بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الصافات — Surah Saffat
آیت نمبر 10
کل آیات: 182
قرآن کریم الصافات آیت 10
آیت نمبر: 10 — سورۃ الصافات islamicurdubooks.com ↗
اِلَّا مَنۡ خَطِفَ الۡخَطۡفَۃَ فَاَتۡبَعَہٗ شِہَابٌ ثَاقِبٌ ﴿۱۰﴾
تاہم اگر کوئی ان میں سے کچھ لے اڑے تو ایک تیز شعلہ اس کا پیچھا کرتا ہے
مگر جو کوئی ایک آدھ بات اچک لے بھاگے تو (فوراً ہی) اس کے پیچھے دہکتا ہوا شعلہ لگ جاتا ہے
مگر جو ایک آدھ بار اُچک لے چلا تو روشن انگار اس کے پیچھے لگا،
مگر یہ کہ کوئی شیطان (فرشتوں کی) کوئی اڑتی ہوئی خبر اچک لے تو ایک تیز شعلہ اس کا پیچھا کرتا ہے۔
مگر جو کوئی اچانک اچک کر لے جائے تو ایک چمکتا ہوا شعلہ اس کا پیچھا کرتا ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

شیاطین اور کاہن ٭٭

آسمان دنیا کو دیکھنے والے کی نگاہوں میں جو زینت دی گئی ہے اس کا بیان فرمایا۔ یہ اضافت کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے اور بدلیت کے ساتھ بھی معنی دونوں صورتوں میں ایک ہی ہیں۔ اس کے ستاروں کی، اس کے سورج کی روشنی زمین کو جگمگادیتی ہے۔ جیسے اور آیت میں ہے «وَلَقَدْ زَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيْحَ وَجَعَلْنٰهَا رُجُوْمًا لِّلشَّـيٰطِيْنِ وَاَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَاب السَّعِيْرِ» ۱؎ [67-الملك:5] ‏‏‏‏، ’ ہم نے آسمان دنیا کو زینت دی ستاروں کے ساتھ، اور انہیں شیطانوں کے لیے شیطانوں کے رجم کا ذریعہ بنایا اور ہم نے ان کے لیے آگ سے جلا دینے والے عذاب تیار کر رکھے ہیں ‘۔

اور آیت میں ہے «وَلَقَدْ جَعَلْنَا فِي السَّمَاءِ بُرُوجًا وَزَيَّنَّاهَا لِلنَّاظِرِينَ وَحَفِظْنَاهَا مِن كُلِّ شَيْطَانٍ رَّجِيمٍ إِلَّا مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ فَأَتْبَعَهُ شِهَابٌ مُّبِينٌ» ۱؎ [15-الحجر:16-18] ‏‏‏‏ ’ ہم نے آسمان میں برج بنائے اور انہیں دیکھنے والوں کی آنکھوں میں کھب جانے والی چیز بنائی۔ اور ہر شیطان رجیم سے اسے محفوظ رکھا جو کوئی کسی بات کو لے اڑنا چاہتا ہے وہیں ایک تیز شعلہ اس کی طرف اترتا ہے۔ اور ہم نے آسمانوں کی حفاظت کی ہر سرکش شریر شیطان سے، اس کا بس نہیں کہ فرشتوں کی باتیں سنے، وہ جب یہ کرتا ہے تو ایک شعلہ لپکتا ہے اور اسے جلا دیتا ہے ‘۔ یہ آسمانوں تک پہنچ ہی نہیں سکتے۔ اللہ کی شریعت تقدیر کے امور کی کسی گفتگو کو وہ سن ہی نہیں سکتے۔ اس بارے کی حدیثیں ہم نے آیت «حَتّىٰٓ اِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوْبِهِمْ قَالُوْا مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ قَالُوا الْحَقَّ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيْرُ» ۱؎ [34-سبأ:23] ‏‏‏‏، کی تفسیر میں بیان کر دی ہیں۔ جدھر سے بھی یہ آسمان پر چڑھنا چاہتے ہیں وہیں سے ان پر آتش بازی کی جاتی ہے۔ انہیں ہنکانے پست و ذلیل کرنے روکنے اور نہ آنے دینے کے لیے یہ سزا بیان کی ہے اور آخرت کے دائمی عذاب ابھی باقی ہیں، جو بڑے المناک درد ناک اور ہمیشگی والے ہوں گے۔ ہاں کبھی کسی جن نے کوئی کلمہ کسی فرشتے کی زبان سے سن لیا اور اسے اس نے اپنے نیچے والے سے کہدیا اور اس نے اپنے نیچے والے سے وہیں اس کے پیچھے ایک شعلہ لپکتا ہے کبھی تو وہ دوسرے کو پہنچائے اس سے پہلے ہی شعلہ اسے جلا ڈالتا ہے کبھی وہ دوسرے کے کانوں تک پہنچا دیتا ہے۔ یہی وہ باتیں ہیں جو کاہنوں کے کانوں تک شیاطین کے ذریعہ پہنچ جاتی ہیں۔ ثاقب سے مراد سخت تیز بہت زیادہ روشنی والا ہے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ ”شیاطین پہلے جا کر آسمانوں میں بیٹھتے تھے اور وہی سن لیتے تھے اس وقت ان پر تارے نہیں ٹوٹتے تھے یہ وہاں کی وحی سن کر زمین پر آ کر ایک کی دس دس کر کے کاہنوں کے کانوں میں پھونکتے تھے، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت ملی پھر شیطانوں کا آسمان پر جانا موقوف ہوا، اب یہ جاتے ہیں تو ان پر آگ کے شعلے پھینکے جاتے ہیں اور انہیں جلا دیا جاتا ہے، انہوں نے اس نو پیدا امر کی خبر جب ابلیس ملعون کو دی تو اس نے کہا کہ کسی اہم نئے کام کی وجہ سے اس قدر احتیاط و حفاظت کی گئی ہے۔ چنانچہ خبر رسانوں کی جماعتیں اس نے روئے زمین پر پھیلا دیں تو جو جماعت حجاز کی طرف گئی تھی اس نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نخلہ کی دونوں پہاڑیوں کے درمیان نماز ادا کر رہے ہیں اس نے جا کر ابلیس کو یہ خبر دی اس نے کہا بس یہی وجہ ہے جو تمہارا آسمانوں پر جانا موقوف ہوا۔ اس کی پوری تحقیق اللہ نے چاہا تو آیت «‏‏‏‏وَّاَنَّا لَمَسْنَا السَّمَاء فَوَجَدْنٰهَا مُلِئَتْ حَرَسًا شَدِيْدًا وَّشُهُبًا» ۱؎ [72-الجن:8] ‏‏‏‏، کی تفسیر میں آئے گی۔

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 10) {اِلَّا مَنْ خَطِفَ الْخَطْفَةَ …:} یعنی شیاطین ملأ اعلیٰ کی کسی بات پر کان نہیں لگا سکتے، سوائے اس بات کے جسے کوئی شیطان دفعتاً اچک کر لے جائے، تو ایسی صورت میں ایک چمکتا ہوا شعلہ اس کا پیچھا کرتا ہے۔ چنانچہ کبھی تو وہ شعلہ نیچے کے شیطان کو وہ بات پہنچانے سے پہلے ہی لگ کر اسے ہلاک کر ڈالتا ہے اور کبھی پہنچانے کے بعد، پھر وہ بات کئی شیاطین سے منتقل ہوتی ہوئی کسی کاہن تک پہنچ جاتی ہے، جو اس میں سو جھوٹ ملا کر لوگوں کے درمیان پھیلا دیتا ہے۔ استاذ محمد عبدہٗ رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”یہ بحث حکماء اور علماء کے مابین مختلف فیہ چلی آئی ہے کہ آیا یہی تارے شہابِ ثاقب کا بھی کام دیتے ہیں یا وہ شہاب ان کے علاوہ ہیں، یا ان تاروں کی گرمی سے آگ پیدا ہو کر ہی انگارا بن جاتا ہے۔“ شاہ عبد القادر لکھتے ہیں: ”انھی تاروں کی روشنی سے آگ نکلتی ہے جس سے شیطانوں کو مار پڑتی ہے، جیسے سورج سے اور آتشی شیشے سے۔“ (موضح) ان آیات کی مفصل تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ حجر (۱۶تا۱۸)، شعراء (۲۱۰ تا ۲۱۲ اور ۲۲۲، ۲۲۳) اور سورۂ جن (۸، ۹)۔
← پچھلی آیت (9) پوری سورۃ اگلی آیت (11) →