بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الصافات — Surah Saffat
آیت نمبر 18
کل آیات: 182
قرآن کریم الصافات آیت 18
آیت نمبر: 18 — سورۃ الصافات islamicurdubooks.com ↗
قُلۡ نَعَمۡ وَ اَنۡتُمۡ دَاخِرُوۡنَ ﴿ۚ۱۸﴾
اِن سے کہو ہاں، اور تم (خدا کے مقابلے میں) بے بس ہو
آپ جواب دیجئے! کہ ہاں ہاں اور تم ذلیل (بھی) ہوں گے
تم فرماؤ ہاں یوں کہ ذلیل ہو کے،
آپ کہیے کہ ہاں اور تم (اس وقت) ذلیل و خوار ہوگے۔
کہہ دے ہاں! اور تم ذلیل ہو گے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

اللہ کے لیئے دوبارہ پیدا کرنا دشوار نہیں ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ ’ ان منکرین قیامت سے پوچھو کہ تمہارا پیدا کرنا ہم پر مشکل ہے؟ یا آسمان و زمین فرشتے جن وغیرہ کا ‘۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت «أَمْ مَنْ عَدَدنَا» ہے مطلب یہ ہے کہ ’ اس کا اقرار تو انہیں بھی ہے کہ پھر مر کر جینے کا انکار کیوں کر رہے ہیں؟ ‘ چنانچہ اور آیت میں ہے کہ «لَخَلْقُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ أَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ» ۱؎ [40-غافر:57] ‏‏‏‏ ’ انسانوں کی پیدائش سے تو بہت بڑی اور بہت بھاری پیدائش آسمان و زمین کی ہے لیکن اکثر لوگ بےعلمی برتتے ہیں ‘۔ پھر انسان کی پیدائشی کمزوری بیان فرماتا ہے کہ ’ یہ چکنی مٹی سے پیدا کیا گیا ہے جس میں لیس تھا جو ہاتھوں پر چپکتی تھی۔ تو چونکہ حقیقت کو پہنچ گیا ہے ان کے انکار پر تعجب کر رہا ہے کیونکہ اللہ کی قدرتیں تیرے سامنے ہیں اور اس کے فرمان بھی۔ لیکن یہ تو اسے سن کر ہنسی اڑاتے ہیں۔ اور جب کبھی کوئی واضح دلیل سامنے آ جاتی ہے تو مسخرا پن کرنے لگتے ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ یہ تو جادو ہے۔ ہم کسی طرح اسے نہیں ماننے کے کہ مر کر مٹی ہو کر پھر جی اٹھیں بلکہ ہمارے باپ دادا بھی دوسری زندگی میں آ جائیں ہم تو اس کے قائل نہیں۔ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تم ان سے کہدو کہ ہاں تم یقیناً دوبارہ پیدا کئے جاؤ گے۔ تم ہو کیا چیز،اللہ کی قدرت اور مشیت کے ماتحت ہو، اس کی وہ ذات ہے کہ کسی کی اس کے سامنے کوئی ہستی نہیں ‘۔ فرماتا ہے «وَكُلٌّ أَتَوْهُ دَاخِرِينَ» ۱؎ [27-النمل:87] ‏‏‏‏ ’ ہر شخص اس کے سامنے عاجزی اور لاچاری سے حاضر ہونے والا ہے ‘۔ ایک آیت میں ہے «وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِيْٓ اَسْتَجِبْ لَكُمْ ۭ اِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِيْ سَيَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِيْنَ» ۱؎ [40-غافر:60] ‏‏‏‏ ’ میری عبادت سے سرکشی کرنے والے ذلیل و خوار ہو کر جنہم میں جائیں گے ‘۔ پھر اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ ’ جسے تم مشکل سمجھتے ہو، وہ مجھ پر تو بالکل ہی آسان ہے صرف ایک آواز لگتے ہی ہر ایک زمین سے نکل کر دہشت ناکی کے ساتھ احوالِ قیامت کو دیکھنے لگے گا ‘۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

📖 احسن البیان

18۔ 1 جس طرح دوسرے مقام پر بھی فرمایا (وَكُلٌّ اَتَوْهُ دٰخِرِيْنَ) 27۔ النمل:87) ' سب اس کی بارگاہ میں ذلیل ہو کر آئیں گے

📖 القرآن الکریم

(آیت 18) ➊ {قُلْ نَعَمْ:} یعنی آپ ان سے کہیں ہاں، تم اور تمھارے باپ دادا مٹی اور ہڈیاں ہونے کے بعد دوبارہ اٹھائے جاؤ گے۔ ➋ { وَ اَنْتُمْ دَاخِرُوْنَ: ”دَخَرَ يَدْخَرُ دُخُوْرًا“} (ف) ذلیل اور حقیر ہونا۔ یعنی تم اس حال میں اٹھائے جاؤ گے کہ اللہ عزوجل کی قدرت کے سامنے بے بس اور حقیر ہو گے۔ تمھارا اٹھنا اختیاری نہیں بلکہ اضطراری ہو گا، یعنی جس طرح تمھاری پیدائش اور موت میں تمھاری اپنی مرضی کا کوئی عمل دخل نہ تھا، اسی طرح تم دوبارہ جی اٹھنے پر بھی مجبور اور بے بس ہو گے، جیسا کہ فرمایا: «وَ كُلٌّ اَتَوْهُ دٰخِرِيْنَ» ‏‏‏‏ [ النمل: ۸۷ ] ”اور وہ سب اس کے پاس ذلیل ہو کر آئیں گے۔“
← پچھلی آیت (17) پوری سورۃ اگلی آیت (19) →