفیں اٹھا رہے ہیں یہ کیا ان کے لیے اللہ کی جانب سے مقرر ہو چکی ہیں اور ان کی تقدیر میں لکھی جا چکی ہیں یا یہ خود آئندہ کے لیے اپنے طور پر کر رہے ہیں اس بنا پر کہ انبیاء علیہم السلام ان کے پاس آ چکے اور اللہ کی حجت ان پر پوری ہوئی؟ میں نے جواب میں کہا نہیں نہیں بلکہ یہ چیز پہلے سے فیصل شدہ ہے اور مقدر ہو چکی ہے۔ سیدنا عمران رضی اللہ عنہ نے کہا پھر یہ ظلم تو نہ ہو گا میں تو اسے سن کر کانپ اٹھا اور گھبرا کر کہا کہ ہر چیز کا خالق مالک وہی اللہ ہے تمام ملک اسی کے ہاتھ میں ہے اس کے افعال کی باز پرس کوئی نہیں کر سکتا وہ سب سے سوال کر سکتا ہے میرا یہ جواب سن کر سیدنا عمران رضی اللہ عنہ بہت خوش ہوئے اور کہا اللہ تجھے درستگی عنایت فرمائے میں نے تو یہ سوالات اسی لیے کئے تھے کہ امتحان ہو جائے، سنو ایک شخص مزینہ یا جہینہ قبیلے کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہی سوال کیا جو میں نے پہلے تم سے کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی وہی جواب دیا جو تم نے دیا تو اس نے کہا پھر ہمارے اعمال سے کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواباً ارشاد فرمایا کہ جس کسی کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے جس منزل کے لیے پیدا کیا ہے اس سے ویسے ہی کام ہو کر رہیں گے اگر جنتی ہے تو اعمال جنت اور اگر دوزخی لکھا گیا ہے تو ویسے ہی اعمال اس پر آسان ہوں گے، سنو قرآن میں اس کی تصدیق موجود ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا» ۱؎ [91-الشمس:7،8] ‏‏‏‏ یہ حدیث مسلم شریف میں بھی ہے۔ [صحیح مسلم:2650] ‏‏‏‏

مسند احمد میں بھی ہے کہ { جس نے اپنے نفس کو پاک کیا وہ بامراد ہوا }، یعنی اطاعت رب میں لگا رہا نکمے اعمال رذیل اخلاق چھوڑ دئیے۔ جیسے اور جگہ ہے «دْ أَفْلَحَ مَن تَزَكَّىٰ وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهِ فَصَلَّىٰ» ۱؎ [87-الاعلیٰ:14-15] ‏‏‏‏ ’ جس نے پاکیزگی اختیار کی اور اپنے رب کا نام یاد کیا پھر نماز پڑھی اس نے کامیابی پا لی اور جس نے اپنے ضمیر کا ستیاناس کیا اور ہدایت سے ہٹا کر اسے برباد کیا، نافرمانیوں میں پڑ گیا اطاعت اللہ کو چھوڑ بیٹھا یہ ناکام اور نامراد ہوا ‘۔ اور یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ ’ جس کے نفس کو اللہ تعالیٰ نے پاک کیا اور بامراد ہوا اور جس کے نفس کو اللہ نے نیچے گرا دیا وہ برباد، خائب اور خاسر رہا ‘۔ عوفی اور علی بن ابوطلحہ رحمہ اللہ علیہم سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہی روایت کرتے ہیں، ابن ابی حاتم کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا» پڑھ کر فرمایا کہ جس نفس کو اللہ نے پاک کیا اس نے چھٹکارا پا لیا }۔ لیکن اس حدیث میں ایک علت تو یہ ہے کہ جویبربن سعید متروک الحدیث ہے دوسری علت یہ ہے کہ ضحاک جو عبداللہ سے روایت کرتے ہیں ان کی ملاقات ثابت نہیں۔ طبرانی کی حدیث میں ہے کہ { «فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا» پڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا پڑھی «اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا أَنْتَ وَلِيّهَا وَمَوْلَاهَا وَخَيْر مَنْ زَكَّاهَا» } ۱؎ [طبرانی کبیر:11191:ضعیف] ‏‏‏‏ ابن ابی حاتم کی حدیث میں یہ دعا یوں وارد ہوئی ہے «اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْر مَنْ زَكَّاهَا أَنْتَ وَلِيّهَا وَمَوْلَاهَا» ۔ ۱؎ [ابن ابی عاصم فی السنة:318:ضعیف] ‏‏‏‏ مسند احمد کی حدیث میں ہے { ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رات کو ایک مرتبہ میری آنکھ کھلی میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بستر پر نہیں، اندھیرے کی وجہ سے میں گھر میں اپنے ہاتھوں سے ٹٹولنے لگی تو میرے ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پڑے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت سجدے میں تھے اور یہ دعا پڑھ رہے تھے «رَبّ أَعْطِ نَفْسِي تَقْوَاهَا وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْر مَنْ زَكَّاهَا أَنْتَ وَلِيّهَا وَمَوْلَاهَا» } یہ حدیث صرف مسند احمد میں ہی ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:209/6:ضعیف] ‏‏‏‏

مسلم شریف اور مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگتے تھے «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذ بِك مِنْ الْعَجْز وَالْكَسَل وَالْهَرَم وَالْجُبْن وَالْبُخْل وَعَذَاب الْقَبْر اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْر مَنْ زَكَّاهَا أَنْتَ وَلِيّهَا وَمَوْلَاهَا اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذ بِك مِنْ قَلْب لَا يَخْشَع وَمِنْ نَفْس لَا تَشْبَع وَعِلْم لَا يَنْفَع وَدَعْوَة لَا يُسْتَجَاب لَهَا» یا اللہ! میں عاجزی، بیچارگی، سستی، تھکاوٹ، بڑھاپے، نامردی سے اور بخیلی اور عذاب قبر سے تیری پناہ چاہتا ہوں، اے اللہ میرے دل کو اس کا تقویٰ عطا فرما اور اسے پاک کر دے تو ہی اسے بہتر پاک کرنے والا ہے تو ہی اس کا والی اور مولیٰ ہے۔ اے اللہ! مجھے ایسے دل سے بچا جس میں تیرا ڈر نہ ہو اور ایسے نفس سے بچا جو آسودہ نہ ہو اور ایسے علم سے بچا جو نفع نہ دے اور ایسی دعا سے بچا جو قبول نہ کی جائے }۔ راوی حدیث میں زید بن ارقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ دعا سکھائی اور ہم تمہیں سکھاتے ہیں۔ [صحیح مسلم:2722] ‏‏‏‏
4۔ 1۔ یعنی سورج کو ڈھانپ لے اور ہر سمت اندھیرا چھا جائے۔
(آیت 4){ وَ الَّيْلِ اِذَا يَغْشٰىهَا:} جب رات سورج کی روشنی کو مکمل طور پر چھپا کر خوب اندھیری ہو جاتی ہے۔
وَ السَّمَآءِ وَ مَا بَنٰہَا ۪ۙ﴿۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور آسمان کی اور اُس ذات کی قسم جس نے اُسے قائم کیا
مولانا محمد جوناگڑھی
قسم ہے آسمان کی اور اس کے بنانے کی
احمد رضا خان بریلوی
اور آسمان اور اس کے بنانے والے کی قسم،
علامہ محمد حسین نجفی
اور آسمان کی اور اس (ذات) کی جس نے اسے بنایا۔
عبدالسلام بن محمد
اور آسمان کی اور اس ذات کی جس نے اسے بنایا !
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کامیابی کے لیے کیا ضروری ہے؟ ٭٭

مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ” «الضُّحَىٰ» سے مراد روشنی ہے۔‏‏‏‏“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”پورا دن مراد ہے۔‏‏‏‏“ امام جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”ٹھیک بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سورج کی اور دن کی قسم کھائی ہے اور چاند جبکہ اس کے پیچھے آئے یعنی سورج چھپ جائے اور چاند چمکنے لگے۔‏‏‏‏“ ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”مہینہ کے پہلے پندرہ دن میں تو چاند سورج کے پیچھے رہتا ہے اور پچھلے پندرہ دنوں میں آگے ہوتا ہے۔‏‏‏‏“ زید بن اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد اس سے لیلۃ القدر ہے۔‏‏‏‏“ پھر دن کی قسم کھائی جبکہ وہ منور ہو جائے یعنی سورج دن کو گھیر لے، بعض عربی دانوں نے یہ بھی کہا ہے کہ دن جبکہ اندھیرے کو روشن کر دے لیکن اگر یوں کہا جاتا کہ پھیلاوٹ کو وہ جب چمکا دے تو اور اچھا ہوتا ہے تاکہ «يَغْشَاهَا» میں بھی یہ معنی ٹھیک بیٹھتے، اسی لیے مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”دن کی قسم جبکہ وہ اسے روشن کر دے“، امام ابن جریر رحمہ اللہ اس قول کو پسند فرماتے ہیں کہ ان سب میں ضمیر «ھَا» کا مرجع «شَّمْسِ» ہے کیونکہ اسی کا ذکر چل رہا ہے، رات جبکہ اسے ڈھانپ لے یعنی سورج کو ڈھانپ لے اور چاروں طرف اندھیرا پھیل جائے۔ یزید بن ذی حمایہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”جب رات آتی ہے تو اللہ تعالیٰ جل جلالہ فرماتا ہے ’ میرے بندوں کو میری ایک بہت بڑی خلق نے چھپا لیا ‘ پس مخلوق رات سے ہیبت کرتی ہے حالانکہ اس کے پیدا کرنے والے سے زیادہ ہیبت کرنی چاہیئے۔ [ابن ابی حاتم] ‏‏‏‏

پھر آسمان کی قسم کھاتا ہے یہاں جو «مَا» ہے یہ مصدر یہ بھی ہو سکتا ہے، یعنی آسمان اور اس کی بناوٹ کی قسم۔ قتادہ رحمہ اللہ کا قول یہی ہے اور یہ «مَا» معنی میں «مَنْ» کے بھی ہو سکتا ہے تو مطلب یہ ہو گا کہ ’ آسمان کی قسم اور اس کے بنانے والے کی قسم ‘، یعنی خود اللہ کی۔ مجاہد رحمہ اللہ یہی فرماتے ہیں یہ دونوں معنی ایک دوسرے کو لازم ملزوم ہیں۔ «بَنا» کے معنی بلندی کے ہیں جیسے اور جگہ ہے «وَالسَّمَاء بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ وَالْأَرْضَ فَرَشْنَاهَا فَنِعْمَ الْمَاهِدُونَ» ۱؎ [51-الذریات:48-47] ‏‏‏‏، یعنی ’ آسمان کو ہم نے قوت کے ساتھ بنایا اور ہم کشادگی والے ہیں ہم نے زمین کو بچھایا اور کیا ہی اچھا ہم بچھانے والے ہیں ‘۔ اس طرح یہاں بھی فرمایا کہ ’ زمین کی اور اس کی ہمواری کی اسے بچھانے، پھیلانے کی اس کی تقسیم کی، اس کی مخلوق کی قسم ‘۔ زیادہ مشہور قول اس کی تفسیر میں پھیلانے کا ہے، اہل لغت کے نزدیک بھی یہی معروف ہے۔ جوہری فرماتے ہیں «طَحَوْتُهٗ» مثل «ودحَوْتُهٗ» کے ہے اور اس کے معنی پھیلانے کے ہیں اکثر مفسرین کا یہی قول ہے۔ پھر فرمایا ’ نفس کی اور اسے ٹھیک ٹھاک بنانے کی قسم ‘ یعنی اسے پیدا کیا اور آنحالیکہ یہ ٹھیک ٹھاک اور فطرت پر قائم تھا۔ جیسے اور جگہ ہے «فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا فِطْرَتَ اللَّـهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّـهِ» ۱؎ [30-الروم:30] ‏‏‏‏، ’ اپنے چہرے کو قائم رکھ دین حنیف کے لیے فطرت ہے، اللہ کی جس پر لوگوں کو بنایا اللہ کی خلق کی تبدیل نہیں ‘۔ حدیث میں ہے { ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا لیتے ہیں جیسے چوپائے جانور کا بچہ صحیح سالم پیدا ہوتا ہے کوئی ان میں کن کٹا نہ پاؤ گے }۔ [صحیح بخاری:1358] ‏‏‏‏

صحیح مسلم شریف کی ایک حدیث میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے اپنے بندے یکسوئی والے پیدا کئے ان کے پاس شیطان پہنچا اور دین سے ورغلا لیا }۔ [صحیح مسلم:2865] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے کہ ’ اللہ نے اس کے لیے بدکاری و پرہیزگاری کو بیان کر دیا اور جو چیز اس کی قسمت میں تھی اس کی طرف اس کی رہبری ہوئی ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”یعنی خیر و شر ظاہر کر دیا۔‏‏‏‏“ ابن جریر میں ہے ابوالاسود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے پوچھا: ذرا بتاؤ تو لوگ جو کچھ اعمال کرتے ہیں اور تکلیفیں اٹھا رہے ہیں یہ کیا ان کے لیے اللہ کی جانب سے مقرر ہو چکی ہیں اور ان کی تقدیر میں لکھی جا چکی ہیں یا یہ خود آئندہ کے لیے اپنے طور پر کر رہے ہیں اس بنا پر کہ انبیاء علیہم السلام ان کے پاس آ چکے اور اللہ کی حجت ان پر پوری ہوئی؟ میں نے جواب میں کہا نہیں نہیں بلکہ یہ چیز پہلے سے فیصل شدہ ہے اور مقدر ہو چکی ہے۔ سیدنا عمران رضی اللہ عنہ نے کہا پھر یہ ظلم تو نہ ہو گا میں تو اسے سن کر کانپ اٹھا اور گھبرا کر کہا کہ ہر چیز کا خالق مالک وہی اللہ ہے تمام ملک اسی کے ہاتھ میں ہے اس کے افعال کی باز پرس کوئی نہیں کر سکتا وہ سب سے سوال کر سکتا ہے میرا یہ جواب سن کر سیدنا عمران رضی اللہ عنہ بہت خوش ہوئے اور کہا اللہ تجھے درستگی عنایت فرمائے میں نے تو یہ سوالات اسی لیے کئے تھے کہ امتحان ہو جائے، سنو ایک شخص مزینہ یا جہینہ قبیلے کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہی سوال کیا جو میں نے پہلے تم سے کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی وہی جواب دیا جو تم نے دیا تو اس نے کہا پھر ہمارے اعمال سے کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواباً ارشاد فرمایا کہ جس کسی کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے جس منزل کے لیے پیدا کیا ہے اس سے ویسے ہی کام ہو کر رہیں گے اگر جنتی ہے تو اعمال جنت اور اگر دوزخی لکھا گیا ہے تو ویسے ہی اعمال اس پر آسان ہوں گے، سنو قرآن میں اس کی تصدیق موجود ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا» ۱؎ [91-الشمس:7،8] ‏‏‏‏ یہ حدیث مسلم شریف میں بھی ہے۔ [صحیح مسلم:2650] ‏‏‏‏

مسند احمد میں بھی ہے کہ { جس نے اپنے نفس کو پاک کیا وہ بامراد ہوا }، یعنی اطاعت رب میں لگا رہا نکمے اعمال رذیل اخلاق چھوڑ دئیے۔ جیسے اور جگہ ہے «دْ أَفْلَحَ مَن تَزَكَّىٰ وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهِ فَصَلَّىٰ» ۱؎ [87-الاعلیٰ:14-15] ‏‏‏‏ ’ جس نے پاکیزگی اختیار کی اور اپنے رب کا نام یاد کیا پھر نماز پڑھی اس نے کامیابی پا لی اور جس نے اپنے ضمیر کا ستیاناس کیا اور ہدایت سے ہٹا کر اسے برباد کیا، نافرمانیوں میں پڑ گیا اطاعت اللہ کو چھوڑ بیٹھا یہ ناکام اور نامراد ہوا ‘۔ اور یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ ’ جس کے نفس کو اللہ تعالیٰ نے پاک کیا اور بامراد ہوا اور جس کے نفس کو اللہ نے نیچے گرا دیا وہ برباد، خائب اور خاسر رہا ‘۔ عوفی اور علی بن ابوطلحہ رحمہ اللہ علیہم سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہی روایت کرتے ہیں، ابن ابی حاتم کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا» پڑھ کر فرمایا کہ جس نفس کو اللہ نے پاک کیا اس نے چھٹکارا پا لیا }۔ لیکن اس حدیث میں ایک علت تو یہ ہے کہ جویبربن سعید متروک الحدیث ہے دوسری علت یہ ہے کہ ضحاک جو عبداللہ سے روایت کرتے ہیں ان کی ملاقات ثابت نہیں۔ طبرانی کی حدیث میں ہے کہ { «فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا» پڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا پڑھی «اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا أَنْتَ وَلِيّهَا وَمَوْلَاهَا وَخَيْر مَنْ زَكَّاهَا» } ۱؎ [طبرانی کبیر:11191:ضعیف] ‏‏‏‏ ابن ابی حاتم کی حدیث میں یہ دعا یوں وارد ہوئی ہے «اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْر مَنْ زَكَّاهَا أَنْتَ وَلِيّهَا وَمَوْلَاهَا» ۔ ۱؎ [ابن ابی عاصم فی السنة:318:ضعیف] ‏‏‏‏ مسند احمد کی حدیث میں ہے { ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رات کو ایک مرتبہ میری آنکھ کھلی میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بستر پر نہیں، اندھیرے کی وجہ سے میں گھر میں اپنے ہاتھوں سے ٹٹولنے لگی تو میرے ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پڑے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت سجدے میں تھے اور یہ دعا پڑھ رہے تھے «رَبّ أَعْطِ نَفْسِي تَقْوَاهَا وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْر مَنْ زَكَّاهَا أَنْتَ وَلِيّهَا وَمَوْلَاهَا» } یہ حدیث صرف مسند احمد میں ہی ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:209/6:ضعیف] ‏‏‏‏

مسلم شریف اور مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگتے تھے «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذ بِك مِنْ الْعَجْز وَالْكَسَل وَالْهَرَم وَالْجُبْن وَالْبُخْل وَعَذَاب الْقَبْر اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْر مَنْ زَكَّاهَا أَنْتَ وَلِيّهَا وَمَوْلَاهَا اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذ بِك مِنْ قَلْب لَا يَخْشَع وَمِنْ نَفْس لَا تَشْبَع وَعِلْم لَا يَنْفَع وَدَعْوَة لَا يُسْتَجَاب لَهَا» یا اللہ! میں عاجزی، بیچارگی، سستی، تھکاوٹ، بڑھاپے، نامردی سے اور بخیلی اور عذاب قبر سے تیری پناہ چاہتا ہوں، اے اللہ میرے دل کو اس کا تقویٰ عطا فرما اور اسے پاک کر دے تو ہی اسے بہتر پاک کرنے والا ہے تو ہی اس کا والی اور مولیٰ ہے۔ اے اللہ! مجھے ایسے دل سے بچا جس میں تیرا ڈر نہ ہو اور ایسے نفس سے بچا جو آسودہ نہ ہو اور ایسے علم سے بچا جو نفع نہ دے اور ایسی دعا سے بچا جو قبول نہ کی جائے }۔ راوی حدیث میں زید بن ارقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ دعا سکھائی اور ہم تمہیں سکھاتے ہیں۔ [صحیح مسلم:2722] ‏‏‏‏
5۔ 1 یا اس ذات کی جسے اس نے بنایا۔
(آیت 5) {وَ السَّمَآءِ وَ مَا بَنٰىهَا: ”بَنٰي يَبْنِيْ بِنَاءً“} (ض) بنانا۔ واضح رہے کہ عام طور پر {”مَنْ“} علم والوں، مثلاً اللہ تعالیٰ، فرشتوں اور انسانوں کے لیے آتا ہے، جبکہ{”مَا“} ان کے علاوہ کے لیے آتا ہے، مگر بعض اوقات کسی خاص مقصد کی وجہ سے اس کا الٹ بھی ہو جاتا ہے اور {”مَا“} علم والوں کے لیے بھی آجاتا ہے، جیسا کہ {” مَا “} یہاں اللہ تعالیٰ کے لیے استعمال ہوا ہے۔ یعنی اور قسم ہے آسمان کی اور اس ذات کی جس نے اسے بنایا! یہاں {”مَنْ“} کے بجائے {” مَا “} اس لیے لایا گیا ہے کہ وہ یہاں {”اَلَّذِيْ“} کے معنی میں ہے اور اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی صفات بیان کی گئی ہیں۔ قرآن مجید میں {” مَا “} کا لفظ علم والوں کے لیے متعدد مقامات پر آیا ہے، مثلاً: «‏‏‏‏وَ لَاۤ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَاۤ اَعْبُدُ» [ الکافرون: ۳ ] ”اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی میں عبادت کرتا ہوں۔“ اور فرمایا: «فَانْكِحُوْا مَا طَابَ لَكُمْ مِّنَ النِّسَآءِ» ‏‏‏‏ [ النساء: ۳ ] ”سو عورتوں میں سے جو تمھیں پسند ہوں ان سے نکاح کرلو۔“
وَ الۡاَرۡضِ وَ مَا طَحٰہَا ۪ۙ﴿۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور زمین کی اور اُس ذات کی قسم جس نے اُسے بچھایا
مولانا محمد جوناگڑھی
قسم ہے زمین کی اور اسے ہموار کرنے کی
احمد رضا خان بریلوی
اور زمین اور اس کے پھیلانے والے کی قسم،
علامہ محمد حسین نجفی
اور زمین کی اور جس نے اسے بچھایا۔
عبدالسلام بن محمد
اور زمین کی اور اس ذات کی جس نے اسے بچھایا !
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کامیابی کے لیے کیا ضروری ہے؟ ٭٭

مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ” «الضُّحَىٰ» سے مراد روشنی ہے۔‏‏‏‏“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”پورا دن مراد ہے۔‏‏‏‏“ امام جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”ٹھیک بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سورج کی اور دن کی قسم کھائی ہے اور چاند جبکہ اس کے پیچھے آئے یعنی سورج چھپ جائے اور چاند چمکنے لگے۔‏‏‏‏“ ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”مہینہ کے پہلے پندرہ دن میں تو چاند سورج کے پیچھے رہتا ہے اور پچھلے پندرہ دنوں میں آگے ہوتا ہے۔‏‏‏‏“ زید بن اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد اس سے لیلۃ القدر ہے۔‏‏‏‏“ پھر دن کی قسم کھائی جبکہ وہ منور ہو جائے یعنی سورج دن کو گھیر لے، بعض عربی دانوں نے یہ بھی کہا ہے کہ دن جبکہ اندھیرے کو روشن کر دے لیکن اگر یوں کہا جاتا کہ پھیلاوٹ کو وہ جب چمکا دے تو اور اچھا ہوتا ہے تاکہ «يَغْشَاهَا» میں بھی یہ معنی ٹھیک بیٹھتے، اسی لیے مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”دن کی قسم جبکہ وہ اسے روشن کر دے“، امام ابن جریر رحمہ اللہ اس قول کو پسند فرماتے ہیں کہ ان سب میں ضمیر «ھَا» کا مرجع «شَّمْسِ» ہے کیونکہ اسی کا ذکر چل رہا ہے، رات جبکہ اسے ڈھانپ لے یعنی سورج کو ڈھانپ لے اور چاروں طرف اندھیرا پھیل جائے۔ یزید بن ذی حمایہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”جب رات آتی ہے تو اللہ تعالیٰ جل جلالہ فرماتا ہے ’ میرے بندوں کو میری ایک بہت بڑی خلق نے چھپا لیا ‘ پس مخلوق رات سے ہیبت کرتی ہے حالانکہ اس کے پیدا کرنے والے سے زیادہ ہیبت کرنی چاہیئے۔ [ابن ابی حاتم] ‏‏‏‏

پھر آسمان کی قسم کھاتا ہے یہاں جو «مَا» ہے یہ مصدر یہ بھی ہو سکتا ہے، یعنی آسمان اور اس کی بناوٹ کی قسم۔ قتادہ رحمہ اللہ کا قول یہی ہے اور یہ «مَا» معنی میں «مَنْ» کے بھی ہو سکتا ہے تو مطلب یہ ہو گا کہ ’ آسمان کی قسم اور اس کے بنانے والے کی قسم ‘، یعنی خود اللہ کی۔ مجاہد رحمہ اللہ یہی فرماتے ہیں یہ دونوں معنی ایک دوسرے کو لازم ملزوم ہیں۔ «بَنا» کے معنی بلندی کے ہیں جیسے اور جگہ ہے «وَالسَّمَاء بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ وَالْأَرْضَ فَرَشْنَاهَا فَنِعْمَ الْمَاهِدُونَ» ۱؎ [51-الذریات:48-47] ‏‏‏‏، یعنی ’ آسمان کو ہم نے قوت کے ساتھ بنایا اور ہم کشادگی والے ہیں ہم نے زمین کو بچھایا اور کیا ہی اچھا ہم بچھانے والے ہیں ‘۔ اس طرح یہاں بھی فرمایا کہ ’ زمین کی اور اس کی ہمواری کی اسے بچھانے، پھیلانے کی اس کی تقسیم کی، اس کی مخلوق کی قسم ‘۔ زیادہ مشہور قول اس کی تفسیر میں پھیلانے کا ہے، اہل لغت کے نزدیک بھی یہی معروف ہے۔ جوہری فرماتے ہیں «طَحَوْتُهٗ» مثل «ودحَوْتُهٗ» کے ہے اور اس کے معنی پھیلانے کے ہیں اکثر مفسرین کا یہی قول ہے۔ پھر فرمایا ’ نفس کی اور اسے ٹھیک ٹھاک بنانے کی قسم ‘ یعنی اسے پیدا کیا اور آنحالیکہ یہ ٹھیک ٹھاک اور فطرت پر قائم تھا۔ جیسے اور جگہ ہے «فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا فِطْرَتَ اللَّـهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّـهِ» ۱؎ [30-الروم:30] ‏‏‏‏، ’ اپنے چہرے کو قائم رکھ دین حنیف کے لیے فطرت ہے، اللہ کی جس پر لوگوں کو بنایا اللہ کی خلق کی تبدیل نہیں ‘۔ حدیث میں ہے { ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا لیتے ہیں جیسے چوپائے جانور کا بچہ صحیح سالم پیدا ہوتا ہے کوئی ان میں کن کٹا نہ پاؤ گے }۔ [صحیح بخاری:1358] ‏‏‏‏

صحیح مسلم شریف کی ایک حدیث میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے اپنے بندے یکسوئی والے پیدا کئے ان کے پاس شیطان پہنچا اور دین سے ورغلا لیا }۔ [صحیح مسلم:2865] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے کہ ’ اللہ نے اس کے لیے بدکاری و پرہیزگاری کو بیان کر دیا اور جو چیز اس کی قسمت میں تھی اس کی طرف اس کی رہبری ہوئی ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”یعنی خیر و شر ظاہر کر دیا۔‏‏‏‏“ ابن جریر میں ہے ابوالاسود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے پوچھا: ذرا بتاؤ تو لوگ جو کچھ اعمال کرتے ہیں اور تکلیفیں اٹھا رہے ہیں یہ کیا ان کے لیے اللہ کی جانب سے مقرر ہو چکی ہیں اور ان کی تقدیر میں لکھی جا چکی ہیں یا یہ خود آئندہ کے لیے اپنے طور پر کر رہے ہیں اس بنا پر کہ انبیاء علیہم السلام ان کے پاس آ چکے اور اللہ کی حجت ان پر پوری ہوئی؟ میں نے جواب میں کہا نہیں نہیں بلکہ یہ چیز پہلے سے فیصل شدہ ہے اور مقدر ہو چکی ہے۔ سیدنا عمران رضی اللہ عنہ نے کہا پھر یہ ظلم تو نہ ہو گا میں تو اسے سن کر کانپ اٹھا اور گھبرا کر کہا کہ ہر چیز کا خالق مالک وہی اللہ ہے تمام ملک اسی کے ہاتھ میں ہے اس کے افعال کی باز پرس کوئی نہیں کر سکتا وہ سب سے سوال کر سکتا ہے میرا یہ جواب سن کر سیدنا عمران رضی اللہ عنہ بہت خوش ہوئے اور کہا اللہ تجھے درستگی عنایت فرمائے میں نے تو یہ سوالات اسی لیے کئے تھے کہ امتحان ہو جائے، سنو ایک شخص مزینہ یا جہینہ قبیلے کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہی سوال کیا جو میں نے پہلے تم سے کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی وہی جواب دیا جو تم نے دیا تو اس نے کہا پھر ہمارے اعمال سے کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواباً ارشاد فرمایا کہ جس کسی کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے جس منزل کے لیے پیدا کیا ہے اس سے ویسے ہی کام ہو کر رہیں گے اگر جنتی ہے تو اعمال جنت اور اگر دوزخی لکھا گیا ہے تو ویسے ہی اعمال اس پر آسان ہوں گے، سنو قرآن میں اس کی تصدیق موجود ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا» ۱؎ [91-الشمس:7،8] ‏‏‏‏ یہ حدیث مسلم شریف میں بھی ہے۔ [صحیح مسلم:2650] ‏‏‏‏

مسند احمد میں بھی ہے کہ { جس نے اپنے نفس کو پاک کیا وہ بامراد ہوا }، یعنی اطاعت رب میں لگا رہا نکمے اعمال رذیل اخلاق چھوڑ دئیے۔ جیسے اور جگہ ہے «دْ أَفْلَحَ مَن تَزَكَّىٰ وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهِ فَصَلَّىٰ» ۱؎ [87-الاعلیٰ:14-15] ‏‏‏‏ ’ جس نے پاکیزگی اختیار کی اور اپنے رب کا نام یاد کیا پھر نماز پڑھی اس نے کامیابی پا لی اور جس نے اپنے ضمیر کا ستیاناس کیا اور ہدایت سے ہٹا کر اسے برباد کیا، نافرمانیوں میں پڑ گیا اطاعت اللہ کو چھوڑ بیٹھا یہ ناکام اور نامراد ہوا ‘۔ اور یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ ’ جس کے نفس کو اللہ تعالیٰ نے پاک کیا اور بامراد ہوا اور جس کے نفس کو اللہ نے نیچے گرا دیا وہ برباد، خائب اور خاسر رہا ‘۔ عوفی اور علی بن ابوطلحہ رحمہ اللہ علیہم سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہی روایت کرتے ہیں، ابن ابی حاتم کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا» پڑھ کر فرمایا کہ جس نفس کو اللہ نے پاک کیا اس نے چھٹکارا پا لیا }۔ لیکن اس حدیث میں ایک علت تو یہ ہے کہ جویبربن سعید متروک الحدیث ہے دوسری علت یہ ہے کہ ضحاک جو عبداللہ سے روایت کرتے ہیں ان کی ملاقات ثابت نہیں۔ طبرانی کی حدیث میں ہے کہ { «فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا» پڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا پڑھی «اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا أَنْتَ وَلِيّهَا وَمَوْلَاهَا وَخَيْر مَنْ زَكَّاهَا» } ۱؎ [طبرانی کبیر:11191:ضعیف] ‏‏‏‏ ابن ابی حاتم کی حدیث میں یہ دعا یوں وارد ہوئی ہے «اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْر مَنْ زَكَّاهَا أَنْتَ وَلِيّهَا وَمَوْلَاهَا» ۔ ۱؎ [ابن ابی عاصم فی السنة:318:ضعیف] ‏‏‏‏ مسند احمد کی حدیث میں ہے { ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رات کو ایک مرتبہ میری آنکھ کھلی میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بستر پر نہیں، اندھیرے کی وجہ سے میں گھر میں اپنے ہاتھوں سے ٹٹولنے لگی تو میرے ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پڑے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت سجدے میں تھے اور یہ دعا پڑھ رہے تھے «رَبّ أَعْطِ نَفْسِي تَقْوَاهَا وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْر مَنْ زَكَّاهَا أَنْتَ وَلِيّهَا وَمَوْلَاهَا» } یہ حدیث صرف مسند احمد میں ہی ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:209/6:ضعیف] ‏‏‏‏

مسلم شریف اور مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگتے تھے «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذ بِك مِنْ الْعَجْز وَالْكَسَل وَالْهَرَم وَالْجُبْن وَالْبُخْل وَعَذَاب الْقَبْر اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْر مَنْ زَكَّاهَا أَنْتَ وَلِيّهَا وَمَوْلَاهَا اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذ بِك مِنْ قَلْب لَا يَخْشَع وَمِنْ نَفْس لَا تَشْبَع وَعِلْم لَا يَنْفَع وَدَعْوَة لَا يُسْتَجَاب لَهَا» یا اللہ! میں عاجزی، بیچارگی، سستی، تھکاوٹ، بڑھاپے، نامردی سے اور بخیلی اور عذاب قبر سے تیری پناہ چاہتا ہوں، اے اللہ میرے دل کو اس کا تقویٰ عطا فرما اور اسے پاک کر دے تو ہی اسے بہتر پاک کرنے والا ہے تو ہی اس کا والی اور مولیٰ ہے۔ اے اللہ! مجھے ایسے دل سے بچا جس میں تیرا ڈر نہ ہو اور ایسے نفس سے بچا جو آسودہ نہ ہو اور ایسے علم سے بچا جو نفع نہ دے اور ایسی دعا سے بچا جو قبول نہ کی جائے }۔ راوی حدیث میں زید بن ارقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ دعا سکھائی اور ہم تمہیں سکھاتے ہیں۔ [صحیح مسلم:2722] ‏‏‏‏
6۔ 1 یا جس نے اسے ہموار کیا۔
(آیت 6){ وَ الْاَرْضِ وَ مَا طَحٰىهَا: ”طَحَا يَطْحُوْ طَحْوًا“} (ن) اور {”دَحَا يَدْحُوْ دَحْوًا“} (ن) کا ایک ہی معنی ہے، بچھانا۔ اور زمین کی قسم اور اس ذات کی جس نے اسے بچھایا!
وَ نَفۡسٍ وَّ مَا سَوّٰىہَا ۪ۙ﴿۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور نفس انسانی کی اور اُس ذات کی قسم جس نے اُسے ہموار کیا
مولانا محمد جوناگڑھی
قسم ہے نفس کی اور اسے درست بنانے کی
احمد رضا خان بریلوی
اور جان کی اور اس کی جس نے اسے ٹھیک بنایا
علامہ محمد حسین نجفی
اور انسانی نفس کی اور اس کی جس نے اسے درست بنایا۔
عبدالسلام بن محمد
اور نفس کی اور اس ذات کی جس نے اسے ٹھیک بنایا!
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کامیابی کے لیے کیا ضروری ہے؟ ٭٭

مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ” «الضُّحَىٰ» سے مراد روشنی ہے۔‏‏‏‏“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”پورا دن مراد ہے۔‏‏‏‏“ امام جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”ٹھیک بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سورج کی اور دن کی قسم کھائی ہے اور چاند جبکہ اس کے پیچھے آئے یعنی سورج چھپ جائے اور چاند چمکنے لگے۔‏‏‏‏“ ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”مہینہ کے پہلے پندرہ دن میں تو چاند سورج کے پیچھے رہتا ہے اور پچھلے پندرہ دنوں میں آگے ہوتا ہے۔‏‏‏‏“ زید بن اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد اس سے لیلۃ القدر ہے۔‏‏‏‏“ پھر دن کی قسم کھائی جبکہ وہ منور ہو جائے یعنی سورج دن کو گھیر لے، بعض عربی دانوں نے یہ بھی کہا ہے کہ دن جبکہ اندھیرے کو روشن کر دے لیکن اگر یوں کہا جاتا کہ پھیلاوٹ کو وہ جب چمکا دے تو اور اچھا ہوتا ہے تاکہ «يَغْشَاهَا» میں بھی یہ معنی ٹھیک بیٹھتے، اسی لیے مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”دن کی قسم جبکہ وہ اسے روشن کر دے“، امام ابن جریر رحمہ اللہ اس قول کو پسند فرماتے ہیں کہ ان سب میں ضمیر «ھَا» کا مرجع «شَّمْسِ» ہے کیونکہ اسی کا ذکر چل رہا ہے، رات جبکہ اسے ڈھانپ لے یعنی سورج کو ڈھانپ لے اور چاروں طرف اندھیرا پھیل جائے۔ یزید بن ذی حمایہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”جب رات آتی ہے تو اللہ تعالیٰ جل جلالہ فرماتا ہے ’ میرے بندوں کو میری ایک بہت بڑی خلق نے چھپا لیا ‘ پس مخلوق رات سے ہیبت کرتی ہے حالانکہ اس کے پیدا کرنے والے سے زیادہ ہیبت کرنی چاہیئے۔ [ابن ابی حاتم] ‏‏‏‏

پھر آسمان کی قسم کھاتا ہے یہاں جو «مَا» ہے یہ مصدر یہ بھی ہو سکتا ہے، یعنی آسمان اور اس کی بناوٹ کی قسم۔ قتادہ رحمہ اللہ کا قول یہی ہے اور یہ «مَا» معنی میں «مَنْ» کے بھی ہو سکتا ہے تو مطلب یہ ہو گا کہ ’ آسمان کی قسم اور اس کے بنانے والے کی قسم ‘، یعنی خود اللہ کی۔ مجاہد رحمہ اللہ یہی فرماتے ہیں یہ دونوں معنی ایک دوسرے کو لازم ملزوم ہیں۔ «بَنا» کے معنی بلندی کے ہیں جیسے اور جگہ ہے «وَالسَّمَاء بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ وَالْأَرْضَ فَرَشْنَاهَا فَنِعْمَ الْمَاهِدُونَ» ۱؎ [51-الذریات:48-47] ‏‏‏‏، یعنی ’ آسمان کو ہم نے قوت کے ساتھ بنایا اور ہم کشادگی والے ہیں ہم نے زمین کو بچھایا اور کیا ہی اچھا ہم بچھانے والے ہیں ‘۔ اس طرح یہاں بھی فرمایا کہ ’ زمین کی اور اس کی ہمواری کی اسے بچھانے، پھیلانے کی اس کی تقسیم کی، اس کی مخلوق کی قسم ‘۔ زیادہ مشہور قول اس کی تفسیر میں پھیلانے کا ہے، اہل لغت کے نزدیک بھی یہی معروف ہے۔ جوہری فرماتے ہیں «طَحَوْتُهٗ» مثل «ودحَوْتُهٗ» کے ہے اور اس کے معنی پھیلانے کے ہیں اکثر مفسرین کا یہی قول ہے۔ پھر فرمایا ’ نفس کی اور اسے ٹھیک ٹھاک بنانے کی قسم ‘ یعنی اسے پیدا کیا اور آنحالیکہ یہ ٹھیک ٹھاک اور فطرت پر قائم تھا۔ جیسے اور جگہ ہے «فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا فِطْرَتَ اللَّـهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّـهِ» ۱؎ [30-الروم:30] ‏‏‏‏، ’ اپنے چہرے کو قائم رکھ دین حنیف کے لیے فطرت ہے، اللہ کی جس پر لوگوں کو بنایا اللہ کی خلق کی تبدیل نہیں ‘۔ حدیث میں ہے { ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا لیتے ہیں جیسے چوپائے جانور کا بچہ صحیح سالم پیدا ہوتا ہے کوئی ان میں کن کٹا نہ پاؤ گے }۔ [صحیح بخاری:1358] ‏‏‏‏

صحیح مسلم شریف کی ایک حدیث میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے اپنے بندے یکسوئی والے پیدا کئے ان کے پاس شیطان پہنچا اور دین سے ورغلا لیا }۔ [صحیح مسلم:2865] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے کہ ’ اللہ نے اس کے لیے بدکاری و پرہیزگاری کو بیان کر دیا اور جو چیز اس کی قسمت میں تھی اس کی طرف اس کی رہبری ہوئی ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”یعنی خیر و شر ظاہر کر دیا۔‏‏‏‏“ ابن جریر میں ہے ابوالاسود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے پوچھا: ذرا بتاؤ تو لوگ جو کچھ اعمال کرتے ہیں اور تکلیفیں اٹھا رہے ہیں یہ کیا ان کے لیے اللہ کی جانب سے مقرر ہو چکی ہیں اور ان کی تقدیر میں لکھی جا چکی ہیں یا یہ خود آئندہ کے لیے اپنے طور پر کر رہے ہیں اس بنا پر کہ انبیاء علیہم السلام ان کے پاس آ چکے اور اللہ کی حجت ان پر پوری ہوئی؟ میں نے جواب میں کہا نہیں نہیں بلکہ یہ چیز پہلے سے فیصل شدہ ہے اور مقدر ہو چکی ہے۔ سیدنا عمران رضی اللہ عنہ نے کہا پھر یہ ظلم تو نہ ہو گا میں تو اسے سن کر کانپ اٹھا اور گھبرا کر کہا کہ ہر چیز کا خالق مالک وہی اللہ ہے تمام ملک اسی کے ہاتھ میں ہے اس کے افعال کی باز پرس کوئی نہیں کر سکتا وہ سب سے سوال کر سکتا ہے میرا یہ جواب سن کر سیدنا عمران رضی اللہ عنہ بہت خوش ہوئے اور کہا اللہ تجھے درستگی عنایت فرمائے میں نے تو یہ سوالات اسی لیے کئے تھے کہ امتحان ہو جائے، سنو ایک شخص مزینہ یا جہینہ قبیلے کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہی سوال کیا جو میں نے پہلے تم سے کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی وہی جواب دیا جو تم نے دیا تو اس نے کہا پھر ہمارے اعمال سے کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواباً ارشاد فرمایا کہ جس کسی کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے جس منزل کے لیے پیدا کیا ہے اس سے ویسے ہی کام ہو کر رہیں گے اگر جنتی ہے تو اعمال جنت اور اگر دوزخی لکھا گیا ہے تو ویسے ہی اعمال اس پر آسان ہوں گے، سنو قرآن میں اس کی تصدیق موجود ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا» ۱؎ [91-الشمس:7،8] ‏‏‏‏ یہ حدیث مسلم شریف میں بھی ہے۔ [صحیح مسلم:2650] ‏‏‏‏

مسند احمد میں بھی ہے کہ { جس نے اپنے نفس کو پاک کیا وہ بامراد ہوا }، یعنی اطاعت رب میں لگا رہا نکمے اعمال رذیل اخلاق چھوڑ دئیے۔ جیسے اور جگہ ہے «دْ أَفْلَحَ مَن تَزَكَّىٰ وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهِ فَصَلَّىٰ» ۱؎ [87-الاعلیٰ:14-15] ‏‏‏‏ ’ جس نے پاکیزگی اختیار کی اور اپنے رب کا نام یاد کیا پھر نماز پڑھی اس نے کامیابی پا لی اور جس نے اپنے ضمیر کا ستیاناس کیا اور ہدایت سے ہٹا کر اسے برباد کیا، نافرمانیوں میں پڑ گیا اطاعت اللہ کو چھوڑ بیٹھا یہ ناکام اور نامراد ہوا ‘۔ اور یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ ’ جس کے نفس کو اللہ تعالیٰ نے پاک کیا اور بامراد ہوا اور جس کے نفس کو اللہ نے نیچے گرا دیا وہ برباد، خائب اور خاسر رہا ‘۔ عوفی اور علی بن ابوطلحہ رحمہ اللہ علیہم سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہی روایت کرتے ہیں، ابن ابی حاتم کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا» پڑھ کر فرمایا کہ جس نفس کو اللہ نے پاک کیا اس نے چھٹکارا پا لیا }۔ لیکن اس حدیث میں ایک علت تو یہ ہے کہ جویبربن سعید متروک الحدیث ہے دوسری علت یہ ہے کہ ضحاک جو عبداللہ سے روایت کرتے ہیں ان کی ملاقات ثابت نہیں۔ طبرانی کی حدیث میں ہے کہ { «فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا» پڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا پڑھی «اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا أَنْتَ وَلِيّهَا وَمَوْلَاهَا وَخَيْر مَنْ زَكَّاهَا» } ۱؎ [طبرانی کبیر:11191:ضعیف] ‏‏‏‏ ابن ابی حاتم کی حدیث میں یہ دعا یوں وارد ہوئی ہے «اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْر مَنْ زَكَّاهَا أَنْتَ وَلِيّهَا وَمَوْلَاهَا» ۔ ۱؎ [ابن ابی عاصم فی السنة:318:ضعیف] ‏‏‏‏ مسند احمد کی حدیث میں ہے { ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رات کو ایک مرتبہ میری آنکھ کھلی میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بستر پر نہیں، اندھیرے کی وجہ سے میں گھر میں اپنے ہاتھوں سے ٹٹولنے لگی تو میرے ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پڑے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت سجدے میں تھے اور یہ دعا پڑھ رہے تھے «رَبّ أَعْطِ نَفْسِي تَقْوَاهَا وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْر مَنْ زَكَّاهَا أَنْتَ وَلِيّهَا وَمَوْلَاهَا» } یہ حدیث صرف مسند احمد میں ہی ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:209/6:ضعیف] ‏‏‏‏

مسلم شریف اور مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگتے تھے «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذ بِك مِنْ الْعَجْز وَالْكَسَل وَالْهَرَم وَالْجُبْن وَالْبُخْل وَعَذَاب الْقَبْر اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْر مَنْ زَكَّاهَا أَنْتَ وَلِيّهَا وَمَوْلَاهَا اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذ بِك مِنْ قَلْب لَا يَخْشَع وَمِنْ نَفْس لَا تَشْبَع وَعِلْم لَا يَنْفَع وَدَعْوَة لَا يُسْتَجَاب لَهَا» یا اللہ! میں عاجزی، بیچارگی، سستی، تھکاوٹ، بڑھاپے، نامردی سے اور بخیلی اور عذاب قبر سے تیری پناہ چاہتا ہوں، اے اللہ میرے دل کو اس کا تقویٰ عطا فرما اور اسے پاک کر دے تو ہی اسے بہتر پاک کرنے والا ہے تو ہی اس کا والی اور مولیٰ ہے۔ اے اللہ! مجھے ایسے دل سے بچا جس میں تیرا ڈر نہ ہو اور ایسے نفس سے بچا جو آسودہ نہ ہو اور ایسے علم سے بچا جو نفع نہ دے اور ایسی دعا سے بچا جو قبول نہ کی جائے }۔ راوی حدیث میں زید بن ارقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ دعا سکھائی اور ہم تمہیں سکھاتے ہیں۔ [صحیح مسلم:2722] ‏‏‏‏
7۔ 1 یا جس نے اس درست کیا۔ درست کرنے کا مطلب اسے مناسب الا عضاء بنایا بےڈھنگا نہیں بنایا۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
فَاَلۡہَمَہَا فُجُوۡرَہَا وَ تَقۡوٰىہَا ۪ۙ﴿۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پھر اُس کی بدی اور اُس کی پرہیز گاری اس پر الہام کر دی
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر سمجھ دی اس کو بدکاری کی اور بچ کر چلنے کی
احمد رضا خان بریلوی
پھر اس کی بدکاری اور اس کی پرہیزگاری دل میں ڈالی
علامہ محمد حسین نجفی
پھر اسے اس کی بدکاری اور پرہیزگاری کا الہام (القاء) کیا۔
عبدالسلام بن محمد
پھر اس کی نافرمانی اور اس کی پرہیزگاری ( کی پہچان) اس کے دل میں ڈال دی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کامیابی کے لیے کیا ضروری ہے؟ ٭٭

مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ” «الضُّحَىٰ» سے مراد روشنی ہے۔‏‏‏‏“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”پورا دن مراد ہے۔‏‏‏‏“ امام جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”ٹھیک بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سورج کی اور دن کی قسم کھائی ہے اور چاند جبکہ اس کے پیچھے آئے یعنی سورج چھپ جائے اور چاند چمکنے لگے۔‏‏‏‏“ ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”مہینہ کے پہلے پندرہ دن میں تو چاند سورج کے پیچھے رہتا ہے اور پچھلے پندرہ دنوں میں آگے ہوتا ہے۔‏‏‏‏“ زید بن اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد اس سے لیلۃ القدر ہے۔‏‏‏‏“ پھر دن کی قسم کھائی جبکہ وہ منور ہو جائے یعنی سورج دن کو گھیر لے، بعض عربی دانوں نے یہ بھی کہا ہے کہ دن جبکہ اندھیرے کو روشن کر دے لیکن اگر یوں کہا جاتا کہ پھیلاوٹ کو وہ جب چمکا دے تو اور اچھا ہوتا ہے تاکہ «يَغْشَاهَا» میں بھی یہ معنی ٹھیک بیٹھتے، اسی لیے مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”دن کی قسم جبکہ وہ اسے روشن کر دے“، امام ابن جریر رحمہ اللہ اس قول کو پسند فرماتے ہیں کہ ان سب میں ضمیر «ھَا» کا مرجع «شَّمْسِ» ہے کیونکہ اسی کا ذکر چل رہا ہے، رات جبکہ اسے ڈھانپ لے یعنی سورج کو ڈھانپ لے اور چاروں طرف اندھیرا پھیل جائے۔ یزید بن ذی حمایہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”جب رات آتی ہے تو اللہ تعالیٰ جل جلالہ فرماتا ہے ’ میرے بندوں کو میری ایک بہت بڑی خلق نے چھپا لیا ‘ پس مخلوق رات سے ہیبت کرتی ہے حالانکہ اس کے پیدا کرنے والے سے زیادہ ہیبت کرنی چاہیئے۔ [ابن ابی حاتم] ‏‏‏‏

پھر آسمان کی قسم کھاتا ہے یہاں جو «مَا» ہے یہ مصدر یہ بھی ہو سکتا ہے، یعنی آسمان اور اس کی بناوٹ کی قسم۔ قتادہ رحمہ اللہ کا قول یہی ہے اور یہ «مَا» معنی میں «مَنْ» کے بھی ہو سکتا ہے تو مطلب یہ ہو گا کہ ’ آسمان کی قسم اور اس کے بنانے والے کی قسم ‘، یعنی خود اللہ کی۔ مجاہد رحمہ اللہ یہی فرماتے ہیں یہ دونوں معنی ایک دوسرے کو لازم ملزوم ہیں۔ «بَنا» کے معنی بلندی کے ہیں جیسے اور جگہ ہے «وَالسَّمَاء بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ وَالْأَرْضَ فَرَشْنَاهَا فَنِعْمَ الْمَاهِدُونَ» ۱؎ [51-الذریات:48-47] ‏‏‏‏، یعنی ’ آسمان کو ہم نے قوت کے ساتھ بنایا اور ہم کشادگی والے ہیں ہم نے زمین کو بچھایا اور کیا ہی اچھا ہم بچھانے والے ہیں ‘۔ اس طرح یہاں بھی فرمایا کہ ’ زمین کی اور اس کی ہمواری کی اسے بچھانے، پھیلانے کی اس کی تقسیم کی، اس کی مخلوق کی قسم ‘۔ زیادہ مشہور قول اس کی تفسیر میں پھیلانے کا ہے، اہل لغت کے نزدیک بھی یہی معروف ہے۔ جوہری فرماتے ہیں «طَحَوْتُهٗ» مثل «ودحَوْتُهٗ» کے ہے اور اس کے معنی پھیلانے کے ہیں اکثر مفسرین کا یہی قول ہے۔ پھر فرمایا ’ نفس کی اور اسے ٹھیک ٹھاک بنانے کی قسم ‘ یعنی اسے پیدا کیا اور آنحالیکہ یہ ٹھیک ٹھاک اور فطرت پر قائم تھا۔ جیسے اور جگہ ہے «فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا فِطْرَتَ اللَّـهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّـهِ» ۱؎ [30-الروم:30] ‏‏‏‏، ’ اپنے چہرے کو قائم رکھ دین حنیف کے لیے فطرت ہے، اللہ کی جس پر لوگوں کو بنایا اللہ کی خلق کی تبدیل نہیں ‘۔ حدیث میں ہے { ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا لیتے ہیں جیسے چوپائے جانور کا بچہ صحیح سالم پیدا ہوتا ہے کوئی ان میں کن کٹا نہ پاؤ گے }۔ [صحیح بخاری:1358] ‏‏‏‏

صحیح مسلم شریف کی ایک حدیث میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے اپنے بندے یکسوئی والے پیدا کئے ان کے پاس شیطان پہنچا اور دین سے ورغلا لیا }۔ [صحیح مسلم:2865] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے کہ ’ اللہ نے اس کے لیے بدکاری و پرہیزگاری کو بیان کر دیا اور جو چیز اس کی قسمت میں تھی اس کی طرف اس کی رہبری ہوئی ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”یعنی خیر و شر ظاہر کر دیا۔‏‏‏‏“ ابن جریر میں ہے ابوالاسود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے پوچھا: ذرا بتاؤ تو لوگ جو کچھ اعمال کرتے ہیں اور تکلیفیں اٹھا رہے ہیں یہ کیا ان کے لیے اللہ کی جانب سے مقرر ہو چکی ہیں اور ان کی تقدیر میں لکھی جا چکی ہیں یا یہ خود آئندہ کے لیے اپنے طور پر کر رہے ہیں اس بنا پر کہ انبیاء علیہم السلام ان کے پاس آ چکے اور اللہ کی حجت ان پر پوری ہوئی؟ میں نے جواب میں کہا نہیں نہیں بلکہ یہ چیز پہلے سے فیصل شدہ ہے اور مقدر ہو چکی ہے۔ سیدنا عمران رضی اللہ عنہ نے کہا پھر یہ ظلم تو نہ ہو گا میں تو اسے سن کر کانپ اٹھا اور گھبرا کر کہا کہ ہر چیز کا خالق مالک وہی اللہ ہے تمام ملک اسی کے ہاتھ میں ہے اس کے افعال کی باز پرس کوئی نہیں کر سکتا وہ سب سے سوال کر سکتا ہے میرا یہ جواب سن کر سیدنا عمران رضی اللہ عنہ بہت خوش ہوئے اور کہا اللہ تجھے درستگی عنایت فرمائے میں نے تو یہ سوالات اسی لیے کئے تھے کہ امتحان ہو جائے، سنو ایک شخص مزینہ یا جہینہ قبیلے کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہی سوال کیا جو میں نے پہلے تم سے کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی وہی جواب دیا جو تم نے دیا تو اس نے کہا پھر ہمارے اعمال سے کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواباً ارشاد فرمایا کہ جس کسی کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے جس منزل کے لیے پیدا کیا ہے اس سے ویسے ہی کام ہو کر رہیں گے اگر جنتی ہے تو اعمال جنت اور اگر دوزخی لکھا گیا ہے تو ویسے ہی اعمال اس پر آسان ہوں گے، سنو قرآن میں اس کی تصدیق موجود ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا» ۱؎ [91-الشمس:7،8] ‏‏‏‏ یہ حدیث مسلم شریف میں بھی ہے۔ [صحیح مسلم:2650] ‏‏‏‏

مسند احمد میں بھی ہے کہ { جس نے اپنے نفس کو پاک کیا وہ بامراد ہوا }، یعنی اطاعت رب میں لگا رہا نکمے اعمال رذیل اخلاق چھوڑ دئیے۔ جیسے اور جگہ ہے «دْ أَفْلَحَ مَن تَزَكَّىٰ وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهِ فَصَلَّىٰ» ۱؎ [87-الاعلیٰ:14-15] ‏‏‏‏ ’ جس نے پاکیزگی اختیار کی اور اپنے رب کا نام یاد کیا پھر نماز پڑھی اس نے کامیابی پا لی اور جس نے اپنے ضمیر کا ستیاناس کیا اور ہدایت سے ہٹا کر اسے برباد کیا، نافرمانیوں میں پڑ گیا اطاعت اللہ کو چھوڑ بیٹھا یہ ناکام اور نامراد ہوا ‘۔ اور یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ ’ جس کے نفس کو اللہ تعالیٰ نے پاک کیا اور بامراد ہوا اور جس کے نفس کو اللہ نے نیچے گرا دیا وہ برباد، خائب اور خاسر رہا ‘۔ عوفی اور علی بن ابوطلحہ رحمہ اللہ علیہم سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہی روایت کرتے ہیں، ابن ابی حاتم کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا» پڑھ کر فرمایا کہ جس نفس کو اللہ نے پاک کیا اس نے چھٹکارا پا لیا }۔ لیکن اس حدیث میں ایک علت تو یہ ہے کہ جویبربن سعید متروک الحدیث ہے دوسری علت یہ ہے کہ ضحاک جو عبداللہ سے روایت کرتے ہیں ان کی ملاقات ثابت نہیں۔ طبرانی کی حدیث میں ہے کہ { «فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا» پڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا پڑھی «اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا أَنْتَ وَلِيّهَا وَمَوْلَاهَا وَخَيْر مَنْ زَكَّاهَا» } ۱؎ [طبرانی کبیر:11191:ضعیف] ‏‏‏‏ ابن ابی حاتم کی حدیث میں یہ دعا یوں وارد ہوئی ہے «اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْر مَنْ زَكَّاهَا أَنْتَ وَلِيّهَا وَمَوْلَاهَا» ۔ ۱؎ [ابن ابی عاصم فی السنة:318:ضعیف] ‏‏‏‏ مسند احمد کی حدیث میں ہے { ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رات کو ایک مرتبہ میری آنکھ کھلی میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بستر پر نہیں، اندھیرے کی وجہ سے میں گھر میں اپنے ہاتھوں سے ٹٹولنے لگی تو میرے ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پڑے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت سجدے میں تھے اور یہ دعا پڑھ رہے تھے «رَبّ أَعْطِ نَفْسِي تَقْوَاهَا وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْر مَنْ زَكَّاهَا أَنْتَ وَلِيّهَا وَمَوْلَاهَا» } یہ حدیث صرف مسند احمد میں ہی ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:209/6:ضعیف] ‏‏‏‏

مسلم شریف اور مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگتے تھے «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذ بِك مِنْ الْعَجْز وَالْكَسَل وَالْهَرَم وَالْجُبْن وَالْبُخْل وَعَذَاب الْقَبْر اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْر مَنْ زَكَّاهَا أَنْتَ وَلِيّهَا وَمَوْلَاهَا اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذ بِك مِنْ قَلْب لَا يَخْشَع وَمِنْ نَفْس لَا تَشْبَع وَعِلْم لَا يَنْفَع وَدَعْوَة لَا يُسْتَجَاب لَهَا» یا اللہ! میں عاجزی، بیچارگی، سستی، تھکاوٹ، بڑھاپے، نامردی سے اور بخیلی اور عذاب قبر سے تیری پناہ چاہتا ہوں، اے اللہ میرے دل کو اس کا تقویٰ عطا فرما اور اسے پاک کر دے تو ہی اسے بہتر پاک کرنے والا ہے تو ہی اس کا والی اور مولیٰ ہے۔ اے اللہ! مجھے ایسے دل سے بچا جس میں تیرا ڈر نہ ہو اور ایسے نفس سے بچا جو آسودہ نہ ہو اور ایسے علم سے بچا جو نفع نہ دے اور ایسی دعا سے بچا جو قبول نہ کی جائے }۔ راوی حدیث میں زید بن ارقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ دعا سکھائی اور ہم تمہیں سکھاتے ہیں۔ [صحیح مسلم:2722] ‏‏‏‏
8۔ 1 الہام کا مطلب یا تو یہ ہے کہ انہیں اچھی طرح سمجھایا اور انہیں انبیاء اور آسمانی کتابوں کے ذریعے سے خیر وشر کی پہچان کروا دی، یا مطلب یہ ہے کہ ان کی عقل اور فطرت میں خیر اور شر، نیکی اور بدکاری کا شور ودیعت کردیا، تاکہ وہ نیکی کو اپنائیں اور بدی سے اجتناب کریں۔
(آیت 8) {فَاَلْهَمَهَا فُجُوْرَهَا وَ تَقْوٰىهَا: ”لَهِمَ يَلْهَمُ لَهْمًا“ (س) ”اَلشَّيْءَ“} کسی چیز کو ایک ہی بار نگل جانا۔ {” أَلْهَمَ اللّٰهُ يُلْهِمُ إِلْهَامًا “} (افعال) اللہ تعالیٰ کا دل میں کوئی بات ڈال دینا، سمجھا دینا، اس کی توفیق دے دینا۔ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے دل میں اس کی نیکی اور بدی کی پہچان رکھ دی ہے۔ یہ پہچان پہلے عقل و فطرت میں رکھی گئی، پھر انبیاء علیھم السلام کے ذریعے سے دوبارہ یاد دہانی کروائی گئی، تاکہ لوگ نافرمانی سے بچیں اور پرہیزگاری اختیار کریں۔ دیکھیے سورۂ دہر (۳) اور سورۂ بلد (۱۰)۔
قَدۡ اَفۡلَحَ مَنۡ زَکّٰىہَا ۪ۙ﴿۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یقیناً فلاح پا گیا وہ جس نے نفس کا تزکیہ کیا
مولانا محمد جوناگڑھی
جس نے اسے پاک کیا وه کامیاب ہوا
احمد رضا خان بریلوی
بیشک مراد کو پہنچایا جس نے اسے ستھرا کیا
علامہ محمد حسین نجفی
بےشک وہ شخص فلاح پاگیا جس نے اس (نفس) کا تزکیہ کیا۔
عبدالسلام بن محمد
یقینا وہ کامیاب ہوگیا جس نے اسے پاک کرلیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کامیابی کے لیے کیا ضروری ہے؟ ٭٭

مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ” «الضُّحَىٰ» سے مراد روشنی ہے۔‏‏‏‏“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”پورا دن مراد ہے۔‏‏‏‏“ امام جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”ٹھیک بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سورج کی اور دن کی قسم کھائی ہے اور چاند جبکہ اس کے پیچھے آئے یعنی سورج چھپ جائے اور چاند چمکنے لگے۔‏‏‏‏“ ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”مہینہ کے پہلے پندرہ دن میں تو چاند سورج کے پیچھے رہتا ہے اور پچھلے پندرہ دنوں میں آگے ہوتا ہے۔‏‏‏‏“ زید بن اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد اس سے لیلۃ القدر ہے۔‏‏‏‏“ پھر دن کی قسم کھائی جبکہ وہ منور ہو جائے یعنی سورج دن کو گھیر لے، بعض عربی دانوں نے یہ بھی کہا ہے کہ دن جبکہ اندھیرے کو روشن کر دے لیکن اگر یوں کہا جاتا کہ پھیلاوٹ کو وہ جب چمکا دے تو اور اچھا ہوتا ہے تاکہ «يَغْشَاهَا» میں بھی یہ معنی ٹھیک بیٹھتے، اسی لیے مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”دن کی قسم جبکہ وہ اسے روشن کر دے“، امام ابن جریر رحمہ اللہ اس قول کو پسند فرماتے ہیں کہ ان سب میں ضمیر «ھَا» کا مرجع «شَّمْسِ» ہے کیونکہ اسی کا ذکر چل رہا ہے، رات جبکہ اسے ڈھانپ لے یعنی سورج کو ڈھانپ لے اور چاروں طرف اندھیرا پھیل جائے۔ یزید بن ذی حمایہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”جب رات آتی ہے تو اللہ تعالیٰ جل جلالہ فرماتا ہے ’ میرے بندوں کو میری ایک بہت بڑی خلق نے چھپا لیا ‘ پس مخلوق رات سے ہیبت کرتی ہے حالانکہ اس کے پیدا کرنے والے سے زیادہ ہیبت کرنی چاہیئے۔ [ابن ابی حاتم] ‏‏‏‏

پھر آسمان کی قسم کھاتا ہے یہاں جو «مَا» ہے یہ مصدر یہ بھی ہو سکتا ہے، یعنی آسمان اور اس کی بناوٹ کی قسم۔ قتادہ رحمہ اللہ کا قول یہی ہے اور یہ «مَا» معنی میں «مَنْ» کے بھی ہو سکتا ہے تو مطلب یہ ہو گا کہ ’ آسمان کی قسم اور اس کے بنانے والے کی قسم ‘، یعنی خود اللہ کی۔ مجاہد رحمہ اللہ یہی فرماتے ہیں یہ دونوں معنی ایک دوسرے کو لازم ملزوم ہیں۔ «بَنا» کے معنی بلندی کے ہیں جیسے اور جگہ ہے «وَالسَّمَاء بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ وَالْأَرْضَ فَرَشْنَاهَا فَنِعْمَ الْمَاهِدُونَ» ۱؎ [51-الذریات:48-47] ‏‏‏‏، یعنی ’ آسمان کو ہم نے قوت کے ساتھ بنایا اور ہم کشادگی والے ہیں ہم نے زمین کو بچھایا اور کیا ہی اچھا ہم بچھانے والے ہیں ‘۔ اس طرح یہاں بھی فرمایا کہ ’ زمین کی اور اس کی ہمواری کی اسے بچھانے، پھیلانے کی اس کی تقسیم کی، اس کی مخلوق کی قسم ‘۔ زیادہ مشہور قول اس کی تفسیر میں پھیلانے کا ہے، اہل لغت کے نزدیک بھی یہی معروف ہے۔ جوہری فرماتے ہیں «طَحَوْتُهٗ» مثل «ودحَوْتُهٗ» کے ہے اور اس کے معنی پھیلانے کے ہیں اکثر مفسرین کا یہی قول ہے۔ پھر فرمایا ’ نفس کی اور اسے ٹھیک ٹھاک بنانے کی قسم ‘ یعنی اسے پیدا کیا اور آنحالیکہ یہ ٹھیک ٹھاک اور فطرت پر قائم تھا۔ جیسے اور جگہ ہے «فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا فِطْرَتَ اللَّـهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّـهِ» ۱؎ [30-الروم:30] ‏‏‏‏، ’ اپنے چہرے کو قائم رکھ دین حنیف کے لیے فطرت ہے، اللہ کی جس پر لوگوں کو بنایا اللہ کی خلق کی تبدیل نہیں ‘۔ حدیث میں ہے { ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا لیتے ہیں جیسے چوپائے جانور کا بچہ صحیح سالم پیدا ہوتا ہے کوئی ان میں کن کٹا نہ پاؤ گے }۔ [صحیح بخاری:1358] ‏‏‏‏

صحیح مسلم شریف کی ایک حدیث میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے اپنے بندے یکسوئی والے پیدا کئے ان کے پاس شیطان پہنچا اور دین سے ورغلا لیا }۔ [صحیح مسلم:2865] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے کہ ’ اللہ نے اس کے لیے بدکاری و پرہیزگاری کو بیان کر دیا اور جو چیز اس کی قسمت میں تھی اس کی طرف اس کی رہبری ہوئی ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”یعنی خیر و شر ظاہر کر دیا۔‏‏‏‏“ ابن جریر میں ہے ابوالاسود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے پوچھا: ذرا بتاؤ تو لوگ جو کچھ اعمال کرتے ہیں اور تکلیفیں اٹھا رہے ہیں یہ کیا ان کے لیے اللہ کی جانب سے مقرر ہو چکی ہیں اور ان کی تقدیر میں لکھی جا چکی ہیں یا یہ خود آئندہ کے لیے اپنے طور پر کر رہے ہیں اس بنا پر کہ انبیاء علیہم السلام ان کے پاس آ چکے اور اللہ کی حجت ان پر پوری ہوئی؟ میں نے جواب میں کہا نہیں نہیں بلکہ یہ چیز پہلے سے فیصل شدہ ہے اور مقدر ہو چکی ہے۔ سیدنا عمران رضی اللہ عنہ نے کہا پھر یہ ظلم تو نہ ہو گا میں تو اسے سن کر کانپ اٹھا اور گھبرا کر کہا کہ ہر چیز کا خالق مالک وہی اللہ ہے تمام ملک اسی کے ہاتھ میں ہے اس کے افعال کی باز پرس کوئی نہیں کر سکتا وہ سب سے سوال کر سکتا ہے میرا یہ جواب سن کر سیدنا عمران رضی اللہ عنہ بہت خوش ہوئے اور کہا اللہ تجھے درستگی عنایت فرمائے میں نے تو یہ سوالات اسی لیے کئے تھے کہ امتحان ہو جائے، سنو ایک شخص مزینہ یا جہینہ قبیلے کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہی سوال کیا جو میں نے پہلے تم سے کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی وہی جواب دیا جو تم نے دیا تو اس نے کہا پھر ہمارے اعمال سے کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواباً ارشاد فرمایا کہ جس کسی کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے جس منزل کے لیے پیدا کیا ہے اس سے ویسے ہی کام ہو کر رہیں گے اگر جنتی ہے تو اعمال جنت اور اگر دوزخی لکھا گیا ہے تو ویسے ہی اعمال اس پر آسان ہوں گے، سنو قرآن میں اس کی تصدیق موجود ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا» ۱؎ [91-الشمس:7،8] ‏‏‏‏ یہ حدیث مسلم شریف میں بھی ہے۔ [صحیح مسلم:2650] ‏‏‏‏

مسند احمد میں بھی ہے کہ { جس نے اپنے نفس کو پاک کیا وہ بامراد ہوا }، یعنی اطاعت رب میں لگا رہا نکمے اعمال رذیل اخلاق چھوڑ دئیے۔ جیسے اور جگہ ہے «دْ أَفْلَحَ مَن تَزَكَّىٰ وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهِ فَصَلَّىٰ» ۱؎ [87-الاعلیٰ:14-15] ‏‏‏‏ ’ جس نے پاکیزگی اختیار کی اور اپنے رب کا نام یاد کیا پھر نماز پڑھی اس نے کامیابی پا لی اور جس نے اپنے ضمیر کا ستیاناس کیا اور ہدایت سے ہٹا کر اسے برباد کیا، نافرمانیوں میں پڑ گیا اطاعت اللہ کو چھوڑ بیٹھا یہ ناکام اور نامراد ہوا ‘۔ اور یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ ’ جس کے نفس کو اللہ تعالیٰ نے پاک کیا اور بامراد ہوا اور جس کے نفس کو اللہ نے نیچے گرا دیا وہ برباد، خائب اور خاسر رہا ‘۔ عوفی اور علی بن ابوطلحہ رحمہ اللہ علیہم سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہی روایت کرتے ہیں، ابن ابی حاتم کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا» پڑھ کر فرمایا کہ جس نفس کو اللہ نے پاک کیا اس نے چھٹکارا پا لیا }۔ لیکن اس حدیث میں ایک علت تو یہ ہے کہ جویبربن سعید متروک الحدیث ہے دوسری علت یہ ہے کہ ضحاک جو عبداللہ سے روایت کرتے ہیں ان کی ملاقات ثابت نہیں۔ طبرانی کی حدیث میں ہے کہ { «فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا» پڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا پڑھی «اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا أَنْتَ وَلِيّهَا وَمَوْلَاهَا وَخَيْر مَنْ زَكَّاهَا» } ۱؎ [طبرانی کبیر:11191:ضعیف] ‏‏‏‏ ابن ابی حاتم کی حدیث میں یہ دعا یوں وارد ہوئی ہے «اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْر مَنْ زَكَّاهَا أَنْتَ وَلِيّهَا وَمَوْلَاهَا» ۔ ۱؎ [ابن ابی عاصم فی السنة:318:ضعیف] ‏‏‏‏ مسند احمد کی حدیث میں ہے { ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رات کو ایک مرتبہ میری آنکھ کھلی میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بستر پر نہیں، اندھیرے کی وجہ سے میں گھر میں اپنے ہاتھوں سے ٹٹولنے لگی تو میرے ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پڑے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت سجدے میں تھے اور یہ دعا پڑھ رہے تھے «رَبّ أَعْطِ نَفْسِي تَقْوَاهَا وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْر مَنْ زَكَّاهَا أَنْتَ وَلِيّهَا وَمَوْلَاهَا» } یہ حدیث صرف مسند احمد میں ہی ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:209/6:ضعیف] ‏‏‏‏

مسلم شریف اور مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگتے تھے «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذ بِك مِنْ الْعَجْز وَالْكَسَل وَالْهَرَم وَالْجُبْن وَالْبُخْل وَعَذَاب الْقَبْر اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْر مَنْ زَكَّاهَا أَنْتَ وَلِيّهَا وَمَوْلَاهَا اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذ بِك مِنْ قَلْب لَا يَخْشَع وَمِنْ نَفْس لَا تَشْبَع وَعِلْم لَا يَنْفَع وَدَعْوَة لَا يُسْتَجَاب لَهَا» یا اللہ! میں عاجزی، بیچارگی، سستی، تھکاوٹ، بڑھاپے، نامردی سے اور بخیلی اور عذاب قبر سے تیری پناہ چاہتا ہوں، اے اللہ میرے دل کو اس کا تقویٰ عطا فرما اور اسے پاک کر دے تو ہی اسے بہتر پاک کرنے والا ہے تو ہی اس کا والی اور مولیٰ ہے۔ اے اللہ! مجھے ایسے دل سے بچا جس میں تیرا ڈر نہ ہو اور ایسے نفس سے بچا جو آسودہ نہ ہو اور ایسے علم سے بچا جو نفع نہ دے اور ایسی دعا سے بچا جو قبول نہ کی جائے }۔ راوی حدیث میں زید بن ارقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ دعا سکھائی اور ہم تمہیں سکھاتے ہیں۔ [صحیح مسلم:2722] ‏‏‏‏
9۔ 1 شرک سے، معصیت سے اور اخلاقی آلائشوں سے پاک کیا، وہ اخروی فوز و فلاح سے ہمکنار ہوگا۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
وَ قَدۡ خَابَ مَنۡ دَسّٰىہَا ﴿ؕ۱۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور نامراد ہوا وہ جس نے اُس کو دبا دیا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جس نے اسے خاک میں ملا دیا وه ناکام ہوا
احمد رضا خان بریلوی
اور نامراد ہوا جس نے اسے معصیت میں چھپایا،
علامہ محمد حسین نجفی
اور وہ شخص نامراد ہوا جس نے (گناہ سے آلودہ کر کے) اسے دبا دیا۔
عبدالسلام بن محمد
اور یقینا وہ نامراد ہوگیا جس نے اسے مٹی میں دبا دیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کامیابی کے لیے کیا ضروری ہے؟ ٭٭

مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ” «الضُّحَىٰ» سے مراد روشنی ہے۔‏‏‏‏“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”پورا دن مراد ہے۔‏‏‏‏“ امام جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”ٹھیک بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سورج کی اور دن کی قسم کھائی ہے اور چاند جبکہ اس کے پیچھے آئے یعنی سورج چھپ جائے اور چاند چمکنے لگے۔‏‏‏‏“ ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”مہینہ کے پہلے پندرہ دن میں تو چاند سورج کے پیچھے رہتا ہے اور پچھلے پندرہ دنوں میں آگے ہوتا ہے۔‏‏‏‏“ زید بن اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد اس سے لیلۃ القدر ہے۔‏‏‏‏“ پھر دن کی قسم کھائی جبکہ وہ منور ہو جائے یعنی سورج دن کو گھیر لے، بعض عربی دانوں نے یہ بھی کہا ہے کہ دن جبکہ اندھیرے کو روشن کر دے لیکن اگر یوں کہا جاتا کہ پھیلاوٹ کو وہ جب چمکا دے تو اور اچھا ہوتا ہے تاکہ «يَغْشَاهَا» میں بھی یہ معنی ٹھیک بیٹھتے، اسی لیے مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”دن کی قسم جبکہ وہ اسے روشن کر دے“، امام ابن جریر رحمہ اللہ اس قول کو پسند فرماتے ہیں کہ ان سب میں ضمیر «ھَا» کا مرجع «شَّمْسِ» ہے کیونکہ اسی کا ذکر چل رہا ہے، رات جبکہ اسے ڈھانپ لے یعنی سورج کو ڈھانپ لے اور چاروں طرف اندھیرا پھیل جائے۔ یزید بن ذی حمایہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”جب رات آتی ہے تو اللہ تعالیٰ جل جلالہ فرماتا ہے ’ میرے بندوں کو میری ایک بہت بڑی خلق نے چھپا لیا ‘ پس مخلوق رات سے ہیبت کرتی ہے حالانکہ اس کے پیدا کرنے والے سے زیادہ ہیبت کرنی چاہیئے۔ [ابن ابی حاتم] ‏‏‏‏

پھر آسمان کی قسم کھاتا ہے یہاں جو «مَا» ہے یہ مصدر یہ بھی ہو سکتا ہے، یعنی آسمان اور اس کی بناوٹ کی قسم۔ قتادہ رحمہ اللہ کا قول یہی ہے اور یہ «مَا» معنی میں «مَنْ» کے بھی ہو سکتا ہے تو مطلب یہ ہو گا کہ ’ آسمان کی قسم اور اس کے بنانے والے کی قسم ‘، یعنی خود اللہ کی۔ مجاہد رحمہ اللہ یہی فرماتے ہیں یہ دونوں معنی ایک دوسرے کو لازم ملزوم ہیں۔ «بَنا» کے معنی بلندی کے ہیں جیسے اور جگہ ہے «وَالسَّمَاء بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ وَالْأَرْضَ فَرَشْنَاهَا فَنِعْمَ الْمَاهِدُونَ» ۱؎ [51-الذریات:48-47] ‏‏‏‏، یعنی ’ آسمان کو ہم نے قوت کے ساتھ بنایا اور ہم کشادگی والے ہیں ہم نے زمین کو بچھایا اور کیا ہی اچھا ہم بچھانے والے ہیں ‘۔ اس طرح یہاں بھی فرمایا کہ ’ زمین کی اور اس کی ہمواری کی اسے بچھانے، پھیلانے کی اس کی تقسیم کی، اس کی مخلوق کی قسم ‘۔ زیادہ مشہور قول اس کی تفسیر میں پھیلانے کا ہے، اہل لغت کے نزدیک بھی یہی معروف ہے۔ جوہری فرماتے ہیں «طَحَوْتُهٗ» مثل «ودحَوْتُهٗ» کے ہے اور اس کے معنی پھیلانے کے ہیں اکثر مفسرین کا یہی قول ہے۔ پھر فرمایا ’ نفس کی اور اسے ٹھیک ٹھاک بنانے کی قسم ‘ یعنی اسے پیدا کیا اور آنحالیکہ یہ ٹھیک ٹھاک اور فطرت پر قائم تھا۔ جیسے اور جگہ ہے «فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا فِطْرَتَ اللَّـهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّـهِ» ۱؎ [30-الروم:30] ‏‏‏‏، ’ اپنے چہرے کو قائم رکھ دین حنیف کے لیے فطرت ہے، اللہ کی جس پر لوگوں کو بنایا اللہ کی خلق کی تبدیل نہیں ‘۔ حدیث میں ہے { ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا لیتے ہیں جیسے چوپائے جانور کا بچہ صحیح سالم پیدا ہوتا ہے کوئی ان میں کن کٹا نہ پاؤ گے }۔ [صحیح بخاری:1358] ‏‏‏‏

صحیح مسلم شریف کی ایک حدیث میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے اپنے بندے یکسوئی والے پیدا کئے ان کے پاس شیطان پہنچا اور دین سے ورغلا لیا }۔ [صحیح مسلم:2865] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے کہ ’ اللہ نے اس کے لیے بدکاری و پرہیزگاری کو بیان کر دیا اور جو چیز اس کی قسمت میں تھی اس کی طرف اس کی رہبری ہوئی ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”یعنی خیر و شر ظاہر کر دیا۔‏‏‏‏“ ابن جریر میں ہے ابوالاسود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے پوچھا: ذرا بتاؤ تو لوگ جو کچھ اعمال کرتے ہیں اور تکلیفیں اٹھا رہے ہیں یہ کیا ان کے لیے اللہ کی جانب سے مقرر ہو چکی ہیں اور ان کی تقدیر میں لکھی جا چکی ہیں یا یہ خود آئندہ کے لیے اپنے طور پر کر رہے ہیں اس بنا پر کہ انبیاء علیہم السلام ان کے پاس آ چکے اور اللہ کی حجت ان پر پوری ہوئی؟ میں نے جواب میں کہا نہیں نہیں بلکہ یہ چیز پہلے سے فیصل شدہ ہے اور مقدر ہو چکی ہے۔ سیدنا عمران رضی اللہ عنہ نے کہا پھر یہ ظلم تو نہ ہو گا میں تو اسے سن کر کانپ اٹھا اور گھبرا کر کہا کہ ہر چیز کا خالق مالک وہی اللہ ہے تمام ملک اسی کے ہاتھ میں ہے اس کے افعال کی باز پرس کوئی نہیں کر سکتا وہ سب سے سوال کر سکتا ہے میرا یہ جواب سن کر سیدنا عمران رضی اللہ عنہ بہت خوش ہوئے اور کہا اللہ تجھے درستگی عنایت فرمائے میں نے تو یہ سوالات اسی لیے کئے تھے کہ امتحان ہو جائے، سنو ایک شخص مزینہ یا جہینہ قبیلے کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہی سوال کیا جو میں نے پہلے تم سے کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی وہی جواب دیا جو تم نے دیا تو اس نے کہا پھر ہمارے اعمال سے کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواباً ارشاد فرمایا کہ جس کسی کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے جس منزل کے لیے پیدا کیا ہے اس سے ویسے ہی کام ہو کر رہیں گے اگر جنتی ہے تو اعمال جنت اور اگر دوزخی لکھا گیا ہے تو ویسے ہی اعمال اس پر آسان ہوں گے، سنو قرآن میں اس کی تصدیق موجود ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا» ۱؎ [91-الشمس:7،8] ‏‏‏‏ یہ حدیث مسلم شریف میں بھی ہے۔ [صحیح مسلم:2650] ‏‏‏‏

مسند احمد میں بھی ہے کہ { جس نے اپنے نفس کو پاک کیا وہ بامراد ہوا }، یعنی اطاعت رب میں لگا رہا نکمے اعمال رذیل اخلاق چھوڑ دئیے۔ جیسے اور جگہ ہے «دْ أَفْلَحَ مَن تَزَكَّىٰ وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهِ فَصَلَّىٰ» ۱؎ [87-الاعلیٰ:14-15] ‏‏‏‏ ’ جس نے پاکیزگی اختیار کی اور اپنے رب کا نام یاد کیا پھر نماز پڑھی اس نے کامیابی پا لی اور جس نے اپنے ضمیر کا ستیاناس کیا اور ہدایت سے ہٹا کر اسے برباد کیا، نافرمانیوں میں پڑ گیا اطاعت اللہ کو چھوڑ بیٹھا یہ ناکام اور نامراد ہوا ‘۔ اور یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ ’ جس کے نفس کو اللہ تعالیٰ نے پاک کیا اور بامراد ہوا اور جس کے نفس کو اللہ نے نیچے گرا دیا وہ برباد، خائب اور خاسر رہا ‘۔ عوفی اور علی بن ابوطلحہ رحمہ اللہ علیہم سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہی روایت کرتے ہیں، ابن ابی حاتم کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا» پڑھ کر فرمایا کہ جس نفس کو اللہ نے پاک کیا اس نے چھٹکارا پا لیا }۔ لیکن اس حدیث میں ایک علت تو یہ ہے کہ جویبربن سعید متروک الحدیث ہے دوسری علت یہ ہے کہ ضحاک جو عبداللہ سے روایت کرتے ہیں ان کی ملاقات ثابت نہیں۔ طبرانی کی حدیث میں ہے کہ { «فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا» پڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا پڑھی «اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا أَنْتَ وَلِيّهَا وَمَوْلَاهَا وَخَيْر مَنْ زَكَّاهَا» } ۱؎ [طبرانی کبیر:11191:ضعیف] ‏‏‏‏ ابن ابی حاتم کی حدیث میں یہ دعا یوں وارد ہوئی ہے «اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْر مَنْ زَكَّاهَا أَنْتَ وَلِيّهَا وَمَوْلَاهَا» ۔ ۱؎ [ابن ابی عاصم فی السنة:318:ضعیف] ‏‏‏‏ مسند احمد کی حدیث میں ہے { ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رات کو ایک مرتبہ میری آنکھ کھلی میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بستر پر نہیں، اندھیرے کی وجہ سے میں گھر میں اپنے ہاتھوں سے ٹٹولنے لگی تو میرے ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پڑے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت سجدے میں تھے اور یہ دعا پڑھ رہے تھے «رَبّ أَعْطِ نَفْسِي تَقْوَاهَا وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْر مَنْ زَكَّاهَا أَنْتَ وَلِيّهَا وَمَوْلَاهَا» } یہ حدیث صرف مسند احمد میں ہی ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:209/6:ضعیف] ‏‏‏‏

مسلم شریف اور مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگتے تھے «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذ بِك مِنْ الْعَجْز وَالْكَسَل وَالْهَرَم وَالْجُبْن وَالْبُخْل وَعَذَاب الْقَبْر اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْر مَنْ زَكَّاهَا أَنْتَ وَلِيّهَا وَمَوْلَاهَا اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذ بِك مِنْ قَلْب لَا يَخْشَع وَمِنْ نَفْس لَا تَشْبَع وَعِلْم لَا يَنْفَع وَدَعْوَة لَا يُسْتَجَاب لَهَا» یا اللہ! میں عاجزی، بیچارگی، سستی، تھکاوٹ، بڑھاپے، نامردی سے اور بخیلی اور عذاب قبر سے تیری پناہ چاہتا ہوں، اے اللہ میرے دل کو اس کا تقویٰ عطا فرما اور اسے پاک کر دے تو ہی اسے بہتر پاک کرنے والا ہے تو ہی اس کا والی اور مولیٰ ہے۔ اے اللہ! مجھے ایسے دل سے بچا جس میں تیرا ڈر نہ ہو اور ایسے نفس سے بچا جو آسودہ نہ ہو اور ایسے علم سے بچا جو نفع نہ دے اور ایسی دعا سے بچا جو قبول نہ کی جائے }۔ راوی حدیث میں زید بن ارقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ دعا سکھائی اور ہم تمہیں سکھاتے ہیں۔ [صحیح مسلم:2722] ‏‏‏‏
10۔ 1 یعنی جس نے اسے گمراہ کرلیا وہ خسارے میں رہا جس کے معنی ہیں ایک چیز کو دوسری چیز میں چھپا دینا، جس نے اپنے نفس کا چھپا دیا اور اسے بےکار چھوڑ دیا اسے اللہ کی اطاعت اور عمل صالح کے ساتھ مشہور نہیں کیا۔
(آیت 10){ وَ قَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰىهَا: ”دَسَّا“ ”دَسَّ يَدُسُّ دَسًّا“} (ن) سے مبالغے کے لیے باب تفعیل ہے، معنی ہے مٹی میں دبا دینا، یہ اصل میں {”دَسَّسَ“} تھا، دوسرے سین کو الف کر دیا، جیسے {”تَقَضَّضَ الْبَازِيْ“} (باز شکار پر ٹوٹ پڑا) کو {”تَقَضَّي الْبَازِيْ“} کہہ دیتے ہیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: «‏‏‏‏اَمْ يَدُسُّهٗ فِي التُّرَابِ» ‏‏‏‏ [النحل:۵۹] ”یا اسے مٹی میں دبا دے۔“
کَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ بِطَغۡوٰىہَاۤ ﴿۪ۙ۱۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ثمود نے اپنی سرکشی کی بنا پر جھٹلایا
مولانا محمد جوناگڑھی
(قوم) ﺛمود نے اپنی سرکشی کے باعﺚ جھٹلایا
احمد رضا خان بریلوی
ثمود نے اپنی سرکشی سے جھٹلایا
علامہ محمد حسین نجفی
قومِ ثمود نے اپنی سرکشی کی وجہ سے (اپنے پیغمبر(ص) کو) جھٹلایا۔
عبدالسلام بن محمد
(قوم) ثمود نے اپنی سرکشی کی وجہ سے جھٹلا دیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
کامیابی کے لیے کیا ضروری ہے؟ ٭٭

مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ” «الضُّحَىٰ» سے مراد روشنی ہے۔‏‏‏‏“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”پورا دن مراد ہے۔‏‏‏‏“ امام جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”ٹھیک بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سورج کی اور دن کی قسم کھائی ہے اور چاند جبکہ اس کے پیچھے آئے یعنی سورج چھپ جائے اور چاند چمکنے لگے۔‏‏‏‏“ ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”مہینہ کے پہلے پندرہ دن میں تو چاند سورج کے پیچھے رہتا ہے اور پچھلے پندرہ دنوں میں آگے ہوتا ہے۔‏‏‏‏“ زید بن اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد اس سے لیلۃ القدر ہے۔‏‏‏‏“ پھر دن کی قسم کھائی جبکہ وہ منور ہو جائے یعنی سورج دن کو گھیر لے، بعض عربی دانوں نے یہ بھی کہا ہے کہ دن جبکہ اندھیرے کو روشن کر دے لیکن اگر یوں کہا جاتا کہ پھیلاوٹ کو وہ جب چمکا دے تو اور اچھا ہوتا ہے تاکہ «يَغْشَاهَا» میں بھی یہ معنی ٹھیک بیٹھتے، اسی لیے مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”دن کی قسم جبکہ وہ اسے روشن کر دے“، امام ابن جریر رحمہ اللہ اس قول کو پسند فرماتے ہیں کہ ان سب میں ضمیر «ھَا» کا مرجع «شَّمْسِ» ہے کیونکہ اسی کا ذکر چل رہا ہے، رات جبکہ اسے ڈھانپ لے یعنی سورج کو ڈھانپ لے اور چاروں طرف اندھیرا پھیل جائے۔ یزید بن ذی حمایہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”جب رات آتی ہے تو اللہ تعالیٰ جل جلالہ فرماتا ہے ’ میرے بندوں کو میری ایک بہت بڑی خلق نے چھپا لیا ‘ پس مخلوق رات سے ہیبت کرتی ہے حالانکہ اس کے پیدا کرنے والے سے زیادہ ہیبت کرنی چاہیئے۔ [ابن ابی حاتم] ‏‏‏‏

پھر آسمان کی قسم کھاتا ہے یہاں جو «مَا» ہے یہ مصدر یہ بھی ہو سکتا ہے، یعنی آسمان اور اس کی بناوٹ کی قسم۔ قتادہ رحمہ اللہ کا قول یہی ہے اور یہ «مَا» معنی میں «مَنْ» کے بھی ہو سکتا ہے تو مطلب یہ ہو گا کہ ’ آسمان کی قسم اور اس کے بنانے والے کی قسم ‘، یعنی خود اللہ کی۔ مجاہد رحمہ اللہ یہی فرماتے ہیں یہ دونوں معنی ایک دوسرے کو لازم ملزوم ہیں۔ «بَنا» کے معنی بلندی کے ہیں جیسے اور جگہ ہے «وَالسَّمَاء بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ وَالْأَرْضَ فَرَشْنَاهَا فَنِعْمَ الْمَاهِدُونَ» ۱؎ [51-الذریات:48-47] ‏‏‏‏، یعنی ’ آسمان کو ہم نے قوت کے ساتھ بنایا اور ہم کشادگی والے ہیں ہم نے زمین کو بچھایا اور کیا ہی اچھا ہم بچھانے والے ہیں ‘۔ اس طرح یہاں بھی فرمایا کہ ’ زمین کی اور اس کی ہمواری کی اسے بچھانے، پھیلانے کی اس کی تقسیم کی، اس کی مخلوق کی قسم ‘۔ زیادہ مشہور قول اس کی تفسیر میں پھیلانے کا ہے، اہل لغت کے نزدیک بھی یہی معروف ہے۔ جوہری فرماتے ہیں «طَحَوْتُهٗ» مثل «ودحَوْتُهٗ» کے ہے اور اس کے معنی پھیلانے کے ہیں اکثر مفسرین کا یہی قول ہے۔ پھر فرمایا ’ نفس کی اور اسے ٹھیک ٹھاک بنانے کی قسم ‘ یعنی اسے پیدا کیا اور آنحالیکہ یہ ٹھیک ٹھاک اور فطرت پر قائم تھا۔ جیسے اور جگہ ہے «فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا فِطْرَتَ اللَّـهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّـهِ» ۱؎ [30-الروم:30] ‏‏‏‏، ’ اپنے چہرے کو قائم رکھ دین حنیف کے لیے فطرت ہے، اللہ کی جس پر لوگوں کو بنایا اللہ کی خلق کی تبدیل نہیں ‘۔ حدیث میں ہے { ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا لیتے ہیں جیسے چوپائے جانور کا بچہ صحیح سالم پیدا ہوتا ہے کوئی ان میں کن کٹا نہ پاؤ گے }۔ [صحیح بخاری:1358] ‏‏‏‏

صحیح مسلم شریف کی ایک حدیث میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے اپنے بندے یکسوئی والے پیدا کئے ان کے پاس شیطان پہنچا اور دین سے ورغلا لیا }۔ [صحیح مسلم:2865] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے کہ ’ اللہ نے اس کے لیے بدکاری و پرہیزگاری کو بیان کر دیا اور جو چیز اس کی قسمت میں تھی اس کی طرف اس کی رہبری ہوئی ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”یعنی خیر و شر ظاہر کر دیا۔‏‏‏‏“ ابن جریر میں ہے ابوالاسود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے پوچھا: ذرا بتاؤ تو لوگ جو کچھ اعمال کرتے ہیں اور تکلیفیں اٹھا رہے ہیں یہ کیا ان کے لیے اللہ کی جانب سے مقرر ہو چکی ہیں اور ان کی تقدیر میں لکھی جا چکی ہیں یا یہ خود آئندہ کے لیے اپنے طور پر کر رہے ہیں اس بنا پر کہ انبیاء علیہم السلام ان کے پاس آ چکے اور اللہ کی حجت ان پر پوری ہوئی؟ میں نے جواب میں کہا نہیں نہیں بلکہ یہ چیز پہلے سے فیصل شدہ ہے اور مقدر ہو چکی ہے۔ سیدنا عمران رضی اللہ عنہ نے کہا پھر یہ ظلم تو نہ ہو گا میں تو اسے سن کر کانپ اٹھا اور گھبرا کر کہا کہ ہر چیز کا خالق مالک وہی اللہ ہے تمام ملک اسی کے ہاتھ میں ہے اس کے افعال کی باز پرس کوئی نہیں کر سکتا وہ سب سے سوال کر سکتا ہے میرا یہ جواب سن کر سیدنا عمران رضی اللہ عنہ بہت خوش ہوئے اور کہا اللہ تجھے درستگی عنایت فرمائے میں نے تو یہ سوالات اسی لیے کئے تھے کہ امتحان ہو جائے، سنو ایک شخص مزینہ یا جہینہ قبیلے کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہی سوال کیا جو میں نے پہلے تم سے کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی وہی جواب دیا جو تم نے دیا تو اس نے کہا پھر ہمارے اعمال سے کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواباً ارشاد فرمایا کہ جس کسی کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے جس منزل کے لیے پیدا کیا ہے اس سے ویسے ہی کام ہو کر رہیں گے اگر جنتی ہے تو اعمال جنت اور اگر دوزخی لکھا گیا ہے تو ویسے ہی اعمال اس پر آسان ہوں گے، سنو قرآن میں اس کی تصدیق موجود ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا» ۱؎ [91-الشمس:7،8] ‏‏‏‏ یہ حدیث مسلم شریف میں بھی ہے۔ [صحیح مسلم:2650] ‏‏‏‏

مسند احمد میں بھی ہے کہ { جس نے اپنے نفس کو پاک کیا وہ بامراد ہوا }، یعنی اطاعت رب میں لگا رہا نکمے اعمال رذیل اخلاق چھوڑ دئیے۔ جیسے اور جگہ ہے «دْ أَفْلَحَ مَن تَزَكَّىٰ وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهِ فَصَلَّىٰ» ۱؎ [87-الاعلیٰ:14-15] ‏‏‏‏ ’ جس نے پاکیزگی اختیار کی اور اپنے رب کا نام یاد کیا پھر نماز پڑھی اس نے کامیابی پا لی اور جس نے اپنے ضمیر کا ستیاناس کیا اور ہدایت سے ہٹا کر اسے برباد کیا، نافرمانیوں میں پڑ گیا اطاعت اللہ کو چھوڑ بیٹھا یہ ناکام اور نامراد ہوا ‘۔ اور یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ ’ جس کے نفس کو اللہ تعالیٰ نے پاک کیا اور بامراد ہوا اور جس کے نفس کو اللہ نے نیچے گرا دیا وہ برباد، خائب اور خاسر رہا ‘۔ عوفی اور علی بن ابوطلحہ رحمہ اللہ علیہم سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہی روایت کرتے ہیں، ابن ابی حاتم کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا» پڑھ کر فرمایا کہ جس نفس کو اللہ نے پاک کیا اس نے چھٹکارا پا لیا }۔ لیکن اس حدیث میں ایک علت تو یہ ہے کہ جویبربن سعید متروک الحدیث ہے دوسری علت یہ ہے کہ ضحاک جو عبداللہ سے روایت کرتے ہیں ان کی ملاقات ثابت نہیں۔ طبرانی کی حدیث میں ہے کہ { «فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا» پڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا پڑھی «اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا أَنْتَ وَلِيّهَا وَمَوْلَاهَا وَخَيْر مَنْ زَكَّاهَا» } ۱؎ [طبرانی کبیر:11191:ضعیف] ‏‏‏‏ ابن ابی حاتم کی حدیث میں یہ دعا یوں وارد ہوئی ہے «اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْر مَنْ زَكَّاهَا أَنْتَ وَلِيّهَا وَمَوْلَاهَا» ۔ ۱؎ [ابن ابی عاصم فی السنة:318:ضعیف] ‏‏‏‏ مسند احمد کی حدیث میں ہے { ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رات کو ایک مرتبہ میری آنکھ کھلی میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بستر پر نہیں، اندھیرے کی وجہ سے میں گھر میں اپنے ہاتھوں سے ٹٹولنے لگی تو میرے ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پڑے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت سجدے میں تھے اور یہ دعا پڑھ رہے تھے «رَبّ أَعْطِ نَفْسِي تَقْوَاهَا وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْر مَنْ زَكَّاهَا أَنْتَ وَلِيّهَا وَمَوْلَاهَا» } یہ حدیث صرف مسند احمد میں ہی ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:209/6:ضعیف] ‏‏‏‏

مسلم شریف اور مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگتے تھے «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذ بِك مِنْ الْعَجْز وَالْكَسَل وَالْهَرَم وَالْجُبْن وَالْبُخْل وَعَذَاب الْقَبْر اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْر مَنْ زَكَّاهَا أَنْتَ وَلِيّهَا وَمَوْلَاهَا اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذ بِك مِنْ قَلْب لَا يَخْشَع وَمِنْ نَفْس لَا تَشْبَع وَعِلْم لَا يَنْفَع وَدَعْوَة لَا يُسْتَجَاب لَهَا» یا اللہ! میں عاجزی، بیچارگی، سستی، تھکاوٹ، بڑھاپے، نامردی سے اور بخیلی اور عذاب قبر سے تیری پناہ چاہتا ہوں، اے اللہ میرے دل کو اس کا تقویٰ عطا فرما اور اسے پاک کر دے تو ہی اسے بہتر پاک کرنے والا ہے تو ہی اس کا والی اور مولیٰ ہے۔ اے اللہ! مجھے ایسے دل سے بچا جس میں تیرا ڈر نہ ہو اور ایسے نفس سے بچا جو آسودہ نہ ہو اور ایسے علم سے بچا جو نفع نہ دے اور ایسی دعا سے بچا جو قبول نہ کی جائے }۔ راوی حدیث میں زید بن ارقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ دعا سکھائی اور ہم تمہیں سکھاتے ہیں۔ [صحیح مسلم:2722] ‏‏‏‏
11۔ 1 طغیان، وہ سرکشی جو حد سے تجاوز کر جائے اسی طغیان نے انہیں تکذیب پر آمادہ کیا۔
(آیت 11) {كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ بِطَغْوٰىهَاۤ: ”طَغْوٰي“ (سركشی) ”طَغَا يَطْغُوْ“} (ن) کا مصدر ہے، جیسا کہ {”دَعَا يَدْعُوْ“} کا مصدر{”دَعْوٰي“} ہے۔ بطور مثال تاریخ میں سے ایک قوم کا ذکر فرمایا، جس نے سرکشی کی وجہ سے اپنے آپ کو مٹی میں دبا دیا۔ ثمود صالح علیہ السلام کی قوم تھی، ان کے معجزہ طلب کرنے پر انھیں ایک اونٹنی دی گئی اور انھیں کہا گیا کہ ایک دن اس کے پینے کی باری ہوگی اور ایک دن تم سب کے پانی لینے کی۔ دیکھیے سورۂ شعراء (۱۵۵)۔
اِذِ انۡۢبَعَثَ اَشۡقٰہَا ﴿۪ۙ۱۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جب اُس قوم کا سب سے زیادہ شقی آدمی بپھر کر اٹھا
مولانا محمد جوناگڑھی
جب ان میں کا بڑا بدبخت اٹھ کھڑا ہوا
احمد رضا خان بریلوی
جبکہ اس کا سب سے بدبخت اٹھ کھڑا ہوا،
علامہ محمد حسین نجفی
جب ان کا سب سے زیادہ بدبخت (آدمی) اٹھ کھڑا ہوا۔
عبدالسلام بن محمد
جب اس کا سب سے بڑا بدبخت اٹھا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آل ثمود کی تباہی کے اسباب ٭٭

اللہ تعالیٰٰ بیان فرما رہا ہے کہ ثمودیوں نے اپنی سرکشی، تکبر و تجّبر کی بناء پر اپنے رسول کی تصدیق نہ کی۔ محمد بن کعب رحمہ اللہ فرماتے ہیں ” «بِطَغْوَاهَا» کا مطلب یہ ہے کہ ان سب نے تکذیب کی“ لیکن پہلی بات ہی زیادہ اولیٰ ہے۔ مجاہد اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم نے بھی یہی بیان کیا ہے، اس سرکشی اور تکذیب کی شامت سے یہ اس قدر بدبخت ہو گئی کہ ان میں سے جو زیادہ بد شخص تھا وہ تیار ہو گیا اس کا نام قدار بن سالف تھا اسی نے صالح علیہ السلام کی اونٹنی کی کوچیں کاٹی تھیں۔ اسی کے بارے میں فرمان ہے «فَنَادَوْا صَاحِبَهُمْ فَتَعَاطَىٰ فَعَقَرَ» ۱؎ [54-القمر:29] ‏‏‏‏ ثمودیوں کی آواز پر یہ آ گیا اور اس نے اونٹنی کو مار ڈالا، یہ شخص اس قوم میں ذی عزت تھا شریف تھا ذی نسب تھا قوم کا رئیس اور سردار تھا۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ اپنے خطبے میں اس اونٹنی کا اور اس کے مار ڈالنے والے کا ذکر کیا اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا کہ جیسے ابوزمعہ تھا اسی جیسا یہ شخص بھی اپنی قوم میں شریف عزیز اور بڑا آدمی تھا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4942] ‏‏‏‏ امام بخاری رحمہ اللہ بھی اسے تفسیر میں اور امام مسلم رحمہ اللہ جہنم کی صفت میں لائے ہیں اور سنن ترمذی، سنن نسائی میں بھی یہ روایت تفسیر میں ہے۔

ابن ابی حاتم میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ میں تجھے دنیا بھر کے بدبخت ترین دو شخص بتاتا ہوں ایک تو احیمر ثمود جس نے اونٹنی کو مار ڈالا اور دوسرا وہ شخص جو تیری پیشانی پر زخم لگائے گا یہاں تک کہ داڑھی خون سے تربتر ہو جائے گی }۔ [مسند احمد:263/4:حسن لغیرہ] ‏‏‏‏ اللہ کے رسول صالح علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ ”اے قوم اللہ کی اونٹنی کو برائی پہنچانے سے ڈرو، اس کے پانی پینے کے مقرر دن میں ظلم کر کے اسے پانی سے نہ روکو تمہاری اور اس کی باری مقرر ہے۔‏‏‏‏“ لیکن ان بدبختوں نے پیغمبر علیہ السلام کی نہ مانی جس گناہ کے باعث ان کے دل سخت ہو گئے اور پھر یہ صاف طور پر مقابلہ کے لیے تیار ہو گئے اور اس اونٹنی کی کوچیں کاٹ دیں، جسے اللہ تعالیٰ نے بغیر ماں باپ کے پتھر کی ایک چٹان سے پیدا کیا تھا جو صالح علیہ السلام کا معجزہ اور اللہ کی قدرت کی کامل نشانی تھی اللہ بھی ان پر غضبناک ہو گیا اور ہلاکت ڈال دی، اور سب پر ابر سے عذاب اترا۔ یہ اس لیے کہ احیمر ثمود کے ہاتھ پر اس کی قوم کے چھوٹے بڑوں نے مرد و عورت نے بیعت کر لی تھی اور سب کے مشورے سے اس نے اس اونٹنی کو کاٹا تھا اس لیے عذاب میں بھی سب پکڑے گئے۔ «وَلَا يَخَافُ» کو «فَلَا یَخَافُ» بھی پڑھا گیا ہے، مطلب یہ ہے کہ اللہ کسی کو سزا کرے تو اسے یہ خوف نہیں ہوتا کہ اس کا انجام کیا ہو گا؟ کہیں یہ بگڑ نہ بیٹھیں، یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ اس بدکار، احیمر نے اونٹنی کو مار تو ڈالا لیکن انجام سے نہ ڈرا، مگر پہلا قول ہی اولیٰ ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ الشمس کی تفسیر ختم ہوئی۔
12۔ 1 جس کا نام مفسرین قدار بن سالف بتلاتے ہیں سب سے بڑا شقی اور بدبخت۔
(آیت 12) {اِذِ انْۢبَعَثَ اَشْقٰىهَا:} جن لوگوں کے مویشی زیادہ تھے ان پر یہ پابندی بہت شاق گزری اور انھوں نے اس اونٹنی کو کاٹ ڈالنے پر اتفاق کر لیا، مگر اس کام کا بیڑا ان کے سب سے بڑے بدبخت نے اٹھایا۔ تاریخ اور شعر عرب میں اس کا نام قدار بن سالف بیان کیا گیا ہے۔
فَقَالَ لَہُمۡ رَسُوۡلُ اللّٰہِ نَاقَۃَ اللّٰہِ وَ سُقۡیٰہَا ﴿ؕ۱۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
تو اللہ کے رسول نے اُن لوگوں سے کہا کہ خبردار، اللہ کی اونٹنی کو (ہاتھ نہ لگانا) اوراُس کے پانی پینے (میں مانع نہ ہونا)
مولانا محمد جوناگڑھی
انہیں اللہ کے رسول نے فرما دیا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی اونٹنی اور اس کے پینے کی باری کی (حفاﻇت کرو)
احمد رضا خان بریلوی
تو ان سے اللہ کے رسول نے فرمایا اللہ کے ناقہ اور اس کی پینے کی باری سے بچو
علامہ محمد حسین نجفی
تو اللہ کے رسول(ع) (صالح(ع)) نے ان لوگوں سے کہا کہ اللہ کی اونٹنی اور اس کے پانی پینے سے خبر دار رہنا (اس کا خیال رکھنا)۔
عبدالسلام بن محمد
تو ان سے اللہ کے رسول نے کہا اللہ کی اونٹنی اور اس کے پینے کی باری (کا خیال رکھو)۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آل ثمود کی تباہی کے اسباب ٭٭

اللہ تعالیٰٰ بیان فرما رہا ہے کہ ثمودیوں نے اپنی سرکشی، تکبر و تجّبر کی بناء پر اپنے رسول کی تصدیق نہ کی۔ محمد بن کعب رحمہ اللہ فرماتے ہیں ” «بِطَغْوَاهَا» کا مطلب یہ ہے کہ ان سب نے تکذیب کی“ لیکن پہلی بات ہی زیادہ اولیٰ ہے۔ مجاہد اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم نے بھی یہی بیان کیا ہے، اس سرکشی اور تکذیب کی شامت سے یہ اس قدر بدبخت ہو گئی کہ ان میں سے جو زیادہ بد شخص تھا وہ تیار ہو گیا اس کا نام قدار بن سالف تھا اسی نے صالح علیہ السلام کی اونٹنی کی کوچیں کاٹی تھیں۔ اسی کے بارے میں فرمان ہے «فَنَادَوْا صَاحِبَهُمْ فَتَعَاطَىٰ فَعَقَرَ» ۱؎ [54-القمر:29] ‏‏‏‏ ثمودیوں کی آواز پر یہ آ گیا اور اس نے اونٹنی کو مار ڈالا، یہ شخص اس قوم میں ذی عزت تھا شریف تھا ذی نسب تھا قوم کا رئیس اور سردار تھا۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ اپنے خطبے میں اس اونٹنی کا اور اس کے مار ڈالنے والے کا ذکر کیا اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا کہ جیسے ابوزمعہ تھا اسی جیسا یہ شخص بھی اپنی قوم میں شریف عزیز اور بڑا آدمی تھا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4942] ‏‏‏‏ امام بخاری رحمہ اللہ بھی اسے تفسیر میں اور امام مسلم رحمہ اللہ جہنم کی صفت میں لائے ہیں اور سنن ترمذی، سنن نسائی میں بھی یہ روایت تفسیر میں ہے۔

ابن ابی حاتم میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ میں تجھے دنیا بھر کے بدبخت ترین دو شخص بتاتا ہوں ایک تو احیمر ثمود جس نے اونٹنی کو مار ڈالا اور دوسرا وہ شخص جو تیری پیشانی پر زخم لگائے گا یہاں تک کہ داڑھی خون سے تربتر ہو جائے گی }۔ [مسند احمد:263/4:حسن لغیرہ] ‏‏‏‏ اللہ کے رسول صالح علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ ”اے قوم اللہ کی اونٹنی کو برائی پہنچانے سے ڈرو، اس کے پانی پینے کے مقرر دن میں ظلم کر کے اسے پانی سے نہ روکو تمہاری اور اس کی باری مقرر ہے۔‏‏‏‏“ لیکن ان بدبختوں نے پیغمبر علیہ السلام کی نہ مانی جس گناہ کے باعث ان کے دل سخت ہو گئے اور پھر یہ صاف طور پر مقابلہ کے لیے تیار ہو گئے اور اس اونٹنی کی کوچیں کاٹ دیں، جسے اللہ تعالیٰ نے بغیر ماں باپ کے پتھر کی ایک چٹان سے پیدا کیا تھا جو صالح علیہ السلام کا معجزہ اور اللہ کی قدرت کی کامل نشانی تھی اللہ بھی ان پر غضبناک ہو گیا اور ہلاکت ڈال دی، اور سب پر ابر سے عذاب اترا۔ یہ اس لیے کہ احیمر ثمود کے ہاتھ پر اس کی قوم کے چھوٹے بڑوں نے مرد و عورت نے بیعت کر لی تھی اور سب کے مشورے سے اس نے اس اونٹنی کو کاٹا تھا اس لیے عذاب میں بھی سب پکڑے گئے۔ «وَلَا يَخَافُ» کو «فَلَا یَخَافُ» بھی پڑھا گیا ہے، مطلب یہ ہے کہ اللہ کسی کو سزا کرے تو اسے یہ خوف نہیں ہوتا کہ اس کا انجام کیا ہو گا؟ کہیں یہ بگڑ نہ بیٹھیں، یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ اس بدکار، احیمر نے اونٹنی کو مار تو ڈالا لیکن انجام سے نہ ڈرا، مگر پہلا قول ہی اولیٰ ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ الشمس کی تفسیر ختم ہوئی۔
13۔ 1 یعنی اس اونٹنی کو کوئی نقصان نہ پہنچائے، اسی طرح اس کے لئے پانی پینے کا جو دن ہو، اس میں بھی گڑ بڑ نہ کی جائے، اونٹنی اور قوم ثمود دونوں کے لیے پانی کا ایک دن مقرر کردیا گیا تھا اس کی حفاظت کی تاکید کی گئی لیکن ان ظالموں نے اس کی پروا نہ کی۔
(آیت 13) {فَقَالَ لَهُمْ رَسُوْلُ اللّٰهِ نَاقَةَ اللّٰهِ وَ سُقْيٰهَا:نَاقَةَ اللّٰهِ “} (اللہ کی اونٹنی) فعل محذوف {”اِتَّقُوْا“} کی وجہ سے منصوب ہے۔ یہ نسبت اس اونٹنی کے شرف اور خصوصیت کی وجہ سے ہے، (جیسے ”بیت اللہ“ میں ہے) ورنہ سب اونٹنیاں اللہ ہی کی ہیں۔
فَکَذَّبُوۡہُ فَعَقَرُوۡہَا ۪۬ۙ فَدَمۡدَمَ عَلَیۡہِمۡ رَبُّہُمۡ بِذَنۡۢبِہِمۡ فَسَوّٰىہَا ﴿۪ۙ۱۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
مگر انہوں نے اُس کی بات کو جھوٹا قرار دیا اور اونٹنی کو مار ڈالا آخرکار اُن کے گناہ کی پاداش میں ان کے رب نے ان پر ایسی آفت توڑی کہ ایک ساتھ سب کو پیوند خاک کر دیا
مولانا محمد جوناگڑھی
ان لوگوں نے اپنے پیغمبر کو جھوٹا سمجھ کر اس اونٹنی کی کوچیں کاٹ دیں، پس ان کے رب نے ان کے گناہوں کے باعﺚ ان پر ہلاکت ڈالی اور پھر ہلاکت کو عام کر دیا اور اس بستی کو برابر کردیا
احمد رضا خان بریلوی
تو انہوں نے اسے جھٹلایا پھر ناقہ کی کوچیں کاٹ دیں تو ان پر ان کے رب نے ان کے گناہ کے سبب تباہی ڈال کر وہ بستی برابر کردی
علامہ محمد حسین نجفی
پس ان لوگوں نے ان (رسول(ع)) کو جھٹلایا اور اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں تو ان کے پروردگار نے ان کے گناہ (عظیم) کی پاداش میں ان پر ہلاکت نازل کی اور اسی (بستی) کو زمین کے برابر کر دیا۔
عبدالسلام بن محمد
تو انھوں نے اسے جھٹلا دیا، پس اس (اونٹنی) کی کونچیں کاٹ دیں، تو ان کے رب نے انھیں ان کے گناہ کی وجہ سے پیس کر ہلاک کر دیا، پھر اس ( بستی) کو برابر کر دیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آل ثمود کی تباہی کے اسباب ٭٭

اللہ تعالیٰٰ بیان فرما رہا ہے کہ ثمودیوں نے اپنی سرکشی، تکبر و تجّبر کی بناء پر اپنے رسول کی تصدیق نہ کی۔ محمد بن کعب رحمہ اللہ فرماتے ہیں ” «بِطَغْوَاهَا» کا مطلب یہ ہے کہ ان سب نے تکذیب کی“ لیکن پہلی بات ہی زیادہ اولیٰ ہے۔ مجاہد اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم نے بھی یہی بیان کیا ہے، اس سرکشی اور تکذیب کی شامت سے یہ اس قدر بدبخت ہو گئی کہ ان میں سے جو زیادہ بد شخص تھا وہ تیار ہو گیا اس کا نام قدار بن سالف تھا اسی نے صالح علیہ السلام کی اونٹنی کی کوچیں کاٹی تھیں۔ اسی کے بارے میں فرمان ہے «فَنَادَوْا صَاحِبَهُمْ فَتَعَاطَىٰ فَعَقَرَ» ۱؎ [54-القمر:29] ‏‏‏‏ ثمودیوں کی آواز پر یہ آ گیا اور اس نے اونٹنی کو مار ڈالا، یہ شخص اس قوم میں ذی عزت تھا شریف تھا ذی نسب تھا قوم کا رئیس اور سردار تھا۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ اپنے خطبے میں اس اونٹنی کا اور اس کے مار ڈالنے والے کا ذکر کیا اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا کہ جیسے ابوزمعہ تھا اسی جیسا یہ شخص بھی اپنی قوم میں شریف عزیز اور بڑا آدمی تھا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4942] ‏‏‏‏ امام بخاری رحمہ اللہ بھی اسے تفسیر میں اور امام مسلم رحمہ اللہ جہنم کی صفت میں لائے ہیں اور سنن ترمذی، سنن نسائی میں بھی یہ روایت تفسیر میں ہے۔

ابن ابی حاتم میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ میں تجھے دنیا بھر کے بدبخت ترین دو شخص بتاتا ہوں ایک تو احیمر ثمود جس نے اونٹنی کو مار ڈالا اور دوسرا وہ شخص جو تیری پیشانی پر زخم لگائے گا یہاں تک کہ داڑھی خون سے تربتر ہو جائے گی }۔ [مسند احمد:263/4:حسن لغیرہ] ‏‏‏‏ اللہ کے رسول صالح علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ ”اے قوم اللہ کی اونٹنی کو برائی پہنچانے سے ڈرو، اس کے پانی پینے کے مقرر دن میں ظلم کر کے اسے پانی سے نہ روکو تمہاری اور اس کی باری مقرر ہے۔‏‏‏‏“ لیکن ان بدبختوں نے پیغمبر علیہ السلام کی نہ مانی جس گناہ کے باعث ان کے دل سخت ہو گئے اور پھر یہ صاف طور پر مقابلہ کے لیے تیار ہو گئے اور اس اونٹنی کی کوچیں کاٹ دیں، جسے اللہ تعالیٰ نے بغیر ماں باپ کے پتھر کی ایک چٹان سے پیدا کیا تھا جو صالح علیہ السلام کا معجزہ اور اللہ کی قدرت کی کامل نشانی تھی اللہ بھی ان پر غضبناک ہو گیا اور ہلاکت ڈال دی، اور سب پر ابر سے عذاب اترا۔ یہ اس لیے کہ احیمر ثمود کے ہاتھ پر اس کی قوم کے چھوٹے بڑوں نے مرد و عورت نے بیعت کر لی تھی اور سب کے مشورے سے اس نے اس اونٹنی کو کاٹا تھا اس لیے عذاب میں بھی سب پکڑے گئے۔ «وَلَا يَخَافُ» کو «فَلَا یَخَافُ» بھی پڑھا گیا ہے، مطلب یہ ہے کہ اللہ کسی کو سزا کرے تو اسے یہ خوف نہیں ہوتا کہ اس کا انجام کیا ہو گا؟ کہیں یہ بگڑ نہ بیٹھیں، یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ اس بدکار، احیمر نے اونٹنی کو مار تو ڈالا لیکن انجام سے نہ ڈرا، مگر پہلا قول ہی اولیٰ ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ الشمس کی تفسیر ختم ہوئی۔
14۔ 1 یہ کام ایک شخص قدار نے کیا تھا لیکن چوں کہ اس شرارت میں قوم بھی اس کے ساتھ تھی اس لیے اس میں سب کو برابر کا مجرم قرار دیا گیا، اور تکذیب اور اونٹنی کی کوچیں کاٹنے کی نسبت پوری قوم کی طرف کی گئی، جس سے یہ اصول معلوم ہوا کہ ایک برائی پر نکیر کرنے کے بجائے اسے پسند کرتی ہو تو اللہ کے ہاں پوری قوم اس برائی کی مرتکب قرار پائے گی اور اس جرم یا برائی میں برابر کی شریک سمجھی جائے گی۔ 14۔ 2 ان کو ہلاک کردیا اور ان پر سخت عذاب نازل کیا۔ 14۔ 3۔ یعنی اس عذاب میں سب کو برابر کردیا، کسی کو نہیں چھوڑا، چھوٹا بڑا، سب کو نیست ونابود کردیا گیا یا زمین کو ان پر برابر کردیا یعنی سب کو تہ خاک کردیا۔
(آیت 14) ➊ {فَكَذَّبُوْهُ فَعَقَرُوْهَا:} اگرچہ ایک آدمی نے کونچیں کاٹ کر اسے ہلاک کیا تھا، لیکن چونکہ ساری قوم اس کے ساتھ تھی بلکہ انھی کے کہنے پر اس نے یہ کام کیا تھا، اس لیے ان سب کو مجرم قرار دیا گیا اور فرمایا کہ ” انھوں نے اس کی کونچیں کاٹ دیں۔“ ➋ {فَدَمْدَمَ عَلَيْهِمْ رَبُّهُمْ بِذَنْۢبِهِمْ فَسَوّٰىهَا …:} قاموس میں ہے: {”دَمَّمَ الْقَوْمَ كَدَمْدَمَهُمْ وَ دَمْدَمَ عَلَيْهِمْ، طَحَنَهُمْ فَأَهْلَكَهُمْ۔“ ”دَمْدَمَ عَلَيْهِمْ“} اس نے انھیں پیس کر ہلاک کر دیا۔ اونٹنی کو مار ڈالنے کے تین دن بعد ان پر ایک زبردست غیبی چیخ کے ساتھ عذاب آیا اور وہ اس طرح نابود ہوگئے جیسے کبھی وہاں تھے ہی نہیں، صرف صالح علیہ السلام اور اہل ایمان بچے۔ سورۂ ہود (۶۲ تا ۶۸)، اعراف (۷۳ تا ۷۹) اور سورۂ شعراء (۱۴۱ تا ۱۵۹) میں یہ واقعہ تفصیل سے گزرچکا ہے۔
وَ لَا یَخَافُ عُقۡبٰہَا ﴿٪۱۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور اسے (اپنے ا س فعل کے) کسی برے نتیجے کا کوئی خوف نہیں ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
وه نہیں ڈرتا اس کے تباه کن انجام سے
احمد رضا خان بریلوی
اور اس کے پیچھا کرنے والے کا اسے خوف نہیں
علامہ محمد حسین نجفی
اور اللہ کو اس واقعہ کے انجام کا کوئی خوف نہیں ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہ اس (سزا) کے انجام سے نہیں ڈرتا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آل ثمود کی تباہی کے اسباب ٭٭

اللہ تعالیٰٰ بیان فرما رہا ہے کہ ثمودیوں نے اپنی سرکشی، تکبر و تجّبر کی بناء پر اپنے رسول کی تصدیق نہ کی۔ محمد بن کعب رحمہ اللہ فرماتے ہیں ” «بِطَغْوَاهَا» کا مطلب یہ ہے کہ ان سب نے تکذیب کی“ لیکن پہلی بات ہی زیادہ اولیٰ ہے۔ مجاہد اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم نے بھی یہی بیان کیا ہے، اس سرکشی اور تکذیب کی شامت سے یہ اس قدر بدبخت ہو گئی کہ ان میں سے جو زیادہ بد شخص تھا وہ تیار ہو گیا اس کا نام قدار بن سالف تھا اسی نے صالح علیہ السلام کی اونٹنی کی کوچیں کاٹی تھیں۔ اسی کے بارے میں فرمان ہے «فَنَادَوْا صَاحِبَهُمْ فَتَعَاطَىٰ فَعَقَرَ» ۱؎ [54-القمر:29] ‏‏‏‏ ثمودیوں کی آواز پر یہ آ گیا اور اس نے اونٹنی کو مار ڈالا، یہ شخص اس قوم میں ذی عزت تھا شریف تھا ذی نسب تھا قوم کا رئیس اور سردار تھا۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ اپنے خطبے میں اس اونٹنی کا اور اس کے مار ڈالنے والے کا ذکر کیا اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا کہ جیسے ابوزمعہ تھا اسی جیسا یہ شخص بھی اپنی قوم میں شریف عزیز اور بڑا آدمی تھا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4942] ‏‏‏‏ امام بخاری رحمہ اللہ بھی اسے تفسیر میں اور امام مسلم رحمہ اللہ جہنم کی صفت میں لائے ہیں اور سنن ترمذی، سنن نسائی میں بھی یہ روایت تفسیر میں ہے۔

ابن ابی حاتم میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ میں تجھے دنیا بھر کے بدبخت ترین دو شخص بتاتا ہوں ایک تو احیمر ثمود جس نے اونٹنی کو مار ڈالا اور دوسرا وہ شخص جو تیری پیشانی پر زخم لگائے گا یہاں تک کہ داڑھی خون سے تربتر ہو جائے گی }۔ [مسند احمد:263/4:حسن لغیرہ] ‏‏‏‏ اللہ کے رسول صالح علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ ”اے قوم اللہ کی اونٹنی کو برائی پہنچانے سے ڈرو، اس کے پانی پینے کے مقرر دن میں ظلم کر کے اسے پانی سے نہ روکو تمہاری اور اس کی باری مقرر ہے۔‏‏‏‏“ لیکن ان بدبختوں نے پیغمبر علیہ السلام کی نہ مانی جس گناہ کے باعث ان کے دل سخت ہو گئے اور پھر یہ صاف طور پر مقابلہ کے لیے تیار ہو گئے اور اس اونٹنی کی کوچیں کاٹ دیں، جسے اللہ تعالیٰ نے بغیر ماں باپ کے پتھر کی ایک چٹان سے پیدا کیا تھا جو صالح علیہ السلام کا معجزہ اور اللہ کی قدرت کی کامل نشانی تھی اللہ بھی ان پر غضبناک ہو گیا اور ہلاکت ڈال دی، اور سب پر ابر سے عذاب اترا۔ یہ اس لیے کہ احیمر ثمود کے ہاتھ پر اس کی قوم کے چھوٹے بڑوں نے مرد و عورت نے بیعت کر لی تھی اور سب کے مشورے سے اس نے اس اونٹنی کو کاٹا تھا اس لیے عذاب میں بھی سب پکڑے گئے۔ «وَلَا يَخَافُ» کو «فَلَا یَخَافُ» بھی پڑھا گیا ہے، مطلب یہ ہے کہ اللہ کسی کو سزا کرے تو اسے یہ خوف نہیں ہوتا کہ اس کا انجام کیا ہو گا؟ کہیں یہ بگڑ نہ بیٹھیں، یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ اس بدکار، احیمر نے اونٹنی کو مار تو ڈالا لیکن انجام سے نہ ڈرا، مگر پہلا قول ہی اولیٰ ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ الشمس کی تفسیر ختم ہوئی۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 15) {وَ لَا يَخَافُ عُقْبٰهَا: ”هَا“} ضمیر کا مرجع وہ {” دَمْدَمَةٌ “} ہے جو {” فَدَمْدَمَ عَلَيْهِمْ رَبُّهُمْ “} کے ضمن میں موجود ہے۔ یعنی دنیا کے بادشاہ کسی کو قتل کرتے ہیں تو ڈرتے ہیں کہ نامعلوم اس کا انجام کیا ہوگا؟ مقتول کا کوئی وارث بدلا لینے کے لیے نہ اٹھ کھڑا ہو یا ملک میں بغاوت نہ ہو جائے، لیکن اللہ تعالیٰ کو ایسا کوئی خطرہ نہیں۔