بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الصافات — Surah Saffat
آیت نمبر 21
کل آیات: 182
قرآن کریم الصافات آیت 21
آیت نمبر: 21 — سورۃ الصافات islamicurdubooks.com ↗
ہٰذَا یَوۡمُ الۡفَصۡلِ الَّذِیۡ کُنۡتُمۡ بِہٖ تُکَذِّبُوۡنَ ﴿٪۲۱﴾
"یہ وہی فیصلے کا دن ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے"
یہی فیصلہ کا دن ہے جسے تم جھٹلاتے رہے
یہ ہے وہ فیصلے کا دن جسے تم جھٹلاتے تھے
(ہاں) یہ وہی فیصلہ کا دن ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔
یہی فیصلے کا دن ہے، جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

قیامت والے دن کفار کا اپنے تئیں ملامت کرنا اور پچھتانا ٭٭

قیامت والے دن کفار کا اپنے تئیں ملامت کرنا اور پچھتانا اور افسوس و حسرت کرنا بیان ہو رہا ہے کہ ’ وہ نادم ہو کر قیامت کے دہشت خیز اور وحشت انگیز امور کو دیکھ کر کہیں گے ہائے ہائے یہی تو روز جزا ہے ‘۔ تو مومن اور فرشتے بطور ڈانٹ ڈپٹ اور ندامت بڑھانے کے ان سے کہیں گے ہاں یہی تو وہ فیصلے کا دن ہے جسے تم سچا نہیں مانتے تھے۔ اس دن اللہ کی طرف سے فرشتوں کو حکم ہو گا کہ ظالموں کو ان کے جوڑوں کو ان کے بھائی بندوں کو اور ان جیسوں کو ایک جا جمع کرو۔ مثلاً زانی زانیوں کے ساتھ سود خوار سود خواروں کے ساتھ شرابی شرابیوں کے ساتھ وغیرہ، ایک قول یہ بھی ہے کہ ظالموں کو اور ان کی عورتوں کو، لیکن یہ غریب ہے۔ ٹھیک مطلب یہی ہے کہ انہی جیسوں کو اور ان کے ساتھ ہی جن بتوں کو اور جن جن کو شریک اللہ یہ مقرر کئے ہوئے تھے سب کو جمع کرو۔ پھر ان سب کو جہنم کا راستہ دکھاؤ جیسے فرمان ہے۔ «وَنَحْشُرُهُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ عَلٰي وُجُوْهِهِمْ عُمْيًا وَّبُكْمًا وَّصُمًّا مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ كُلَّمَا خَبَتْ زِدْنٰهُمْ سَعِيْرًا» ۱؎ [17-الإسراء:97] ‏‏‏‏، یعنی ’ انہیں ان کے منہ کے بل اندھے بہرے گونگے کر کے ہم جمع کریں گے پھر ان کا ٹھکانا جہنم ہو گا جس کی آگ جب کبھی ہلکی ہو جائے ہم اسے اور بھڑکا دیں گے۔ انہیں جہنم کے پاس کچھ دیر ٹھہرا دو تاکہ ہم ان سے پوچھ گچھ کر لیں، ان سے حساب لے لیں‘۔

ابن ابی حاتم میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جو شخص کسی کو کسی چیز کی طرف بلائے۔ وہ قیامت کے دن اس کے ساتھ کھڑاکیا جائے گا نہ بے وفائی ہو گی نہ جدائی ہو گی گو ایک کو ہی بلایا ہو۔ } پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3228،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ عثمان بن زائدہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”سب سے پہلے انسان سے اس کے ساتھیوں کی بابت سوال کیا جائے گا۔ پھر ان سے پوچھا جائے گا کہ کیوں آج ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے؟ تم تو دنیا میں کہتے پھرتے تھے کہ ہم سب ایک ساتھ ہیں اور ایک دوسرے کے مددگار ہیں۔ یہ تو کہاں؟ بلکہ آج تو یہ ہتھیار ڈال چکے اللہ کے فرمانبردار بن گئے۔ نہ اللہ کے کسی فرمان کا خلاف کریں نہ کر سکیں نہ اس سے بچ سکیں نہ وہاں سے بھاگ سکیں۔‏‏‏‏“ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

📖 احسن البیان

21۔ 1 فرشتے اور اہل ایمان کہیں گے کہ یہ وہی فیصلے کا دن ہے جسے تم مانتے نہیں تھے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ آپس میں ایک دوسرے کو کہیں گے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 21) {هٰذَا يَوْمُ الْفَصْلِ الَّذِيْ كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَ:} اس وقت فرشتے اور مومن انھیں کہیں گے، یا وہ خود ایک دوسرے کو ملامت کے لیے کہیں گے، ہاں! یہی وہ فیصلے کا دن ہے جسے تم نہیں مانتے تھے۔
← پچھلی آیت (20) پوری سورۃ اگلی آیت (22) →