بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الصف — Surah Saff
آیت نمبر 13
کل آیات: 14
قرآن کریم الصف آیت 13
آیت نمبر: 13 — سورۃ الصف islamicurdubooks.com ↗
وَ اُخۡرٰی تُحِبُّوۡنَہَا ؕ نَصۡرٌ مِّنَ اللّٰہِ وَ فَتۡحٌ قَرِیۡبٌ ؕ وَ بَشِّرِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۳﴾
اور وہ دوسری چیز جو تم چاہتے ہو وہ بھی تمہیں دے گا، اللہ کی طرف سے نصرت اور قریب ہی میں حاصل ہو جانے والی فتح اے نبیؐ، اہل ایمان کو اِس کی بشارت دے دو
اور تمہیں ایک دوسری (نعمت) بھی دے گا جسے تم چاہتے ہو وه اللہ کی مدد اور جلد فتح یابی ہے، ایمان والوں کو خوشخبری دے دو
اور ایک نعمت تمہیں اور دے گا جو تمہیں پیاری ہے اللہ کی مدد اور جلد آنے والی فتح اور اے محبوب مسلمانوں کو خوشی سنادو
اور ایک اور چیز بھی ہے جسے تم پسند کرتے ہو (وہ اس کے علاوہ ہے) یعنی اللہ کی مدد اور قریبی فتح و کامیابی اور ایمان والوں کو بشارت دے دیجئے۔
اور ایک اور چیز جسے تم پسند کرتے ہو اللہ کی طرف سے مدد اور قریب فتح ہے اور ایمان والوں کو خوش خبری سنا دے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

سو فیصد نفع بخش تجارت ٭٭

عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ والی حدیث پہلے گزر چکی ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ پوچھنا چاہا کہ سب سے زیادہ محبوب عمل اللہ تعالیٰ کو کون سا ہے؟ اس پر اللہ عزوجل نے یہ سورت نازل فرمائی، جس میں فرما رہا ہے کہ آؤ میں تمہیں ایک سراسر نفع والی تجارت بتاؤں جس میں گھاٹے کی کوئی صورت ہی نہیں، جس سے مقصود حاصل اور ڈر زائل ہو جائے گا وہ یہ ہے کہ تم اللہ کی وحدانیت اور اس کے رسول (‏‏‏‏صلی اللہ علیہ وسلم ) کی رسالت پر ایمان لاؤ، اپنا جان مال اس کی راہ میں قربان کرنے پر تل جاؤ، جان لو کہ یہ دنیا کی تجارت اور اس کے لیے کدو کاوش کرنے سے بہت ہی بہتر ہے، اگر میری اس بتائی ہوئی تجارت کے تاجر تم بن گئے تو تمہاری ہر لغزش سے ہر گناہ سے میں درگزر کر لوں گا اور جنتوں کے پاکیزہ محلات میں اور بلند و بالا درجوں میں تمہیں پہنچاؤں گا، تمہارے بالا خانوں اور ان ہمیشگی والے باغات کے درختوں تلے سے صاف شفاف نہریں پوری روانی سے جاری ہوں گی، یقین مانو کہ زبردست کامیابی اور اعلیٰ مقصد روی یہی ہے۔ اچھا اس سے بھی زیادہ سنو تم جو ہمیشہ دشمنوں کے مقابلہ پر میری مدد طلب کرتے رہتے ہو اور اپنی فتح چاہتے ہو میرا وعدہ ہے کہ یہ بھی تمہیں دوں گا ادھر مقابلہ ہوا، ادھر فتح ہوئی، ادھر سامنے آئے، ادھر فتح و نصرت نے رکاب بوسی کی۔ ‘ اور جگہ ارشاد ہوتا ہے «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن تَنصُرُوا اللَّـهَ يَنصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ» ۱؎ [47-محمد:7] ‏‏‏‏ ’ ایمان والو اگر تم اللہ کے دین کی مدد کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہاری مدد کرے گا اور تمیں ثابت قدمی عنایت فرمائے گا۔ ‘ اور فرمان ہے «وَلَيَنصُرَنَّ اللَّـهُ مَن يَنصُرُهُ إِنَّ اللَّـهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ» ۱؎ [22-الحج:40] ‏‏‏‏ یعنی ’ یقیناً اللہ تعالیٰ اس کی مدد کرے گا جو اللہ کے دین کی مدد کرے بیشک اللہ تعالیٰ بڑی قوت والا اور غیر فانی عزت والا ہے۔ ‘ یہ مدد اور یہ فتح دنیا میں اور وہ جنت اور نعمت آخرت میں ان لوگوں کے حصہ میں ہے جو اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت میں لگے رہیں اور دین اللہ کی خدمت میں جان و مال سے دریغ نہ کریں اسی لیے فرما دیا کہ اے نبی ان ایمان والوں کو میری طرف سے یہ خوشخبری پہنچا دو۔

📖 احسن البیان

13۔ 1 یعنی جب تم اس کی راہ میں لڑو گے اور اس کے دین کی مدد کروگے، تو وہ بھی تمہیں فتح و نصرت سے نوازے گا۔ " ان تنصروا اللہ ینصرکم ویثبت اقدامکم " (سورة محمد) " ولینصرن اللہ من ینصرہ ان اللہ لقوی عزیز " (الحج) آخرت کی نعمتوں کے مقابلے میں اسے فتح قریب قرار دیا اور اس سے مراد فتح مکہ ہے اور بعض نے فارس و روم کی عظیم الشان سلطنتوں پر مسلمانوں کے غلبے کو اس کا مصداق قرار دیا ہے۔ جو خلافت راشدہ میں مسلمانوں کو حاصل ہوا۔ 13۔ 2 جنت کی بھی، مرنے کے بعد اور فتح و نصرت کی بھی، دنیا میں، بشرطیکہ اہل ایمان ایمان کے تقاضے پورے کرتے رہیں۔ " وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ " 3۔ آل عمران:139) آگے اللہ تعالیٰ مؤمنوں کو اپنے دین کی نصرت کی مزید ترغیب دے رہا ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 13) {وَ اُخْرٰى تُحِبُّوْنَهَا …: ” اُخْرٰى “} محذوف موصوف {”نِعْمَةٌ“} کی صفت ہے جو مبتدا ہے، خبر اس کی {”لَكُمْ“} محذوف ہے: {”أَيْ وَلَكُمْ نِعْمَةٌ أُخْرٰي“} یعنی اور تمھارے لیے مغفرتِ ذنوب اور دخولِ جنت کے علاوہ ایک اور نعمت {” نَصْرٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَتْحٌ قَرِيْبٌ “} بھی ہے جو تمھیں پسند ہے۔ آخرت کی نعمتوں کے ساتھ دنیوی نعمتوں کا ذکر کر کے جہاد کی ترغیب دلائی ہے، دنیا میں فتح و کامرانی بھی اگرچہ اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے، مگر یہ مومن کے لیے اصل مقصود نہیں۔ اس لیے پہلے حاصل ہونے کے باوجود اس کا ذکر بعد میں فرمایا اور آخرت میں حاصل ہونے والی نعمتوں کا ذکر پہلے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کے ساتھ اپنی نصرت اور فتح قریب کا یہ وعدہ پورا فرمایا، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہی میں مکہ فتح ہو گیا، پھر پورا جزیرۂ عرب مشرکین سے پاک ہوگیا۔ اس کے بعد اتنی تھوڑی مدت میں اسلام کا جھنڈا پوری دنیا پر لہرانے لگا جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی، چنانچہ مسلمان قیصر و کسریٰ کی سلطنتوں کے مالک بن گئے اور انھوں نے ایسے عمدہ طریقے سے کاروبار سلطنت چلایا جس کی خوبی دشمن بھی تسلیم کرتے ہیں۔
← پچھلی آیت (12) پوری سورۃ اگلی آیت (14) →