بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الصافات — Surah Saffat
آیت نمبر 25
کل آیات: 182
قرآن کریم الصافات آیت 25
آیت نمبر: 25 — سورۃ الصافات islamicurdubooks.com ↗
مَا لَکُمۡ لَا تَنَاصَرُوۡنَ ﴿۲۵﴾
"کیا ہو گیا تمہیں، اب کیوں ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے؟
تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ (اس وقت) تم ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے
تمہیں کیا ہوا ایک دوسرے کی مدد کیوں نہیں کرتے
تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے؟
کیا ہے تمھیں ، تم ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے؟

📖 تفسیر ابن کثیر

قیامت والے دن کفار کا اپنے تئیں ملامت کرنا اور پچھتانا ٭٭

قیامت والے دن کفار کا اپنے تئیں ملامت کرنا اور پچھتانا اور افسوس و حسرت کرنا بیان ہو رہا ہے کہ ’ وہ نادم ہو کر قیامت کے دہشت خیز اور وحشت انگیز امور کو دیکھ کر کہیں گے ہائے ہائے یہی تو روز جزا ہے ‘۔ تو مومن اور فرشتے بطور ڈانٹ ڈپٹ اور ندامت بڑھانے کے ان سے کہیں گے ہاں یہی تو وہ فیصلے کا دن ہے جسے تم سچا نہیں مانتے تھے۔ اس دن اللہ کی طرف سے فرشتوں کو حکم ہو گا کہ ظالموں کو ان کے جوڑوں کو ان کے بھائی بندوں کو اور ان جیسوں کو ایک جا جمع کرو۔ مثلاً زانی زانیوں کے ساتھ سود خوار سود خواروں کے ساتھ شرابی شرابیوں کے ساتھ وغیرہ، ایک قول یہ بھی ہے کہ ظالموں کو اور ان کی عورتوں کو، لیکن یہ غریب ہے۔ ٹھیک مطلب یہی ہے کہ انہی جیسوں کو اور ان کے ساتھ ہی جن بتوں کو اور جن جن کو شریک اللہ یہ مقرر کئے ہوئے تھے سب کو جمع کرو۔ پھر ان سب کو جہنم کا راستہ دکھاؤ جیسے فرمان ہے۔ «وَنَحْشُرُهُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ عَلٰي وُجُوْهِهِمْ عُمْيًا وَّبُكْمًا وَّصُمًّا مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ كُلَّمَا خَبَتْ زِدْنٰهُمْ سَعِيْرًا» ۱؎ [17-الإسراء:97] ‏‏‏‏، یعنی ’ انہیں ان کے منہ کے بل اندھے بہرے گونگے کر کے ہم جمع کریں گے پھر ان کا ٹھکانا جہنم ہو گا جس کی آگ جب کبھی ہلکی ہو جائے ہم اسے اور بھڑکا دیں گے۔ انہیں جہنم کے پاس کچھ دیر ٹھہرا دو تاکہ ہم ان سے پوچھ گچھ کر لیں، ان سے حساب لے لیں‘۔

ابن ابی حاتم میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جو شخص کسی کو کسی چیز کی طرف بلائے۔ وہ قیامت کے دن اس کے ساتھ کھڑاکیا جائے گا نہ بے وفائی ہو گی نہ جدائی ہو گی گو ایک کو ہی بلایا ہو۔ } پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3228،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ عثمان بن زائدہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”سب سے پہلے انسان سے اس کے ساتھیوں کی بابت سوال کیا جائے گا۔ پھر ان سے پوچھا جائے گا کہ کیوں آج ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے؟ تم تو دنیا میں کہتے پھرتے تھے کہ ہم سب ایک ساتھ ہیں اور ایک دوسرے کے مددگار ہیں۔ یہ تو کہاں؟ بلکہ آج تو یہ ہتھیار ڈال چکے اللہ کے فرمانبردار بن گئے۔ نہ اللہ کے کسی فرمان کا خلاف کریں نہ کر سکیں نہ اس سے بچ سکیں نہ وہاں سے بھاگ سکیں۔‏‏‏‏“ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 25) {مَا لَكُمْ لَا تَنَاصَرُوْنَ:” تَنَاصَرُوْنَ “} (تفاعل) اصل میں {”تَتَنَاصَرُوْنَ“} ہے، ایک تاء تخفیف کے لیے حذف کر دی ہے۔ باب تفاعل میں تشارک ہوتا ہے، {”تَنَاصَرَ“} ایک دوسرے کی مدد کرنا۔ اعمال کے محاسبے کے ساتھ ساتھ انھیں ذلیل کرنے کے لیے اور ان کے خداؤں کی بے بسی ظاہر کرنے کے لیے ایک سوال یہ ہوگا کہ تم تو کہا کرتے تھے: «‏‏‏‏نَحْنُ جَمِيْعٌ مُّنْتَصِرٌ» [ القمر: ۴۴ ] ”ہم ایک جماعت ہیں جو بدلا لے کر رہنے والے ہیں۔“ یا جیسا کہ تمھارا دعویٰ تھا کہ قیامت کے دن ہمارے معبود ہمیں بچا لیں گے، اب تمھیں کیا ہوا کہ تم ایک دوسرے کی مدد نہیں کر رہے؟
← پچھلی آیت (24) پوری سورۃ اگلی آیت (26) →