بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
الصف
سورۃ الصف — 14 آیات
قرآن کریم Surah 61
سَبَّحَ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ ۚ وَ ہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ﴿۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اللہ کی تسبیح کی ہے ہر اُس چیز نے جو آسمانوں اور زمین میں ہے، اور وہ غالب اور حکیم ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
زمین وآسمان کی ہر ہر چیز اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتی ہے اور وہی غالب حکمت واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
اللہ کی پاکی بولتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، اور وہی عزت و حکمت والا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
ہر وہ چیز جو آسمانوں میں ہے اور ہر وہ چیز جو زمین میں ہے اللہ کی تسبیح کرتی ہے اور وہ (سب پر) غالب ہے (اور) بڑا حکمت والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اللہ کا پاک ہونا بیان کیا ہر چیز نے، جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اور وہی سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ایفائے عہد ایمان کی علامت ہے اور صف اتحاد کی علامت ٭٭

پہلی آیت کی تفسیر کئی بار گزر چکی ہے اب پھر اس کا اعادہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ پھر ان لوگوں کا ذکر ہوتا ہے جو کہیں اور نہ کریں، وعدہ کریں اور وفا نہ کریں، بعض علماء سلف نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ وعدہ کا پورا کرنا مطلقاً واجب ہے جس سے وعدہ کیا ہے خواہ وہ تاکید کرے یا نہ کرے، ان کی دلیل بخاری و مسلم کی یہ حدیث بھی ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”منافق کی تین عادتیں ہوتی ہیں [ ۱ ] ‏‏‏‏ جب وعدہ کرے خلاف کرے، [ ۲ ] ‏‏‏‏ جب بات کرے جھوٹ بولے، [ ۳ ] ‏‏‏‏ جب امانت دیا جائے خیانت کرے۔“ } ۱؎ [صحیح بخاری:33] ‏‏‏‏ دوسری صحیح حدیث میں ہے { چار باتیں جس میں ہوں وہ خالص منافق ہے اور جس میں ان چار میں سے ایک ہو اس میں ایک خصلت نفاق کی ہے جب تک اسے نہ چھوڑے۔ ان میں ایک عادت وعدہ خلافی کی ہے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:24] ‏‏‏‏ شرح صحیح بخاری کی ابتداء میں ہم نے ان دونوں احادیث کی پوری شرح کر دی ہے۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» اسی لیے یہاں بھی اس کی تاکید میں فرمایا گیا، اللہ تعالیٰ کو یہ بات سخت ناپسند ہے کہ تم وہ کہو جو خود نہ کرو، مسند احمد اور ابوداؤد میں عبداللہ بن عامر بن ربیعہ سے روایت ہے کہ { ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے میں اس وقت چھوٹا بچہ تھا کھیل کود کے لیے جانے لگا تو میری والدہ نے مجھے آواز دے کر کہا ادھر آ کچھ دوں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کچھ دینا بھی چاہتی ہو؟“ میری والدہ نے کہا: ہاں، یا رسول اللہ! کھجوریں دوں گی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تو خیر ورنہ یاد رکھو کچھ نہ دینے کا ارادہ ہوتا اور یوں کہتیں تو تم پر ایک جھوٹ لکھا جاتا۔“ } ۱؎ [سنن ابوداود:4991،قال الشيخ الألباني:۔صحیح] ‏‏‏‏ امام مالک رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جب وعدے کے ساتھ وعدہ پورا کرنے کی تاکید کا تعلق ہو تو اس وعدے کو وفا کرنا واجب ہو جاتا ہے، مثلاً کسی شخص نے کسی سے کہہ دیا کہ تو نکاح کر لے اور اتنا اتنا ہر روز میں تجھے دیتا رہوں گا اس نے نکاح کر لیا تو جب نکاح باقی ہے اس شخص پر واجب ہے کہ اسے اپنے وعدے کے مطابق دیتا رہے اس لیے کہ اس میں آدمی کے حق کا تعلق ثابت ہو گیا جس پر اس سے باز پرس سختی کے ساتھ ہو سکتی ہے۔

کیا ایفائے عہد واجب ہے؟ ٭٭

جمہور کا مذہب یہ ہے کہ ایفاء عہد مطلق واجب ہی نہیں، اس آیت کا جواب وہ یہ دیتے ہیں کہ جب لوگوں نے جہاد کی فرضیت کی خواہش کی اور فرض ہو گیا تو اب بعض لوگ دیکھنے لگے جس پر یہ آیت اتری، جیسے اور جگہ ہے «أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ قِيلَ لَهُمْ كُفُّوا أَيْدِيَكُمْ وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقِتَالُ إِذَا فَرِيقٌ مِّنْهُمْ يَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْيَةِ اللَّـهِ أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً ۚ وَقَالُوا رَبَّنَا لِمَ كَتَبْتَ عَلَيْنَا الْقِتَالَ لَوْلَا أَخَّرْتَنَا إِلَىٰ أَجَلٍ قَرِيبٍ ۗ قُلْ مَتَاعُ الدُّنْيَا قَلِيلٌ وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ لِّمَنِ اتَّقَىٰ وَلَا تُظْلَمُونَ فَتِيلًا أَيْنَمَا تَكُونُوا يُدْرِككُّمُ الْمَوْتُ وَلَوْ كُنتُمْ فِي بُرُوجٍ مُّشَيَّدَةٍ ۗ وَإِن تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌ يَقُولُوا هَـٰذِهِ مِنْ عِندِ اللَّـهِ ۖ وَإِن تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ يَقُولُوا هَـٰذِهِ مِنْ عِندِكَ ۚ قُلْ كُلٌّ مِّنْ عِندِ اللَّـهِ ۖ فَمَالِ هَـٰؤُلَاءِ الْقَوْمِ لَا يَكَادُونَ يَفْقَهُونَ حَدِيثًا» ۱؎ [4-النساء:77،78] ‏‏‏‏ یعنی ’ کیا تو نے انہیں نہ دیکھا جن سے کہا گیا تم اپنے ہاتھ روکے رکھو اور نماز و زکوٰۃ کا خیال رکھو، پھر جب ان پر جہاد فرض کیا گیا تو ان میں ایسے لوگ بھی نکل آئے جو لوگوں سے اس طرح ڈرنے لگے جیسے اللہ سے ڈرتے ہیں بلکہ اس سے بھی بہت زیادہ، کہنے لگے پروردگار تو نے ہم پر جہاد کیوں فرض کر دیا؟ کیوں ہمیں ایک وقت مقرر تک اس حکم کو مؤخر نہ کیا جو قریب ہی تو ہے۔ تو کہہ دے کہ اسباب دنیا تو بہت ہی کم ہیں ہاں پرہیزگاروں کے لیے آخرت بہترین چیز ہے۔ تم پر کچھ بھی ظلم نہ کیا جائے گا تم کہیں بھی ہو تمہیں موت ڈھونڈ نکالے گی گو تم مضبوط محلوں میں ہو۔‘ اور جگہ ہے «وَيَقُولُ الَّذِينَ آمَنُوا لَوْلَا نُزِّلَتْ سُورَةٌ ۖ فَإِذَا أُنزِلَتْ سُورَةٌ مُّحْكَمَةٌ وَذُكِرَ فِيهَا الْقِتَالُ ۙ رَأَيْتَ الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ يَنظُرُونَ إِلَيْكَ نَظَرَ الْمَغْشِيِّ عَلَيْهِ مِنَ الْمَوْتِ» ۱؎ [47-محمد:20] ‏‏‏‏ الخ، یعنی ’ مسلمان کہتے ہیں کیوں کوئی سورت نہیں اتاری جاتی؟ پھر جب کوئی محکم سورت اتاری جاتی ہے اور اس میں لڑائی کا ذکر ہوتا ہے تو دیکھے گا کہ بیمار دل والے تیری طرف اس طرح دیکھیں گے جیسے وہ دیکھتا ہے جس پر موت کی بیہوشی ہو ‘۔ اسی طرح کی یہ آیت بھی ہے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ بعض مومنوں نے جہاد کی فرضیت سے پہلے کہا کہ کیا ہی اچھا ہوتا اللہ تعالیٰ ہمیں وہ عمل بتاتا جو اسے سب سے زیادہ پسند ہوتا تاکہ ہم اس پر عامل ہوتے، پس اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر کی کہ ’ سب سے زیادہ پسندیدہ عمل میرے نزدیک ایمان ہے جو شک شبہ سے پاک ہو اور بےایمانوں سے جہاد کرنا ہے ‘، تو بعض مسلمانوں پر یہ گراں گزرا جس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری کہ ’ وہ باتیں زبان سے کیوں نکالتے ہو جنہیں کرتے نہیں۔ ‘ امام ابن جریر رحمہ اللہ اسی کو پسند فرماتے ہیں۔ مقاتل بن حیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مسلمانوں نے کہا اگر ہمیں معلوم ہو جاتا کہ کس عمل کو اللہ تعالیٰ بہت پسند فرماتا ہے تو ہم ضرور وہ عمل بجا لاتے اس پر اللہ عزوجل نے وہ عمل بتایا کہ ’ میری راہ میں صفیں باندھ کر مضبوطی کے ساتھ جم کر جہاد کرنے والوں کو میں بہت پسند فرماتا ہوں ‘، پھر احد والے دن ان کی آزمائش ہو گئی اور لوگ پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوئے جس پر یہ فرمان عالیشان اترا کہ ’ کیوں وہ کہتے ہو جو کہ نہیں دکھاتے؟‘۔

منافق جو کرتے نہیں وہ کہتے ہیں ٭٭

بعض حضرات فرماتے ہیں یہ ان کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو کہیں ہم نے جہاد کیا اور حالانکہ جہاد نہ کیا ہو منہ سے کہیں کہ ہم زخمی ہوئے اور زخمی نہ ہوئے ہوں، کہیں کہ ہم پر مار پڑی اور مار نہ پڑی ہو، منہ سے کہیں کہ ہم قید کئے گئے اور قید نہ کئے گئے ہوں۔ ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد منافق ہیں کہ مسلمانوں کی مدد کا وعدہ کرتے لیکن وقت پر پورا نہ کرتے، زید بن اسلم رحمہ اللہ جہاد مراد لیتے ہیں، مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ان کہنے والوں میں عبداللہ بن رواحہ انصاری رضی اللہ عنہ بھی تھے جب آیت اتری اور معلوم ہوا کہ جہاد سب سے زیادہ عمدہ عمل ہے تو آپ نے عہد کر لیا کہ میں تو اب سے لے کر مرتے دم تک اللہ کی راہ میں اپنے آپ کو وقف کر چکا چنانچہ اسی پر قائم بھی رہے یہاں تک کہ فی سبیل اللہ شہید ہو گئے۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بصرہ کے قاریوں کو ایک مرتبہ بلوایا تو تین سو قاری ان کے پاس آئے جن میں سے ہر ایک قاری قرآن تھا۔ پھر فرمایا تم اہل بصرہ کے قاری اور ان میں سے بہترین لوگ ہو، سنو ہم ایک سورت پڑھتے تھے جو مسبحات کی سورتوں کے مشابہ تھی، پھر ہم اسے بھلا دیئے گئے، ہاں مجھے اس میں سے اتنا یاد رہ گیا «يَا أَيّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ فَتُكْتَب شَهَادَة فِي أَعْنَاقِكُمْ فَتُسْأَلُونَ عَنْهَا يَوْم الْقِيَامَة» یعنی ’ اے ایمان والو وہ کیوں کہو جو نہ کرو پھر وہ لکھا جائے اور تمہاری گردنوں میں بطور گواہ کے لٹکا دیا جائے پھر قیامت کے دن اس کی بابت باز پرس ہو۔‘ پھر فرمایا ’ اللہ تعالیٰ کے محبوب وہ لوگ ہیں جو صفیں باندھ کر دشمنان اللہ کے مقابلے میں ڈٹ جاتے ہیں تاکہ اللہ کا بول بالا ہو، اسلام کی حفاظت ہو اور دین کا غلبہ ہو۔ ‘ مسند احمد میں ہے تین قسم کے لوگوں کی تین حالتیں ہیں جنہیں دیکھ کر اللہ تبارک و تعالیٰ خوش ہوتا ہے اور ہنس دیتا ہے رات کو اٹھ کر تہجد پڑھنے والے، نماز کے لیے صفیں باندھنے والے، میدان جنگ میں صف بندی کرنے والے۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:200،قال الشيخ الألباني:۔ضعیف] ‏‏‏‏ ابن ابی حاتم میں ہے مطرف رحمہ اللہ فرماتے ہیں مجھے بروایت ابوذر ایک حدیث پہنچی تھی میرے جی میں تھا کہ خود سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے مل کر یہ حدیث آمنے سامنے سن لوں، چنانچہ ایک مرتبہ جا کر آپ سے ملاقات کی اور واقعہ بیان کیا، آپ نے خوشنودی کا اظہار فرما کر کہا وہ حدیث کیا ہے؟ میں نے کہا یہ کہ اللہ تعالیٰ تین شخصوں کو دشمن جانتا ہے اور تین کو دوست رکھتا ہے فرمایا: ہاں میں اپنے خلیل محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ نہیں بول سکتا فی الواقع آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے یہ حدیث بیان فرمائی ہے، میں نے پوچھا: وہ تین کون ہیں؟ جنہیں اللہ تعالیٰ محبوب جانتا ہے فرمایا: ایک تو وہ جو اللہ کی راہ میں جہاد کرے خالص خوشنودی اللہ کی نیت سے نکلے دشمن سے جب مقابلہ ہو تو دلیرانہ جہاد کرے تم اس کی تصدیق خود کتاب اللہ میں بھی دیکھ سکتے ہو پھر آپ نے یہی آیت «إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِهِ صَفًّا كَأَنَّهُم بُنْيَانٌ مَّرْصُوصٌ» ۱؎ [61-الصف:4] ‏‏‏‏ تلاوت فرمائی اور پھر پوری حدیث بیان کی۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2568،قال الشيخ الألباني:۔ضعیف] ‏‏‏‏ ابن ابی حاتم میں یہ حدیث اسی طرح ان ہی الفاظ میں اتنی ہی آئی ہے ہاں ترمذی اور نسائی میں پوری حدیث ہے اور ہم نے بھی اسے دوسری جگہ مکمل وارد کیا ہے۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»

صف بندی تعلیم ربانی ٭٭

کعب احبار رضی اللہ عنہ سے ابن ابی حاتم میں منقول ہے اللہ تعالیٰ اپنے نبی سے فرماتا ہے: آپ میرے بندے متوکل اور پسندیدہ ہیں بدخلق، بدزبان، بازاروں میں شور و غل کرنے والے نہیں، برائی کا بدلہ برائی سے نہیں لیتے بلکہ درگزر کر کے معاف کر دیتے ہیں۔ آپ کی جائے پیدائش مکہ ہے، جائے ہجرت طابہ ہے، ملک آپ کا شام ہے، امت آپ کی بکثرت حمد اللہ کرنے والی ہے، ہر حال میں اور ہر منزل میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کرتے رہتے ہیں۔ صبح کے وقت ذکر اللہ میں ان کی پست آوازیں برابر سنائی دیتی ہیں جیسے شہد کی مکھیوں کی بھن بھناہٹ اپنے ناخن اور مچھیں کترتے ہیں اور اپنے تہبند اپنی آدھی پنڈلیوں تک باندھتے ہیں ان کی صفیں میدان جہاد میں ایسی ہوتی ہیں جیسی نماز میں۔‘ پھر کعب رضی اللہ عنہ نے اسی آیت کی تلاوت کی پھر فرمایا: سورج کی نگہبانی کرنے والے، جہاں وقت نماز آ جائے نماز ادا کر لینے والے، گو سواری پر ہوں، سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صفیں نہ بنوا لیتے دشمن سے لڑائی شروع نہیں کرتے تھے، پس صف بندی کی تعلیم مسلمانوں کو اللہ کی دی ہوئی ہے، ایک دوسرے سے ملے کھڑے رہیں، ثابت قدم رہیں اور ٹلیں نہیں تم نہیں دیکھتے کہ عمارت کا بنانے والا نہیں چاہتا کہ اس کی عمارت میں کہیں اونچ نیچ ہو ٹیڑھی ترچھی ہو یا سوراخ رہ جائیں، اسی طرح اللہ تعالیٰ نہیں چاہتا کہ اس کے امر میں اختلاف ہو میدان جنگ میں اور بوقت نماز مسلمانوں کی صف بندی خود اس نے کی ہے، پس تم اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرو جو احکام بجا لائے گا یہ اس کے لیے عصمت اور بچاؤ ثابت ہے۔ ابوبحریہ فرماتے ہیں مسلمان گھوڑوں پر سوار ہو کر لڑنا پسند نہیں کرتے تھے انہیں تو یہ اچھا معلوم ہوتا تھا کہ زمین پر پیدل صفیں بنا کر آمنے سامنے کا مقابلہ کریں، آپ فرماتے ہیں جب تم مجھے دیکھو کہ میں نے صف میں سے ادھر ادھر توجہ کی تو تم جو چاہو ملامت کرنا اور برا بھلا کہنا۔
زمین و آسمان کی ہر ہر چیز اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتی ہے اور وہی غالب حکمت والا ہے۔
(آیت 1){ سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِي الْاَرْضِ …:} اس سورت کا مضمون اللہ کے راستے میں جہاد و قتال ہے، ابتدا اس کی اللہ تعالیٰ کی تسبیح کے ذکر سے کی گئی ہے۔ اللہ کی تسبیح سے ابتدا کی سورت کے مضمون سے مناسبت یہ ہے کہ وہ ہستی جس کی تسبیح ہر وہ چیز کرتی ہے جو آسمانوں میں ہے اور ہر وہ چیز بھی جو زمینوں میں ہے، تو تمام مخلوق کی طرح انسان کے لیے بھی اس کی تسبیح کرنا لازم ہے۔ پھر جو لوگ تسبیح کے بجائے اس کے ساتھ کفر و شرک کرتے ہیں تو ایمان والوں پر ان کے ساتھ لڑنا فرض ہے، کیونکہ وہ ساری کائنات کے الٹ چل رہے ہیں اور تسبیح کے بجائے اللہ تعالیٰ کے لیے شریک بنا کر اس کے تمام عیوب و نقائص سے پاک ہونے کی نفی کر رہے ہیں۔ اس سے بڑھ کر توہین کیا ہوگی کہ وہ اللہ تعالیٰ کو وحدہ لاشریک لہ اور تمام صفات کمال کا مالک ماننے کے بجائے اس کے لیے اولاد اور شریک بنا کر اسے عاجز و محتاج ثابت کر رہے ہیں اور اس اکیلے کی عبادت کے بجائے ان چیزوں کو اس کی عبادت میں شریک بنا رہے ہیں جن کا زمین و آسمان کی پیدائش یا بقا میں کوئی حصہ ہی نہیں۔ اسی طرح ان لوگوں پر بھی چوٹ ہے جو ایمان لانے اور اللہ کی راہ میں قتال کے وعدے اور دعوے کے باوجود اس کی راہ میں لڑنے سے گریز کرتے ہیں کہ انھوں نے اللہ کی تسبیح کا حق عملاً ادا نہیں کیا۔ {” سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِي الْاَرْضِ …“} کی تفسیر سورۂ حدید اور سورۂ حشر کی ابتدا میں گزر چکی ہے، اس مقام پر اللہ تعالیٰ کی صفت {” الْعَزِيْزُ “} لانے میں اشارہ ہے کہ جب وہ ہر ایک پر غالب ہے تو تم اس کے دشمنوں کے ساتھ لڑنے سے کیوں ڈرتے ہو اور صفت {” الْحَكِيْمُ “} لانے میں اشارہ ہے کہ اس نے تمھیں جو حکم دیا ہے کہ کفار سے لڑو اور انھیں اور ان کے کفر و شرک کو کسی صورت غالب نہ آنے دو تو یہ حکم بے مقصد نہیں، بلکہ کمال حکمت پر مبنی ہے اور دنیا و آخرت میں تمھاری عزت اور کامیابی کا ضامن ہے۔ (ابن عاشور)
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لِمَ تَقُوۡلُوۡنَ مَا لَا تَفۡعَلُوۡنَ ﴿۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تم کیوں وہ بات کہتے ہو جو کرتے نہیں ہو؟
مولانا محمد جوناگڑھی
اے ایمان والو! تم وه بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں
احمد رضا خان بریلوی
اے ایمان والو کیوں کہتے ہو وہ جو نہیں کرتے
علامہ محمد حسین نجفی
اے ایمان والو! تم وہ بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں ہو؟
عبدالسلام بن محمد
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! کیوں کہتے ہو جو تم نہیں کرتے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ایفائے عہد ایمان کی علامت ہے اور صف اتحاد کی علامت ٭٭

پہلی آیت کی تفسیر کئی بار گزر چکی ہے اب پھر اس کا اعادہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ پھر ان لوگوں کا ذکر ہوتا ہے جو کہیں اور نہ کریں، وعدہ کریں اور وفا نہ کریں، بعض علماء سلف نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ وعدہ کا پورا کرنا مطلقاً واجب ہے جس سے وعدہ کیا ہے خواہ وہ تاکید کرے یا نہ کرے، ان کی دلیل بخاری و مسلم کی یہ حدیث بھی ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”منافق کی تین عادتیں ہوتی ہیں [ ۱ ] ‏‏‏‏ جب وعدہ کرے خلاف کرے، [ ۲ ] ‏‏‏‏ جب بات کرے جھوٹ بولے، [ ۳ ] ‏‏‏‏ جب امانت دیا جائے خیانت کرے۔“ } ۱؎ [صحیح بخاری:33] ‏‏‏‏ دوسری صحیح حدیث میں ہے { چار باتیں جس میں ہوں وہ خالص منافق ہے اور جس میں ان چار میں سے ایک ہو اس میں ایک خصلت نفاق کی ہے جب تک اسے نہ چھوڑے۔ ان میں ایک عادت وعدہ خلافی کی ہے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:24] ‏‏‏‏ شرح صحیح بخاری کی ابتداء میں ہم نے ان دونوں احادیث کی پوری شرح کر دی ہے۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» اسی لیے یہاں بھی اس کی تاکید میں فرمایا گیا، اللہ تعالیٰ کو یہ بات سخت ناپسند ہے کہ تم وہ کہو جو خود نہ کرو، مسند احمد اور ابوداؤد میں عبداللہ بن عامر بن ربیعہ سے روایت ہے کہ { ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے میں اس وقت چھوٹا بچہ تھا کھیل کود کے لیے جانے لگا تو میری والدہ نے مجھے آواز دے کر کہا ادھر آ کچھ دوں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کچھ دینا بھی چاہتی ہو؟“ میری والدہ نے کہا: ہاں، یا رسول اللہ! کھجوریں دوں گی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تو خیر ورنہ یاد رکھو کچھ نہ دینے کا ارادہ ہوتا اور یوں کہتیں تو تم پر ایک جھوٹ لکھا جاتا۔“ } ۱؎ [سنن ابوداود:4991،قال الشيخ الألباني:۔صحیح] ‏‏‏‏ امام مالک رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جب وعدے کے ساتھ وعدہ پورا کرنے کی تاکید کا تعلق ہو تو اس وعدے کو وفا کرنا واجب ہو جاتا ہے، مثلاً کسی شخص نے کسی سے کہہ دیا کہ تو نکاح کر لے اور اتنا اتنا ہر روز میں تجھے دیتا رہوں گا اس نے نکاح کر لیا تو جب نکاح باقی ہے اس شخص پر واجب ہے کہ اسے اپنے وعدے کے مطابق دیتا رہے اس لیے کہ اس میں آدمی کے حق کا تعلق ثابت ہو گیا جس پر اس سے باز پرس سختی کے ساتھ ہو سکتی ہے۔

کیا ایفائے عہد واجب ہے؟ ٭٭

جمہور کا مذہب یہ ہے کہ ایفاء عہد مطلق واجب ہی نہیں، اس آیت کا جواب وہ یہ دیتے ہیں کہ جب لوگوں نے جہاد کی فرضیت کی خواہش کی اور فرض ہو گیا تو اب بعض لوگ دیکھنے لگے جس پر یہ آیت اتری، جیسے اور جگہ ہے «أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ قِيلَ لَهُمْ كُفُّوا أَيْدِيَكُمْ وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقِتَالُ إِذَا فَرِيقٌ مِّنْهُمْ يَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْيَةِ اللَّـهِ أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً ۚ وَقَالُوا رَبَّنَا لِمَ كَتَبْتَ عَلَيْنَا الْقِتَالَ لَوْلَا أَخَّرْتَنَا إِلَىٰ أَجَلٍ قَرِيبٍ ۗ قُلْ مَتَاعُ الدُّنْيَا قَلِيلٌ وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ لِّمَنِ اتَّقَىٰ وَلَا تُظْلَمُونَ فَتِيلًا أَيْنَمَا تَكُونُوا يُدْرِككُّمُ الْمَوْتُ وَلَوْ كُنتُمْ فِي بُرُوجٍ مُّشَيَّدَةٍ ۗ وَإِن تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌ يَقُولُوا هَـٰذِهِ مِنْ عِندِ اللَّـهِ ۖ وَإِن تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ يَقُولُوا هَـٰذِهِ مِنْ عِندِكَ ۚ قُلْ كُلٌّ مِّنْ عِندِ اللَّـهِ ۖ فَمَالِ هَـٰؤُلَاءِ الْقَوْمِ لَا يَكَادُونَ يَفْقَهُونَ حَدِيثًا» ۱؎ [4-النساء:77،78] ‏‏‏‏ یعنی ’ کیا تو نے انہیں نہ دیکھا جن سے کہا گیا تم اپنے ہاتھ روکے رکھو اور نماز و زکوٰۃ کا خیال رکھو، پھر جب ان پر جہاد فرض کیا گیا تو ان میں ایسے لوگ بھی نکل آئے جو لوگوں سے اس طرح ڈرنے لگے جیسے اللہ سے ڈرتے ہیں بلکہ اس سے بھی بہت زیادہ، کہنے لگے پروردگار تو نے ہم پر جہاد کیوں فرض کر دیا؟ کیوں ہمیں ایک وقت مقرر تک اس حکم کو مؤخر نہ کیا جو قریب ہی تو ہے۔ تو کہہ دے کہ اسباب دنیا تو بہت ہی کم ہیں ہاں پرہیزگاروں کے لیے آخرت بہترین چیز ہے۔ تم پر کچھ بھی ظلم نہ کیا جائے گا تم کہیں بھی ہو تمہیں موت ڈھونڈ نکالے گی گو تم مضبوط محلوں میں ہو۔‘ اور جگہ ہے «وَيَقُولُ الَّذِينَ آمَنُوا لَوْلَا نُزِّلَتْ سُورَةٌ ۖ فَإِذَا أُنزِلَتْ سُورَةٌ مُّحْكَمَةٌ وَذُكِرَ فِيهَا الْقِتَالُ ۙ رَأَيْتَ الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ يَنظُرُونَ إِلَيْكَ نَظَرَ الْمَغْشِيِّ عَلَيْهِ مِنَ الْمَوْتِ» ۱؎ [47-محمد:20] ‏‏‏‏ الخ، یعنی ’ مسلمان کہتے ہیں کیوں کوئی سورت نہیں اتاری جاتی؟ پھر جب کوئی محکم سورت اتاری جاتی ہے اور اس میں لڑائی کا ذکر ہوتا ہے تو دیکھے گا کہ بیمار دل والے تیری طرف اس طرح دیکھیں گے جیسے وہ دیکھتا ہے جس پر موت کی بیہوشی ہو ‘۔ اسی طرح کی یہ آیت بھی ہے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ بعض مومنوں نے جہاد کی فرضیت سے پہلے کہا کہ کیا ہی اچھا ہوتا اللہ تعالیٰ ہمیں وہ عمل بتاتا جو اسے سب سے زیادہ پسند ہوتا تاکہ ہم اس پر عامل ہوتے، پس اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر کی کہ ’ سب سے زیادہ پسندیدہ عمل میرے نزدیک ایمان ہے جو شک شبہ سے پاک ہو اور بےایمانوں سے جہاد کرنا ہے ‘، تو بعض مسلمانوں پر یہ گراں گزرا جس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری کہ ’ وہ باتیں زبان سے کیوں نکالتے ہو جنہیں کرتے نہیں۔ ‘ امام ابن جریر رحمہ اللہ اسی کو پسند فرماتے ہیں۔ مقاتل بن حیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مسلمانوں نے کہا اگر ہمیں معلوم ہو جاتا کہ کس عمل کو اللہ تعالیٰ بہت پسند فرماتا ہے تو ہم ضرور وہ عمل بجا لاتے اس پر اللہ عزوجل نے وہ عمل بتایا کہ ’ میری راہ میں صفیں باندھ کر مضبوطی کے ساتھ جم کر جہاد کرنے والوں کو میں بہت پسند فرماتا ہوں ‘، پھر احد والے دن ان کی آزمائش ہو گئی اور لوگ پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوئے جس پر یہ فرمان عالیشان اترا کہ ’ کیوں وہ کہتے ہو جو کہ نہیں دکھاتے؟‘۔

منافق جو کرتے نہیں وہ کہتے ہیں ٭٭

بعض حضرات فرماتے ہیں یہ ان کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو کہیں ہم نے جہاد کیا اور حالانکہ جہاد نہ کیا ہو منہ سے کہیں کہ ہم زخمی ہوئے اور زخمی نہ ہوئے ہوں، کہیں کہ ہم پر مار پڑی اور مار نہ پڑی ہو، منہ سے کہیں کہ ہم قید کئے گئے اور قید نہ کئے گئے ہوں۔ ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد منافق ہیں کہ مسلمانوں کی مدد کا وعدہ کرتے لیکن وقت پر پورا نہ کرتے، زید بن اسلم رحمہ اللہ جہاد مراد لیتے ہیں، مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ان کہنے والوں میں عبداللہ بن رواحہ انصاری رضی اللہ عنہ بھی تھے جب آیت اتری اور معلوم ہوا کہ جہاد سب سے زیادہ عمدہ عمل ہے تو آپ نے عہد کر لیا کہ میں تو اب سے لے کر مرتے دم تک اللہ کی راہ میں اپنے آپ کو وقف کر چکا چنانچہ اسی پر قائم بھی رہے یہاں تک کہ فی سبیل اللہ شہید ہو گئے۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بصرہ کے قاریوں کو ایک مرتبہ بلوایا تو تین سو قاری ان کے پاس آئے جن میں سے ہر ایک قاری قرآن تھا۔ پھر فرمایا تم اہل بصرہ کے قاری اور ان میں سے بہترین لوگ ہو، سنو ہم ایک سورت پڑھتے تھے جو مسبحات کی سورتوں کے مشابہ تھی، پھر ہم اسے بھلا دیئے گئے، ہاں مجھے اس میں سے اتنا یاد رہ گیا «يَا أَيّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ فَتُكْتَب شَهَادَة فِي أَعْنَاقِكُمْ فَتُسْأَلُونَ عَنْهَا يَوْم الْقِيَامَة» یعنی ’ اے ایمان والو وہ کیوں کہو جو نہ کرو پھر وہ لکھا جائے اور تمہاری گردنوں میں بطور گواہ کے لٹکا دیا جائے پھر قیامت کے دن اس کی بابت باز پرس ہو۔‘ پھر فرمایا ’ اللہ تعالیٰ کے محبوب وہ لوگ ہیں جو صفیں باندھ کر دشمنان اللہ کے مقابلے میں ڈٹ جاتے ہیں تاکہ اللہ کا بول بالا ہو، اسلام کی حفاظت ہو اور دین کا غلبہ ہو۔ ‘ مسند احمد میں ہے تین قسم کے لوگوں کی تین حالتیں ہیں جنہیں دیکھ کر اللہ تبارک و تعالیٰ خوش ہوتا ہے اور ہنس دیتا ہے رات کو اٹھ کر تہجد پڑھنے والے، نماز کے لیے صفیں باندھنے والے، میدان جنگ میں صف بندی کرنے والے۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:200،قال الشيخ الألباني:۔ضعیف] ‏‏‏‏ ابن ابی حاتم میں ہے مطرف رحمہ اللہ فرماتے ہیں مجھے بروایت ابوذر ایک حدیث پہنچی تھی میرے جی میں تھا کہ خود سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے مل کر یہ حدیث آمنے سامنے سن لوں، چنانچہ ایک مرتبہ جا کر آپ سے ملاقات کی اور واقعہ بیان کیا، آپ نے خوشنودی کا اظہار فرما کر کہا وہ حدیث کیا ہے؟ میں نے کہا یہ کہ اللہ تعالیٰ تین شخصوں کو دشمن جانتا ہے اور تین کو دوست رکھتا ہے فرمایا: ہاں میں اپنے خلیل محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ نہیں بول سکتا فی الواقع آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے یہ حدیث بیان فرمائی ہے، میں نے پوچھا: وہ تین کون ہیں؟ جنہیں اللہ تعالیٰ محبوب جانتا ہے فرمایا: ایک تو وہ جو اللہ کی راہ میں جہاد کرے خالص خوشنودی اللہ کی نیت سے نکلے دشمن سے جب مقابلہ ہو تو دلیرانہ جہاد کرے تم اس کی تصدیق خود کتاب اللہ میں بھی دیکھ سکتے ہو پھر آپ نے یہی آیت «إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِهِ صَفًّا كَأَنَّهُم بُنْيَانٌ مَّرْصُوصٌ» ۱؎ [61-الصف:4] ‏‏‏‏ تلاوت فرمائی اور پھر پوری حدیث بیان کی۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2568،قال الشيخ الألباني:۔ضعیف] ‏‏‏‏ ابن ابی حاتم میں یہ حدیث اسی طرح ان ہی الفاظ میں اتنی ہی آئی ہے ہاں ترمذی اور نسائی میں پوری حدیث ہے اور ہم نے بھی اسے دوسری جگہ مکمل وارد کیا ہے۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»

صف بندی تعلیم ربانی ٭٭

کعب احبار رضی اللہ عنہ سے ابن ابی حاتم میں منقول ہے اللہ تعالیٰ اپنے نبی سے فرماتا ہے: آپ میرے بندے متوکل اور پسندیدہ ہیں بدخلق، بدزبان، بازاروں میں شور و غل کرنے والے نہیں، برائی کا بدلہ برائی سے نہیں لیتے بلکہ درگزر کر کے معاف کر دیتے ہیں۔ آپ کی جائے پیدائش مکہ ہے، جائے ہجرت طابہ ہے، ملک آپ کا شام ہے، امت آپ کی بکثرت حمد اللہ کرنے والی ہے، ہر حال میں اور ہر منزل میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کرتے رہتے ہیں۔ صبح کے وقت ذکر اللہ میں ان کی پست آوازیں برابر سنائی دیتی ہیں جیسے شہد کی مکھیوں کی بھن بھناہٹ اپنے ناخن اور مچھیں کترتے ہیں اور اپنے تہبند اپنی آدھی پنڈلیوں تک باندھتے ہیں ان کی صفیں میدان جہاد میں ایسی ہوتی ہیں جیسی نماز میں۔‘ پھر کعب رضی اللہ عنہ نے اسی آیت کی تلاوت کی پھر فرمایا: سورج کی نگہبانی کرنے والے، جہاں وقت نماز آ جائے نماز ادا کر لینے والے، گو سواری پر ہوں، سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صفیں نہ بنوا لیتے دشمن سے لڑائی شروع نہیں کرتے تھے، پس صف بندی کی تعلیم مسلمانوں کو اللہ کی دی ہوئی ہے، ایک دوسرے سے ملے کھڑے رہیں، ثابت قدم رہیں اور ٹلیں نہیں تم نہیں دیکھتے کہ عمارت کا بنانے والا نہیں چاہتا کہ اس کی عمارت میں کہیں اونچ نیچ ہو ٹیڑھی ترچھی ہو یا سوراخ رہ جائیں، اسی طرح اللہ تعالیٰ نہیں چاہتا کہ اس کے امر میں اختلاف ہو میدان جنگ میں اور بوقت نماز مسلمانوں کی صف بندی خود اس نے کی ہے، پس تم اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرو جو احکام بجا لائے گا یہ اس کے لیے عصمت اور بچاؤ ثابت ہے۔ ابوبحریہ فرماتے ہیں مسلمان گھوڑوں پر سوار ہو کر لڑنا پسند نہیں کرتے تھے انہیں تو یہ اچھا معلوم ہوتا تھا کہ زمین پر پیدل صفیں بنا کر آمنے سامنے کا مقابلہ کریں، آپ فرماتے ہیں جب تم مجھے دیکھو کہ میں نے صف میں سے ادھر ادھر توجہ کی تو تم جو چاہو ملامت کرنا اور برا بھلا کہنا۔
2۔ 1 یہاں ندا اگرچہ عام ہے لیکن اصل خطاب ان مومنوں سے ہے جو کہہ رہے تھے کہ اللہ کو جو سب سے زیادہ پسند عمل ہیں، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھنے چاہئیں تاکہ ان پر عمل کیا جاسکے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاکر پوچھنے کی جرت کوئی نہیں کر رہا تھا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل فرمائی (مسند احمد)
(آیت 3،2) ➊ {يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ:} ان آیات میں ان لوگوں پر تعجب اور شدید ناراضی کا اظہار ہے جو وہ بات کہتے ہیں جو کرتے نہیں۔ اس میں کئی طرح کے لوگ شامل ہیں، عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”ہم نے آپس میں یہ ذکر کیا کہ کون ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جائے اور آپ سے پوچھے کہ کون سا عمل اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب ہے، مگر ہم میں سے کوئی بھی نہ اٹھا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف ایک آدمی بھیجا اور ہمیں جمع کرنے کے بعد یہ سورت یعنی سورۂ صف پوری پڑھ کر سنائی۔“ [ مسند أحمد: 452/5، ح: ۲۳۷۸۸ ] مسند احمد کے محققین نے فرمایا: {” إِسْنَادٌ صَحِيْحٌ عَلٰی شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ۔“} طبری نے علی بن ابی طلحہ کی معتبر سند کے ساتھ ابن عباس رضی اللہ عنھما سے ان آیات کی تفسیر میں نقل کیا ہے کہ انھوں نے فرمایا: [ كَانَ نَاسٌ مِّنَ الْمُؤْمِنِيْنَ قَبْلَ أَنْ يُّفْرَضَ الْجِهَادُ يَقُوْلُوْنَ لَوَدِدْنَا أَنَّ اللّٰهَ دَلَّنَا عَلٰی أَحَبِّ الْأَعْمَالِ إِلَيْهِ فَنَعْمَلَ بِهِ، فَأَخْبَرَ اللّٰهُ نَبِيَّهُ أَنَّ أَحَبَّ الْأَعْمَالِ إِلَيْهِ إِيْمَانٌ بِاللّٰهِ لاَ شَكَّ فِيْهِ، وَجِهَادُ أَهْلِ مَعْصِيَتِهِ الَّذِيْنَ خَالَفُوا الْإِيْمَانَ وَلَمْ يُقِرُّوْا بِهِ فَلَمَّا نَزَلَ الْجِهَادُ، كَرِهَ ذٰلِكَ أُنَاسٌ مِّنَ الْمُؤْمِنِيْنَ، وَشَقَّ عَلَيْهِمْ أَمْرُهُ، فَقَالَ اللّٰهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالٰی: «يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ» [الصف: ۲ ] ] [ طبري: ۲۲ /۶۰۶، ح: ۳۴۳۵۹ ] ”مومنوں میں سے کچھ لوگ جہاد فرض ہونے سے پہلے کہتے تھے: ”ہم چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے ہاں سب اعمال سے زیادہ محبوب عمل بتائے تو ہم وہ کریں۔“ تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ تمام اعمال میں سے محبوب وہ ایمان باللہ ہے جس میں کوئی شک نہ ہو اور اس کی نافرمانی کرنے والوں سے جہاد ہے جنھوں نے ایمان کی مخالفت کی اور اس کا اقرار نہیں کیا۔ پھر جب جہاد (کا حکم) نازل ہوا تو مومنوں میں سے کچھ لوگوں نے اسے ناپسند کیا اور اس کا حکم ان پر شاق گزرا، تو اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا: «يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ» ”اے لوگو جو ایمان لائے ہو! کیوں کہتے ہو جو تم نہیں کرتے۔“ اس سے معلوم ہوا کہ ان آیات سے مراد وہ لوگ ہیں جو جہاد فرض ہونے سے پہلے اس کی تمنا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ اگر ہمیں معلوم ہو کہ سب سے محبوب عمل کون سا ہے تو ہم وہ کریں گے، مگر جب جہاد کا حکم نازل ہوا تو ان میں سے کچھ لوگوں نے اس سے گریز کیا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ قِيْلَ لَهُمْ كُفُّوْۤا اَيْدِيَكُمْ وَ اَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقِتَالُ اِذَا فَرِيْقٌ مِّنْهُمْ يَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْيَةِ اللّٰهِ اَوْ اَشَدَّ خَشْيَةً وَ قَالُوْا رَبَّنَا لِمَ كَتَبْتَ عَلَيْنَا الْقِتَالَ لَوْ لَاۤ اَخَّرْتَنَاۤ اِلٰۤى اَجَلٍ قَرِيْبٍ قُلْ مَتَاعُ الدُّنْيَا قَلِيْلٌ وَ الْاٰخِرَةُ خَيْرٌ لِّمَنِ اتَّقٰى وَ لَا تُظْلَمُوْنَ فَتِيْلًا (77) اَيْنَ مَا تَكُوْنُوْا يُدْرِكْكُّمُ الْمَوْتُ وَ لَوْ كُنْتُمْ فِيْ بُرُوْجٍ مُّشَيَّدَةٍ» [ النساء: 78،77 ] ”کیا تونے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن سے کہا گیا کہ اپنے ہاتھ روکے رکھو اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو، پھر جب ان پر لڑنا لکھا گیا اچانک ان میں سے کچھ لوگ، لوگوں سے ڈرنے لگے، جیسے اللہ سے ڈرنا ہو یا اس سے بھی زیادہ ڈرنا اور انھوں نے کہا اے ہمارے رب! تو نے ہم پر لڑنا کیوں لکھ دیا، تو نے ہمیں ایک قریب وقت تک مہلت کیوں نہ دی۔ کہہ دے دنیا کا سامان بہت تھوڑا ہے اور آخرت اس کے لیے بہتر ہے جو متقی بنے اور تم پر دھاگے برابر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ تم جہاں کہیں بھی ہو گے موت تمھیں پا لے گی، خواہ تم مضبوط قلعوں میں ہو۔“ اور فرمایا: «وَ يَقُوْلُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَوْ لَا نُزِّلَتْ سُوْرَةٌ فَاِذَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ مُّحْكَمَةٌ وَّ ذُكِرَ فِيْهَا الْقِتَالُ رَاَيْتَ الَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ يَّنْظُرُوْنَ اِلَيْكَ نَظَرَ الْمَغْشِيِّ عَلَيْهِ مِنَ الْمَوْتِ» [ محمد: ۲۰ ] ”اور وہ لوگ جو ایمان لائے کہتے ہیں کوئی سورت کیوں نازل نہیں کی گئی؟ پھر جب کوئی محکم سورت نازل کی جاتی ہے اور اس میں لڑائی کا ذکر کیا جاتا ہے تو تو ان لوگوں کو دیکھے گا جن کے دلوں میں بیماری ہے، وہ تیری طرف اس طرح دیکھیں گے جیسے اس شخص کا دیکھنا ہوتا ہے جس پر موت کی غشی ڈالی گئی ہو۔“ اسی طرح وہ لوگ بھی مراد ہیں جنھوں نے تمھیں کہا تھا کہ ہم جنگ میں پیٹھ نہیں دکھائیں گے، مگر اس عہد پر قائم نہ رہے، جیسا کہ فرمایا: «وَ لَقَدْ كَانُوْا عَاهَدُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ لَا يُوَلُّوْنَ الْاَدْبَارَ وَ كَانَ عَهْدُ اللّٰهِ مَسْـُٔوْلًا» [ الأحزاب: ۱۵ ] ”حالانکہ بلاشبہ یقینا اس سے پہلے انھوں نے اللہ سے عہد کیا تھا کہ وہ پیٹھ نہ پھیریں گے اور اللہ کا عہد ہمیشہ پوچھا جانے والا ہے۔“ ➋ {” لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ “} کے الفاظ میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو ایسے کاموں کا دعویٰ کرتے ہیں جو انھوں نے نہ کیے ہیں نہ کرتے ہیں۔ مثلاً یہ کہ ہم نے جہاد کیا، ہم نے دشمن کا منہ موڑ دیا، ہم نے یہ کیا اور وہ کیا، حالانکہ انھوں نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا ہوتا، ان کی خواہش ان کارناموں پر اپنی تعریف کی ہوتی ہے جو انھوں نے نہیں کیے۔ ایسے لوگوں کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ يَفْرَحُوْنَ بِمَاۤ اَتَوْا وَّ يُحِبُّوْنَ اَنْ يُّحْمَدُوْا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوْا فَلَا تَحْسَبَنَّهُمْ بِمَفَازَةٍ مِّنَ الْعَذَابِ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ» [ آل عمران: ۱۸۸ ] ”ان لوگوں کو ہر گز خیال نہ کر جو ان (کاموں) پر خوش ہوتے ہیں جو انھوں نے کیے اور پسند کرتے ہیں کہ ان کی تعریف ان (کاموں) پر کی جائے جو انھوں نے نہیں کیے، پس تو انھیں عذاب سے بچ نکلنے میں کامیاب ہر گز خیال نہ کر اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔“ ➌ {” لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ “} میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو کسی سے کوئی بھی ایسا وعدہ کرتے ہیں جسے پورا کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔ عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن میری امی نے مجھے بلایا، جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر تشریف رکھتے تھے، کہنے لگی: ”آؤ، میں تمھیں کچھ دوں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: [ وَمَا أَرَدْتِ أَنْ تُعْطِيْهِ؟ ] ”تم نے اسے کیا دینے کا ارادہ کیا ہے؟“ اس نے کہا: ”میں اسے کھجوریں دوں گی۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ أَمَا إِنَّكِ لَوْ لَمْ تُعْطِيْهِ شَيْئًا كُتِبَتْ عَلَيْكِ كِذْبَةٌ ] [ أبو داوٗد، الأدب، باب التشدید في الکذب: ۴۹۹۱، وقال الألباني حسن ] ”یاد رکھو! اگر تم اسے کچھ نہ دیتیں تو تم پر ایک جھوٹ لکھا جاتا۔“ ➍ بعض حضرات اس سے یہ استدلال کرتے ہیں کہ آدمی جو عمل خود نہ کرتا ہو کسی دوسرے کو بھی اس کی دعوت نہ دے، حالانکہ یہاں اس کام کے وعدے یا دعوے پر سرزنش ہے جو انسان نہ کرتا ہو، ایسے کام کی دعوت پر سرزنش نہیں۔ فرائض پر عمل اور ان کی دعوت تو ہر ایک پر لازم ہے، اگر ان کی دعوت دے مگر خود عمل نہ کرے تو اس پر واقعی گرفت ہے، مگر وہ ترک عمل پر ہے دعوت پر نہیں۔ مزید دیکھیے سورۂ بقرہ کی آیت (۴۴): «اَتَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَ تَنْسَوْنَ اَنْفُسَكُمْ وَ اَنْتُمْ تَتْلُوْنَ الْكِتٰبَ» کی تفسیر۔ اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ اگر خود عمل نہ کرو تو دوسروں کو کہنا چھوڑ دو، بلکہ اپنی کوتاہی پر ندامت اور شرمندگی کے احساس کے ساتھ دعوت و تبلیغ جاری رکھنی چاہیے اور امید کرنی چاہیے کہ اس کی برکت سے اللہ تعالیٰ کوتاہی دور کرنے کی توفیق بھی عطا فرمائے گا۔ علاوہ ازیں ہر مسلمان پر دین کی ہر بات آگے پہنچانا فرض ہے۔ فرائض کے بارے میں خود عمل اور دوسروں تک پہنچانا دو کام فرض ہیں، جب کہ مستحبات و فضائل کو آگے پہنچانا فرض ہے، خود عمل کرے تو اجر ہے نہ کر سکے تو مؤاخذہ نہیں، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ بَلِّغُوْا عَنِّيْ وَلَوْ آيَةً ] [ بخاري، أحادیث الأنبیاء، باب ما ذکر عن بني إسرائیل: ۳۴۶۱، عن عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنھما ] ”مجھ سے آگے پہنچا دو، خواہ ایک آیت ہو۔“ اور فرمایا: [ فَلْيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ فَرُبَّ مُبَلَّغٍ أَوْعٰی مِنْ سَامِعٍ ] [ بخاري، الحج، باب الخطبۃ أیام منًی: ۱۷۴۱، عن أبي بکرۃ رضی اللہ عنہ ] ”تو جو موجود ہے وہ اس تک پہنچا دے جو موجود نہیں، کیونکہ بہت سے لوگ جنھیں پہنچایا جائے، سننے والوں سے زیادہ یاد رکھنے والے ہوتے ہیں۔“ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی تاکید کے لیے دیکھیے سورۂ آلِ عمران (110،104)۔ ➎ {كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰهِ …: ”مَقَتَ يَمْقُتُ مَقْتًا“ (ن) ” أَبْغَضَهُ بُغْضًا شَدِيْدًا “} ان آیات میں اس وعدے یا دعوے پر اللہ تعالیٰ نے اپنی شدید ناراضی کا اظہار کئی طرح سے فرمایا ہے جس پر عمل نہ کیا جائے۔ سب سے پہلے ڈانٹ اور ملامت کے لیے استفہام انکاری کے ساتھ فرمایا کہ ایمان لانے کے باوجود تم وہ کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں، پھر اس کام کی شناعت کے اظہار کے لیے اس کی ضمیر لانے کے بجائے دوسری آیت میں انھی الفاظ کو دہرایا ہے، چنانچہ پہلے فرمایا: «‏‏‏‏لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ» ‏‏‏‏ پھر فرمایا: «‏‏‏‏اَنْ تَقُوْلُوْا مَا لَا تَفْعَلُوْنَ» ‏‏‏‏ پھر ناراضی کی شدت کے اظہار کے لیے {” كَبُرَ “} کا لفظ استعمال فرمایا، جس کا معنی شدید بغض ہے اور اس کے ساتھ {” مَقْتًا “} فرمایا کہ یہ شدید بغض ”کبیر“ بھی ہے۔ پھر {” عِنْدَ اللّٰهِ “} کا لفظ ہے کہ یہ شدید بغض کسی عام شخص کا نہیں بلکہ اس عمل سے تم اللہ جل جلالہ کی شدید ناراضی کا نشانہ بن رہے ہو۔
کَبُرَ مَقۡتًا عِنۡدَ اللّٰہِ اَنۡ تَقُوۡلُوۡا مَا لَا تَفۡعَلُوۡنَ ﴿۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اللہ کے نزدیک یہ سخت ناپسندیدہ حرکت ہے کہ تم کہو وہ بات جو کرتے نہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
تم جو کرتے نہیں اس کا کہنا اللہ تعالیٰ کو سخت ناپسند ہے
احمد رضا خان بریلوی
کیسی سخت ناپسند ہے اللہ کو وہ بات کہ وہ کہو جو نہ کرو،
علامہ محمد حسین نجفی
اللہ کے نزدیک یہ بڑی ناراضی کی بات ہے کہ تم کہو ایسی بات جو کرو نہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اللہ کے نزدیک ناراض ہونے کے اعتبار سے بڑی بات ہے کہ تم وہ کہو جو تم نہیں کرتے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ایفائے عہد ایمان کی علامت ہے اور صف اتحاد کی علامت ٭٭

پہلی آیت کی تفسیر کئی بار گزر چکی ہے اب پھر اس کا اعادہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ پھر ان لوگوں کا ذکر ہوتا ہے جو کہیں اور نہ کریں، وعدہ کریں اور وفا نہ کریں، بعض علماء سلف نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ وعدہ کا پورا کرنا مطلقاً واجب ہے جس سے وعدہ کیا ہے خواہ وہ تاکید کرے یا نہ کرے، ان کی دلیل بخاری و مسلم کی یہ حدیث بھی ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”منافق کی تین عادتیں ہوتی ہیں [ ۱ ] ‏‏‏‏ جب وعدہ کرے خلاف کرے، [ ۲ ] ‏‏‏‏ جب بات کرے جھوٹ بولے، [ ۳ ] ‏‏‏‏ جب امانت دیا جائے خیانت کرے۔“ } ۱؎ [صحیح بخاری:33] ‏‏‏‏ دوسری صحیح حدیث میں ہے { چار باتیں جس میں ہوں وہ خالص منافق ہے اور جس میں ان چار میں سے ایک ہو اس میں ایک خصلت نفاق کی ہے جب تک اسے نہ چھوڑے۔ ان میں ایک عادت وعدہ خلافی کی ہے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:24] ‏‏‏‏ شرح صحیح بخاری کی ابتداء میں ہم نے ان دونوں احادیث کی پوری شرح کر دی ہے۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» اسی لیے یہاں بھی اس کی تاکید میں فرمایا گیا، اللہ تعالیٰ کو یہ بات سخت ناپسند ہے کہ تم وہ کہو جو خود نہ کرو، مسند احمد اور ابوداؤد میں عبداللہ بن عامر بن ربیعہ سے روایت ہے کہ { ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے میں اس وقت چھوٹا بچہ تھا کھیل کود کے لیے جانے لگا تو میری والدہ نے مجھے آواز دے کر کہا ادھر آ کچھ دوں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کچھ دینا بھی چاہتی ہو؟“ میری والدہ نے کہا: ہاں، یا رسول اللہ! کھجوریں دوں گی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تو خیر ورنہ یاد رکھو کچھ نہ دینے کا ارادہ ہوتا اور یوں کہتیں تو تم پر ایک جھوٹ لکھا جاتا۔“ } ۱؎ [سنن ابوداود:4991،قال الشيخ الألباني:۔صحیح] ‏‏‏‏ امام مالک رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جب وعدے کے ساتھ وعدہ پورا کرنے کی تاکید کا تعلق ہو تو اس وعدے کو وفا کرنا واجب ہو جاتا ہے، مثلاً کسی شخص نے کسی سے کہہ دیا کہ تو نکاح کر لے اور اتنا اتنا ہر روز میں تجھے دیتا رہوں گا اس نے نکاح کر لیا تو جب نکاح باقی ہے اس شخص پر واجب ہے کہ اسے اپنے وعدے کے مطابق دیتا رہے اس لیے کہ اس میں آدمی کے حق کا تعلق ثابت ہو گیا جس پر اس سے باز پرس سختی کے ساتھ ہو سکتی ہے۔

کیا ایفائے عہد واجب ہے؟ ٭٭

جمہور کا مذہب یہ ہے کہ ایفاء عہد مطلق واجب ہی نہیں، اس آیت کا جواب وہ یہ دیتے ہیں کہ جب لوگوں نے جہاد کی فرضیت کی خواہش کی اور فرض ہو گیا تو اب بعض لوگ دیکھنے لگے جس پر یہ آیت اتری، جیسے اور جگہ ہے «أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ قِيلَ لَهُمْ كُفُّوا أَيْدِيَكُمْ وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقِتَالُ إِذَا فَرِيقٌ مِّنْهُمْ يَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْيَةِ اللَّـهِ أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً ۚ وَقَالُوا رَبَّنَا لِمَ كَتَبْتَ عَلَيْنَا الْقِتَالَ لَوْلَا أَخَّرْتَنَا إِلَىٰ أَجَلٍ قَرِيبٍ ۗ قُلْ مَتَاعُ الدُّنْيَا قَلِيلٌ وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ لِّمَنِ اتَّقَىٰ وَلَا تُظْلَمُونَ فَتِيلًا أَيْنَمَا تَكُونُوا يُدْرِككُّمُ الْمَوْتُ وَلَوْ كُنتُمْ فِي بُرُوجٍ مُّشَيَّدَةٍ ۗ وَإِن تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌ يَقُولُوا هَـٰذِهِ مِنْ عِندِ اللَّـهِ ۖ وَإِن تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ يَقُولُوا هَـٰذِهِ مِنْ عِندِكَ ۚ قُلْ كُلٌّ مِّنْ عِندِ اللَّـهِ ۖ فَمَالِ هَـٰؤُلَاءِ الْقَوْمِ لَا يَكَادُونَ يَفْقَهُونَ حَدِيثًا» ۱؎ [4-النساء:77،78] ‏‏‏‏ یعنی ’ کیا تو نے انہیں نہ دیکھا جن سے کہا گیا تم اپنے ہاتھ روکے رکھو اور نماز و زکوٰۃ کا خیال رکھو، پھر جب ان پر جہاد فرض کیا گیا تو ان میں ایسے لوگ بھی نکل آئے جو لوگوں سے اس طرح ڈرنے لگے جیسے اللہ سے ڈرتے ہیں بلکہ اس سے بھی بہت زیادہ، کہنے لگے پروردگار تو نے ہم پر جہاد کیوں فرض کر دیا؟ کیوں ہمیں ایک وقت مقرر تک اس حکم کو مؤخر نہ کیا جو قریب ہی تو ہے۔ تو کہہ دے کہ اسباب دنیا تو بہت ہی کم ہیں ہاں پرہیزگاروں کے لیے آخرت بہترین چیز ہے۔ تم پر کچھ بھی ظلم نہ کیا جائے گا تم کہیں بھی ہو تمہیں موت ڈھونڈ نکالے گی گو تم مضبوط محلوں میں ہو۔‘ اور جگہ ہے «وَيَقُولُ الَّذِينَ آمَنُوا لَوْلَا نُزِّلَتْ سُورَةٌ ۖ فَإِذَا أُنزِلَتْ سُورَةٌ مُّحْكَمَةٌ وَذُكِرَ فِيهَا الْقِتَالُ ۙ رَأَيْتَ الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ يَنظُرُونَ إِلَيْكَ نَظَرَ الْمَغْشِيِّ عَلَيْهِ مِنَ الْمَوْتِ» ۱؎ [47-محمد:20] ‏‏‏‏ الخ، یعنی ’ مسلمان کہتے ہیں کیوں کوئی سورت نہیں اتاری جاتی؟ پھر جب کوئی محکم سورت اتاری جاتی ہے اور اس میں لڑائی کا ذکر ہوتا ہے تو دیکھے گا کہ بیمار دل والے تیری طرف اس طرح دیکھیں گے جیسے وہ دیکھتا ہے جس پر موت کی بیہوشی ہو ‘۔ اسی طرح کی یہ آیت بھی ہے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ بعض مومنوں نے جہاد کی فرضیت سے پہلے کہا کہ کیا ہی اچھا ہوتا اللہ تعالیٰ ہمیں وہ عمل بتاتا جو اسے سب سے زیادہ پسند ہوتا تاکہ ہم اس پر عامل ہوتے، پس اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر کی کہ ’ سب سے زیادہ پسندیدہ عمل میرے نزدیک ایمان ہے جو شک شبہ سے پاک ہو اور بےایمانوں سے جہاد کرنا ہے ‘، تو بعض مسلمانوں پر یہ گراں گزرا جس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری کہ ’ وہ باتیں زبان سے کیوں نکالتے ہو جنہیں کرتے نہیں۔ ‘ امام ابن جریر رحمہ اللہ اسی کو پسند فرماتے ہیں۔ مقاتل بن حیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مسلمانوں نے کہا اگر ہمیں معلوم ہو جاتا کہ کس عمل کو اللہ تعالیٰ بہت پسند فرماتا ہے تو ہم ضرور وہ عمل بجا لاتے اس پر اللہ عزوجل نے وہ عمل بتایا کہ ’ میری راہ میں صفیں باندھ کر مضبوطی کے ساتھ جم کر جہاد کرنے والوں کو میں بہت پسند فرماتا ہوں ‘، پھر احد والے دن ان کی آزمائش ہو گئی اور لوگ پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوئے جس پر یہ فرمان عالیشان اترا کہ ’ کیوں وہ کہتے ہو جو کہ نہیں دکھاتے؟‘۔

منافق جو کرتے نہیں وہ کہتے ہیں ٭٭

بعض حضرات فرماتے ہیں یہ ان کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو کہیں ہم نے جہاد کیا اور حالانکہ جہاد نہ کیا ہو منہ سے کہیں کہ ہم زخمی ہوئے اور زخمی نہ ہوئے ہوں، کہیں کہ ہم پر مار پڑی اور مار نہ پڑی ہو، منہ سے کہیں کہ ہم قید کئے گئے اور قید نہ کئے گئے ہوں۔ ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد منافق ہیں کہ مسلمانوں کی مدد کا وعدہ کرتے لیکن وقت پر پورا نہ کرتے، زید بن اسلم رحمہ اللہ جہاد مراد لیتے ہیں، مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ان کہنے والوں میں عبداللہ بن رواحہ انصاری رضی اللہ عنہ بھی تھے جب آیت اتری اور معلوم ہوا کہ جہاد سب سے زیادہ عمدہ عمل ہے تو آپ نے عہد کر لیا کہ میں تو اب سے لے کر مرتے دم تک اللہ کی راہ میں اپنے آپ کو وقف کر چکا چنانچہ اسی پر قائم بھی رہے یہاں تک کہ فی سبیل اللہ شہید ہو گئے۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بصرہ کے قاریوں کو ایک مرتبہ بلوایا تو تین سو قاری ان کے پاس آئے جن میں سے ہر ایک قاری قرآن تھا۔ پھر فرمایا تم اہل بصرہ کے قاری اور ان میں سے بہترین لوگ ہو، سنو ہم ایک سورت پڑھتے تھے جو مسبحات کی سورتوں کے مشابہ تھی، پھر ہم اسے بھلا دیئے گئے، ہاں مجھے اس میں سے اتنا یاد رہ گیا «يَا أَيّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ فَتُكْتَب شَهَادَة فِي أَعْنَاقِكُمْ فَتُسْأَلُونَ عَنْهَا يَوْم الْقِيَامَة» یعنی ’ اے ایمان والو وہ کیوں کہو جو نہ کرو پھر وہ لکھا جائے اور تمہاری گردنوں میں بطور گواہ کے لٹکا دیا جائے پھر قیامت کے دن اس کی بابت باز پرس ہو۔‘ پھر فرمایا ’ اللہ تعالیٰ کے محبوب وہ لوگ ہیں جو صفیں باندھ کر دشمنان اللہ کے مقابلے میں ڈٹ جاتے ہیں تاکہ اللہ کا بول بالا ہو، اسلام کی حفاظت ہو اور دین کا غلبہ ہو۔ ‘ مسند احمد میں ہے تین قسم کے لوگوں کی تین حالتیں ہیں جنہیں دیکھ کر اللہ تبارک و تعالیٰ خوش ہوتا ہے اور ہنس دیتا ہے رات کو اٹھ کر تہجد پڑھنے والے، نماز کے لیے صفیں باندھنے والے، میدان جنگ میں صف بندی کرنے والے۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:200،قال الشيخ الألباني:۔ضعیف] ‏‏‏‏ ابن ابی حاتم میں ہے مطرف رحمہ اللہ فرماتے ہیں مجھے بروایت ابوذر ایک حدیث پہنچی تھی میرے جی میں تھا کہ خود سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے مل کر یہ حدیث آمنے سامنے سن لوں، چنانچہ ایک مرتبہ جا کر آپ سے ملاقات کی اور واقعہ بیان کیا، آپ نے خوشنودی کا اظہار فرما کر کہا وہ حدیث کیا ہے؟ میں نے کہا یہ کہ اللہ تعالیٰ تین شخصوں کو دشمن جانتا ہے اور تین کو دوست رکھتا ہے فرمایا: ہاں میں اپنے خلیل محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ نہیں بول سکتا فی الواقع آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے یہ حدیث بیان فرمائی ہے، میں نے پوچھا: وہ تین کون ہیں؟ جنہیں اللہ تعالیٰ محبوب جانتا ہے فرمایا: ایک تو وہ جو اللہ کی راہ میں جہاد کرے خالص خوشنودی اللہ کی نیت سے نکلے دشمن سے جب مقابلہ ہو تو دلیرانہ جہاد کرے تم اس کی تصدیق خود کتاب اللہ میں بھی دیکھ سکتے ہو پھر آپ نے یہی آیت «إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِهِ صَفًّا كَأَنَّهُم بُنْيَانٌ مَّرْصُوصٌ» ۱؎ [61-الصف:4] ‏‏‏‏ تلاوت فرمائی اور پھر پوری حدیث بیان کی۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2568،قال الشيخ الألباني:۔ضعیف] ‏‏‏‏ ابن ابی حاتم میں یہ حدیث اسی طرح ان ہی الفاظ میں اتنی ہی آئی ہے ہاں ترمذی اور نسائی میں پوری حدیث ہے اور ہم نے بھی اسے دوسری جگہ مکمل وارد کیا ہے۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»

صف بندی تعلیم ربانی ٭٭

کعب احبار رضی اللہ عنہ سے ابن ابی حاتم میں منقول ہے اللہ تعالیٰ اپنے نبی سے فرماتا ہے: آپ میرے بندے متوکل اور پسندیدہ ہیں بدخلق، بدزبان، بازاروں میں شور و غل کرنے والے نہیں، برائی کا بدلہ برائی سے نہیں لیتے بلکہ درگزر کر کے معاف کر دیتے ہیں۔ آپ کی جائے پیدائش مکہ ہے، جائے ہجرت طابہ ہے، ملک آپ کا شام ہے، امت آپ کی بکثرت حمد اللہ کرنے والی ہے، ہر حال میں اور ہر منزل میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کرتے رہتے ہیں۔ صبح کے وقت ذکر اللہ میں ان کی پست آوازیں برابر سنائی دیتی ہیں جیسے شہد کی مکھیوں کی بھن بھناہٹ اپنے ناخن اور مچھیں کترتے ہیں اور اپنے تہبند اپنی آدھی پنڈلیوں تک باندھتے ہیں ان کی صفیں میدان جہاد میں ایسی ہوتی ہیں جیسی نماز میں۔‘ پھر کعب رضی اللہ عنہ نے اسی آیت کی تلاوت کی پھر فرمایا: سورج کی نگہبانی کرنے والے، جہاں وقت نماز آ جائے نماز ادا کر لینے والے، گو سواری پر ہوں، سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صفیں نہ بنوا لیتے دشمن سے لڑائی شروع نہیں کرتے تھے، پس صف بندی کی تعلیم مسلمانوں کو اللہ کی دی ہوئی ہے، ایک دوسرے سے ملے کھڑے رہیں، ثابت قدم رہیں اور ٹلیں نہیں تم نہیں دیکھتے کہ عمارت کا بنانے والا نہیں چاہتا کہ اس کی عمارت میں کہیں اونچ نیچ ہو ٹیڑھی ترچھی ہو یا سوراخ رہ جائیں، اسی طرح اللہ تعالیٰ نہیں چاہتا کہ اس کے امر میں اختلاف ہو میدان جنگ میں اور بوقت نماز مسلمانوں کی صف بندی خود اس نے کی ہے، پس تم اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرو جو احکام بجا لائے گا یہ اس کے لیے عصمت اور بچاؤ ثابت ہے۔ ابوبحریہ فرماتے ہیں مسلمان گھوڑوں پر سوار ہو کر لڑنا پسند نہیں کرتے تھے انہیں تو یہ اچھا معلوم ہوتا تھا کہ زمین پر پیدل صفیں بنا کر آمنے سامنے کا مقابلہ کریں، آپ فرماتے ہیں جب تم مجھے دیکھو کہ میں نے صف میں سے ادھر ادھر توجہ کی تو تم جو چاہو ملامت کرنا اور برا بھلا کہنا۔
3۔ 1 یہ اسی کی مزید تاکید ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں پر سخت ناراض ہوتا ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الَّذِیۡنَ یُقَاتِلُوۡنَ فِیۡ سَبِیۡلِہٖ صَفًّا کَاَنَّہُمۡ بُنۡیَانٌ مَّرۡصُوۡصٌ ﴿۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اللہ کو تو پسند وہ لوگ ہیں جو اس کی راہ میں اس طرح صف بستہ ہو کر لڑتے ہیں گویا کہ وہ ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
بیشک اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اس کی راه میں صف بستہ جہاد کرتے ہیں گویا وه سیسہ پلائی ہوئی عمارت ہیں
احمد رضا خان بریلوی
بیشک اللہ دوست رکھتا ہے انہیں جو اس کی راہ میں لڑتے ہیں پرا (صف) باندھ کر گویا وہ عمارت ہیں رانگا پلائی (سیسہ پلائی دیوار)
علامہ محمد حسین نجفی
بےشک خدا ان (مجاہدوں) کو دوست رکھتا ہے جو اس کی راہ میں یوں صف بستہ ہو کر (پَراجما کر) جنگ کرتے ہیں کہ گویا وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
بلاشبہ اللہ ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اس کی راہ میں صف باندھ کر لڑتے ہیں، جیسے وہ ایک سیسہ پلائی ہوئی عمارت ہوں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ایفائے عہد ایمان کی علامت ہے اور صف اتحاد کی علامت ٭٭

پہلی آیت کی تفسیر کئی بار گزر چکی ہے اب پھر اس کا اعادہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ پھر ان لوگوں کا ذکر ہوتا ہے جو کہیں اور نہ کریں، وعدہ کریں اور وفا نہ کریں، بعض علماء سلف نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ وعدہ کا پورا کرنا مطلقاً واجب ہے جس سے وعدہ کیا ہے خواہ وہ تاکید کرے یا نہ کرے، ان کی دلیل بخاری و مسلم کی یہ حدیث بھی ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”منافق کی تین عادتیں ہوتی ہیں [ ۱ ] ‏‏‏‏ جب وعدہ کرے خلاف کرے، [ ۲ ] ‏‏‏‏ جب بات کرے جھوٹ بولے، [ ۳ ] ‏‏‏‏ جب امانت دیا جائے خیانت کرے۔“ } ۱؎ [صحیح بخاری:33] ‏‏‏‏ دوسری صحیح حدیث میں ہے { چار باتیں جس میں ہوں وہ خالص منافق ہے اور جس میں ان چار میں سے ایک ہو اس میں ایک خصلت نفاق کی ہے جب تک اسے نہ چھوڑے۔ ان میں ایک عادت وعدہ خلافی کی ہے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:24] ‏‏‏‏ شرح صحیح بخاری کی ابتداء میں ہم نے ان دونوں احادیث کی پوری شرح کر دی ہے۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» اسی لیے یہاں بھی اس کی تاکید میں فرمایا گیا، اللہ تعالیٰ کو یہ بات سخت ناپسند ہے کہ تم وہ کہو جو خود نہ کرو، مسند احمد اور ابوداؤد میں عبداللہ بن عامر بن ربیعہ سے روایت ہے کہ { ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے میں اس وقت چھوٹا بچہ تھا کھیل کود کے لیے جانے لگا تو میری والدہ نے مجھے آواز دے کر کہا ادھر آ کچھ دوں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کچھ دینا بھی چاہتی ہو؟“ میری والدہ نے کہا: ہاں، یا رسول اللہ! کھجوریں دوں گی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تو خیر ورنہ یاد رکھو کچھ نہ دینے کا ارادہ ہوتا اور یوں کہتیں تو تم پر ایک جھوٹ لکھا جاتا۔“ } ۱؎ [سنن ابوداود:4991،قال الشيخ الألباني:۔صحیح] ‏‏‏‏ امام مالک رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جب وعدے کے ساتھ وعدہ پورا کرنے کی تاکید کا تعلق ہو تو اس وعدے کو وفا کرنا واجب ہو جاتا ہے، مثلاً کسی شخص نے کسی سے کہہ دیا کہ تو نکاح کر لے اور اتنا اتنا ہر روز میں تجھے دیتا رہوں گا اس نے نکاح کر لیا تو جب نکاح باقی ہے اس شخص پر واجب ہے کہ اسے اپنے وعدے کے مطابق دیتا رہے اس لیے کہ اس میں آدمی کے حق کا تعلق ثابت ہو گیا جس پر اس سے باز پرس سختی کے ساتھ ہو سکتی ہے۔

کیا ایفائے عہد واجب ہے؟ ٭٭

جمہور کا مذہب یہ ہے کہ ایفاء عہد مطلق واجب ہی نہیں، اس آیت کا جواب وہ یہ دیتے ہیں کہ جب لوگوں نے جہاد کی فرضیت کی خواہش کی اور فرض ہو گیا تو اب بعض لوگ دیکھنے لگے جس پر یہ آیت اتری، جیسے اور جگہ ہے «أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ قِيلَ لَهُمْ كُفُّوا أَيْدِيَكُمْ وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقِتَالُ إِذَا فَرِيقٌ مِّنْهُمْ يَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْيَةِ اللَّـهِ أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً ۚ وَقَالُوا رَبَّنَا لِمَ كَتَبْتَ عَلَيْنَا الْقِتَالَ لَوْلَا أَخَّرْتَنَا إِلَىٰ أَجَلٍ قَرِيبٍ ۗ قُلْ مَتَاعُ الدُّنْيَا قَلِيلٌ وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ لِّمَنِ اتَّقَىٰ وَلَا تُظْلَمُونَ فَتِيلًا أَيْنَمَا تَكُونُوا يُدْرِككُّمُ الْمَوْتُ وَلَوْ كُنتُمْ فِي بُرُوجٍ مُّشَيَّدَةٍ ۗ وَإِن تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌ يَقُولُوا هَـٰذِهِ مِنْ عِندِ اللَّـهِ ۖ وَإِن تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ يَقُولُوا هَـٰذِهِ مِنْ عِندِكَ ۚ قُلْ كُلٌّ مِّنْ عِندِ اللَّـهِ ۖ فَمَالِ هَـٰؤُلَاءِ الْقَوْمِ لَا يَكَادُونَ يَفْقَهُونَ حَدِيثًا» ۱؎ [4-النساء:77،78] ‏‏‏‏ یعنی ’ کیا تو نے انہیں نہ دیکھا جن سے کہا گیا تم اپنے ہاتھ روکے رکھو اور نماز و زکوٰۃ کا خیال رکھو، پھر جب ان پر جہاد فرض کیا گیا تو ان میں ایسے لوگ بھی نکل آئے جو لوگوں سے اس طرح ڈرنے لگے جیسے اللہ سے ڈرتے ہیں بلکہ اس سے بھی بہت زیادہ، کہنے لگے پروردگار تو نے ہم پر جہاد کیوں فرض کر دیا؟ کیوں ہمیں ایک وقت مقرر تک اس حکم کو مؤخر نہ کیا جو قریب ہی تو ہے۔ تو کہہ دے کہ اسباب دنیا تو بہت ہی کم ہیں ہاں پرہیزگاروں کے لیے آخرت بہترین چیز ہے۔ تم پر کچھ بھی ظلم نہ کیا جائے گا تم کہیں بھی ہو تمہیں موت ڈھونڈ نکالے گی گو تم مضبوط محلوں میں ہو۔‘ اور جگہ ہے «وَيَقُولُ الَّذِينَ آمَنُوا لَوْلَا نُزِّلَتْ سُورَةٌ ۖ فَإِذَا أُنزِلَتْ سُورَةٌ مُّحْكَمَةٌ وَذُكِرَ فِيهَا الْقِتَالُ ۙ رَأَيْتَ الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ يَنظُرُونَ إِلَيْكَ نَظَرَ الْمَغْشِيِّ عَلَيْهِ مِنَ الْمَوْتِ» ۱؎ [47-محمد:20] ‏‏‏‏ الخ، یعنی ’ مسلمان کہتے ہیں کیوں کوئی سورت نہیں اتاری جاتی؟ پھر جب کوئی محکم سورت اتاری جاتی ہے اور اس میں لڑائی کا ذکر ہوتا ہے تو دیکھے گا کہ بیمار دل والے تیری طرف اس طرح دیکھیں گے جیسے وہ دیکھتا ہے جس پر موت کی بیہوشی ہو ‘۔ اسی طرح کی یہ آیت بھی ہے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ بعض مومنوں نے جہاد کی فرضیت سے پہلے کہا کہ کیا ہی اچھا ہوتا اللہ تعالیٰ ہمیں وہ عمل بتاتا جو اسے سب سے زیادہ پسند ہوتا تاکہ ہم اس پر عامل ہوتے، پس اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر کی کہ ’ سب سے زیادہ پسندیدہ عمل میرے نزدیک ایمان ہے جو شک شبہ سے پاک ہو اور بےایمانوں سے جہاد کرنا ہے ‘، تو بعض مسلمانوں پر یہ گراں گزرا جس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری کہ ’ وہ باتیں زبان سے کیوں نکالتے ہو جنہیں کرتے نہیں۔ ‘ امام ابن جریر رحمہ اللہ اسی کو پسند فرماتے ہیں۔ مقاتل بن حیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مسلمانوں نے کہا اگر ہمیں معلوم ہو جاتا کہ کس عمل کو اللہ تعالیٰ بہت پسند فرماتا ہے تو ہم ضرور وہ عمل بجا لاتے اس پر اللہ عزوجل نے وہ عمل بتایا کہ ’ میری راہ میں صفیں باندھ کر مضبوطی کے ساتھ جم کر جہاد کرنے والوں کو میں بہت پسند فرماتا ہوں ‘، پھر احد والے دن ان کی آزمائش ہو گئی اور لوگ پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوئے جس پر یہ فرمان عالیشان اترا کہ ’ کیوں وہ کہتے ہو جو کہ نہیں دکھاتے؟‘۔

منافق جو کرتے نہیں وہ کہتے ہیں ٭٭

بعض حضرات فرماتے ہیں یہ ان کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو کہیں ہم نے جہاد کیا اور حالانکہ جہاد نہ کیا ہو منہ سے کہیں کہ ہم زخمی ہوئے اور زخمی نہ ہوئے ہوں، کہیں کہ ہم پر مار پڑی اور مار نہ پڑی ہو، منہ سے کہیں کہ ہم قید کئے گئے اور قید نہ کئے گئے ہوں۔ ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد منافق ہیں کہ مسلمانوں کی مدد کا وعدہ کرتے لیکن وقت پر پورا نہ کرتے، زید بن اسلم رحمہ اللہ جہاد مراد لیتے ہیں، مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ان کہنے والوں میں عبداللہ بن رواحہ انصاری رضی اللہ عنہ بھی تھے جب آیت اتری اور معلوم ہوا کہ جہاد سب سے زیادہ عمدہ عمل ہے تو آپ نے عہد کر لیا کہ میں تو اب سے لے کر مرتے دم تک اللہ کی راہ میں اپنے آپ کو وقف کر چکا چنانچہ اسی پر قائم بھی رہے یہاں تک کہ فی سبیل اللہ شہید ہو گئے۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بصرہ کے قاریوں کو ایک مرتبہ بلوایا تو تین سو قاری ان کے پاس آئے جن میں سے ہر ایک قاری قرآن تھا۔ پھر فرمایا تم اہل بصرہ کے قاری اور ان میں سے بہترین لوگ ہو، سنو ہم ایک سورت پڑھتے تھے جو مسبحات کی سورتوں کے مشابہ تھی، پھر ہم اسے بھلا دیئے گئے، ہاں مجھے اس میں سے اتنا یاد رہ گیا «يَا أَيّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ فَتُكْتَب شَهَادَة فِي أَعْنَاقِكُمْ فَتُسْأَلُونَ عَنْهَا يَوْم الْقِيَامَة» یعنی ’ اے ایمان والو وہ کیوں کہو جو نہ کرو پھر وہ لکھا جائے اور تمہاری گردنوں میں بطور گواہ کے لٹکا دیا جائے پھر قیامت کے دن اس کی بابت باز پرس ہو۔‘ پھر فرمایا ’ اللہ تعالیٰ کے محبوب وہ لوگ ہیں جو صفیں باندھ کر دشمنان اللہ کے مقابلے میں ڈٹ جاتے ہیں تاکہ اللہ کا بول بالا ہو، اسلام کی حفاظت ہو اور دین کا غلبہ ہو۔ ‘ مسند احمد میں ہے تین قسم کے لوگوں کی تین حالتیں ہیں جنہیں دیکھ کر اللہ تبارک و تعالیٰ خوش ہوتا ہے اور ہنس دیتا ہے رات کو اٹھ کر تہجد پڑھنے والے، نماز کے لیے صفیں باندھنے والے، میدان جنگ میں صف بندی کرنے والے۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:200،قال الشيخ الألباني:۔ضعیف] ‏‏‏‏ ابن ابی حاتم میں ہے مطرف رحمہ اللہ فرماتے ہیں مجھے بروایت ابوذر ایک حدیث پہنچی تھی میرے جی میں تھا کہ خود سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے مل کر یہ حدیث آمنے سامنے سن لوں، چنانچہ ایک مرتبہ جا کر آپ سے ملاقات کی اور واقعہ بیان کیا، آپ نے خوشنودی کا اظہار فرما کر کہا وہ حدیث کیا ہے؟ میں نے کہا یہ کہ اللہ تعالیٰ تین شخصوں کو دشمن جانتا ہے اور تین کو دوست رکھتا ہے فرمایا: ہاں میں اپنے خلیل محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ نہیں بول سکتا فی الواقع آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے یہ حدیث بیان فرمائی ہے، میں نے پوچھا: وہ تین کون ہیں؟ جنہیں اللہ تعالیٰ محبوب جانتا ہے فرمایا: ایک تو وہ جو اللہ کی راہ میں جہاد کرے خالص خوشنودی اللہ کی نیت سے نکلے دشمن سے جب مقابلہ ہو تو دلیرانہ جہاد کرے تم اس کی تصدیق خود کتاب اللہ میں بھی دیکھ سکتے ہو پھر آپ نے یہی آیت «إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِهِ صَفًّا كَأَنَّهُم بُنْيَانٌ مَّرْصُوصٌ» ۱؎ [61-الصف:4] ‏‏‏‏ تلاوت فرمائی اور پھر پوری حدیث بیان کی۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2568،قال الشيخ الألباني:۔ضعیف] ‏‏‏‏ ابن ابی حاتم میں یہ حدیث اسی طرح ان ہی الفاظ میں اتنی ہی آئی ہے ہاں ترمذی اور نسائی میں پوری حدیث ہے اور ہم نے بھی اسے دوسری جگہ مکمل وارد کیا ہے۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»

صف بندی تعلیم ربانی ٭٭

کعب احبار رضی اللہ عنہ سے ابن ابی حاتم میں منقول ہے اللہ تعالیٰ اپنے نبی سے فرماتا ہے: آپ میرے بندے متوکل اور پسندیدہ ہیں بدخلق، بدزبان، بازاروں میں شور و غل کرنے والے نہیں، برائی کا بدلہ برائی سے نہیں لیتے بلکہ درگزر کر کے معاف کر دیتے ہیں۔ آپ کی جائے پیدائش مکہ ہے، جائے ہجرت طابہ ہے، ملک آپ کا شام ہے، امت آپ کی بکثرت حمد اللہ کرنے والی ہے، ہر حال میں اور ہر منزل میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کرتے رہتے ہیں۔ صبح کے وقت ذکر اللہ میں ان کی پست آوازیں برابر سنائی دیتی ہیں جیسے شہد کی مکھیوں کی بھن بھناہٹ اپنے ناخن اور مچھیں کترتے ہیں اور اپنے تہبند اپنی آدھی پنڈلیوں تک باندھتے ہیں ان کی صفیں میدان جہاد میں ایسی ہوتی ہیں جیسی نماز میں۔‘ پھر کعب رضی اللہ عنہ نے اسی آیت کی تلاوت کی پھر فرمایا: سورج کی نگہبانی کرنے والے، جہاں وقت نماز آ جائے نماز ادا کر لینے والے، گو سواری پر ہوں، سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صفیں نہ بنوا لیتے دشمن سے لڑائی شروع نہیں کرتے تھے، پس صف بندی کی تعلیم مسلمانوں کو اللہ کی دی ہوئی ہے، ایک دوسرے سے ملے کھڑے رہیں، ثابت قدم رہیں اور ٹلیں نہیں تم نہیں دیکھتے کہ عمارت کا بنانے والا نہیں چاہتا کہ اس کی عمارت میں کہیں اونچ نیچ ہو ٹیڑھی ترچھی ہو یا سوراخ رہ جائیں، اسی طرح اللہ تعالیٰ نہیں چاہتا کہ اس کے امر میں اختلاف ہو میدان جنگ میں اور بوقت نماز مسلمانوں کی صف بندی خود اس نے کی ہے، پس تم اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرو جو احکام بجا لائے گا یہ اس کے لیے عصمت اور بچاؤ ثابت ہے۔ ابوبحریہ فرماتے ہیں مسلمان گھوڑوں پر سوار ہو کر لڑنا پسند نہیں کرتے تھے انہیں تو یہ اچھا معلوم ہوتا تھا کہ زمین پر پیدل صفیں بنا کر آمنے سامنے کا مقابلہ کریں، آپ فرماتے ہیں جب تم مجھے دیکھو کہ میں نے صف میں سے ادھر ادھر توجہ کی تو تم جو چاہو ملامت کرنا اور برا بھلا کہنا۔
4۔ 1 یہ جہاد کا ایک انتہائی نیک عمل بتلایا گیا جو اللہ کو بہت محبوب ہے۔
(آیت 4) ➊ {اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الَّذِيْنَ يُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِهٖ …: ” مَرْصُوْصٌ”اَلرِّصَاصُ“} سیسہ (سکہ) {” رَصَّ يَرُصُّ رَصًّا“} (ن) ایک چیز کو دوسری کے ساتھ خوب جوڑ دینا، چمٹا دینا۔ اس میں سیسے کے اجزا کے باہم متصل ہونے کی تشبیہ ملحوظ ہے۔ {” بُنْيَانٌ”بَنٰي يَبْنِيْ بِنَاءً “} (ض) سے مصدر ہے بمعنی اسم مفعول، بنائی ہوئی عمارت۔ {” بُنْيَانٌ مَّرْصُوْصٌ “} ایسی عمارت جس کے اجزا ایک دوسرے سے سیسے کی طرح ملے ہوئے ہوں۔ ➋ اس جگہ اس آیت کا آنا دلیل ہے کہ پہلی آیات کا تعلق قتال فی سبیل اللہ سے ہے۔ ➌ اس آیت سے قتال فی سبیل اللہ کرنے والوں کی فضیلت ظاہر ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے محبوب بندے ہیں۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: [ قِيْلَ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! أَيُّ النَّاسِ أَفْضَلُ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُؤْمِنٌ يُجَاهِدُ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ، قَالُوْا ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ مُؤْمِنٌ فِيْ شِعْبٍ مِنَ الشِّعَابِ يَتَّقِي اللّٰهَ وَ يَدَعُ النَّاسَ مِنْ شَرِّهِ ] [ بخاري، الجہاد والسیر، باب أفضل الناس مؤمن مجاہد بنفسہ…: ۲۷۸۶ ] ”لوگوں نے کہا: ”یا رسول اللہ! لوگوں میں سے افضل (سب سے بہتر) کون ہے؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ مومن جو اللہ کے راستے میں اپنی جان اور اپنے مال کے ساتھ جہاد کرتا ہے۔“ انھوں نے کہا: ”پھر کون؟“ فرمایا: ”وہ مومن جو گھاٹیوں میں سے کسی گھاٹی میں ہے، اللہ سے ڈرتا ہے اور لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ رکھتا ہے۔“ ➍ اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی محبوبیت انھی لوگوں کو حاصل ہوتی ہے جن میں یہ اوصاف موجود ہوں، ایک یہ کہ وہ جان بچانے والے نہ ہوں بلکہ لڑنے والے اور جان و مال قربان کرنے والے ہوں۔ دوسرا یہ کہ وہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کے دین کی سربلندی کے لیے لڑیں۔ تیسرا یہ کہ وہ صف باندھ کر نظم و ترتیب کے ساتھ لڑیں، اس میں اطاعت امیر بھی شامل ہے کہ جہاں ان کی ذمہ داری لگا دی جائے وہاں ڈٹے رہیں، اس کے بغیر نہ صف بنتی ہے نہ قائم رہتی ہے۔ چوتھا یہ کہ وہ عقیدہ و مقصد میں، ایک دوسرے سے محبت میں اور ایک دوسرے پر اعتماد میں پوری طرح یک جان ہوں، جس طرح ”بنیان مرصوص“ میں کوئی رخنہ نہیں ہوتا ان میں بھی کسی قسم کا کوئی رخنہ نہ پایا جائے۔ پھر جس طرح ”بنیان مرصوص“ اپنی جگہ سے نہیں ہٹتی ان کے قدم بھی کسی صورت میدان سے اکھڑنے نہ پائیں، جیسا کہ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں یہ تمام اوصاف پائے جاتے تھے۔ دیکھیے سورۂ فتح کی آیت (۲۹): «‏‏‏‏اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَيْنَهُمْ» ‏‏‏‏ کی تفسیر۔
وَ اِذۡ قَالَ مُوۡسٰی لِقَوۡمِہٖ یٰقَوۡمِ لِمَ تُؤۡذُوۡنَنِیۡ وَ قَدۡ تَّعۡلَمُوۡنَ اَنِّیۡ رَسُوۡلُ اللّٰہِ اِلَیۡکُمۡ ؕ فَلَمَّا زَاغُوۡۤا اَزَاغَ اللّٰہُ قُلُوۡبَہُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الۡفٰسِقِیۡنَ ﴿۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور یاد کرو موسیٰؑ کی وہ بات جو اس نے اپنی قوم سے کہی تھی "اے میری قوم کے لوگو، تم کیوں مجھے اذیت دیتے ہو حالانکہ تم خوب جانتے ہو کہ میں تمہاری طرف اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہوں؟" پھر جب انہوں نے ٹیڑھ اختیار کی تو اللہ نے ان کے دل ٹیڑھے کر دیے، اللہ فاسقوں کو ہدایت نہیں دیتا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور (یاد کرو) جبکہ موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا اے میری قوم کے لوگو! تم مجھے کیوں ستا رہے ہو حاﻻنکہ تمہیں (بخوبی) معلوم ہے کہ میں تمہاری جانب اللہ کا رسول ہوں پس جب وه لوگ ٹیڑھے ہی رہے تو اللہ نے ان کے دلوں کو (اور) ٹیڑھا کر دیا، اور اللہ تعالیٰ نافرمان قوم کو ہدایت نہیں دیتا
احمد رضا خان بریلوی
اور یاد کرو جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا، اے میری قوم مجھے کیوں ستاتے ہو حالانکہ تم جانتے ہو کہ میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں پھر جب وہ ٹیڑھے ہوئے اللہ نے ان کے دل ٹیڑھے کردیے اور اللہ فاسق لوگوں کو راہ نہیں دیتا
علامہ محمد حسین نجفی
اور وہ وقت یاد کرو جب موسیٰ(ع) نے اپنی قوم سے کہا کہ میری قوم! تم کیوں مجھے اذیت دیتے ہو؟ حالانکہ تم خوب جانتے ہو کہ میں تمہاری طرف اللہ کا(بھیجا ہوا) رسول ہوں۔ پس جب وہ لوگ ٹیڑھے ہوگئے تو اللہ نے ان کے دلوں کو (اور بھی) ٹیڑھا کر دیا اور اللہ فاسقوں کو ہدایت نہیں دیتا (انہیں منزلِ مقصود تک نہیں پہنچاتا)
عبدالسلام بن محمد
اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا اے میری قوم! تم مجھے کیوں تکلیف دیتے ہو، حالانکہ یقینا تم جانتے ہو کہ میں تمھاری طرف اللہ کا رسول ہوں۔ پھر جب وہ ٹیڑھے ہو گئے تو اللہ نے ان کے دل ٹیڑھے کر دیے اور اللہ نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عیسیٰ علیہ السلام کی طرف سے خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشن گوئی ٭٭

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ کلیم اللہ موسیٰ بن عمران نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم میری رسالت کی سچائی جانتے ہو پھر کیوں میرے درپے آزار ہو رہے ہو؟ ‘ اس میں گویا ایک طرح سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی جاتی ہے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی جب ستائے جاتے تو فرماتے: ” «رَحْمَة اللَّه عَلَى مُوسَىٰ» اللہ تعالیٰ موسیٰ علیہ السلام پر رحمت نازل فرمائے، وہ اس سے زیادہ ستائے گئے لیکن پھر بھی صابر رہے۔“ ۱؎ [صحیح بخاری:4335] ‏‏‏‏ اور ساتھ ہی اس میں مومنوں کو ادب سکھایا جا رہا ہے کہ وہ اللہ کے نبی کو ایذاء نہ پہنچائیں ایسا نہ کریں جس سے آپ کا دل دکھتا ہو، جیسے اور جگہ ہے «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ آذَوْا مُوسَىٰ فَبَرَّأَهُ اللَّـهُ مِمَّا قَالُوا ۚ وَكَانَ عِندَ اللَّـهِ وَجِيهًا» ۱؎ [33-الأحزاب:69] ‏‏‏‏ ’ ایمان والو تم ایسے نہ ہونا جیسے موسیٰ کو ایذاء دینے والے تھے اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ذی عزت بندے کو اس کے بہتانوں سے پاک کیا۔ ‘ پس جبکہ یہ لوگ علم کے باوجود اتباع حق سے ہٹ گئے اور ٹیڑھے چلنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے بھی ان کے دل ہدایت سے ہٹا دیئے شک و حیرت ان میں سما گئی۔ جیسے اور جگہ ہے «وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ يُؤْمِنُوا بِهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَنَذَرُهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ» ۱؎ [6-الأنعام:110] ‏‏‏‏ یعنی ’ ہم ان کے دل اور آنکھیں الٹ دیں گے جس طرح یہ ہماری آیتوں پر پہلی دفعہ ایمان نہیں لائے اور ہم انہیں ان کی سرکشی کی حالت میں چھوڑ دیں گے جس میں وہ سرگرداں رہیں گے ‘ اور جگہ ہے «وَمَن يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّى وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ وَسَاءَتْ مَصِيرًا» ۱؎ [4-النساء:115] ‏‏‏‏ ’ جو رسول کی مخالفت کرے ہدایت ظاہر ہو جانے کے بعد اور مومنوں کے راستے کے سوا کسی دوسرے کی تابعداری کرے ہم اسے اسی طرف متوجہ کریں گے جس طرف وہ متوجہ ہوا ہے اور بالاخر اسے ہم جہنم میں ڈال دیں گے اور وہ بہت بری جگہ ہے۔ ‘ یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے اللہ تعالیٰ فاسقوں کی رہبری نہیں کرتا، پھر عیسیٰ علیہ السلام کا خطبہ بیان ہوتا ہے جو آپ علیہ السلام نے بنی اسرائیل میں پڑھا تھا جس میں فرمایا تھا کہ ”توراۃ میں میری خوشخبری دی گئی تھی اور اب میں تمہیں اپنے بعد آنے والے ایک رسول کی پیش گوئی سناتا ہوں جو نبی امی، عربی مکی، احمد مجتبیٰ، محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔“ پس عیسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کے نبیوں کے ختم کرنے والے ہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم انبیاء اور مرسلین کے خاتم ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نہ تو کوئی نبی آئے نہ رسول، نبوت و رسالت سب آپ پر من کل الوجوہ ختم ہو گئی۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صفاتی نام ٭٭

صحیح بخاری میں ایک نہایت پاکیزہ حدیث وارد ہوئی ہے جس میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «إِنَّ لِي أَسْمَاء أَنَا مُحَمَّد وَأَنَا أَحْمَد وَأَنَا الْمَاحِي الَّذِي يَمْحُو اللَّه بِهِ الْكُفْر وَأَنَا الْحَاشِر الَّذِي يُحْشَر النَّاس عَلَى قَدَمِي وَأَنَا الْعَاقِب» میرے بہت سے نام ہیں محمد، احمد، ماحی جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے کفر کو مٹا دیا اور میں حاشر ہوں جس کے قدموں پر لوگوں کا حشر کیا جائے گا اور میں عاقب ہوں“، یہ حدیث مسلم شریف میں بھی ہے۔} ۱؎ [صحیح بخاری:4896] ‏‏‏‏ ابوداؤد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے اپنے بہت سے نام بیان فرمائے جو ہمیں محفوظ رہے ان میں سے چند یہ ہیں، فرمایا: ” «أَنَا مُحَمَّد وَأَنَا أَحْمَد وَالْحَاشِر وَالْمُقَفِّي وَنَبِيّ الرَّحْمَة وَالتَّوْبَة وَالْمَلْحَمَة» میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، میں حاشر ہوں، میں مقفی ہوں، میں نبی الرحمتہ ہوں، میں نبی التوبہ ہوں، میں نبی الْمَلْحَمَة ہوں“، یہ حدیث بھی صحیح مسلم شریف میں ہے۔} ۱؎ [صحیح مسلم:2355] ‏‏‏‏ قرآن کریم میں ہے «الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِيَّ الْأُمِّيَّ الَّذِي يَجِدُونَهُ مَكْتُوبًا عِندَهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنجِيلِ» ۱؎ [7-الأعراف:157] ‏‏‏‏ ’ جو پیروی کرتے ہیں اس رسول نبی امی کی جنہیں اپنے پاس لکھا ہوا پاتے ہیں توراۃ میں بھی اور انجیل میں بھی۔ ‘ اور جگہ فرمان ہے «وَإِذْ أَخَذَ اللَّه مِيثَاق النَّبِيِّينَ لَمَا آتَيْتُكُمْ مِنْ كِتَاب وَحِكْمَة ثُمَّ جَاءَكُمْ رَسُول مُصَدِّق لِمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهِ وَلْتَنْصُرُنَّهُ قَالَ أَأَقْرَرْتُمْ وَأَخَذْتُمْ عَلَى ذَلِكُمْ إِصْرِي قَالُوا أَقْرَرْنَا قَالَ فَاشْهَدُوا وَأَنَا مَعَكُمْ مِنْ الشَّاهِدِينَ» ۱؎ [3-آلعمران:81] ‏‏‏‏ الخ، ’ اللہ تعالیٰ نے جب نبیوں سے عہد لیا کہ جب کبھی میں تمہیں کتاب و حکمت دوں پھر تمہارے پاس میرا رسول آئے جو اسے سچ کہتا ہو جو تمہارے ساتھ ہے تو تم اس پر ضرور ایمان لاؤ گے اور اس کی ضرور مدد کرو گے کیا تم اس کا اقرار کرتے ہو اور اس پر میرا عہد لیتے ہو؟ سب نے کہا ہمیں اقرار ہے فرمایا بس گواہ رہو اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہوں میں ہوں۔‘

ہر نبی سے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کا عہد ٭٭

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کوئی نبی اللہ تعالیٰ نے ایسا مبعوث نہیں فرمایا جس سے یہ اقرار نہ لیا ہو کہ ان کی زندگی میں اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث کئے جائیں تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری کرے بلکہ ہر نبی سے یہ وعدہ بھی لیا جاتا رہا کہ وہ اپنی اپنی امت سے بھی عہد لے لیں۔ ایک مرتبہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے دریافت کیا کہ اے اللہ کے رسول! آپ ہمیں اپنی خبر سنایئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اپنے باپ ابراہیم علیہ السلام کی دعا ہوں اور عیسیٰ علیہ السلام کی خوشخبری ہوں، میری والدہ کا جب پاؤں بھاری ہوا تو خواب میں دیکھا کہ گویا ان میں سے ایک نور نکلا ہے جس سے شام کے شہر بصریٰ کے محلات چمک اٹھے۔“ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:2057] ‏‏‏‏ اس کی سند عمدہ ہے اور دوسری سندوں سے اس کے شواہد بھی ہیں۔ مسند احمد میں ہے { میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک خاتم الانبیاء تھا درآنحالیکہ آدم علیہ السلام اپنی مٹی میں گندھے ہوئے تھے۔ میں تمہیں اس کی ابتداء سناؤں۔ میں اپنے والد ابراہیم علیہ السلام کی دعا، عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت اور اپنی ماں کا خواب ہوں۔ انبیاء کی والدہ اسی طرح خواب دکھائی جاتی ہیں۔ } ۱؎ [مسند احمد:127/4:صحیح لغیرہ] ‏‏‏‏ مسند احمد میں اور سند سے بھی اسی کے قریب روایت مروی ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:262/5:صحیح لغیرہ] ‏‏‏‏

نجاشی کا دربار

مسند کی اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نجاشی بادشاہ حبشہ کے ہاں بھیج دیا تھا ہم تقریباً اسی آدمی تھے۔ ہم میں عبداللہ بن مسعود، جعفر، عبداللہ بن رواحہ، عثمان بن مطعون، ابوموسیٰ رضی اللہ عنہم وغیرہ بھی تھے۔ ہمارے یہاں پہنچنے پر قریش نے یہ خبر پا کر ہمارے پیچھے اپنی طرف سے بادشاہ کے پاس اپنے دو سفیر بھیجے عمرو بن العاص اور عمارہ بن ولید ان کے ساتھ دربار شاہی کے لیے تحفے بھی بھیجے، جب یہ آئے تو انہوں نے بادشاہ کے سامنے سجدہ کیا پھر دائیں بائیں گھوم کر بیٹھ گئے، پھر اپنی درخواست پیش کی کہ ہمارے کنبے قبیلے کے چند لوگ ہمارے دین کو چھوڑ کر ہم سے بھاگ کر آپ کے ملک میں چلے آئے ہیں ہماری قوم نے ہمیں اس لیے آپ کی خدمت میں بھیجا ہے کہ آپ انہیں ہمارے حوالے کر دیجئیے۔“ نجاشی نے پوچھا وہ کہاں ہیں؟ انہوں نے کہا یہیں اسی شہر میں ہیں، حکم دیا کہ انہیں حاضر کرو، چنانچہ یہ مسلمان صحابہ رضی اللہ عنہم دربار میں آئے ان کے خطیب اس وقت جعفر رضی اللہ عنہ تھے باقی لوگ ان کے ماتحت تھے، یہ جب آئے تو انہوں نے سلام تو کیا لیکن سجدہ نہیں کیا درباریوں نے کہا تم بادشاہ کے سامنے سجدہ کیوں نہیں کرتے؟ جواب ملا کہ ہم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو سجدہ نہیں کرتے، پوچھا گیا کیوں؟ فرمایا اللہ تعالیٰ نے اپنا رسول ہماری طرف بھیجا اور اس رسول نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو سجدہ نہ کریں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم نمازیں پڑھتے رہیں زکوٰۃ ادا کرتے رہیں۔ اب عمرو بن العاص سے نہ رہا گیا کہ ایسا نہ ہو ان باتوں کا اثر بادشاہ پر پڑے درباریوں اور بادشاہ کو بھڑکانے کے لیے وہ بیچ میں بول پڑا کہ حضور ان کے اعتقاد عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے بارے میں آپ لوگوں سے بالکل مختلف ہیں، اس پر بادشاہ نے پوچھا: بتاؤ تم عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ کے بارے میں کیا عقیدہ رکھتے ہو؟ انہوں نے کہا: ہمارا عقیدہ اس بارے میں وہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی پاک کتاب میں ہمیں تعلیم فرمایا کہ وہ کلمتہ اللہ ہیں، روح اللہ ہیں، جس روح کو اللہ تعالیٰ کنواری مریم بتول کی طرف القا کیا جو کنواری تھیں، جنہیں کسی انسان نے ہاتھ بھی نہیں لگایا تھا، نہ انہیں بچہ ہونے کا کوئی موقعہ تھا۔ بادشاہ نے یہ سن کر زمین سے ایک تنکا اٹھایا اور کہا: اے حبشہ کے لوگو اور اے واعظو عالمو اور درویشو ان کا اور ہمارا اس کے بارے میں ایک ہی عقیدہ ہے اللہ کی قسم ان کے اور ہمارے عقیدے میں اس تنکے جتنا بھی فرق نہیں۔

اے جماعت مہاجرین! تمہیں مرحبا ہو اور اس رسول کو بھی مرحبا ہو جن کے پاس سے تم آئے ہو، میری گواہی ہے کہ وہ اللہ کے سچے رسول ہیں، یہ وہی ہیں جن کی پیش گوئی ہم نے انجیل میں پڑھی ہے اور یہ وہی ہیں جن کی بشارت ہمارے پیغمبر عیسیٰ علیہ السلام نے دی ہے میری طرف سے تمہیں عام اجازت ہے جہاں چاہو رہو سہو، اللہ کی قسم اگر ملک کی اس جھنجٹ سے میں آزاد ہوتا تو میں یقیناً نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جوتیاں اٹھاتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرتا اور آپ کو وضو کراتا، اتنا کہہ کر حکم دیا کہ یہ دونوں قریشی جو تحفہ لے کر آئے ہیں وہ انہیں اپس کر دیا جائے۔ ان مہاجرین کرام میں سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تو جلد ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آ ملے، جنگ بدر میں بھی آپ نے شرکت کی۔ اس شاہ حبشہ کے انتقال کی خبر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے ان کے لیے بخشش کی دعا مانگی۔ ۱؎ [مسند احمد:461/1:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ پورا واقعہ سیدنا جعفر اور ام سلمہ رضی اللہ عنہم سے مروی ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:201/1:ضعیف] ‏‏‏‏ تفسیری موضوع سے چونکہ یہ الگ چیز ہے اس لیے ہم نے اسے یہاں مختصراً وارد کر دیا مزید تفصیل سیرت کی کتابوں میں ملاحظہ ہو۔ ہمارا مقصود یہ ہے کہ عالی جناب حضور محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت اگلے انبیاء کرام علیہم السلام برابر پشین گوئیاں کرتے رہے اور اپنی امت کو اپنی کتاب میں سے آپ کی صفتیں سناتے رہے اور آپ کی اتباع اور نصرت کا انہیں حکم کرتے رہے، ہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے امر کی شہرت ابراہیم خلیل اللہ کی دعا کے بعد ہوئی جو تمام انبیاء کے باپ تھے اسی طرح مزید شہرت کا باعث عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت ہوئی جس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سائل کے سوال پر اپنے امر نبوت کی نسبت دعا خلیل اللہ اور نوید مسیح کی طرف کی ہے، اس سے یہی مراد ہے ان دونوں کے ساتھ آپ کا اپنی والدہ محترمہ کے خواب کا ذکر کرنا اس لیے تھا کہ اہل مکہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شروع شہرت کا باعث یہ خواب تھا، اللہ تعالیٰ آپ پر بےشمار درود و رحمت بھیجے۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ’ باوجود اس قدر شہرت اور باوجود انبیاء کی متواتر پیش گوئیوں کے بھی جب آپ روشن دلیلیں لے کر آئے تو مخالفین نے اور کافروں نے کہہ دیا کہ یہ تو صاف صاف جاود ہے۔‘
5۔ 1 یہ جانتے ہوئے بھی کہ حضرت موسیٰ ؑ اللہ کے سچے رسول ہیں، بنی اسرائیل انہیں اپنی زبان سے ایذا پہنچاتے تھے، حتٰی کہ بعض جسمانی عیوب ان کی طرف منسوب کرتے تھے، حالانکہ وہ بیماری ان کے اندر نہیں تھی۔ 5۔ 2 یعنی علم کے باوجود حق سے اعراض کیا اور حق کے مقابلے میں باطل کو خیر کے مقابلے میں شر کو اور ایمان کے مقابلے میں کفر کو اختیار کیا، تو اللہ تعالیٰ نے اس کی سزا کے طور پر ان کے دلوں کو مستقل طور پر ہدایت سے پھیر دیا۔ کیونکہ یہی سنت اللہ چلی آرہی ہے۔ کفر وضلالات پر دوام واستمرار ہی دلوں پر مہر لگنے کا باعث ہوتا ہے پھر فسق کفر اور ظلم اس کی طبیعت اور عادت بن جاتی ہے جس کو کوئی بدلنے پر قادر نہیں ہے۔ اس لیے آگے فرمایا اللہ تعالیٰ نافرمانوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کو اپنی سنت کے مطابق گمراہ کیا ہوتا ہے اب کون اسے ہدایت دے سکتا ہے جسے اس طریقے سے اللہ نے گمراہ کیا ہو۔
(آیت 5) ➊ {وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ يٰقَوْمِ لِمَ تُؤْذُوْنَنِيْ …:} قتال فی سبیل اللہ کی فضیلت کے ذکر اور اس سے گریز پر ملالت کے بعد اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کا اپنی قوم سے خطاب ذکر فرمایا، جس میں انھوں نے ان کی اس اذیت رسانی کا شکوہ اور اس پر ملامت کی جو انھوں نے موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ روا رکھی کہ جب وہ انھیں اپنے لیے اللہ کا رسول جانتے اور مانتے تھے تو ان پر لازم تھا کہ وہ ان کی تکریم کرتے، ان کی اطاعت کرتے اور ان کے ساتھ مل کر دشمنان اسلام سے جہاد کرتے، مگر انھوں نے ان کے ساتھ عام رویے میں، ان کے احکام کی تعمیل میں اور جہاد کے لیے نکلنے کے معاملے میں، غرض ہر طرح سے انھیں تکلیف پہنچائی۔ یہاں جس ایذا کی طرف خصوصاً اشارہ ہے اور جس کی وجہ سے انھیں موسیٰ علیہ السلام سے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے {” الْقَوْمَ الْفٰسِقِيْنَ “} کا لقب ملا وہ ان کا جہاد کے لیے نکلنے سے صاف انکار ہے۔ مقصود مسلمانوں کو ان کا طریقہ اپنانے سے اجتناب کی تلقین ہے۔ تکریم و اطاعت کے معاملے میں ان کی ایذا کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ احزاب (۶۹) کی تفسیر اور جہاد کے لیے نکلنے سے ان کے صاف انکار کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ مائدہ (۲۰ تا ۲۶) کی تفسیر۔ ➋ {فَلَمَّا زَاغُوْۤا اَزَاغَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ:زَاغُوْا“ ”زَاغَ يَزِيْغُ زَيْغًا“} (ض) ٹیڑھا ہونا۔ {” اَزَاغَ “} اس سے باب افعال ہے، ٹیڑھا کر دیا۔ یعنی جب وہ اطاعت کے بجائے ہر کام میں ٹیڑھے چلے تو اللہ تعالیٰ نے انھیں اسی راہ پر ڈال دیا، کیونکہ وہ ٹیڑھی راہ پر چلنے والوں کو زبردستی سیدھی راہ پر نہیں چلاتا، کیونکہ اس سے آزمائش کا مقصد فوت ہو جاتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏نُوَلِّهٖ مَا تَوَلّٰى» ‏‏‏‏ [ النساء: ۱۱۵ ] ”ہم اسے اسی طرف پھیر دیں گے جس طرف وہ پھرے گا۔“ ➌ { وَ اللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفٰسِقِيْنَ:} جہاد سے انکار کی وجہ سے سورۂ مائدہ کی آیت (۲۵) میں موسیٰ علیہ السلام نے اور سورۂ مائدہ ہی کی آیت (۲۶) میں اللہ تعالیٰ نے قوم موسیٰ کو {” الْقَوْمَ الْفٰسِقِيْنَ “} کا خطاب دیا ہے۔ ➍ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کفار کے علاوہ ایمان کا دعویٰ کرنے والے منافقین سے بھی بہت اذیت پہنچی۔ زبانی اذیت کے علاوہ جہاد کے مواقع پر انھوں نے کئی دفعہ غداری کی، جنگ احد کے موقع پر عبد اللہ بن اُبی تین سو (۳۰۰) آدمیوں کو، جو لشکر کا تقریباً تیسرا حصہ تھے، عین میدان جنگ سے نکال کر لے گیا۔ جنگ خندق میں بھی انھوں نے کفار سے مل کر سازشوں میں اور مسلمانوں کی حوصلہ شکنی میں کوئی کمی نہیں کی۔ سورۂ آل عمران (۱۵۴ تا ۱۶۸) اور سورۂ احزاب (۹ تا ۲۰) میں اللہ تعالیٰ نے اس کا تفصیل سے ذکر فرمایا ہے۔ زبانی اذیت کے لیے دیکھیے سورۂ توبہ (74،61،58)، احزاب (۵۷) اور منافقون (۸)۔ اگرچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت کے اعلان ہی سے کفار کی طرف سے مسلسل اور بے پناہ تکلیفیں پہنچیں، مگر اپنی جماعت میں شامل لوگوں کی طرف سے ایذا کا احساس زیادہ ہوتا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دلائی ہے کہ اگر کچھ منافق قسم کے لوگ آپ کو تکلیف دیتے ہیں اور جہاد میں جانے سے پس و پیش کرتے ہیں تو آپ غم نہ کریں، آپ کے ساتھ تو پھر بھی جہاد کرنے والوں اور جان و مال قربان کرنے والوں کی عظیم جماعت موجود ہے، موسیٰ علیہ السلام کو تو اپنوں کی طرف سے اس سے بھی زیادہ تکلیف دی گئی، ان کی قوم نے جہاد کے لیے نکلنے ہی سے صاف انکار کر دیا۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ چیزیں تقسیم کیں تو ایک آدمی نے کہا: ”یہ ایسی تقسیم ہے جس میں اللہ کے چہرے کا ارادہ نہیں کیا گیا۔“ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بتائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہوئے حتیٰ کہ میں نے غصے کے آثار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرۂ مبارک میں دیکھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ يَرْحَمُ اللّٰهُ مُوْسٰی لَقَدْ أُوْذِيَ بِأَكْثَرَ مِنْ هٰذَا فَصَبَرَ ] [ بخاري، الدعوات، باب قول اللّٰہ تبارک و تعالٰی: «وصل علیھم» ‏‏‏‏ …: ۶۳۳۶ ] ”اللہ تعالیٰ موسیٰ علیہ السلام پر رحم فرمائے، انھیں اس سے زیادہ اذیت دی گئی مگر انھوں نے صبر کیا۔“ اللہ تعالیٰ نے یہاں موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ عیسیٰ علیہ السلام کا بھی ذکر فرمایا، کیونکہ ان کے ساتھ بھی چند لوگوں کے سوا بنی اسرائیل نے ایسا ہی سلوک کیا۔
وَ اِذۡ قَالَ عِیۡسَی ابۡنُ مَرۡیَمَ یٰبَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ اِنِّیۡ رَسُوۡلُ اللّٰہِ اِلَیۡکُمۡ مُّصَدِّقًا لِّمَا بَیۡنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوۡرٰىۃِ وَ مُبَشِّرًۢا بِرَسُوۡلٍ یَّاۡتِیۡ مِنۡۢ بَعۡدِی اسۡمُہٗۤ اَحۡمَدُ ؕ فَلَمَّا جَآءَہُمۡ بِالۡبَیِّنٰتِ قَالُوۡا ہٰذَا سِحۡرٌ مُّبِیۡنٌ ﴿۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور یاد کرو عیسیٰؑ ابن مریمؑ کی وہ بات جو اس نے کہی تھی کہ "اے بنی اسرائیل، میں تمہاری طرف اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہوں، تصدیق کرنے والا ہوں اُس توراۃ کی جو مجھ سے پہلے آئی ہوئی موجود ہے، اور بشارت دینے والا ہوں ایک رسول کی جو میرے بعد آئے گا جس کا نام احمد ہوگا مگر جب وہ ان کے پاس کھلی کھلی نشانیاں لے کر آیا تو انہوں نے کہا یہ تو صریح دھوکا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جب مریم کے بیٹے عیسیٰ نے کہا اے (میری قوم)، بنی اسرائیل! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں مجھ سے پہلے کی کتاب تورات کی میں تصدیق کرنے واﻻ ہوں اور اپنے بعد آنے والے ایک رسول کی میں تمہیں خوشخبری سنانے واﻻ ہوں جنکا نام احمد ہے۔ پھر جب وه ان کے پاس کھلی دلیلیں ﻻئے تو یہ کہنے لگے، یہ تو کھلا جادو ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور یاد کرو جب عیسیٰ بن مریم نے کہا اے بنی اسرائیل میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں اپنے سے پہلی کتاب توریت کی تصدیق کرتا ہوا اور ان رسول کی بشارت سناتا ہوا جو میرے بعد تشریف لائیں گے ان کا نام احمد ہے پھر جب احمد ان کے پاس روشن نشانیاں لے کر تشریف لائے بولے یہ کھلا جادو،
علامہ محمد حسین نجفی
اور وہ وقت یاد کرو جب عیسیٰ(ع) بن مریم(ع) نے کہا کہ اے بنی اسرائیل! میں تمہاری طرف اللہ کا (بھیجا ہوا) رسول ہوں میں اس تورات کی تصدیق کرنے والا ہوں جو مجھ سے پہلے آئی ہے (اور جو موجود ہے) اورخوشخبری دینے والا ہوں ایک رسول(ص) کی جو میرے بعد آئے گا جس کا نام احمد(ص) ہوگا پھر جب وہ کھلی نشانیاں (معجزے) لے کر ان کے پاس آئے تو ان لوگوں نے کہا کہ یہ تو کھلا ہو جادو ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور جب عیسیٰ ابن مریم نے کہا اے بنی اسرائیل! بلاشبہ میں تمھاری طرف اللہ کا رسول ہوں، اس کی تصدیق کرنے والا ہوں جو مجھ سے پہلے تورات کی صورت میں ہے اور ایک رسول کی بشارت دینے والا ہوں،جو میرے بعد آئے گا،اس کا نام احمد ہے۔ پھر جب وہ ان کے پاس واضح نشانیاں لے کرآیا تو انھوں نے کہا یہ کھلا جادو ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عیسیٰ علیہ السلام کی طرف سے خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشن گوئی ٭٭

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ کلیم اللہ موسیٰ بن عمران نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم میری رسالت کی سچائی جانتے ہو پھر کیوں میرے درپے آزار ہو رہے ہو؟ ‘ اس میں گویا ایک طرح سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی جاتی ہے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی جب ستائے جاتے تو فرماتے: ” «رَحْمَة اللَّه عَلَى مُوسَىٰ» اللہ تعالیٰ موسیٰ علیہ السلام پر رحمت نازل فرمائے، وہ اس سے زیادہ ستائے گئے لیکن پھر بھی صابر رہے۔“ ۱؎ [صحیح بخاری:4335] ‏‏‏‏ اور ساتھ ہی اس میں مومنوں کو ادب سکھایا جا رہا ہے کہ وہ اللہ کے نبی کو ایذاء نہ پہنچائیں ایسا نہ کریں جس سے آپ کا دل دکھتا ہو، جیسے اور جگہ ہے «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ آذَوْا مُوسَىٰ فَبَرَّأَهُ اللَّـهُ مِمَّا قَالُوا ۚ وَكَانَ عِندَ اللَّـهِ وَجِيهًا» ۱؎ [33-الأحزاب:69] ‏‏‏‏ ’ ایمان والو تم ایسے نہ ہونا جیسے موسیٰ کو ایذاء دینے والے تھے اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ذی عزت بندے کو اس کے بہتانوں سے پاک کیا۔ ‘ پس جبکہ یہ لوگ علم کے باوجود اتباع حق سے ہٹ گئے اور ٹیڑھے چلنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے بھی ان کے دل ہدایت سے ہٹا دیئے شک و حیرت ان میں سما گئی۔ جیسے اور جگہ ہے «وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَهُمْ وَأَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ يُؤْمِنُوا بِهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَنَذَرُهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ» ۱؎ [6-الأنعام:110] ‏‏‏‏ یعنی ’ ہم ان کے دل اور آنکھیں الٹ دیں گے جس طرح یہ ہماری آیتوں پر پہلی دفعہ ایمان نہیں لائے اور ہم انہیں ان کی سرکشی کی حالت میں چھوڑ دیں گے جس میں وہ سرگرداں رہیں گے ‘ اور جگہ ہے «وَمَن يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّى وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ وَسَاءَتْ مَصِيرًا» ۱؎ [4-النساء:115] ‏‏‏‏ ’ جو رسول کی مخالفت کرے ہدایت ظاہر ہو جانے کے بعد اور مومنوں کے راستے کے سوا کسی دوسرے کی تابعداری کرے ہم اسے اسی طرف متوجہ کریں گے جس طرف وہ متوجہ ہوا ہے اور بالاخر اسے ہم جہنم میں ڈال دیں گے اور وہ بہت بری جگہ ہے۔ ‘ یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے اللہ تعالیٰ فاسقوں کی رہبری نہیں کرتا، پھر عیسیٰ علیہ السلام کا خطبہ بیان ہوتا ہے جو آپ علیہ السلام نے بنی اسرائیل میں پڑھا تھا جس میں فرمایا تھا کہ ”توراۃ میں میری خوشخبری دی گئی تھی اور اب میں تمہیں اپنے بعد آنے والے ایک رسول کی پیش گوئی سناتا ہوں جو نبی امی، عربی مکی، احمد مجتبیٰ، محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔“ پس عیسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کے نبیوں کے ختم کرنے والے ہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم انبیاء اور مرسلین کے خاتم ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نہ تو کوئی نبی آئے نہ رسول، نبوت و رسالت سب آپ پر من کل الوجوہ ختم ہو گئی۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صفاتی نام ٭٭

صحیح بخاری میں ایک نہایت پاکیزہ حدیث وارد ہوئی ہے جس میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «إِنَّ لِي أَسْمَاء أَنَا مُحَمَّد وَأَنَا أَحْمَد وَأَنَا الْمَاحِي الَّذِي يَمْحُو اللَّه بِهِ الْكُفْر وَأَنَا الْحَاشِر الَّذِي يُحْشَر النَّاس عَلَى قَدَمِي وَأَنَا الْعَاقِب» میرے بہت سے نام ہیں محمد، احمد، ماحی جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے کفر کو مٹا دیا اور میں حاشر ہوں جس کے قدموں پر لوگوں کا حشر کیا جائے گا اور میں عاقب ہوں“، یہ حدیث مسلم شریف میں بھی ہے۔} ۱؎ [صحیح بخاری:4896] ‏‏‏‏ ابوداؤد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے اپنے بہت سے نام بیان فرمائے جو ہمیں محفوظ رہے ان میں سے چند یہ ہیں، فرمایا: ” «أَنَا مُحَمَّد وَأَنَا أَحْمَد وَالْحَاشِر وَالْمُقَفِّي وَنَبِيّ الرَّحْمَة وَالتَّوْبَة وَالْمَلْحَمَة» میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، میں حاشر ہوں، میں مقفی ہوں، میں نبی الرحمتہ ہوں، میں نبی التوبہ ہوں، میں نبی الْمَلْحَمَة ہوں“، یہ حدیث بھی صحیح مسلم شریف میں ہے۔} ۱؎ [صحیح مسلم:2355] ‏‏‏‏ قرآن کریم میں ہے «الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِيَّ الْأُمِّيَّ الَّذِي يَجِدُونَهُ مَكْتُوبًا عِندَهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنجِيلِ» ۱؎ [7-الأعراف:157] ‏‏‏‏ ’ جو پیروی کرتے ہیں اس رسول نبی امی کی جنہیں اپنے پاس لکھا ہوا پاتے ہیں توراۃ میں بھی اور انجیل میں بھی۔ ‘ اور جگہ فرمان ہے «وَإِذْ أَخَذَ اللَّه مِيثَاق النَّبِيِّينَ لَمَا آتَيْتُكُمْ مِنْ كِتَاب وَحِكْمَة ثُمَّ جَاءَكُمْ رَسُول مُصَدِّق لِمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهِ وَلْتَنْصُرُنَّهُ قَالَ أَأَقْرَرْتُمْ وَأَخَذْتُمْ عَلَى ذَلِكُمْ إِصْرِي قَالُوا أَقْرَرْنَا قَالَ فَاشْهَدُوا وَأَنَا مَعَكُمْ مِنْ الشَّاهِدِينَ» ۱؎ [3-آلعمران:81] ‏‏‏‏ الخ، ’ اللہ تعالیٰ نے جب نبیوں سے عہد لیا کہ جب کبھی میں تمہیں کتاب و حکمت دوں پھر تمہارے پاس میرا رسول آئے جو اسے سچ کہتا ہو جو تمہارے ساتھ ہے تو تم اس پر ضرور ایمان لاؤ گے اور اس کی ضرور مدد کرو گے کیا تم اس کا اقرار کرتے ہو اور اس پر میرا عہد لیتے ہو؟ سب نے کہا ہمیں اقرار ہے فرمایا بس گواہ رہو اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہوں میں ہوں۔‘

ہر نبی سے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کا عہد ٭٭

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کوئی نبی اللہ تعالیٰ نے ایسا مبعوث نہیں فرمایا جس سے یہ اقرار نہ لیا ہو کہ ان کی زندگی میں اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث کئے جائیں تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری کرے بلکہ ہر نبی سے یہ وعدہ بھی لیا جاتا رہا کہ وہ اپنی اپنی امت سے بھی عہد لے لیں۔ ایک مرتبہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے دریافت کیا کہ اے اللہ کے رسول! آپ ہمیں اپنی خبر سنایئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اپنے باپ ابراہیم علیہ السلام کی دعا ہوں اور عیسیٰ علیہ السلام کی خوشخبری ہوں، میری والدہ کا جب پاؤں بھاری ہوا تو خواب میں دیکھا کہ گویا ان میں سے ایک نور نکلا ہے جس سے شام کے شہر بصریٰ کے محلات چمک اٹھے۔“ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:2057] ‏‏‏‏ اس کی سند عمدہ ہے اور دوسری سندوں سے اس کے شواہد بھی ہیں۔ مسند احمد میں ہے { میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک خاتم الانبیاء تھا درآنحالیکہ آدم علیہ السلام اپنی مٹی میں گندھے ہوئے تھے۔ میں تمہیں اس کی ابتداء سناؤں۔ میں اپنے والد ابراہیم علیہ السلام کی دعا، عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت اور اپنی ماں کا خواب ہوں۔ انبیاء کی والدہ اسی طرح خواب دکھائی جاتی ہیں۔ } ۱؎ [مسند احمد:127/4:صحیح لغیرہ] ‏‏‏‏ مسند احمد میں اور سند سے بھی اسی کے قریب روایت مروی ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:262/5:صحیح لغیرہ] ‏‏‏‏

نجاشی کا دربار

مسند کی اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نجاشی بادشاہ حبشہ کے ہاں بھیج دیا تھا ہم تقریباً اسی آدمی تھے۔ ہم میں عبداللہ بن مسعود، جعفر، عبداللہ بن رواحہ، عثمان بن مطعون، ابوموسیٰ رضی اللہ عنہم وغیرہ بھی تھے۔ ہمارے یہاں پہنچنے پر قریش نے یہ خبر پا کر ہمارے پیچھے اپنی طرف سے بادشاہ کے پاس اپنے دو سفیر بھیجے عمرو بن العاص اور عمارہ بن ولید ان کے ساتھ دربار شاہی کے لیے تحفے بھی بھیجے، جب یہ آئے تو انہوں نے بادشاہ کے سامنے سجدہ کیا پھر دائیں بائیں گھوم کر بیٹھ گئے، پھر اپنی درخواست پیش کی کہ ہمارے کنبے قبیلے کے چند لوگ ہمارے دین کو چھوڑ کر ہم سے بھاگ کر آپ کے ملک میں چلے آئے ہیں ہماری قوم نے ہمیں اس لیے آپ کی خدمت میں بھیجا ہے کہ آپ انہیں ہمارے حوالے کر دیجئیے۔“ نجاشی نے پوچھا وہ کہاں ہیں؟ انہوں نے کہا یہیں اسی شہر میں ہیں، حکم دیا کہ انہیں حاضر کرو، چنانچہ یہ مسلمان صحابہ رضی اللہ عنہم دربار میں آئے ان کے خطیب اس وقت جعفر رضی اللہ عنہ تھے باقی لوگ ان کے ماتحت تھے، یہ جب آئے تو انہوں نے سلام تو کیا لیکن سجدہ نہیں کیا درباریوں نے کہا تم بادشاہ کے سامنے سجدہ کیوں نہیں کرتے؟ جواب ملا کہ ہم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو سجدہ نہیں کرتے، پوچھا گیا کیوں؟ فرمایا اللہ تعالیٰ نے اپنا رسول ہماری طرف بھیجا اور اس رسول نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو سجدہ نہ کریں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم نمازیں پڑھتے رہیں زکوٰۃ ادا کرتے رہیں۔ اب عمرو بن العاص سے نہ رہا گیا کہ ایسا نہ ہو ان باتوں کا اثر بادشاہ پر پڑے درباریوں اور بادشاہ کو بھڑکانے کے لیے وہ بیچ میں بول پڑا کہ حضور ان کے اعتقاد عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے بارے میں آپ لوگوں سے بالکل مختلف ہیں، اس پر بادشاہ نے پوچھا: بتاؤ تم عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ کے بارے میں کیا عقیدہ رکھتے ہو؟ انہوں نے کہا: ہمارا عقیدہ اس بارے میں وہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی پاک کتاب میں ہمیں تعلیم فرمایا کہ وہ کلمتہ اللہ ہیں، روح اللہ ہیں، جس روح کو اللہ تعالیٰ کنواری مریم بتول کی طرف القا کیا جو کنواری تھیں، جنہیں کسی انسان نے ہاتھ بھی نہیں لگایا تھا، نہ انہیں بچہ ہونے کا کوئی موقعہ تھا۔ بادشاہ نے یہ سن کر زمین سے ایک تنکا اٹھایا اور کہا: اے حبشہ کے لوگو اور اے واعظو عالمو اور درویشو ان کا اور ہمارا اس کے بارے میں ایک ہی عقیدہ ہے اللہ کی قسم ان کے اور ہمارے عقیدے میں اس تنکے جتنا بھی فرق نہیں۔

اے جماعت مہاجرین! تمہیں مرحبا ہو اور اس رسول کو بھی مرحبا ہو جن کے پاس سے تم آئے ہو، میری گواہی ہے کہ وہ اللہ کے سچے رسول ہیں، یہ وہی ہیں جن کی پیش گوئی ہم نے انجیل میں پڑھی ہے اور یہ وہی ہیں جن کی بشارت ہمارے پیغمبر عیسیٰ علیہ السلام نے دی ہے میری طرف سے تمہیں عام اجازت ہے جہاں چاہو رہو سہو، اللہ کی قسم اگر ملک کی اس جھنجٹ سے میں آزاد ہوتا تو میں یقیناً نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جوتیاں اٹھاتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرتا اور آپ کو وضو کراتا، اتنا کہہ کر حکم دیا کہ یہ دونوں قریشی جو تحفہ لے کر آئے ہیں وہ انہیں اپس کر دیا جائے۔ ان مہاجرین کرام میں سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تو جلد ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آ ملے، جنگ بدر میں بھی آپ نے شرکت کی۔ اس شاہ حبشہ کے انتقال کی خبر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے ان کے لیے بخشش کی دعا مانگی۔ ۱؎ [مسند احمد:461/1:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ پورا واقعہ سیدنا جعفر اور ام سلمہ رضی اللہ عنہم سے مروی ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:201/1:ضعیف] ‏‏‏‏ تفسیری موضوع سے چونکہ یہ الگ چیز ہے اس لیے ہم نے اسے یہاں مختصراً وارد کر دیا مزید تفصیل سیرت کی کتابوں میں ملاحظہ ہو۔ ہمارا مقصود یہ ہے کہ عالی جناب حضور محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت اگلے انبیاء کرام علیہم السلام برابر پشین گوئیاں کرتے رہے اور اپنی امت کو اپنی کتاب میں سے آپ کی صفتیں سناتے رہے اور آپ کی اتباع اور نصرت کا انہیں حکم کرتے رہے، ہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے امر کی شہرت ابراہیم خلیل اللہ کی دعا کے بعد ہوئی جو تمام انبیاء کے باپ تھے اسی طرح مزید شہرت کا باعث عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت ہوئی جس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سائل کے سوال پر اپنے امر نبوت کی نسبت دعا خلیل اللہ اور نوید مسیح کی طرف کی ہے، اس سے یہی مراد ہے ان دونوں کے ساتھ آپ کا اپنی والدہ محترمہ کے خواب کا ذکر کرنا اس لیے تھا کہ اہل مکہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شروع شہرت کا باعث یہ خواب تھا، اللہ تعالیٰ آپ پر بےشمار درود و رحمت بھیجے۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ’ باوجود اس قدر شہرت اور باوجود انبیاء کی متواتر پیش گوئیوں کے بھی جب آپ روشن دلیلیں لے کر آئے تو مخالفین نے اور کافروں نے کہہ دیا کہ یہ تو صاف صاف جاود ہے۔‘
6۔ 1 حضرت عیسیٰ ؑ کا قصہ اس لیے بیان فرمایا کہ بنی اسرائیل نے جس طرح حضرت موسیٰ ؑ کی نافرمانی کی، اسی طرح انہوں نے حضرت عیسیٰ ؑ کا بھی انکار کیا، اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی جا رہی ہے کہ یہ یہود آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے ساتھ اس طرح نہیں کر رہے ہیں، بلکہ ان کی تو ساری تاریخ ہی انبیاء (علیہم السلام) کی تکذیب سے بھری پڑی ہے۔ تورات کی تصدیق کا مطلب یہ ہے کہ میں جو دعوت دے رہا ہوں، وہ وہی ہے جو تورات کی بھی دعوت ہے۔ جو اس بات کی دلیل ہے کہ جو پیغمبر مجھ سے پہلے تورات لے کر آئے اور اب میں انجیل لے کر آیا ہوں، ہم دونوں کا اصل ماخذ ایک ہی ہے۔ اس لیے جس طرح تم موسیٰ و ہارون اور داوٗد و سلیمان (علیہم السلام) پر ایمان لائے مجھ پر بھی ایمان لاؤ، اس لیے کہ میں تورات کی تصدیق کر رہا ہوں نہ کہ اس کی تردید و تکذیب۔ 6۔ 2 یہ حضرت عیسیٰ ؑ نے اپنے بعد آنے والے آخری پیغمبر حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشخبری سنائی چناچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ' " انا دعوۃ ابی ابراہیم وبشسارۃ عیسیٰ " میں اپنے باپ ابراہیم ؑ کی دعا اور عیسیٰ ؑ کی بشارت کا مصداق ہوں۔ احمد یہ فاعل سے اگر مبالغے کا صیغہ 0 ہو تو معنی ہوں گے دوسرے تمام لوگوں سے اللہ کی زیادہ حمد کرنے والا۔ اور اگر یہ مفعول سے ہوں تو معنی ہوں گے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوبیوں اور کمالات کی وجہ سے جتنی تعریف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کی گئی اتنی کسی کی بھی نہیں کی گئی۔ (فتح القدیر) 6۔ 2 یعنی عیسیٰ ؑ کے پیش کردہ معجزات کو جادو سے تعبیر کیا گیا، جس طرح گذشتہ قومیں بھی اپنے پیغمبروں کو اسی طرح کہتی رہیں۔ بعض نے اس سے مراد نبی صلی اللہ علیہ وسلم لئے ہیں جیسا کہ کفار مکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے تھے۔
(آیت 6) ➊ {وَ اِذْ قَالَ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ يٰبَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ …:” مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوْرٰىةِ “} کے دو معنی ہیں اور دونوں ہی درست ہیں، ایک یہ کہ میں اپنے سے پہلے نازل شدہ کتاب تورات کی تردید نہیں بلکہ تصدیق کرنے والا ہوں۔ دیکھیے سورۂ مائدہ (۴۶) کی تفسیر۔ دوسرا یہ کہ میرا وجود ان بشارتوں کو سچا ثابت کرنے والا ہے جو میرے متعلق تورات میں دی گئی ہیں، میں ان کا مصداق ہوں، لہٰذا تم پر لازم ہے کہ مجھ پر ایمان لاؤ۔ ➋ {وَ مُبَشِّرًۢا بِرَسُوْلٍ يَّاْتِيْ مِنْۢ بَعْدِي اسْمُهٗۤ اَحْمَدُ:} اس سے معلوم ہوا کہ عیسیٰ علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسم مبارک {” اَحْمَدُ “} کی صراحت کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کی خوش خبری دی تھی۔ جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: [ إِنَّ لِيْ أَسْمَاءً، أَنَا مُحَمَّدٌ وَأَنَا أَحْمَدُ وَأَنَا الْمَاحِي الَّذِيْ يَمْحُو اللّٰهُ بِيَ الْكُفْرَ، وَأَنَا الْحَاشِرُ الَّذِيْ يُحْشَرُ النَّاسُ عَلٰی قَدَمِيْ، وَ أَنَا الْعَاقِبُ ] [ بخاري، التفسیر، باب قولہ تعالٰی: «یأتی من بعدي اسمہ أحمد» ‏‏‏‏: ۴۸۹۶ ] ”میرے کئی نام ہیں، میں محمد ہوں اور میں احمد ہوں اور میں ماحی (مٹانے والا) ہوں کہ میرے ساتھ اللہ کفر کو مٹائے گا اور میں حاشر (اکٹھا کرنے والا) ہوں کہ لوگ میرے پیچھے جمع کیے جائیں گے اور میں عاقب (سب نبیوں کے بعد آنے والا) ہوں۔“ {” اَحْمَدُ “} ({أَفْعَلُ}) اسم تفضیل ہے جو اسم فاعل اور اسم مفعول دونوں کے معنی میں آتا ہے۔ اسم فاعل کے معنی میں ہو تو مطلب ہوگا ”بہت زیادہ حمد کرنے والا“ اور حقیقت یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی بہت زیادہ حمد کرنے والے اور آپ کی امت کے لوگ {”حَمَّادُوْنَ“} (بہت زیادہ حمد کرنے والے) ہیں۔ اگر اسم مفعول کے معنی میں ہو تو معنی ہے ”جس کی بہت زیادہ تعریف کی گئی۔“ اس صورت میں یہ اسم مبارک ”محمد“ کا ہم معنی ہے۔ اسم تفضیل کے اسم مفعول کے معنی میں آنے کی مثال قرآن مجید میں ملتی ہے، فرمایا: «‏‏‏‏اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ اُوْتُوْا نَصِيْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ يُؤْمِنُوْنَ بِالْجِبْتِ وَ الطَّاغُوْتِ وَ يَقُوْلُوْنَ لِلَّذِيْنَ كَفَرُوْا هٰۤؤُلَآءِ اَهْدٰى مِنَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا سَبِيْلًا» ‏‏‏‏ [ النساء: ۵۱ ] ”کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنھیں کتاب کا ایک حصہ دیا گیا، وہ بتوں اور باطل معبود پر ایمان لاتے ہیں اور جن لوگوں نے کفر کیا ان کے متعلق کہتے ہیں کہ یہ ان سے زیادہ سیدھے راستے پر ہیں جو ایمان لائے ہیں۔“ اس آیت میں {” اَهْدٰى “} اسم فاعل کے معنی میں (زیادہ ہدایت دینے والے) نہیں بلکہ اسم مفعول کے معنی میں ہے، یعنی ”زیادہ ہدایت دیے گئے۔“ اسی طرح سورۂ فاطر (۴۲) میں بھی {” اَهْدٰى “} اسم مفعول کے معنی میں ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام کی اس بشارت میں دو چیزیں خاص طور پر قابل توجہ ہیں، ایک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کے زمانے کی تعیین کہ وہ مسیح علیہ السلام کے بعد آئے گا، دوسرا اسم مبارک {” اَحْمَدُ “} کی صراحت، تاکہ آپ کے متعلق کوئی ابہام یا پوشیدگی نہ رہے۔ جہاں تک نام کا تعلق ہے تو قرآن کے بیان کے مطابق یہ بات یقینی ہے کہ انجیل میں یہ نام موجود تھا۔ اس کی بڑی دلیل یہ ہے کہ اگر قرآن کا یہ بیان غلط ہوتا تو نزول قرآن کے زمانے کے نصرانی ضرور اس کی تردید کرتے۔ موجودہ انجیلوں میں اس نام کا مذکور نہ ہونا اس کی نفی کی دلیل نہیں بن سکتا، کیونکہ اس وقت اصل انجیل دنیا میں موجود ہی نہیں۔ ہمارے سامنے جو انجیلیں عربی، انگریزی یا اردو میں ہیں یہ سب ترجمہ در ترجمہ ہیں۔ ان ترجموں میں باہمی اختلاف اس قدر ہے جتنا خود ان انجیلوں میں ہے۔ یہ ترجمہ کرنے والے حضرات ہر لفظ کا ترجمہ کرتے جاتے ہیں خواہ وہ کسی کا نام ہو، حالانکہ نام میں تبدیلی یا اس کا ترجمہ نہیں کیا جاتا۔ پھر جب کتمان حق اور تحریف کی عادت بھی ہو تو بات کہاں سے کہاں جا پہنچے گی۔ اس کے باوجود زمانے کی تعیین کے ساتھ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف کے ساتھ انجیل میں یہ بشارت کئی جگہ موجود ہے جو آپ کے سوا کسی اور پر منطبق نہیں ہوتی۔ یہاں انجیل یوحنا سے چند حوالے نقل کیے جاتے ہیں جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کی بشارت دی گئی ہے۔ مسیح علیہ السلام نے فرمایا: ”اور میں باپ سے درخواست کروں گا تو وہ تمھیں دوسرا مددگار بخشے گا کہ ابد تک تمھارے ساتھ رہے، یعنی سچائی کا روح۔“ [ یوحنا، باب ۱۴، فقرہ: 17،16 ] ”لیکن مددگار یعنی روح القدس جسے باپ میرے نام سے بھیجے گا وہی تمھیں سب باتیں سکھائے گا اور جو کچھ میں نے تم سے کہا ہے وہ سب تمھیں یاد دلائے گا۔“ [ یوحنا، باب ۱۴، فقرہ: ۲۶ ] ”اس کے بعد میں تم سے بہت سی باتیں نہ کروں گا، کیونکہ دنیا کا سردار آتا ہے اور مجھ میں اس کا کچھ نہیں۔“ [ یوحنا، باب ۱۴، فقرہ: ۳۰ ] ”لیکن جب وہ مددگار آئے گا جس کو میں تمھارے پاس باپ کی طرف سے بھیجوں گا، یعنی سچائی کا روح جو باپ سے صادر ہوتا ہے تو وہ میری گواہی دے گا۔“ [ یوحنا، باب ۱۵، فقرہ: ۲۶ ] ”مجھے تم سے اور بھی بہت سی باتیں کہنا ہیں مگر تم ان کی برداشت نہیں کر سکتے لیکن جب وہ یعنی سچائی کا روح آئے گا تو تم کو تمام سچائی کی راہ دکھائے گا۔ اس لیے کہ وہ اپنی طرف سے نہ کہے گا، لیکن جو کچھ سنے گا وہی کہے گا اور تمھیں آئندہ کی خبریں دے گا۔“ [ یوحنا، باب ۱۶، فقرہ: 13،12] یہ حوالے یوحنا کی انجیل سے نقل کیے گئے ہیں جو نصرانیوں کے تمام فرقوں کے ہاں مسلّم ہے۔ انجیل برناباس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام ”محمد“ کی صراحت بار بار آئی ہے، مگر موجودہ نصرانی جو پال کے پیروکار ہیں وہ چونکہ اسے نہیں مانتے، اس لیے یوحنا کی انجیل کے حوالے نقل کیے گئے ہیں۔ ان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت ایسی صفات کے ساتھ دی گئی ہے جو آپ کے سوا کسی اور پر صادق ہی نہیں آتیں۔ مثلاً ”وہ تمھیں دوسرا مدد گار بخشے گا کہ ابد تک تمھارے ساتھ رہے۔“ اور ”وہی تمھیں سب باتیں سکھائے گا۔“ اور ”دنیا کا سردار آتا ہے اور مجھ میں اس کا کچھ نہیں۔“ غور کیجیے! مسیح علیہ السلام کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا اور کون ہے جس پر یہ صفات صادق آتی ہوں۔ ➌ { فَلَمَّا جَآءَهُمْ بِالْبَيِّنٰتِ:} بعض حضرات نے فرمایا کہ اس سے مراد مسیح علیہ السلام ہیں، کیونکہ آیت کے شروع میں ان کے خطاب کا ذکر ہے، مگر راجح بات یہ ہے کہ اس سے مراد نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، یعنی پھر جب وہ ”احمد“ جس کی بشارت عیسیٰ علیہ السلام نے دی تھی واضح نشانیاں لے کر ان کے پاس آیا تو انھوں نے اسے پہچاننے کے باوجود کھلا جادو کہہ کر جھٹلا دیا، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏فَلَمَّا جَآءَهُمْ مَّا عَرَفُوْا كَفَرُوْا بِهٖ فَلَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الْكٰفِرِيْنَ» [ البقرۃ: ۸۹ ] ”پھر جب ان کے پاس وہ چیز آگئی جسے انھوں نے پہچان لیا تو انھوں نے اس کے ساتھ کفر کیا، پس کافروں پر اللہ کی لعنت ہے۔“ ابن جریر طبری نے یہی معنی کیا ہے اور ابن کثیر اور بہت سے مفسرین نے اسی معنی پر اکتفا کیا ہے، اس کی تائید بعد کی آیت میں {” وَ هُوَ يُدْعٰۤى اِلَى الْاِسْلَامِ “} کے الفاظ سے بھی ہوتی ہے، کیونکہ اس سورت کے نزول کے وقت اسلام کی دعوت دینے والے احمد صلی اللہ علیہ وسلم تھے نہ کہ مسیح علیہ السلام۔ ➍ { قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ مُّبِيْنٌ:} یعنی آپ جو نشانیاں اور معجزات لے کر آئے ان کے متعلق انھوں نے کہہ دیا کہ یہ کھلا جادو ہے، یا مبالغے کے لیے انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جادوگر کے بجائے مجسم جادو کہہ دیا، جیسے {” زَيْدٌ عَادِلٌ“} کے بجائے {” زَيْدٌ عَدْلٌ“} کہہ دیتے ہیں۔
وَ مَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَرٰی عَلَی اللّٰہِ الۡکَذِبَ وَ ہُوَ یُدۡعٰۤی اِلَی الۡاِسۡلَامِ ؕ وَ اللّٰہُ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اب بھلا اُس شخص سے بڑا ظالم اور کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹے بہتان باندھے حالانکہ اسے اسلام (اللہ کے آگے سر اطاعت جھکا دینے) کی دعوت دی جا رہی ہو؟ ایسے ظالموں کو اللہ ہدایت نہیں دیا کرتا
مولانا محمد جوناگڑھی
اس شخص سے زیاده ﻇالم اور کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ (افترا) باندھے حاﻻنکہ وه اسلام کی طرف بلایا جاتا ہے اور اللہ ایسے ﻇالموں کو ہدایت نہیں کرتا
احمد رضا خان بریلوی
اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ پر جھوٹ باندھے حالانکہ اسے اسلام کی طرف بلایا جاتا ہو اور ظالم لوگوں کو اللہ راہ نہیں دیتا،
علامہ محمد حسین نجفی
اور اس شخص سے بڑا ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹا بہتان باندھے حالانکہ اسے اسلام کی طرف بلایا جا رہا ہے اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا (انہیں منزلِ مقصود تک نہیں پہنچاتا)
عبدالسلام بن محمد
اور اس شخص سے زیادہ ظالم کون ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے، جب کہ اسے اسلام کی طرف بلایا جا رہا ہو اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا ٭٭

ارشاد ہے کہ ’ جو شخص اللہ تعالیٰ پر جھوٹ افترا باندھے اور اس کے شریک و سہیم مقرر کرے اس سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں۔ ‘ اگر یہ شخص بےخبر ہوتا جب بھی ایک بات تھی یہاں تو یہ حالت ہے کہ وہ توحید اور اخلاص کی طرف برابر بلایا جا رہا ہے، بھلا ایسے ظالموں کی قسمت میں ہدایت کہاں؟ ان کفار کی چاہت تو یہ ہے کہ حق کو باطل سے رد کر دیں، ان کی مثال بالکل ایسی ہی ہے جیسے کوئی سورج کی شعاع کو اپنے منہ کی پھونک سے بے نور کرتا ہے، جس طرح اس کے منہ کی پھونک سے سورج کی روشنی کا جاتا رہنا محال ہے۔ اسی طرح یہ بھی محال ہے کہ اللہ کا دین ان کفار سے رد ہو جائے، اللہ تعالیٰ فیصلہ کر چکا ہے کہ وہ اپنے نور کو پورا کر کے ہی رہے گا، کافر برا مانیں تو مانتے رہیں۔ اس کے بعد اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اپنے دین کی حقانیت کو واضح فرمایا، ان دونوں آیتوں کی پوری تفسیر سورۃ برأت میں گزر چکی ہے۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
7۔ 1 یعنی اللہ کی اولاد قرار دے، یا جو جانور اس نے حرام قرار نہیں دیئے ان کو حرام باور کرائے۔ 7۔ 2 جو تمام دینوں میں اشرف اور اعلٰی ہے، اس لئے جو شخص ایسا ہو، اس کو کب یہ زیب دیتا ہے یہ وہ کسی پر بھی جھوٹ گھڑے، چہ جائیکہ اللہ پر جھوٹ باندھے؟
(آیت 7) {وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ وَ هُوَ يُدْعٰۤى …:} یعنی اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے جسے اسلام میں داخل ہونے کی اور اللہ کا فرماں بردار بن جانے کی دعوت دی جا رہی ہو تو وہ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھ دے۔ اللہ پر جھوٹ یہ ہے کہ اس کے بھیجے ہوئے رسول کو، جس کی بشارت اس سے پہلے ان کے نبی عیسیٰ و موسیٰ علیھما السلام دے چکے تھے، انھوں نے جادوگر اور اس کی لائی ہوئی بینات کو جادو کہہ دیا۔ دیدہ و دانستہ جھوٹ باندھنے والے ایسے ظالم لوگوں کو اللہ تعالیٰ ہدایت نہیں دیتا۔ یہی مضمون سورۂ انعام (21،20) میں بیان ہوا ہے۔
یُرِیۡدُوۡنَ لِیُطۡفِـُٔوۡا نُوۡرَ اللّٰہِ بِاَفۡوَاہِہِمۡ وَ اللّٰہُ مُتِمُّ نُوۡرِہٖ وَ لَوۡ کَرِہَ الۡکٰفِرُوۡنَ ﴿۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یہ لوگ اپنے منہ کی پھونکوں سے اللہ کے نور کو بجھانا چاہتے ہیں، اور اللہ کا فیصلہ یہ ہے کہ وہ اپنے نور کو پوا پھیلا کر رہے گا خواہ کافروں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
وه چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے منھ سے بجھا دیں اور اللہ اپنے نور کو کمال تک پہنچانے واﻻ ہے گو کافر برا مانیں
احمد رضا خان بریلوی
چاہتے ہیں کہ اللہ کا نور اپنے مونھوں سے بجھادیں اور اللہ کو اپنا نور پورا کرنا پڑے برا مانیں کافر،
علامہ محمد حسین نجفی
یہ لوگ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے منہ (پھونکوں) سے بجھا دیں حالانکہ اللہ اپنے نور کو کامل کرکے رہے گا اگرچہ کافر لوگ ناپسند ہی کریں۔
عبدالسلام بن محمد
وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے مونہوں کے ساتھ بجھا دیں اور اللہ اپنے نور کو پورا کرنے والا ہے،اگرچہ کافر لوگ ناپسند کریں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا ٭٭

ارشاد ہے کہ ’ جو شخص اللہ تعالیٰ پر جھوٹ افترا باندھے اور اس کے شریک و سہیم مقرر کرے اس سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں۔ ‘ اگر یہ شخص بےخبر ہوتا جب بھی ایک بات تھی یہاں تو یہ حالت ہے کہ وہ توحید اور اخلاص کی طرف برابر بلایا جا رہا ہے، بھلا ایسے ظالموں کی قسمت میں ہدایت کہاں؟ ان کفار کی چاہت تو یہ ہے کہ حق کو باطل سے رد کر دیں، ان کی مثال بالکل ایسی ہی ہے جیسے کوئی سورج کی شعاع کو اپنے منہ کی پھونک سے بے نور کرتا ہے، جس طرح اس کے منہ کی پھونک سے سورج کی روشنی کا جاتا رہنا محال ہے۔ اسی طرح یہ بھی محال ہے کہ اللہ کا دین ان کفار سے رد ہو جائے، اللہ تعالیٰ فیصلہ کر چکا ہے کہ وہ اپنے نور کو پورا کر کے ہی رہے گا، کافر برا مانیں تو مانتے رہیں۔ اس کے بعد اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اپنے دین کی حقانیت کو واضح فرمایا، ان دونوں آیتوں کی پوری تفسیر سورۃ برأت میں گزر چکی ہے۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
8۔ 1 نور سے مراد قرآن، یا اسلام یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے، یا دلائل وبراہین ہیں ' منہ سے بجھا دیں ' کا مطلب ہے، وہ طعن کی وہ باتیں ہیں جو ان کے مونہوں سے نکلتی ہیں۔ 8۔ 2 یعنی اس کو آفاق میں پھیلانے والا اور دوسرے تمام دینوں پر غالب کرنے والا ہے۔ دلائل کے لحاظ سے، یا مادی غلبے کے لحاظ سے یا دونوں لحاظ سے۔
(آیت 9،8) { يُرِيْدُوْنَ لِيُطْفِـُٔوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ وَ اللّٰهُ مُتِمُّ نُوْرِهٖ …:} ان آیات کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ توبہ (33,32) کی تفسیر۔
ہُوَ الَّذِیۡۤ اَرۡسَلَ رَسُوۡلَہٗ بِالۡہُدٰی وَ دِیۡنِ الۡحَقِّ لِیُظۡہِرَہٗ عَلَی الدِّیۡنِ کُلِّہٖ وَ لَوۡ کَرِہَ الۡمُشۡرِکُوۡنَ ٪﴿۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
وہی تو ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ اسے پورے کے پورے دین پر غالب کر دے خواہ مشرکین کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچا دین دے کر بھیجا تاکہ اسے اور تمام مذاہب پر غالب کر دے اگرچہ مشرکین ناخوش ہوں
احمد رضا خان بریلوی
وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا کہ اسے سب دینوں پر غالب کرے پڑے برا مانیں مشرک،
علامہ محمد حسین نجفی
وہ وہی ہے جس نے اپنے رسول(ص) کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اسے تمام دینوں پر غالب کر دے اگرچہ مشرکین ناپسند کریں۔
عبدالسلام بن محمد
وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا، تاکہ اسے تمام دینوں پر غالب کر دے ، اگرچہ مشرک لوگ ناپسند کریں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا ٭٭

ارشاد ہے کہ ’ جو شخص اللہ تعالیٰ پر جھوٹ افترا باندھے اور اس کے شریک و سہیم مقرر کرے اس سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں۔ ‘ اگر یہ شخص بےخبر ہوتا جب بھی ایک بات تھی یہاں تو یہ حالت ہے کہ وہ توحید اور اخلاص کی طرف برابر بلایا جا رہا ہے، بھلا ایسے ظالموں کی قسمت میں ہدایت کہاں؟ ان کفار کی چاہت تو یہ ہے کہ حق کو باطل سے رد کر دیں، ان کی مثال بالکل ایسی ہی ہے جیسے کوئی سورج کی شعاع کو اپنے منہ کی پھونک سے بے نور کرتا ہے، جس طرح اس کے منہ کی پھونک سے سورج کی روشنی کا جاتا رہنا محال ہے۔ اسی طرح یہ بھی محال ہے کہ اللہ کا دین ان کفار سے رد ہو جائے، اللہ تعالیٰ فیصلہ کر چکا ہے کہ وہ اپنے نور کو پورا کر کے ہی رہے گا، کافر برا مانیں تو مانتے رہیں۔ اس کے بعد اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اپنے دین کی حقانیت کو واضح فرمایا، ان دونوں آیتوں کی پوری تفسیر سورۃ برأت میں گزر چکی ہے۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
9۔ 1 یہ گذشتہ بات ہی کی تاکید ہے، اس کی اہمیت کے پیش نظر اسے پھر دہرایا گیا ہے۔ 9۔ 1 تاہم یہ لامحالہ ہو کر رہے گا۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا ہَلۡ اَدُلُّکُمۡ عَلٰی تِجَارَۃٍ تُنۡجِیۡکُمۡ مِّنۡ عَذَابٍ اَلِیۡمٍ ﴿۱۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، میں بتاؤں تم کو وہ تجارت جو تمہیں عذاب الیم سے بچا دے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
اے ایمان والو! کیا میں تمہیں وه تجارت بتلا دوں جو تمہیں درد ناک عذاب سے بچا لے؟
احمد رضا خان بریلوی
اے ایمان والو کیا میں بتادوں وہ تجارت جو تمہیں دردناک عذاب سے بچالے
علامہ محمد حسین نجفی
اے ایمان والو! کیا میں تمہیں ایک تجارت بتا‎ؤں جو (اگر کرو تو) تمہیں دردناک عذاب سے بچالے۔
عبدالسلام بن محمد
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! کیا میں تمھاری ایسی تجارت کی طرف رہنمائی کروں جو تمھیں دردناک عذاب سے بچا لے ؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سو فیصد نفع بخش تجارت ٭٭

عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ والی حدیث پہلے گزر چکی ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ پوچھنا چاہا کہ سب سے زیادہ محبوب عمل اللہ تعالیٰ کو کون سا ہے؟ اس پر اللہ عزوجل نے یہ سورت نازل فرمائی، جس میں فرما رہا ہے کہ آؤ میں تمہیں ایک سراسر نفع والی تجارت بتاؤں جس میں گھاٹے کی کوئی صورت ہی نہیں، جس سے مقصود حاصل اور ڈر زائل ہو جائے گا وہ یہ ہے کہ تم اللہ کی وحدانیت اور اس کے رسول (‏‏‏‏صلی اللہ علیہ وسلم ) کی رسالت پر ایمان لاؤ، اپنا جان مال اس کی راہ میں قربان کرنے پر تل جاؤ، جان لو کہ یہ دنیا کی تجارت اور اس کے لیے کدو کاوش کرنے سے بہت ہی بہتر ہے، اگر میری اس بتائی ہوئی تجارت کے تاجر تم بن گئے تو تمہاری ہر لغزش سے ہر گناہ سے میں درگزر کر لوں گا اور جنتوں کے پاکیزہ محلات میں اور بلند و بالا درجوں میں تمہیں پہنچاؤں گا، تمہارے بالا خانوں اور ان ہمیشگی والے باغات کے درختوں تلے سے صاف شفاف نہریں پوری روانی سے جاری ہوں گی، یقین مانو کہ زبردست کامیابی اور اعلیٰ مقصد روی یہی ہے۔ اچھا اس سے بھی زیادہ سنو تم جو ہمیشہ دشمنوں کے مقابلہ پر میری مدد طلب کرتے رہتے ہو اور اپنی فتح چاہتے ہو میرا وعدہ ہے کہ یہ بھی تمہیں دوں گا ادھر مقابلہ ہوا، ادھر فتح ہوئی، ادھر سامنے آئے، ادھر فتح و نصرت نے رکاب بوسی کی۔ ‘ اور جگہ ارشاد ہوتا ہے «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن تَنصُرُوا اللَّـهَ يَنصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ» ۱؎ [47-محمد:7] ‏‏‏‏ ’ ایمان والو اگر تم اللہ کے دین کی مدد کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہاری مدد کرے گا اور تمیں ثابت قدمی عنایت فرمائے گا۔ ‘ اور فرمان ہے «وَلَيَنصُرَنَّ اللَّـهُ مَن يَنصُرُهُ إِنَّ اللَّـهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ» ۱؎ [22-الحج:40] ‏‏‏‏ یعنی ’ یقیناً اللہ تعالیٰ اس کی مدد کرے گا جو اللہ کے دین کی مدد کرے بیشک اللہ تعالیٰ بڑی قوت والا اور غیر فانی عزت والا ہے۔ ‘ یہ مدد اور یہ فتح دنیا میں اور وہ جنت اور نعمت آخرت میں ان لوگوں کے حصہ میں ہے جو اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت میں لگے رہیں اور دین اللہ کی خدمت میں جان و مال سے دریغ نہ کریں اسی لیے فرما دیا کہ اے نبی ان ایمان والوں کو میری طرف سے یہ خوشخبری پہنچا دو۔
10۔ 1 اس عمل (یعنی ایمان اور جہاد) کو تجارت سے تعبیر کیا، اس لئے کہ اس میں بھی انہیں تجارت کی طرح ہی نفع ہوگا وہ نفع کیا ہے؟ جنت میں داخلہ اور جہنم سے نجات۔ اس سے بڑا نفع اور کیا ہوگا۔ اور وہ نفع کیا ہے اس بات کو دوسرے مقام پر اس طرح بیان فرمایا " اِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰي مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ اَنْفُسَھُمْ وَاَمْوَالَھُمْ بِاَنَّ لَھُمُ الْجَنَّةَ " 9۔ التوبہ:111) اللہ نے مومنوں سے ان کی جانوں اور مالوں کا سودا جنت کے بدلے میں کرلیا ہے۔
(آیت 10){ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا هَلْ اَدُلُّكُمْ عَلٰى تِجَارَةٍ …:} یہی مضمون ایک اور انداز میں سورۂ توبہ (۱۱۱) میں بیان ہوا ہے، تفسیر وہاں ملاحظہ فرمائیں۔ یہاں ایمان و جہاد پر عذابِ الیم سے نجات کی بشارت سنائی ہے، جب کہ سورۂ توبہ (39،38) میں ترکِ جہاد پر عذابِ الیم کی وعید سنائی ہے۔
تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ وَ تُجَاہِدُوۡنَ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ بِاَمۡوَالِکُمۡ وَ اَنۡفُسِکُمۡ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ﴿ۙ۱۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسول پر، اور جہاد کرو اللہ کی راہ میں اپنے مالوں سے اور اپنی جانوں سے یہی تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانو
مولانا محمد جوناگڑھی
اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسول پر ایمان ﻻؤ اور اللہ کی راه میں اپنے مال اور اپنی جانوں سے جہاد کرو۔ یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم میں علم ہو
احمد رضا خان بریلوی
ایمان رکھو اللہ اور اس کے رسول پر اور اللہ کی راہ میں اپنے مال و جان سے جہاد کرو، یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانو
علامہ محمد حسین نجفی
(اور وہ یہ ہے کہ) تم اللہ اور اس کے رسول(ص) پر ایمان لاؤ اور اللہ کی راہ میں اپنے مال اور اپنی جان سے جہاد کرو یہ بات تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔
عبدالسلام بن محمد
تم اللہ اور اس کے رسو ل پر ایمان لاؤ اور اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کرو، یہ تمھارے لیے بہتر ہے، اگر تم جانتے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سو فیصد نفع بخش تجارت ٭٭

عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ والی حدیث پہلے گزر چکی ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ پوچھنا چاہا کہ سب سے زیادہ محبوب عمل اللہ تعالیٰ کو کون سا ہے؟ اس پر اللہ عزوجل نے یہ سورت نازل فرمائی، جس میں فرما رہا ہے کہ آؤ میں تمہیں ایک سراسر نفع والی تجارت بتاؤں جس میں گھاٹے کی کوئی صورت ہی نہیں، جس سے مقصود حاصل اور ڈر زائل ہو جائے گا وہ یہ ہے کہ تم اللہ کی وحدانیت اور اس کے رسول (‏‏‏‏صلی اللہ علیہ وسلم ) کی رسالت پر ایمان لاؤ، اپنا جان مال اس کی راہ میں قربان کرنے پر تل جاؤ، جان لو کہ یہ دنیا کی تجارت اور اس کے لیے کدو کاوش کرنے سے بہت ہی بہتر ہے، اگر میری اس بتائی ہوئی تجارت کے تاجر تم بن گئے تو تمہاری ہر لغزش سے ہر گناہ سے میں درگزر کر لوں گا اور جنتوں کے پاکیزہ محلات میں اور بلند و بالا درجوں میں تمہیں پہنچاؤں گا، تمہارے بالا خانوں اور ان ہمیشگی والے باغات کے درختوں تلے سے صاف شفاف نہریں پوری روانی سے جاری ہوں گی، یقین مانو کہ زبردست کامیابی اور اعلیٰ مقصد روی یہی ہے۔ اچھا اس سے بھی زیادہ سنو تم جو ہمیشہ دشمنوں کے مقابلہ پر میری مدد طلب کرتے رہتے ہو اور اپنی فتح چاہتے ہو میرا وعدہ ہے کہ یہ بھی تمہیں دوں گا ادھر مقابلہ ہوا، ادھر فتح ہوئی، ادھر سامنے آئے، ادھر فتح و نصرت نے رکاب بوسی کی۔ ‘ اور جگہ ارشاد ہوتا ہے «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن تَنصُرُوا اللَّـهَ يَنصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ» ۱؎ [47-محمد:7] ‏‏‏‏ ’ ایمان والو اگر تم اللہ کے دین کی مدد کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہاری مدد کرے گا اور تمیں ثابت قدمی عنایت فرمائے گا۔ ‘ اور فرمان ہے «وَلَيَنصُرَنَّ اللَّـهُ مَن يَنصُرُهُ إِنَّ اللَّـهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ» ۱؎ [22-الحج:40] ‏‏‏‏ یعنی ’ یقیناً اللہ تعالیٰ اس کی مدد کرے گا جو اللہ کے دین کی مدد کرے بیشک اللہ تعالیٰ بڑی قوت والا اور غیر فانی عزت والا ہے۔ ‘ یہ مدد اور یہ فتح دنیا میں اور وہ جنت اور نعمت آخرت میں ان لوگوں کے حصہ میں ہے جو اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت میں لگے رہیں اور دین اللہ کی خدمت میں جان و مال سے دریغ نہ کریں اسی لیے فرما دیا کہ اے نبی ان ایمان والوں کو میری طرف سے یہ خوشخبری پہنچا دو۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 11) {تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تُجَاهِدُوْنَ …:} یہ اس تجارت کی تفسیر ہے، یعنی وہ تجارت یہ ہے کہ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کرو۔ {” تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ “} فعل مضارع فعل امر کے معنی میں ہے، اسے مضارع لانے سے امر کی تاکید مقصود ہے، جیسا کہ کسی کام کی تاکید مقصود ہو تو یہ کہنے کے بجائے کہ یہ کام کرو، کہا جاتا ہے کہ تم یہ کام کرو گے۔
یَغۡفِرۡ لَکُمۡ ذُنُوۡبَکُمۡ وَ یُدۡخِلۡکُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ وَ مَسٰکِنَ طَیِّبَۃً فِیۡ جَنّٰتِ عَدۡنٍ ؕ ذٰلِکَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِیۡمُ ﴿ۙ۱۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اللہ تمہارے گناہ معاف کر دے گا، اور تم کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، اور ابدی قیام کی جنتوں میں بہترین گھر تمہیں عطا فرمائے گا یہ ہے بڑی کامیابی
مولانا محمد جوناگڑھی
اللہ تعالیٰ تمہارے گناه معاف فرما دے گا اور تمہیں ان جنتوں میں پہنچائے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی اور صاف ستھرے گھروں میں جو جنت عدن میں ہوں گے، یہ بہت بڑی کامیابی ہے
احمد رضا خان بریلوی
وہ تمہارے گناہ بخش دے گا اور تمہیں باغوں میں لے جائے گا جن کے نیچے نہریں رواں اور پاکیزہ محلوں میں جو بسنے کے باغوں میں ہیں، یہی بڑی کامیابی ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
(اگر ایسا کروگے تو) اللہ تمہارے گناہ بخش دے گا اور تمہیں ان باغہائے بہشت میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہیں اور ان پاکیزہ مکانوں میں داخل کرے گا جو ہمیشہ رہنے والے باغات میں ہوں گے یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔
عبدالسلام بن محمد
وہ تمھیں تمھارے گناہ معاف کردے گا اور تمھیں ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں اور رہنے کی پاکیزہ جگہوں میں، جو ہمیشہ رہنے کے باغوں میں ہیں، یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سو فیصد نفع بخش تجارت ٭٭

عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ والی حدیث پہلے گزر چکی ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ پوچھنا چاہا کہ سب سے زیادہ محبوب عمل اللہ تعالیٰ کو کون سا ہے؟ اس پر اللہ عزوجل نے یہ سورت نازل فرمائی، جس میں فرما رہا ہے کہ آؤ میں تمہیں ایک سراسر نفع والی تجارت بتاؤں جس میں گھاٹے کی کوئی صورت ہی نہیں، جس سے مقصود حاصل اور ڈر زائل ہو جائے گا وہ یہ ہے کہ تم اللہ کی وحدانیت اور اس کے رسول (‏‏‏‏صلی اللہ علیہ وسلم ) کی رسالت پر ایمان لاؤ، اپنا جان مال اس کی راہ میں قربان کرنے پر تل جاؤ، جان لو کہ یہ دنیا کی تجارت اور اس کے لیے کدو کاوش کرنے سے بہت ہی بہتر ہے، اگر میری اس بتائی ہوئی تجارت کے تاجر تم بن گئے تو تمہاری ہر لغزش سے ہر گناہ سے میں درگزر کر لوں گا اور جنتوں کے پاکیزہ محلات میں اور بلند و بالا درجوں میں تمہیں پہنچاؤں گا، تمہارے بالا خانوں اور ان ہمیشگی والے باغات کے درختوں تلے سے صاف شفاف نہریں پوری روانی سے جاری ہوں گی، یقین مانو کہ زبردست کامیابی اور اعلیٰ مقصد روی یہی ہے۔ اچھا اس سے بھی زیادہ سنو تم جو ہمیشہ دشمنوں کے مقابلہ پر میری مدد طلب کرتے رہتے ہو اور اپنی فتح چاہتے ہو میرا وعدہ ہے کہ یہ بھی تمہیں دوں گا ادھر مقابلہ ہوا، ادھر فتح ہوئی، ادھر سامنے آئے، ادھر فتح و نصرت نے رکاب بوسی کی۔ ‘ اور جگہ ارشاد ہوتا ہے «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن تَنصُرُوا اللَّـهَ يَنصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ» ۱؎ [47-محمد:7] ‏‏‏‏ ’ ایمان والو اگر تم اللہ کے دین کی مدد کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہاری مدد کرے گا اور تمیں ثابت قدمی عنایت فرمائے گا۔ ‘ اور فرمان ہے «وَلَيَنصُرَنَّ اللَّـهُ مَن يَنصُرُهُ إِنَّ اللَّـهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ» ۱؎ [22-الحج:40] ‏‏‏‏ یعنی ’ یقیناً اللہ تعالیٰ اس کی مدد کرے گا جو اللہ کے دین کی مدد کرے بیشک اللہ تعالیٰ بڑی قوت والا اور غیر فانی عزت والا ہے۔ ‘ یہ مدد اور یہ فتح دنیا میں اور وہ جنت اور نعمت آخرت میں ان لوگوں کے حصہ میں ہے جو اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت میں لگے رہیں اور دین اللہ کی خدمت میں جان و مال سے دریغ نہ کریں اسی لیے فرما دیا کہ اے نبی ان ایمان والوں کو میری طرف سے یہ خوشخبری پہنچا دو۔
2۔ 1 یعنی انسان کے لیے خیروشر، نیکی اور بدی اور کفر و ایمان کے راستوں کی وضاحت کے بعد اللہ نے انسان کو ارادہ واختیار کی جو آزادی دی ہے اس کی رو سے کسی نے کفر کا اور کسی نے ایمان کا راستہ اپنایا ہے اس نے کسی پر جبر نہیں کیا ہے۔ اگر وہ جبر کرتا تو کوئی بھی شخص کفر کا راستہ اختیار کرنے پر قادر نہ ہوتا۔
(آیت 12) ➊ { يَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ وَ يُدْخِلْكُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ:” يَغْفِرْ “} اور {”يُدْخِلْ“} پر جزم {” تُؤْمِنُوْنَ “} اور {” تُجَاهِدُوْنَ “} کا جواب ہونے کی وجہ سے آئی ہے، کیونکہ وہ امر کے معنی میں ہیں اور امر کے جواب میں مضارع آئے تو اس پر جزم آتی ہے۔ ➋ {وَ مَسٰكِنَ طَيِّبَةً فِيْ جَنّٰتِ عَدْنٍ:مَسٰكِنَ طَيِّبَةً “} کا خاص طور پر اس لیے ذکر فرمایا ہے کہ آدمی کی پسندیدہ ترین چیزوں میں اس کا مسکن بھی ہے جسے چھوڑے بغیر جہاد ممکن نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے پسندیدہ مساکن چھوڑنے کے عوض {” مَسٰكِنَ طَيِّبَةً “} کی بشارت سنائی، جن میں دوام کی خوبی بھی ہے، جب کہ دنیا کے مساکن کسی کے پاس رہنے والے نہیں۔ سورۂ توبہ میں فرمایا: «قُلْ اِنْ كَانَ اٰبَآؤُكُمْ وَ اَبْنَآؤُكُمْ وَ اِخْوَانُكُمْ وَ اَزْوَاجُكُمْ وَ عَشِيْرَتُكُمْ وَ اَمْوَالٌ اقْتَرَفْتُمُوْهَا وَ تِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَ مَسٰكِنُ تَرْضَوْنَهَاۤ اَحَبَّ اِلَيْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ جِهَادٍ فِيْ سَبِيْلِهٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰى يَاْتِيَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖ وَ اللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفٰسِقِيْنَ» ‏‏‏‏ [ التوبۃ: ۲۴ ] ”کہہ دے اگر تمھارے باپ اور تمھارے بیٹے اور تمھارے بھائی اور تمھاری بیویاں اور تمھارا خاندان اور وہ اموال جو تم نے کمائے ہیں اور وہ تجارت جس کے مندا پڑنے سے تم ڈرتے ہو اور رہنے کے مکانات، جنھیں تم پسند کرتے ہو، تمھیں اللہ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں جہاد کرنے سے زیادہ محبوب ہیں تو انتظار کرو، یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم لے آئے اور اللہ نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔“ ➌ { ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ:} خبر {” الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ “} پر الف لام سے حصر کا مفہوم پیدا ہو رہا ہے، یعنی فوز عظیم صرف یہ ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ جنت کے سوا کوئی اور چھوٹی کامیابی بھی ہے، بلکہ {” الْعَظِيْمُ “} کا لفظ صرف اس کامیابی کی عظمت کے بیان کے لیے آیا ہے، ورنہ کامیاب صرف وہ ہے جو آخرت میں کامیاب ہے، کوئی دوسرا حقیقت میں کامیاب ہے ہی نہیں، جیسا کہ فرمایا: «فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَ اُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ وَ مَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ» ‏‏‏‏ [آل عمران: ۱۸۵ ] ”پھر جو شخص آگ سے دور کر دیا گیا اور جنت میں داخل کر دیا گیا تو یقینا وہ کامیاب ہوگیا اور دنیا کی زندگی تو دھوکے کے سامان کے سوا کچھ نہیں۔“
وَ اُخۡرٰی تُحِبُّوۡنَہَا ؕ نَصۡرٌ مِّنَ اللّٰہِ وَ فَتۡحٌ قَرِیۡبٌ ؕ وَ بَشِّرِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور وہ دوسری چیز جو تم چاہتے ہو وہ بھی تمہیں دے گا، اللہ کی طرف سے نصرت اور قریب ہی میں حاصل ہو جانے والی فتح اے نبیؐ، اہل ایمان کو اِس کی بشارت دے دو
مولانا محمد جوناگڑھی
اور تمہیں ایک دوسری (نعمت) بھی دے گا جسے تم چاہتے ہو وه اللہ کی مدد اور جلد فتح یابی ہے، ایمان والوں کو خوشخبری دے دو
احمد رضا خان بریلوی
اور ایک نعمت تمہیں اور دے گا جو تمہیں پیاری ہے اللہ کی مدد اور جلد آنے والی فتح اور اے محبوب مسلمانوں کو خوشی سنادو
علامہ محمد حسین نجفی
اور ایک اور چیز بھی ہے جسے تم پسند کرتے ہو (وہ اس کے علاوہ ہے) یعنی اللہ کی مدد اور قریبی فتح و کامیابی اور ایمان والوں کو بشارت دے دیجئے۔
عبدالسلام بن محمد
اور ایک اور چیز جسے تم پسند کرتے ہو اللہ کی طرف سے مدد اور قریب فتح ہے اور ایمان والوں کو خوش خبری سنا دے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سو فیصد نفع بخش تجارت ٭٭

عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ والی حدیث پہلے گزر چکی ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ پوچھنا چاہا کہ سب سے زیادہ محبوب عمل اللہ تعالیٰ کو کون سا ہے؟ اس پر اللہ عزوجل نے یہ سورت نازل فرمائی، جس میں فرما رہا ہے کہ آؤ میں تمہیں ایک سراسر نفع والی تجارت بتاؤں جس میں گھاٹے کی کوئی صورت ہی نہیں، جس سے مقصود حاصل اور ڈر زائل ہو جائے گا وہ یہ ہے کہ تم اللہ کی وحدانیت اور اس کے رسول (‏‏‏‏صلی اللہ علیہ وسلم ) کی رسالت پر ایمان لاؤ، اپنا جان مال اس کی راہ میں قربان کرنے پر تل جاؤ، جان لو کہ یہ دنیا کی تجارت اور اس کے لیے کدو کاوش کرنے سے بہت ہی بہتر ہے، اگر میری اس بتائی ہوئی تجارت کے تاجر تم بن گئے تو تمہاری ہر لغزش سے ہر گناہ سے میں درگزر کر لوں گا اور جنتوں کے پاکیزہ محلات میں اور بلند و بالا درجوں میں تمہیں پہنچاؤں گا، تمہارے بالا خانوں اور ان ہمیشگی والے باغات کے درختوں تلے سے صاف شفاف نہریں پوری روانی سے جاری ہوں گی، یقین مانو کہ زبردست کامیابی اور اعلیٰ مقصد روی یہی ہے۔ اچھا اس سے بھی زیادہ سنو تم جو ہمیشہ دشمنوں کے مقابلہ پر میری مدد طلب کرتے رہتے ہو اور اپنی فتح چاہتے ہو میرا وعدہ ہے کہ یہ بھی تمہیں دوں گا ادھر مقابلہ ہوا، ادھر فتح ہوئی، ادھر سامنے آئے، ادھر فتح و نصرت نے رکاب بوسی کی۔ ‘ اور جگہ ارشاد ہوتا ہے «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن تَنصُرُوا اللَّـهَ يَنصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ» ۱؎ [47-محمد:7] ‏‏‏‏ ’ ایمان والو اگر تم اللہ کے دین کی مدد کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہاری مدد کرے گا اور تمیں ثابت قدمی عنایت فرمائے گا۔ ‘ اور فرمان ہے «وَلَيَنصُرَنَّ اللَّـهُ مَن يَنصُرُهُ إِنَّ اللَّـهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ» ۱؎ [22-الحج:40] ‏‏‏‏ یعنی ’ یقیناً اللہ تعالیٰ اس کی مدد کرے گا جو اللہ کے دین کی مدد کرے بیشک اللہ تعالیٰ بڑی قوت والا اور غیر فانی عزت والا ہے۔ ‘ یہ مدد اور یہ فتح دنیا میں اور وہ جنت اور نعمت آخرت میں ان لوگوں کے حصہ میں ہے جو اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت میں لگے رہیں اور دین اللہ کی خدمت میں جان و مال سے دریغ نہ کریں اسی لیے فرما دیا کہ اے نبی ان ایمان والوں کو میری طرف سے یہ خوشخبری پہنچا دو۔
13۔ 1 یعنی جب تم اس کی راہ میں لڑو گے اور اس کے دین کی مدد کروگے، تو وہ بھی تمہیں فتح و نصرت سے نوازے گا۔ " ان تنصروا اللہ ینصرکم ویثبت اقدامکم " (سورة محمد) " ولینصرن اللہ من ینصرہ ان اللہ لقوی عزیز " (الحج) آخرت کی نعمتوں کے مقابلے میں اسے فتح قریب قرار دیا اور اس سے مراد فتح مکہ ہے اور بعض نے فارس و روم کی عظیم الشان سلطنتوں پر مسلمانوں کے غلبے کو اس کا مصداق قرار دیا ہے۔ جو خلافت راشدہ میں مسلمانوں کو حاصل ہوا۔ 13۔ 2 جنت کی بھی، مرنے کے بعد اور فتح و نصرت کی بھی، دنیا میں، بشرطیکہ اہل ایمان ایمان کے تقاضے پورے کرتے رہیں۔ " وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ " 3۔ آل عمران:139) آگے اللہ تعالیٰ مؤمنوں کو اپنے دین کی نصرت کی مزید ترغیب دے رہا ہے۔
(آیت 13) {وَ اُخْرٰى تُحِبُّوْنَهَا …: ” اُخْرٰى “} محذوف موصوف {”نِعْمَةٌ“} کی صفت ہے جو مبتدا ہے، خبر اس کی {”لَكُمْ“} محذوف ہے: {”أَيْ وَلَكُمْ نِعْمَةٌ أُخْرٰي“} یعنی اور تمھارے لیے مغفرتِ ذنوب اور دخولِ جنت کے علاوہ ایک اور نعمت {” نَصْرٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَتْحٌ قَرِيْبٌ “} بھی ہے جو تمھیں پسند ہے۔ آخرت کی نعمتوں کے ساتھ دنیوی نعمتوں کا ذکر کر کے جہاد کی ترغیب دلائی ہے، دنیا میں فتح و کامرانی بھی اگرچہ اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے، مگر یہ مومن کے لیے اصل مقصود نہیں۔ اس لیے پہلے حاصل ہونے کے باوجود اس کا ذکر بعد میں فرمایا اور آخرت میں حاصل ہونے والی نعمتوں کا ذکر پہلے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کے ساتھ اپنی نصرت اور فتح قریب کا یہ وعدہ پورا فرمایا، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہی میں مکہ فتح ہو گیا، پھر پورا جزیرۂ عرب مشرکین سے پاک ہوگیا۔ اس کے بعد اتنی تھوڑی مدت میں اسلام کا جھنڈا پوری دنیا پر لہرانے لگا جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی، چنانچہ مسلمان قیصر و کسریٰ کی سلطنتوں کے مالک بن گئے اور انھوں نے ایسے عمدہ طریقے سے کاروبار سلطنت چلایا جس کی خوبی دشمن بھی تسلیم کرتے ہیں۔
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کُوۡنُوۡۤا اَنۡصَارَ اللّٰہِ کَمَا قَالَ عِیۡسَی ابۡنُ مَرۡیَمَ لِلۡحَوَارِیّٖنَ مَنۡ اَنۡصَارِیۡۤ اِلَی اللّٰہِ ؕ قَالَ الۡحَوَارِیُّوۡنَ نَحۡنُ اَنۡصَارُ اللّٰہِ فَاٰمَنَتۡ طَّآئِفَۃٌ مِّنۡۢ بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ وَ کَفَرَتۡ طَّآئِفَۃٌ ۚ فَاَیَّدۡنَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا عَلٰی عَدُوِّہِمۡ فَاَصۡبَحُوۡا ظٰہِرِیۡنَ ﴿٪۱۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ کے مددگار بنو، جس طرح عیسیٰ ابن مریمؑ نے حواریوں کو خطاب کر کے کہا تھا: "کون ہے اللہ کی طرف (بلانے) میں میرا مددگار؟" اور حواریوں نے جواب دیا تھا: "ہم ہیں اللہ کے مددگار" اُس وقت بنی اسرائیل کا ایک گروہ ایمان لایا اور دوسرے گروہ نے انکار کیا پھر ہم نے ایمان لانے والوں کی اُن کے دشمنوں کے مقابلے میں تائید کی اور وہی غالب ہو کر رہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اے ایمان والو! تم اللہ تعالیٰ کے مددگار بن جاؤ۔ جس طرح حضرت مریم کے بیٹے حضرت عیسیٰ نے حواریوں سے فرمایا کہ کون ہے جو اللہ کی راه میں میرا مددگار بنے؟ حواریوں نے کہا ہم اللہ کی راه میں مددگار ہیں، پس بنی اسرائیل میں سے ایک جماعت تو ایمان ﻻئی اور ایک جماعت نے کفر کیا تو ہم نے مومنوں کی انکے دشمنوں کے مقابلہ میں مدد کی پس وه غالب آ گئے
احمد رضا خان بریلوی
اے ایمان والو دین خدا کے مددگار ہو جیسے عیسیٰ بن مریم نے حواریوں سے کہا تھا کون ہے جو اللہ کی طرف ہو کر میری مدد کریں حواری بولے ہم دینِ خدا کے مددگار ہیں تو بنی اسرائیل سے ایک گروہ ایمان لایا اور ایک گروہ نے کفر کیا تو ہم نے ایمان والوں کو ان کے دشمنوں پر مدد دی تو غالب ہوگئے
علامہ محمد حسین نجفی
اے ایمان والو! اللہ کے (دین کے) انصار و مددگار بنو جیسا کہ عیسٰی(ع) بن مریم(ع) نے حواریوں سے کہا تھا کہ اللہ کی طرف بلانے میں کون میرا مددگار ہے؟ حواریوں نے (جواب میں) کہا ہم اللہ کے (دین کے) مددگار ہیں تو بنی اسرائیل میں سے ایک گروہ ایمان لایا اور ایک گروہ نے کفر اختیار کیا تو جو ایمان لائے تھے ہم نے ان کے دشمن کے مقابلہ میں ان کی تائید کی پس وہ غالب ہو گئے۔
عبدالسلام بن محمد
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کے مدد گار بن جاؤ، جس طرح عیسیٰ ابن مریم نے حواریوں سے کہا اللہ کی طرف میرے مدد گار کون ہیں؟ حواریوں نے کہا ہم اللہ کے مددگار ہیں۔ تو بنی اسرائیل میں سے ایک گروہ ایمان لے آیا اور ایک گروہ نے کفر کیا، پھر ہم نے ان لوگوں کی جو ایمان لائے تھے، ان کے دشمنوں کے خلاف مدد کی تو وہ غالب ہوگئے ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عیسیٰ علیہ السلام کے ۱۲ حواریوں کی روداد ٭٭

اللہ سبحانہ و تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ ہر آن اور ہر لحظہ جان مال، عزت آبرو، قول فعل، نقل و حرکت سے دل اور زبان سے اللہ کی اور اس کے رسول کی تمام تر باتوں کی تعمیل میں رہیں۔ پھر مثال دیتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے تابعداروں کو دیکھو کہ عیسیٰ علیہ السلام کی آواز پر فوراً لبیک پکار اٹھے اور ان کے اس کہنے پر کہ کوئی ہے جو اللہ کی باتوں میں میری امداد کرے انہوں نے بلا غور علی الفور کہہ دیا کہ ہم سب آپ کے ساتھی ہیں اور دین اللہ کی امداد میں آپ کے تابع ہیں۔ چنانچہ روح اللہ علیہ صلوالت اللہ نے اسرائیلیوں اور یونانیوں میں انہیں مبلغ بنا کر شام کے شہروں میں بھیجا، حج کے دنوں میں سرور رسل صلی اللہ علیہ وسلم بھی فرمایا کرتے تھے کہ { کوئی ہے جو مجھے جگہ دے تاکہ میں اللہ کی رسالت کو پہنچا دوں قریش تو مجھے رب کا پیغام پہنچانے سے روک رہے ہیں۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:4734،قال الشيخ الألباني:۔صحیح] ‏‏‏‏۔ چنانچہ اہل مدینہ کے قبیلے اوس و خزرج کو اللہ تعالیٰ نے یہ سعادت ابدی بخشی انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں قبول کیں اور مضبوط عہد و پیمان کئے کہ اگر آپ ہمارے ہاں آ جائیں تو پھر کسی سرخ و سیاہ کی طاقت نہیں جو آپ کو دکھ پہنچائے، ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے جانیں لڑا دیں گے اور آپ پر کوئی آنچ نہ آنے دیں گے۔ پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کو لے کر ہجرت کر کے ان کے ہاں گئے تو فی الواقع انہوں نے اپنے کہے کو پورا کر دکھایا اور اپنی زبان کی پاسداری کی اسی لیے انصار کے معزز لقب سے ممتاز ہوئے اور یہ لقب گویا ان کا امتیازی نام بن گیا، اللہ ان سے خوش ہو اور انہیں بھی راضی کرے آمین! جبکہ حواریوں کو لے کر آپ علیہ السلام دین اللہ کی تبلیغ کے لیے کھڑے ہوئے تو بنی اسرائیل کے کچھ لوگ تو راہ راست پر آ گئے اور کچھ لوگ نہ آئے بلکہ آپ علیہ السلام کو اور آپ علیہ السلام کی والدہ ماجدہ طاہرہ کو بدترین برائی کی طرف منسوب کیا ان یہودیوں پر اللہ کی پھٹکار پڑی اور ہمیشہ کے لیے راندہ درگاہ بن گئے۔ پھر ماننے والوں میں سے بھی ایک جماعت ماننے میں ہی حد سے گزر گئی اور انہیں ان کے درجہ سے بہت بڑھا دیا، پھر اس گروہ میں بھی کئی گروہ ہو گئے، بعض تو کہنے لگے کہ سیدنا عیسیٰ (‏‏‏‏علیہ السلام) اللہ کے بیٹے ہیں بعض نے کہا تین میں کے تیسرے ہیں یعنی باپ بیٹا اور روح القدس اور بعض نے تو آپ علیہ السلام کو اللہ ہی مان لیا، ان سب کا ذکر سورۃ نساء میں مفصل ملاحظہ ہو۔

سچے عیسائی ٭٭

سچے ایمان والوں کی جناب باری نے اپنے آخر الزماں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے تائید کی ان کے دشمن نصرانیوں پر انہیں غالب کر دیا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جب اللہ کا ارادہ ہوا کہ عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر چڑھا لے، آپ علیہ السلام نہا دھو کر اپنے اصحاب کے پاس آئے، سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے، یہ بارہ صحابہ تھے جو ایک گھر میں بیٹھے ہوئے تھے آتے ہی فرمایا ”تم میں وہ بھی ہیں جو مجھ پر ایمان لا چکے ہیں لیکن پھر میرے ساتھ کفر کریں گے اور ایک دو دفعہ نہیں بلکہ بارہ بارہ مرتبہ۔“ پھر فرمایا ”تم میں سے کون اس بات پر آمادہ ہے کہ اس پر میری مشابہت ڈالی جائے اور وہ میرے بدلے قتل کیا جائے اور جنت میں میرے درجے میں میرا ساتھی بنے۔“ ایک نوجوان جو ان سب میں کم عمر تھا، اٹھ کھڑا ہوا اور اپنے آپ کو پیش کیا، آپ نے فرمایا ”تم بیٹھ جاؤ“، پھر وہی بات کہی اب کی مرتبہ بھی کم عمر نوجوان صحابی کھڑے ہوئے، عیسیٰ علیہ السلام نے اب کی مرتبہ بھی انہیں بٹھا دیا، پھر تیسری مرتبہ یہی سوال کیا، اب کی مرتبہ بھی یہی نوجوان کھڑے ہوئے آپ نے فرمایا بہت بہتر، اسی وقت ان کی شکل و صورت بالکل عیسیٰ علیہ السلام جیسی ہو گئی اور خود عیسیٰ علیہ السلام اس گھر کے ایک روزن سے آسمان کی طرف اٹھا لیے گئے۔ اب یہودیوں کی فوج آئی اور انہوں نے اس نوجوان کو عیسیٰ علیہ السلام سمجھ کر گرفتار کر لیا اور قتل کر دیا اور سولی پر چڑھا دیا اور عیسیٰ علیہ السلام کی پیشین گوئی کے مطابق ان باقی کے گیارہ لوگوں میں سے بعض نے بارہ بارہ مرتبہ کفر کیا، حالانکہ وہ اس سے پہلے ایماندار تھے۔

سچے عیسائی ٭٭

پھر بنی اسرائیل کے ماننے والے گروہ کے تین فرقے ہو گئے، ایک فرقے نے تو کہا کہ خود اللہ ہمارے درمیان بصورت مسیح تھا، جب تک چاہا رہا، پھر آسمان پر چڑھ گیا، انہیں یعقوبیہ کہا جاتا ہے۔ ایک فرقے نے کہا: ہم میں اللہ کا بیٹا تھا، جب تک اللہ نے چاہا اسے ہم میں رکھا اور جب چاہا اپنی طرف چڑھا لیا، انہیں سطوریہ کہا جاتا ہے۔ تیسری جماعت حق پر قائم رہی ان کا عقیدہ ہے کہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول عیسیٰ علیہ السلام ہم میں تھے، جب تک اللہ کا ارادہ رہا آپ ہم میں موجود رہے پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف اٹھا لیا، یہ جماعت مسلمانوں کی ہے۔ پھر ان دونوں کافر جماعتوں کی طاقت بڑھ گئی اور انہوں نے ان مسلمانوں کو مار پیٹ کر قتل و غارت کرنا شروع کیا اور یہ دبے بھی ہوئے اور مغلوب ہی رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا، پس بنی اسرائیل کی وہ مسلمان جماعت آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی ایمان لائی اور ان کافر جماعتوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی کفر کیا، ان ایمان والوں کی اللہ تعالیٰ نے مدد کی اور انہیں ان کے دشمنوں پر غالب کر دیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا غالب آ جانا اور دین اسلام کا تمام ادیان کو مغلوب کر دینا ہی ان کا غالب آنا اور اپنے دشمنوں پر فتح پانا ہے۔ ملاحظہ ہو تفسیر ابن جریر اور سنن نسائی۔ ۱؎ [نسائی فی السنن الکبری:489/6] ‏‏‏‏ پس یہ امت حق پر قائم رہ کر ہمیشہ تک غالب رہے گی یہاں تک کہ امر اللہ یعنی قیامت آ جائے اور یہاں تک کہ اس امت کے آخری لوگ عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہو کر مسیح دجال سے لڑائی کریں گے جیسے کہ صحیح احادیث میں موجود ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے سورۃ صف کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
14۔ 1 تمام حالتوں میں، اپنے اقوال و افعال کے ذریعے سے بھی اور جان ومال کے ذریعے سے بھی۔ جب بھی جس وقت بھی اور جس حالت میں بھی تمہیں اللہ اور اس کا رسول اپنے دین کے لیے پکارے تم فورا ان کی پکار پر لبیک کہو، جس طرح حواریین نے عیسیٰ ؑ کی پکار پر لبیک کہا۔ 14۔ 2 یعنی ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس دین کی دعوت و تبلیغ میں مددگار ہیں جس کی نشرو اشاعت کا حکم اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا ہے۔ اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایام حج میں فرماتے ' کون ہے جو مجھے پناہ دے تاکہ میں لوگوں تک اللہ کا پیغام پہنچا سکوں، اس لئے کہ قریش مجھے فریضہ رسالت ادا نہیں کرنے دیتے ' حتٰی کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پکار پر مدینے کے اوس اور خزرج نے لبیک کہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر انہوں نے بیعت کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کا وعدہ کیا۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ پیشکش کی کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ تشریف لے گئے تو وعدے کے مطابق انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اور آپ کے تمام ساتھیوں کی مدد کی حتی کہ اللہ اور اس کے رسول نے ان کا نام ہی انصار رکھ دیا اور اب یہ ان کا علم بن گیا۔ ؓ وارضاھم۔ 14۔ 3 یہ یہود تھے جنہوں نے نبوت عیسیٰ ؑ ہی کا انکار بلکہ ان پر اور ان کی ماں پر بہتان تراشی کی بعض کہتے ہیں کہ یہ اختلاف و تفرق اس وقت ہوا جب حضرت عیسیٰ ؑ کو آسمان پر اٹھا لیا گیا۔ ایک نے کہا عیسیٰ ؑ کی شکل میں اللہ تعالیٰ نے ہی زمین پر ظہور فرمایا تھا، اب وہ پھر آسمان پر چلا گیا، یہ فرقہ یعقوبیہ کہلاتا ہے نسطوریہ فرقے نے کہا وہ اب اللہ کے بیٹے تھے، باپ نے بیٹے کو آسمان پر بلا لیا ہے، تیسرے فرقے نے کہا وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول تھے، یہی فرقہ صحیح تھا۔ 14۔ 4 یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرما کر ہم نے اسی آخری جماعت کی دوسرے باطل گروہوں کے مقابلے میں مدد کی چناچہ یہ صحیح عقیدے کی حامل جماعت نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آئی اور یوں ہم نے ان کو دلائل کے لحاظ سے بھی سب کافروں پر غلبہ عطا فرمایا اور قوت و سلطنت کے اعتبار سے بھی۔ اس غلبے کا آخری ظہور اس وقت پھر ہوگا۔ جب قیامت کے قریب حضرت عیسیٰ ؑ کا دوبارہ نزول ہوگا جیسا کہ اس نزول اور غلبے کی صراحت احادیث صحیحہ میں تواتر کے ساتھ منقول ہے۔
(آیت 14) ➊ {يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْۤا اَنْصَارَ اللّٰهِ …:”اَلْحَوَارِيُّ“ ”حَارَ يَحُوْرُ حَوْرًا “(ن)” اَلثَّوْبَ“} کپڑے کو دھونا اور خوب سفید کرنا۔ دھوبی کو اسی لیے حواری کہتے ہیں کہ وہ کپڑے کو دھو کر سفید کر دیتا ہے۔ {” حُوَّارٰي“} صاف سفید میدے کو کہتے ہیں جس سے چھان نکال دیا گیا ہو۔ خالص دوست اور بے غرض مددگار کو اسی لیے حواری کہتے ہیں کہ اس کا دل ہر قسم کے کھوٹ سے پاک صاف اور خیر خواہی اور محبت میں خالص ہوتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيًّا وَ إِنَّ حَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ ] [ بخاري، فضائل الصحابۃ، باب مناقب الزبیر بن العوام رضی اللہ عنہ: ۳۷۱۹ ] ”ہر نبی کا کوئی حواری ہوتا ہے اور میرا حواری زبیر بن عوام(رضی اللہ عنہ) ہے۔“ ➋ {كَمَا قَالَ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ لِلْحَوَارِيّٖنَ۠ مَنْ اَنْصَارِيْۤ اِلَى اللّٰهِ:اِلَى اللّٰهِ “} کی ترکیب دو طرح سے ہے، ایک یہ کہ {”مَنْ أَنْصَارِيْ فِي الدَّعْوَةِ إِلَي اللّٰهِ“} ”اللہ کی طرف دعوت میں میرے مددگار کون ہیں؟“ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «‏‏‏‏قُلْ هٰذِهٖ سَبِيْلِيْۤ اَدْعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ» ‏‏‏‏ [ یوسف: ۱۰۸ ] ”کہہ دے یہی میرا راستہ ہے، میں اللہ کی طرف دعوت دیتا ہوں۔“ اور دوسری ترکیب یہ ہے: {”مَنْ أَنْصَارِيْ ذَاهِبًا إِلَي اللّٰهِ “} ”اللہ کی طرف جاتے ہوئے میرے مددگار کون ہیں؟“ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کے متعلق فرمایا: «وَ قَالَ اِنِّيْ ذَاهِبٌ اِلٰى رَبِّيْ سَيَهْدِيْنِ» ‏‏‏‏ [الصافات: ۹۹ ] ”اور اس نے کہا میں اپنے رب کی طرف جانے والا ہوں، وہ مجھے ضرور راستہ دکھائے گا۔“ مزید دیکھیے سورۂ آلِ عمران (۵۲) کی تفسیر۔ ➌ {قَالَ الْحَوَارِيُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰهِ …:} جہاد فی سبیل اللہ کے دوران کئی مرحلے آتے ہیں جن میں سب سے آخری مرحلہ اللہ کے دشمنوں سے قتال اور جنگ کا ہوتا ہے، جس کی ترغیب اور اس کی فضیلت کا بیان سورت کے شروع سے آ رہا ہے۔ اس سے بھی مشکل مرحلہ وہ ہوتا ہے جب حق کی طرف دعوت دینے والا اکیلا ہوتا ہے یا اس کے ساتھ چند آدمی ہوتے ہیں۔ دوسرے تمام لوگ اس کے دشمن ہوتے ہیں جو گالی گلوچ، استہزا، مار پیٹ، غرض ہر طرح کی تکلیف دے کر اسے دعوت حق سے باز رکھنے کی کوشش کرتے ہیں، حتیٰ کہ بعض اوقات اس کے ساتھیوں کو یا ان کے ساتھ اسے بھی قتل کر دیا جاتا ہے۔ ایسے وقت میں حق کی طرف دعوت دینے والے کے ساتھ کھڑا ہونا، اپنی جان و مال کی پروا نہ کرتے ہوئے تمام تکلیفیں برداشت کرنا اور حق پر ثابت قدم رہنا بڑے عزم و ہمت والے لوگوں کا کام ہے، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏لَتُبْلَوُنَّ فِيْۤ اَمْوَالِكُمْ وَ اَنْفُسِكُمْ وَ لَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ مِنَ الَّذِيْنَ اَشْرَكُوْۤا اَذًى كَثِيْرًا وَ اِنْ تَصْبِرُوْا وَ تَتَّقُوْا فَاِنَّ ذٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ» ‏‏‏‏ [ آل عمران: ۱۸۶ ] ”یقینا تم اپنے مالوں اور اپنی جانوں میں ضرور آزمائے جاؤ گے اور یقینا تم ان لوگوں سے جنھیں تم سے پہلے کتاب دی گئی اور ان لوگوں سے جنھوں نے شرک کیا، ضرور بہت سی ایذا سنو گے اور اگر تم صبر کرو اور متقی بنو تو بلاشبہ یہ ہمت کے کاموں سے ہے۔“ پھر یہ سب کچھ سہتے ہوئے کئی لوگ قید کر دیے جاتے ہیں، کئی معذور ہو جاتے ہیں، کئی شہید ہو جاتے ہیں اور آخر میں وہ مرحلہ آتا ہے جب اللہ کے دشمنوں سے جنگ ہوتی ہے اور اس وقت جو لوگ دشمنوں کے مقابلے میں قلیل اور ضعیف ہونے کے باوجود میدان میں ڈٹ جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کی خاص مدد فرماتا ہے اور انھیں فتح و نصرت سے ہم کنار کر کے دشمن پر غلبہ عطا فرما دیتا ہے۔ اس آیت میں مسلمانوں کے سامنے عیسیٰ علیہ السلام کے مخلص ساتھیوں کا نمونہ پیش کر کے انھیں حکم دیا ہے کہ وہ بھی ان کی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت «مَنْ اَنْصَارِيْۤ اِلَى اللّٰهِ» پر لبیک کہیں اور ہر تکلیف پر صبر کرتے ہوئے جان و مال کی قربانی کے ذریعے سے ان کا ساتھ دیں۔ یہ بات معلوم ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو دشمنوں سے قتال کا مرحلہ پیش نہیں آیا، اس وقت کے یہود نے انھیں پہچان لینے کے باوجود اتنا ستایا اور تنگ کیا کہ ان کے لیے دعوت دینا بھی مشکل ہوگیا۔ اس وقت انھوں نے یہ کہا کہ اللہ کی طرف دعوت دینے میں اور اس کے راستے پر چلنے میں میرے مددگار کون ہیں؟ حواریوں نے کہا، ہم اللہ کے مددگار ہیں۔ اس وقت بنی اسرائیل کے دو گروہ ہوگئے، ایک وہ جو ان پر ایمان لے آئے اور ان کے فرمان {” مَنْ اَنْصَارِيْۤ اِلَى اللّٰهِ “} پر {” نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰهِ “} کہہ کر لبیک کہا، پھر جان و مال کے ساتھ ہر طرح سے ان کی مدد کی اور اس راستے میں دشمنوں کی طرف سے دی جانے والی تکلیفوں پر صبر کیا۔ دوسرے وہ جنھوں نے انھیں رسول ماننے سے انکار کر دیا، انھیں جھوٹا کہا اور ان کی ماں پر تہمتیں لگائیں، حکومتِ وقت سے مل کر انھیں گرفتار کروایا اور اپنے گمان کے مطابق انھیں سولی پر چڑھا کر دم لیا، اگرچہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس گمان کی تردید فرمائی ہے۔ دیکھیے سورۂ آلِ عمران (۵۲ تا ۵۵) اور سورۂ نساء (58،57)۔ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی سب سے پہلے یہی مرحلہ پیش آیا۔ چنانچہ جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبوت سے سرفراز فرمایا اور آپ نے اسلام کی دعوت کا آغاز کیا تو کفار مکہ کی طرف سے شدید مزاحمت کی گئی اور آپ کو اور آپ کے ساتھ مسلمان ہونے والے مردوں اور عورتوں کو سخت تکلیفیں دی گئیں، جس کی وجہ سے بہت تھوڑے لوگ ایمان لانے کی جرأت کر سکے۔ پھر کئی حبشہ کی طرف ہجرت کر گئے اور کئی مکہ ہی میں ظلم و ستم سہتے رہے۔ آزمائشوں اور تکلیفوں کا یہ سلسلہ کئی سال جاری رہا، حتیٰ کہ کفار قریش نے آپ کو دعوت سے مطلق روک دیا۔ آپ ہر سال حج کے لیے آنے والے قبائل کے پاس جا کر ایک ایک قبیلہ کو کہتے کہ کون ہے جو مجھے اپنے ساتھ لے جا کر اللہ کا پیغام پہنچانے میں میری مدد کرے۔ کئی سال کے بعد وہ موقع آیا کہ اللہ تعالیٰ نے مدینہ کے کچھ لوگوں کو آپ کی دعوت پر انصار اللہ بننے کی توفیق عطا فرمائی۔ جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں: [ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْرِضُ نَفْسَهُ عَلَی النَّاسِ بِالْمَوْقِفِ فَيَقُوْلُ هَلْ مِنْ رَجُلٍ يَحْمِلُنِيْ إِلٰی قَوْمِهِ، فَإِنَّ قُرَيْشًا قَدْ مَنَعُوْنِيْ أَنْ أُبَلِّغَ كَلاَمَ رَبِّيْ عَزَّوَجَلَّ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ مِّنْ هَمْدَانَ فَقَالَ مِمَّنْ أَنْتَ؟ فَقَالَ الرَّجُلُ مِنْ هَمْدَانَ، قَالَ فَهَلْ عِنْدَ قَوْمِكَ مِنْ مَنَعَةٍ؟ قَالَ نَعَمْ، ثُمَّ إِنَّ الرَّجُلَ خَشِيَ أَنْ يَخْفِرَهُ قَوْمُهُ، فَأَتٰي رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ آتِيْهِمْ، فَأُخْبِرُهُمْ، ثُمَّ آتِيْكَ مِنْ عَامٍ قَابِلٍ، قَالَ نَعَمْ، فَانْطَلَقَ وَجَاءَ وَفْدُ الْأَنْصَارِ فِيْ رَجَبٍ ] [ مسند أحمد: 390/3، ح: ۱۵۱۹۲، قال المحقق إسنادہ صحیح علی شرط البخاري ] ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے آپ کو حج کے موقع پر موقف میں لوگوں کے سامنے پیش کرتے اور کہتے تھے: ”کیا کوئی آدمی ہے جو مجھے اپنے ساتھ اپنی قوم کے پاس لے جائے؟ کیونکہ قریش نے مجھے میرے رب کا کلام پہنچانے سے منع کر دیا ہے۔“ تو ہمدان کا ایک آدمی آپ کے پاس آیا، آپ نے فرمایا: ”تم کن لوگوں سے ہو؟“ اس آدمی نے کہا: ”ہمدان سے۔“ آپ نے فرمایا: ”تو کیا تیری قوم کے پاس کچھ حفاظت اور دفاع مل سکتا ہے؟“ اس نے کہا: ”ہاں!“ پھر وہ آدمی ڈر گیا کہ کہیں اس کی قوم اس کا کیا ہوا عہد پورا نہ کرے، چنانچہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: ”میں ان کے پاس جاؤں گا اور انھیں بتاؤں گا، پھر آئندہ سال آپ کے پاس آؤں گا۔“ آپ نے فرمایا: ”ٹھیک ہے۔“ چنانچہ وہ چلا گیا اور انصار کا وفد رجب میں آگیا۔“ ➍ {فَاَيَّدْنَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا عَلٰى عَدُوِّهِمْ فَاَصْبَحُوْا ظٰهِرِيْنَ:} یعنی عیسیٰ علیہ السلام کی دعوت پر بنی اسرائیل کا ایک گروہ ایمان لے آیا اور ایک گروہ نے انھیں رسول ماننے سے انکار کر دیا۔ انکار کرنے والے یہودی تھے اور ایمان لانے والے نصرانی۔ ایمان لانے والے قلیل تھے اور کفر کرنے والے بہت زیادہ تھے۔ ان یہودیوں نے مسیح علیہ السلام کو اللہ کا پیغام پہنچانے سے روکنے کی ہر کوشش کی اور مسیح علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں پر بدترین مظالم کیے، مگر نہ عیسیٰ علیہ السلام نے اللہ کی طرف دعوت کو ترک کیا اور نہ ہی ان کے ساتھیوں نے ان کا ساتھ دینے سے کوئی کوتاہی کی، حتیٰ کہ جب اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو اپنی طرف اٹھا لیا تو اس وقت بھی ایمان والوں کی استقامت میں کمی نہیں آئی، وہ بدستور ڈٹے رہے اور اسلام کی طرف دعوت دیتے رہے، حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں کفار کے ساتھ قتال کی توفیق عطا فرمائی۔ پھر جب وہ قلت تعداد کے باوجود میدان میں ڈٹ گئے تو اللہ تعالیٰ نے انھیں قوت بخشی اور ان کی مدد فرمائی، تو وہ اپنے دشمن پر غالب آگئے اور ان کے دشمن یہودی مغلوب ہوگئے جو آج تک مغلوب چلے آ رہے ہیں۔ پھر جب عیسیٰ علیہ السلام کے نام لیوا شرک میں مبتلا ہوگئے اور انھیں رب تعالیٰ یا رب کا بیٹا کہنے لگے تو اس وقت اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کو، جو عیسیٰ علیہ السلام پر صحیح ایمان لانے والی تھی، ان پر غالب کر دیا۔ ➎ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھی بھی کفار کے ظلم و ستم سہتے رہے اور سہ رہے تھے، اس میں ان کے لیے بشارت ہے کہ اگر تم عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں کی طرح اللہ تعالیٰ کے انصار ہوگے تو اللہ تعالیٰ تمھیں بھی تمھارے دشمنوں پر غالب کرے گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں کفار پر غلبہ عطا فرما دیا، اس فرق کے ساتھ کہ مسیح علیہ السلام اپنے ساتھیوں کا غلبہ دیکھنے سے پہلے اٹھا لیے گئے، جب کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے وہ نظارا آنکھوں سے دکھا دیا جس کا ذکر سورۂ نصر میں ہے، فرمایا: «‏‏‏‏اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُ (1) وَ رَاَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُوْنَ فِيْ دِيْنِ اللّٰهِ اَفْوَاجًا» [ النصر: 2،1 ] ”جب اللہ کی مدد اور فتح آجائے۔ اور تو لوگوں کو دیکھے کہ وہ اللہ کے دین میں فوج در فوج داخل ہو رہے ہیں۔“ ہاں، عیسیٰ علیہ السلام جب دوبارہ تشریف لائیں گے تو وہ بنفس نفیس اس فتح اور غلبے میں شریک ہوں گے جو اللہ تعالیٰ ان کے ساتھی مسلمانوں کو ان کے دشمنوں اور دجال پر عطا فرمائے گا۔